سب سے سستا
بتاریخ: 31 دسمبر 2005
بتاریخ: 31 دسمبر 2005
بتاریخ: 26 دسمبر 2005
بتاریخ: 22 دسمبر 2005
میں جنرل مشرف سے بہت ناراض ہوں۔ کالا باغ ڈیم کی وجہ سے کل ہماری دکان میں بدمزگی ہوگئی اور دلوں میں کدورتیں پیدا ہوئیں۔
قصہ یوں ہے کہ کل ہماری دکان پر ایک سندھی گاہگ آئے۔ انہوں نے دودھ پیتے ہوئے اخبار کا مطالعہ کیا اور لگے فلاسفری بھگارنے۔ کالا باغ ڈیم سے پنجاب سندھ کا سارا پانی روک لے گا وغیرہ۔ ویسے مہاجر ہونے کے ناطے میرا یہ فرض بنتا ہے کہ میں سندھ کے مفاد کا بھی خیال رکھوں۔ اسلئیے میں سندھی رضامندی کے بغیر کالاباغ ڈیم بنانے کے خلاف ہوں۔ خیر میں نے اپنے زریں خیالات کا اظہار ان صاحب پر نہیں کیا مگر غلام فرید سے کنٹرول نہ ہوسکا۔ جیسا کہ میں پہلے بتاچکا ہوں غلام فرید پنجاب کے ایک گاؤں کا رہائشی ہے۔ ان کی گاؤں کی معیشت کا ذراعت پر بہت انحصار ہے۔ گزشتہ دنوں وہ مجھے بتا چکا ہے کہ کسان اور زمیندار مہنگی بجلی، پانی کی قلت، حکومت کے مقررہ نرخوں اور کاشتکاری کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے بہت پریشان ہیں۔ غلام فرید نے بتایا کہ اکثر کاشتکاروں کو جو بچت ہوتی ہے وہ ان کی محنت کے مقابلے میں بہت معمولی ہوتی ہے اور اکثر پچھلی ادھاریاں چکانے میں ہی پوری ہوجاتی ہے۔
غلام فرید نے سندھی بھائی سے کہا کہ یار آپ لوگ ڈیم بننے دو بھائی اگر پانی ہوگا تو اس پر کل لڑ بھی لیں گے۔ پانی ہوگا ہی نہیں تو کل کس بات پر لڑیں گے۔ غلام فرید کی بات میں وزن تھا۔ مگر وہ سندھی بھائی کہنے لگے کہ نہیں تم لوگوں نے پچھلے وعدے کبھی پورے نہیں کئیے اور پنجاب آئندہ وعدے بھی پورے نہیں کرے گا۔
اتنی دیر میں میرا ایک دوست شہزاد آگیا جو کہ مہاجر ہے۔ اب ہماری دکان میں مجھ سمیت تین سندھی تھے اور ایک غلام فرید۔ شہزاد بھی کہنے لگا کہ پنجابی طاقت کے زور پر ڈیم بنانا چاہتے ہیں۔ غلام فرید نے کہا کہ اگر طاقت کے زور پر بنانا ہوتا تو کب کا بن گیا ہوتا۔ ان لوگوں نے غلام فرید پر ایسے الزام لگائے جیسے پاکستان میں آج تک ہونے والے سارے مظالم کا وہی ذمہ دار ہے۔ اتنے میں ایک بچہ دودھ لینے آیا۔ اس بچے کے والد سندھ کے علاقے کندھ کوٹ کے رہائشی ہیں لیکن مہاجر لڑکی سے پسند کی شادی کرنے پر ان کے والدین نے انہیں گھر سے نکال دیا تھا۔ ان کے بچے سندھی زبان سے بالکل نابلد ہیں اور زندگی میں کبھی کندھ کوٹ نہیں گئے۔ میں اس بچے کو دودھ دینے لگا جس دوران وہ بچہ سندھی پنجابی دنگل دیکھتا رہا۔ پھر وہ بولا، ‘پنجابی ڈیم بنا کر سندھ کا سارا پانی روک لیں گے پھر ہم سب پیاسے مرجائیں گے۔’ جس پر دونوں سندھی اور مہاجر خوب خوش ہوئے اور اس بچے کو حق گوئی پر داد شجاعت دینے لگے۔ غلام فرید کہنے لگا کہ تم بچوں کے دماغ میں زہر بھر رہے ہو اور اس بچے کو کیا پتہ صحیح غلط کا۔ میں ابھی تک چپ ہی تھا۔
پھر ایک اور گاہگ آگئے یہ صاحب متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن تھے اور مجھ سے ان کی بہت اچھی سلام دعا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم تو نہیں بنے گا۔ اب تو غلام فرید بہت کھسیانا سا ہوگیا۔ سندھی بھائی نے اپنے مہاجر بھائیوں سے پوچھا تم لوگ کس کے ساتھ ہو؟ دونوں نے ایک ساتھ کہا ہم اپنے سندھی بھائی کے ساتھ ہیں۔ غلام فرید کو پتہ تھا کہ میں بھی سندھ کے ساتھ ہوں لیکن اس کو اکیلا پڑتے دیکھ کر میں نے اپنا موقف بدل دیا۔ اور بآواز بلند کہا کہ میں اپنے پنجابی بھائی کے ساتھ ہوں۔ اگر یہ بول رہا کہ ڈیم بننا چاہئیے تو ڈیم ضرور بنے گا۔ کالا باغ بھی بنے گا اور پیلا باغ بھی بنے گا۔ پھر اگر پانی نہیں ملا تو میں خود اپنے پنجابی بھائی سے نمٹ لونگا۔ اب آپ لوگ اپنی دکانیں سمیٹیں اور چلتے بنیں۔
بتاریخ: 18 دسمبر 2005
دکان پر آجکل وقت کاٹے نہیں کٹتا۔ سردیوں میں کام کم ہوجاتا ہے اور فضول وقت بہت بچ جاتا ہے۔ اس فضول وقت سے فائدہ اٹھانے کے لئیے لوگ ہماری دکان کا رخ کرتے ہیں، کہ چائے پئیں گے اور گپے ہانکیں گے۔ ایک لڑکا اویس ہے جس سے میں بہت ہی زیادہ تنگ آگیا ہوں۔ اویس کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ وہ جہاں سے گزرتا ہے لوگ سب کچھ چھوڑ چھاڑ اسے دیکھنے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ دنیا کا سب سے اہم شخص ہے اور محلے میں ادھر ادھر ہوٹلوں، فٹ پاتھوں اور ٹھیلوں پر کھڑے لوگ اپنی زندگی کا تمام وقت اویس کو دیکھنے اور اس کے بارے میں سوچنے پر ہی صرف کرتے ہیں۔
اسے ہر وقت یہ احساس رہتا ہے کہ وہ کیسا لگ رہا ہے اور لوگ اس کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ چونکہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ لوگ اپنا قیمتی وقت اس کے بارے میں سوچ کر ضائع کرتے ہیں اسلئیے وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ اسے اپنا فضول وقت لوگوں کے بارے میں سوچ کر اور ان پر تبصرے کرتے ہوئے کارآمد بنانا چاہئیے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شریف اور غریب آدمی سڑک پر جارہا ہے اور اس کی چپل یا جوتا پھٹا ہوا ہے تو نہ صرف اویس بآواز بلند اس کے جوتے کی طرف میری توجہ دلائے گا بلکہ انگلی سے اس کی سمت اشارہ بھی کرے گا۔ یا اگر اویس کا کوئی دوست (اویس کے تمام دوست سابق دوست اور موجودہ دشمن ہوتے ہیں کیونکہ اسکی حرکتوں کی وجہ سے ہر شخص اسے جلد بھگادیتا ہے) کہیں جارہا ہو تو وہ کہے گا۔ “دیکھ ذرا اس کی شکل دیکھ روز نائی کے ہاں بیٹھا فیشل کرا رہا ہوتا ہے توبہ اللہ معاف کرے کیسی پھٹکار برس رہی ہے”۔
اویس کے لطیفے بھی اتنے خطرناک ہوتے ہیں کہ کمزور دل حضرات کو ڈاکٹر اویس سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہیں کہ کہیں مبادا ہنسی کے مارے ان کا دم ہی نہ نکل جائے۔ جیسے ایک دن وہ دکان پر آیا تو میں اسے بتانے لگا کہ کچھ دیر پہلے اس کے ابو دکان پر آئے تھے اور بوتل پی کر گئے ہیں۔ وہ پتہ نہیں کیا سمجھا پوچھنے لگا ‘کون آیا تھا؟؟؟’ میں نے جواب دیا ‘تیرے ابو’ تو وہ بے دھیانی میں بولا ‘کونسے ابو؟’ بس اس کا یہ کہنا تھا اور میں کاؤنٹر چھوڑ ہنس ہنس دہرا ہوگیا۔
پرسوں رات کے ساڑھے گیارہ کا وقت تھا۔ وہ دکان آیا ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگا۔ اس کے سامنے میز پر اخبار پڑا تھا وہ بے دھیانی میں وہ اخبار اٹھا کر اسے کبھی تہہ کرتا کبھی اس کا رول بناتا۔ کبھی اخبار کا رول اپنے ہاتھ پر مارتا۔ آدھے گھنٹے تک ہم باتیں کرتے رہے۔ اس دوران وہ مسلسل اخبار کے رول پر اوپر نیچے ہاتھ پھیرتا رہا اور پتہ نہیں کیا کیا کرتا رہا۔ اتنے میں غلام فرید نے اس سے کہا یار ذرا اخبار تو دکھا وہ کہنے لگا نہیں میں پڑھ رہا ہوں۔ غلام فرید بولا ایک گھنٹے سے تو تم لوگ باتیں کررہے ہو اور تو مسلسل اخبار پر ہاتھ چلا رہا ہے۔ ابے چھوڑ دے اتنا ہاتھ نہیں چلا اخبار میں سے کچھ نکل گیا تو کپڑے ناپاک ہوجائیں گے۔
بس پھر کیا تھا وہ قہقہے پڑے دکان میں کہ اویس کو بھاگتے ہی بن پڑی۔ کل اویس سارا دن نہیں آیا لگتا ہے اس نے ہمارے مذاق کا برا مان لیا۔
بتاریخ: 16 دسمبر 2005
اس تصویر میں دیکھیں چھوٹے چھوٹے اپارٹمنٹس اور ان کے رنگ۔ بہت ہی خوبصورت امتزاج۔
بتاریخ: 16 دسمبر 2005
اس ٹاور پر آج بھی اسٹار آف ڈیوڈ بنا ہوا ہے۔ جو کہ ابھی تک پاکستان کی اسلامائزیشن کی دستبرد سے بچا ہوا ہے۔ اسٹار آف ڈیوڈ وہی نشان ہے جو اسرائیل کے جھنڈے پر ہے۔
بتاریخ: 16 دسمبر 2005
ایک طرف ریلوے کالونی کی کچی آبادی اور ریل کی پٹری کے اس پار پاکستان کی وال اسٹریٹ۔
"کراچی کی طالبانائزیشن" پرجاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین لکھتے ہیں: :۔ ‘‘حکومت سندھ کو ام احسان سمیت تمام ایسے لوگوں پر پابندی لگانی چاہئے جو انتہاپسندی پر
"کراچی کی طالبانائزیشن" پرنعمان لکھتے ہیں: ہم یہاں لسانی تعصب کی بات نہیں کررہے. میرا خیال ہے موضوع گفتگو جنگ زدہ علاقوں سے
"کراچی کی طالبانائزیشن" پراحمد سولنگی لکھتے ہیں: پہلے ہم سب پنجابی، پختون، سندھی، بلوچ بنیں پھر پاکستانی بنیں گے ہر ایک اپنے شہر اور
"اردو بلاگستان پر ایک مضمون" پرحیدرآبادی لکھتے ہیں: نعمان صاحب ! اگر اس شمارے کی پ۔ڈ۔ف ناچیز کو بھی ای۔میل کر دیں تو بہت بہت
"کراچی کی طالبانائزیشن" پرخاور بلال لکھتے ہیں: راہبر نسلی تعصب نے کراچی کی ایک نسل تباہ کردی ہے، کم از کم آپ اپنے بھائ
"کراچی کی طالبانائزیشن" پرراہبر لکھتے ہیں: احمد سولنگی! صوبہ سرحد میں سندھی یا اردو آبادی سے کیا لینا دینا؟ ویسے میرے نزدیک پنجاب میں
"Urdu Read Write and Blogging Support" پریاسر عمران لکھتے ہیں: brother I need an urdu language pack for wordpress or an urdu package of wordpress can you help me please,