پاکستان بلاگ ایوارڈز کی تقریب میں ابوشامل نے بہترین اردو بلاگ کا ایوارڈ جیت لیا ہے۔
ایک عام سے لڑکے کی بہت خاص خاص باتیں
پاکستان بلاگ ایوارڈز کی تقریب میں ابوشامل نے بہترین اردو بلاگ کا ایوارڈ جیت لیا ہے۔
لاہور میں دہشت گردوں نے احمدیوں کی ایک عبادت گاہ پر حملہ کردیا۔ پنجاب کی ایلائٹ پولیس، انٹیلیجنس اہلکار، اور صوبائی حکومت کچھ نہ کرسکی اور ستر سے زائد پاکستانی شہری جاں بحق ہوگئے۔
گرچہ حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان پنجاب ونگ نے قبول کرلی ہے مگر ابھی دہشت گردوں کے حامی اپنی بوسیدہ دلیلوں کے ساتھ نکلیں گے اور اس سازش کے تانے بانے اسرائیل، امریکہ، بھارت اور ایم کیو ایم سے جا ملائیں گے۔ ایسی ایسی دور کی کوڑیاں لائیں گے کہ بس۔
پنجاب کی صوبائی حکومت نے انتہائی نالائقی اور نااہلی کا سنگدلانہ مظاہرہ کیا۔ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ جب بھی شریف برداران حکومت میں آتے ہیں پنجاب میں اقلیتوں کا قتل عام شروع ہوجاتا ہے؟ کبھی عیسائیوں کو زندہ جلایا جاتا ہے، کبھی شیعہ مسلمانوں کو قتل کیا جاتا ہے اور اب یہ واقعہ۔ ظلم کی حد ہوگئی ہے۔ خدا ان دہشت گردوں سے ہمیں چھٹکارا دلا۔ کب تک ہمارے ملک کے بے گناہ عوام ان کے ہاتھوں مرتے رہیں گے؟
اپڈیٹ: پوسٹ کا ٹائٹل بعض شکایات کے سبب تبدیل کردیا گیا ہے۔
کل کراچی پریس کلب میں ڈاکٹر عواب علوی کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا۔ میں بھی کل اس پریس کانفرنس میں شرکت کے لئے گیا تھا مگر وہاں باہر موجود داڑھی والے خطرناک لوگوں کو دیکھ کر پلٹ آیا۔
ایک کے بعد ایک کرکے تیزی سے انٹرنیٹ پر ویب سائٹ بند ہورہے ہیں۔ آسان طریقہ تو یہ ہے کہ انٹرنیٹ کو ہی بند کردیا جائے۔ انٹرنیٹ سے پہلے بھی تو ہم زندہ تھے۔ اور یاد کریں اسلام کے سنہرے دور کو تب کونسا ٹوئٹر یا فیس بک ہوا کرتا تھا مگر ساری دنیا میں مسلمانوں کا طوطی بولتا تھا۔
پاکستان کی عوام آٹے، بجلی اور پانی کے بغیر جی سکتی ہے تو انٹرنیٹ بہت معمولی چیز ہے۔ اور پھر ناموس رسول کی خاظر یہ قربانی تو کچھ بھی نہیں۔
اور رہ گئی بین الاقوامی برادری، تو انہیں بولنے دو ہمارا ملک ہے۔ ہماری مرضی ہم انٹرنیٹ چلائیں کہ نہ چلائیں، بجلی دیں کہ نہ دیں، اور جو جی چاہے کریں۔ کسی کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ ہمارے معاملات میں دخل اندازی کرے۔
بلکہ گستاخ مغرب کو سزا دینے کا ایک اور طریقہ بھی ہے۔ ایسا کرتے ہیں ہم دو چار لاکھ پاکستانیوں کو احتجاجا ہلاک کردیتے ہیں۔ اس سے شاید گستاخوں کو کچھ شرم آئے۔ یا پھر اپنے سر پر مٹی ڈال کر سڑکوں پر سینہ کوبی کرتے ہیں۔ کہ اس سے تو یقینا ان کو اپنے دوغلے پن پر شرم آئے گی۔ یا پھر ایک دوسرے کے گھروں پر پتھر پھینکتے ہیں۔ اور اپنے ہی گھر کو آگ لگاتے ہیں اس سے تو ضرور بدتہذیب مغربیوں کو اپنی اوقات پتہ چلے گی۔
بہت عرصے کے بعد اردو بلاگ پر ایک انتہائی جاندار اور پراثر تحریر پڑھنے کو ملی۔ شاکر بہت کم لکھتے ہیں، ان کے انداز میں کوئی خاص بات نہیں مگر تحریر کی سادگی اور تصنع سے بے نیازی کچھ دیر میں ایک روانی پکڑ لیتی ہے اور جب آپ تحریر کے وسط میں پہنچتے ہیں تو لکھاری کا خلوص، سادگی اور انداز تکلم کا اثر محسوس کرتے ہیں۔ یہ پوسٹ مصنف کی اجازت کے بغیر یہاں اس لئے نقل کررہا ہوں کیونکہ ہوسکتا ہے شاکر کے بلاگ پر نظر آنے والے اسپائ وئر الرٹ کے سبب آپ میں سے کچھ یہ تحریر نہ پڑھ پائے ہوں۔ تحریر کا ربط اسپائی وئر الرٹ کے سبب ہی منسلک نہیں کررہا ہوں۔
دنیا پاگل ہے جی روٹی کی تلاش میں۔ اور انٹرنیٹ پر تو لوگ باؤلے ہورہے ہیں۔ کام کام کام مجھے کام بتاؤ میں کیا کروں میں کس کو کماؤں۔ ہر طرف بس یہی ہاہا کار ہے۔ میرے جیسے کنویں کے مینڈک بھی ہر طرف تاکتے جھانکتے پھرتے ہیں ترجمہ کروا لو، پروف ریڈنگ کروا لو، ڈیٹا اینٹری کروا لو، آرٹیکل لکھوا لو۔۔ کہ شاید کہیں سے کوئی آواز پڑے اوئے چھوٹے ادھر آ یہ بوٹ تو پالش کردے۔
سائیں انٹرنیٹ پر یہ چھوٹے موٹے کام بوٹ پالش کرنے جیسے ہی ہیں۔ فری لانسر ایسی قوم کا نام ہے جسے آپ عام زندگی میں دیہاڑی دار کے نام سے یاد کرتے ہیں، دیہاڑی دار یعنی رنگساز جو برش کو رنگ کے ڈبے پر رکھ کر سارا دن اڈے پر بیٹھا رہتا ہے اور دن ڈھلنے پر انتظار کر کر کے اور بارہ ٹہنی کھیل کر گھر چلا جاتا ہے، فری لانسر وہ راج مستری ہے جو اوزاروں والا تھیلا سارا دن سامنے رکھ کر انتظار کرتا ہے اور روزگار نہ ملنے پر سارا دن بیٹھ کر سر جھکائے گھر چلا جاتا ہے، فری لانسر وہ مزدور ہے جو بوڑھا ہوچکا ہے اور اب صرف ہتھوڑی چلا کر اینٹوں کی روڑی بنا سکتا ہے لیکن لمبے دستے والی ہتھوڑی لیے سارا دن بس بیٹھا ہی رہ جاتا ہے اور اسے کوئی بھی نہیں پوچھتا۔ تو صاحبو ہم بھی فری لانسر ہیں۔ انٹرنیٹ کی گلیوں آواز لگاتے پھرتے ہیں ہے کوئی جو ترجمہ کرالے، ہے کوئی جو ڈیٹا انٹری کروا لے ہے کوئی جو پروف ریڈنگ کروا لے ، ہے کوئی جو آرٹیکل رائٹنگ ہی کروا لے، ہے کوئی جو۔۔۔۔۔۔۔۔ کام دے دے۔
ابا جی کہا کرتے ہیں “گھنڈ چُک لیا تے نچن توں ڈرنا کی”۔ تو کام کرنا تو شرم کیا۔ ہاں ہم مزدور ہیں اس میں کونسا کوئی شک ہے۔ ہم کام کرتے ہیں، اور معاوضہ لیتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کبھی کام ملتا ہے کبھی نہیں ملتا۔ صاحبو انٹرنیٹ پر میرے جیسے لاکھوں ہیں۔ انڈیا، فلپائن، بنگلہ دیش اور پاکستان۔ لاکھوں لوگ جو ایک وقت میں آنلائن ہوتے ہیں اور معمولی سے معمولی معاوضے پر بھی جھپٹ پڑتے ہیں۔ صاحب ہم یہ کام کرسکتے ہیں، صاحب کم سے کم ریٹ دیں گے، صاحب ہمارے پاس پوری ٹیم ہے، 24 گھنٹے کی سروس صاحب، بہترین کوالٹی صاحب۔ اور صاحب کی مرضی کہ وہ کس کو چنتا ہے۔
صاحب کیپچا کی تصاویر کی ڈیٹا انٹری کے لیے پونا ڈالر دیتا ہے، صاحب ایک آرٹیکل لکھنے کا ایک ڈالر دیتا ہے، صاحب ایک آرٹیکل ری رائٹ( ارے جناب اسی کو اپنے الفاظ میں لکھنے) کے ایک سے ڈیڑھ ڈالر دیتا ہے، صاحب ٹرانسکرپشن کرانے کے کم سے کم پیسے دیتا ہے۔ صاحب گورا ہے، صاحب امریکی ہے، صاحب یورپی ہے، صاحب کی ویب سائٹ ہے، صاحب چھان بورے سے آٹا بنوا کر پھر روٹیاں لگواتا ہے اور اپنی دوکان پر سجا لیتا ہے، صاحب اپنی سائٹ کی تشہیر کے لیے ای میل ایڈریس پر سپیم بھیجنے کے پیسے دیتا ہے، صاحب فیس بک اور ٹویٹر پر فین اور فالورز مانگتا ہے، صاحب سب کچھ کروا سکتا ہے، صاحب کے پاس پیسا ہے، وہ فحش کہانیاں بھی لکھوا سکتا ہے، فحش ویڈیوز بھی بنوا سکتا ہے اور ان میں اداکاری بھی کرواسکتا ہے۔ فری لانسر مزدور ہے، کرتا ہے، ہر کام کرتا ہے، پیسے کے لیے کرتا ہے۔ ای میل ایڈریس بیچتا ہے، کیپچا کی ہزار تصویریں دیکھ کر ٹائپ کرکے پونا ڈالر لیتا ہے، آرٹیکل ری رائٹ کرکے ایک ڈالر لیتا ہے، فورمز اور بلاگز پر سپیم پوسٹنگ کرکے پیسے لیتا ہے، سپیم میلز بھیجتا ہے، مزدور ہے نا، بھوکا ننگا ہے اور ڈالر آتے ہیں، کم آتے ہیں تو کیا ہوا آتے تو ہیں، یہاں تو وہ بھی نہیں ملتے، تو مزدور سب کچھ کرتا ہے، سب کچھ بیچتا ہے، عزت بھی بیچنی پڑے تو بیچتا ہے، کیا ہے انٹرنیٹ پر کسی کو کیا پتا چلے گا اگر کسی فحش فلم کے لیے اپنی آواز دے بھی دی تو؟
صاحبو بھوک بڑی ظالم ہے۔ رب بھی بھلا دیتی ہے، جو پالنہار ہے۔ بھلا دیتی ہے سائیں سب کچھ بھلا دیتی ہے، بڑی ظالم ہے یہ بھوک ۔ جب آنکھوں میں ڈالروں کے سپنے اتر آئیں تو پھر حلال حرام کس کو دکھتا ہے۔ سب چاہتے ہیں کہ بس کھانے کو مل جائے، ارے کھانے کو تو ملے، جہاں بھوک برستی ہو وہاں کون دیکھتا ہے کہ آرٹیکل کو ری رائٹ کرکے وہ کسی کی امانت چوری کررہا ہے، وہاں کون دیکھتا ہے کہ “آنلائن جابز: ایڈسینس، ڈیٹا اینٹری، فارم فلنگ جابز” تو یہ دیکھے سوچے بغیر کہ حلال ہے کہ حرام بس چھ ہزار، دس ہزار کی انٹری فیس جمع کرا کے دھڑا دھڑ ڈالر بنانے میں لگ جاتا ہے۔ جیوے ڈالر، اعداد و شمار کا کھیل، جب تک ڈالر سائیں ہے تب تک موج ہے، ڈالر سائیں نہ ہوگا تو دیکھا جائے گا۔ سائیں یہ سب کچھ اعداد کا ہی تو کھیل ہے۔ اتنے کلک ہوگئے تو اتنے عدد ملیں گے۔ اب وہ کلک کسی نے کیسے بھی کیے ہوں، چار دوست مل کر اپنی ہی ویب سائٹ پر روزانہ ایک ایک کلک کرلیا کریں تو کون دیکھتا ہے جی، پر رب تو دیکھتا ہے نا۔ پر کون دیکھے اس دیکھنے کو، یہاں تو پوری پوری کمپنیاں بنی ہوئی ہیں اس کام کے لیے، آنلائن جاب کرو جی، ڈالر کماؤ جی، دس ہزار سے تیس ہزار کماؤ جی۔ لوگ کماتے ہیں جی۔
ابھی پچھلے ماہ میرا دوست میرے پاس آیا شاکر پاء جی گھر میں آٹا لانے کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں۔ انجینئیر ہے وہ، ٹیکسٹائل انجینئیر۔ ابا جی کو گولڈن ہینڈ شیک ملا تھا نیشنل بینک سے تو انھوں نے ملنے والی رقم اس کی تعلیم پر لگا دی اب اسے نوکری بھی نہیں ملتی۔ کہنے لگا پاء جی اس میں حقیقت ہے کہ نہیں؟ میں بہن کا زیور رکھوا کر اس کی فیس دوں گا اور یہ کام کرنا ہے۔ میں نے کہا بھائی مجھ سے پیسے لے لو، زیور نہ رکھواؤ وہ مکر جائے تو کون ذمہ دار ہوگا۔ اسے چھ ہزار دیا اور اس نے چھ ماہ کی ممبر شپ لی۔ پتا نہیں اب کام کررہا ہے کہ نہیں۔ مجھے کوئی امید نہیں میری رقم واپس ہوجائے گی، پر بھوک بڑی ظالم ہے سائیں۔ اور زندگی بڑی اوکھی ہے۔ اس کا احساس آج بڑی شدت سے ہورہا ہے۔
ابا جی رکشہ چلاتے ہیں، چنگ چی رکشہ جسے لوڈر رکشہ کہتے ہیں۔ آٹھ بازاروں میں ایک جوتوں کی مارکیٹ میں ہوتے ہیں، سیزن ہو، جیسے آج کل سکول کھل رہے ہیں پھر سے، تو اچھا کام مل جاتا ہے لوڈنگ کا۔ سیزن نہ ہو، جیسے اگلے ایک آدھ ماہ میں ہوجائے گا، تو سارا سارا دن وہاں کھڑے رہنا پڑتا ہے کوئی کام نہیں ملتا۔ پھر وہ گھر آکر فرسٹریشن نکالتے ہیں، آج سارا دن کوئی کام نہیں ملا، پریشانی، کیا بنے گا ہمارا۔ تو ہم انھیں تسلی دیتے ہیں کہ ایسے بھی ہوتا ہے، انسانوں کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ ہوجائے گا ٹھیک۔ آج یہ کیفیت مجھ پر طاری تھی۔ میری جوتوں کی مارکیٹ انٹرنیٹ ہے جہاں میں اپنی ہتھ ریڑھی لیے بیٹھا رہتا ہوں، آنے جانے والوں کو تکتا رہتا ہوں، شاید کوئی کام مل جائے، شاید کوئی پرانا گاہک ہی بلا لے، شاید کہیں سے پھنسی ہوئی رقم آجائے، شاید۔۔۔۔۔۔۔ زندگی شاید پر چلتی ہے، فری لانسنگ ویب سائٹس کو کھنگالتے ہوئے، نئے نئے کام تلاشتے ہوئے، شاید یہ بھی میں کرسکوں، ہاں ٹرانسکرپشن کرسکوں گا، چلو ٹرائی کرتے ہیں، ری رائٹنگ مشکل تو نہیں چلو ٹرائی کرتے ہیں، کیوں نا کیپچا ڈیٹا اینٹری کا ہی کرلیا جائے پونا ڈالر تو مل ہی جاتا ہے ایک گھنٹے کا، اور اگر کبھی ترجمے کی کوئی جاب نکل آئے تو وہاں اپنا ریزیومے بھیجنا، جہاں سے اکثر جواب ہی نہیں آتا۔
زندگی بڑی مشکل لگتی ہے، ایک ایسے فیز میں جب آپ زیر تعمیر ہوں۔ میرے جیسا جو جاب بھی چاہتا ہے اور جس کے پاس کوئی قابل ذکر ہنر بھی نہیں۔ گرافکس ڈیزائننگ؟ نہیں جی۔، ویب ڈویلپمنٹ؟ نہیں جی ورڈ پریس تھوڑا سا جانتا ہوں جی لیکن ویب ڈویلپمنٹ نہیں جی، پروگرامنگ؟ سی شارپ تھوڑی سی آتی ہے جی پر کبھی پروفیشنل ٹیسٹ یا کام نہیں کیا جی بس ٹیکسٹ پروسیسنگ کرتا ہوں جی کارپس لنگوئسٹکس کے لیے سوری جی،۔ تو پھر پیچھے یہی رہ جاتا ہے کہ ترجمہ کرلیا جائے، تو ترجمہ کرتا ہوں لیکن یہ کام کم کم ملتا ہے بہت سارے لوگ ہیں اس میں بلکہ بڑے پروفیشنل لوگ ہیں، میرے جیسے کئی دھکے کھاتے پھرتے ہیں “پروفیشنل ٹرانسلیٹر” کا ٹیگ لگائے پھرتے ہیں، ترجمہ نہ ملے تو پھر کیا کریں؟ لسانیات کے حوالے سے کبھی کوئی جاب نکل آتی ہے اردو یا پنجابی کا کورس ڈویلپ کرنا یا ایسا کوئی کام۔۔۔ایک آدھ ملا بھی لیکن کبھی چھوٹ بھی جاتا ہے۔ پنجابی کی بات کرو تو گورمکھی کی بات ہوتی ہے، سکھوں والی پنجابی، اردو کی بات ہی کم ہوتی ہے ہندی کی بات ہوتی ہے زیادہ یعنی پھر ادھورا پن۔ لے دے کر پھر رائٹنگ، ری رائٹنگ، ڈیٹا انٹری، کیپچا ڈیٹا اینٹری، ورچوئل اسسٹنٹ، یہ رہ جاتی ہیں لیکن ان کے لیے درکار وقت بہت زیادہ ہوتا ہے۔ میرے جیسا پارٹ ٹائمر نہیں کرسکتا۔ سو چپ رہ جاتا ہے لیکن منصوبے بنانے سے نہیں ٹلتا چل یار اپنا بلاگ شروع کرتے ہیں۔ باقاعدہ لکھا کریں گے، گوگل ایڈسینس لگائیں گے اور کمائیں گے، لیکن دل نہیں مانتا، یا لکھا نہیں جاتا، انگریزی میرے لیے کوئی نئی چیز نہیں، پر لکھا نہیں جاتا۔ نہ ادھر ہوا جاتا ہے نہ ادھر۔ اسی دُبدھا میں زندگی گزرتی جاتی ہے۔ عجیب زندگی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں یہ ویڈیو شئیر نہیں کرنا چاہ رہا تھا۔ مگر کافی سوچ بچار کے بعد میں خود کو یہ ویڈیو شئیر کرنے پر مجبور محسوس کررہا ہوں۔ ویڈیو میں آپ ترجمان تحریک طالبان مسلم خان کو اس بات کا اقرار کرتے ہوئے سنیں گے، کہ یہ واقعہ پیش آیا ہے۔ وہ کہتے ہیں:
“وہ وقت ایسا تھا کہ جنگ جاری تھی اس لئے جرم کی تحقیقات نہیں کی جاسکتی تھی مقامی طالبان نے جو سزا دی وہ ہمارے علم میں ہے اور ایسا ہی کرنا چاہئے تھا۔ ”
اس کے علاوہ آپ ویڈیو میں یہ بھی دیکھیں گے کہ تماشائیوں میں دسیوں افراد کھڑے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ محض چند افراد کھڑے ہوں جنہیں پیسے دے کر خریدا گیا ہو۔
اور یہ کہنا کہ یہ ویڈیو جھوٹا ہے انتہائی شرمناک فعل ہے۔ ساتھ ہی ملاحظہ فرمائیں ثمر من اللہ کا ڈیلی ٹائمز میں شائع ہونا والا مضمون۔
طالبان کے مظالم کی داستانیں افغانستان کی سڑکوں پر آپ عام سن سکتے ہیں جیسے کم سن نابالغ لڑکیوں کو بوڑھے بارسوخ کمانڈروں کے نکاح میں دینا۔ خواتین کو سڑکوں پر بغیر محرم نکلنے پر ڈنڈوں سے مارنا۔ سربریدہ لاشوں کو کھمبوں پر ٹانگنا۔ موٹرسائیکلوں سے باندھ کر بازاروں میں گھمانا۔ وغیرہ وغیرہ۔
جو کوئی بھی شخص آپ کو یہ بتاتا ہے کہ طالبان ایک جنت نظیر ریاست کی بنیاد رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ یا تو خود بہت بیوقوف ہے یا پھر چاہتا ہے کہ جس احمقوں کی جنت میں وہ رہتا ہے اسی میں سب ہموطن رہنا شروع کردیں۔
میڈیا میں ان دنوں روالپنڈی کے ضمنی انتخاب کا بڑا غوغا تھا۔ خیر سے جیسا کہ توقع تھی مسلم لیگ ن کے شکیل اعوان صاحب ٹھیک ٹھاک ووٹوں سے جیت گئے۔ ان کی جیت کی توقع اس لئے بھی تھی کہ پنجاب حکومت کی تمام سرکاری مشینری ان کے ساتھ تھی یہ میرا نہیں عمران خان کا الزام ہے۔ میں تو جب سے سپریم کورٹ نے شریف برادران کو دودھ کے دھلے قرار دیا ہے تب سے ان کی ایمانداری پر شک نہیں کرتا۔ ہولناک قسم کے پوسٹروں سے روالپنڈی کی ہر دیوار اور ہر کھمبے کو ہی نہیں ہر گاڑی کو بھی آلودہ کردیا گیا تھا۔ سمجھ نہیں آتا یہ لوگ بھتہ بھی نہیں لیتے پھر بھی ان کے پاس انتخابی مہمات کے لئے اسقدر روپیہ کہاں سے آتا ہے۔
شکیل کے جیتنے کے بعد ن لیگ کے کارکنان نے وہ ہلڑ بازی کی ہے کہ الامان۔ اسقدر فائرنگ کی گئی ہے کہ بقول مطہر عباس، فضا بارود کی بو سے آلودہ ہوگئی ہے اور اسکور کارڈ بتانے والے بورڈ سے مسلم لیگ کے رہنماؤں نے کارکنان سے فائرنگ بند کرنے کی اپیل کری جسے کسی نے توجہ کے لائق نہیں سمجھا۔ روالپنڈی میں مسلم لیگ ن کے سب کارکنان کے پاس قانونی اسلحہ ہے جسے رکھنا، نمائش کرنا اور اس کا بے دریغ و بے تکا استعمال کرنا آئین اور شریعت کے عین مطابق ہے۔
میڈیا کا کردار اس سارے معاملے میں انتہائی جانبدارانہ رہا۔ شکیل میاں کو ٹی وی پر دیکھا بے چارے کو ٹھیک سے بولنا بھی نہں آتا جماعت کے تمام قائدین کو انہیں جتوانے کے لئے تقاریر کرنا پڑیں اور پوری مسلم لیگ ن کی تقاریر بھی اکیلے شیخ رشید کی آواز پر بھاری نہ پڑسکیں۔ ادھر بیان باز، ڈرامے باز، اور عوام کے خادم شیخ صاحب تھے۔ مگر، پنجاب کی عوام کا ووٹ دینے کا ڈھنگ بڑا سادہ ہے۔ جسے سمجھنے کے لئے کوئی زیادہ دماغ لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔ شیخ رشید پتہ نہیں کس خام خیالی میں تھے، دو چار کالج بنوادئے تو کیا لوگ انہیں زندگی بھر کے لئے سر پر بٹھالیں گے؟
کراچی کے لوگوں کی ایک بری عادت ان کی بے رخی، صاف گوئی اور بے اعتنائی ہے۔ یہ میری رائے نہیں یہ ملک کے دیگر علاقوں میں رہنے والے پاکستانیوں کی رائے ہے۔ ملاحظہ فرمائیے ایک مثال:
واضح رہے یہ اس شخص کی ویڈیو ہے جو سانحہ کراچی کے بعد چھتیس گھنٹے تک خود کھڑے ہوکر آگ بجھانے اور عمارتوں کو بچانے کے کام کی نگرانی کرتا رہا۔ اگلے دن اس نے چیمبر آف کامرس کے ممبران سے ملاقاتیں کیں۔ کل بزنس کمیونٹی کے ساتھ کھڑے ہوکر اپنی مدد آپ کے تحت مارکیٹوں کی تعمیر نو اور مرمت کے کام کا آغاز کروایا۔ جب یہ سب کام نمٹا کر وہ واپس پہنچتا ہے تو اس سے سوال کیا جاتا ہے کہ وہ اس بارے میں کیا کہے گا کہ اس کی سیاسی جماعت پر اس حملے میں ملوث ہونے کا شبہ کیا جارہا ہے؟
آپ چاہے کراچی والوں کو بدتمیز کہیں، میری رائے یہ ہے کہ کراچی کے لوگ پرجوش ہیں۔ آپ زخموں سے چور اس شہر کے نمائندوں پر کیچڑ اچھال رہے ہیں اور شہر سب الزامات سے بے پرواہ ملبہ میں سے پھر اٹھ کھڑا ہورہا ہے:
ایک اور سوال جو میرے ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ صوبہ پنجاب کا کونسا قابل ذکر رہنما، ملکی معیشت کو پہنچنے والے اس تیس ارب کے نقصان کا جائزہ لینے، افسوس کرنے یا متاثرین سے اظہار ہمدردی کے لئیے آیا ہے؟ پھر آپ حیران کیوں ہوتے ہیں کہ لوگ ایم کیو ایم کو بھتہ بھی دیتے ہیں اور ووٹ بھی۔
کل جماعت اسلامی کے تشدد پسند، طالبان پسند، دہشت کے دلدادہ اور ٹیررسٹوں کے ٹرینی رہنما جناب لیاقت بلوچ صاحب نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ سانحہ عاشورہ کا بھانڈا ایک برطانوی جریدے نے پھوڑ دیا ہے۔ بھانڈا جو پھوڑا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جی امریکہ، اسرائیل اور ہندوستان کے گٹھ جوڑ کے زیر اثر بدنام زمانہ بلیک واٹر اور متحدہ قومی موومنٹ نے سانحہ عاشورہ کی دہشت گردی کی ہے۔
آئیے جھوٹوں کو گھر تک چھوڑ کر آئیں۔ سب سے پہلے تو ہم اس برطانوی جریدے کا جائزہ لیتے ہیں جس کا نام دی لندن پوسٹ ہے۔ کسی بھی ویب سائٹ کی کریڈیبلیٹی جاننے کے لئے آپ کا براؤسر سب سے اہم ہتھیار ہے۔ ذرا رابطے کے صفحے پر کلک کریں تو آپ دیکھیں گے کہ وہاں صرف ای میل ایڈریسز درج ہیں۔ دی لندن پوسٹ نامی ویب سائٹ کا برطانیہ میں کوئی دفتر، کوئی نمائندہ، کوئی ڈسٹریبیوٹر حتی کہ کوئی مشتہر بھی نہیں ہے۔ اب ہم اشتہار کے صفحے پر جاتے ہیں۔ اس صفحے پر آپ کو ضرور مستند معلومات ملتی ہیں۔ کیونکہ ہر ویب سائٹ کو مشتہرین کی ضرورت ہوتی ہے۔ اشتہار بازی کے صفحے پر یوکے کے نیچے صرف ایک ای میل ایڈریس ہے۔ اور ایشیا کے نیچے پاکستان کا ایک موبائل نمبر کوئی لینڈ لائن نمبر بھی نہیں ہے۔ دونوں علاقوں کے لئے ایک ہی ای میل ایڈریس دیا گیا ہے۔
اب ہم اس ادارے کا جائزہ لیتے ہیں جو دی لندن پوسٹ کے ویب سائٹ کے مطابق ان کی مارکیٹنگ کا ذمہ دار ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ادارے کا نہ ہی کوئی ویب سائٹ ہے اور نہ ہی کوئی اور سراغ۔ تمام انٹرنیٹ پر اس کا ذکر صرف دی لندن پوسٹ پر ہی نظر آتا ہے۔
مزید سراغ تلاش کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ دی لندن پوسٹ نامی ویب سائٹ پاکستان کے شہر لاہور سے ہوسٹ کیا جاتا ہے۔ ملاحظہ فرمائے۔
اب ہم جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس مضمون کے لکھنے والے ڈاکٹر شاہد قریشی صاحب کون ہیں اور ان کی خود کی کریڈیبیلیٹی کیا ہے؟
ہم یہ جاننے سے بالکل قاصر ہیں کہ یہ شخص کون ہے کہاں رہتا ہے، کیا کرتا ہے وغیرہ۔ یہ خود کو ایک سیکیوریٹی اور سیاسی مبصر کی حیثیت سے متعارف کراتا ہے۔ مگر بے پناہ تحقیق کے باوجود ہم یہ نہیں جان پائے کہ یہ شخص کون ہے۔ محض ایک لنک ایسا ملا ہے جو پاکستان پیپلز پارٹی کے حامیوں کے بلاگ کا ہے۔ اس بلاگ پر ڈاکٹر شاہد قریشی نامی شخص کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بقول اس ویب سائٹ کے ڈاکٹر شاہد قریشی نامی شخص انٹرنیٹ پر بعض انتہائی پراسرار ویب سائٹس (جیسا کہ دی لندن پوسٹ) پر نفرت انگیز تحاریر لکھتا ہے۔ اس کی تحاریر زیادہ تر امریکہ، اسرائیل، بھارت، ایم کیو ایم اور قادیانی دشمنی پر مبنی ہوتی ہیں۔ میں نے اس کی چند تحاریر پڑھی ہیں آپ بھی تلاش کرکے پڑھئے کراچی اور اس کے اردو بولنے والے شہریوں اور ایم کیو ایم کے خلاف اپنے تعصب کو یہ شخص شائستگی کے پردے میں ڈھکنے کا بھی روادار نہیں ہے۔
آج کل کے دور میں اگر ویب پر مضامین لکھتے ہیں تو کسی کے لئے بھی یہ معلوم کرنا مشکل نہیں کہ آپ کون ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ میرے بارے میں کچھ جاننا چاہتے ہیں تو میرا نام گوگل میں لکھنے سے آپ میرا بلاگ دیکھ سکتے ہیں، آپ فیس بک پر میری پروفائل دیکھ سکتے ہیں، آپ میری تعلیمی استعداد، میرے شوق، میں کیا کیا کام کرچکا ہوں اور کیا کرنا چاہتا ہوں، کہاں رہتا ہوں، میرا ای میل ایڈریس کیا ہے، میرا موبائل فون نمبر اور میرے انسٹنٹ مسینجر کی آڈیز۔ میرے خیالات کیا ہیں اور سیاسی طور پر میں کن نظریات کا حامل ہوں سب کچھ محض چند منٹوں میں معلوم کرسکتے ہیں۔ ایک نام نہاد سیکیوریٹی اور سیاسی مبصر جو ویب پر مضامین لکھتا ہے اس کے بارے میں انٹرنیٹ پر کسی بھی معلومات کا میسر نہ ہونا ایک بڑی مشکوک بات ہے۔
آپ ذرا اس بابت کچھ ذکر ہوجائے کہ ایم کیو ایم کے بارے میں یہ دعوی مضحکہ خیز کیوں ہے۔ جو مارکیٹیں جلائی گئی ہیں ان کے اکثر دکاندار نہ صرف ایم کیو ایم کے ووٹر ہیں بلکہ ایم کیو ایم کی مالی سپورٹ بھی کرتے رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کے تمام چھوٹے بڑے رہنما تمام سانحے کے دوران جائے وقوع پر چھائے رہے۔ زخمیوں کی منتقلی سے لیکر آگ بجھانے تک۔ صفائی سے لیکر مارکیٹوں کی تعمیر نو تک۔ دکانداروں اور متاثرین کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ یہ پروپگینڈہ کراچی کی عوام کے لئے نہیں بلکہ پاکستان کی پختون اور پنجابی عوام کے لئے کیا جارہا ہے جو ویسے ہی ایم کیو ایم کو چاند گرہن سے لیکر پولیو تک کے لئے ہر برائی کا منبع سمجھنے کو ہر وقت ذہنی طور پر تیار رہتے ہیں۔ پروپگینڈے کا مقصد ایم کیو ایم اور کراچی کے خلاف تعصب کو مزید مضبوط کرنا ہے۔
اس سے بھی زیادہ افسوسناک رویہ انتہاپسندوں جیسا کہ لیاقت بلوچ کا وہ رویہ ہے جب وہ اس قسم کی غیر مصدقہ بڑبڑاہٹ کو بطور پروف پیش کرنے لگتے ہیں۔ یقینا لیاقت بلوچ صاحب کو بخوبی اندازہ ہے کہ یہ تحریر کس قدر بیوقوفانہ ہے۔ مگر کراچی اور ایم کیو ایم دشمنی کا رویہ ہمارے ملک میں ایسا ہی ہے جیسے یہودی دشمنی۔ جب بھی کسی مسئلے کی کوئی توجیہہ سامنے نہ آئے تو اسے پاکستان کے نئے صیہونیوں ایم کیو ایم کے سر منڈھ دو۔
پاکستان میں کبھی بھی کسی مسلم لیگی چاہے وہ قاف ہو یا نون، یا کسی پختون چاہے وہ سیکولر ہو یا انتہاپسند کبھی انہیں بھارتی ایجنٹ یا را موساد کا ٹیررسٹ قرار نہیں دیا جاتا۔ راولپنڈی، لاہور، اسلام آباد میں اتنے بم دھماکے ہوئے کسی لیگی پر الزام نہ لگا، کسی نے جماعت کو موردالزام نہ ٹہرایا حتی کہ وزیراعلی پنجاب جنوبی پنجاب کے طالبان تک کو موردالزام یا مشکوک ٹہرانے کو راضی نہیں۔ پشاور میں اسقدر خون بہا مگر کسی نے اے این پی، مولانا فضل الرحمان، یا کسی اور پختون سیاستدان کو موردالزام نہ ٹہرایا۔ پاکستان دشمنی کے یہ طعنے پہلے بنگالیوں پر ٹوٹے، پھر بلوچوں پر، سندھی قوم پرستوں پر اور ایم کیو ایم پر۔ ان تمام الزامات کے باوجود ایم کیو ایم یہاں موجود ہے اور اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ یہ کہیں جائے۔ کیا ساٹھ سال میں ہم اتنے بھی بالغ النظر نہیں ہوئے کہ اپنے نسلی اور لسانی تعصبات سے جان چھڑا سکیں اور ان لوگوں کے درد کا سوچ سکیں جو پاکستان کو سالوں سے اربوں روپے کا ٹیکس، ہزاروں نوکریاں، اور ایک قابل بھروسہ معیشت فراہم کرتے رہے ہیں؟
دردمند پاکستانیوں سے اپیل ہے کہ وہ متعصب انتہاپسند، دہشت پسند اور طالبان پسند قسم کے عناصر سے دور رہیں اور ان کی ہر ممکن طریقے سے حوصلہ شکنی کریں۔ سوشل بائیکاٹ اس کا سب سے اہم ہتھیار ہے۔
چند دن پہلے میں شعیب بھائی سے چیٹ کے دوران پوچھ رہا تھا کہ کراچی کو دہشت گردوں نے نظر انداز کیوں کررکھا ہے؟ انہوں نے اس کے ڈانڈے بلیک واٹر، ایم کیو ایم، امریکا، بھارت اور اسرائیل سے جا ملائے۔ کہ چونکہ ایم کیو ایم اس معاہدے کا حصہ ہے تو ان کی عمل داری والے علاقے کو فی الحال دہشت گردی سے پناہ ملی ہوئی ہے۔
بی بی سی اردو پر رضا احمد نے بھی اس موضوع پر اپنا اظہار خیال کیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ دو سال تک نظر انداز کرے جانے کے بعد اچانک سے دہشت گردوں کو ہماری یاد کیوں آگئی؟
حادثے کے بعد ایک منظم گروہ نے آدھے گھنٹے کے اندر ملک کی سب سے بڑی مارکیٹوں کو آگ لگادی۔ ایک منظم سازش کے تحت ہر تین دکانیں چھوڑ کر ایک دکان جلائی گئی تاکہ سب دکانیں اچھی طرح آگ کی لپیٹ میں آجائیں۔ اربوں روپے مالیت کا نقصان ہوا۔ یہ بات سمجھنے کے لئے آپ کو راکٹ سائنٹسٹ ہونے کی ضرورت نہیں۔ مشتعل مظاہرین ایک مخصوص علاقے کی عمارتوں کو اس طریقے سے آگ کیوں لگائیں گے کہ وہ ایک دوسرے کو لپیٹ میں لے کر پورا علاقہ جلادیں؟ مشتعل عزاداران اتنی جلدی آتشگیر مادے کے کیمیکل کینز کہاں سے لائے؟ دہشت گردی کا منصوبہ صرف خودکش حملہ نہیں تھا بلکہ اس کے بعد افراتفری کا فائدہ اٹھا کر شہر کے تجارتی مراکز کو نذر آتش کرنا بھی منصوبے کا دوسرا حصہ تھا۔ کیونکہ تجارت اس شہر کے طرز زندگی کا ایک اہم جزو ہے۔ اس لئے دشمن کا ٹارگٹ اور اس کی دھمکی دونوں واضح ہیں۔ واقعے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا جارہا ہے جبکہ وزارت داخلہ نے ایف آئی کے ڈائریکٹر کو انکوائری کا حکم دیا ہے۔
اس موقع پر لوگ ظاہر ہے حکومت کو ہی لعن طعن کریں گےْ لیکن آئیے ایک جائزہ اس بات کا لیتے ہیں کہ کیا واقعی جلوس کی سیکیوریٹی میں کسی قسم کی کمی چھوڑی گئی تھی؟
جلوس نشتر پارک سے نکلتا ہے اور ایم اے جناح روڈ سے گزرتا ہوا کھارادر پر ختم ہوتا ہے۔ یہ ایک طویل راستہ ہے۔ جو شہر کے سب سے زیادہ گنجان آباد علاقوں سے گزرتا ہے۔ سینکڑوں گلیاں اور دسیوں سڑکیں ایم اے جناح روڈ کے دونوں اطراف سے آکر مرکزی شاہراہ پر ملتی ہیں۔ ایم اے جناح روڈ بند ہونے سے شہر دو حصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے اور سڑک کے ایک حصے سے دوسرے حصے تک جانے کے لئے آپ کو تقریبا پورے ایم اے جناح روڈ کا چکر کاٹ کر راستہ ملتا ہے۔ لیکن چونکہ سڑک کے دونوں اطراف لاکھوں لوگ رہتے ہیں اس لئے جن علاقوں سے جلوس گزر چکا ہوتا ہے یا جہاں ابھی نہیں پہنچا ہوتا وہاں پیدل چلنے والوں کو سڑک پھلانگنے دی جاتی ہے۔
سندھ پولیس کے جوان ہر اس گلی اور سڑک کے نکڑ پر چوکس کھڑے ہوتے ہیں جو ایم اے جناح روڈ پر کھلتی ہے۔ عمارتوں پر اسنائپرز بٹھائے جاتے ہیں اور جلوس کی ہیلی کاپٹر کے ذریعے فضائی نگرانی کی جاتی ہے۔ رینجرز کے جوان پوری سڑک پر تعینات ہوتے ہیں اور سینکڑوں کی تعداد میں ایمبولینسیز، رینجرز اور پولیس کی گاڑیاں پوری سڑک پر موجود رہتی ہیں۔
سیکیوریٹی کی دوسری تہہ شعیہ تنظیموں کے اسکاؤٹس کی ہوتی ہے جو میٹل ڈیٹکٹر اور دیگر آلات سے لیس تھے اور جلوس کو چاروں طرف سے مکمل گھیرے میں لئے رہتے ہیں۔
خودکش حملہ آور یقینا نشتر پارک سے موقع کی تاک میں ہوگا۔ مگر اسے جلوس کے درمیان پہنچنے کا موقع نہیں مل سکا۔ یہاں تک کے شام ہونے کو آئی اور اس کی گھبراہٹ عروج پر پہنچ گئی کیونکہ چند گھنٹوں میں جلوس اختتام پذیر ہوجانا تھا۔ اس نے لائٹ ہاؤس کے قریب ایک گلی کے نکڑ سے جلوس میں داخل ہونے کی کوشش کری تو اسے اسکاؤٹس نے روک لیا اور اس نے گلی کے نکڑ پر ہی خود کو اڑادیا۔ اگر وہ جلوس کے درمیان خود کو اڑاتا تو جانی نقصان بہت زیادہ ہوتا۔
سیکیوریٹی میں کوئی کسر نہ چھوڑی گئی تھی اور نہ ہی دھماکے کے بعد زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کو ہسپتالوں تک پہنچانے میں کوئی تاخیر کی گئی۔ کراچی کی مقامی انتظامیہ ایمرجنسی ریسپانسز میں ملک کے تمام اداروں سے زیادہ مستعد ہے۔ اور ایسے سانحات پر شہر بھی کی تنظیمیں ایک بہت بڑی مشین کی طرح تیزی سے حرکت کرتی ہیں۔ ہسپتال ریڈ الرٹ پر ہوتے ہیں اور جانی نقصان کو کم سے کم رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔
دھماکے کے آدھے گھنٹے کے اندر ہی چند افراد کے ایک چھوٹے سے گروہ نے بولٹن مارکیٹ کی دکانوں کو جلانا شروع کردیا۔ اس بات کے عینی شاہدین موجود ہیں کہ جلاؤ گھیراؤ کرنے والے منظم طریقے سے اپنا کام کررہے تھے، وہ کسی بھی طرح عزادار نہیں دکھائی دے رہے تھے، اور ان کے حلیوں کے بارے میں اس لئے کچھ نہیں کہونگا کیونکہ یہ لسانی تعصب کا تاثر دیگا۔
کراچی کے شہریوں کا ردعمل ہمیشہ بہت مثبت ہوتا ہے۔ اس شہر نے دہشت گردی کے کئی حملے سہے ہیں اور ایمرجنسی میں اس کے ادارے بہت عمدہ ریسپانس دیتے ہیں۔ تمام ادارے خاص طور پر پولیس اور رینجرز کے جوان، ہمارے فائر فائٹرز، ہمارے ڈاکٹرز اور نرسز، عام شہری جو زخمیوں کی مدد کو فورا آپہنچتے ہیں، ہماری شہری انتظامیہ سب اپنا کام احسن طریقے سے انجام دیتے ہیں۔
پوسکتا ہے آپ کہیں کہ اگر احسن طریقے سے کام کرتے ہیں تو یہ اربوں روپے کی املاک کیسے جلادی گئی؟
کراچی میں فرقہ ورانہ فسادات نہیں ہوتے۔ لیکن کراچی میں ہر علاقے، ہر مذہب اور ہر فرقے کے لوگ رہتے ہیں۔ اس لئے فسادات کو روکنے کے لئے بطور خاص کوششیں کی جاتی ہیں اور اکثر شہر کی سیاسی، سماجی اور مذہبی تنظیمیں ہم آہنگی سے امن کی کوششیں کرتی ہیں۔ آپ ایسی کوششیں تب دیکھ چکے ہیں جب ایم کیو ایم کے کراچی میں قبائلی متاثرین جنگ کی رجسٹریشن کے مطالبے پر شہر میں لسانی کشمکش پیدا ہوگئی تھی۔ لیکن بات چیت سے ٹینشن کو ڈفیوز کیا گیا۔ اس موقع پر بھی ایسا ہی ہوا۔ شہر کی پولیس فورس اور انتظامیہ کی فوری توجہ جلوس کو بہ حفاظت اس کی منزل تک پہنچانے پر تھی۔ دوسرا ایشو زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کا تھا۔ تیسرا مسئلہ جو ایک اور ڈائیورژن تھا وہ یہ تھا کہ شہر کے چند علاقوں میں ہوائی فائرنگ شروع کردی گئی۔ اس موقعے کا فائدہ اٹھا کر دشمن اپنا دوسرا حملہ کرنے میں کامیاب ہوا اور انہوں نے دکانیں اور مارکیٹیں جلادیں۔
ان مارکیٹوں میں اور ملحقہ عمارتوں کے گوداموں میں تمام سامان ایسا تھا جو آسانی سے آگ پکڑنے والا تھا۔ جیسا کہ پرفیوم، اسپرے، ادویات، پلاسٹک، کپڑا، وغیرہ۔ اس کے باوجود اس آگ پر قابو پانے کی جان توڑ کوشش کی گئی۔ یہ آگ کسی ایک عمارت میں نہیں بلکہ کئی عمارتوں پر مشتمل ایک پورے تجارتی علاقے میں لگی ہوئی تھی جس پر اگر آپ شہر میں فائر بریگیڈ کے ریسورسز مدنظر رکھیں تو یہ ایک بڑی کامیاب امدادی کاروائی تھی۔ گرچہ پہنچنے والا نقصان اربوں روپے میں ہے مگر یہ علاقہ اسقدر گنجان ہے کہ آگ اس سے کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر پھیلنے کا امکان تھا۔
شہید ہونے والوں میں ایک رینجرز کے جوان اور ایک فائر فائٹر بھی ہیں۔ جو اس شہر کے لوگوں کی جان و مال کی حفاظت میں ہلاک ہوئے۔ مرنے والوں میں معصوم بچے بھی ہیں اور خواتین بھی۔ جو املاک جلائی گئیں ان سے شہر میں سینکڑوں لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں، اور کتنوں ہی کے کاروبار ایسے برباد ہوئے ہیں کہ وہ اب کبھی نہ اٹھ سکیں گے۔
اس موقع پر بھی ایسے قلمکار جو شہر کراچی کے بارے میں عجیب سے تعصبات کا شکار ہیں، حماقت افشانی، بھونڈے طنز اور اپنی بے تکی خوشی کو چھپا نہیں پارہے۔ اگر آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہیں تو تعصبات سے دور رہیں اور ایسے قلمکاروں کی حوصلہ افزائی نہ کریں۔ اللہ ہمارے ملک ہمارے شہر اور ہمارے محلوں کو اپنی امان میں رکھے۔
ہاتھ کانوں پہ ہیں
نیل گالوں پہ ہیں
اور نشاں جو سکینہ کے شانوں پہ ہیں
ہر نشان سے یہی
آرہی ہے صدا
بابا جاں بابا جاں
کل تھی ماں آج میں بھی ہوں دربار میں
مثل زہرا کھڑی ہوں میں اغیار میں
اس طرف ہے شقی اس طرف رہ گئیں بےپدر بیٹیاں
ایسا خطبہ دیا میں نے دربار میں
لکھ رہا ہے جو یاور تیرے پیار میں
لہجئہ حیدری ہر اذاں کے لئے ہے صدائے اذاں
اے میرے بابا جاں
ہورہی ہے اذاں
سر چھپاؤں کہاں
معرکہ کربلا نے اسلامی ادب پر بہت گہرا اثر چھوڑا ہے۔ اس المناک سانحے کی یاد میں لکھے جانا والا ادب، نوحہ خوانی اور بیان کربلا نے اسلامی کلچر کو ایک نیا رخ دیا ہے۔ مجھے گذشتہ چند دنوں سے نوحہ خوانی، شیعہ مقررین کے خطابات اور دیگر لٹریچر اور ملٹی میڈیا دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے۔ قطع نظر اس کے کہ کیا سچ ہے کیا مبالغہ، جو بات مجھے تحیر میں مبتلا کرتی ہے وہ یہ ہے کہ سانحہ کربلا کا مسلمان سوچ پر ایک بہت زبردست اثر ہے اور اس کا زیادہ تر کریڈٹ ان تاریخ دانوں کو نہیں جاتا جنہوں نے یہ واقعہ اپنے اپنے طریقے سے بیان کیا ہے۔ بلکہ ان لوگوں کو جاتا ہے جنہوں نے اس کی عظمت کو اپنے فن کی مہارت سے اجاگر کیا۔ ان میں خطیب، سوز و نوحہ خواں، شاعر، ادیب، مذہبی اسکالر سب کی کوششیں شامل ہیں۔
روزنامہ جنگ پر سلیم صافی لکھتے ہیں:
زرداری صاحب کے سیاسی گناہوں کی فہرست بڑی لمبی ہے لیکن یہ جو این آراو کی چھری سے انہیں ذبح کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ‘ اسے زیادتی کے سوا کوئی اور نام نہیں دیا جاسکتا ؟ آخر این آر او میں ان کا کیا کردار ہے؟ ۔ یہ ڈیل تو بے نظیر بھٹو اور جنرل پرویز مشرف کے مابین ہوئی۔ تب تو زرداری صاحب کھڈے لائن لگے ہوئے تھے لیکن تماشہ یہ ہے کہ کوئی بی بی کو الزام دے رہا ہے اور نہ پرویز مشرف کواور سب کے سب آصف زرداری کو نشانہ بنارہے ہیں ؟ سوال یہ ہے کہ یہ شور اس وقت کیوں بلند نہیں ہوا جب این آراو کے تحت بی بی اور دیگر لوگ پاکستان آرہے تھے؟ میاں نواز شریف نے اس این آراو زدہ پارٹی کے ساتھ اتحاد کیوں کیا؟ جب زرداری صاحب ایک مشکوک ول (Will) کے تحت پارٹی قیادت سنبھال رہے تھے ‘ تو ان کے ان مخالف عقابوں نے اس وقت احتجاج کیوں نہیں کیا؟ پھر جب وہ گارڈ آف آنرز کے شوق میں پارٹی قیادت کے ساتھ ملکی صدارت سنبھالنے جا رہے تھے‘ تو ان کے ناقدین نے تب یہ قیامت کیوں برپا نہیں کی؟تب تو ہر کوئی ان کی صلاحیتوں اور سیاسی چالوں کی تعریفیں کررہا تھالیکن اب کیری لوگر بل کے بعد ہر ایک کو زرداری صاحب کے جرائم یاد آگئے ہیں ۔جب وہ صدارتی امیدوار بن رہے تھے ‘ تب بھی بین الاقوامی میڈیا میں ان کو مسٹر ٹن پرسنٹ کے القابات سے یاد کیا جارہا تھا‘ سوال یہ ہے کہ اس وقت ہم نے مزاحمت کیوں نہیں کی؟ آخر اس ملک میں ہٹانے اور بٹھانے کا یہ سلسلہ کب تک چلتا رہے گا؟ ملک کے دیگر حقیقی اور دائمی مسائل کو نظرانداز کرکے‘ایک ہی ایشو کو اٹھا کر ‘ اسے قوم کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ بنانے کا یہ گندا کھیل آخر کب ختم ہوگا؟
اسی مضمون میں آگے لکھتے ہیں۔
ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ پچھلی حکومت میں ایسے وزراء بھی بیٹھے تھے جن کے خلاف عدالتوں میں کیسز چل رہے تھے ؟۔ میاں نواز شریف جب وزیراعظم تھے ‘ تب بھی ان کے خلاف عدالتوں میں کئی مقدمات پینڈنگ تھے ۔ عدالتوں کا ریکارڈ نکالا جائے تو قاضی حسین احمد سے لے کر عمران خان تک ‘ کوئی پاکستانی لیڈر ایسا نہیں ملے گا جس کے خلاف مقدمات درج نہ ہوں۔ کم از کم دفعہ ۴۴۱ کی خلاف ورزی کا کیس تو ہر ایک کے خلاف درج ہے ۔پھر تو اس ملک میں کوئی بھی کسی حکومتی عہدے پر فائز نہیں ہوسکتا۔ اگر ہم پیپلز پارٹی کے این آر او کا ذکر کرتے ہیں تو میاں نواز شریف کے این آر او کے بارے میں کیوں خاموش ہیں ؟۔ انہیں تو بعض مقدمات میں سزا بھی ہوئی تھی لیکن پرویز مشرف کے ساتھ ڈیل کے نتیجے میں ان کے تمام مقدمات ختم ہوئے اور وہ خوشی خوشی سعودی عرب چلے گئے ۔ فوجی ڈکٹیٹر کے ساتھ ڈیل بے نظیر بھٹو نے بھی کی اور میاں نواز شریف نے بھی ۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایک نے باہر جانے کے لئے اور دوسری نے ملک میں واپس آنے کے لئے کی ۔ ایک نے اس کے نتیجے میں سیاست سے آوٹ رہنے کی شرط مان لی اور دوسری نے اسے سیاست میں داخلے کا ذریعہ بنایا ۔ اب ایک این آر او کے بارے میں چیخ و پکار اور دوسرے کے بارے میں خاموشی‘ یہ کہاں کا انصاف ہے ؟
آج ہی کے جنگ کے ادارتی صفحے پر ہی دوسرا مضمون محمود شام صاحب کا ہے۔ ان کے مضمون سے اقتباس پیش کرتا ہوں:
دنیا بھر میں آئین بنانے والے صدر مملکت کو اگر عدالتوں میں طلب کئے جانے سے استثنیٰ دینے کی شقیں شامل کرتے رہے ہیں۔ اس میں مملکت کا تقدس اور احترام ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔ یہ خیال ہوتا ہے کہ مملکت سب کی ماں ہے۔ سب کے نزدیک قابل عزت ہے۔ اس کے سلسلے میں کوئی اختلاف، کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہئے۔ اس کی سربراہی پر جو شخصیت فائز ہو اس کا احترام اور وقار بھی اسی لئے ہونا چاہئے۔ مملکت کے لئے۔ اس کی ذات کے لئے نہیں۔ اس کی شخصیت کو اگر ہدف بنایا جائے گا تو ایک طرف تو مملکت بھی زد میں آئے گی کیونکہ سربراہ تو وہی ہے اور وہ اس ایوان میں بھی مقیم ہے جو سب کے نزدیک قابل قدر ہے، جو ملک کی عظمت اور بلندی کا نشان ہے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ ملک کی تاریخ میں کئی بار ایسے لوگ بھی سربراہ بن گئے جو آئین اور قانون کے تقاضے پورے کرتے ہوئے نہیں بلکہ بندوق کے زور پرصدر بنے۔ اس لئے ایوان صدر بھی ان کی شخصیت کی طرح متنازع ہوتا رہا۔ اس سے مملکت کو بھی سنگین نقصانات پہنچے۔ صرف عہدہ صدارت ہی نہیں، فوج بھی مطعون ہوتی رہی۔ مسلح افواج کو بھی جو محبت، وقار اور احترام میسر آنا چاہئے، وہ ان کے حصے میں بھی تاریخ کے ان ادوار کی طرح نہیں آسکا لیکن جب ایک شخصیت آئین اور قانون کے تمام مطلوبہ تقاضے پورے کرتے ہوئے صدر مملکت بننے کے لئے میدان میں آرہی ہو تو کافی وقت ہوتا ہے کہ اگر اس شخصیت کے بارے میں کوئی الزامات، شکوک و شبہات، شواہد ہوں تو ان کی بنا پر اعتراض کیا جائے اور اسے صدر جیسے مقدس عہدے پر آنے سے روکا جائے۔ اگر یہ مہلت استعمال نہیں کی گئی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بارے میں ایسے شواہد میسر نہیں تھے جو اسے اتنے اہم ترین منصب کے لئے نااہل قرار دے سکتے لیکن تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ جب ہم کسی وجہ سے بھی کسی شخصیت سے بیزار ہوجاتے ہیں تو اس کے حوالے سے ایک طرف تو آئین، تہذیب، شائستگی، روایات سب کا دامن چھوڑ دیتے ہیں۔ دوسری طرف اس کے علاوہ سب کو پارسا، باکردار اور ہرعیب سے بالاتر خیال کرنے لگتے ہیں بلکہ ان کی برائیاں بڑی بڑی بھی چھپاتے ہیں جبکہ اپنے ہدف کی چھوٹی چھوٹی خامیاں بھی بڑھ چڑھ کر اچھالتے ہیں۔ مملکت کے سربراہ کو آئین بنانے والے نے صدیوں کی سوچ کے بعد جو استثنیٰ دیا، اس کا مطلب صرف عدالت میں طلبی سے مستثنیٰ کرنا نہیں تھا بلکہ اس کی روح یہ ہے کہ ملک بھر میں اس ادارے کا بھرم رکھا جائے۔ اگر کوئی خامیاں ہیں بھی تو انہیں دور کرنے کا مشورہ دیا جائے نہ کہ ان کو ضرورت سے زیاد بڑھا کر طبل جنگ بجادیا جائے۔ صرف عدالتیں ہی نہیں تمام سرکاری محکمے، میڈیا، معاشرہ بھی اس استثنیٰ کو سامنے رکھیں تو مملکت کا تقدس برقرار رہ سکتا ہے۔ ایسا نہیں کہ اتنا ہنگامہ برپا کردیا جائے کہ عدالت بھی استثنیٰ کو ترک کردے۔ صدر یا سربراہ دنیا بھر میں فرشتے نہیں ہوتے۔
یہی سوال مجھے بھی تنگ کرتا ہے۔ کہ ہمارے ذمے دار صحافی جناب “اسٹیبلیشمنٹ کے مطابق” اور جناب “ایجنٹ عباسی” صاحب تب کہاں سورہے تھے جب این آر او پیش ہوا؟ صدر پاکستان کے انتخاب کے وقت یہ ذمے دار حضرات کہاں سورہے تھے اور کیوں اس وقت انہوں نے این آر او اور زرداری کی اہلیت پر مباحثے نہ چھیڑے۔ اور یہ سب کیری لوگر بل کے بعد ہی کیوں شروع ہوا؟ ان صحافیوں کا ضمیر بہت ہی سینکرونائزڈ ہے ایک ساتھ جاگتا اور سوتا ہےیہ ایک جیسے موضوعات کو زیر بحث لاتے ہیں اور ایک جیسے موضوعات کو نظرانداز کردیتے ہیں۔ یہ دوسرا صدر پاکستان ہے جو اس گروہ کے شدید پروپگینڈے کا نشانہ بن رہا ہے۔ اور عین ممکن ہے کہ یہ دوسرا صدر بھی ان کے پے در پے حملوں کی تاب نہ لاکر شکست تسلیم کرلے۔ یہ اس صدر کی شکست نہیں ہوگی۔ یہ پاکستان کے پارلیمان اور عوام کے ووٹ کی شکست ہوگی۔
ملک جن حالات کا شکار ہے ان سے نکلنے کا راستہ حکمران بدلتے رہنا نہیں ہے۔ بلکہ اسٹیبلیشمنٹ کی حکمرانی کو ختم کرنا ہی اس مسئلے کا حل ہے اور زرداری کی صدارت قائم رہنا پاکستان کے جمہوری مستقبل اور استحکام کے لئے ازحد ضروری ہے۔ اگر پاکستان زرداری کے اب تک کے مبینہ ہزاروں کھرب روپے کی کرپشن برداشت کرچکا ہے تو دو ایک سال مزید ان کے اقتدار میں رہنے سے کوئی قیامت نہیں آجائیگی۔