نعمان کی ڈائری

ایک عام سے لڑکے کی بہت خاص خاص باتیں

نیا جہادی لٹریچر

پاکستان کے سب سے زیادہ شائع ہونے والے، اور پڑھے جانے والے روزنامہ جنگ کراچی، اور انٹرنیٹ ایڈیشنز پر انصار عباسی کا مضمون۔ بقول ان کے یہ مضمون ایک پمفلٹ کے مندرجات پر مبنی ہے جو انہیں کسی ذریعے سے ملا۔ ان کا دعوی ہے کہ یہ پمفلٹ کسی جہادی کی ماں نے تحریر کیا ہے۔

بالکل ایسے ہی جیسے ڈین براون اپنے ناول میں سائنس اور تاریخ کے پروفیسرز تخلیق کرتا ہے اور ان کے منہ سے جھوٹی سائنس اور فرضی تاریخ سنواتا ہے۔ افسانہ نگاری ایک بہت دلچسپ فن ہے ہم سب کہاںیاں سناتے ہیں۔ بوڑھے اپنی جوانی کی داستانیں جن میں وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی عمر رائیگاں نہیں گئی، بچے تصوراتی دوستوں کے قصے اور نوجوان اپنے خیالی محبوبوں کے احوال۔

مگر کچھ چالاک لوگ ہی کہانیوں سے پیسے کما پاتے ہیں۔

ڈین براؤن: گمشدہ علامت بے تکے کوڈ اور گھسی پٹی تھیوریز

ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک شہر کے باہر چھوٹی سی بستی میں ایک بدصورت بڑھیا رہا کرتی تھی۔ بیچاری بڑھیا کی مصیبت یہ تھی کہ وہ لوگوں میں گھلنا ملنا چاہتی تھی مگر کوئی اسے پسند نہ کرتا تھا۔ اب وہ اس نئے شہر میں آئی تھی اور یہ سوچ کر کہ لوگ اس سے بات کریں گے وہ شہر میں داخل ہوتی ہے۔ مگر کوئی اس کی طرف دھیان بھی نہیں دیتا۔ وہ ایک دکان پر جاتی ہے تو دکاندار اسے نظرانداز کردیتا ہے، وہ ایک راہگیر سے تعارف چاہتی ہے تو وہ اسے دیکھ کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ بڑھیا سارے دن کی کوشش کے بعد تھک ہار کر بیٹھ جاتی ہے۔

اتنے میں شہر کے دروازے سے ایک خوبصورت بانکا سجیلا جوان داخل ہوتا ہے۔ ہر نگاہ اس خوش شکل، خوش لباس نوجوان پر جاٹہرتی ہے۔ دکاندار آگے بڑھ کر اسے خوش آمدید کہتے ہیں، راہگیر اس سے تعارف حاصل کرنے کو منتظر نظر آتے ہیں۔ وہ جہاں جاتا میلے کا سا سماں چھا جاتا۔ ہر کوئی اس کی خوش مزاجی اور خوش لباسی سے مرعوب ہوتا اس کی رفاقت کو بے چین نظر آتا۔ بڑھیا چپکے چپکے اس نوجوان کا پیچھا کرتی رہی۔ یہاں تک کہ شام ہونے کو آئی اور وہ نوجوان شہر سے باہر نکلا اور اپنی منزل کی طرف روانہ ہوا۔

بڑھیا اس نوجوان سے جلن محسوس کررہی تھی۔ اسے ان لوگوں پر غصہ آرہا تھا جو اسے نظرانداز کرتے تھے اور خوبصورت، خوش لباس، جوان اور بظاہر خوشحال شخص کے آگے بچھے چلے جاتے تھے۔ اس نے سوچا کہ اسے اس نوجوان سے بات کرنی چاہئے۔ یہ سوچ کر اس نے نوجوان کو آواز دے کر روکا اور قریب پہنچ کر اس سے بولی “میں نے دیکھا کس طرح لوگ تم سے مرعوب اور متاثر ہوتے ہیں کیا وجہ ہے کہ لوگ تمہیں اتنا پسند کرتے ہیں؟ اور کیا وجہ ہے کہ وہ مجھ سے بات کرنا پسند نہیں کرتے؟” نوجوان مسکرایا اور بولا ” بڑی بی سب سے پہلے تو یہ بتائیں آپ کون ہیں؟”

بڑھیا بولی۔ “میرا نام سچائی ہے اور میں جگت جگت دوستوں تلاش میں پھرتی ہوں مگر کوئی مجھے زیادہ پسند نہیں کرتا۔”
نوجوان بولا۔” میرا نام افسانہ ہے، میں بھی بستی بستی گھومتا ہوں اور جہاں جاتا ہوں لوگ محھے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں۔ بڑی بی معاف کرنا مگر تم بہت ڈراوّنی، بہت پرانی اور بہت غیردلچسپ دکھائی دیتی ہو اس لئے لوگ تمہیں جاننا نہیں چاہتے۔ تم ایسا کرو میری ساتھی بن جاوّ آج کے بعد میں جہاں بھی جاوّں تم میرے پیچھے چھپی رہنا اور لوگ میرے ساتھ ساتھ تمہیں بھی خوش آمدید کہیں گے۔” تب سے سچائی افسسانے کے پہلو میں چھپ کر انسانی شعور کی گلیوں میں گھوم رہی ہے۔

یہ ایک یہودی لوک داستان ہے، ذرا تھوڑی دیر کے لئے اس کہانی کے ایک مرکزی کردار سچائی کا نام بدل کر جھوٹ کردیں۔ اور پھر کہانی پڑھیں تو بھی میرے خیال میں کچھ فرق نہیں پڑتا۔ جھوٹ بھی افسانے کے لبادے میں دلکش معلوم ہوتا ہے۔ یہی بات شاید ڈین براؤن نے سوچ رکھی ہے۔ اور بخدا ہمیں سچائی یا جھوٹ سے کوئی سروکار نہیں، ہمیں تو دلچسپ داستان سے مطلب ہے۔ مگر افسوس ڈین براؤن کا افسانہ اب کے اتنا دلچسپ نہیں تھا کہ وہ جھوٹ کو چھپا سکتا۔ یوں جھوٹ کی بدصورتی اور کہانی کی مکاری اس طرح عیاں ہوئی کہ پڑھنے والے سخت کوفت کا شکار ہوئے۔

یہ ایک مایوس کن ناول تھا۔ بجائے اس کے کہ ڈین براؤن اپنے لکھے میں کوئی نیا پن لاتا۔ “The lost symbol” پڑھتے ہوئے یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا ہم ڈین براؤن کا پرانا ناول صرف شہر کی تبدیلی کے ساتھ پڑھ رہے ہیں۔ اس بار سائنسی اور تاریخی حقائق اس قدر بوگس تھے کہ ناول بدمزہ محسوس ہورہا تھا۔ فری میسنز کے گرد گھومتی روایتی سازشی نظریات کی کئی کہانیوں کو سائنس کی ایک نئی اور کافی حد تک متنازعہ شاخ نوئٹک سائنسز سے جوڑ کر عجیب و غریب چوں چوں کا مربہ تیار کیا گیا۔

یہ ناول پڑھ کر مجھے اشتیاق احمد کی انسپکٹر جمشید سیریز یاد آگئی۔ اشتیاق احمد یہ بتاتے تھے کہ سائنس کے وہ علوم جو اب دریافت ہورہے ہیں وہ پہلے ہی قرآن میں موجود ہیں، ایسا ہی کچھ ڈین براؤن کے ناول میں کہا گیا ہے کہ جدید سائنس کے اہم نظریات صدیوں پہلے کے تانترک، سنیاسی باوا اور پادری وغیرہ دریافت کرچکے تھے اور بائبل میں بھی کئی سائنسی رموز چھپے ہیں۔ اس کے علاوہ اشتیاق احمد کے ایک ناول میں بھی ایک ایسے تجربے کا ذکر تھا جس میں ایک قریب المرگ انسان کو ایک ٹیوب میں بند کردیا جاتا ہے اور جب وہ مرتا ہے تو اس کی روح دوسری ٹیوب میں قید ہوجاتی ہے۔ایسا ہی ایک تجربہ دی لاسٹ سمبل کی ہیروّن کیتھرین سولومن کرتی ہیں۔ عجیب بات ہے کہ اتنے سادہ تجربات سائنسدانوں کو پہلے کیوں نہ سوجھے؟

ناول کا پلاٹ بے تکا تھا اور چند گھنٹوں میں ایک عظیم معمہ حل کرنے کی جدوجہد کے گرد گھوم رہا ہے۔ یہ جدوجہد دسیوں طویل فلیش بیکس پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ کیتھرین سولومون کی عجیب تھیوریز سمجھانے کے لئے دسیوں صفحات اور رابرٹ لینگڈن کے من گھڑت تاریخی فیکٹس کو سمجھانے پر اضافی صفحات ضائع کرے گئے ہیں۔ یہ بات تو سب کو ہی معلوم ہے کہ ڈین براؤن کی نام نہاد ریسرچ کس قدر بوگس ہوتی ہے۔ بالکل کنسپائریسی تھیوریسٹس کی طرح وہ من گھڑت حقائق گھڑتا ہے جو قابل گرفت بھی نہیں کیونکہ بہر حال وہ ایک ناول لکھ رہا ہے جو سراسر فکشن ہے۔

شاید یہ ناول اتنا غیر دلچسپ نہ ہوتا اگر ڈین براؤن یہ طے کرلیتا کہ اسے افسانے کے لبادے میں سچ کو چھپانا ہے، جھوٹ کو یا دونوں کو اور کیا افسانے کا لبادہ اتنا دلچسپ ہے کہ ان دونوں بدصورت اور بدہئیت چیزوں کو پذیرائی دلواسکے۔ ناقدین تو پہلے ہی متفق تھے کہ ڈین براؤن اچھا ناول نگار نہیں ہے اب عوام ناقدین کی رائے سے کافی متفق نظر آرہے ہیں۔ نیویارکر پر ایڈم گوپنک کا تبصرہ ڈین براؤن کے انداز کی درست منظر کشی کرتا ہے ان کا خیال ہے کہ رابرٹ لینگڈن ٹین ایجرز کے لئے لکھے جانے والے ایڈونچر ناولز کی سیریز کا کوئی معمولی کردار ہے جو ایک فارمولے کے تحت ہر ناول میں ایک ہی مہم مختلف اسٹیج پر پیش کرتا ہے۔

ڈان براؤن: گمشدہ علامت

Picture0007

آج دنیا بھر میں ڈان براؤن کی کتاب “The lost symbol” جاری ہوگئی ہے۔ پاکستان میں یہ کتاب لبرٹی بک اسٹور پر دستیاب ہے۔ میں آج ہی یہ ناول خرید لایا ہوں اور اب سحری تک مزے سے لیٹ کر پڑھوں گا۔

کتاب کی کہانی فری میسنری کے اردگرد گھومتی ہے۔ اگر آپ نے نکولس کیج کی فلم نیشنل ٹریژر دیکھ رکھی ہے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ بہت سے کنسپائری تھیورسٹس یہ سمجھتے ہیں کہ فری میسنز نے امریکہ بھر میں تعمیرات میں خفیہ پیغامات چھوڑ رکھے ہیں جو کسی عظیم خزانے تک رہنمائی کرتے ہیں۔ ڈان براؤن کی کہانی بھی انہیں خفیہ پیغامات اور فری میسنری کے گرد گھومتی ہے۔

بانٹنے کا کلچر بند کریں۔ مانگنے کا کلچر بند کریں

آج کراچی میں مفت آٹے کی تقسیم کے دوران بھگدڑ مچ جانے سے چودہ خواتین ہلاک ہوگئیں۔ یہ ایک بہت ہی غمناک سانحہ ہے۔ میرے بچپن کے دنوں میں جب ہم خبروں میں قحط زدہ افریقی ممالک کے عوام کو راشن کے لئے قطاروں میں کھڑے اور ٹوٹے پھوٹے برتنوں میں جانوروں کی طرح کھاتے دیکھتے تھے تو ہمیں ان کے درد کا قطعا اندازہ نہیں ہوتا تھا۔ ہم سمجھتے تھے کہ ہمارے ملک میں تو کھیت لہلہارہے ہیں اور اس سرسبز و شاداب زمین پر تو کبھی ایسا قحط نہ آئے گا۔

مگر آج ہمارے ملک کی عوام خوراک کے حصول کے لئے جان ہار رہی ہے۔ قطاروں سے ناآشنا اور تنظیم سے ناواقف یہ قوم ہجوم کی شکل میں خوراک حاصل کرنے جمع ہورہی ہے۔ سینکڑوں ٹی وی چینلز کے نمائندے ہر جگہ اس بھوکی ننگی عوام کو آٹا اور چینی حاصل کرنے کے لئے قطاریں لگاتے، دھکے، گھونسے اور لاتیں کھاتے براہ راست دکھا رہے ہیں۔ افریقی عوام کی طرح اس عوام کی ہڈیاں نہیں نکلی ہوئیں، انہیں ہولناک وبائی امراض اور جنگوں کا بھی سامنا نہیں۔ یہ مکمل لباس پہنے ہوتے ہیں، ان کے پیروں میں چپل بھی ہوتی ہے، یہ خیموں بھی نہیں رہتے۔

میں آج خود ایک جگہ مفت راشن کی تقسیم کا نظارہ کررہا تھا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ راشن تقسیم کرنے والے مخلصی سے اپنے کام میں مگن تھے مگر ضرورت مندوں کا رویہ قطعا غیر ضرورت مندانہ تھا۔ وہ منتظمین کو گالیاں دے رہے تھے، پولیس سے الجھ رہے تھے، ایک دوسرے پر حملے کررہے تھے حتی کہ ایک آدمی نے ایک بچے سے آٹے کا تھیلا چھینتے ہوئے اسے پھاڑ ڈالا۔

وہاں سے واپسی پر دیکھا کہ افطار کے لئے ہمارے گھر کی قریبی سڑک پر مفت افطار کے لئے میزیں لگی ہیں جن پر پھل، سموسے، پکوڑے، کھجوریں، شربت وغیرہ مل رہا ہے اور وہاں بھی لوگوں کی بڑی تعداد روزہ کھول رہی ہے۔ مسجد میں مفت افطار کا انتظام تو ہر جگہ ہی ہوتا ہے۔ مسجد کے اندر اور باہر مانگنے والوں کی قطاریں۔ نمازیوں کی آستینیں کھینچتیں برقع پوش خواتین اور ٹانگوں سے لپٹتے میلے اور گندے بچے۔ ہر جگہ مانگنے والوں کا تانتا بندھا ہے جو اس مال مفت کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ یقینا یہ لوگ مستحق بھی ہیں مگر کتنے؟ کیا ہم اپنے ملک میں ٹرکوں سے راشن لوٹنے کے کلچر کو خود ہی جنم دے رہے ہیں؟ کیا ہندوستان میں جہاں پاکستان سے جیسی ہی مہنگائی، بیروزگاری، اور غربت ہے وہاں حکومت راشن بیچ رہی ہے اور مخیر حضرات ٹرک لٹا رہے ہیں؟

خدارا یہ مفت خوراک کے سلسلے بند کریں، سستی خوراک کے ڈرامے بند کریں، لوگوں کی عزت نفس کو قتل نہ کیجئے۔ انہیں بھکاری، غیر مہذب، وحشی نہ بنائیں۔

شریف میڈیا کی عجیب منطق

جبکہ جیو ٹیلیوژن کے چند صحافی شد و مد سے شریف برادران اور کمپنی کے آئی ایس آئی سے گٹھ جوڑ کے ذریعے سیاستدانوں کو خریدنے کے اسکینڈل کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایسے میں روّف کلاسرا اپنے کالم “دولت مندی اور جرم کا رشتہ” میں میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ہمارے میڈیا کو داد دینی چاہیے جس نے بریگیڈیئر امتیاز کو بات پوری نہیں کرنے دی۔ وہ ان لوگوں کے بارے میں انکشافات کر رہا ہے جو زندہ ہیں۔ دنیا بھر میں سیکرٹ ایجنسیوں کے لوگ کتابیں لکھتے ہیں۔ رازوں سے پردہ اٹھاتے ہیں۔ ہمارے ہاں اگر کوئی یہ بات کر رہا ہے تو اسے چپ کرایا جا رہا ہے۔ بریگیڈیئر امتیاز جھوٹا ہے یا سچا کم از کم ایک بات تو ثابت ہو گئی ہے کہ اسلام، جمہوریت اور آزاد عدلیہ کا نعرہ مارنے والوں نے کھل کر اپنی سیاسی روحوں اور ضمیر کا سودا کیا۔ جب ان سیاستدانوں کے ماضی کے راز باہر نکلنے کی باری آتی ہے تو ہمارا میڈیا اسے سازش قرار دے دیتا ہے۔ ان شریف سیاستدانوں کے دفاع میں میڈیا خود تحریک چلاتا ہے۔ ہمارا دنیا کا واحد میڈیا ہوگا جو سیاستدانوں کے کرتوت چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ جو نئے لوگوں کو آگے آنے کا موقع نہیں دے گا۔ ہمارا اس سے بڑا دیوالیہ پن کیا ہو سکتا ہے کہ جن لوگوں نے سیکرٹ ایجنسیوں سے رقوم لیں انہیں ہم نے وزیراعظم بنایا، اپنے کندھوں پر بٹھایا، انہیں اپنی زندگی اور موت کے فیصلے کرنے کا اختیار دیا۔ اب ہم ان کا دفاع بھی دل و جان سے کر رہے ہیں۔

مجھے پاکستان میں آزاد عدلیہ اور اینٹی زرداری صحافیوں کی منطق کا یہ حصہ سمجھ نہیں آتا۔ ان کی نظر میں ایک پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے قابل سزا اور دوسرے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے رہبر ہیں۔ ان کے تحت این آر او قابل تنقید اور کھلے عام ایجنسیوں سے پیسے لیکر حکومتیں گرانے اور بنانے والے سیاستدان قابل تقلید ہیں۔ جامعہ حفصہ اور قبائلی علاقہ جات میں آپریشنز قابل سزا جرم اور کراچی میں ایک دہائی تک کیا گیا نسلی قتل عام قابل فراموش داستان ہے۔

ایمان ہے رمضان

پاکستان میں رمضان کے مہینے میں مختلف قسم کے گیت اور نعتوں کے خصوصی البم جاری کرے جاتے ہیں۔ نعت خوانی یا مذہبی نغمہ سرائی ایک نہایت منافع بخش انڈسٹری ہے۔ ہر سال لاکھوں روپے ان نعتوں، حمد، قوالیوں اور گیتوں کی ریکارڈنگ پر خرچ کرے جاتے ہیں۔ پھر اس کے بعد ان البمز کی مارکیٹنگ، تشہیر اور ویڈیو میکنگ کی جاتی ہے۔ اس انڈسٹری سے ہزاروں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ رمضان اور ربیع الاول کے مہینے میں یہ سی ڈیز خوب بکتی ہیں۔ خیر رمضان میں اس بار کئی مشہور قوالوں، نعت خوانوں نے اپنے اپنے ویڈیوز جاری کئے ہیں۔ حتی کہ اولپرز دودھ بنانے والوں نے بھی پاکستان کے سب سے بڑے راک اسٹار عاطف اسلم کو اپنے اشتہار میں “ہم مصطفوی ہیں” گوایا ہے۔ اور لاکھوں روپے کی لاگت سے اس اشتہار کی ویڈیو تیار کی ہے جس میں دنیا بھر کے خوش لباس اور خوبصورت مسلمانوں کو افطار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ان خوبصورت، خوش لباس اور باعمل و باایمان مسلمانوں کے نغموں میں اس بار ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کا ویڈیو بازی لے گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب ہر سال رمضان کے موقع پر جیو ٹی وی کے تحت خصوصی رمضان و سحر ٹرانسمیشن کا اہتمام کرتے ہیں۔ اکثر ان کے پروگرامز میں لوگ کالز کرتے ہیں اور رمضان کے حوالے سے پیچیدہ مسئلے مسائل جیسے اگر کلی کرتے ہوئے پانی حلق میں چلا جائے تو کیا روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟ وغیرہ پوچھے جاتے ہیں اور ڈاکٹر صاحب ملک کے مایہ ناز عالموں سے ان پیچیدہ مسائل کے جوابات طلب کرتے ہیں۔ اس دوران ناظرین ایس ایم ایس کے ذریعے ڈاکٹر صاحب کی مدح سرائی کرتے رہتے ہیں جو نیچے سلائیڈز میں ہمیں پڑھوائے جاتے ہیں۔ ان پروگرامز کے گرافک دبئی میں بھارتی گرافک ڈیزائنرز بناتے ہیں، ان کی موسیقی کے لئے جیو ٹاپ کے موسیقاروں کی خدمات حاصل کرتا ہے جن کا حوالہ بھی نہیں دیا جاتا۔ دسیوں افراد کی پوری بٹالین یہ پروگرام لائیو نشر کرتی ہے جس میں مختلف حصے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ کراچی کے افطار اوقات کے ساتھ ہی عامر لیاقت حسین کا نغمہ سنایا جاتا ہے۔

روزہ داروں کے رمضان کا اصل لطف پکوڑوں سموسوں اور عامر لیاقت حسین کے گیت کے بغیر ادھورا ہے۔ ڈاکٹر عامر کے علاوہ کئی اور حضرات ہیں جن کے ویڈیوز مختلف ٹی وی چینلز نے تیار کرائے ہیں۔ ان روحانی آئٹمز کے علاوہ ہمارا کیبل والا بھی پانچ چھ چینلوں ہر اویس قادری و ہمنوا کی نعتوں کے ویڈیو چلاتا ہے۔ اویس قادری کے ویڈیوز کی کوالٹی ہندوستانی سوپ اوپرا ڈراموں جیسی ہوتی ہے۔ اس میں فل گلیمر ہوتا ہے۔ ایک بیش قیمت سیٹ لگا ہوتا ہے جس میں پس منظر میں گنبد خضری کا نظارہ ہوتا ہے۔ اور اویس قادری مدراسی اور دبکے کے کام والی شیروانی زیب تن کرے براجمان ہوتے ہیں اور لہک لہک کر اور ہاتھ لہرا لہرا کر اپنی نعت کا ویڈیو ریکارڈ کراتے ہیں۔

جناب غلام فرید صابری قوال کے صاحبزادے۔ امجد صابری بھی گلیمر اور شہرت کی اس دوڑ میں اس بار اپنے والد کی ہی ایک قوالی کے ساتھ شامل ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے والد کی قوالی کو ریمکس کیا ہے اور کھڑے ہوکر قوالی پیش کی ہے۔ یہ قوالیاں آج ٹی وی پر پیش کی جاتی ہیں۔ بہت ہی lavish پروڈکشن کے ساتھ ان ویڈیوز کو بالکل کسی راک و پاپ سنگر کے میوزک ویڈیو کی طرح ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ان خوبصورت دینی اور ایمانی گیتوں کے بعد جو وقت بچ جاتا ہے اس میں گھی اور فون کمپنیوں کے اشتہارات پیش کئے جاتے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ یوفون کے گھنٹہ پیکج سے تین روپے میں ایک گھنٹے تک کسی بھی نمبر پر بات کی جاسکتی ہے، سحر و افطار کے اوقات کی اطلاع تمام فون کمپنیاں محض دس روپے (علاوہ ٹیکس) میں فراہم کررہی ہیں اور ڈالڈا گھی کی خریداری پر لاکھوں روپے کے نقد انعامات دئیے جارہے ہیں۔ ڈالڈا والوں کے اشتہار میں ایک تندرست و توانا قسم کی اور میک اپ سے لبریز روزہ دار خاتون خانہ ایک ہاتھ میں ڈالڈا کا پانچ کلو کا ڈبہ اور دوسرے میں سو سو کے نوٹ پکڑے جارہی ہوتی ہیں۔ خیر ہم ڈالڈا استعمال نہیں کرتے کیونکہ ڈالڈا والوں کا کہنا ہے کہ جہاں مامتا وہاں ڈالڈا اور ہماری والدہ تو اب جنت میں ہیں۔

رمضان ٹرانسمیشن سے ہمیں پتہ چلا ہے کہ پاکستان کے تمام مسلمان خوش لباس، خوش شکل، نعت و مذہبی موسیقی کے رسیا، فون پر گھنٹوں باتیں کرنے والے اور ڈالڈا میں تلے ہوئے شامی کباب کھانے والے لوگ ہیں۔ ان لوگوں کے پاس اتنا پیسہ ہے کہ شوکت خانم ہو یا SSUIT، ایدھی صاحب ہوں یا کوئی اور فلاحی ادارہ سب ان کی زکوِٰۃ و خیرات کے امیدوار ہیں۔ پتہ نہیں وہ کون لوگ ہیں جو نیوز چینلز کے بلیٹنز میں چیتھڑے پہنے، گرمی اور بارش میں آٹا لوٹتے ہوئے، پولیس سے لاٹھیاں کھاتے ہوئے اور سڑکوں پر افطار کرتے ہوئے دکھائے جاتے ہیں۔ اور پتہ نہیں وہ کونسے پاکستان میں رہتے ہیں۔

مشرف کا ٹرائل کیوں؟

آپ کے خیال میں سابق صدر اور ریٹائرڈ جرنیل پرویز مشرف کا ٹرائل ہونا چاہئے یا نہیں؟ اور اگر ہونا چاہئے تو کن الزامات پر؟

ہالبروک صاب کی آمد

آج امریکی سلطنت کے پاکستان کے لئے نامزد کردہ وائسرائے جناب عزت ماب رچرڈ ہالبروک صاحب نے ہمارے شہر کراچی کو اپنی آمد سے رونق بخشی۔ ہمارے شہر کے ناظم اعلی جناب مصطفی کمال صاحب کو حضور وائسرائے صاحب کا خاص الخاص قرب حاصل ہے اور جناب ناظم پہلے بھی سلطنت امریکہ کے کئی سنیٹروں اور کانگریس مین سے سند توصیف، اور خلعت فاخرہ پاچکے ہیں۔ ناظم اعلی، عالی مقام وائسرائے صاحب کے ہمراہ شہر کی ایک غریب آبادی ریلوے کالونی پہنچے۔ وہاں انہوں نے وائسرائے صاحب کو ایک اسکول کا معائنہ کرایا۔ جہاں غریب بچے اپنے درمیان وائسرائے صاحب کو دیکھ کر بہت حیران ہوئے مگر انہیں سختی سے ہلنے جلنے سے منع کردیا گیا تھا کیونکہ غریب گنوار بچے تھے درباری آداب سے ناواقف تھے کیا خبر حضور کی شان میں کچھ گستاخی کر بیٹھتے۔ وائسرائے صاحب نے ایک بچے سے پوچھا تم بڑے ہوکر کیا بننا چاہتے ہو۔ تو اس بچے کو کوئی جواب سمجھ میں نہیں آیا۔ وائسرائے صاحب نے پھر کورس کی کتابوں کا جائزہ لیا پھر ایک بچے سے پوچھا تم کیا بننا چاہتے ہو تو وہ بولا ڈاکٹر۔ وائسرائے صاحب خوش ہوئے انہوں نے بچے کو شاباشی دی۔ ان سے زیادہ اس بات کا علم اور کس کو ہوگا کہ جو نظام تعلیم ہمارے ملک میں رائج ہے اس کے زیر تربیت کسی بچے سے پوچھا جائے کہ وہ کیا بننا چاہتا ہے تو اس پاس محض دو یا تین جواب ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر، انجینئر، پائلٹ یا فوجی۔ اور لڑکیوں سے سوال نہیں کیا جاتا کیونکہ سب کو پتہ ہوتا ہے کہ انہیں کیا بننا ہوتا ہے۔ وائسرائے صاحب شہری حکومت کے زیر انتظام چلنے والے اس اسکول کی کارکردگی سے کافی خوش نظر آرہے تھے۔ ان کے ساتھ کئی میم صاب بھی تھیں جو شلوار قمیض اور دوپٹے میں ملبوس پرستان کی شہزادیوں جیسی خوبصورت لگ رہی تھیں۔ موقع بموقع وہ پاکستانی بچوں کو چھو کر شفقت کا اظہار کرتیں اور اپنی شاہی مسکراہٹوں سے ان بچوں کو نوازتیں۔

وائسرائے صاحب نے اس کے بعد ایک غریب کے گھر کا دورہ بھی کیا اور اس کا حال پوچھا۔ انہوں نے اس غریب کو یقین دلایا کہ سلطنت امریکہ اپنی پاکستانی رعایا کے ساتھ ہے اور ہر مشکل وقت میں ان کے ملک کے حکمرانوں کو کی مالی مدد کی جاتی رہے گی تاکہ وہ غریب عوام پر زیادہ کرپشن کا بوجھ نہ ڈالیں بلکہ امریکہ سے حاصل ہونے والے ڈالروں کی بندر بانٹ پر توجہ مرکوز رکھیں۔

اس کے بعد انہوں نے مقامی ہوٹل میں دربار سجایا اور شہر بھر کے امرا، تاجر و سیاستدان وغیرہ کو وہاں مدعو کیا گیا جہاں حضور نے ان سے مختصر خطاب کیا۔ انہوں نے پاکستان میں توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لئے امریکی امداد کا اعلان کیا۔ تاجروں کو عالمی منڈیوں میں زیادہ مواقع دلوانے کا وعدہ کیا اور ایک داڑھی والے شخص کی طرف طالبان کہہ کر اشارہ کیا اور اس کا مذاق اڑایا۔ اس کے علاوہ انہوں نے کراچی میں امریکی قونصل خانہ کے دوبارہ فعال کرنے کا اعلان کیا۔ سندھ حکومت سے کوڑیوں کے دام حاصل کی گئی وسیع و عریض قیمتی اراضی پر سفارت خانے کا کام ابھی تک شروع نہیں ہوا ہے اس کا مطلب ہے کہ موجودہ قونصلیٹ ہی عوام کی مشکلات حل کرنے کے لئے کام کرے گا۔ اور روزانہ سو خوش نصیبوں کو سلطنت امریکہ کا دیدار کرنے کے لئے ویزے جاری کرے گا۔ جناب وائسرائے صاحب نے گورنر سندھ عشرت العباد کی تعریف کی کہ انہوں نے صوبہ سندھ کو متحد کررکھا ہے اور ناظم شہر مصطفی کمال کی ایک بار پھر تعریف کی کہ وہ ان کے کام سے بہت خوش ہیں اور کراچی کی ترقی کا کام حیرت انگیز ہے۔

کراچی آمد سے قبل رچرڈ ہالبروک صاحب نے جماعت اسلامی کے امیر منور حسن اور مسلم لیگ نون کے امیر نواز شریف صاحب کو شرف میزبانی بخشا۔ یقینا دونوں حضرات نے اس موقع کا خوب فائدہ اٹھایا ہوگا اور صدر اوبامہ کے دربار تلک پاکستانی رعایا کی دو قطعا مختلف آوازیں پہنچانے کا کام انجام دیا ہوگا۔

حضور کا یہ یادگار دورہ تمام مقامی نیوز چینلز نے براہ راست نشر کیا اور تمام دن ان کے فرمودات کی سلائیڈز ٹی وی پر چلتی رہیں۔ ہماری شہری حکومت سے درخواست ہے کہ حضور کے اس دورے کی یاد میں ایک خصوصی یادگار تعمیر کروائی جائے، اور ان کے نام سے شہر کی کوئی سڑک منسوب کی جائے۔ اس کے علاوہ رعایا کی طرف سے سلطنت امریکہ کے محترم صدر کو ایک بار پھر اصرار کے ساتھ مدعو کیا جائے ہم امید کرتے ہیں کہ کم از کم اپنی زندگی میں ہم صدر محترم کا دربار ہمارے شہر کراچی میں سجا دیکھ سکیں گے۔

عدلیہ اور انصاف کے گڑے مردے

آجکل ہمارے ملک کے پڑھے لکھے عقل مند، مجھ جیسے کم عقل، کم پڑھے لکھے اور غریب پاکستانیوں کو چاروں طرف سے یہ نوید سنا رہے ہیں کہ ہمارے ملک کی عدلیہ اب آزاد ہوگئی ہے۔ عدلیہ اب مضبوط اور بالغ بھی ہوچکی ہے اور آئندہ وہ کسی آمر یا غاصب کو اقتدار پر قبضہ کرنے نہیں دے گی۔ انصاف کا بول بالا ہوگا اور ہر غریب کو انصاف ملے گا۔

ابھی تک قابل ذکر انصاف صرف ایک ہی غریب خاندان شریف برادران کو ملا ہے۔ مگر امید ہے باقی سترہ کروڑ غریبوں پر بھی جلد نظر کرم ہوگی۔ ان پر جاری مظالم جیسے بھیانک لوڈشیڈنگ، قتل و غارت گری اور ناقابل برداشت مہنگائی کا بھی نوٹس لیا جائیگا۔ اور غفلت کے مرتکب ذمے داران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائیگا۔ مگر شاید عدلیہ یہ ضروری سمجھتی ہے کہ وہ پہلے خود احتسابی کے عمل سے گزر کر خود کو مزید نیک نام کرے۔

ہمارے ملک کا نظام انصاف بھی کچھ عجیب ہے۔ ایک شخص کے دور حکمرانی میں نافذ کردہ ایمرجنسی غیر آئینی قرار دی گئی ہے۔ مگر اسی شخص نے جب پہلے ایک آئینی حکومت کو برطرف کرکے اقتدار پر قبضہ کیا تو اسی سپریم کورٹ نے اسے سند قبولیت بخشی تھی۔ جناب جسٹس چوہدری بھی اس بنچ میں شامل تھے جس نے ان کو تین سال تک حکمرانی کا اختیار دیا تھا۔ اگر ایک پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے جج صاحبان غیر قانونی قرار پائے ہیں تو پہلے والے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے جج صاحبان کیسے قانونی ہیں؟ اگر ایک مارشل لاء غلط ہے تو پہلے والا کیا صحیح تھا؟ اگر ایک پی سی و کے تحت حلف اٹھانے والے جج صاحبان کا مقدمہ سپریم جوڈیشل کونسل سنے گی تو کیا اس جوڈیشل کونسل میں کوئی ایسا جج نہ ہوگا جس نے پہلے پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھایا ہو۔ کیا پہلے والے مارشل لاء کے خلاف بھی شنوائی ہوگی اور اسے بھی غیر قانونی قرار دیا جائیگا؟

اگر ہم نے نظریہ ضرورت دفن کردیا ہے۔ تو اب ایسی کیا مجبوری ہے کہ اعلی عدلیہ کے پرانے فیصلوں پر نظر ثانی نہ کی جائے اور انتقام کو مشرف اور اس کے حواری ججز تک محدود کیوں رکھا جائے؟ اس سے بھی پہلے جائیں سارے گڑے مردے اکھاڑیں اور تاریخ انصاف کو ناانصافیوں سے پاک کریں۔

اس ہفتے کے جنگ مڈ ویک میگزین میں کراچی کی تاریخ کے حوالے سے ایک دلچسپ مضمون “شہر کی دو سو سالہ تاریخ ملبے سے باہر آرہی ہے” شائع ہوا ہے۔ یہ مضمون کراچی میونسپل کارپوریشن کی تاریخی عمارت میں شہری میونسپل کونسل کی دستاویزات کی برآمدگی اور ان کو محفوظ کئے جانے کی کوششوں کے بارے میں ہے۔ ان دستاویزات میں نقشے، رجسٹر، خطوط، اور شہری کونسل کی کاروائیوں کی روداد شامل ہے۔ چند دستاویزات قریبا دو سو سال قدیم ہیں۔ ان میں سے ایک دستاویز اس قرار داد کی ہے جس کے ذریعے لالو کھیت کا نام شہریوں نے لیاقت آباد تجویز کیا۔ شہری حکومت کے ریکارڈز میں محترمہ شہید بے نظیر بھٹو کی پیدائش کا اندراج بھی موجود ہے۔ ان ریکارڈز میں قائداعظم کی پیدائش کا ریکارڈ موجود نہیں جس سے اس شبہ کو تقویت ملتی ہے کہ شاید جناح جھرک میں پیدا ہوئے تھے اور وزیر مینشین ان کی جائے پیدائش نہیں۔

شہری حکومت نے ان دستاویزات کی دیکھ بھال اور آرکائیوز مرتب کرنے کا جو کام شروع کیا ہے اللہ کرے یہ جاری رہے۔ اس کے علاوہ بھی انہوں نے کافی تاریخی جگہوں کی مرمت کی ہے جیسے جہانگیر کوٹھاری پریڈ، ڈاوّ میڈیکل کالج کے ساتھ ایک ہندو تاجر کی یادگار کی مرمت، اس کے علاوہ شہر میں چند اور تاریخی عمارات کی دیکھ بھال اور حفاظت کی کوشش کی گئی ہے جو گرچہ بہت اچھی طرح نہیں کی گئی مگر لائق تحسین ہے۔

سیلاب اندھیرا اور پانی کی قلت

اٹھارہ جولائی کو ہونے والی طوفانی بارش کے دوران کراچی میں تقریبا پچاس کے قریب لوگ ہلاک ہوگئے۔ سینکڑوں زخمی ہوئے۔ تمام شہر پوری رات تاریکی اور سیلابی پانی میں ڈوبا رہا۔ اس دوران شہری حکومت کی کارکردگی پر لوگوں رد عمل ملا جلا رہا۔ اس طوفانی بارش نے کراچی میں بارشوں کا پینتیس سالہ ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ شاید اسلئے لوگ شہری حکومت کو رعایت دینے کو تیار تھے۔ اگلے دن شہر کے کافی علاقوں سے پانی نکال دیا اور سڑکیں اور ٹریفک بحال کردیا گیا۔ مگر کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی نے شہر کے لوگوں کی تین دن تک روح سلب کئے رکھی۔ جس کے خلاف لوگ احتجاجا سڑکوں پر نکل آئے ٹائر جلائے گئے اور کے ای ایس سی کی تنصیبات پر حملے ہوئے۔ سترہ جون کو ہونے والے بریک ڈاوّن کے پورے ایک مہینے بعد کے ای ایس سی کا دوسرا میجر بریک ڈاوّن تھا جس میں تمام شہر پوری رات تاریکی ڈوبا رہا۔

cartoon_jang210709

بجلی نہ ہونے کے سبب تین دن سے شہر میں پانی کی شدید قلت ہے۔ مختلف علاقوں میں لوگ بوٹلڈ واٹر ڈھونڈتے پھر رہے ہیں۔ وفاقی حکومت جو کے ای ایس سی سے معاملات کی مجاز ہے اس ضمن میں کسی بھی قسم کے اقدامات سے بدستور گریزاں ہے۔ سندھ حکومت نے کے ای ایس سی حکام کو وزیر اعلی ہاوّس طلب کیا ہے مگر کے ای ایس سی کا ان سے رویہ ایسا ہی جیسا ایسٹ انڈیا کمپنی کا ہندوستانی راجاوّں سے تھا۔ شہری انتہائی کرب اور اذیت میں مبتلا ہیں۔

کارٹون خالق خان روزنامہ جنگ کراچی ایڈیشن مورخہ ۲۱ جولائی ۲۰۰۹۔ (رجسٹریشن درکار ہے)

میں اس طرح کا آدمی نہیں فراز

اردو شاعری میں فراز کے کلام کی اہمیت اپنی جگہ مگر موصوف پاکستان کے پاپولر کلچر میں بھی حالیہ دنوں میں ایک ممتاز مقام حاصل کرچکے ہیں۔ ان کے تخلص کا مزاحیہ ایس ایم ایس پیغامات میں استعمال ایک مقبول عوامی ٹرینڈ بن گیا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب فراز کے تخلص کے ساتھ کوئی مزاحیہ ایس ایم ایس مارکیٹ میں نہ آتا ہو۔ ان میں سے چند چھچھورے، چند بھونڈے اور کچھ بہت لطیف ہوتے ہیں۔ مگر ایک خاصیت ان سب میں مشترک ہے کہ جب فراز کا تخلص آتا ہے تو پڑھنے والے کی توجہ فورا اگلے مصرعے یا اگلی سطر کی طرف مبذول ہوجاتی ہے اور اسے یہ توقع ہوتی ہے کہ اگلی سطر سے اس ایس ایم ایس کا صحیح لطف آئے گا۔

میرے چھوٹے بھائی عازب کے پاس اکثر اس قسم کے ایس ایم ایس آتے ہیں۔ وہ کافی کنجوس ہے اور سست بھی اس لئے عام طور پر وہ زیادہ ایس ایم ایس فارورڈ نہیں کرتا۔ مگر فراز برانڈ کے ایس ایم ایس فورا فارورڈ کرے جاتے ہیں۔ میں نے عازب سے کہا ہے کہ وہ فراز والے مزاحیہ ایس ایم ایس جمعع کرے اور ہم انہیں کسی جگہ محفوظ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ سب سے درخواست ہے کہ اگر کبھی آپ کو فراز کے تخلص کے ساتھ کوئی ایس ایم ایس موصول ہو تو وہ فورا مجھے ارسال کردیں۔ اس کے لئے آپ نیچے دیا گیا تبصرے کا فارم یا رابطے کے صفحے پر دیا گیا فارم پر کرکے ارسال کرسکتے ہیں یا براہ راست ای میل کرسکتے ہیں۔

پیش خدمت ہیں فراز کے تخلص والے چند مزاحیہ ایس ایم ایس پیغامات:

میں اسطرح کا آدمی نہیں ہوں فراز
پھر بھی وہ کہتی ہے
ذرا ذرا ٹچ می ٹچ می ٹچ می
ذرا ذرا کس می کس می کس می

ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
ان کی چپلیں چرا کے لے گیا فراز

ہماری زندگی تو اندھیروں میں گزرتی ہے فراز
وہ اور لوگ ہیں جو یو پی ایس لگا لیتے ہیں

جھوٹا پینے سے محبت بڑھتی ہے فراز
یہ کہہ کر وہ میری ساری پیپسی پی گیا

یہ کہہ کر نکال دیا مجھے
کرائے کے مکان سے فراز
تو شاہین ہے بسیرا کر
پہاڑوں کی چٹانوں پر

اس سے کہو وہ خوابوں میں نہ آیا کرے فراز
سردی بہت ہے روز روز نہایا نہیں جاتا

تمام دن اسے یاماہا پر جھولے دئیے فراز
شام کو کہتی ہے ‘میں تے ہنڈا ای لے ساں’

اردو، پنجابی، ہندی اور چینی میں بے مثال کامیابی کے بعد اب پیش خدمت ہے فراز ان انگلش:

This is this and what is what Faraz?
if this is what then what is this Faraz