اردو بلاگستان میں گزشتہ دنوں اٹھنے والے سوالات:
۱۔ کیا طالبان مسلمان ہیں؟
۲۔ پہلے لڑکیوں کے اسکول نذرِ آتش اور اب۔۔۔
اردو بلاگستان میں گزشتہ دنوں اٹھنے والے سوالات:
۱۔ کیا طالبان مسلمان ہیں؟
۲۔ پہلے لڑکیوں کے اسکول نذرِ آتش اور اب۔۔۔
بتاریخ: 06 اگست 2008
گذشتہ چند دنوں سے متحدہ قومی موومنٹ نے طالبان طالبان کی دہائی دے رکھی ہے۔ مجھ سے کئی لوگ پوچھ چکے ہیں کہ کیا واقعی کراچی کو طالبانائز کیا جارہا ہے۔ تو سوچا اس موضوع پر اپنی روشن خیالی کے اجالے بکھیر دوں۔
کراچی میں ہمیشہ سے پختون ایک بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ اسی کی دہائی میں افغان مہاجرین کی آمد کے ساتھ بڑی تعداد میں پاکستانی پختونوں نے کراچی کا رخ کرا۔ اس کے بعد نوے کی تمام دہائی میں بڑی تعداد میں پختون مختلف علاقوں سے کراچی کا رخ کرتے رہے۔ یہاں تک کہ اس وقت کراچی دنیا کا سب سے بڑا پختون شہر ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ پاکستان کے دیگر علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی بنسبت کراچی کے اردو بولنے والے نسبتا کم مذہبی ہوتے ہیں۔ دوسرا عام تاثر یہ ہے کہ پختون مذہب کے بارے میں تھوڑا کٹر رویہ رکھتے ہیں۔
پاکستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی قوت اور حکومت پاکستان کے اس کو بذریعہ طاقت روکنے کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ایک بار پھر قبائلی علاقہ جات، سوات، تمام صوبہ سرحد، سے پختون کراچی کا رخ کررہے ہیں۔ گرچہ ان کا کوئی باقاعدہ اندراج نہیں لیکن اندازہ روزانہ ہزاروں نہیں تو سینکڑوں لوگ کراچی کا رخ کررہے ہیں۔ شہر کے نواحی علاقوں میں تیزی سے ان کی کچی آبادیاں پھیلتی جارہی ہیں۔ اور پختونوں کے مخصوص نواحی علاقہ جات تیزی سے گنجان ہوتے چلے جارہے ہیں۔
اب ہم آتے ہیں ایم کیو ایم کے وادیلے کی طرف۔ ایم کیو ایم کو پختونوں کی اتنی بڑی تعداد میں آمد پر سخت تشویش ہے۔ کیونکہ ایک تو یہ سراسر ان کے ووٹ بینک کے لئے نقصان دہ ہوگا۔ دوسرا انہیں ایک اور عفریت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کا نام ہے لینڈ مافیا۔ اس لینڈ مافیا کو بڑی سیاسی جماعتوں، مولویوں اور ہر کرپٹ فرد کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ غریب پختونوں کی کچی آبادیوں کے نام پر زمینوں پر قبضے کرے جارہیں جب کہ ان زمینوں کو اگر واگزار کرانے کی کوشش کی جائے تو اسے لسانی رنگ دے دیا جاتا ہے۔
دوسرا ایشو یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں کٹر مذہبی رویہ رکھنے والے لوگوں کی شہر میں آمد سے سنگین امن و امان کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ ایک تو ان آنے والوں میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے۔ اوپر سے یہ تمام نوجوان غیر تعلیم یافتہ، بے ہنر، اور بے حد غربت کا شکار ہیں۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انہیں کسی بھی لسانی، سیاسی، یا نام نہاد مذہبی فساد میں استعمال کرنا کتنا آسان ہوجاتا ہے جب وہ پہلے ہی غربت، احساس محرومی اور ناانصافی کا شکار ہوں۔ اس وقت کراچی میں یہی ہورہا ہے۔
ان غریب پختون نوجوانوں کو اے این پی، جماعت اسلامی، انتہا پسند اسلامی تنظیمیں، ہر کوئی بطور ایندھن استعمال کرنا چاہتا ہے۔ بطور ایندھن انہیں استعمال کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انہیں نفرت کرنے کے لئے کوئی قریبی دشمن دکھایا جائے۔ اور نیچرلی ایم کیو ایم سے زیادہ آسان ٹارگٹ کون ہوسکتا ہے۔ یہ متوسط طبقے کی نمائندہ جماعت ہے، جس میں اردو بولنے والے بڑی تعداد میں ہیں، جو صوبہ سرحد میں طالبان کے خلاف آپریشن کی حامی ہے، جو خود کو سیکولر لبرل جماعت کہلوانا پسند کرتی ہے، اور جو حکومت میں بھی ہے۔ مشرف کی حمایتی جماعت ہے۔
اگر آپ کراچی کو جانتے ہیں ہمارا شہر ایک رنگارنگ شہر ہے۔ ایک طرف سرسبز پارک چمچماتی سڑکیں، محلات، آسائشات کی فراوانی ہے تو برابر والی ہی گلی میں گٹر بہہ رہے ہیں، لوگ بیماریوں سے مر رہے ہیں، بے روزگاری، غربت اور جرائم کا راج ہے۔ بڑے شہروں کی یہ عدم مساوات ہمیشہ شرپسندوں کو بڑی تعداد میں بھرتیاں کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اور اس وقت وہ یہی کررہے ہیں۔
گرچہ میں اس بات سے شاید مکمل اتفاق نہ کروں کہ طالبان کراچی پر قبضہ کرنے جارہے ہیں، تاہم مجھے ایم کیو ایم کی تشویش سے اتفاق ہے۔ کیونکہ یہ سب کچھ جو ہورہا ہے وہ شہر کے مفاد میں نہیں ہے۔ میں حکومت پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف مہم کو درست سمجھتا ہوں۔ اور میرے کچھ دوست کہتے ہیں کہ اگر آپ ایک علاقے پر جنگ مسلط کریں گے تو پناہ گزین بھی برداشت کریں۔ اور مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ بشرطیکہ پناہ گزینوں کو پناہ گزین قرار دیا جائے۔ جو کہ ناممکن ہے کہ وہ بھی پاکستانی ہیں۔ لیکن بطور کراچی کا شہری مجھے اس بات کی سخت ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ کراچی آنے والوں کی نہ کوئی چھان پھٹک ہوتی ہے نہ ہی ان کی کوئی ریکارڈ کیپنگ ہوتی ہے۔
مجھے پختونوں سے کوئی عار نہیں بلکہ میں اپنے بلاگ پر کئی بار لکھ چکا ہوں کہ پختونوں کے بغیر کراچی کا تصور بھی محال ہے۔ کراچی کی شان ہیں اس کے پٹھان۔ اور کراچی ہمیشہ نئے آنے والوں کو خوش آمدید کہتا رہے گا۔ بشرطیکہ نئے آنے والے شہر کو سمجھیں اور اس کے مزاج میں گھلنے کی کوشش کریں۔ اور اگر نہ گھل سکیں تو واپس چلے جائیں۔ کراچی کو قبائلی علاقے میں تبدیل کرنے کی کوشش نہ کریں۔ ہم کراچی میں جرگوں کی صورت میں متوازی حکومتیں برداشت نہیں کرسکتے۔ ہم کسی کو یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ اپنے بچوں کو ننگے پیر گندی گلیوں میں گھومنے دیں۔ ہم کسی کو اس بات کی بھی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ غربت کے ہاتھوں مجبور ہوکر کم اجرتوں پر ملازمتیں کریں۔ اور کچھ نہ کریں تو جلاؤ گھیراؤ پتھراؤ کریں۔ ہم کسی انتہاپسند مصدقہ دہشت گرد کو یہ اجازت نہ دیں گے کہ وہ ہمارے شہر کے بچوں کو انتہاپسندی کا سبق پڑھانے کی کوشش کریں۔ ہم اپنے مدارس کی حفاظت خود کریں گے اور ہمیں کسی مدرسہ ایکشن کمیٹی کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے شہر میں پورے پاکستان سے زیادہ مدارس ہیں۔ جو انتہائی اعلی درجے کی دینی اور دنیاوی تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ ساری دنیا کے طالبعلم ہمارے شہر کے مدرسوں میں آکر تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں۔ شہر میں نہ عالموں کی کمی ہے اور نہ طالبعلموں کی۔ اس لئے شرپسندوں کو دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جانی چاہئے۔
ایم کیو ایم ایک سیاسی جماعت ہے اس لئے وہ اس ایشو کو سیاست کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ میرا نظریہ انسانی ہے۔ میرا خیال ہے کہ آنے والے قبائلی و دیگر پختونوں کو اپنے بچوں کو اسکولوں میں بھیجنا چاہئے۔ اور حکومت کو ایسا انتظام کرنا چاہئے کہ کوئی ان کی معاشی مجبوریوں کا استحصال نہ کرے۔ پختونوں کی مرضی سے کراچی کے پہلے سے قائم معیاری مدارس کی زیر نگرانی چلنے والے مدرسوں کو ہی ان کے محلوں میں تعلیم دینے کی اجازت دی جانی چاہے۔ حکومت سندھ کو ام احسان سمیت تمام ایسے لوگوں پر پابندی لگانی چاہئے جو انتہاپسندی پر مبنی نظریات کا پرچار کرنے کراچی آتے ہیں۔ شہری حکومت کو لینڈ مافیا سے لڑنے کا مکمل اختیار ہونا چاہئے۔جرگوں پر مکمل پابندی ہونی چاہئے۔ اور پختون ایکشن کمیٹی کی بلیک میلنگ کے خلاف سخت سے سخت ایکشن لینا چاہیے۔ جو بھی شہر کو قبائلی علاقہ سمجھنے کی حماقت کرے اور اسے صوبے سے باہر نکال دیا جائے۔
اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو پاکستان کی معاشی بیک بون پر کاری ضرب پڑے گی۔ بیرونی سرمایہ کار مارکیٹ سے پیسہ نکال لے گا (جو وہ پہلے ہی نکال رہا ہے)۔ مستقبل میں سرمایہ کاری کے لئے کسی کو آمادہ کرنا دشوار ہوجائیگا۔ تجارت کا بیڑہ غرق ہوجائیگا اور منتخب لوگوں کو غیر منتخب بلیک میلروں سے ڈکٹیشن لینے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ جرائم کی شرح آسمان کو چھولے گی۔ فسادات کا رخ لسانی ہونے کے ساتھ مذہبی بھی ہوجائیگا۔ حکومت کی پریشانی میں اضافہ ہوتے ہیں طالبان کے پیر مضبوط ہونگے اور انتہاپسندی کو کچلنا مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جائیگا۔
بتاریخ: 03 اگست 2008
اس مہینے کا ماہنامہ اسپائڈر میگزین خریدئیے اور پڑھئے ناچیز کا اردو بلاگستان کے بارے میں لکھا ہوا مضمون۔ جس میں موجودہ اردو بلاگستان کا ایک مختصر سا جائزہ پیش کیا گیا ہے اور اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے کہ کیوں اردو میں بلاگنگ اتنی عام نہیں جتنا اسے ہونا چاہئے۔ اس مضمون کے لئے میں منظرنامہ کا شکر گزار ہوں کہ وہاں شائع ہونے والے راشد کامران، ابوشامل اور وارث صاحب کی تحاریر نے مجھے متاثر کیا۔ قدیر احمد، بدتمیز، نبیل نقوی اور رضا رومی کا بہت شکریہ کہ انہوں نے اپنی قیمتی رائے سے نوازا۔
بتاریخ: 30 جولائی 2008

ہمارے شہر میں بارش ہونا جسٹس افتخار چوہدری کے جلوس سے زیادہ بڑی خبر ہے۔ کل شام جو موسلا دھار بارش ہوئی تو صبح کے اخبار کی مرکزی شہ سرخی بارش کی خبر تھی۔ اخبار میں اتنی تصاویر جسٹس افتخار چوہدری کی نہیں تھیں جتنی بارش کی تھیں۔ وکیلوں پر اگر ایم کیو ایم والے ہلہ بول دیتے تو شاید کچھ چٹخارے دار خبر بنتی۔ مگر لگتا ہے ایم کیو ایم کے مبینہ دہشت گرد بھی بارش سے محظوظ ہورہے تھے اور وکیلوں کے اجتماع کو انہوں نے اہمیت نہ دی۔
بارش سے لطف اندوز ہونے والوں میں بچوں کا نمبر اگر پہلا ہے، تو ہمارے ناظم اعلی اور ان کے اہلکاروں کا نمبر دوسرا ہے۔ ادھر جو ذرا چھڑکاؤ ہوا ادھر بچے اور ناظم اعلی دونوں گھٹنوں پانی میں چھپا چھپ کرنے نکل آتے ہیں۔ اخبار والے بھی گندے پانی میں کھیلتے بچے اور ناظم صاحب کی تصاویر کھینچنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ ویسے کل کی بارش کافی تیز تھی لیکن مجموعی طور شہری حکومت اور کے ای ایس سی کی کارکردگی پچھلے سالوں کے مقابلے میں بہتر تھی۔ آج بھی سینیٹری اسٹاف تمام دن ہمارے محلے کی صفائی میں مشغول نظر آیا۔
بتاریخ: 03 جون 2008
آج دوپہر کو اسلام آباد سے گھر لوٹا۔ جب صبح اسلام آباد ائرپورٹ پر تھا تو وہاں کا موسم ایسا دل خوش کن تھا کہ گھر آتے دل اداس ہوتا تھا۔ جیسے ہی ائر پورٹ سے نکلے ہیں تو گرمی اور کراچی کی مرطوب ہواؤں نے استقبال کیا۔ پانچ دن اسلام آباد کی سڑکوں پر سفر کرنے کے بعد آپ سوچ سکتے ہیں کہ کراچی کا ٹریفک کیسا لگا ہوگا۔ لوگ گاڑی پر گاڑی چڑھائے جارہے ہیں، اشتہارات نے سڑک کے کسی کونے کسی عمارت کسی پل کسی سگنل کسی اسٹریٹ لائٹ کو نہیں بخشا ہے۔ تیز رفتار، ادھم مچاتی، حواس باختہ کردینے والی کراچی کی مصیبت زدہ زندگی۔
اوپر سے لوڈ شیڈنگ۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں روز قریبا چار گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔ ہر تین گھنٹے بعد ایک گھنٹے کی۔ لوگوں کو ٹھیک ٹھیک اندازہ ہوتا ہے کہ بجلی کب جائے گی۔ یہاں کراچی میں دو دو گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ جو کسی ظالم بادشاہ کے دربار میں غلاموں کے جسموں پر اچانک پڑنے والے کوڑوں کی طرح کبھی بھی پڑسکتی ہے۔۔۔ شڑاپ ۔۔۔۔ اور مظلوم صرف بلک کر، کراہ کر رہ جاتے ہیں۔
میں وہاں ایک ورکشاپ میں حصہ لینے گیا تھا۔ اس ورکشاپ میں ملک کے دیگر علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں کی بڑی تعداد تھی۔ مقصد بچوں کے لئے کہانی لکھنے کے تخلیقی عمل کو آسان مشقوں کے ذریعے سمجھنا تھا۔ میں بچوں کو جن بھوتوں پریوں اور چڑیلوں کی کہانیاں سنانا چاہتا ہوں یا پھر تاریخ کے اسباق۔ میرے کچھ دوست اخلاقیات کے درس کہانیوں میں پرونا چاہتے تھے۔ کچھ سیرت محمد سے بچوں کی دلچسپی اور تعلیم کے درس مرتب کرنا چاہتے تھے۔ اور کچھ ساتھی ان بچوں کو فرہنگی زبان میں اسلامیات پڑھانا چاہتے تھے۔ ہم سب کے اذہان انہی کہانیوں سے بھرے پڑے تھے جن میں بچوں کو دلچسپی نہیں۔ شاید آج کے بچے کی تخیلاتی دنیا کو متغیر کرنا اتنا آسان نہیں جتنا ہمارے بچپن میں تھا۔
ورکشاپ سے پرے پرے جب ہم ہوسٹل میں آٹہرتے تو خوب مباحثے چھڑتے۔ یہ بڑا رنگا رنگ ماحول تھا جہاں ملک کے ہر علاقے سے آئے ہوئے لوگ تھے اور ہر کوئی ایک دوسرے کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔
میں نے اندازہ لگایا کہ مہنگائی سے کراچی کے لوگ بھی بے حد بری طرح متاثر ہیں مگر پنجاب اور سرحد کے لوگوں کی مشکلات اور بھی زیادہ ہیں۔ لوگوں کے ذرائع آمدنی بے حد قلیل ہیں اور اگر آپ صرف ان کی آمدن کے اعداد ہی سن لیں تو سوچ سکتے ہیں کہ زندگی کی گاڑی چلانا ان کے لئے کیسا دشوار ہوگا۔ بچوں کی تعلیم کپڑا اور دوائی تو چھوڑ، یہاں تو کھانے کے بھی لالے پڑے ہیں۔
صوبہ سندھ اور بلوچستان میں تو غربت افریقہ کے غریب ترین ممالک سے بھی زیادہ ہوتی جارہی ہے۔ وہاں لوگ اناج کی گاڑیوں پر حملے کررہے ہیں۔ صحت، تعلیم اور پینے کا پانی تو انہیں پہلے ہی میسر نہیں تھا۔ اب تو دو وقت کا کھانا بھی ان کی پہنچ سے دور ہوگیا ہے۔ وہاں لوگ پرتشدد ہورہے ہیں۔
الغرض ملک کے کسی علاقے کے رہنے والے لوگوں کی زندگی کم مصیبت زدہ نہیں ہے۔ ایک ہی کہانی پورے ملک کی ہے۔ لوگ بے حد فکر مند ہیں اور ناامید بھی۔
میرے دوست عمران جو لاہور میں نکڑ تماشہ کرتے ہیں وہ مجھے بصد اصرار مری لے گئے۔ مزید دکھ ہوا۔ جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیر ملکہ کوہسار کو فقیروں کی بستی کی اندھی بڑھیا جیسا بدنما بنارہے ہیں۔ درخت ڈھائے جارہے ہیں اور لینڈسلائیڈنگ کے خطرے کے باوجود انتہائی ناقص عمارات تعمیر کی جارہی ہیں۔
یہاں آکر آپ دیکھتے ہیں کہ ایک طرف تو نام نہاد ٹورسٹ ہیں جو مال روڈ سے خریداری کو تفریح سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف وہ چھوٹے بچے ہیں جو ہاتھ سے دھکیلنے والی گاڑیوں میں موٹی موٹی خواتین کو بٹھا کر پنڈی پوائنٹ تک دھکیل لے جاتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ مایوسی تب ہوتی ہے جب اس ٹھیلے پر بیٹھنے والا اور اسے دھکیلنے والا بچہ دونوں ہم عمر ہی ہوں۔ کیسی عجب ناانصافی ہے۔
مری میں میرا دل تب اور اداس ہوا جب تفریح کے لئے آئے ہوئے ایک خاندان کے والد نما آدمی کو اپنے سات آٹھ سالہ بچے کے رخسار پر تڑ ٹڑ چانٹے رسید کرتے دیکھا۔ میں تو اس سے لڑنے پہنچ گیا ہوتا اگر عمران نے مجھے نہ روکا ہوتا۔ میں کافی دیر تک اس خبیث انسان کو گالیاں دیتا رہا۔
آپ سوچ رہے ہونگے کہ یہ پوسٹ تو کچھ عجیب ہی بے تکی ہوتی جارہی ہے۔ میں بس یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ اب کی بار میں اسلام آباد سے ایسا خوش خوش نہیں لوٹا ہوں۔ اب کی مرتبہ میں فکرمند اور اداس ہوں۔ حالات اچھے نہیں ہیں، ایک طرف تو ایک سرکاری ادارہ لاکھوں روپے خرچ کرکے لوگوں سے کہہ رہا ہے کہ وہ بچوں کے لئے کہانیاں لکھیں۔ دوسری طرف ہم ان بچوں کو نہ اچھی غذا دے سکتے ہیں، نہ اچھا لباس۔ ہم انہیں اچھی تعلیم بھی نہیں دے پارہے، ان کی صحت دنیا بھر کے بچوں میں خراب ترین ہے، اکیسویں صدی میں بھی ہمارے ملک کا بچہ ننگے پیر گھومتا ہے، گندہ پانی پیتا ہے اور قے جلاب جیسے امراض میں بن کھلے ہی مرجھا جاتا ہے۔ ہمارے پاس ان بچوں کو دینے کے لئے ایک اچھا مستقبل تو بالکل نہیں ہے۔
وہ کہتے ہیں بچوں کے لئے کہانی سناؤ۔ لیکن اس بچے کو کہانی کون سنائے گا جس سے کوئی پیار ہی نہیں کرتا۔
بتاریخ: 18 مئی 2008
دوسری فلم ہے شہرہ آفاق امریکی فلم It’s a Wonderful Life۔ انیس سو چھیالیس میں جنگ عظیم دوئم کے خاتمے کے بعد کی یہ بلیک اینڈ وائٹ امریکی فلم، امریکن فلم انسٹی ٹیوٹ کی سو بہترین امریکی فلموں میں سے ایک ہے۔ اور سب سے زیادہ متاثر کن فلموں کی فہرست میں نمبر ایک پر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس فلم کا امریکی معاشرے پر بہت گہرا اثر ہے۔
یہ کہانی ہے بریڈ فورڈ فالز نامی ایک افسانوی شہر کے رہائشی جارج بیلی کی۔ ایک درمیانی عمر کا مرد جس کی زندگی ناکامیوں سے عبارت ہے۔ جو تھک چکا ہے اور آج کرسمس کی شام جارج خودکشی کا ارادہ کر گھر سے نکلا ہے۔ ادھر جارج کے پیارے، اس کے چاہنے والے، اس کے دوست، رشتے دار اور بچے اس کے لئے دعا کرتے ہیں۔ وہ خدا سے فریاد کرتے ہیں کہ وہ ان کے پیارے جارج بیلی کی مدد کرے۔ یہ فریاد عرش پر پہنچتی ہے۔ جہاں یہ طے پاتا ہے کہ جارج بیلی کی رہنمائی کو ایک فرشتہ بھیجا جائے۔ کلیرنس اوڈباڈی وہ فرشتہ ہوتا ہے جسے جارج کی مدد کے لئے منتخب کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کام کے لئے ضروری ہے کہ کلیرنس کو جارج کی زندگی کے بارے میں بتایا جائے۔ لہذا اسے جارج کی زندگی کی جھلکیاں دکھائی جاتی ہیں۔ یوں جارج کی کہانی فلیش بیکس میں بیان ہوتی ہے۔
کلیرنس جارج کی مدد کو پہنچتا ہے۔ وہ جارج کو بتاتا ہے کہ وہ ایک فرشتہ ہے اور اس کی مدد کو آیا ہے۔ جارج اور کلیرینس کے درمیان تلخ کلامی میں جارج کہتا ہے کہ اس کی خواہش ہے کہ وہ کبھی پیدا ہی نہ ہوا ہوتا۔ تب کلیرینس جارج کو ایک ایسی دنیا میں لے جاتا ہے جہاں کسی جارج بیلی کا کبھی جنم ہی نہیں ہوا۔ وہ جارج کو دکھاتا ہے کہ اس نے اپنی زندگی میں کتنے لوگوں کی زندگیاں بدل دیں۔ اس کی وجہ سے اس کے شہر، اس کے دوستوں اس کے رشتے داروں کی زندگیاں کتنی آسودہ ہوگئیں۔ اگر وہ نہ ہوتا تو بریڈفورڈ فالز کس قدر خراب شہر ہوتا، اس کے دوست اور رشتے داروں کی زندگیاں کتنی خراب ہوتیں۔ جارج اس دنیا میں اپنے پیاروں کی یہ حالت دیکھ کر گھبرا جاتا ہے وہ واپس پل پر آتا ہے اور چیخ چیخ کر فریاد کرتا ہے کہ وہ جینا چاہتا ہے۔ اور اس کی دعا قبول کی جاتی ہے۔
یہ فلم پبلک ڈومین میں ہے اس لئے اسے آسانی سے ڈاؤنلوڈ کیا جاسکتا ہے یا گوگل ویڈیو پر دیکھا جاسکتا ہے۔ عام خیال ہے کہ فلم کے کاپی رائٹ تنازعات سے دنیا بھر کے ٹیلیوژن چینلز کو یہ فلم تقریبا مفت میں ہی مل گئی۔ اپنی ابتدائی ریلیز کے وقت یہ فلم باکس پر ایک ناکام فلم مانی گئی تھی۔ لیکن بعد میں اس کی کھلے عام ٹیلیوژن نشریات سے فلم کو ایک نئی زندگی اور عوامی قبولیت و پذیرائی میسر آئی۔ اگر یہ فلم اس طرح آسانی سے دستیاب نہ ہوتی تو شاید یہ محض سن چھیالیس کی ایک اوسط کرسمس فلم سے زیادہ کچھ نہ ہوتی۔
فلم میں جارج بیلی کا کردار ادا کرنے والے اداکار، جیمز سٹیورٹ کی باکمال اداکاری کا ایک اور نمونہ ہے الفریڈ ہچکاک کی Vertigo. لیکن اس پر پھر کبھی بات کریں گے۔
بتاریخ: 18 مئی 2008
کراچی میں اب تک پانچ مبینہ ڈاکوؤں کو زندہ جلایا جاچکا ہے جن میں سےچار ہلاک ہوچکے ہیں۔ کسی نے اسے معاشرے میں بڑھتے ہوئے تشدد کے رجحان کا اشارہ بتایا، کسی نے اسے عوام کی انتقامی کاروائی قرار دے دیا۔ جتنے لوگ اتنی باتیں۔ لیکن اس فعل کی حوصلہ افزائی کرنے والوں نے کیا یہ سوچا ہے کہ اسطرح جرائم کم ہونگے؟ نہیں، بلکہ اس سے ڈاکو خوفزدہ تو ضرور ہوجائیں گے اور ایک خوفزدہ ڈاکو جس کے ہاتھ میں گن ہو اور جسے یہ ڈر ہو کہ اگر پکڑا گیا تو زندہ نہیں بچے گا وہ کس قدر خطرناک ہوگا؟ یہاں تو موبائل چھیننے میں ذرا سی مزاحمت پر دھائیں سے گولی داغ دیتے ہیں۔
اس المیے کا ایک اور المناک پہلو اخبارات اور ٹیلیوژن کا اس کو کوریج دینا بھی تھا۔ دنیا کے اکثر مہذب ممالک میں ٹیلیوژن پر سوختہ لاشیں نہیں دکھائی جاتیں۔ یہاں ہمارا میڈیا لاشیں بھی دکھا رہا ہے، ان سے اٹھنے والے شعلے بھی اور ان کے گرد کھڑا ہوا مجمع بھی۔ دردناک امر یہ ہے کہ اس مجمعے میں آٹھ سے دس سال کے بچے بھی کھڑے ہیں۔ جو خوش ہیں اور تالیاں بجارہے ہیں۔ واقعی ہم لوگ غاروں کے دور کے وحشی انسان سے بھی بدتر ہوگئے ہیں جہالت اور بربریت میں دنیا اگر ہماری مثال دے تو کچھ غلط نہ ہوگا۔
لیکن اس واقعے کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ جو اکثر اخبارات اپنی کاروباری اور سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے نظر انداز کردیتے ہیں۔ وہ ہے لیاری گینگ وار۔ پاکستان کے دیگر علاقوں میں رہنے والے شاید اس گینگ وار کے پس منظر سے اتنی اچھی طرح آگاہ نہ ہوں۔ خود مجھے بھی اس کا اتنا زیادہ علم نہیں ہے اس لئے کراچی کے بلاگرز سے درخواست ہے کہ وہ اس مسئلے کو انوسٹیگیٹ کریں اور اسے اپنے بلاگز پر نمایاں کریں۔

لیاری ایک بہت بڑا علاقہ ہے اور یہ کراچی کی قدیم ترین بستیوں پر مشتمل ہے۔ انگریزوں کے آنے سے پہلے یہاں وہ مکرانی لوگ رہتے تھے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ افریقہ کے غلاموں کی نسل ہیں جو کبھی بھاگ کر مکران کے ساحلوں پر پناہ گزیں ہوئی۔ بعد ازاں کچھی، سندھی، میمن قومیتوں نے بھی یہاں آبادیاں بنائیں۔ بلوچ بھی ایک بڑی تعداد میں یہاں رہتے ہیں۔ یہ علاقہ شہر کے پسماندہ ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔ گرچہ ہر حکومت نے عموما اور پیپلز پارٹی کے ادوار میں خصوصا اس علاقے میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بڑی رقوم خرچ کی گئی ہیں لیکن یہاں کے لوگوں کی قسمت نہ بدلی۔ اسی کی دہائی میں جب پاکستان میں کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر عام ہوا تو لیاری ہی وہ علاقہ تھا جو اسمگلنگ کا گڑھ بنا۔ آج بھی یہاں شراب چرس ہیروئن اور اسلحہ فروخت بھی ہوتا ہے بلکہ پورے پاکستان کو سپلائی بھی کیا جاتا ہے۔ پچھلی حکومت کے دور میں اس گینگ وار کا آغاز ہوا جب لیاری کے دو گینگ ایک دوسرے سے برسرپیکار ہوگئے۔ کہا جاتا ہے کہ پچھلی حکومت نے جرائم سے نمٹنے کے لئے ہندوستان کے شہر بمبئی کا آزمودہ نسخہ اپنایا۔ یعنی جرائم پیشہ افراد کو آپس میں لڑا کر انہیں ایک علاقے تک محدود کردیا جائے جہاں وہ ایک دوسرے سے لڑ بھڑ کر کمزور ہوجائیں۔
جب ان جرائم پیشہ افراد کا کاروبار آپسی لڑائی اور حکومت کی سختی کی وجہ سے کم ہوا تو ان کے معمولی کارندوں نے پورے شہر میں ڈکیتیوں، موبائل چھیننے اور کاریں و موٹر سائیکلیں چھیننے کو کاروبار بنالیا اور پورے شہر میں اسٹریٹ کرائم پھیل گئے۔ کہا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک گروہ کو پچھلی حکومت کی سرپرستی حاصل تھی اور دوسرے گروہ کو موجودہ حکومت کے عناصر کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اگر ایسا ہے تو گینگ وار مزید سنگین ہوجائیگی۔ جس سے شہر میں ڈکیتیوں اور سڑکوں پر ہونے والے جرائم میں مزید اضافہ ہوگا۔
چودہ مئی کو ڈاکوؤں کو جس علاقے میں جلایا گیا ہے وہ لیاری ہی میں لگتا ہے۔ لیاری کے جرائم پیشہ عناصر کے ٹھکانے لیاری سے باہر عثمان آباد اور رنچھوڑلائن تک پھیل چکے ہیں۔ ان علاقوں میں بھی منشیات کا کام عروج پر ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ شعیب سڈل ان مسائل سے کیسے نمٹیں گے۔ ان کے کیرئر پر نظر ڈالیں تو وہ جہاں گئے ہیں وہاں تشدد کی چنگاریوں نے مزید شعلے ہی بھڑکائے ہیں۔ کراچی اور بلوچستان اس کی دو مثالیں ہیں۔ جرائم سے بذریعہ سختی و تشدد نمٹنا اب ایک قدیم اور دنیا بھر میں متروک طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ ان سے نمٹنے کے لئے ڈسپلن، ٹیکنالوجی اور عوامی بیداری ہی صحیح ہتھیار ہیں۔ میرے ایک دوست جو کراچی پولیس کے بڑے مداح ہیں وہ کہتے ہیں کہ کراچی کی پولیس پاکستان بھر میں کارکردگی کے لحاظ سے سب سے بہتر ہے۔ اور میں ہمیشہ ان کا مذاق اڑاتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ کراچی پولیس کا طریقہ کار ابھی بھی وہی انگریز راج کا ہے جسے بدلنے کی ضرورت ہے، ٹیکنالوجی اور تنخواہوں میں دو سو فیصد اضافہ کرے بغیر ان کی کارکردگی میں مزید بہتری کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
بتاریخ: 17 مئی 2008
گذشتہ چند ہفتوں کے دوران بہت ساری فلمیں دیکھیں۔ اور ان میں سے دو فلمیں ایسی ہیں کہ جو بے حد پسند آئیں۔ پہلی فلم ہے مشہور ایرانی ہدایتکار ماجد مجیدی کی بچہ ہائے آسمانی المعروف Children of Heaven ۔ میری والدہ دو بار یہ فلم ٹیلیوژن پر دیکھ چکی تھیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ میں انہیں یہ فلم خرید کر لادوں۔ انہوں نے فلم کی اتنی تعریف کی کہ میں نے اگلے ہی دن فلم ڈاؤنلوڈ کرلی۔

یہ فلم دو ایرانی بچوں کی کہانی ہے علی اور اس کی بہن زہرا۔ ایک دن علی زہرا کے جوتے مرمت کے لئے لے جاتا ہے اور گھر لوٹتے ہوئے اس سے وہ جوتے کھو جاتے ہیں۔ دونوں بہن بھائی ڈر کے مارے اپنے والدین کو جوتے کھوجانے کا نہیں بتاتے۔ انہیں احساس ہوتا ہے کہ ان کے والدین پہلے ہی غربت اور تنگدستی سے بہت پریشان ہیں۔ لیکن اب سوال یہ تھا کہ بغیر جوتوں کے زہرا اسکول کیسے جائے۔ علی دوپہر کے اور زہرا صبح کے اسکول کے میں پڑھتی ہے۔ طے یہ پاتا ہے کہ صبح زہرا جوتے پہن کر اسکول جائے گی اور پھر اسکول کی چھٹی ہوتے ہی وہ گھر آئے گی تو علی جوتے پہن کر اسکول جائے گا۔ زہرا کی چھٹی کا وقت اور علی کے اسکول کے شروع ہونے کا وقت ایک ہی ہوتا ہے لہذا ننھی زہرا کو اسکول چھوٹتے ہی تیزی سے بھاگتے ہوئے گھر پہنچنا ہوتا ہے۔ جہاں علی گھر کے باہر گلی میں کھڑا بے چینی سے اس کی راہ تک رہا ہوتا ہے۔ زہرا کے آتے ہی وہ جوتے پہن کر تیزی سے اسکول کی طرف دوڑ لگاتا ہے۔ مگر پھر بھی اسے اکثر دیر ہوجاتی ہے۔
شاید کہانی سن کر آپ کو ایسا محسوس ہو کہ یہ بڑی دکھ بھری داستان ہے اور اسے دیکھ کر آپ کے دل پر مایوسی طاری ہوجائیگی۔ میں بھی ایسا ہی سمجھا تھا، لیکن دراصل یہ ایک امید اور خوشی سے بھرپور کہانی ہے۔ اس میں بچوں کی قربانی، محبت، ایثار اور معصومیت زندگی کی تلخ حقیقتوں سے نبردآزما ہے۔ آپ چاہتے ہیں کہ علی اور زہرا کو جوتے مل جائیں۔ مگر آخر میں آپ سمجھتے ہیں کہ وہ کتنے دولتمند ہیں اور تب جب جوتے غیر اہم لگنے لگتے ہیں تب ہی زہرا کو نئے نکورے جوتے مل جاتے ہیں۔
بتاریخ: 16 مئی 2008

میں نے ابھی کچھ دیر پہلے ۱۰،۰۰۰ قبل از مسیح (10,000 BC) فلم دیکھی ہے۔ باوجود اس حقیقت کے کہ اس فلم کی کہانی میں کئی تاریخی، سائنسی اور آرکیالوجیکل نقائص ہیں، میں اس فلم کو ایک اچھی تفریحی فلم قرار دونگا۔ کہانی گھڑنے اور افسانہ طرازی کے اس عمل کے دوران آپ تخلیق کار کو تخیلاتی آزادی تو ضرور دیں گے۔ ورنہ تو کہانی سے محظوظ ہونا دشوار ہوجائیگا۔ تاہم یہ فلم چونکہ یہ دعوی کرتی ہے کہ یہ دس ہزار قبل از مسیح کے دور کی عکاسی کرے گی تو یہ مناسب ہوتا اگر فلم بنانے والے تحقیق سے کام لیتے اور حقائق کی مدد سے ہی کہانی بناتے۔ میرا خیال ہے کہانی تب بھی دلچسپ ہوتی۔
گرچہ یہ ایک اچھی تفریحی فلم ہے، مگر یہ کوئی عظیم فلم نہیں ہے۔ کہانی تقریبا بارہ مسالہ جات کی چاٹ کی طرح چٹپٹی بنائی گئی ہے۔ آپ کو فلم میں اس طرز کی کئی اور پرانی فلموں کے عناصر نظر آئیں گے۔ جیسا کہ نسبتا حال ہی میں جاری ہونے والی فلم آئس ایج۔
کچھ ذکر فلم کے تاریخی اور آرکیالوجیکل اور سائنسی نقائص کا کرتے ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ دس ہزار قبل از مسیح کے وقت مصری عظیم اہرام نہیں بنارہے تھے۔ درحقیقت مصری تہذیب کا دور ہی تین ہزار سال قبل از مسیح سے شروع ہوتا ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ کہانی میں یہ ذکر نہیں کیا گیا کہ یہ واقعی مصری تہذیب ہے۔ فرض کرلیں اگر یہ مصری تہذیب نہیں بھی تھی تب بھی یہ تقریبا ناممکن ہے کہ دس ہزار سال پہلے کوئی انسانی تہذیب اتنی ترقی یافتہ تھی کہ وہ اہرام تعمیر کرتی۔ نہ صرف یہ کہ وہ اہرام تعمیر کررہے تھے بلکہ عظیم اہرام کی نوک پر خالص سونے کا تکون پتھر بھی سجا رہے تھے۔ یہ ہضم کرنا بھی کافی مشکل کام ہے۔ اس بات کے تو شواہد ہیں کہ اس دور کا انسان دھاتوں سے آگاہ تھا۔ مگر تب بھی وہ ان کے استعمال سے نابلد تھا اور یہ تو بہت ہی دشوار ہے کہ وہ ان سے کسی قسم کا اوزار بناتا۔ یا کہ وہ ایک سونے کا اتنا بڑا ٹکڑا نہ صرف تیار کرے بلکہ اسے اہرام کی نوک پر سجائے۔ سونے کی اتنی بڑی چٹان کا وزن عظیم اہرام کے سب سے وزنی بلاک سے بھی پانچ گنا زیادہ ہوتا اور اسے وہاں تک لے جانا اور نصب کرنا ناممکن تھا۔
یہ بات بالکل سمجھ سے باہر ہے کہ کہانی کے ہیرو کا قبیلہ کہاں واقع تھا۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ وہ عظیم برفانی پہاڑ پار کرتے ہیں پھر میدانی علاقے میں آتے ہیں، پھر ایک عظیم صحرا پار کرتے ہیں جس کے ایک طرف عظیم دریا بہہ رہا ہے۔ اگر ہم یہ فرض کریں کہ یاگل قبائل ہمالیہ کے اس پار رہتے تھے تب بھی یہ کافی لمبا سفر بنتا ہے۔ اگر ہم انہیں وسطی ایشیا اور یورپ کے بیچ کہیں رکھیں تب بھی۔
بڑی مرغی نما ڈائنوسار قسم کی مخلوق جو فلم میں دکھائی گئی ہے اس کا ہمارے ہیرو سے سامنا ہونا کافی مشکل ہے۔ کیونکہ ایک تو یہ ٹیرر برڈز جنوبی امریکہ میں پائی جاتی تھیں۔ دوسرا یہ کہ وہ دس ہزار قبل مسیح سے پہلے ناپید ہوچکی تھیں۔
نوکیلے دانتوں والا چیتا جو فلم میں دکھایا گیا ہے وہ بھی شمالی اور جنوبی امریکہ میں پایا جاتا تھا نہ کہ افریقہ یا یورپ میں۔
فلم میں کچھ مضحکہ خیز نظریات کو عجیب بے ڈھنگے طریقے سے دکھایا گیا ہے۔ جیسے یہ کہ مصری خلائی مخلوق تھے جو کسی ایسے جزیرے سے آئے تھے جو سمندر میں ڈوب چکا تھا (اٹلانٹس)۔ اٹلانٹس کے تصوراتی منظرنامے میں ہاتھیوں کی مدد سے تعمیرات کا تواتر سے ذکر ملتا ہے۔ فرعون نما جو حکمران دکھایا گیا ہے وہ سفید فام ہوتا ہے۔ حکمرانوں کے طبقے کے ناک نقوش بھی عجیب سے دکھائے گئے ہیں۔ جس کا مقصد غالبا یہ دکھانا تھا کہ ارتقائی عمل میں انسانی کی یہ نسل دنیا کے دیگر انسانوں سے زیادہ آگے تھی اور زیادہ ذہین تھی۔
فلم میں دکھایا گیا ہے کہ یہ تہذیب مموتھ کو سدھا کر ان سے تعمیراتی کام میں مدد لے رہی تھی۔ جو کہ عین ممکن ہوسکتا تھا۔ گرچہ ایسے کوئی شواہد کبھی نہیں ملے جن سے ایسا لگتا ہو کہ انسان نے کبھی مموتھ کو سدھایا ہو لیکن ڈی این اے تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ مموتھ کے قریب ترین رشتہ دار ہندوستانی اور جنوب مشرقی ایشیا کے ہاتھی ہیں جو قد میں افریقی ہاتھی سے چھوٹے ہیں اور افریقی ہاتھی جو کہ کافی غصیلے اور مشکل ہوتے ہیں ان کے مقابلے میں ایشیائی ہاتھی صدیوں سے انسانوں کے ساتھ کام کررہے ہیں۔
بادبانی کشتیاں۔ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ انسان اس دور میں کشتی بانی کرچکا تھا۔ مگر مجھے یہ علم نہیں کہ دس ہزار سال قبل مسیح کا انسان اتنی بڑی بادبانی کشتیاں بنانے کی ٹیکنالوجی رکھتا تھا۔
یہ ممکن ہے کہ دس ہزار سال قبل مسیح کا انسان پتھروں کی مدد سے تعمیرات کرنے کے فن سے آگاہ تھا۔ تاہم فلم میں دکھائی گئی عظیم تعمیرات کی ٹیکنالوجی کا تب موجود ہونا بے حد مشکل ہے۔ جیسے آپ دیکھیں گے کہ وہ پہیوں لگے ٹھیلے استعمال کرتے ہیں اہراموں کی تعمیر میں۔ دس ہزار سال قبل مسیح میں انسان گھوڑوں پر بیٹھ کر لڑنے کے فن سے بھی یکسر ناآشنا تھا۔ انسان تب گھوڑوں کا شکار کرکے انہیں کھایا کرتا تھا۔ لیکن فلم میں دکھایا گیا ہے کہ انہوں نے نہ صرف گھوڑوں کو سدھا رکھا تھا، بلکہ ان پر سواری بھی کرتے تھے اور انہیں لڑائی میں بھی استعمال کرتے تھے۔
سائنسدان کافی عرصے سے زمین پر موجود دوسرے جانداروں میں ذہانت پر تحقیق کررہے ہیں۔ پتہ چلا ہے کہ بڑے بن مانس اور بوتل جیسی گردن والی ڈولفنز کافی ذہین مخلوق ہیں۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ڈولفن ان چند جانوروں میں سے ایک ہے جو اپنے وجود سے آگاہی رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ پیچیدہ گتھیاں سلجھانے کی قابلیت بھی رکھتی ہیں۔ ان کے درمیان سماجی شعور بھی پایا جاتا ہے، یہ آواز کو ابلاغ کے لئے استعمال کرنے کے فن میں عام جانوروں سے کہیں زیادہ اور انسان سے کچھ ہی کم مہارت رکھتی ہیں۔ موسیقی سے ان کے شغف کی خبر تو پرانی ہے، اب پتہ چلا ہے کہ یہ ٹیلیوژن سے بھی لطف اندوز ہوتی ہیں۔ نقل اتارنے کے فن میں یہ بندر اور بن مانس سے اگر کم ہیں تو کیا تخلیق، ترکیب اور تدبیر میں ان سے آگے ہیں۔ یہ بات بھی لائق ذکر ہے کہ ان میں سے کچھ اقسام اوزاروں کے استعمال سے بھی واقف ہیں۔ بن مانس، اور انسان کی ذہانت کو دیکھیں تو ڈولفن کی ذہانت حیرت انگیز نظر آتی ہے۔ کیونکہ ڈولفن اور انسان کا ارتقائی رشتہ بہت دور کا ہے اور اس میں خشکی اور تری کے ماحول کا فرق بھی حائل ہے۔
بتاریخ: 25 اپریل 2008
ابنٹو کا نیا نسخہ ابنٹو 8۔04 ہارڈی ہیرون جاری ہوگیا ہے۔ کل ہی اسے اتارا اور نصب کرا۔ بے چینی کا سبب یہ تھا کہ میں اس کا بیٹا نسخہ استعمال کرچکا تھا۔ اور درحقیقت ابنٹو ہارڈی ہیرون اب تک میں نے جتنے بھی لنکس ڈسٹری بیوشنز استعمال کی ہیں ان میں سب سے بہترین ہے۔ ابنٹو میرے تمام ہارڈویر کو بہت اچھی طرح استعمال کرتا ہے اور اس معاملے میں ونڈوز سے بھی سبقت لے جاتا ہے حالانکہ میرے کمپیوٹر کا تمام ہارڈویر ونڈوز کے لئے ہی تیار کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود ونڈوز ایکس پی میری چپ سیٹ کا بھرپور فائدہ نہیں اٹھاتا۔ جبکہ ابنٹو بائی ڈیفالٹ یہ سب استعمال کرتا ہے۔ میں بیٹا نسخے کے ریویو میں لکھ چکا ہوں کہ ابنٹو کا یہ نسخہ کم از کم میرے کمپیوٹر پر تو ویژول ایفکٹس بائی ڈیفالٹ بحال کردیتا ہے۔ اور یہ نئے ایفکٹس بے حد دل خوش کن ہیں۔
انسٹالیشن انتہائی سادہ اور اور برق رفتار تھی محض پندرہ منٹ میں نئے نسخے کی تنصیب مکمل ہوئی۔ انسٹالیشن کے بعد جب لاگ آن ہوا تو مسئلہ یہ درپیش آیا کہ ابنٹو کے اس تازہ اور بے حد بے چینی سے انتظار کئے گئے نسخے کی ریپوزیٹریز ڈاؤن تھیں۔ جس کی وجہ سرورز پر پڑنے والا بے تحاشا لوڈ تھا۔ اس لئے آج سویرے ریپوزیٹریز اپڈیٹ کریں، اردو سپورٹ نصب کی اور یہ رہا میں آپ کے سامنے۔
ابنٹو کے اس نئے نسخے میں فائر فوکس تین کا بیٹا نسخہ ڈیفالٹ براؤسر ہے۔ مجھے اس کا عادی ہونے میں تھوڑی دشواری ہورہی ہے۔ ایک اور مسئلہ نئے فائر فوکس میں گوگل براؤسر سائنک کا نصب کرنا ہے۔ سنا ہے اس کی کوئی جگاڑ موجود ہے جس سے میں فی الحال نا واقف ہوں۔ براؤسر سائنک پلگ ان میرے لئے یوں ضروری ہے کہ میں گھر پر اور کام پر اپنے براؤسر کی سیٹنگز کو ہم آہنگ رکھنا چاہتا ہوں۔ اس سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ میں دونوں جگہوں سے ایک ہی براؤسر ایک ہی سیٹنگز ، بک مارکس اور پاسورڈز وغیرہ کے ساتھ استعمال کرتا ہوں اور اس وقت کی بہت زیادہ بچت ہوجاتی ہے۔
ابنٹو کا یہ نیا نسخہ تقریبا ہر اس شخص کے لئے تجویز کیا جاتا ہے جو لنکس کو آزمانا چاہتا ہے۔ کام کی جگہوں کے لئے بھی یہ نسخہ بے حد کارآمد ہے کیونکہ یہ تین سال تک سپورٹڈ ہے۔ اگر آپ کسی ایسی آپریٹنگ سسٹم کی تلاش میں ہیں جو آپ کو وائرس سے بہتر بچاؤ دے، جہاں آپ کنفگریشن میں کم سے کم وقت صرف کریں اور کام پر زیادہ سے زیادہ دھیان دے سکیں، اگر آپ ایسا آپریٹنگ سسٹم چاہتے ہیں جہاں سب کچھ مفت ہو اور آپ کو کوئی بھی مسروقہ سوفٹویر استعمال نہ کرنا پڑے، اگر آپ بہتر کمپیوٹنگ صلاحیتیں سیکھنا چاہتے ہیں، اگر آپ ایک آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ ایک برادری کے رکن بننا چاہتے ہیں جہاں سب ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ تو بس آپ کی تلاش ختم ہوچکی ہے ابنٹو ہارڈی ہیرون ہی آپ کے تمام سوالات کا جواب ہے۔ آج نصب کریں اور تین سال تک نہ ریفارمٹ کریں، نہ وائرس اسکینر چلائیں، نہ اسپائی ویر اور ٹروجنز کی فکر کریں۔ بس مزے کریں۔
ابنٹو حاصل کرنے کا سب سے آسان نسخہ اسے ڈاؤنلوڈ کرنا ہے۔ تاہم اگر آپ انتظار کرسکتے ہیں تو شپ اٹ کے ذریعے مفت سی ڈیز بھی منگوا سکتے ہیں۔
"کراچی کی طالبانائزیشن" پرجاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین لکھتے ہیں: :۔ ‘‘حکومت سندھ کو ام احسان سمیت تمام ایسے لوگوں پر پابندی لگانی چاہئے جو انتہاپسندی پر
"کراچی کی طالبانائزیشن" پرنعمان لکھتے ہیں: ہم یہاں لسانی تعصب کی بات نہیں کررہے. میرا خیال ہے موضوع گفتگو جنگ زدہ علاقوں سے
"کراچی کی طالبانائزیشن" پراحمد سولنگی لکھتے ہیں: پہلے ہم سب پنجابی، پختون، سندھی، بلوچ بنیں پھر پاکستانی بنیں گے ہر ایک اپنے شہر اور
"اردو بلاگستان پر ایک مضمون" پرحیدرآبادی لکھتے ہیں: نعمان صاحب ! اگر اس شمارے کی پ۔ڈ۔ف ناچیز کو بھی ای۔میل کر دیں تو بہت بہت
"کراچی کی طالبانائزیشن" پرخاور بلال لکھتے ہیں: راہبر نسلی تعصب نے کراچی کی ایک نسل تباہ کردی ہے، کم از کم آپ اپنے بھائ
"کراچی کی طالبانائزیشن" پرراہبر لکھتے ہیں: احمد سولنگی! صوبہ سرحد میں سندھی یا اردو آبادی سے کیا لینا دینا؟ ویسے میرے نزدیک پنجاب میں
"Urdu Read Write and Blogging Support" پریاسر عمران لکھتے ہیں: brother I need an urdu language pack for wordpress or an urdu package of wordpress can you help me please,