کراچی کے بلاگرز اور متحدہ قومی موومنٹ کی دھاندلیاں

بتاریخ: 19 فروری 2008

میٹرو بلاگنگ کراچی پر جناب امیر حمزہ جعلی ووٹ ڈالنے کے اپنے ایڈونچر کی کہانی بمعہ تصاویر بیان کرتے ہیں۔

عجیب بات یہ ہے کہ کراچی کے بلاگرز جس دھاندلی کی اطلاعات تواتر سے دے رہے ہیں ہمارا میڈیا اس دھاندلی پر قطعا آنکھیں بند کرے بیٹھا رہا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کی دھاندلی کے ذکر پر مبنی پاکستانی بلاگستان کی تحاریر:

نعمان کی ڈائری۔ دھاندلی کے واقعات
کے او۔ میرا ووٹنگ تجربہ
ٹیتھ میسٹرو۔ گلستان جوہر میں دھاندلی
امیر حمزہ
ایمرجنسی ٹائمز ۔ فارس کا کراچی کے دو انتخابی اسٹیشنوں کا دورہ

خالد عمر بھی اپنا ووٹ ڈالنے گئے لیکن کافی دوڑ دھوپ کے بعد بھی ان کا نام کسی ووٹر فہرست میں نہ نکلا۔ لیکن دھاندلی کے تقریبا وہی واقعات جو ڈاکٹر علوی اور نعمان نے بیان کرے۔ خالد عمر نے بھی دہرائے ہیں۔

میٹروبلاگ کراچی پر ڈاکٹر علوی نے ہمارے حلقے کے انتخابات کا جائزہ پیش کیا اور قارئین سے ووٹ طلب کیا کہ وہ کسے ووٹ دیں گے۔ حیرت انگیز طور پر ان کے پول بھی میں خوش بخت جیتتی نظر آرہی ہیں۔ (اف خدا یہ اس دنیا کو کیا ہوتا جارہا ہے کم از کم میٹروبلاک کے قارئین سے میں یہ توقع نہیں رکھتا تھا)۔

جیو پر اپنے حلقے کے نتائج دیکھیں۔

واضح رہے یہ نتائج فی الحال حتمی نہیں کہے جاسکتے۔

دھاندلی کے واقعات

بتاریخ: 18 فروری 2008

میں ووٹ ڈالنے کے لئے دوپہر ڈھائی بجے گھر سے نکلا۔ جب میں اپنے پولنگ اسٹیشن والی سڑک پر پہنچا تو دیکھا کہ وہاں ایم کیو ایم کے علاوہ کسی بھی پارٹی کا پولنگ کیمپ نہیں تھا۔ پولنگ اسٹیشن پہنچا تو وہاں اندر صرف ایم کیو ایم کے پولنگ ایجنٹ موجود تھے۔ بڑی تعداد میں ایم کیو ایم کے حمایتی اور کارکن پولنگ اسٹیشن کے اندر بھی موجود تھے۔ وہاں موجود لوگ زیادہ تر میرے رشتے دار، محلے دار اور کزن تھے۔

ایم کیو ایم کے کارکنان پولنگ بوتھ کے اندر بھی جھانک رہے تھے۔ حتی کہ جب میں اپنے بیلٹ پیپر پر مہر لگارہا تھا تب بھی ایک لڑکا میرے بیلٹ پیپر پر جھانک رہا تھا۔ میں نے اسے منع کیا اور اسے کے جانے پر بیلٹ پیپرز پر مہر لگائی۔

میں کچھ دیر وہاں ان لڑکوں کے ساتھ بیٹھا۔ وہ مجھے مذاق میں ایک اور ووٹ ڈالنے کی آفر کررہے تھے۔ وہاں کچھ لوگ گلابی پرچی لے کر آرہے تھے اور بغیر شناختی کارڈ دکھائے بیلٹ پیپر حاصل کررہے تھے۔ ایک تیس سے کچھ اوپر سال کے شخص نے اپنے ایک مردہ رشتے دار کا شناختی کارڈ دکھا کر ووٹ ڈالا۔ شناختی کارڈ پر بنی تصویر صاف بتارہی تھی کہ وہ ان کی نہیں ہے۔

مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ جب ایم کیو ایم کی جیت یقینی ہی تھی تو دھاندلی کی کیا ضرورت تھی؟

ڈاکٹر علوی گلستان جوہر کراچی سے اپنا ووٹ ڈالنے کا تجربہ بیان کرتے ہوئے وہاں ہونے والی دھاندلی کا پردہ فاش کرتے ہیں

قدیر نے سیاستدانوں سے سخت مایوس ہونے کے باوجود ووٹ ڈالا

شاکر فیصل آباد میں اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کی روداد بیان  کی۔ تصاویر کے ساتھ

اجمل نے اسلام آباد میں اپنا ووٹ ڈالا

شعیب نے کراچی میں ووٹ ڈلا

پولنگ اسٹیشن پر

بتاریخ: 17 فروری 2008

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ووٹرز کی رہنمائی کے لئے یہ ویڈیو جاری کیا ہے:

ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ بمقابلہ ایم کیو ایم

بتاریخ: 17 فروری 2008

افتخار نے اپنے بلاگ پر پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ کی حمایت کی ہے اور قارئین سے انہیں ووٹ دینے کی فرمائش کی ہے۔ جو میرے خیال میں دیگر صوبوں میں رہنے والوں کے لئے ایک بہترین آپشن ہے۔ کیوں کہ ان کی جیت کا امکان ہے اور وہ اچھا مقابلہ کررہے ہیں تو جتنے زیادہ ووٹ انہیں ملیں گے لوٹا لیگ کے اتنے ہی ووٹ کم ہونگے اور آئین و پارلیمنٹ کی بالادستی بحال ہوگی۔ اگر بی بی زندہ ہوتیں تو شاید انتخابی معرکے کی صورتحال یہ نہ ہوتی۔

ہمارے حلقے میں ن لیگ کا امیدوار پیپلزپارٹی کے حق میں دستبردار ہوگیا ہے۔ اور اگر آپ نے میری پچھلی تحاریر پڑھی ہوں تو میں کافی کنفیوز تھا۔ کیوں کہ ڈاکٹر اختیار بیگ اور خوش بخت شجاعت دونوں کافی سلجھے ہوئے امیدوار معلوم ہوتے ہیں۔ مگر میری والدہ کا خیال ہے کہ خوش بخت شجاعت (ایم کیو ایم) شاید ہی کبھی اپنی پارٹی کی پالیسیوں سے اختلاف کریں۔ اور دوئم یہ کہ خوش بخت شجاعت کا معاملات میں کوئی اپنا نقطہ نظر نہیں۔ اس کے برعکس ڈاکٹر صاحب ماہر معیشت ہیں، صنعتکار ہیں، انتخابات سے پہلے وہ اکثر حکومت کو بھی معیشت کی بہتری کے لئے تجاویز دیتے رہے ہیں۔ جس کا مطلب ہے وہ کم از کم معاشی مسائل پر تو نظر رکھتے ہیں۔ میری والدہ کو قوی امید ہے کہ ڈاکٹر صاحب جیت جائیں گے۔ کیونکہ کئی ووٹر شاید ایک خاتون امیدوار کو ووٹ دینا پسند نہ کریں۔جیسے پچھلی سے پچھلی مرتبہ ایم کیو ایم کی نسرین جلیل اسی حلقے سے جماعت اسلامی کے عبدالستار افغانی کے ہاتھوں ہار گئی تھیں۔

میں خواتین کا الیکشن میں حصہ لینا بہت اچھا سمجھتا ہوں۔ مگر میرے خیال میں ڈاکٹر صاحب ہر لحاظ سے ایک بہتر امیدوار ہیں۔ گرچہ خوش بخت میں بھی کوئی قابل ذکر خامیاں نہیں لیکن میں ان کی پارٹی سے کوئی ایسا خاص متاثر نہیں ہوں۔ ان کی پارٹی کے ہی ایک نمائندے عامر لیاقت حسین کو لال مسجد واقعے پر پارٹی نے دیوار سے لگادیا ہے۔ انہیں نہ الیکشن کا ٹکٹ دیا گیا اور نہ ہی وہ انتخابی مہمات میں نظر آتے ہیں۔ تو یہ کہنا بہت آسان ہے کہ محترمہ کی انفرادی صلاحیتیں کبھی منظر عام پر نہ آسکیں گی۔ ان کی پارٹی نے پچھلے تمام عرصے میں وفاق یا صوبے میں کوئی قابل ذکر قانون سازی نہیں کی۔ ان کی جماعت انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف بھی کوئی اچھا منصوبہ پیش نہ کرسکی۔ ان کے حکومت میں ہوتے ہوئے بلوچستان میں آپریشن جاری رہا، وزیرستان سے سینکڑوں خاندانوں کو کراچی آنا پڑا، کراچی میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ جاری رہی، اسٹریٹ کرائمز میں بے حد اضافہ ہوا۔ ان کی پارٹی نے جنرل مشرف کی اندھا دھند حمایت کی۔ حتی کہ ان کی انتخابی مہم کے اہم وعدے کہ صوبہ سندھ کو این ایف سی ایوارڈ سے اس کا جائز حصہ دلایا جائیگا اس پر بھی عمل نہیں ہوا۔ صوبہ سندھ میں تعلیم کا محکمہ زبوں حالی کی بدترین سطح پر پہنچ گیا۔ کسی نئی بڑی یونیورسٹی کا سنگ بنیاد نہیں رکھا گیا۔ اندرون سندھ بیروزگاری میں اضافہ ہوا اور ڈیولپمنٹ جو کراچی اور پنجاب میں ہوئی اس کی آدھی بھی اندرون سندھ میں نہ ہوئی۔ کرپشن ایسے کا ایسا رہا ایک سروے کے مطابق سندھ پاکستان کا دوسرا کرپٹ ترین صوبہ ہے۔ جہاں سب سے زیادہ کرپشن محکمہ تعلیم اور پولیس میں ہے۔ صحت کا شعبہ بھی از حد نچلی سطح پر ہے۔ حیدرآباد سمیت سندھ کے کئی علاقوں میں بچے گیسٹرو سے ہلاک ہوئے۔

ppp_arrow.gifتو پارٹی کی بنیاد پر تو خوش بخت کو ووٹ نہیں دیا جاسکتا اور شخصیت کی بنیاد پر ڈاکٹر صاحب ان سے بہتر نظر آتے ہیں۔ اس لئے کل میں ڈاکٹر بیگ کو ووٹ دونگا۔ اگر آپ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے دو سو پچاس میں رہتے ہیں تو آپ سے درخواست ہے کہ الیکشن کے دن گھر سے نکلیں اور تیر پر نشان لگا کر ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ کو ووٹ دیں۔

دی گریٹ ڈیبیٹ

بتاریخ: 15 فروری 2008

آج شام جیو ٹی وی پر الیکشن کے سلسلے کا پروگرام گریٹ ڈیبیٹ کچھ دیر دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس پروگرام میں پاکستان کی چھ بڑی سیاسی جماعتوں کے نمائندے مختلف امور پر اپنی پارٹی کا موقف بیان کرتے ہیں۔ اس سے پہلے میں اس سلسلے کا ایک اور پروگرام دیکھ چکا ہوں جو کہ پولیس کے محکمے کی بہتری کے بارے میں تھا۔ آج پانی پر بات ہورہی تھی۔ یہ پروگرام دیکھ کر مجھے خاصی مایوسی ہوئی۔ تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندے درحقیقت مسائل کا بالکل ادراک نہیں رکھتے تھے۔ نہ ہی ان میں سے کسی کے پاس کوئی اطمینان بخش حل موجود تھے۔ ان میں سے اکثر نامعلوم وجوہات کی بنا پر اپنے جوابات میں انگریزی الفاظ زبردستی ٹھونسنے کی کوشش کرکے معزز بننے کی کوشش کررہے تھے۔ باقی نمائندگان تو پھر بھی کچھ فائلیں، کاغذات اور اپنی پارٹی کا منشور سامنے رکھے بیٹھے تھے جسے وہ وقتا فوقتا الٹ پلٹ کر دیکھتے رہتے۔ مگر ایم ایم اے کے مولوی صاحب تو غالبا سب کچھ حفظ کرکے آئے تھے۔ جیسے وہ کسی دینی مجلس میں فی البدیہہ خطبہ دے لیتے ہیں۔ سوچ رہے ہونگے یہ بھی اس قسم کی ہی کوئی مجلس ہے۔ ان سب کو ایک ساتھ بیٹھے دیکھ کر آپ کو ایسا لگتا ہے کہ جیسے دسویں جماعت کے بچے اے یو خان کی شرح میں سے انگریزی کا مضمون سنارہے ہوں۔ یعنی ایک ہی مضمون میرا اسکول، ایک اسکول فنکشن، کرکٹ میچ، بابائے قوم، ایک یادگار دن، وغیرہ سب کے لئے فٹ۔ مثال کے طور پر اگر ان سے پوچھا جائے کہ پینے کے صاف پانی کے بارے میں آپ کا کیا موقف ہے اور آپ اپنے پروگرام پر کیسے عمل پیرا ہونگے تو ان کے جوابات کچھ اس طرح کے ہوتے ہیں:

جی پینے کے پانی کے بارے میں ہماری جماعت کی پالیسی بالکل واضح ہے کہ پینے کا صاف پانی ہر پاکستانی کا بنیادی حق ہے۔ ہمارے ملک میں ہر سال سینکڑوں لوگ پانی سے پیدا ہونے والی انفیکشنز سے متاثر ہوکر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ملک میں ہیپاٹائٹس کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ہماری پارٹی کے پاس پانی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے جامع پلان ہے۔ جس میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ۔۔۔ (اس موقع پر وہ اپنے سامنے رکھے کاغذ دیکھیں گے) ہم پاکستان کے ہر علاقے شہروں اور دیہات میں فلٹریشن پلانٹ لگائیں گے۔ صنعتی فضلے کو صحیح طرح ٹھکانے لگانے کے سلسلے میں ٹاسک فورس بنائیں گے۔ ہم ایک کمیٹی بنائیں گے جو یہ تلاش کرے گی کہ پینے کا پانی کس طرح صاف کیا جائے۔

اگر نمائندہ ایم کیو ایم یا پی ایم ایل کیو کا ہو تو:

ہم نے پچھلے پانچ سال میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا بھرپور بندوبست کرنے کی کوشش کی ہے۔ (ایم کیو ایم کا نمائندہ ہو تو) کراچی میں، (ق لیگ کا ہو تو)، پنجاب میں ہم نے سینکڑوں فلٹریشن پلانٹ لگائے ہیں۔

اگر اپوزیشن جماعتوں کا ہو تو:

پچھلے دس سالوں میں اس صورتحال پر کچھ کام نہیں ہوا جس سے عوام کے مصائب میں اضافہ ہوا۔

اور اگر ایم ایم اے کا ہو جو کہ نہ تین میں ہیں نہ تیرہ میں تو:

الحمداللہ صوبہ سرحد میں ہم نے پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے اور پاکستان کے دیگر صوبوں کی نسبت سرحد میں اس قسم کی صورتحال نہیں (اچھا تو سرحد کی چھوٹی سی خانہ جنگی کے بارے میں کیا خیال ہے؟) ہم اقتدار میں آکر کوشش کریں گے کہ پورے پاکستان میں شہریوں کو پینے کا صاف پانی میسر ہو۔

انہی خطوط پر آپ ان کے اگلے اور پچھلے تمام پروگرامز میں ہونے والی گفتگو کا اندازہ کرسکتے ہیں۔ جس میں ایسے کھوکھلے دعوے ہیں کہ جن پر ان نمائندوں نے کبھی خواب میں بھی غور نہ کیا ہوگا۔ گرچہ اس طرح کے پروگرام ایک نئی اور اچھی روایت ہیں۔ مگر افسوس ہمارا سیاستدان آج بھی بے حد دقیانوسی، کم علم اور ذہنی پسماندگی کا شکار ہیں۔

میزبان: اچھا عدلیہ کی آزادی کے بارے میں آپ کی پارٹی کا کیا نقطہ نظر ہوگا:

نمائندگان: عدلیہ کی آزادی کے بارے میں ہماری پارٹی کا موقف بہت واضح ہے۔ ہم عدلیہ کی مکمل آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم ایک ٹاسک فورس بنائیں گے اور آئنی ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دیں گے۔ جو اس بات کا جائزہ لے گی کہ عدالتوں میں انصاف کی فراہمی کو کس طرح بہتر بنایا جائے۔

میزبان: بے روزگاری دور کرنے کے بارے میں آپ کے پاس کیا حکمت عملی ہے؟

نمائندگان: بےروزگاری کے بارے میں ہماری پارٹی کا موقف بہت واضح ہے۔ ہم ہر پاکستانی کو روزگار دینے پر یقین رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم ایک ٹاسک فورس بنائیں گے اور ایک کمیٹی تشکیل دیں گے۔ جو اس بات کا جائزہ لے گی کہ اتنے مصائب کے باوجود ان بے وقوف بیروزگاروں نے ابھی تک خودکشی کیوں نہیں کی۔

ایم ایم اے کا نمائندہ: صوبہ سرحد میں ہم نے بیروزگاری کا خاتمہ کردیا ہے۔ اب ہر بیروزگار طالبان کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ میں شریک ہوسکتا ہے۔

ایم کیو ایم: کراچی اور حیدرآباد میں تو بیروزگاری ہے ہی نہیں۔ اگر ہے تو کراچی میں موبائل اسنیچنگ کے بھرپور انتظام ہے جہاں نوجوان اپنی صلاحیتوں اور قابلیت کا بھرپور فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ اگر وہ یہ نہیں کرسکتے تو تنظیم میں شامل ہوجائیں۔ جہاں جھنڈے لگانے والوں اور دیواروں پر گالیاں لکھنے والوں کی ہر وقت ضرورت رہتی ہے۔

پی ایم ایل ق: ہم سب بیروزگاروں کو وظیفہ دیں گے۔

پی ایم ایل این: ہم پیلی ٹیکسیاں نکالیں گے۔

پی پی پی: محترمہ آئیں گی تو روزگار لائیں گی۔

میزبان: لیکن محترمہ تو۔۔۔

پی پی پی نمائندہ: وہی تو اب آپ کو بلاول کا انتظار کرنا ہوگا۔

ایک دم بکواس اور بورنگ۔ واقعی پاکستان کی عوام کے پاس آپشن ہی کیا ہے۔ خچر نہ سہی تو گدھا، گدھا نہ ملے تو سائیکل یا پھر بھس بھرا شیر۔ لیکن پھر بھی اٹھارہ فروری کو ووٹ دینے ضرور نکلئے گا۔ چاہے آپ کسی کو بھی ووٹ دیں۔ مگر اپنا ووٹ ضائع نہ جانے دیں۔

درختوں کے قتل کی سزا

بتاریخ: 15 فروری 2008

کراچی میں ان دنوں شہر میں بڑھتے ہوئے آتشزدگی کے واقعات پر تشویش بڑھتی جارہی ہے۔ گورنر صاحب اور سٹی ناظم سر جوڑ کر بیٹھے کہ کیا کریں۔ فائر ڈیپارٹمنٹ نے ان واقعات کا الزام موسم پر دھر دیا۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم وہی کاٹ رہے ہیں جو ہم نے بویا ہے۔ نعمان کی ڈائری پر پہلے کئی بار اس کا ذکر ہوچکا ہے کہ شہری حکومت کے ترقیاتی منصوبے انتہائی ماحول دشمن ہیں۔ جب کبھی یہ کہیں سڑک بنانے جائیں، پانی کے پائپ ڈالنے جائیں، گیس ہو یا سیوریج کا کام، بجلی کے کھمبے ہوں یا اسٹریٹ لائٹس۔ پہلی چیز جو انہیں فالتو نظر آتی ہے وہ درخت ہیں۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے تو شہری حکومت نے ترقیاتی منصوبوں کے نام پر ہزاروں درختوں کا قتل عام کیا ہے۔ جس کی وجہ سے شہر میں آتشزدگی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔

لیکن افسوس اس قتل عام کو کوئی درخود اعتنا نہیں سمجھتا۔ کسی اخبار میں اس کا ذکر نہیں آتا اور کوئی ماہر ماحولیات اس بات کا ذکر نہیں کرتا۔

طریقہ کار جیسا کہ پچھلی شہری حکومت کے دور میں ہوا کرتا تھا وہ یہ ہے کہ درختوں کو کہیں اور منتقل کردیا جائے۔ یہ کوئی اتنا مہنگا کام نہیں کہ شہری حکومت کے خزانے پر بوجھ ہو۔ مگر شہری حکومت کے جاہل عہدیدار اسے بیکار محنت تصور کرتے ہیں۔ اور درختوں کو کاٹ ڈالنے کو زیادہ آسان کام سمجھتے ہیں۔ شہر میں آلودگی کا تناسب جس قدر اس کے حساب سے تو اس شہر میں پر دس قدم پر درخت ہوں تب بھی کم ہے۔ لیکن مجھے یاد نہیں شہری حکومت نے کبھی کہیں کوئی نئے درخت لگوائے ہوں۔ ان کے بنائے ہوئے پارکوں میں آپ کو گھاس بھی نظر نہیں آئے گی۔

دہشت، انتہاپسندی اور ویلنٹائن ڈے

بتاریخ: 14 فروری 2008

دنیا بھر میں ویلنٹائن ڈے منایا جارہا ہے۔ کراچی میں پھولوں، تحائف اور ویلنٹائن کارڈز کی فروخت زوروں پر ہے۔ خود راقم نے۔ آہم آہم۔۔۔

تاہم چند ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں محبت کرنے والے لوگ بالکل پسند نہیں۔ وہ آدمی اور عورت، لڑکا اور لڑکی کے درمیان محبت کے اظہار کو مغربی تہذیبی یلغار سمجھتے ہیں۔ ان لوگوں کے عزائم انتہائی جارحانہ ہیں۔ اور نعمان وقتا فوقتا اپنے بلاگ کے قارئین کی توجہ ان کی طرف مبذول کراتا رہتا ہے تاکہ لوگ ان عناصر سے چوکنے رہیں۔

چوکنے رہنے پر یاد آیا کوئی دو روز قبل ٹیلیویژن پر نیوز چینلز نے یہ سلائیڈ چلائی کہ دو مشتبہ خود کش بمبار جن کا تعلق وزیرستان سے ہے وہ کراچی پہنچ چکے ہیں۔ شہر بھر میں سیکیوریٹی انتہائی سخت کردی گئی۔ افواہیں یہ اڑنے لگیں کہ ان میں ایک بمبار ساٹھ سال کی عمر کا قبائلی بوڑھا جس نے براؤن جیکٹ پہن رکھی تھی اور اسے چادر سے چھپا رکھا تھا۔ اس نے ایک کار سوار سے لفٹ لی۔ پھر کار سوار کو اپنی خودکش جیکٹ دکھائی اور اس سے گورنر ہاؤس والی سڑک پر چلنے کو کہا۔ کار سوار اپنی جان خطرے میں ڈال کر اسے سارے شہر میں گھماتا رہا۔ تنگ آکر اس بوڑھے نے خود ہی کار سے اترنے کا فیصلہ کرلیا۔ کار سوار فورا سی پی ایل سی گورنر ہاؤس پہنچا اور اس نے مشتبہ بمبار کا خاکہ بنوایا۔

اپڈیٹ: یہ افواہ نہیں بلکہ سچی خبر نکلی

اس افواہ میں کئی جھول ہیں مسئلا یہ کہ کراچی شہر میں کوئی کسی اجنبی کو رات کے وقت لفٹ کیوں دے گا۔ دوسری بات خودکش بمبار گاڑی چھیننے کے بجائے لفٹ لینا کیوں پسند کرے گا؟ لیکن بہر حال اس سے شہر بھر میں سیاسی کارکن ڈرے رہے اور وہ ایسے تمام پختونوں کو مشکوک نظروں سے دیکھتے رہے جنہوں نے جیکٹ پہن رکھی ہو یا چادر لپیٹ رکھی ہو۔

ہمارے حلقے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد کردہ امیدوار برائے رکنیت قومی اسمبلی ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ کا ویب سائٹ۔ ڈاکٹر بیگ کے مقابل متحدہ قومی موومنٹ کی نامزد کردہ امیدوار بیگم خوش بخت شجاعت الیکشن لڑرہی ہیں۔ جماعت اسلامی کے بائیکاٹ کے سبب اس بات کا قوی امکان ہے کہ خوش بخت شجاعت کامیابی حاصل کرلیں گی۔

میں خوش بخت شجاعت کو ووٹ دینے کا فیصلہ کرچکا تھا مگر ڈاکٹر صاحب کے جنگ میں شائع ہونے والے مضامین اور ان کے بارے میں ادھر ادھر پڑھنے کے بعد میں ایک مرتبہ پھر کنفیوز ہوں۔ ڈاکٹر صاحب کو محترمہ کی شہادت کا ایڈوانٹیج بھی حاصل ہے۔ شاید میں ڈاکٹر صاحب کو ہی ووٹ دے ڈالوں۔

حافظ قرآن بچوں کے مسائل

بتاریخ: 08 فروری 2008

شاکر نے اپنے بلاگ پر ایک بھاگے ہوئے بچے کی سرگزشت بیان کی ہے۔ اس بچے کی کہانی یہ تھی کہ گھر والے اسے حافظ قرآن بنانا چاہتے تھے۔ وہ گھر والوں کی خواہش دلجمعی سے پوری کرنے کی اپنی سی کوشش بھی کرتا تھا مگر مدرسے کے قاری صاحب کے متشدد روئیے نے اسے مدرسے سے متنفر کردیا۔ شاکر کے بلاگ پر آپ کو اکثر اچھے موضوعات نظر آئیں گے۔ وہ اکثر الجھے ہوئے عام مسائل کو اپنی روایتی سادگی سے بیان کرتے ہیں اور پھر اسی سادگی کے ساتھ انہیں سلجھانے کی تجویز بھی پیش کرتے ہیں۔ مجھے ان کا یہ انداز تحریر بہت پیارا لگتا ہے۔

قرآن حفظ کرنے والے بچوں کے مسائل ایک سنجیدہ معاشرتی مسئلہ ہیں۔ جن پر بالغان اپنے دینی رجحانات کے سبب توجہ نہیں دیتے۔ میرا چھوٹا بھائی عازب بھی ماشاءاللہ حافظ قرآن ہے اس لئے مجھے ان میں سے کچھ مسائل کا ذاتی تجربہ بھی ہے۔

مدارس کا روایتی ماحول

گرچہ میرا بھائی عازب ایک ایسے مدرسے میں پڑھتا تھا کہ جہاں عصری علوم کی بنیادی تعلیم پر بھی توجہ دی جاتی تھی۔ لیکن بعد ازاں ہمیں معلوم ہوا کہ یہ توجہ محض اشتہاری تھی۔ مضامین جیسے ریاضی اور انگریزی جن کی آگے چل کر طالبعلموں کو سخت ضرورت ہوتی ہے ان پر قطعا توجہ نہیں دی گئی۔ عازب نے تیرہ سال کی عمر میں قرآن حفظ کرلیا تھا جس کے بعد اسی مدرسے میں اسے عام اسکول کی تعلیم دی جانے لگی۔ یہ تعلیم اتنی غیرمعیاری تھی کہ چھٹی جماعت کے بچے اردو زبان میں ایک چھوٹا سے مضمون لکھنے کے بھی لائق نہ تھے۔ جب میٹرک کے امتحان سر پر آئے تو مدرسے کی انتظامیہ کی سختیاں بڑھ گئیں جو کہ سراسر بے جا تھیں۔ وہ بچوں پر اچھی کارکردگی کے لئے سخت دباؤ ڈالتے تھے جب کہ اس بارے میں وہ خود اپنی ذمے داری سے غافل تھے۔ نتیجتا عازب کی مدرسے میں حاضری کم ہوتی گئی۔ سائنس کے مضامین منتخب کرنے کے سبب یہ ضروری تھا کہ اسے امتحانات کے لئے سخت محنت کرنا ہوگی اور مدرسے جانا محض وقت کا ضیاع لگتا تھا۔ چنانچہ نویں جماعت کے پرچوں کے بعد مدرسے کی انتظامیہ نے اسے مدرسے سے فارغ کرنے کی دھمکی دے دی۔ جب میرے والد وہاں پہنچے تو انہوں نے شرط عائد کی کہ اگر اس نے نویں جماعت کا امتحان پاس کرلیا تو اسے دسویں جماعت کی کلاسز لینے کی اجازت دی جائیگی۔ نتیجہ آیا اور عازب کا نتیجہ مدرسے میں پابندی سے حاضر ہونے والے کئی بچوں سے بہتر تھا۔ لیکن مدرسے کی انتظامیہ اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے عازب کو اسکول سے نکالنے پر بضد تھی۔ جس کے بعد ہم نے عازب کو محلے کے ایک پرائیویٹ اسکول میں داخل کرواکر دسویں جماعت کا امتحان دلوایا اور وہ بی گریڈ کے ساتھ پاس ہوگیا۔

مدرسے کا یونیفارم شلوار قمیض اور ٹوپی پر مشتمل تھا اور عازب کو یہ یونیفارم بچپن سے بہت برا لگتا تھا۔ گھر میں اس کے بھائی، محلے میں اس کے دوست، رشتے داروں میں اس کے ہم عمر کزن سب پتلونیں پہنتے تھے اور اسے شلوار قمیض پہن کر اسکول جانا سخت برا لگتا تھا۔

مدرسے میں اساتذہ کا رویہ انتہائی سخت گیر تھا۔ گرچہ وہاں جسمانی تشدد نہیں کیا جاتا تھا مگر تشدد کے دیگر کئی طریقے ان لوگوں نے ایجاد کر رکھے تھے۔ جن میں سرفہرست طلبہ کی تحقیر اور اہانت آمیز رویہ شامل تھے۔ گرچہ مدرسے میں کبھی دہشت گرد جہادی گروہوں کی حمایت نہیں کی جاتی تھی۔ لیکن مدرسے کے اساتذہ طالبعلموں کے سامنے دیگر مکاتب فکر کے ماننے والے مسلمانوں پر تنقید کرتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے۔

مدرسے کا گھٹا ہوا ماحول طلباء کی تخلیقی صلاحیتوں پر بری طرح اثر انداز ہوتا تھا۔ طلباء کو یہ عادت ڈالی جاتی تھی کہ وہ استدلالی طرز فکر سے اجتناب کریں۔ نہ سوال کریں نہ کسی مدلل جواب کی امید کریں۔

گرچہ پاکستان کے دیگر عام نام نہاد انگریزی میڈیم پرائیویٹ اسکولوں کا حال بھی اس سے کچھ مختلف نہیں لیکن اس مدرسے کا ماحول انتہائی بے تکا تھا۔ اس تعلیم میں تفریح کا کوئی عنصر نہیں تھا، ایک سخت گھٹا گھٹا ماحول جو طلباء کو عجیب قسم کے روبوٹ بنانے پر اصرار کرتا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب عازب کو اسکول سے نکالا گیا تو اس دن کے بعد سے اب وہ صرف عید کی نماز پر یا تراویح کے دوران شلوار قمیض پہنتا ہے۔ اس کا طرز فکر مدرسے کی تعلیم و تربیت کے بالکل برعکس ہے۔ مدرسے میں موسیقی کے خلاف کرے گئے پرچار کے برعکس اسے موسیقی میں انتہائی دلچسپی ہے۔ اکثر لوگ جب اس کا حلیہ دیکھتے ہیں تو انہیں یقین نہیں آتا کہ یہ لڑکا حافظ قرآن بھی ہوگا۔

والدین کا رویہ

میرے خیال میں والدین کی اپنے بچوں کو حافظ قرآن بنانے کی خواہش بھی ان مسائل کا ایک سبب ہے۔ نہ وہ اپنے بچے کے رجحان کا خیال کرتے ہیں نہ اس بات کا کہ اگر بڑا ہونے پر ان کا بچہ مختلف رجحان رکھتا ہو تو اس کے لئے قرآن شریف کو دہرانا شاید اتنا آسان نہیں ہوگا۔ وہ یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ اگر یہ قرآن شریف حفظ کرکے بھول گیا تو اس کی زندگی کے جو قیمتی سال اسے حفظ کرنے میں صرف ہوئے ہیں ان کا مداوا کیا ہوگا؟ والدین کو چاہئے کہ وہ کم از کم اپنے بچوں کو اس عمر تک پہنچنے دیں کہ جب وہ اپنے لئے یہ فیصلہ خود کرسکیں۔ اس دوران والدین اپنے بچوں کی تربیت پر توجہ دیں اور کوشش کریں کہ بچوں کو گھر میں ایسا ماحول ملے جو انہیں دینی تعلیم کے حصول پر مائل کرے۔ اپنی مرضی کا فیصلہ بچوں پر تھوپنے کے بجائے ان پر یہ ذمہ داری ڈالی جائے کہ وہ اگر چاہیں تو بڑے ہوکر یہ سعادت حاصل کریں اور اپنے لئے اور والدین کے لئے ثواب کمائیں۔

معاشرے کی ذمے داری

ہمارے ملک میں یہ ٹرینڈ رہا ہے کہ کبھی ہر کوئی ڈاکٹری اور انجینئرنگ پڑھنے لگتا ہے۔ کبھی بزنس منیجمنٹ کا دور آتا ہے، کبھی انفارمیشن ٹیکنالوجی کا۔ طریقہ کار یہ ہے کہ معاشرے کو اس وقت جس قسم کے ہنرمند اور تعلیم یافتہ افراد کی ضرورت ہو اس قسم کی تعلیم پر زور دیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے ملک کو سالانہ کتنے حافظ قرآن کی ضرورت ہوتی ہے؟ صنعت و حرفت، مدارس، علمی و تحقیقاتی اداروں میں قرآن حفظ کرنے والے (دیگر دینی علوم سے بے بہرہ) کتنے لوگوں کی ضرورت ہے۔ میرا خیال یہ ہے کہ معاشرے کو ہر سال ہزاروں حافظ قرآن بچوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ قرآن حفظ کرنے والے بچوں کے انتخاب کا کوئی طریقہ ہونا چاہئے۔ جس سے یہ پتہ چلے کہ بچوں کا رجحان کیا ہے اور صرف انہی بچوں کو یہ تعلیم دی جانی چاہئے جو دینی علوم حاصل کرنے کا شوق، استعداد اور رجحان رکھتے ہوں نہ کہ ہر بچے کو اس میں شامل کرلیا جائے۔ ان میں سے کچھ بچے بہت اچھے ڈاکٹر، بزنس مین، فنکار، انجینئر، سائنسدان کچھ بھی بن سکتے ہیں۔ لیکن بلارجحان کے انہیں دینی تعلیم کی طرف دھکیل کر ہم ان کی دیگر صلاحیتیں بھی ضائع کردیتے ہیں اور وہ نہ دینی تعلیم پر پورے اتر پاتے ہیں اور نہ ہی کچھ اور کرپاتے ہیں۔