<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>نعمان کی ڈائری</title>
	<atom:link href="http://noumaan.sabza.org/feed" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://noumaan.sabza.org</link>
	<description>ایک عام سے لڑکے کی بہت خاص خاص باتیں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 22 Aug 2010 16:19:05 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0.1</generator>
		<item>
		<title>کون ہیں یہ وحشی درندے؟</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/639</link>
		<comments>http://noumaan.sabza.org/archives/639#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 20 Aug 2010 18:01:47 +0000</pubDate>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
				<category><![CDATA[پاکستانی معاشرہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=639</guid>
		<description><![CDATA[سیالکوٹ میں دو نوجوان لڑکوں کو انتہائی بیدردی اور بے رحمی کے ساتھ سڑک پر مجمع لگا کر ہلاک کردیا گیا۔ جسٹس چوہدری صاحب نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔ متعلقہ ایس ایچ او معطل کردیا گیا ہے اور اس کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ یہ ویڈیو اس قدر ہولناک ہے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>سیالکوٹ میں دو نوجوان لڑکوں کو انتہائی بیدردی اور بے رحمی کے ساتھ سڑک پر مجمع لگا کر ہلاک کردیا گیا۔ جسٹس چوہدری صاحب نے واقعے کا <a href="http://www.geo.tv/8-20-2010/70205.htm">نوٹس</a> لے لیا ہے۔ متعلقہ ایس ایچ او معطل کردیا گیا ہے اور اس کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ </p>
<p>یہ ویڈیو اس قدر ہولناک ہے کہ اسے دیکھنا انتہائی دل گردے کا کام ہے۔ لاٹھیوں، ڈنڈوں، لاتوں، اور اینٹوں سے ان لڑکوں کو مکمل لہولہان کردیا گیا۔ ان کے کپڑے پھاڑ دئیے گئے۔ ان کے خون میں شرابور جسموں کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا۔ اور پھر فاتحانہ انداز میں ان کی لاشیں چوک پر لٹکائی گئی ہیں۔ مارنے والے درندوں کے دل اور وہاں کھڑے لوگوں کی حساسیت کس قدر مردہ ہوگی؟ اور یہ سب کچھ کسی گاؤں میں نہیں بلکہ ایک بڑے صنعتی شہر کی مصروف سڑک پر ہورہا تھا۔</p>
<p>ان لڑکوں پر شروع میں ڈکیتی کا الزام لگایا گیا۔ بعد میں یہ کہانی سامنے آئی کہ وہ کہیں کرکٹ کھیلنے گئے تھے جہاں ان کا کسی سے جھگڑا ہوا۔ بعد میں انہیں صلح کے نام پر دھوکے سے بلوایا گیا اور بیچ سڑک پر بے رحمی سے تشدد کر کے تڑپا تڑپا کر مارا گیا۔ </p>
<p>سب سے زیادہ شرم کی بات یہ ہے کہ اس دردناک منظر کو وہاں موجود بھیڑ بڑے اطمینان سے دیکھ رہی ہے اور اس کی ویڈیو بنا رہی ہے۔ اس انتہائی شرمناک فعل پر ویڈیو میں نظر آنے والے تمام لوگوں کو گرفتار کیا جانا چاہئے۔ جن جن لوگوں نے ان لڑکوں کو مارا ہے ان پر قتل اور دہشت گردی کا مقدمہ چلنا چاہئے اور دیکھنے والوں پر جرم میں  مکمل شرکت اور تعاون کے الزام کے تحت مقدمہ چلنا چاہئے اور انہیں سب کو سزا ملنی چاہئے۔ قتل کرنے والے درندے ویڈیو میں صاف نظر آرہے ہیں انہیں پکڑنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آنا چاہئے۔ </p>
<p>وزیر اعلی پنجاب کو اپنے فوٹو سیشنز اور پبلسٹی اسٹنٹس سے وقت نکال کر اس معاملے کا نوٹس لینا چاہئے اور ان سب درندوں کو سخت سے سخت سزا دلوانے کے لئے کوشش کرنا چاہئے۔ مگر انصاف کیسے ہوگا جب وزیر برائے قانون پر خود ہی قبضے اور <a href="http://www.youtube.com/watch?v=m2_uK6S1f9k">تشدد</a> کے الزامات ہوں؟ </p>
<p>یہ بھیانک جرم نہ صرف یہ بتارہا ہے کہ ہم لوگ بحیثیت قوم کس قدر سفاک اور بے حس ہوگئے ہیں۔ بلکہ اس سے یہ بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ تشدد ہمارے رگ و پے میں سرائیت کرچکا ہے۔ ہمارے معاشرے کے عام لوگ بھی تشدد کو جائز سمجھتے ہیں اور انسانی زندگی کی اس ملک میں اب کوئی قیمت نہیں رہی ہے۔</p>
<p>اسی موضوع پر اردو بلاگستان سے چند تحاریر: </p>
<p><a href="http://tanya.gulistaneurdu.org/?p=1138">تانیہ رحمان ۔ ہم سب تماش بین ہیں</a><br />
<a href="http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2010/spectators/">جہانزیب اشرف ۔ تماش بین</a><br />
<a href ="http://www.mypakistan.com/?p=4850">میرا پاکستان ۔ وحشی درندہ عوام</a><br />
<a href="http://5thdarvesh.co.cc/2010/08/21/%d8%a7%d9%be%d9%86%db%8c-%d8%a8%db%92-%d8%ad%d8%b3%db%8c/">عمیر ملک ۔ اپنی بے حسی</a><br />
<a href="http://farhandanish.wordpress.pk/?p=1040">فرحان دانش ۔  سیالکوٹ: دو معصوموں کا قتل اور نعشوں کی بے حرمتی ۔۔۔ کمزور دل مت دیکھیں</a><br />
<a href="http://urduonline.blogspot.com/2010/08/blog-post.html">افتخار راجہ ۔ معاشرتی انحطاط</a><br />
<a href="http://sadiasaher.wordpress.pk/2010/08/22/%d8%a7%db%92-%d8%b9%d8%b8%db%8c%d9%85-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d9%84%da%a9%d9%88%d9%b9-%d8%aa%d8%ac%da%be%db%92-%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85/">سعدیہ سحر ۔ اے عظیم سیالکوٹ تجھے سلام</a><br />
<a href="http://nawaiadab.com/khurram/?p=1485">خرم شہزاد خرم ۔ آفت پر آفت</a><br />
<a href="http://rehanez.blogspot.com/2010/08/blog-post.html">ریحان کا بلاگ۔ اور انصاف ہوگیا</a></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://noumaan.sabza.org/archives/639/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>44</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ابھی نہیں، بعد میں۔ ٹھیک ہے؟</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/626</link>
		<comments>http://noumaan.sabza.org/archives/626#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 14 Aug 2010 02:36:48 +0000</pubDate>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
				<category><![CDATA[پاکستانی معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=626</guid>
		<description><![CDATA[آج کی پوسٹ کافی لمبی ہوگئی ہے۔ میں عموما اسقدر لمبی تحاریر شائع نہیں کرتا۔ لیکن آپ میں سے جو اسے پوری پڑھ سکیں ان کا پیشگی شکریہ۔ &#160; پاکستانی عموما ملک کے دیگر علاقوں کا اتنا سفر نہیں کرتے۔ ہمارے صوبہ سندھ کے لوگ خاص کر کم ہی ملک کے دیگر علاقوں کا رخ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>آج کی پوسٹ کافی لمبی ہوگئی ہے۔ میں عموما اسقدر لمبی تحاریر شائع نہیں کرتا۔ لیکن آپ میں سے جو اسے پوری پڑھ سکیں ان کا پیشگی شکریہ۔ </p>
<hr  style="border:3px dashed #eaeaea;" /> &nbsp;</p>
<p>پاکستانی عموما ملک کے دیگر علاقوں کا اتنا سفر نہیں کرتے۔ ہمارے صوبہ سندھ کے لوگ خاص کر کم ہی ملک کے دیگر علاقوں کا رخ کرتے ہیں خصوصا کراچی میں رہنے والے زیادہ تر لوگ تو محض چھٹیوں میں ہی کبھی نام نہاد پاکستان ٹور لگالیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی اکثر دوسری قومیتوں کے لوگوں کے بارے میں ماروائی قسم کی غلط فہمیوں میں مبتلا رہتے ہیں۔</p>
<p>مجھے <a href="http://noumaan.sabza.org/archives/272">اسلام آباد، روالپنڈی</a>، اور لاہور جاتے ہوئے اب <a href="http://noumaan.sabza.org/archives/391">چند سال</a> ہوگئے ہیں۔ اس دوران ان تین شہروں کے متعدد چکر لگے۔ ایک دو بار ٹرین میں سفر کیا حالانکہ میرے آنے جانے کے اخراجات میں خود نہیں دیتا مگر مجھے پاکستان ریلوے سے محبت ہے۔ دوران سفر پاکستان کے مختلف علاقوں کے لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ چونکہ میں بہت باتونی ہوں اس لئے اجنبیوں سے فری ہونے میں مجھے زیادہ وقت نہیں لگتا۔ اس دوران مجھ پر یہ حقیقت بالکل واضح ہوگئی کہ ہم  سب پاکستانی ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔ </p>
<p>پہلے میں کراچی کے لوگوں کا ذکر کرونگا خاص طور پر اردو اسپیکنگ کراچی والوں کا کہ یہ دوسرے علاقوں کے لوگوں کے بارے میں عام طور پر کیا غلط فہمیاں رکھتے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ کراچی کے اردو اسپیکنگ لوگ باقی پاکستانیوں کو واقعی جاہل سمجھتے ہیں۔ </p>
<p>پنجاب کے لوگوں کے بارے میں ان کی عمومی رائے یہ ہے کہ وہ دھوکے باز ہوتے ہیں، بدتمیز اور گنوار ہوتے ہیں، اردو اسپیکنگ لوگوں سے سخت نفرت کرتے ہیں اور موقع ملنے پر انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ </p>
<p>سندھیوں کے بارے میں بھی ان کی رائے کم و بیش یہی ہے سوائے اس کے کہ تھوڑے پڑھے لکھے اردو بولنے لوگ سندھیوں کے کلچر سے متاثر نظر آتے ہیں۔ مگر عام طور پر یہ انہیں بھی جاہل، اجڈ اور گنوار سمجھتے ہیں۔ </p>
<p>حالیہ واقعات نے شہر کے پٹھانوں اور اردو بولنے والوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ کراچی کا ہر شہری پختونوں کے ساتھ کام کرنے میں زیادہ آسانی محسوس کرتا ہے، بانسبت دیگر قوموں کے۔ یہ محض میرا مشاہدہ ہے کوئی سائنٹفک اسٹڈی نہیں۔ </p>
<p>لوگوں کا یہ شکوہ کہ کراچی کے لوگ باقی پاکستانیوں کو اجڈ اور گنوار سمجھتے ہیں۔ بالکل بجا ہے اور کراچی کے اردو اسپیکنگ طبقے کو اس پر شرمندہ ہونا چاہئے۔ کم از کم میں تو ہوتا ہوں۔ میں قطعا باقی پاکستانیوں کو جاہل نہیں سمجھتا۔ بلکہ وہ مجھ جیسے جاہل کو بہت مہذب سمجھتے ہیں۔ جس پر مجھے مزید شرم آتی ہے۔ </p>
<p>میں جتنی مرتبہ بھی پنجاب گیا (ہر سال قریبا دو یا تین دفعہ ایک ایک ہفتے کے لئے) مجھے بالکل ایسا نہیں لگا کہ میں کسی اجنبی جگہ پر ہوں۔ کراچی والوں کا یہ تعصب کہ پنجابی انہیں دھوکہ دینے اور نقصان پہنچانے کے لئے گھات لگائے بیٹھے رہتے ہیں بے بنیاد نکلا۔ بلکہ میں نے انہیں سادہ طبیعت پایا۔ </p>
<p>صوبہ پنجاب کے لوگ آسانی سے دوست بن جاتے ہیں۔ مجھے پٹھانوں، سندھیوں، اور اردو اسپیکنگ لوگوں کے ساتھ بے تکلف ہونے میں کافی وقت لگا مگر پنجاب میں تو لوگ بہت ہی جلد بے تکلف ہوجاتے ہیں۔ </p>
<p>مہمان نواز بھی بہت ہوتے ہیں اور دوستوں کے لئے بہت وقت نکالتے ہیں۔ اپنی جیب، روز مرہ معمولات، اور ہر چیز چھوڑ چھاڑ آپ کو سیر سپاٹے کرانے نکل جاتے ہیں۔ </p>
<p>صوبہ پنجاب کے لوگ بھی کراچی والوں کے بارے میں عجیب غلط فہمیاں رکھتے ہیں۔ جن میں  سب سے سر فہرست یہ ہے کہ کراچی والے مہذب، باتمیز، اور تعلیمیافتہ ہوتے ہیں۔ اف کاش کبھی یہ لوگ آکر لالوکھیت، لائنز ایریا، رنچھوڑلائن، وغیرہ میں گھومیں۔ گٹکے کھاتے پچکاریاں مارتے، سوکھے سڑے بے روزگار نوجوانوں کے ٹولے دیکھ کر ان کی آنکھیں کھل جائیں گی۔ </p>
<p>ایم کیو ایم کے بارے میں وہ کیا سوچتے ہیں یہ مجھے لکھنے کی ضرورت نہیں۔ مگر اردو بولنے والی عوام کے بارے میں ان کی رائے شرمندہ کردینے کی حد تک مثبت ہے۔ وہ اردو بولنے والوں کو سمجھدار، باشعور جی ہاں وہ اردو بولنے والوں کو واقعی باشعور سمجھتے ہیں۔ گرچہ وہ <a href="http://www.urdujahan.com/blog/politics/2010/civilized/">غصے میں آکر کچھ لکھ بھی دیں</a> مگر یہ واقعی ایک حقیقت ہے کہ وہ اردو بولنے والے پاکستانیوں کو بہت اچھا سمجھتے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ ایم کیو ایم کی تنظیمی صلاحیتوں کے معترف ہوتے ہیں، وہ مصطفی کمال کی بے باکی پسند کرتے ہیں، وہ مشرف کے مکے پسند کرتے ہیں، وہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے بے انتہا عقیدت رکھتے ہیں۔ کاروباری معاملات میں وہ آپکو ہوشیار سمجھتے ہیں۔</p>
<p>کراچی کی لڑکیوں کے بارے میں پنجاب کے لڑکوں کے خیالات کافی عجیب ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ آپ بہت بولڈ ہوتی ہیں، گرچہ آپ جلدی فری ہوجاتی ہیں مگر بدتمیزی برداشت نہیں کرتیں، اور چونکہ وہ پنجابی ہیں اس لئے انہیں آپ کو ایمپریس کرنے کے لئے ڈبل محنت کرنا پڑے گی۔ تو لڑکیوں چھوڑو کراچی کے سوکھے سڑے لڑکوں کو پنجاب میں پڑھے لکھے لڑکوں کی کمی نہیں اور قسم سے وہ تمہارے بچوں سے بھی کبھی پنجابی نہیں بلوائیں گے بلکہ ان کے دادا دادی انہیں اردو بولتے دیکھ کر بہت خوش ہونگے۔ (یہ آنکھوں دیکھی بات ہے کہ پنجاب میں میرے ایک دوست کے گھر میں بچے پنجابی نہیں بولتے بلکہ انہیں اردو بولنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ اور یقین کریں پنجاب کے لوگ کراچی والوں سے اچھی اردو بولتے ہیں)۔ </p>
<p>اب برائیوں کا ذکر ہوجائے۔ پنجاب کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کراچی کے اردو اسپیکنگ لوگ کم کھانا کھاتے ہیں، کمزور ہوتے ہیں، لڑائی جھگڑے سے گھبراتے ہیں، مہمان نواز نہیں ہوتے، خوبصورت نہیں ہوتے، پنجابیوں یا دیگر قومیتوں کو آگے بڑھنے نہیں دیتے، ایم کیو ایم کو ووٹ دیتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔</p>
<p>اکثر پنجاب میں رہنے والے وہ لوگ جو کراچی آتے ہیں انہیں کراچی والے بداخلاق بھی معلوم ہوتے ہیں۔ انہیں کراچی کی سڑکیں گندی، لوگ متعصب اور شہر کی معاشرتی زندگی مختلف محسوس ہوتی ہے۔ لیکن اگر وہ کراچی شہر میں رہائش اختیار کرلیں تو آہستہ آہستہ انہیں یہ طرز زندگی سمجھ میں آنے لگتا ہے۔ </p>
<p>اب میں اس بات کا ذکر کرونگا کہ یہ تعصبات کیسے پیدا ہوتے ہیں۔ پنجاب کے لوگ زیادہ فرینڈلی ہوتے ہیں چونکہ کراچی میں لوگ اتنے فرینڈلی نہیں ہوتے اس لئے وہ اس چیز کو صحیح طرح سمجھ نہیں پاتے۔ پنجاب کے لوگوں کی زندہ دلی آپ کو شاید اس لئے بدتمیزی لگے کیونکہ آپ ان کے کلچر سے واقف نہیں۔ ٹیکسی والوں کا، دکانداروں کا، اور ہوٹل والوں کا آپ سے رویہ اس لئے اوور فرینڈلی ہوتا ہے کیونکہ آپ ان کے گاہک ہیں۔ کراچی میں یہ کانسیپٹ ناپید ہوگیا ہے۔ اس لئے آپ کو یہ لگتا ہے کہ شاید آپ کو مکھن لگا کر ٹھگا جارہا ہے۔</p>
<p>پنجاب میں اگر آپ ہوٹل کے بیروں، ٹیکسی ڈرائیورز، یا سرکاری کارندوں سے اچھی طرح بات کریں اور انہیں باتوں میں باتوں میں یہ بتا دیں کہ اپ کراچی سے آئے ہیں (ویسے کافی سارے لوگ خود ہی اندازہ لگالیتے ہیں آپ لوگ ناک سے اردو بولتے ہیں) تو آپ کافی رعایتی سلوک کے مستحق قرار پاتے ہیں۔ اور یقین کریں وہ اپنے پنجابی بھائیوں کے ساتھ جی بھر کر بدتمیز ہوتے ہیں یہ خاص سلوک صرف آپ کے ساتھ اس لئے ہوتا ہے کیونکہ آپ کراچی سے آئے ہیں اور اردو اسپیکنگ ہیں۔ </p>
<p>بارگیننگ کا کلچر پنجاب میں کراچی سے مختلف ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس ذرعی صوبے میں فروٹ سے لیکر کپڑے تک ہر چیز کراچی سے مہنگی ہے۔ مگر یقین مانئے وہ آپ کو ٹھگ نہیں رہے بلکہ واقعی یہ ہمارے ملک کے تجارتی نظام کی ہولناک خامی ہے۔ کہ یہاں اگنے والی کپاس کے بنے ہوئے ملبوسات اور خیبر پختونخواہ کے پھل پنجاب کے بجائے کراچی میں کم داموں میں مل جاتے ہیں۔  </p>
<p>پنجاب کے لوگوں تم بھی سن لو۔ کراچی والے دبلے پتلے ہوتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ کراچی کا پانی ایسا ہے کہ کھانا دیر سے ہضم ہوتا ہے۔ کراچی کے لوگ کھانے کے بہت شوقین ہوتے ہیں اور انہیں طرح طرح کے کھانے چکھنے کا بہت شوق ہوتا ہے۔ اور وہ اس معاملے میں زندہ دلی میں پنجاب سے دو قدم آگے ہی ہونگے پیچھے نہیں۔ </p>
<p>کراچی کے لوگ اتنی چائے نہیں پیتے جتنی آپ سمجھتے ہیں کہ ہم پیتے ہونگے۔ بلکہ پنجاب کے لوگ بہت زیادہ چائے پینے لگے ہیں اور سندھ میں بھی چائے بہت زیادہ پی جانے لگی ہے۔  ہم لوگ آپ کی کڑاکے دار سردی سے انجان ہوتے ہیں اس لئے ہمارے کپکپانے کو نفاست نہ سمجھیئے گا۔ </p>
<p>اگر اگلے سال ہم آپ سے ملنے آئیں تو ذرا کم گرم جوشی سے گلے لگائیں ہر مرتبہ آپ کی گرمجوشی ہمیں حیرت میں مبتلا کردیتی ہے کہ آپ کس بات پر اتنا خوش ہیں۔ </p>
<p>اور اگر اس سے پہلے آپ کراچی آجائیں تو قطعا یہ توقع نہ کیجئے گا کہ ہم دفتر چھوڑ کر ٹیکسی پکڑ کینٹ اسٹیشن یا ایر پورٹ آئیں گے۔ اپ کو ہمارے گھر کا راستہ پتہ ہے خود پہنچ جائیے گا۔ </p>
<p>اب آخر میں۔۔۔۔ </p>
<p>ہم سب کا مشترکہ گھر انتہائی خطرناک مصیبت میں پھنسا ہوا ہے۔ ہمارے لاکھوں بہن بھائی انتہائی شدید آفت کا شکار ہیں۔ لاکھوں لوگوں کے مکانات تباہ ہوگئے ہیں، فصلیں تباہ ہوگئی ہیں، لوگ بھوکے پیاسے پڑے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے بچے شدید وبائی امراض کی زد پر ہیں۔ </p>
<p>ہم سب ایک دوسرے پر خوب خوب تعصب کے طنز برسائیں گے اور اس بات پر خوب لڑیں گے کہ کون زیادہ بہتر ہے۔ مگر ساتھ ساتھ ملک کی اس خطرناک صورتحال پر کچھ کرلیں؟ ساتھ رہیں گے تو یہ چھوٹی چھوٹی جھڑپیں تو چلتی ہی رہیں گی۔ لیکن اس ملک کا شیرازہ بکھر گیا تو میں کس سے لڑونگا اور کس پر تعصب کا الزام لگاؤنگا؟ </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://noumaan.sabza.org/archives/626/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>44</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>امن کی راہ میں حائل عصبیت اور تعصب</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/623</link>
		<comments>http://noumaan.sabza.org/archives/623#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 05 Aug 2010 01:23:22 +0000</pubDate>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
				<category><![CDATA[عمومی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=623</guid>
		<description><![CDATA[مجھے یاد ہے کہ سن دو ہزار پانچ کی بات ہے جب میں نے اردو محفل پر پہلی بار ایک ایسے تذکرے میں شرکت کی کہ جہاں ایم کیو ایم کا ذکر ہورہا تھا۔ بعد ازاں بلاگستان پر بھی ایم کیو ایم کا ذکر ہوا۔ اور تب سے ہی مجھے شدت سے یہ احساس ہوتا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>مجھے یاد ہے کہ سن دو ہزار پانچ کی بات ہے جب میں نے اردو محفل پر پہلی بار ایک ایسے تذکرے میں شرکت کی کہ جہاں ایم کیو ایم کا ذکر ہورہا تھا۔ بعد ازاں بلاگستان پر بھی ایم کیو ایم کا ذکر ہوا۔ اور تب سے ہی مجھے شدت سے یہ احساس ہوتا ہے کہ ایم کیو ایم کی صرف مخالفت نہیں کی جاتی بلکہ ایم کیو ایم کے خلاف ایک عجیب طرح کا بغض پایا جاتا ہے۔ </p>
<p>میرے خیال میں کراچی میں امن کی راہ میں یہ بغض اور یہ تعصب سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایم کیو ایم ایسا کیا کرتی ہے جو اس ملک کی دیگر سیاسی جماعتیں نہیں کرتیں؟ ایم کیو ایم کا عسکری ونگ ہے، کس سیاسی جماعت کا نہیں ہے؟ ایم کیو ایم کے پاس اسلحہ ہے۔ کس کے پاس نہیں ہے؟ ایم کیو ایم لسانی سیاست کرتی ہے، کونسی جماعت نہیں کرتی؟ </p>
<p>تو پھر کیا وجہ ہے کہ ایم کیو ایم کا موقف صرف اس دلیل کی بنیاد پر رد کیا جاتا ہے کہ ایم کیو ایم ہمیں ناپسند ہے؟ اور کیا وجہ ہے کہ ایم کیو ایم کے مرنے والے کارکنان کا کہیں کوئی ذکر تک نہیں؟ کسی کو قصبہ کالونی پر پہاڑوں سے ہونے والی فائرنگ پر تشویش نہیں۔ کسی کو لینڈ مافیا، جرائم پیشہ عناصر، ڈرگ مافیا سے کوئی شکایت نہیں؟ کسی کو اس بات پر تشویش نہیں کہ جنوبی پنجاب سے آنے والے دہشت گرد اے این پی یونٹ آفسوں سے گرفتار ہورہے ہیں۔ القاعدہ سے لیکر وزیرستان کے کرائے کے مجاہدین تک کراچی کی پہاڑیوں اور کچی آبادیوں میں مسکن بنائے ہوئے ہیں۔ مگر نہیں ہم یہ سب نظر انداز کردیں گے صرف اس لئے کہ ایم کیو ایم کو ان سے شکایت ہے۔ </p>
<p>عصبیت اور تعصب کی یہ کونسی دیوار ہے کہ جسے کوئی دلیل پھلانگ سکتی ہے نہ کوئی ثبوت۔ جس پر لاشیں گرنے کا اثر ہوتا ہے نہ آتش زدگی کا۔ کیا عصبیت اور تعصب کی اس دیوار میں شگاف کے لئے ایک دہائی اور خونریزی کی نظر کرنا ہوگی۔ یا کوئی سننے پر آمادہ ہے؟ </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://noumaan.sabza.org/archives/623/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>31</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>کراچی کی صورتحال، دہشت گردی اور وفاق کی غفلت</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/618</link>
		<comments>http://noumaan.sabza.org/archives/618#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 03 Aug 2010 13:04:22 +0000</pubDate>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
				<category><![CDATA[دہشت گردی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی معاشرہ]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=618</guid>
		<description><![CDATA[کل ایم کیو ایم کے ایک رکن سندھ اسمبلی رضا حیدر کو ہلاک کردیا گیا۔ جس کے نتیجے میں پورے شہر میں کشیدگی پھیل گئی۔ وزیراعظم اور وزیر داخلہ ایم کیو ایم کے کارکنان سے پر امن رہنے کی اپیل کرتے رہے۔ وزیر داخلہ نے سپاہ صحابہ پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ رضا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>کل ایم کیو ایم کے ایک رکن سندھ اسمبلی رضا حیدر کو ہلاک کردیا گیا۔ جس کے نتیجے میں پورے شہر میں کشیدگی پھیل گئی۔ وزیراعظم اور وزیر داخلہ ایم کیو ایم کے کارکنان سے پر امن رہنے کی اپیل کرتے رہے۔ وزیر داخلہ نے سپاہ صحابہ پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ رضا حیدر سپاہ صحابہ کی ہٹ لسٹ پر تھے۔ </p>
<p>جیو ٹی وی کے نمائندے فہیم صدیقی نے تحقیقاتی اداروں کے پاس موجود ٹریس کی گئی ایک کال کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس کال میں ایم کیو ایم کے رضا حیدر کو قتل کرنے کے منصوبے اور بعد ازاں ان کے جنازے پر خودکش حملے کا منصوبہ تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مذکورہ ٹیپ میں رضا حیدر کو ایم کیو ایم کے عسکری ونگ کا اہم رکن بتایا گیا ہے اور یہ دعوی کیا گیا ہے کہ ان کے قتل کے بعد ان کے جنازے میں ایم کیو ایم کے عسکری ونگ کے وہ کارکنان جنازے میں شرکت کریں گے جو عام طور پر انڈر گراؤنڈ رہتے ہیں۔ اور اس خودکش حملے سے ایم کیو ایم کی کمر ٹوٹ جائے گی۔</p>
<p>حادثے کے چند گھنٹے بعد تک اے این پی اور شاہی سید پر ایم کیو ایم کے مختلف عہدیداران کے الزامات کے بیانات کی خبریں آتی رہیں جو اچانک ہی  بند ہوگئیں اور الطاف حسین کی جانب سے کارکنان سے پر امن رہنے کی اپیل سامنے آئی جس کے بعد تمام عہدیداران اور ذمہ داران  نے پر امن سوگ کی ذمے داری سنبھال لی۔ </p>
<p>جیسے ہی ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے پرامن رہنے کا اعلان کیا۔ تشدد کی ایک نئی لہر تیزی کے ساتھ شہر میں ابھری اور کئی گاڑیوں کو جلادیا گیا اور املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ شہر میں رات سے اب تک پینتالیس افراد دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ </p>
<p>ایم کیو ایم کے کارکنان فائرنگ کرکے شہر بند تو کروا ہی چکے تھے۔ جس کے نتیجے میں ان کے چہرے سب نے دیکھ لئے اور لوگ خود ہی یہ فرض کررہے ہیں کہ املاک کو جلانے اور گاڑیوں پر فائرنگ بھی ایم کیو ایم ہی کررہی ہے۔ میرا خیال ہے کہ گاڑیوں پر فائرنگ اور املاک کو جلانے کی کاروائی تب شروع ہوئی جب اس سازش کا بھانڈا پھوٹ گیا۔ کیونکہ شہر میں شیعہ سنی فساد بھڑکانا اتنا آسان نہیں اس لئے لسانی بنیادوں پر املاک کو نقصان پہنچا کر لسانی فسادات شروع کرنا زیادہ آسان سمجھا جاتا ہے۔ تاہم پچھلے چند سالوں میں ایم کیو ایم اور اے این پی اکثر عین موقعے پر خاموشی اختیار کرلیتے ہیں جس سے لسانی فسادات کے بڑے پیمانے پر پھیلنے کا خطرہ ٹل جاتا ہے۔ </p>
<p>یہ بات کوئی اتنی ناممکن نہیں کہ ایم کیو ایم کے سرکردہ رہنما مذہبی دہشت گرد تنظیموں کی ہٹ لسٹ پر ہوں۔ ایم کیو ایم کا کھلا سیکولر ازم، قادیانیوں کے ساتھ امتیازی سلوک پر ایم کیو ایم کا موقف، ایم کیو ایم میں بڑی تعداد میں شیعہ کارکنان اور پارلیمانی ممبران، ایم کیو ایم کی طالبان مخالف بیان بازی، وغیرہ سب ریکارڈ پر موجود ہیں۔ ایم کیو ایم کا یہ موقف کے شہر کی لینڈ، ڈرگ اور اسلحہ مافیا مذہبی دہشت گردوں کو فنڈز فراہم کرتی ہے عموما نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ باوجود اس کے کہ انٹیلی جنس ادارے بارہا ایم کیو ایم کے اس دعوی کی تصدیق کرچکے ہیں۔ </p>
<p>ضرورت اس بات کی ہے وفاقی حکومت شہر میں آرمز، ڈرگز، اور لینڈ مافیا کے خلاف بھرپور کاروائی کرے ساتھ ہی جنوبی پنجاب میں کالعدم انتہاپسند تنظیموں کے خلاف بھی بھرپور آپریشن کیا جائے۔ سپاہ صحابہ اور اس کے تبلیغی برین واشنگ مشین جماعت الدعوہ کی سرگرمیوں پر ایکشن لیا جائے ورنہ یہ ٹارگٹ کلنگز صرف خیبر پختونخواہ اور کراچی تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ جلد ہی پنجاب کے لبرل سیکولر رہنما بھی اس کے نشانے پر ہونگے۔ </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://noumaan.sabza.org/archives/618/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>45</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>آپ کی مدد کے منتظر</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/610</link>
		<comments>http://noumaan.sabza.org/archives/610#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 31 Jul 2010 17:48:03 +0000</pubDate>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
				<category><![CDATA[پاکستانی معاشرہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=610</guid>
		<description><![CDATA[خیبر پختونخواہ میں تاریخ کے بدترین سیلاب نے صوبے کو زبردست تباہی سے دوچار کردیا ہے۔ ہزاروں افراد بے یار و مددگار بے سروسامانی کے عالم میں کھلے آسمان تلے پڑے مدد کے منتظر ہیں۔ نومولود، بچے، بوڑھے، بیمار، خواتین خوارک کی شدید قلت اور وبائی امراض کے سنگین خطرے کی زد میں ہیں۔ صوبے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>خیبر پختونخواہ میں <a href="http://tribune.com.pk/story/33079/nature-unleashes-fury/">تاریخ کے بدترین سیلاب</a> نے صوبے کو زبردست تباہی سے دوچار کردیا ہے۔ ہزاروں افراد بے یار و مددگار  بے سروسامانی کے عالم میں کھلے آسمان تلے پڑے مدد کے منتظر ہیں۔ نومولود، بچے، بوڑھے، بیمار، خواتین خوارک کی شدید قلت اور وبائی امراض کے سنگین خطرے کی زد میں ہیں۔ صوبے میں دواؤں اور خوارک کی ترسیل میں شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔ اس انتہائی مشکل گھڑی میں تمام دردمند پاکستانیوں سے مدد کی اپیل ہے۔ </p>
<p>الخدمت ویلفئیر سوسائٹی کراچی نے آج بلوچستان کے لئے امدادی سامان کا پہلا کارواں روانہ کردیا ہے۔ صوبہ خیبر پختونخواہ کے لئے ایک کاروان تیار ہے اور صبح روانہ کیا جائے گا۔  مزید امدادی سامان کی ضرورت ہے اور اس کے لئے کراچی کے شہریوں سے مدد کی پرزور اپیل ہے۔ اپنی نقد رقومات، یا امدادی سامان، یا کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرنے کے لئے الخدمت کراچی سے ان نمبروں پر رابطہ کریں: </p>
<div style="font-family:arial,verdana,sans-serif;font-size:large;direction:ltr;text-align:left;">
<p>Alkhidmat welfare Society Karachi<br />
111-503-504</p>
</div>
<p>بیرون ملک مقیم پاکستانی، اور ایسے پاکستانی جو ملک کے دیگر علاقوں میں رہاش پذیر ہیں اور الخدمت کے ساتھ تعاون کرنا چاہتے ہیں وہ  الخدمت کے جنرل سیکریٹری جناب تنویر اللہ خان صاحب سے بذریعہ موبائل رابطہ کرسکتے ہیں ان کا نمبر ہے:<br />
0321-8751087</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://noumaan.sabza.org/archives/610/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>7</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>سننے کا لطف</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/606</link>
		<comments>http://noumaan.sabza.org/archives/606#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 16 Jul 2010 18:08:03 +0000</pubDate>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
				<category><![CDATA[دکان سے گھر تک]]></category>
		<category><![CDATA[کتابیں]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=606</guid>
		<description><![CDATA[اگلے وقتوں میں، کہ جب لکھنا پڑھنا اتنا عام نہ تھا، کہانیاں زبانی سنائی جاتی تھیں اور سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی تھیں۔ کہانی سنانے والوں کو داستان گو کہا جاتا تھا۔ لوگ ان کے گرد جمع ہوجاتے تھے اور یہ اپنی لفاظی، آواز کے اتار چڑھاوّ، اور اداکاری کے ساتھ کہانی کو اسطرح بیان [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>اگلے وقتوں میں، کہ جب لکھنا پڑھنا اتنا عام نہ تھا، کہانیاں زبانی سنائی جاتی تھیں اور سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی تھیں۔ کہانی سنانے والوں کو <a href="http://dastangoi.blogspot.com/">داستان گو</a> کہا جاتا تھا۔ لوگ ان کے گرد جمع ہوجاتے تھے اور یہ اپنی لفاظی، آواز کے اتار چڑھاوّ، اور اداکاری کے ساتھ کہانی کو اسطرح بیان کرتے تھے کہ سننے والے کھوجاتے تھے۔ </p>
<p>کہانی سننے کا شوق مجھے تب پیدا ہوا جب میں نے بچپن میں <a href="http://www.dukandar.com/kahani.html">کیسٹ کہانی</a> سنی۔ شالیمار ریکارڈنگ کمپنی اور چند ایک اور اداروں کی مدد سے ریڈیو پاکستان کے نامور صداکاروں کی آواز میں ریکارڈ کی گئی بچوں کی یہ کہانیاں انتہائی دلچسپ ہوا کرتی تھیں۔ ان میں ٹارزن کی کہانی، الہ دین، سند باد جہازی کی مہمات، اور دنیا بھر کے ادب سے منتخب کہانیاں شامل ہوا کرتی تھیں۔ میں اس سے پہلے ہی کتابیں پڑھنے لگا تھا۔ تب اگر آپ مجھ سے پوچھتے کہ کہانی سننے اور پڑھنے میں کیا فرق ہوتا ہے تو مجھے اس فرق کا احساس تو ہوتا مگر میں اسے بالکل بیان نہ کرپاتا۔ </p>
<p>بعد میں یہ سلسلہ بند ہوگیا کیسٹ کہانیاں آنا بند ہوگئیں اور میں انسپکٹر جمشید، عمران سیریز، سسپنس ڈائجسٹ سے ہوتا ہوا کلاسیکی اردو ادب تک پہنچ چکا تھا۔ ٹین ایج میں اپ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ دنیا بہت بڑی ہے اور آپ جلد از جلد نئے سے نیا تجربہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ آپ سب کچھ کرلینا چاہتے ہیں اور ہر چیز پر اپنی دسترس چاہتے ہیں۔ اس دوران آپ سب سے پہلے تو بچپن سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں کیونکہ نئے تجربات کی راہ میں آپ اسے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ بہت سالوں بعد جاکر آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ کو زندگی سے کیا چاہئے اور کیا کچھ ہے جو آپ کی دسترس میں نہ بھی ہو تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ </p>
<p>کہانی سے محبت دل میں رچ بس چکی تھی۔ اب کتابوں پر سارا زور تھا۔ میں بہت شوق سے کتابیں پڑھتا ہوں۔ آجکل اتنی نہیں پڑھ پاتا جتنی پہلے پڑھا کرتا تھا مگر پھر بھی کوشش کرتا ہوں کہ زیادہ سے زیادہ پڑھوں۔ اب میں زیادہ تر انگریزی خاص طور پر انگریزی فکشن پڑھتا ہوں۔ اس میں بھی میری دلچسپی کا زیادہ محور بچوں کے لئے لکھی گئی کتابیں ہیں۔ مجھے بچوں کا ادب بڑوں کی سنسنی خیز کہانیوں سے زیادہ دلچسپ اور محسورکن معلوم ہوتا ہے۔ </p>
<p>چند ماہ قبل، مجھے کسی نہ آڈیو بکس پڑھنے یا سننے کا مشورہ دیا۔ آڈیو بکس کے بارے میں مجھے علم تو تھا مگر میں سوچا کرتا کہ کتاب پڑھنے کا جو لطف ہے وہ سننے میں کہاں آئے گا۔ پڑھنے کا اصل لطف تو صفحے پلٹنے، نئی کتاب کے صفحات کی مہک، اور ہاتھ میں محسوس ہوتا اس کا وزن جیسی خوبصورت چیزوں سے ہی دوبالا ہوتا ہے۔ </p>
<p>بہرحال ایک دن بوریت زدگی کی حد تھی تو میں نے چارلین ہیریس کی سیریز سوکی اسٹاک ہاوّس کی سدرن ویمپائر مائسٹریز کی ایک کتاب، <a href="http://www.amazon.com/Dead-Until-Southern-Vampire-Mysteries/dp/0441008534">ڈیڈ انٹل ڈارک</a> آڈیو بک فارمیٹ میں ڈاوّنلوڈ کرلی۔ اسے اپنے موبائل فون پر منتقل کرا۔ ایک بڑے سے مگ میں ٹھنڈی جھاگ والی لسی بھری اور آرام سے لیٹ کر کہانی سنی۔  </p>
<p>شروع میں مجھے کہانی پڑھنے والی خاتون کا یہ رویہ عجیب سے لگا کہ وہ مردوں کی آواز میں کہے گئے مکالمے بھی خود ہی پڑھ رہی تھیں۔ مگر بعد میں یہ بہت دلچسپ لگنے لگا۔ اور کتاب کا پہلا باب ختم ہونے سے پہلے ہی میں مکمل طور پر کہانی کی گرفت اور آڈیو بکس کی الفت میں گرفتار ہوچکا تھا۔ </p>
<p>کتاب پڑھنے اور اسے سننے میں کافی فرق ہے۔ ایک ہی کتاب پڑھنے میں اور سننے میں دو الگ طرح کی جہتیں پیش کرتی ہے۔ خاص طور پر سننے کے دوران آپ کی حس تصور آپ کو کتاب کا ایک نیا زوایہ پیش کرتی ہے۔ آپ اپنے گرد و پیش سے لاپرواہ ہوکر ایک خیالی دنیا کی اڑان بھر رہے ہوتے ہیں۔ </p>
<p>کہانی سننے یا کسی کتاب کو سننے کا عمل دلچسپی کے کئی مختلف مدارج پیش کرتا ہے۔ مثلا سونے سے پہلے بستر پر لیٹ کر آنکھیں موندے سننے سے آپ کو الگ طرح کا لطف حاصل ہوگا۔ کتاب کے مصنف کی الفاظ پر گرفت، مکالمہ نگاری کی مہارت اور کردار سازی کی قوت کا زیادہ بہتر ادراک ہوگا۔ لیکن اگر آپ یہ کہانی ناشتے کے دوران کام پر جانے سے پہلے سنیں تو ایک مختلف لطف حاصل ہوگا۔ کام سے آنے کے بعد پارک میں بیٹھ کر یا دوڑتے ہوئے سنیں تو ایک الگ لطف۔ </p>
<p>اسطرح کتاب پڑھنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ آپ روزمرہ کے کاموں کے دوران بھی کتاب سن سکتے ہیں۔ جیسے صبح کے امور کی انجام دہی کے دوران۔ کام پر جاتے اور واپس آتے ہوئے راستے میں۔ ایکسرسائز کرتے ہوئے۔ </p>
<p>پچھلے دنوں میں کئی کتابیں سن چکا ہوں۔ چند ایک ایسی کتابیں بھی جو میں کئی بار پڑھ چکا ہوں اور مجھے زبانی یاد ہیں۔ جیسے ہیری پوٹر، اسٹیفن کنگ کے مختلف ناول اور افسانے۔ مگر ان کتابوں کو جب سنا تو ایسا لگا کہ میں نے یہ کتابیں کبھی پڑھی ہی نہیں تھیں اور میں نئے سرے سے ان مصنفین کی مہارت کا قائل ہوا۔ </p>
<p>ابھی تک پاکستان میں میرا علاوہ میں صرف ایک اور آڈیو بک صارف سے واقف ہوسکا ہوں۔ ان کا آڈیو بکس کے بارے میں لکھا ہوا مضمون اسپائڈر کے اگلے ماہ کے شمارے میں شائع ہورہا ہے۔ آپ میں سے اگر کوئی آڈیو بکس پڑھنا چاہے تو آڈیبل والے <a href="http://www.audible.com/adbl/site/template/int/landing.jsp?BV_UseBVCookie=Yes&#038;pac=Prospects+Newsletter">مفت آڈیوبکس</a> دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر آپ کتابیں خرید نہیں سکتے تو ڈاؤنلوڈ کے مختلف طریقے موجود ہیں جن سے آپ استفادہ حاصل کرسکتے ہیں۔ </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://noumaan.sabza.org/archives/606/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>17</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>واہیات پن بند کرو</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/602</link>
		<comments>http://noumaan.sabza.org/archives/602#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 14 Jul 2010 15:40:37 +0000</pubDate>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
				<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[بلاگستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی معاشرہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=602</guid>
		<description><![CDATA[بالآخر اسما نے ہار تسلیم کی اور اردو بلاگنگ کی دنیا سے اپنا بوریا بستر باندھا۔ عنیقہ نے بھی کم سے کم لکھنے کی مشق شروع کردی ہے۔ امید ہے اب یہ سلسلہ بند ہوجائے گا۔ مجھے سب کی آزادی اظہار کا احترام ہے۔ مگر کج بحثی جیسے خواتین اور مردوں میں سے کون ظالم [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>بالآخر اسما نے <a href="http://phapheykutni.3papillons.fr/?p=228">ہار تسلیم</a> کی اور اردو بلاگنگ کی دنیا سے اپنا بوریا بستر باندھا۔ عنیقہ نے بھی کم سے کم لکھنے کی مشق شروع کردی ہے۔ امید ہے اب یہ سلسلہ بند ہوجائے گا۔ </p>
<p>مجھے سب کی آزادی اظہار کا احترام ہے۔ مگر کج بحثی جیسے خواتین اور مردوں میں سے کون ظالم ہے جیسے لغو مباحث عموما اسی قسم کے رویوں کی طرف لے جاتے ہیں۔ افسوس کہ اس میں نیم خواندہ  اور جاہل لوگ ہی شامل نہیں بلکہ عمر رسیدہ <a href="http://www.theajmals.com/blog/2010/07/%d8%a7%db%81%d9%85-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%b4%d8%b1%d8%aa%db%8c-%d8%a7%d8%b5%d9%88%d9%84/">بزرگ</a> بھی شامل ہیں۔ ان تحاریر پر تبصروں کے ذریعے جن لوگوں نے ان کی حوصلہ افزائی کی وہ سب بھی برابر کے مجرم ہیں۔ </p>
<p>اردو بلاگستان پر راشد کامران غائب ہوگئے ہیں، ابوشامل ویکیپیڈیا پر ہی وقت لگا رہے ہیں، شعیب اپنی دلائل کمرہ عدالت کے لئے محفوظ رکھے ہوئے ہیں۔ اور اچھے بلاگ نہیں رہیں گے تو یہی ہوگا۔ </p>
<p>اردو بلاگستان میں ایک خطرناک رویہ جو پرورش پارہا ہے وہ یہ ہے کہ لوگ موضوعات کے بجائے لوگو.ں پر تحاریر لکھنے لگے ہیں۔ میلوں دور بیٹھ کر ایک دوسرے کی شخصیت اور کردار کے نقوش کی ہولناکی وضع کرنے میں اپنی لفاظیت اور روایتی پنجابی جگت سازی کے تمام گر آزما رہے ہیں۔ حماقت یہ ہے کہ وہ کبھی ایکدوسرے سے ملے بھی نہیں۔ مگر کردار کشی کے شوق سے سرشار انہیں یہ کام سب سے آسان اور دلچسپ نظر آتا ہے۔ </p>
<p>مجھے اس تمام عرصے میں لکھی جانے والی سب تحاریر پر شدید اعتراض ہے اور میں انہیں اردو بلاگنگ کے لئے سخت نقصان دہ سمجھتا ہوں۔ اس پوسٹ کے ذریعے میں ایسی تمام خواتین اور مرد حضرات کی اس قسم کی کج بحثی، کردار کشی، واہیات پن والی تمام پوسٹس سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں۔ اور اپنے قارئیں سے گزارش کرتا ہوں کہ اگر آپ اردو زبان کی شائستگی، شگفتگی، اور تہذیبی اہمیت کے قائل ہیں اور اس کی ترویج دیکھنا چاہتے ہیں تو اس قسم کی تحاریر پر تبصرے نہ کریں۔ میں دیگر بلاگرز سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس رویے کی مذمت کریں۔ گرچہ ان میں سے کافی سارے ان تحاریر کو نظر انداز کرکے اپنی بیزاری کا اظہار کرچکے ہیں۔ مگر میرے خیال میں مذمت کی ایک پوسٹ ضرور ہونا چاہئے۔ تاکہ اس رویے کا مستقل طور پر سدباب کیا جاسکے۔ </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://noumaan.sabza.org/archives/602/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>52</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>خود فریبی کی جنت</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/599</link>
		<comments>http://noumaan.sabza.org/archives/599#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 04 Jul 2010 18:07:40 +0000</pubDate>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
				<category><![CDATA[دہشت گردی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی معاشرہ]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=599</guid>
		<description><![CDATA[جہانزیب کے بلاگ پر جنت کے شارٹ کٹ کی تحریر پڑھیں بمعہ تبصرہ جات، اور میری گزشتہ تحریر پر موصول ہونے والے تبصرہ جات پڑھیں۔ اس کے بعد آگے بڑھیں۔ میرے ذہن میں کچھ سوال آتے ہیں۔ پہلا سوال۔ جنت کے شارٹ کٹی حصول کی غلط معلومات کو پھیلنے سے کس طرح روکا جائے؟ دوسرا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>جہانزیب کے بلاگ پر  <a href="http://www.urdujahan.com/blog/pakistan/2010/short-cut-to-heaven/">جنت کے شارٹ کٹ</a> کی تحریر پڑھیں بمعہ تبصرہ جات، اور میری <a href="http://noumaan.sabza.org/archives/594">گزشتہ تحریر</a> پر موصول ہونے والے تبصرہ جات پڑھیں۔ اس کے بعد آگے بڑھیں۔ </p>
<p>میرے ذہن میں کچھ  سوال آتے ہیں۔ </p>
<p>پہلا سوال۔ جنت کے شارٹ کٹی حصول کی غلط معلومات کو پھیلنے سے کس طرح روکا جائے؟ </p>
<p>دوسرا سوال۔ تین دن سے پورا ملک یک زبان و ہم خیال ہوکر ایک ہی صدا بلند کررہا ہے۔ &#8220;داتا صاحب کے دربار پر حملہ کرنے والا مسلمان ہو ہی نہیں سکتا۔&#8221; میرا سوال یہ ہے کہ کیوں نہیں ہوسکتا؟ </p>
<p>اب ذرا پہلے سوال اور دوسرے سوال میں تضاد ملاحظہ فرمائیں۔ ایک نکتہ نظر یہ ہے کہ یہ حملہ کرنے والے ایسے مسلمان تھے جو اس ہولناک حملے کو جنت کا فوری حصول سمجھتے ہیں۔ دوسرا نکتہ نظر یہ ہے کہ اتنی مقدس جگہ پر حملہ کرنے والا کوئی مسلمان نہیں ہوسکتا۔ </p>
<p>تیسرا سوال: اگر ہم اس کنفیوژن میں ہی مبتلا رہے کہ دشمن کون ہے، تو آج سے چند سالوں بعد ہمارے ملک کا کیا حال ہوگا؟ </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://noumaan.sabza.org/archives/599/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>6</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>نفرت زدہ قوم</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/594</link>
		<comments>http://noumaan.sabza.org/archives/594#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 02 Jul 2010 03:23:44 +0000</pubDate>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
				<category><![CDATA[دہشت گردی]]></category>
		<category><![CDATA[مذہبی رواداری]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=594</guid>
		<description><![CDATA[کل رات لاہور میں دہشت گردوں نے پاکستان کی عوام کے اوپر مزید حملے کرے جس میں چالیس کے قریب افراد جاں بحق ہوگئے اور ڈیڑھ سو زخمیوں میں سے پندرہ کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ سنی اتحاد کونسل کے حنیف طیب صاحب کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں وہی لوگ ملوث ہیں [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>کل رات لاہور میں دہشت گردوں نے پاکستان کی عوام کے اوپر <a href="http://news.bbc.co.uk/2/hi/world/south_asia/10483453.stm">مزید حملے</a> کرے جس میں چالیس کے قریب افراد جاں بحق ہوگئے اور ڈیڑھ سو زخمیوں میں سے پندرہ کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ سنی اتحاد کونسل کے حنیف طیب صاحب کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں وہی لوگ ملوث ہیں جنہوں نے بونیر میں پیر بابا، اور پشاور کے قریب <a href="http://news.bbc.co.uk/2/hi/7925867.stm">رحمان بابا</a> کے مزار پر حملے کئے ہیں۔ </p>
<p>ان دہشت گرد حملوں کو روکنا کافی مشکل ہے۔ مگر ناممکن نہیں۔ لیکن ایسا کرنا تب ہی ممکن ہوگا جب حکمران کھلے بندوں دہشت گردوں کی <a href="http://www.dawn.com/wps/wcm/connect/dawn-content-library/dawn/the-newspaper/front-page/19-govt-urged-to-repeal-17th-amendment-before-zardaris-parliament-address-shahbaz-wants-taliban-to-spare-punjab-530-hh-02">منتیں کرنا</a>، ان کی بانہوں بانہیں ڈال کر <a href="http://www.dawn.com/wps/wcm/connect/dawn-content-library/dawn/news/pakistan/provinces/16-ulema+demand+dismissal+of+rana+sanaullah-hs-05">ووٹ مانگنا</a> اور انہیں پورے پنجاب میں گھوم پھر کر نفرت پھیلانے کی کھلی اجازت دینا بند کردیں گے۔ </p>
<p>مگر یہ بھڑوں کا ایسا چھتا ہے جس میں ہاتھ ڈالنا انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے اور ملک کو بہت مہنگا بھی پڑسکتا ہے۔ لیکن سمجھداری کے ساتھ محدود پیمانے پر پولیس آپریشن کیا جائے تو ان حملوں میں کافی کمی آسکتی ہے۔  مگر سوال یہ ہے کہ ہماری حکومتیں یہ آپریشن کیوں نہیں کرتیں۔ </p>
<p>یہ بات کئی بار سامنے لائی جاچکی ہے کہ پنجاب میں بڑے پیمانے پر خودکش حملہ آور تیار کرے جارہے ہیں۔ تو ان تیاریوں کو روکا کیوں نہیں جاتا۔ اور یہ کون زندگی سے بیزار نوجوان ہیں جو اپنے ہی ہم مذہبوں پر یہ حملے کررہے ہیں۔ یا شاید ہمارے ملک میں جاری روش کہ جو یہ کرے وہ مسلمان جو یہ نہ کرے وہ واجب القتل اس کی ذمے دار ہے۔ </p>
<p>ہمارے رویوں میں اسقدر تنگ نظری اسقدر عدم برداشت اور اسقدر نفرت در آنے کا سبب کیا ہے؟ شاید غربت اور تعلیم کی کمی۔ خود کش حملہ آوروں کو تو چھوڑیں عام گلی کوچوں میں اچھے بھلے لوگ پرتشدد ہوتے جارہے ہیں۔ کیا ہم لوگ، پاکستان کے وہ خوش نصیب جنہیں  پڑھنے، لکھنے اور اپنی بات کہنے کا ہنر حاصل ہے، ان نفرتوں کو کم کرنے کے لئے کچھ کررہے ہیں؟ ہمیں سب کو کچھ کرنا چاہئے۔  اور سب سے پہلا قدم یہ ہونا چاہئے کہ نفرت پھیلانے والوں کی سخت حوصلہ شکنی کی جائے۔ </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://noumaan.sabza.org/archives/594/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>43</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>دھمک دھمک گونجے بدرا کے ڈنکے</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/588</link>
		<comments>http://noumaan.sabza.org/archives/588#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 06 Jun 2010 11:25:16 +0000</pubDate>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
				<category><![CDATA[کراچی]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=588</guid>
		<description><![CDATA[مصیبتوں میں مسکرانے والے اس شہر میں لوگ طوفان کے نظارے لہروں کے آگے کھڑے ہوکر کرتے ہیں۔ تھپیڑوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اور اس سیلابی و طوفانی باد و باراں میں بھی ہر طرف سے برسات کے گیت سنائی دے رہے ہیں۔ اسقدر پر امید ہیں یہ لوگ کہ سمندری طوفان کو برکھا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>مصیبتوں میں مسکرانے والے اس شہر میں لوگ طوفان کے نظارے لہروں کے آگے کھڑے ہوکر کرتے ہیں۔ تھپیڑوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اور اس سیلابی و طوفانی باد و باراں میں بھی ہر طرف سے برسات کے گیت سنائی دے رہے ہیں۔ اسقدر پر امید ہیں یہ لوگ کہ سمندری طوفان کو برکھا رت سمجھتے ہیں اور اس سے بھی بھلائی کی امید رکھتے ہیں۔ </p>
<p>سڑکوں پر پانی دریاؤں کی طرح بہہ رہا ہے۔ بچے اور بڑے اس پانی میں چھم چھم کرتے پھر رہے ہیں۔ جن کی گاڑیاں بند ہیں لوگ ان کی گاڑیوں کو رضاکارانہ طور پر دھکے لگارہے ہیں۔ ٹی وی کیمرے والے پورے شہر میں اپنی گاڑیاں دوڑائے پھر رہے ہیں اور لمحہ لمحہ کی صورتحال سے آگاہ کررہے ہیں۔ کل سے سن رہے ہیں کہ پھیٹ پہنچنے والا ہے، مگر پھیٹ لگتا ہے پاکستان ریلوے کی کسی ایکسپریس ٹرین میں آرہا ہے کہ پہنچ کر ہی نہیں دے رہا۔ اب سن رہے ہیں ایک آدھ گھنٹے تک پہنچ جائے گا۔  حبس اور تیز ہواؤں کے اس ملے جلے موسم کو اس شہر کے باسی پکوڑوں اور آموں کے ساتھ ایسے منارہے ہیں کہ طوفان پھیٹ میں اگر ذرا بھی شرم ہوئی تو چلو بھر پانی میں ڈوب مرے گا۔ اور آئندہ اپنے دیگر سائیکلون بھائی بندوں کو خبردار کردے گا کہ بھیا اگر اپنا بھرم بنائے رکھنا ہے تو کراچی کے ساحلوں کو رخ نہ کرنا وہ پاگل تو تمہیں دیکھ کر خوشی سے بندروں کی طرح چھلانگیں مارنے لگیں گے۔  </p>
<p><object width="640" height="385"><param name="movie" value="http://www.youtube.com/v/TpTCnl36gZI&#038;hl=en_US&#038;fs=1&#038;"></param><param name="allowFullScreen" value="true"></param><param name="allowscriptaccess" value="always"></param><embed src="http://www.youtube.com/v/TpTCnl36gZI&#038;hl=en_US&#038;fs=1&#038;" type="application/x-shockwave-flash" allowscriptaccess="always" allowfullscreen="true" width="640" height="385"></embed></object></p>
<p>ارے بادل ۔۔۔ اے ارے دیکھو بادل آگئی رے۔<br />
ارے او دیکھو  بادل آگئی رے ۔۔۔ </p>
<p>گھنن گھنن گھن گھرگھر  آئے بدرا<br />
من گھنگھور کاری چھائے بدرا<br />
دھمک دھمک گونجے بدرا کے ڈنکے<br />
چمک چمک دیکھو بجوریا چمکے<br />
من دھڑکائے بدروا<br />
من دھڑکائے بدروا<br />
من من من دھڑکائے بدروا </p>
<p>کالے میگھا کالے میگھا پانی تو برساؤ<br />
بجوری کی تلوار نہیں ، بوندوں کے بان چلاؤ<br />
میگھا چھائے برکھا لائے<br />
گر گر آئے۔ گھر کے آئے<br />
کہے یہ من مچل مچل<br />
نہ یوں چل سنبھل سنبھل<br />
گئے دن بدل<br />
تو گھر سے نکل<br />
 برسنے والا ہے اب امرت جل </p>
<p>دویہدا کے دن بیت گئے بھیا ملہار سناؤ</p>
<p>گھنن گھنن گھن گھرگھر  آئے بدرا<br />
من گھنگھور کاری چھائے بدرا<br />
دھمک دھمک گونجے بدرا کے ڈنکے<br />
چمک چمک دیکھو بجوریا چمکے<br />
من دھڑکائے بدروا<br />
من دھڑکائے بدروا<br />
من من من دھڑکائے بدروا </p>
<p>رس اگر برسے گا<br />
کون پھر ترسے گا<br />
کوئلیا گائے گی بیٹھی منڈیروں پر<br />
جو پنچھی گائیں گے<br />
نئے دن آئیں گے<br />
اجالے مسکرا دیں گے اندھیروں پر</p>
<p>پریم کی برکھا میں بھیگا بھیگا تن من<br />
دھرتی پہ دیکھیں گے پانی کا درپن</p>
<p>جائیو تم جہاں جہاں<br />
دیکھیو وہاں وہاں<br />
یہی اک سماں<br />
کہ دھرتی یہاں<br />
ہے پہنے سات رنگوں کی چنریا</p>
<p>گھنن گھنن گھن گھرگھر  آئے بدرا<br />
من گھنگھور کاری چھائے بدرا<br />
دھمک دھمک گونجے بدرا کے ڈنکے<br />
چمک چمک دیکھو بجوریا چمکے<br />
من دھڑکائے بدروا<br />
من دھڑکائے بدروا<br />
من من من دھڑکائے بدروا </p>
<p>پیڑوں پر جھولے ڈالو اور اونچی پینگ بڑھاؤ<br />
کالے میگھا کالے میگھا پانی تو برساؤ<br />
بجوری کی تلوار نہیں بوندوں کے بان چلاؤ</p>
<p>آئی ہے رت متوالی<br />
بچھانے ہریالی<br />
یہ اپنے سنگ میں لائی ہے سانور کو<br />
یہ بجوری کی پائل<br />
یہ بادل کا آنچل<br />
سجانے لائی ہے دھرتی کی دلہن کو</p>
<p>ڈالی ڈالی پہنے گی پھولوں کے کنگن<br />
سکھ اب برسے گا آنگن آنگن </p>
<p>کھلے گی اب کلی کلی<br />
ہنسے گی اب گلی گلی<br />
ہوا جو چلی تو رت لگی بھلی<br />
جلادے جو تن من وہ دھوپ ڈھلی </p>
<p>کالے میگھا کالے میگھا پانی تو برساؤ<br />
بجوری کی تلوار نہیں بوندوں کے بان چلاؤ</p>
<p>گھنن گھنن گھن گھرگھر  آئے بدرا<br />
من گھنگھور کاری چھائے بدرا<br />
دھمک دھمک گونجے بدرا کے ڈنکے<br />
چمک چمک دیکھو  ۔۔۔۔۔۔۔ </p>
<p>گھنن گھن گھنن گھن ۔۔۔۔۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://noumaan.sabza.org/archives/588/feed</wfw:commentRss>
		<slash:comments>10</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
