12/30/2006

ایک فرانسیسی بلاگر اردو سیکھنا چاہتے ہیں۔ (انگریزی ترجمہ

گلوبل وارمنگ سے کینیڈا کے شمال میں برفانی تودوں میں سے ایک بڑا برفانی جزیرہ ٹوٹ کر الگ ہوگیا۔

کوہ نور کی واپسی۔ حال ہی برطانوی حکومت کی ظاہر کردہ خفیہ دستاویزات سے پتہ چلا ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو نے اپنے برطانوی ہم منصب کو خط لکھ کر کوہ نور ہیرے کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا۔ ملاحظہ فرمائیں کوہ نور کی تاریخ۔

مشرف، ملا اور آرمی کے اتحاد کی بابت جناب پرویز ہودبھائی کا مضمون۔

اگر پاکستان میں آپ کے گھر کے کسی فرد کو ایجنسیاں اغوا کرکے لے جائیں اور آپ ان کی بازیابی کے لئے مظاہرہ کریں تو آپ کے ساتھ یہ سلوک کیا جاسکتا ہے۔

چھٹیاں گذاریں پرانے وقتوں میں

بتاریخ: 29 دسمبر 2006

گذشتہ چند ہفتوں سے ہمارے گھر میں پرانی انگریزی ایڈونچر فلموں کا دور چل رہا ہے۔ حال ہی میں ہم نے یہ فلمیں دیکھی ہیں:

The Great Escape
نازیوں کے زیرانتظام ایک قیدی کیمپ سے اتحادی فوجیوں کے فرار کی کوششوں کی کہانی۔

Mackenna’s Gold
سونے کی تلاش۔

The Guns of Navarone
نیوارون کے پہاڑ پر نازی توپوں کو تباہ کرنے کا مشن

Indiana Jones Trilogy
ایک امریکی ماہر آثار قدیمہ کے ایڈونچرز

Back to the Future
وقت میں سفر کا ایک سائنس فکشن ایڈونچر۔

12/29/2006

کراچی: سہراب گوٹھ کی حسینائیں۔

کراچی شہری حکومت چھ تا اٹھارہ جنوریold-kmc-building-karachi.jpgہمارا کراچی فیسٹیول” منارہی ہے۔ اس سلسلے میں منعقد ہونے والی تقریبات کے سلسلے میں سابق میئروں سمیت دہلی اور کلکتہ کے مئیروں کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ ان تقریبات کے دوران ایک کھیل “آزادی کے مجرم” خالقدینا ہال میں پیش کیا جائے گا، ایک پاک بھارت مشاعرے کا انتظام ہے، ایک تاریخی مخطوطات کی نمائش کا اہتمام پرانی کے ایم سی عمارت میں کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ایک بین العقائد شام بھی منائی جائے گی جس میں کراچی کی کمیونیٹیز جیسے ہندو، عیسائی، پارسی، اسماعیلی وغیرہ شرکت کریں گے۔ ہمارا کراچی فیسٹیول کراچی میونسپل کارپوریشن کی تاریخی عمارت کے افتتاح کی پچھترویں سالگرہ کی خوشی میں منایا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں عمارت کی از سر نو تزئین و آرائش کا کام کیا گیا ہے، خصوصی سجاوٹ کا انتظام ہے، اور عمارت پر نصب تاریخی گھڑیال کی مرمت بھی کردی گئی ہے۔ مزید: گورنر ہاؤس سے جاری کردہ پریس ریلیز۔

اب جبکہ آپ گورنر ہاؤس کے ویب سائٹ تک پہنچ ہی گئے ہیں۔ تو ملاحظہ فرمائیں سندھ گورنر ہاؤس کی تاریخ۔

جاوید اشرف قاضی نے تعلیمی اصلاحات کے لئے ملاقات کو آنے والے وفد کی مشترکہ امتحانات کے حوالے سے درخواست رد کردی۔ قاضی کا کہنا ہے کہ مشترکہ امتحانات کا فیصلہ صرف اس لئے واپس نہیں لیا جاسکتا کہ سندھ کو اس پر اعتراض ہے۔

سرمائی پرندوں کی سندھ آمد کے ساتھ ہی وزارت خارجہ نے بااثر عرب شیوخ کو ان کے شکار کے اجازت نامے جاری کر ڈالے ہیں۔ سندھ حکومت کے محکمہ وائلڈ لائف نے اس سلسلے میں ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

قربانی کیسے کریں؟

بتاریخ: 28 دسمبر 2006

بکرا عید (عید الاضحی) نزدیک آچکی ہے۔ ہمارے گھر میں اس بات پر بحث چل رہی ہے کہ قربانی کا جانور خرید کر لایا جائے یا اس سال بھی ایدھی کی اجتماعی قربانی میں حصہ ڈالا جائے۔ میرا ووٹ تو حصہ ڈالنے کے حق میں ہے۔ اس کے فائدے یہ ہیں:

1۔ جانور لانے، اسے باندھنے، کھلانے پلانے، ذبح کروانے اور گوشت بانٹنے کے کام سے بچت ہوجاتی ہے۔
2۔ امیر رشتے داروں کے ہاں، بدلے کے طور پر گوشت پہنچانا نہیں پڑتا ورنہ گوشت تھوڑا پڑ جاتا ہے اور رشتے دار، دوست احباب زیادہ۔ دوسرا اس گوشت بانٹنے سے مستحقین کی حق تلفی بھی ہوتی ہے۔
3۔ چونکہ ہمارے گھر میں قربانی کا گوشت زیادہ شوق سے نہیں کھایا جاتا اور نہ ہی میری والدہ کو اسے فریز کرنے کا کوئی شوق ہے۔ تو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ عید پر ہم گوشت کو ترستے رہیں گے۔ دراصل ہمارے ایسے رشتے دار جو گائے کی قربانی کرتے ہیں وہ تو ہمارے گھر گوشت بھیج دیتے ہیں اور ہمارے گھر میں گائے کا گوشت بالکل ممنوع سمجھا جاتا ہے۔ جو جاننے والے بکرے کی قربانی کرتے ہیں وہ گوشت بھیجتے ہی نہیں اور بھیجتے بھی ہیں تو بہت تھوڑا۔ یہ گوشت بھی میری والدہ مستحقین کو پہنچوادیتی ہیں کہ بکرے کا گوشت ایک ایسی جنس ہوچلی ہے جسے سفید پوش بھی مشکل ہی افورڈ کرپاتے ہیں۔ اسلئے بکرے کا گوشت غریبوں کو پہنچانا میری والدہ کے نزدیک زیادہ ثواب کا باعث ہے۔
4۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں جانوروں کا اتنی بڑی تعداد میں شہر میں لایا جانا اور ان کو سڑکوں اور گلیوں میں ذبح کرنا ماحول، صفائی اور نظم و ضبط کے مسائل پیدا کرتا ہے۔ شہری زندگی کے بڑھتے مسائل کے ساتھ ضروری ہے کہ ہم لوگ اپنی روایات بھی بدلیں۔

گھر کے دیگر افراد جو قربانی خود کرنا چاہتے ہیں ان کا کہنا ہے:

ا۔ اس سے قربانی کی اصل خوشی حاصل ہوتی ہے۔ مجھے خوشی کی یہ دلیل بالکل سمجھ نہیں آتی۔
2۔ جاننے والے مستحقین کو زیادہ گوشت پہنچایا جاسکتا ہے۔ میرے خیال میں ایدھی سینٹرز میں مقیم بوڑھے، یتیم، بے سہارا عورتیں بھی مستحقین ہی ہیں اس لئے یہ دلیل بھی کمزور ہے۔
3۔ ہم لوگ بکرے کی ران بروسٹ کروا کر کھا سکتے ہیں اور عید کے پہلے دن گھر میں اچھی خاصی دعوت کرسکتے ہیں۔ اس کے لئے ہم عید سے پہلے ہی ران خرید کر رکھ سکتے ہیں بلکہ ہم کبھی بھی ران بروسٹ کرواکر کھا سکتے ہیں۔ تو یہ دلیل تو سب سے ہی زیادہ کمزور ہے۔
4۔ محلے میں لوگ پوچھیں گے کہ تم نے قربانی نہیں کی؟ تو ہم کیا منہ دکھلائیں گے۔ میرے خیال میں قربانی خود کرنے سے ہمارے منہ یا چہرے پر کوئی فرق نہیں پڑتا اسلئے ہم وہی منہ محلے والوں کو دکھلادیں گے۔

خیر دیکھیں، یہ فیصلہ اب میرے والدین کے ہاتھ میں ہے۔ میرا کام تو بس یہ ہوگا کہ اگر قربانی خود کرنی ہے تو بکرے منگوا دوں ورنہ ایدھی سینٹر پر پیسے جمع کراکر رسید لوں اور عید کے روز وہاں سے دو کلو گوشت لاکر گھر پر پکالیں ( میری والدہ کا کہنا ہے کہ قربانی کے گوشت سے اپنا حصہ رکھنا بھی ضروری ہے)۔

12/26/2006

جیو ٹی وی آپ سے کیا چھپا رہا ہے؟۔
ایسا لگتا ہے کہ جیو ٹی وی کو نامعلوم ذرائع سے کوئی ٹیپ موصول ہوئی ہے جس میں کرپشن کے حوالے سے کچھ مواد ہے۔ جیو ٹی وی نے فی الحال یہ ٹیپ نشر نہیں کی ہے بلکہ ٹیپ بھیجنے والے سے رابطے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ یہ ایک اچھا پبلسٹی اسٹنٹ بھی ہوسکتا ہے، لیکن چاہے کچھ بھی ہو اگر ٹیپ میں موجود مواد سچ ہے تو ضرور دکھایا جانا چاہئے۔

یہ بلوچ! آخر یہ بلوچ سمجھتے کیوں نہیں؟

کراچی کا کتاب فروش۔ میانک آسٹن سوفی دہلی کے رہنے والے ایک بلاگر نے اس برس اپریل میں کراچی کا دورہ کیا۔ صدر کے طلسماتی بازاروں کی گلیوں میں جہاںہزاروں ان کہی کہانیاں بدروحوں کی طرح کسی داستان گو کے انتظار میں بھٹک رہی ہیں، اسی صدر میں میانک ایک پرانی کتابوں کی دکان میں داخل ہوتا ہے۔

مزار قائد پر خاتون کیڈٹس نے گارڈ کے فرائض سنبھالے۔

ٹوئنٹی ٹوئنٹی کپ: کراچی ڈولفنز فائنل کے لئے کوالیفائی کرگئی۔ آفریدی کی دھواں دھار اننگز۔

پنجاب کتنا پڑھا لکھا ہے؟ اگر بی بی سی کے لہجے پر نہ جائیں تو پنجاب کی پروگریس اگر مثالی نہیں تو بہتر ضرور ہوئی ہے۔

12/24/2006

کچھ ٹریفک قوانین خاص برائے کراچی۔

الطاف حسین مجلس عمل سے سوال پوچھتے ہیں کہ وفاقی حکومت کے منظور کردہ حقوق نسواں بل پر احتجاج کے لئے ہڑتال ملک گیر کیوں نہیں؟ صرف کراچی میں ہڑتال اور احتجاج کیوں؟

وفاقی وزیر جاوید قاضی اشرف نے متنبہ کیا ہے کہ اگر سندھ نویں دسویں جماعت کے علیحدہ امتحانات کی پالیسی پر کاربند رہا تو وفاقی اور دیگر صوبائی ادارے سندھ کی میٹریکیولیشن کی اسناد تسلیم نہیں کریں گے۔ جوابا گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے ایک بار پھر وفاقی حکومت کے مشترکہ امتحانات کے منصوبے پر عمل سے انکار کردیا ہے۔ گورنر کے اس فیصلے کے پیچھے عوامی دباؤ ہے۔ میٹرو بلاگنگ پر ایم بی کی پوسٹ بھی کراچی کے لوگوں کے اس مسئلے پر جذبات کا احاطہ کرتی ہے۔

علی خورشید ان سینکڑوں پاکستانیوں میں سے ایک ہیں جو دنیا کو پاکستان کی حقیقی تصویر دکھانا چاہتے ہیں۔ مجھے پاکستانیوں کی اس دنیا کو “”پاکستان کی حقیقی تصویر”" دکھانے کی خواہش پر ہنسی آتی ہے۔ پاکستان ایک ایسا بگڑا ہوا بچہ ہے جس کی شرارتوں سے پورا محلہ تنگ ہے، مگر اس کے گھر والے مصر ہیں کہ نہیں ہمارا بچہ بہت اچھا ہے، بس ذرا اسے ہماری نظر سے دیکھیں۔

ایک طرف جبکہ ملک میں مسیحی برادری کرسمس اور مسلمان عید کی تیاریاں کررہے ہیں، وہیں کچھ پاکستانی روزنامہ ڈان سے درخواست گزار ہیں کہ انہیں غیر اسلامی تہواروں پر مضامین شائع نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس سے مسلمان بچوں کے ذہن اپنے مذہب سے بھٹکنے کا ڈر ہے۔

اردو بلاگستان۔ ایک جائزہ چند تجاویزحصہ دوئم

بتاریخ: 21 دسمبر 2006

بہتر بلاگنگ

اگر کوئی آپ سے کہتا ہے کہ بلاگنگ لکھنے سے مختلف ہے تو وہ غلط کہتا ہے۔ بلاگنگ درحقیقت لکھنا ہی ہے۔ آپ کا بلاگ اتنا ہی بہتر ہے جتنا اچھا وہ لکھا گیا ہے۔ مگر ظاہر ہے آپ کوئی پیشہ ور انشاء پرواز تو نہیں، اور ہونا بھی نہیں چاہئے کیونکہ میری مانیں لوگ انشاء پروازوں سے تنگ ہیں۔ مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ وہ کسی دیوانے کی بڑبڑاہٹ کو زیادہ عرصے تک دلچسپ خیال کرتے رہیں گے۔

اچھا لکھنے سے یہاں مراد یہ ہے کہ ایسا مواد جہاں لکھنے والا اپنا پیغام پڑھنے والے تک پہنچا سکے۔ یہ بالکل سادہ اور آسان سی بات ہے۔ اگر آپ اپنے جذبات، احساسات، خیالات اور تصورات کسی کو لکھ کر سمجھا سکتے ہیں تو آپ ایک اچھے لکھاری ہیں۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ لکھنا اور ویب پر لکھنا ایک جیسے کام ہیں مگر ان کو انجام دینے کے ڈھنگ اور طور طریقے الگ ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ جس طرح روایتی میڈیا میں خبر، مضمون، کالم، اشتہار ، وغیرہ لکھنے کے الگ طریقے ہوتے ہیں ایسے ہی بلاگ لکھنا بھی ویب پر لکھی جانے والی دیگر اصناف سے مختلف ہے۔

بلاگنگ ڈائری لکھنا نہیں۔ یہاں لوگ آپ کے لکھے کو پڑھتے بھی ہیں، اس پر تبصرے بھی کرتے ہیں، اسے اپنے بلاگ یا ویب سائٹ پر بھی نمایاں کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس بارے میں بتاتے ہیں۔ تو بنیادی طور پر بلاگنگ قاری اور لکھاری کی انٹرایکشن کا نام ہے؟

غالبا نہیں۔ کیونکہ کئی بلاگ ایسے بھی ہیں جہاں تبصرہ جات نہیں ہوتے، صرف روابط ہوتے ہیں، پوسٹس ہوتی ہیں۔ دراصل بلاگنگ ویب کا وہ نمونہ ہے کہ جہاں ہائپرٹیکسٹ کے ذریعے لوگ خیالات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ چاہے وہ یہ تبصرہ جات کی صورت کریں یا روابط بانٹ کر کریں۔ تو صرف بہتر اظہار خیال ہی نہیں، بہتر صارف انٹرایکشن بھی ایک اچھے بلاگ کے لئے ضروری ہے۔ یعنی جب کوئی صارف آپ کی اچھی تحریر آپ کے بلاگ پر پڑھے تو ایسا نہ ہو کہ اسے پڑھنے کے بعد وہ خود کو بند گلی میں پائے۔ آپ کو اسے کچھ ایسی ایکٹویٹی فراہم کرنا ہوگی جس سے وہ اس گفتگو پر آگے کچھ پڑھ سکے، اپنے خیالات کا اظہار کرسکے یا اسے دوسروں سے بانٹ سکے۔ آگے کچھ پڑھنے والا کام اتنا مشکل نہیں، اس کے لئے مناسب جگہوں پر حوالہ جات دینے، ربط فراہم کرنے سے کام چل جاتا ہے۔ مگر صارف سے تبصرہ کروانا یا اسے اس بات پر مجبور کرنا کہ وہ اس موضوع کو آگے پہنچائے ایک مشکل مرحلہ معلوم ہوتا ہے۔ اور اس مرحلے سے گزر کر ہی آپ اچھی بلاگنگ کرسکتے ہیں۔

تبصرہ جات کے لئے ضروری ہے کہ آپ کی پوسٹ میں کچھ ایسے سوالات ہوں جن پر قاری کی رائے معلوم کی گئی ہو۔ میں اپنی گذشتہ پوسٹس میں یہ تجربات کرچکا ہوں۔ دیکھیں

مثال نمبر ایک میں قاری کو اکسایا گیا ہے کہ وہ ایک موضوع پر اپنی رائے کا اظہار کرے۔ مثال نمبر 2 ایک پوسٹ ہے لیکن اس میں قاری کو مجبور نہیں کیا گیا کہ وہ اظہار خیال کرے بلکہ لکھنے والے نے یعنی میں نے صرف اپنی رائے کا اظہار کیا ہے اور ان کی بات جاننے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ مثال نمبر 3 میں کچھ ربط ہیں اور یہاں انٹرایکشن کا کام قاری ربط پر کلک کرکے انجام دیتا ہے اور تبصرے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ میرا بلاگ ایک بہتر بلاگ ہے۔ بلکہ میں اپنے تجربات آپ کو بتا رہا ہوں۔ آپ بھی انہیں اپنے بلاگ پر آزمائیں اور دیکھیں کیا نتائج نکلتے ہیں۔

اگر بلاگ پر لوگ تبصرہ نہ کریں، روابط نہ بانٹیں یا دوسرے بلاگز پر ہونے والے تذکروں پر نہ بات کریں تو وہ بلاگ ایک بہتر بلاگ نہیں ہے۔ اگر آپ کا لکھا ہوا مواد لوگوں کے ذہن میں کوئی سوال، کوئی خیال پیدا کرتا ہے۔ تو آپ ایک اچھے لکھاری ہیں۔ لیکن۔ اگر آپ کا لکھا ہوا لوگوں کے ذہن میں نہ صرف کوئی خیال یا سوال پیدا کرتا ہے بلکہ انہیں اس بات پر اکساتا بھی ہے کہ وہ اپنے ذہن کی بات آپ کے بلاگ پر یا ویب پر کہیں بھی دوسروں سے بانٹیں، تو پھر آپ ایک اچھے بلاگر ہیں۔

لیکن کیا آپ ایک اچھے لکھاری بھی ہیں؟ غالبا نہیں۔ اکثر بلاگر شوق میں اپنے روز مرہ معمولات میں سے وقت نکال کر لکھتے ہیں۔ لکھنے کے میدان میں ان کا تجربہ اتنا کوئی خاص نہیں ہوتا۔ لیکن ویب کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہاں لوگ روایتی میڈیا کے برعکس سادہ، مختصر اور جامع بات کو پسند کرتے ہیں۔ تو اچھا لکھنے کے لئے آپ کو جملے بنانے اور اپنی بات کو آسان ترین طریقے سے بیان کرنا آنا چاہئے۔ بعد میں جیسے جیسے آپ کو اس میں مہارت حاصل ہوتی جائے ویسے ویسے آپ لفاظی پر مشق ستم آزماتے جائیں۔

اس موضوع پر ویب سے چند منتخب مضامین:

اردو بلاگستان۔ ایک جائزہ چند تجاویز

بتاریخ: 18 دسمبر 2006

ایک عرصہ ہوا اردو میں بلاگنگ کا سلسلہ شروع ہوئے۔ اس دوران ویب پر اردو نے خوب ترقی کی۔ لیکن اردو بلاگستان کی مجموعی کارکردگی اور ترقی کوئی اتنی دل خوش کن نہیں رہی۔ گرچہ اردو بلاگوں میں اضافہ جاری ہے مگر یہ اضافہ بلاگستان کے مجموعی اوسط اضافے سے بہت کم ہے۔ اس کے علاوہ اردو بلاگستان معیار کے اعتبار سے بھی کافی پیچھے ہے۔ اس پوسٹ میں اور اس کے بعد آنے والی چند پوسٹس میں ہم اردو بلاگستان کو درپیش رکاوٹوں، خامیوں، کمزوریوں کا جائزہ لیں گے اور صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے تجاویز دیں گے۔ یہ ایک کھلا مباحثہ ہے اور اس امید پر شروع کیا جارہا ہے کہ اردو بلاگرز اس سلسلے میں اپنی آراء کا اظہار کریں گے، تجاویز پیش کریں گے اور اس سلسلے میں لائحہ عمل طے کرنے میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔

اس سلسلے میں درج ذیل موضوعات پر بات ہوگی:

  • اردو لکھنا پڑھنا
  • بلاگ ڈیزائن اور قابلیت استعمال
  • بہتر بلاگنگ

اردو لکھنا پڑھنا

بہت سے لوگ جو ایک عرصے سے کمپیوٹر استعمال کررہے ہیں، اردو سے محبت بھی کرتے ہیں اور اردو میں لکھنا بھی چاہتے ہیں، پھر بھی ابھی تک اس بات سے ناواقف ہیں کہ وہ اپنے کمپیوٹر پر اردو کیسے لکھیں۔ اس سلسلے میں اردو ویب ڈاٹ آرگ کی کوشش قابل تحسین ہے۔ مگر اس سے بھی بہت زیادہ کیا جاسکتا ہے۔ مثلا ایسے تمام ویبسائٹ اور بلاگ جو اردو میں ہوں وہاں فونٹ انسٹالیشن کے ساتھ ہی ایک ربط ہونا چاہئے جو یا تو اردو ویب ڈاٹ آرگ کے ٹیوٹریل کی طرف لے جاتا ہو۔ یا اگر بلاگر یا ویب ماسٹر چاہیں تو اردو وکی کے صفحے کا مواد اپنے سائٹ پر نقل کرلیں اور پھر اس کا ربط فراہم کردیں۔ جتنے زیادہ صفحات پر اس ٹیوٹریل کا لنک موجود ہوگا اتنا زیادہ اس بات کا امکان ہوگا کہ نئے لوگ اپنے کمپیوٹر پر اردو لکھنا سیکھ سکیں گے اور زیادہ سے زیادہ لوگ اپنے اردو بلاگ لکھنے کے لائق ہوسکیں گے۔

عجیب بات یہ ہے کہ ابھی تک بہت سارے لوگ ایسے ہیں جن کے کمپیوٹر پر اردو فونٹ انسٹال نہیں ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ تمام اردو بلاگ و ویبسائٹ فونٹ انسٹالیشن کی ہدایات اور ڈاؤنلوڈ کا ربط اپنے سائٹس پر رکھیں۔ ایسے تبصرہ جات کو خصوصی توجہ دی جائے جن میں کوئی صارف آپ کے بلاگ یا سائٹ پر اردو نہ پڑھ سکنے کی شکایت کرے۔ معلوم کریں وہ لوگ کونسا آپریٹنگ سسٹم اور براؤسر استعمال کررہے ہیں اور انہیں فونٹ انسٹالیشن کی بابت جتنی ممکن ہوسکے رہنمائی فراہم کریں۔ یاد رکھیں اس سے نہ صرف آپ کے سائٹ کی ریڈرشپ میں اضافہ ہوگا بلکہ مجموعی طور پر تمام اردو ویب کی قدر بڑھے گی۔

ڈیزائن اور قابلیت استعمال

اردو بلاگستان میں جو خامی سب سے زیادہ پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ بلاگز کے ڈیزائن انتہائی بدنما ہوتے ہیں۔ جس سے اچھا مواد بھی پڑھنا کافی ثقیل ہوجاتا ہے۔ اردو بلاگستانی اپنے سائٹ کے ڈیزائن میں اس بات کا خیال نہیں رکھتے کہ آیا ان کا سائٹ مشہور براؤسروں پر قابل استعمال ہے یا نہیں، ان کے صفحات آسانی سے پڑھے جاسکتے ہیں۔ فونٹ سائز زیادہ چھوٹا یا زیادہ بڑا تو نہیں۔ تبصرہ جات میں لوگ آسانی سے اردو اور انگریزی لکھ سکتے ہیں یا نہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔

مجھے نہیں معلوم کہ لوگ کیوں اپنے بلاگز کو ایسی بری حالت میں چھوڑے رکھتے ہیں حالانکہ وہ پابندی سے بلاگ لکھ رہے ہوتے ہیں مگر وہ اپنی بلاگ کی بدنمائی یا قابلیت استعمال کے بارے میں بالکل فکرمند نہیں ہوتے۔ اس سے ان کا صارف مایوس ہوتا ہے اور یہ خیال کرتا ہے کہ جو لوگ سائٹ کے ڈیزائن کو اس طرح رکھتے ہیں ان کا لکھا بھی ایسا ہی ہوتا ہوگا، ناپختہ، بدنما اور بے ڈھنگا۔

ایک اچھا بلاگ ڈیزائن وہ ہے جو قابل استعمال ہو اور صارف کو آسان معلوم ہو۔ اس بارے میں انگریزی زبان میں ویب پر بے تحاشا معلومات موجود ہے۔ جس استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ ظاہر ہے ایک عام بلاگر پیشہ ور ویب ڈیزائنر نہیں ہوتا۔ لیکن چند سادہ اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی بھی شخص ایک قابل استعمال سائٹ بناسکتا ہے۔

اس سلسلے میں میری تجویز یہ ہے کہ ہم اردو ویب ڈاٹ آرگ کے پلیٹ فارم سے ایک ایسا پروجیکٹ شروع کریں جس کے تحت چند سادہ اردو تھیم ورڈپریس اور بلاگر کے صارفین کو پیش کئے جائیں۔ لیکن ان تھیمز کی خصوصیت یہ ہونی چاہئے کہ وہ بہت زیادہ آزمائش اور معیاربندی کے بعد جاری ہوں۔ لیکن ہر کوئی اپنے بلاگ کا تھیم خود تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ گرچہ میں کوئی ایکسپرٹ تو نہیں لیکن چند چیزیں جو میں نے سیکھی ہیں وہ یہاں بانٹنا چاہوں گا۔

ڈیزائن کے حوالے سے یاد رکھنے کی باتیں۔

1۔ فونٹ کا انتخاب
یہ بہت ضروری ہے کہ آپ اپنی اسٹائل شیٹ میں کم از کم تین فونٹ ضرور رکھیں۔ نفیس ویب نسخ، اردو نسخ ایشیا ٹائپ اور ٹاہوما۔ آج کل ایک فونٹ پاک نستعلیق کا چرچا ہے لیکن میں قطعا یہ مشورہ نہیں دونگا کہ اسے کسی بھی بلاگ کی اسٹائل شیٹ میں بطور ترجیح اول رکھا جائے۔ کیونکہ اس میں ابھی کافی خامیاں ہیں۔ میری ذاتی رائے میں نفیس ویب نسخ اس وقت سب سے زیادہ عمدہ فونٹ ہے۔ اردو نسخ ایشیاٹائپ، بی بی سی اردو کا فونٹ ہے اسلئے تقریبا ہر اردو پڑھنے کے شائق کے کمپیوٹر پر نصب ہوتا ہے۔ اور ٹاہوما مائکروسوفٹ ونڈوز ایکس پی اور دو ہزار میں بائی ڈیفالٹ انسٹال ہوتا ہے۔ یوں آپ کا بلاگ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لئے پڑھے جانے کے لائق ہوجاتا ہے۔

2۔ فونٹ کا سائز
اردو کے تمام فونٹ چھوٹے رکھنے پر پڑھے جانے کے لائق نہیں رہتے۔ اس لئے آپ اپنے بلاگ پر فونٹ کا سائز 16 پکسل رکھیں۔

3۔ فونٹ کا رنگ

کالا یا سرمئی رنگ اگر آپ ہلکے رنگ کا بیک گراؤنڈ کلر استعمال کررہے ہیں ورنہ سفید کے کئی شیڈ استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ یہ دیکھیں کہ اس رنگ میں آپ کا ٹیکسٹ بالکل واضح نظر آئے اور صارف کو اسے پڑھنے کے لئے آنکھوں پر زور نہ ڈالنا پڑے۔

4۔ روابط کا رنگ

آپ کے بلاگ پر جو لنک ہوں ان کے رنگ میں ایک تسلسل رکھیں۔ انہیں نمایاں کریں۔ اردو لکھنے میں ایک مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ جب آپ کسی اردو لفظ کو لنک بنانا چاہتے ہیں تو ایچ ٹی ایم ایل لکھنے کے لئے انگریزی میں سوئچ کرتے ہیں جس سے اکثر لوگوں کو یہ سمجھ نہیں آتا کہ ان کا ٹیگ کہاں ختم ہوا اور کہاں شروع۔ بعد میں وہ اسے جوں کا توں شائع بھی کردیتے ہیں۔ اسی باعث اردو کے بلاگز پر اکثر ایسی پوسٹس نظر آتی ہیں جن میں پورے پورے پیراگراف لنک ہوئے ہوتے ہیں۔ تھوڑی سی مشق سے اس خامی پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

4۔رنگوں کا انتخاب

اچھا تو آپ کو ہرا اور نارنگی رنگ بہت پسند ہے۔ مگر جناب آپ کا ویب سائٹ یا بلاگ کوئی گولا گنڈا نہیں کہ ایسے رنگ برنگی بنانا ضروری ہو۔ آنکھوں کو چبھنے والے رنگوں سے گریز کریں۔

سائڈ بار
آپکی سائڈ بار کسی سرکاری دفتر کی فائلوں کی الماری نہیں کہ اس میں جو جی چاہے ٹھوس دیا۔ اکثر اردو بلاگرز کی سائڈ بارز میں عجیب و غریب گرافک اینیمیشنز، تصاویر، بھونڈے ربط، بلاگ ڈائریکٹریوں کے ربط اور پتہ نہیں کیا کیا الا بلا بھرا ہوتا ہے۔ اس کچرے کو صاف کریں۔ آپ کی سائڈ بار میں زیادہ سے زیادہ روابط ہوں اور کم سے کم تصویریں اور ان تمام روابط کی پیش کش کا انداز یکساں رکھیں۔ یہ نہیں کہ کوئی ربط تو بہت بڑے فونٹ میں ہے اور کوئی بالکل چھوٹے۔ کہیں کوئی ربط سائڈ بار سے نکل کر مین کنٹینٹ پر چڑھا جارہا ہے۔

تصاویر
اپنے بلاگ پر بھاری گف اینیمیشن ڈالنے سے پرہیز کریں۔ کیونکہ ایک تو یہ لوڈ ہونے میں وقت لیتی ہیں، آپکی بینڈوتھ ضائع کرتی ہیں اور دوسرا یہ کہ اکثر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ زیادہ تر ویب صارفین گف اینیمیشنز سے کوفت زدہ ہوتےہیں۔ یاد رکھیں چاہے کوئی گف اینیمیشن آپ کو کتنی ہی کیوٹ لگتی ہو لیکن آپ بلاگ کے ڈیزائن کے لئے وہ زہر قاتل ہے اس سے حتی الامکان پرہیز کریں۔

5۔ کراس براؤسر ٹیسٹنگ
اپنے بلاگ کو کم از کم فائر فوکس اور انٹرنیٹ ایکسپلورر کے مختلف ورژن پر چیک کریں۔

جاری ہے۔۔۔

12/18/2006

ایک پاکستانی عیسائی سے انٹرویو۔

کراچی کے آٹھ اسکولوں سے سات سو پاکستانی طالبعلم تھنک ڈاٹ کام نامی آنلائن کمیونٹی جوائن کریں گے۔ تھنک ڈاٹ کام کے ویب سائٹ پر پاکستان کا صفحہ تو ہے مگر اس کے فیچرز صرف اکاؤنٹ ہولڈرز کے لئے ہیں۔ میرے خیال اسطرح کی بڑے پیمانے پر کوششیں کئے جانے کے طالبعلموں کی فکر اور صلاحیتوں پر بہت زیادہ مثبت اثرات مرتب ہونگے۔

دنیا کے دس عجیب ترین لوگ۔

امریکی ریاست ورجینیا کے گورنر کو بھوت پریت کا سامنا۔ ان کے مینشن میں باقاعدگی سے ایک پراسرار فون کال آتی ہے۔ یہ کال ہفتے میں ایک ہی دن اور ایک ہی نامناسب وقت پر آتی ہے۔ مکان کے پچھلے رہائشیوں اور اسٹاف کے برعکس گورنر کی فیملی نے کسی نوجوان لڑکی کا بھوت تو نہیں دیکھا لیکن خاتون اول کو کچھ عجیب واقعات محسوس ہوئے ہیں۔

12/17/2006

چٹاگانگ کالونی کراچی میں لوگ سقوط ڈھاکہ کے حالات یاد کرتے ہیں۔

برطانوی جریدہ سنڈے ٹائمز کراچی میں آنکھوں کے ہسپتال لیٹن رحمت اللہ بینوولینٹ ٹرسٹ کے لئے ایک ملین پاؤنڈ کا چندہ جمع کررہا ہے۔ اس چندے سے شازیہ نامی ایک دس سالہ بچی کی آنکھوں کی روشنی اور اس کے چہرے کی بدنمائی دور کئے جانے کے علاوہ دیگر کئی مریضوں کا علاج کیا جائے گا۔

لیٹن رحمت اللہ ٹرسٹ گراہم لیٹن اور رحمت اللہ ذکاء نے قائم کیا۔ گراہم ایک برطانوی نژاد پاکستانی شہری تھے جو پہلی بار انیس سو بیالیس میں کراچی آئے، پھر برطانوی فوج میں کام کیا اور پاکستان بننے کے بعد سے کراچی میں مقیم تھے۔ رحمت اللہ ایک ریٹائرڈ بزنس مین تھے جنہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد خدمت انسانیت کو اپنی کل وقتی مصروفیت بنالیا تھا۔ ٹرسٹ کے تحت کراچی کے کم آمدنی والے علاقوں میں اور پورے ملک میں آئی کلینک قائم کئے گئے ہیں۔ اس کام میں ملک بھر کی کئی اور تنظیمیں، کاروباری اور فلاحی ادارے ان کی مدد کرتے ہیں۔

کارا فلم فیسٹیول میں جمیل دہلوی نے اپنی فلم “انفینائٹ جسٹس” کے بارے میں ناظرین کے سوالات کے جوابات دئیے۔ یہ فلم امریکی صحافی ڈینیل پرل کے قتل کے بارے میں ہے۔ تنوجہ چندرا کی فلم “ہوپ اینڈ اے لٹل شوگر” کو بھی سراہا گیا ہے۔ یہ فلم نائن الیون کے بعد نیویارک میں مسلمانوں کو درپیش حالات کی بابت تھی۔

آبی حیات کا سروے

بتاریخ: 16 دسمبر 2006

کراچی کے ساحل کے قریب گہرے پانیوں میں سینکڑوں ڈولفن اور وہیل مچھلیوں کا پتہ چلا ہے۔ یونیورسٹی آف اسکاٹ لینڈ میرین بایولوجیکل اسٹیشن، ورلڈ وائلڈ فنڈ پاکستان، یونیورسٹی آف کراچی میرین بایولوجی ریسرچ سینڑ کے اشتراک سے قائم کردہ ٹیم نے کراچی کے اردگرد گہرے پانی میں پائی جانیوالی آبی حیات کا پہلا جامع سروے شروع کیا ہے۔ یہ ایک دلچسپ پیش رفت ہے کیونکہ اس سے پاکستان کے سمندروں میں موجود آبی حیات کی معلومات حاصل ہوگی۔ خصوصا پاکستانی Cetaceans کے بارے میں مفید معلومات ملی ہیں اور ساتھ ہی ان آبی ممالیہ کی کچھ نئی species کا بھی پتہ لگا ہے۔

یہ اطلاع اس لئے بھی دلچسپ ہے کہ آبی ممالیائی مخلوق کے ارتقاء کی کڑیاں پہلے بھی پاکستان کے شمالی علاقوں سے کی صورت فوسلز برآمد ہوئی ہیں۔ جن سے ان آبی ممالیہ کے ارتقاء کی مفید معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ اس لئے پاکستان کے سمندر میں ان نسلوں کا پایا جانا ایک خوش کن خبر ہے۔

عورتوں سے خوفزدہ معاشرہ

بتاریخ: 13 دسمبر 2006

پہلے کبھی ہم پاکستانی اپنی گائے بھینسوں کے بارے میں فکر مند رہا کرتے تھے۔ مگر گوشت مہنگا ہونے کے سبب ہم نے دھڑا دھڑ گائے بھینسیں عربوں کو ایکسپورٹ کرنا شروع کردیا ہے۔ اسلئے بے فکری کے ان دنوں میں آجکل ہم عورتوں کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں۔ خواتین کے تحفظ کو ہم نے کئی بل کھودے ہیں۔ پہلے حدود پھر حدود ترمیمی بل اور اب ایک اور بل جلد ہی چوہدری برادران کی زنبیل سے برآمد ہونے والا ہے۔

مجھے ان سب بلوں پر اعتراض ہے۔ میرے خیال میں ہمیں معاشرے، بالخصوص عورتوں کو تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔ ہمارے معاشرے میں عورت کے بارے میں ایسا رویہ بنتا جارہا ہے کہ وہ کوئی غیر انسانی مخلوق ہے۔ جس کے پاس نہ عقل ہے اور نہ جسمانی طاقت۔ اسے گھر تک محدود کردیا گیا ہے، اس کی ذہنی، جسمانی، اور تخلیقی قوت کو اظہار کے لئے چار دیواری تک محدود کردیا گیا ہے۔ کوئی قانونی تحفظ عورت کو وہ وقار نہیں دے سکتا جو عورت خود اپنے لئے حاصل کرسکتی ہے۔ مگر مردوں کے اس معاشرے کو ڈر ہے کہ کہیں میدان عورتوں کے ہاتھ آیا تو ان کی نالائقی کا پول نہ کھل جائے۔

خاور کا تعلق پنجاب کے دیہات سے ہے۔ وہ دنیا بھر گھوم چکے ہیں اور تقریبا ہر ملک کی عورتوں کا قریب سے جائزہ لے چکے ہیں۔ ہر پاکستانی کی طرح انہیں بھی عورتوں کی فکر ستارہی ہے، مگر ان کا تجزیہ مختلف اور بہت مضبوط ہے۔ وہ یہ بات پیش کرتے ہیں کہ پہلے پاکستانی عورت دن بھر میں اتنا کام کیا کرتی تھی اور آجکل کی عورت کو مردوں نے اتنی آسائشیں فراہم کردی ہیں کہ وہ کچھ نہیں کرتی۔

خاور نے بہت عمدہ لکھا ہے۔ مگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ سہولیات زندگی میں آسانی پیدا کرتی ہیں۔ اور پاکستانی مرد نے بھی ان سہولیات کا اتنا ہی فائدہ اٹھایا ہے جتنا عورتوں نے۔ ان آسانیوں کے بعد مردوں کی بہ نسبت ہماری عورتوں کو یہ آزادی نہیں کہ وہ اپنے فارغ وقت کو کسی اچھے مصرف میں لاسکیں۔ اس کی سب سے اہم وجہ تو تعلیم کا نہ ہونا ہے اور دوسری وجہ مردوں کی مداخلت ہے۔ پاکستانی مردوں نے جرنیل ضیاء کے دور سے آہستہ آہستہ عورتوں کو گھر کی دیواروں میں چننا شروع کردیا۔ حکومت نے اپنی اسلامائزیشن میں اس کی حوصلہ افزائی کی۔ اب ہماری عورتیں پیسہ کمانے کو نہیں نکل سکتیں، محنت مزدوری مرد اسلئے نہیں کرنے دیتے کہ لوگ کیا کہیں گے، پڑھا لکھا انہوں نے کچھ ہے نہیں اب لے دے کے وہ سویٹر بن سکتی ہیں، سلائی کڑھائی کرسکتی ہیں مگر یہ سب کام بھی انسان کتنا کرے گا جبکہ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ کام گھر پر کرنے کی نسبت بنا بنایا بازار سے خریدنا سستا پڑتا ہے۔

اب آپ کہیں گے کہ یار اگر عورت کو باہر نکال دیا یا اسے معاشی طور پر بااختیار بنادیا تو ہمارا حشر بھی یورپ جیسا ہوگا۔ (میں یہ لائن سن سن کر تنگ آگیا ہوں)۔ تو ہمیں اپنے مسائل کے لئے یورپ جیسے حل ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں۔ کئی ایسے طریقے ہیں جن سے ہم اس مسئلے کو بھی اپنے کلچر اور روایات کو عزیز رکھتے ہوئے حل کرسکتے ہیں۔ جیسے کئی عورتیں گھریلو دستکاریوں سے بھی پیسے کماتی ہیں۔ خواتین کے شاپنگ سینٹرز ہر بڑے شہر میں ہوتے ہیں۔ حتی کہ اگر آپ چین میں دیکھیں تو وہاں تو عورتیں وزن اٹھانے کے کام بھی کرتی ہیں۔

ایک اور چیز جس سے پاکستانی مرد سب سے زیادہ خوفزدہ ہے وہ ہے عورت کی خودمختاری۔ پاکستانی معاشرے میں مردوں کے ذہن میں ایسی سوچ پائی جاتی ہے کہ اگر عورت خودمختار ہوجائے تو وہ گھر کی عزت سڑکوں پر اچھالتی پھرے گی۔ یا یہ کہ خودمختار عورت اپنے مرد کی عزت نہیں کرے گی۔ گویا اس کا مرد نہ ہوا، آقا ہوگیا۔ عورت کے ناقص العقل ہونے پر تو پاکستانی مردوں کا ایمان کامل ہے۔ ہر پاکستانی مرد اپنی زندگی کا اہم وقت اور حصہ اس کام میں ضائع کردیتے ہے کہ گھر کی عزت بہن، بیٹی، بہو یا بیوی کے ہاتھ مجروح نہ ہو۔ اور اس احساس میں وہ عورتوں کے استحصال کو غیرت، مذہب، روایات کے نام پر جائز قرار دئيے چلا جاتا ہے۔

عورت کو اگر پاکستانی مرد اعتماد دیں گے تو مجھے کوئی شک نہیں کہ پاکستانی عورتیں اس ملک کی کایا پلٹ سکتی ہیں۔ انہیں انجینئرنگ پڑھائیں تو انہیں انجینئر بن جانے دیں۔ ڈاکٹری پڑھائیں تو پریکٹس کرنے دیں۔ انہیں بغیر کسی معاشی ضرورت کے بھی نوکری کی اجازت دی جائے انہیں میدان عمل میں اپنی صلاحیت اپنا ہنر منوانے کا موقع دیا جائے۔ اگر پاکستانی مرد عورتوں کو اعتماد دیں گے تو وہ عزت اور وقار خود حاصل کرلیں گی اور پھر مردوں کو ان چھوٹے چھوٹے بلوں میں پناہ نہ لینی پڑے گی۔