ہارڈی ہیرون ۔ ابنٹو کا اگلا نسخہ

بتاریخ: 31 مارچ 2008

Compiz Visual Effects in Ubuntu
آج میں نے ابنٹو کے آنے والے نسخے ہارڈی ہیرن کا بیٹا نسخہ ڈاؤنلوڈ کرا اور اپنے کمپیوٹر پر نصب کرکے دیکھا۔ میں عموما بیٹا نسخہ جات نصب کرکے نہیں دیکھتا۔ لیکن ابوشامل کی پوسٹ سے مجھے تحریک ملی۔ ہارڈی کی پہلی خوبی تو یہ ہے کہ یہ طویل مدتی معاونت (لانگ ٹرم سپورٹ) نسخہ ہے۔ یعنی اگر اسے اپریل میں اپنے کمپیوٹر میں نصب کریں تو اگلے تین سال تک اس کی ابنٹو معاونت اور سیکیوریٹی اپڈیٹس دستیاب ہوتے رہیں گے۔ اور کبھی کوئی جینئوئن سوفٹویر ریسٹریکشن کا آئیکون آپ کو منہ نہ چڑا سکے گا۔

لیکن ابنٹو کو صرف اسلئے نصب نہ کریں کہ یہ مفت ہے۔ بلکہ درحقیقت ابنٹو بہتر بھی ہے۔ مثال کے طور پر ونڈوز وسٹا ہو یا ایکس پی دونوں میری چپ سیٹ ڈیٹکٹ نہیں کرپاتے اور اس کے لئے مجھے انسٹالیشن کے بعد ونڈوز اپڈیٹ سے ڈرائیور ڈاؤنلوڈ کرنا پڑتے ہیں۔ ابنٹو گٹسی اور ہارڈی دونوں میرے ہارڈویر کو ڈٹیکٹ بھی کرتے ہیں اور مکمل سپورٹ بھی۔ گٹسی پہلے میرے گرافکس کارڈ کا بھرپور فائدہ نہ اٹھاتا تھا لیکن ہارڈی بائی ڈیفالٹ میرے لئے کمپز این ایبل رکھتا ہے اور میں وسٹا جیسے ویژول ایفکٹس کا لطف اٹھا پاتا ہوں۔ کبنٹو جو کہ ابنٹو کا کے ڈی ای والا نسخہ ہے اس میں تو ویژول ایفکٹس اور بھی اعلی و معیاری ہیں۔ ابنٹو کا نیا ورژن۔ لنکس کرنل کا نسبتا نیا نسخہ استعمال کرتا ہے یہ نسخہ خصوصا میرے کمپیوٹر کے لئے اچھا ہے۔ کیونکہ میرا کمپیوٹر کور ٹو ڈیو ہے اس لئے لنکس کے پچھلے نسخہ جات میرے ہارڈ ویر کا بھرپور استعمال نہ کرپاتے تھے۔ اب میرے کمپیوٹر کا تمام ہارڈویر اپنی صلاحیت کے مطابق استعمال ہوتا ہے جس سے ہارڈی نہایت سبک رفتاری سے تمام کام انجام دیتا ہے۔ بوٹ اپ ٹائم اور شٹ ڈاؤن بھی نہایت تیزی سے ہوتا ہے۔

ہارڈی میں ایک اور نئی چیز ہارڈویر ٹیسٹنگ وزارڈ ہے۔ جو آپ کے ہارڈ ویر کو ڈیٹیکٹ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ایک رپورٹ تیار کرتا ہے جو آپ اپنے لانچ پیڈ اکاؤنٹ پر شائع کرسکتے ہیں۔ وہاں سے ابنٹو کمیونٹی کو آپ کے ہارڈویر کی سپورٹ بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور آپ کو فوری طور پر کوئی عارضی جگاڑ بھی بتائی جاسکتی ہے۔

میری طرح اور بھی کئی صارفین ریلیز نوٹس پڑھ کر یہ سمجھے تھے کہ شاید انک اسکیپ بائی ڈیفالٹ نصب ہوگا لیکن ایسا نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے فائنل ریلیز نسخے میں یہ بائی ڈیفالٹ نصب ہو۔

ہارڈی میں گنوم بٹ ٹورنٹ کے بجائے ٹرانسمیشن نصب ہے۔ اور ڈسک برننگ کے لئے براسیرو۔ اس کے علاوہ گنوم کا فائل براؤسر نوٹیلئیس بھی اب زیادہ بہتر طریقے سے کام کرتا ہے۔ اس نسخے میں یوزر اکاؤنٹس اور ان کے اختیارات کے انتظام کو اور بھی بہتر بنادیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سیکیوریٹی کو مزید بہتر بنانے کے لئے ایک کمانڈ لائن سے چلنے والی فائروال بھی نصب شدہ ہے۔

میں زیادہ تر وی ایل سی میڈیا پلئیر استعمال کرتا ہوں۔ میرے خیال میں ابنٹو کو گنوم پر بھی ایمیروک جیسا کوئی اطلاقیہ رکھنا چاہئے۔ ردھم باکس بھی اچھا ہے لیکن عام طور پر موسیقی سننے والے ایمیروک کو پسند کرتے ہیں مگر چونکہ ایمیروک کے ڈی ای کا حصہ ہے تو گنوم پر اسے استعمال کرنے میں زیادہ مزا نہیں آتا۔

یہ پہلا موقع تھا کہ میں فائر فوکس 3 کا بیٹا نسخہ استعمال کررہا تھا۔ فائر فوکس کے اس نسخے میں ابنٹو نے کئی تبدیلیاں کی ہیں، جیسے ڈیفالٹ تھیم بدل دیا گیا ہے، کچھ پلگ ان بائی ڈیفالٹ نصب ہیں، اور کئی چھوٹی موٹی تبدیلیاں ہیں، لیکن فائر فوکس کا یہ نسخہ صحیح معنوں میں ابنٹو میں درست بیٹھتا نظر آتا ہے۔

اردو سپورٹ دستیاب ہے اور اسے این ایبل کرنے کا طریقہ کار وہی ہے جو گٹسی کے لئے تھا۔ ابنٹو کے ہر نسخے میں اردو بہتر سے بہتر نظر آتی ہے۔ اور اب تک میں نے جتنی لنکس ڈسٹریبیوشنز استعمال کی ہیں ان میں سب سے بہتر اردو سپورٹ ابنٹو میں موجود ہے۔ ابنٹو میں اردو فونٹ ونڈوز کے کسی بھی نسخے سے بہتر دکھائی دیتے ہیں۔ اور ابنٹو میں اردو کی تنصیب ونڈوز سے کہیں زیادہ آسان ہے (بشرطیکہ آپ ہدایات پر من و عن عمل کریں)۔

اسکرین شاٹس:

Ubuntu 8.04 Hardy Heron Screenshot

Ubuntu 8.04 Hardy World Time Applet

خوشامدی صحافی اور بڑھکیں

بتاریخ: 26 مارچ 2008

کچھ لوگوں کو خوشامد بڑی پسند ہوتی ہے۔ اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خوشامدیوں کو بہت پسند ہوتے ہیں۔ مسلم لیگ نواز گروپ کے سربراہ نواز شریف کو خوشامد پسند ہو کہ نہ ہو، مگر خوشامدیوں کو وہ بہت پسند ہیں۔ وہ جب بھی اقتدار میں آتے ہیں تو اخبارات ان کے جانثاروں کی بڑھکوں سے سجے نظر آنے لگتے ہیں۔ نذیر ناجی صاحب ان کے پچھلے ادوار میں ان کی بڑی توصیف کیا کرتے تھے اور ایک عطاالحق قاسمی صاحب۔ ناجی صاحب تو سکہ بند صحافی لوٹے ہیں جو اکثر طاقت کے توازن کی طرف لڑھکتے رہتے ہیں۔ لیکن قاسمی صاحب نواز شریف کے ایک دیرینہ جانثار حمایتی ہیں۔ وہ ایک کالم نویس اور مشہور مزاح نگار بھی ہیں۔ موصوف نواز شریف کی پچھلی حکومت میں ناروے کے سفیر رہ چکے ہیں۔ ان کے کالم انتہائی جانبدارانہ ہوتے ہیں۔ مجھے ان کے لکھنے کا انداز بہت پسند ہے۔ لیکن کبھی کبھی وہ اپنے پسندیدہ لیڈر کی حمایت، تعریف اور توصیف میں زمین آسمان کے قلابے ایسے ملاتے ہیں کہ پڑھنے والے کو شرم محسوس ہونے لگتی ہے کہ وہ اس عظیم الشان لیڈر کا حامی کیوں نہیں ہے۔ ایسا کرتے وقت بعض اوقات ان کی زبان عامیانہ ہوجاتی ہے اور وہ صحافتی اخلاقیات اور اردو زبان کی روایتی شائستگی اور شگفتگی کو بھی یکسر نظر انداز کردیتے ہیں۔

ہوا یوں کہ صدارتی ترجمان راشد قریشی صاحب نے بیان جاری کیا کہ:

۔نواز شریف کے علاوہ کسی سے بھی پوچھ لیا جائے سب کہتے ہیں کہ وہ صدر کے ساتھ کام کرنے کیلئے تیا ر ہیں۔اس لیے نواز شریف کو بھی کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔

جس پر نواز شریف نے جوابی بیان داغا کہ:

صدارتی ترجمان حیثیت دیکھ کر بات کریں۔ آمریت دفن کرنے کیلئے جلد قانون سازی کرنا ہوگی.

اگر حیثیت کی بات ہورہی ہے تو نواز شریف پر یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ وہ عوامی نمائندے ہیں کوئی شہنشاہ نہیں کہ جس کی حیثیت تنقید سے بالاتر ہو۔ یہ نیا پاکستان ہے، اور اب یہاں تنقید اسی طرح کی جاتی ہے۔ خود پرویز مشرف پر آٹھ سالہ دور حکومت میں لوگوں نے جی بھر کر تنقید کی ہے۔ برا بھلا کہا ہے اور برملا ملکی ٹی وی چینلز پر کہا ہے اس لئے نواز شریف کو بھی تیار رہنا ہوگا اس قسم کی تنقید سننے اور اس کا مدلل جواب دینے کے لئے۔ لیکن یہ بنیادی بات ہمارے کالم نویس عطاالحق صاحب کو بھی سمجھ نہیں آئی اور آج کے اخبار میں انہوں نے اپنے چہیتے لیڈر کی توصیف میں ایک اور کالم لکھ مارا۔ :

چوہدری نثار علی کی پریس کانفرنس بھی ٹی وی چینل پر براہ راست دیکھنے کا موقع ملا۔ ان کا لہجہ بتاتا تھا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف بطور صدر چند گھڑی کے مہمان ہیں، آپ انہیں مہمان اداکار بھی کہہ سکتے ہیں۔ چوہدری صاحب نے صدارتی ترجمان میجر جنرل (ر) راشد قریشی کی جس طرح دُھنائی کی، اس حوالے سے He asked for itوالی بات ہی کہی جا سکتی ہے کیونکہ موصوف نے پاکستانی عوام کے مقبول قائد میاں نواز شریف کے لئے جو زبان استعمال کی تھی، اس کے بعد یہ ان کا ”حق“ بنتا تھاکہ انہیں ان کی اوقات یاد دلائی جاتی.

چلیں لگتا ہے عطاالحق قاسمی صاحب، جو ہمارے دیگر معزز شعرا کی طرح یورپی اور امریکی مشاعروں کے شیدائی ہیں، اب ان کی سفارتی ذمہ داریاں شروع ہوا ہی چاہتی ہیں۔ لیکن اگر اسطرح صدر پاکستان کو اوقات یاد دلانے پر واہ واہ کرنے والے لوگ سفارتکار بنیں گے۔ تو نوازشریف وہی غلطی دہرائیں گے جو وہ پچھلے ادوار میں دہرا چکے ہیں۔ اور کالم نویسوں کو بھی یہ سمجھنا چاہئے کہ ایمانداری اور انصاف جس کی توقع وہ معاشرے سے رکھتے ہیں، معاشرہ بھی ان سے توقع رکھتا ہے کہ وہ اپنا کام ایمانداری اور غیرجانبداری سے انجام دیں گے۔

بھلے دنوں کی یاد

بتاریخ: 11 مارچ 2008

wapda_vs_kesc.gif

آتا ہے یاد مجھ کو وہ گزرا ہوا زمانہ کہ جب ہمارے گھر میں دن کے وقت بھی ٹیوب لائٹیں جلا کرتی تھیں۔ جب ہم ہر وقت انٹرنیٹ استعمال کرسکتے تھے۔ ہماری ماسی جس دن اس کا موڈ ہوتا واشنگ مشین لگالیتی تھی۔ ہم استری شدہ کپڑے پہنا کرتے تھے۔ اور تمام فارغ وقت امی کی دھمکیوں کے باوجود ایرکنڈیشنر بند نہ کرتے تھے۔ آہ وہ بھی کیا دن ہوا کرتے تھے۔

اب تو یہ عالم ہے کہ دن میں ہر چار گھنٹے بعد دو گھنٹے بجلی غائب۔ جلدی جلدی نیٹ یوز کرتے ہیں۔ کچھ لکھیں تو ہر ساٹھ سیکنڈ بعد محفوظ کرتے جاتے ہیں۔ پانی کی موٹر چلا کر جلدی جلدی ٹنکیاں بھرتے ہیں۔ ماسی بھی بجلی دیکھتی ہے تو فورا واشنگ مشین لگالیتی ہے۔ کسی کو کپڑے استری کرنا یاد آتا ہے تو کسی کو اپنا پسندیدہ ٹی وی پروگرام۔

موسم ابھی اتنا گرم نہیں ہوا اور ہم کراچی والے سوچ رہے ہیں کہ گرمیاں کیسے گذاریں۔ جبکہ احباب یو پی ایس، گیس کے جنریٹر اور اس قسم کی چیزیں خرید رہے ہیں۔ میں سوچ رہا ہوں کہ اپنے کمرے کی چھت پر رسی سے چلنے والا پنکھا لگوالوں۔ آپ نے شاید یہ کسی پرانی فلم میں دیکھا ہو۔ اس میں ایک ہاتھ سے بنا ہوا بڑا سے پنکھا چھت سے لگا ہوتا ہے اور ڈوری کھینچیں تو چلتا ہے۔ موم بتی کی روشنی کا جو رومانی تاثر ہے وہ یقینا اس پنکھے سے دوبالا ہوجائے گا۔ فوم کے گدوں کی جگہ چارپائیاں ڈال لیتے ہیں کہ وہ زیادہ ٹھنڈی ہونگی۔ اور پرانی وضع کے اونچے ململ کے کرتے سلوالیتے ہیں۔ کیسا مزہ آئے گا جب ہمارا کمرہ شمعوں سے جگمگائے گا، ہاتھ سے چلنے والا پنکھا ہوگا اور ہم سفید براق کپڑوں میں ملبوس کھری چارپائیوں پر لیٹے۔ ہاتھ میں کاغذ قلم تھامے اپنے بلاگ کی اگلی پوسٹ لکھ رہے ہوں گے۔ زبردست۔

میری دادی مرحومہ بہت پرانے دنوں کے قصے سناتی تھیں تو بتایا کرتی تھیں کہ گرچہ آس پاس کے تمام محلے میں بجلی موجود تھی مگر ان کے گھر تک نہیں پہنچی تھی تو وہ لالٹین کے روشنی میں رات کا کھانا کھایا کرتے تھے۔ میری دادی اکثر گرمیوں میں بھی بغیر پنکھے کے ہی سویا کرتی تھیں کہ پنکھے کی ہوا سے ان کے جسم میں درد ہوجاتا تھا۔ ہمیں یاد نہیں ہم نے انہیں کبھی رنگین کپڑے پہنے دیکھا ہو۔ ہمیشہ وہی ایک جیسے سفید کرتے جن پر الگ الگ طرح کے سونے کے بٹن لگے ہوتے تھے۔ یہ بٹن بڑی عزت اور وقار کی علامت تھے اور میری دادی کی متاع حیات تھے۔ یہ بٹن انہیں بیتے دنوں کی یاد دلاتے تھے (میری دادی کے انتقال کے بعد ان بٹنوں کی گمشدگی اور ان پر ہونے والی لڑائیاں الگ موضوع ہیں کبھی یاد دلائیے گا تو یہ قصہ بھی سناؤں گا)۔ اور سفید چوڑی دار پاجامہ جیسے دیکھ کر میں اکثر سوچتا تھا کہ یہ کیسے پہنا جاتا ہوگا۔ مجھے یہ تجربہ اپنی روزہ کشائی کے دن ہوا جب میں نے پہلی بار چوڑی دار پاجامہ پہنا تب مجھے احساس ہوا کہ میری دادی روزانہ کتنی سخت مشقت انجام دیتی ہیں۔ ان کے ہاتھ اور پیر سردی ہو یا گرمی ہمیشہ مہندی سے رنگے ہوتے تھے۔ ان کے سر کے تمام بال سفید تھے جن پر وہ کبھی مہندی نہیں لگاتی تھیں۔ حالانکہ ان کے شوہر زندہ سلامت تھے۔ مگر وہ سمجھتی تھیں کہ اب چونکہ وہ بوڑھی ہوگئی ہیں تو انہیں ایسی ہی وضع اختیار کرنی چاہئے۔ اللہ انہیں جنت بخشے بڑی نیک عورت تھیں۔ بڑی صابر اور سدا کی شکرگزار۔

میں سوچتا ہوں کہ میں بھی اپنے پوتوں کو کچھ ایسے ہی قصے سنایا کروں گا۔ ان دنوں کے کہ جب ہمارے گھر میں ٹیوب لائٹیں جلا کرتی تھیں۔ جب ہم ٹی وی دیکھتے ہوئے کھانا کھایا کرتے تھے۔ جب ہم ڈی وی ڈی پر فلمیں دیکھا کرتے اور انٹرنیٹ پر بلاگ لکھا کرتے تھے۔ اور ہمارے گھر میں اتنے آلات بجلی تھے جتنے اب قومی عجائب گھر میں بھی نہیں۔

کارٹون: روزنامہ جنگ کراچی ایڈیشن ۱۱ مارچ ۲۰۰۸

ویکیپیڈیا کی تصاویر اور ڈنمارک کے خاکوں کا فرق

بتاریخ: 02 مارچ 2008

پاکستانی ان دنوں ڈنمارک میں چھپنے والے کارٹونوں کے سبب خفا ہیں۔ مجھے اس موضوع سے کوئی خاص دلچسپی نہیں۔ میرا خیال ہے کہ اگر کوئی شخصیت میرے لئے قابل احترام ہے۔ تو میری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ کوئی اس شخصیت کی تضحیک نہ کرے۔ ان کارٹونوں کو شائع کرنے کا مقصد ہی شرانگیزی اور مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنا تھا۔ ہمیں اس شرانگیزی کا خاتمہ مزید شر پھیلا کر نہیں کرنا چاہئے۔ اور نہ کسی کو اجازت دینی چاہئے کہ وہ ہمارے مذہبی جذبات کو مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرے۔ احتجاج کے تمام غیرمتشدد، مہذب، اور اثرانگیز طریقے اختیار کرے جائیں۔ مگر دشمن کے جھانسے میں نہ آئیں۔

اس کے علاوہ ایک اور مسئلہ ویکیپیڈیا پر محمد ﷺ کے بارے میں مضمون پر چند پینٹینگز کی تصاویر کا ہے۔ میرے خیال میں ایسے پاکستانی جنہیں انٹرنیٹ تک رسائی نہیں، یا جو زیادہ تعلیم یافتہ نہیں وہ ان دنوں معاملات کو ایک نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ یعنی ان کے مذہب اور عقائد کی توہین باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کی جارہی ہے۔ لہذا میں نے سوچا کہ اس بارے میں کچھ لکھوں۔ ویکیپیڈیا کے مضمون پر موجود آپ ﷺ کی تصاویر کا مقصد ڈنمارک کے کارٹونوں سے بالکل مختلف ہے۔ یہ تصاویر توہین آمیز نہیں۔

ان میں سے ایک پینٹنگ میں محمد ﷺ صحابہ کرام کو مہینوں کے بارے میں بتارہے ہیں۔ یہ تصویر ابو الریحان البیرونی کی کتاب الآثار الباقية عن القرون الخالية کے قدیم نسخے میں موجود تھی جسے بعد ازاں سترھویں صدی کے نسخے میں نقل کیا گیا۔ یہ نسخہ اب فرانس کی قومی لائبریری کی ملکیت ہے۔

دوسری میں آپ ﷺ فرشتوں اور صحابہ کرام کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس تصویر میں بھی آپ ﷺ کا چہرہ مبارک نہیں دکھایا گیا ہے۔

اور تیسری میں آپ ﷺ کا چہرہ مبارک نہیں دکھایا گیا ہے یہ تصویر استنبول کے توپ کاپی عجائب گھر میں رکھی ہوئی ہے۔

پھر بھی اگر آپ کو یہ تصاویر نا مناسب معلوم ہوتی ہیں تو ان تصاویر کے خلاف اپنے احتجاج کو ڈنمارک کے کارٹونوں کے خلاف احتجاج سے نہ ملائیں۔ ڈنمارک کے کارٹون سراسر شرانگیزی ہے جس کا مقصد ہی مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنا ہے۔ لیکن ویکیپیڈیا پر موجود تصاویر شرانگیز نہیں بلکہ تاریخی اور علمی اہمیت کی دستاویزات کی تشبیہہ ہیں۔ آپ ان سے اختلاف کا اظہار کریں اور پٹیشن پر اپنے تاثرات ضرور درج کریں۔ لیکن اس معاملے کو ڈنمارک کے معاملے جیسا نہ سمجھیں۔

پیپلز پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ نے سندھ ہائیکورٹ میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے دو سو پچاس کے انتخابی نتائج کا سرکاری اعلان روکنے اور حلقے میں دوبارہ انتخابات کرانے کی درخواست دائر کی ہے۔

روزنامہ امت میں ڈاکٹر اختیار بیگ کا انٹرویو۔ (شکریہ می)

پیپلز پارٹی نے کراچی کے چار حلقوں میں دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

سوالات

بتاریخ: 19 فروری 2008

  • کیا نواز شریف بے نظیر کے قتل کی اقوام متحدہ سے تحقیقات کی حمایت کریں گے؟
  • کیا زرداری ججوں کی بحالی کے نواز شریف کے مطالبے پر عمل درآمد میں ساتھ دیں گے؟ یا وہ عدلیہ کی بحالی کے بجائے عدلیہ کی آزادی کی گردان جاری رکھیں گے؟
  • صدر پرویز مشرف کا مستقبل میں کیا کردار ہوگا؟
  • کیا صوبہ سندھ میں پیپلزپارٹی ایم کیو ایم کو حکومت سازی میں شامل کرے گی؟
  • دہشت گردی کے خلاف جنگ کا کیا لائحہ عمل طے ہوگا؟

کچھ اور سوالات بھی ہیں۔ یہ بات تو طے ہے کہ مشرف لیگ کے دن ختم ہونے کے بعد بھی آگے بہت مشکل دن ہیں جن سے نکلنے کا راستہ ہمارے سیاستدانوں کو ڈھونڈنا ہوگا۔

نتیجہ: NA-250

بتاریخ: 19 فروری 2008

خوش بخت شجاعت تریپن ہزار ووٹ لے کر ڈاکٹر صاحب کے تینتالیس ہزار ووٹوں‌ پر سبقت لے گئی ہیں۔ وہ بغیر دھاندلی کے بھی جیت جاتیں‌ مگر تب شاید دس ہزار ووٹوں‌کا فرق نہ ہوتا۔ بہر حال خوش بخت کے حامیوں‌ مبارکبار امید ہے وہ ایک اچھی پارلیمینٹیرین ثابت ہونگی اور حلقے کے لوگوں‌ کی آواز بننے کا فرض ادا کریں‌ گی۔

چوہدری شجاعت حسین اپنے گڑھ گجرات میں پیپلز پارٹی کے چوہدری مختار کے ہاتھوں شکست فاش سے دوچار  ہوگئے ہیں۔

کراچی کے بلاگرز اور متحدہ قومی موومنٹ کی دھاندلیاں

بتاریخ: 19 فروری 2008

میٹرو بلاگنگ کراچی پر جناب امیر حمزہ جعلی ووٹ ڈالنے کے اپنے ایڈونچر کی کہانی بمعہ تصاویر بیان کرتے ہیں۔

عجیب بات یہ ہے کہ کراچی کے بلاگرز جس دھاندلی کی اطلاعات تواتر سے دے رہے ہیں ہمارا میڈیا اس دھاندلی پر قطعا آنکھیں بند کرے بیٹھا رہا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کی دھاندلی کے ذکر پر مبنی پاکستانی بلاگستان کی تحاریر:

نعمان کی ڈائری۔ دھاندلی کے واقعات
کے او۔ میرا ووٹنگ تجربہ
ٹیتھ میسٹرو۔ گلستان جوہر میں دھاندلی
امیر حمزہ
ایمرجنسی ٹائمز ۔ فارس کا کراچی کے دو انتخابی اسٹیشنوں کا دورہ

خالد عمر بھی اپنا ووٹ ڈالنے گئے لیکن کافی دوڑ دھوپ کے بعد بھی ان کا نام کسی ووٹر فہرست میں نہ نکلا۔ لیکن دھاندلی کے تقریبا وہی واقعات جو ڈاکٹر علوی اور نعمان نے بیان کرے۔ خالد عمر نے بھی دہرائے ہیں۔

میٹروبلاگ کراچی پر ڈاکٹر علوی نے ہمارے حلقے کے انتخابات کا جائزہ پیش کیا اور قارئین سے ووٹ طلب کیا کہ وہ کسے ووٹ دیں گے۔ حیرت انگیز طور پر ان کے پول بھی میں خوش بخت جیتتی نظر آرہی ہیں۔ (اف خدا یہ اس دنیا کو کیا ہوتا جارہا ہے کم از کم میٹروبلاک کے قارئین سے میں یہ توقع نہیں رکھتا تھا)۔

جیو پر اپنے حلقے کے نتائج دیکھیں۔

واضح رہے یہ نتائج فی الحال حتمی نہیں کہے جاسکتے۔