اردو

موضوع: اردو

اردو بلاگستان پر ایک مضمون

بتاریخ: 03 اگست 2008

اس مہینے کا ماہنامہ اسپائڈر میگزین خریدئیے اور پڑھئے ناچیز کا اردو بلاگستان کے بارے میں لکھا ہوا مضمون۔ جس میں موجودہ اردو بلاگستان کا ایک مختصر سا جائزہ پیش کیا گیا ہے اور اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے کہ کیوں اردو میں بلاگنگ اتنی عام نہیں جتنا اسے ہونا چاہئے۔ اس مضمون کے لئے میں منظرنامہ کا شکر گزار ہوں کہ وہاں شائع ہونے والے راشد کامران، ابوشامل اور وارث صاحب کی تحاریر نے مجھے متاثر کیا۔ قدیر احمد، بدتمیز، نبیل نقوی اور رضا رومی کا بہت شکریہ کہ انہوں نے اپنی قیمتی رائے سے نوازا۔

بتاریخ: 20 جنوری 2008

urdu-wordpress.gif

شاکر کے ورڈپریس کا ترجمہ مکمل کردینے کے اعلان کے بعد، اب نعمان کی ڈائری کے پس پردہ اردو ورڈپریس چل رہا ہے۔ اور بہت مزہ آرہا ہے۔

سال گزشتہ کی بلاگنگ کا جائزہ

بتاریخ: 27 دسمبر 2007

سال نو کا آغاز قریب ہے۔ بدتمیز کی تجویز پر اس سال کے اپنے بلاگنگ تجربے کے بارے میں لکھ رہا ہوں۔

اس سال قریبا ایک سو بیس پوسٹس لکھیں جن میں سے چوالیس پوسٹس “کڑیاں” کے زمرے میں شامل کی گئیں یہ زمرہ مختصر تبصرے اور فوری لنک شئیرنگ کے لئے مخصوص ہے۔
قریبا چھ سو اڑسٹھ تبصرہ جات ہوئے۔ سب سے زیادہ یعنی ایک سو چھیالیس تبصرہ جات میں نے خود ہی کرے ہیں۔ اس کے بعد میرا پاکستان اور اجمل صاحبان ہیں۔ ان صاحبان کی خاص توجہ کا میں بہت ممنون ہوں کہ یہ میری اکثر پوسٹس پڑھتے ہیں اور اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں اور میں ان کے بلاگ پر اتنے تواتر سے تبصرہ نہیں کرپاتا مگر یہ ہمیشہ حوصلہ افزائی فرماتے ہیں۔ اس کے بعد احمد صاحب ہیں جن کے بارے میں مجھے کچھ معلوم نہیں کہ وہ کون ہیں۔ سترہ ہزار ایک سو تئیس وزٹ ہوئے، نو ہزار یونیک وزٹر اور ساڑھے تین ہزار ریٹرننگ وزیٹر تھے۔

اس سال کی اپنی پوسٹس میں سے مجھے اپنی یہ تحاریر پسند ہیں:

اس سال سب سے زیادہ تبصرہ جات والی تحریر طالبان کے نقش قدم پر تھی۔ اس کے بعد شریعت اور جمہوریت۔ ان پر بالترتیب چھتیس اور تیس تبصرہ جات ہوئے۔ کچھ پوسٹس پر بیس سے زیادہ تبصرہ جات ہوئے اور کافی ساری پوسٹس پر کوئی تبصرہ نہیں ہوا کیوں کہ وہ محض لنکس تھے۔

ساتھی بلاگروں میں کونسی تحریر بہت پسند آئی۔۔۔۔ مجھے قدیر کی اکثر لطیف پوسٹس بہت زیادہ پسند آتی ہیں۔ میرے پسندیدہ بلاگر نبیل تھے مگر وہ اب نہیں لکھتے۔ رضوان نور صاحب کا بلاگ بھی مجھے بہت پسند ہے ان کی پوسٹ بارش ملاحظہ فرمائیں۔ جہانزیب، شاکر اور شعیب صفدر کے بلاگ بھی میں شوق سے پڑھتا ہوں۔ عمار ضیاء خان کی پوسٹ قصہ اخبار نکالنے کا بھی مجھے بہت پسند آئی۔

فاضل مصنف

بتاریخ: 24 نومبر 2007

مجھے آپ سب کو یہ بتاتے ہوئے بہت خوشی محسوس ہورہی ہے، کہ اب میں صرف بلاگر یا مضمون نگار نہیں رہا بلکہ باقاعدہ ایوارڈ یافتہ مصنف ہوگیا ہوں۔ میری لکھی ہوئی کتاب “دادی جان مصر میں” کو نیشنل بک فاؤنڈیشن نے تیرہ سے سولہ سال کی عمر کے بچوں کے لئے لکھی کتابوں میں پہلا انعام دیا ہے۔

سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے قطعا اس بات کا یقین نہیں آرہا۔ میں نے یہ کتاب بہت جلدی میں لکھی تھی اور جو مسودہ مقابلے میں بھجوایا تھا میں اس سے بالکل مطمئین نہیں تھا۔ جب میں فاؤنڈیشن کی دعوت پر اسلام آباد ان کے کنونشن میں شرکت کے لئے گیا تو وہاں میری ملاقات ایسے کئی لوگوں سے ہوئی جو مقابلے میں شرکت کررہے تھے۔ کوئی کسی کالج میں لیکچرار تھا، کوئی پروفیسر۔ملک کی معروف جامعات کے کئی ہونہار طالبعلم تھے اور کئی سکہ بند صحافی۔ سکھر سے آئے ایک نوجوان کا ادھورا مسودا دیکھا تو میں سمجھ گیا کہ اس مقابلے میں سب سے نااہل اور ناپختہ لکھاری میں ہی ہوں۔ اوپر سے این بی ایف کی شرائط کہ ہمارا نصاب پڑھیں اور کوشش کریں کہ اس میں موجود موضوعات آپ کی کتاب میں شامل ہوں۔ سب سے بڑی بات ججوں کا پینل جس میں بقول فاؤنڈیشن کئی ماہرین تعلیم، ادیب اور اساتذہ شامل تھے۔

لیکن جو جیتا وہی سکندر، چاہے درحقیقت وہ بندر ہی ہو۔ اب آپ کا بندر تیس نومبر سے چار دسمبر تک کراچی انٹرنیشنل بک فئیر میں نیشنل بک فاؤنڈیشن کے اسٹال پر اپنی کتاب کے ساتھ براجمان ہوگا۔ آئیے، بچوں کو بھی لائیے اور میری کتاب یا کرتب جو زیادہ دلچسپ معلوم ہوں ان سے محظوظ ہوں۔

سب سے زیادہ اور سب سے پہلے میں مشکور ہوں اپنی والدہ کا انہیں ہمیشہ سے یہ یقین رہا ہے کہ میں ہر کام بہت اچھے طریقے سے کرسکتا ہوں۔ اور جو کام میں اچھے طریقے سے کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا وہ کوشش کرتی ہیں کہ میری حوصلہ افزائی کرتی رہیں۔ اس کے بعد میرے بھائی عازب کا شکریہ کہ اس نے بہت مفید مشورے فراہم کرے، میرے انتہائی بورنگ مسودے کو بیسیوں بار پڑھا اور ہر بار پہلے سے زیادہ بے مزہ پایا مگر پھر بھی وہ ہر بار انتی ہی باریکی سے پڑھتا اور ہر بار خامیوں کی نشاندہی کرتا۔

اس کے بعد بہت بہت شکریہ راحیل کا جو دنیا کا سب سے اچھا ایڈیٹر ہے۔ آئی لو یو بیری مچ راحیل تم دنیا کے سب سے بہترین استاد ہو۔ بہت بہت شکریہ میرے دوست اور بلاگر بھائی بند، جناب شاکر عبدالعزیز، محب علوی، شاہ فیصل، جناب سلیمان قاضی صاحب، اور دیگر کئی حضرات کا جنہوں نے کتاب کے ابتدائی مسودے کا معائنہ کیا اور میری حوصلہ افزائی کی۔

اپنا بلاگ بہتر بنائیں

بتاریخ: 08 جولائی 2007

اپنے بلاگ کی سی ایس ایس درست کریں اور فونٹس کی ترتیب سی ایس ایس میں یہ رکھیں:

font-family: "Nafees Web Naskh", "Urdu Naskh Asiatype", Tahoma;

اس ترتیب میں موجود فونٹ آگے پیچھے کر لیں تو مضائقہ نہیں ان کے ساتھ دوسرے فونٹ بھی شامل کرلیں لیکن اگر یہ تین فونٹ سی ایس ایس میں موجود ہونگے تو آپ کا بلاگ زیادہ پڑھے جانے کے لائق ہوسکتا ہے۔ میں اکثر بلاگ پوسٹس صرف اس لئے نظر انداز کردیتا ہوں کہ وہاں فونٹ سیٹنگز نامناسب ہیں اور انہیں پڑھنا دشوار ہے۔ ایسے نامعلوم کتنے ہی لوگ آپ کی بلاگ پوسٹس نظر انداز کردیتے ہونگے۔

اگر آپ ایپل کمپیوٹر استعمال کررہے ہیں تو عین ممکن ہے کہ آپ کے حروف درستگی سے نہ جڑتے ہوں خصوصا ہاتھی والا ہ الگ رہ جاتا ہو۔ اس کا مناسب ترین حل یہ ہے کہ آپ فائر فوکس اور اردو ویب ایڈیٹر استعمال کریں۔ اردو ویب ایڈیٹر کے استعمال کے بارے میں مفت مشورہ اور رہنمائی حاصل کرنے کے لئے آپ نبیل یا مجھ سے رابطہ کرسکتے ہیں۔

چند منٹوں کی کوشش سے آپ کا بلاگ زیادہ مقبول، زیادہ سہل اور زیادہ قابل ربط ہوسکتا ہے۔ اور بطور ایک لکھاری یہ آپ کا فرض ہے کہ آپ اپنا پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کریں۔ اگر آپ اپنے بلاگ کی سی ایس ایس درست کرنے سے قاصر ہوں تو میری مدد حاصل کرسکتے ہیں (بالکل مفت)۔ آپ کا نام صیغہ راز میں رکھا جائیگا۔

اگر آپ اپنے بلاگ کی سی ایس ایس صرف سستی کی وجہ سے درست نہیں کرتے۔ تو آپ کسی سے بھی یہ توقع نہ رکھیں کہ وہ آپ کا بلاگ پڑھنے، اس سے ربط رکھنے یا اس پر تبصرہ کرنے کی سخت محنت انجام دیں گے۔ اور آپ کا یہ رویہ ویب پر اردو کی ترویج کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ اردو کی ترقی کے لئے اپنے بلاگ بہتر بنائیں۔

05/26/2007

میری زبان کی التجا ۔ کشور ناہید

میں اردو اس زمانے سے پڑھ رہی ہوں۔ جب سے میں نے ہوش سنبھالا۔ میں اس گھر میں پیدا ہوئی جہاں سب ا ردو بولتے تھے۔ مجھے 46برس ہوگئے کہ میں اردو میں نثر و نظم لکھ رہی ہوں۔ میں نے وہ سیاری بحثیں پڑھی ہیں کہ اردو پنجاب میں پیدا ہوئی، حیدر آباد دکن میں پیدا ہوئی، لکھنوٴ میں پیدا ہوئی، کلکتہ میں پیدا ہوئی یا اودھ کی گلیوں میں کھیلتی ہوئی بڑی ہوئی…

بچوں کے لئے اردو آڈیو کہانیاں

بتاریخ: 14 مئی 2007

سلام بازار کے عمیر نے تو کمال کردیا ہے۔ پیش خدمت ہے پیارے بچوں کے لئے قصہ کہانی وہ بھی آڈیو پوڈ کاسٹ کی شکل میں۔ اس سلسلے کی پہلی کہانی اچھی چڑیا۔ میں ابھی یہ سن نہیں سکا ہوں مگر شام کو مناہل کے ساتھ سنوں گا۔ لیکن یہ لنک فورا شئیر کرنا بہت ضروری تھا۔

عمیر نے ایک بار پھر کمال کردیا۔ واضح رہے کہ عمیر کو پہلا اردو بلاگر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

تازہ: مناہل اور میں نے ابھی ابھی یہ آڈیو فائل سنی۔ میری غلطی کہ میں سمجھا اس میں علی بابا کی کہانی ہے مگر اس میں اچھی چڑیا کی منظوم کہانی تھی۔ جو مناہل کو بہت اچھی لگی۔ عمیر کی آواز بھی اچھی ہے اور کہانی سنانے کا انداز بھی۔ ابھی وہ علی بابا کی کہانی کا ترجمہ کررہے ہیں۔ امید ہے جلد ہی وہ بھی دستیاب ہوگی۔

اردو سیارہ امپورٹ کریں

بتاریخ: 08 مئی 2007

feed-icon.pngاردو سیارہ ایک تیز ترین ذریعہ ہے اردو بلاگز پر نظر رکھنے کا۔ لیکن اردو سیارہ پر آپ مکمل پوسٹس نہیں پڑھ پاتے۔ اس کے علاوہ آپ ان اردو بلاگز پر شائع ہونے والی انگریزی پوسٹس بھی نہیں پڑھ پاتے۔ تصاویر اور روابط بھی اردو سیارہ پر نظر نہیں آتے۔ اس کا آسان ترین حل یہ ہے کہ آپ اردو سیارہ پر شامل تمام بلاگ کسی فیڈریڈر پر جاری کرالیں۔

مگر سیارہ پر تو فیڈز کی ایک طویل فہرست ہے ان سب کو کیسے شامل کیا جاسکتا ہے؟

اس کا حل بھی سیارے پر ہی موجود ہے۔ پیش خدمت ہے اردو سیارہ پر جاری فیڈز کی او پی ایم ایل فہرست۔ آپ اکثر اچھے فیڈ ریڈرز میں یہ او پی ایم ایل فیڈ امپورٹ کرسکتے ہیں۔

سیارے کی انتظامیہ سے درخواست کرونگا کہ وہ اس او پی ایم ایل فیڈ کا ربط، سیارہ کی سائیڈ بار میں اہم کے زمرے میں شامل کردیں تاکہ لوگ ان روابط کو اپنے بلاگ رول، فیڈ ریڈر یا بک مارکس وغیرہ پر امپورٹ کرسکیں۔

ذکر ایک قرآنی اطلاقیہ

بتاریخ: 23 فروری 2007

ذکر ایک آزاد سوفٹویر ہے جس کی مدد سے کمپیوٹر پر قرآن پڑھنا اور ترجمہ دیکھنا بہت آسان ہوجاتا ہے۔ یہ سوفٹویر لینکس کے علاوہ ونڈوز پر بھی چلتا ہے۔ اس سوفٹویر میں آیت نمبر اور سورہ نمبر ڈالیں اور فورا مطلوبہ آیت تک پہنچ جائیں۔ بائی ڈیفالٹ اس میں اردو ترجمہ شامل نہیں ہوتا لیکن اس میں جناب مولانا فتح محمد جالندھری کا اردو ترجمہ بھی ڈاؤنلوڈ کرکے شامل کیا جاسکتا ہے۔ اپلیکیشن کے اندر ہی مندرجہ ذیل فہرست پر جائیں:

View > Translations > More

جس سے آپ اس ویب صفحے پر پہنچیں گے۔ یہاں سے جالندھری صاحب کا ترجمہ اپنے ڈیسکٹاپ پر ڈاؤنلوڈ کریں۔ اب مندرجہ ذیل فہرست سے ترجمہ شامل کریں:

Tools > Add > Translation

اس کی دیگر خوبیوں میں تلاش کی خوبی بھی لائق بیان ہے۔ جس کی مدد سے ترجمے اور عربی قرآن میں کسی مخصوص لفظ کی تلاش کی جاسکتی ہے۔ بک مارک کی سہولت بھی بہت خوب ہے اس سے روزانہ مطالعہ کرنے والوں، دہرانے والوں، طالبعلموں، محققیقین اور اساتذہ کو بہت آسانی ہوگی۔ دینیات اور قرآن کے طالبعلموں کے لئے یہ ایک اہم اوزار ہے خصوصا اس لئے کہ اسے پلگ ان، تراجم، تھیم وغیرہ شامل کرکے ترقی دی جاسکتی ہے۔ اگر بائی ڈیفالٹ نظر آنے والا عربی، اردو یا انگریزی فونٹ آپ کو مناسب نہ لگے تو آپ اسے اپنے سسٹم پر موجود کسی بھی اچھے فونٹ سے تبدیل کرسکتے ہیں۔ یہ ایک کراس پلیٹ فارم اپلیکیشن ہے کسی بھی آپریٹنگ سسٹم پر اسے انسٹال کرنے کے لئے اس ڈاؤنلوڈ ربط پر جائیں۔ یاد رہے چونکہ یہ سوفٹویر جاوا پر چلتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ آپ کے کمپیوٹر پر سن جاوا رن ٹائم انوائرنمنٹ نصب ہو۔ اگر آپکے پاس سن جاوا رن ٹائم انوائرنمنٹ نصب نہیں ہے تو اسے سن جاوا کے ویب سائٹ سے مفت ڈاؤنلوڈ کیا جاسکتا ہے۔

علاوہ ازیں اس پروجیکٹ کو آپ کے تعاون کی بھی ضرورت ہے۔ اس پروجیکٹ میں ہاتھ بٹانے کے لئے گوگل گروپس پر ذکر میلنگ لسٹ پر اندراج کرائیں اور ترجمے، اپلیکیشن کی کنفگریشن، تھیم ڈیولپمنٹ، نئی خوبیوں کی درخواست اور خامیوں کی اطلاع دینے کے لئے ای میل کریں۔

ذکر منظر
ایک اسکرین شاٹ ، ذکر ابنٹو لینکس پر

ذکر منظر تلاش
دوسرا اسکرین شاٹ، ذکر تلاش منظر

اردو بلاگستان۔ ایک جائزہ چند تجاویز

بتاریخ: 18 دسمبر 2006

ایک عرصہ ہوا اردو میں بلاگنگ کا سلسلہ شروع ہوئے۔ اس دوران ویب پر اردو نے خوب ترقی کی۔ لیکن اردو بلاگستان کی مجموعی کارکردگی اور ترقی کوئی اتنی دل خوش کن نہیں رہی۔ گرچہ اردو بلاگوں میں اضافہ جاری ہے مگر یہ اضافہ بلاگستان کے مجموعی اوسط اضافے سے بہت کم ہے۔ اس کے علاوہ اردو بلاگستان معیار کے اعتبار سے بھی کافی پیچھے ہے۔ اس پوسٹ میں اور اس کے بعد آنے والی چند پوسٹس میں ہم اردو بلاگستان کو درپیش رکاوٹوں، خامیوں، کمزوریوں کا جائزہ لیں گے اور صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے تجاویز دیں گے۔ یہ ایک کھلا مباحثہ ہے اور اس امید پر شروع کیا جارہا ہے کہ اردو بلاگرز اس سلسلے میں اپنی آراء کا اظہار کریں گے، تجاویز پیش کریں گے اور اس سلسلے میں لائحہ عمل طے کرنے میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔

اس سلسلے میں درج ذیل موضوعات پر بات ہوگی:

  • اردو لکھنا پڑھنا
  • بلاگ ڈیزائن اور قابلیت استعمال
  • بہتر بلاگنگ

اردو لکھنا پڑھنا

بہت سے لوگ جو ایک عرصے سے کمپیوٹر استعمال کررہے ہیں، اردو سے محبت بھی کرتے ہیں اور اردو میں لکھنا بھی چاہتے ہیں، پھر بھی ابھی تک اس بات سے ناواقف ہیں کہ وہ اپنے کمپیوٹر پر اردو کیسے لکھیں۔ اس سلسلے میں اردو ویب ڈاٹ آرگ کی کوشش قابل تحسین ہے۔ مگر اس سے بھی بہت زیادہ کیا جاسکتا ہے۔ مثلا ایسے تمام ویبسائٹ اور بلاگ جو اردو میں ہوں وہاں فونٹ انسٹالیشن کے ساتھ ہی ایک ربط ہونا چاہئے جو یا تو اردو ویب ڈاٹ آرگ کے ٹیوٹریل کی طرف لے جاتا ہو۔ یا اگر بلاگر یا ویب ماسٹر چاہیں تو اردو وکی کے صفحے کا مواد اپنے سائٹ پر نقل کرلیں اور پھر اس کا ربط فراہم کردیں۔ جتنے زیادہ صفحات پر اس ٹیوٹریل کا لنک موجود ہوگا اتنا زیادہ اس بات کا امکان ہوگا کہ نئے لوگ اپنے کمپیوٹر پر اردو لکھنا سیکھ سکیں گے اور زیادہ سے زیادہ لوگ اپنے اردو بلاگ لکھنے کے لائق ہوسکیں گے۔

عجیب بات یہ ہے کہ ابھی تک بہت سارے لوگ ایسے ہیں جن کے کمپیوٹر پر اردو فونٹ انسٹال نہیں ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ تمام اردو بلاگ و ویبسائٹ فونٹ انسٹالیشن کی ہدایات اور ڈاؤنلوڈ کا ربط اپنے سائٹس پر رکھیں۔ ایسے تبصرہ جات کو خصوصی توجہ دی جائے جن میں کوئی صارف آپ کے بلاگ یا سائٹ پر اردو نہ پڑھ سکنے کی شکایت کرے۔ معلوم کریں وہ لوگ کونسا آپریٹنگ سسٹم اور براؤسر استعمال کررہے ہیں اور انہیں فونٹ انسٹالیشن کی بابت جتنی ممکن ہوسکے رہنمائی فراہم کریں۔ یاد رکھیں اس سے نہ صرف آپ کے سائٹ کی ریڈرشپ میں اضافہ ہوگا بلکہ مجموعی طور پر تمام اردو ویب کی قدر بڑھے گی۔

ڈیزائن اور قابلیت استعمال

اردو بلاگستان میں جو خامی سب سے زیادہ پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ بلاگز کے ڈیزائن انتہائی بدنما ہوتے ہیں۔ جس سے اچھا مواد بھی پڑھنا کافی ثقیل ہوجاتا ہے۔ اردو بلاگستانی اپنے سائٹ کے ڈیزائن میں اس بات کا خیال نہیں رکھتے کہ آیا ان کا سائٹ مشہور براؤسروں پر قابل استعمال ہے یا نہیں، ان کے صفحات آسانی سے پڑھے جاسکتے ہیں۔ فونٹ سائز زیادہ چھوٹا یا زیادہ بڑا تو نہیں۔ تبصرہ جات میں لوگ آسانی سے اردو اور انگریزی لکھ سکتے ہیں یا نہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔

مجھے نہیں معلوم کہ لوگ کیوں اپنے بلاگز کو ایسی بری حالت میں چھوڑے رکھتے ہیں حالانکہ وہ پابندی سے بلاگ لکھ رہے ہوتے ہیں مگر وہ اپنی بلاگ کی بدنمائی یا قابلیت استعمال کے بارے میں بالکل فکرمند نہیں ہوتے۔ اس سے ان کا صارف مایوس ہوتا ہے اور یہ خیال کرتا ہے کہ جو لوگ سائٹ کے ڈیزائن کو اس طرح رکھتے ہیں ان کا لکھا بھی ایسا ہی ہوتا ہوگا، ناپختہ، بدنما اور بے ڈھنگا۔

ایک اچھا بلاگ ڈیزائن وہ ہے جو قابل استعمال ہو اور صارف کو آسان معلوم ہو۔ اس بارے میں انگریزی زبان میں ویب پر بے تحاشا معلومات موجود ہے۔ جس استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ ظاہر ہے ایک عام بلاگر پیشہ ور ویب ڈیزائنر نہیں ہوتا۔ لیکن چند سادہ اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی بھی شخص ایک قابل استعمال سائٹ بناسکتا ہے۔

اس سلسلے میں میری تجویز یہ ہے کہ ہم اردو ویب ڈاٹ آرگ کے پلیٹ فارم سے ایک ایسا پروجیکٹ شروع کریں جس کے تحت چند سادہ اردو تھیم ورڈپریس اور بلاگر کے صارفین کو پیش کئے جائیں۔ لیکن ان تھیمز کی خصوصیت یہ ہونی چاہئے کہ وہ بہت زیادہ آزمائش اور معیاربندی کے بعد جاری ہوں۔ لیکن ہر کوئی اپنے بلاگ کا تھیم خود تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ گرچہ میں کوئی ایکسپرٹ تو نہیں لیکن چند چیزیں جو میں نے سیکھی ہیں وہ یہاں بانٹنا چاہوں گا۔

ڈیزائن کے حوالے سے یاد رکھنے کی باتیں۔

1۔ فونٹ کا انتخاب
یہ بہت ضروری ہے کہ آپ اپنی اسٹائل شیٹ میں کم از کم تین فونٹ ضرور رکھیں۔ نفیس ویب نسخ، اردو نسخ ایشیا ٹائپ اور ٹاہوما۔ آج کل ایک فونٹ پاک نستعلیق کا چرچا ہے لیکن میں قطعا یہ مشورہ نہیں دونگا کہ اسے کسی بھی بلاگ کی اسٹائل شیٹ میں بطور ترجیح اول رکھا جائے۔ کیونکہ اس میں ابھی کافی خامیاں ہیں۔ میری ذاتی رائے میں نفیس ویب نسخ اس وقت سب سے زیادہ عمدہ فونٹ ہے۔ اردو نسخ ایشیاٹائپ، بی بی سی اردو کا فونٹ ہے اسلئے تقریبا ہر اردو پڑھنے کے شائق کے کمپیوٹر پر نصب ہوتا ہے۔ اور ٹاہوما مائکروسوفٹ ونڈوز ایکس پی اور دو ہزار میں بائی ڈیفالٹ انسٹال ہوتا ہے۔ یوں آپ کا بلاگ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لئے پڑھے جانے کے لائق ہوجاتا ہے۔

2۔ فونٹ کا سائز
اردو کے تمام فونٹ چھوٹے رکھنے پر پڑھے جانے کے لائق نہیں رہتے۔ اس لئے آپ اپنے بلاگ پر فونٹ کا سائز 16 پکسل رکھیں۔

3۔ فونٹ کا رنگ

کالا یا سرمئی رنگ اگر آپ ہلکے رنگ کا بیک گراؤنڈ کلر استعمال کررہے ہیں ورنہ سفید کے کئی شیڈ استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ یہ دیکھیں کہ اس رنگ میں آپ کا ٹیکسٹ بالکل واضح نظر آئے اور صارف کو اسے پڑھنے کے لئے آنکھوں پر زور نہ ڈالنا پڑے۔

4۔ روابط کا رنگ

آپ کے بلاگ پر جو لنک ہوں ان کے رنگ میں ایک تسلسل رکھیں۔ انہیں نمایاں کریں۔ اردو لکھنے میں ایک مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ جب آپ کسی اردو لفظ کو لنک بنانا چاہتے ہیں تو ایچ ٹی ایم ایل لکھنے کے لئے انگریزی میں سوئچ کرتے ہیں جس سے اکثر لوگوں کو یہ سمجھ نہیں آتا کہ ان کا ٹیگ کہاں ختم ہوا اور کہاں شروع۔ بعد میں وہ اسے جوں کا توں شائع بھی کردیتے ہیں۔ اسی باعث اردو کے بلاگز پر اکثر ایسی پوسٹس نظر آتی ہیں جن میں پورے پورے پیراگراف لنک ہوئے ہوتے ہیں۔ تھوڑی سی مشق سے اس خامی پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

4۔رنگوں کا انتخاب

اچھا تو آپ کو ہرا اور نارنگی رنگ بہت پسند ہے۔ مگر جناب آپ کا ویب سائٹ یا بلاگ کوئی گولا گنڈا نہیں کہ ایسے رنگ برنگی بنانا ضروری ہو۔ آنکھوں کو چبھنے والے رنگوں سے گریز کریں۔

سائڈ بار
آپکی سائڈ بار کسی سرکاری دفتر کی فائلوں کی الماری نہیں کہ اس میں جو جی چاہے ٹھوس دیا۔ اکثر اردو بلاگرز کی سائڈ بارز میں عجیب و غریب گرافک اینیمیشنز، تصاویر، بھونڈے ربط، بلاگ ڈائریکٹریوں کے ربط اور پتہ نہیں کیا کیا الا بلا بھرا ہوتا ہے۔ اس کچرے کو صاف کریں۔ آپ کی سائڈ بار میں زیادہ سے زیادہ روابط ہوں اور کم سے کم تصویریں اور ان تمام روابط کی پیش کش کا انداز یکساں رکھیں۔ یہ نہیں کہ کوئی ربط تو بہت بڑے فونٹ میں ہے اور کوئی بالکل چھوٹے۔ کہیں کوئی ربط سائڈ بار سے نکل کر مین کنٹینٹ پر چڑھا جارہا ہے۔

تصاویر
اپنے بلاگ پر بھاری گف اینیمیشن ڈالنے سے پرہیز کریں۔ کیونکہ ایک تو یہ لوڈ ہونے میں وقت لیتی ہیں، آپکی بینڈوتھ ضائع کرتی ہیں اور دوسرا یہ کہ اکثر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ زیادہ تر ویب صارفین گف اینیمیشنز سے کوفت زدہ ہوتےہیں۔ یاد رکھیں چاہے کوئی گف اینیمیشن آپ کو کتنی ہی کیوٹ لگتی ہو لیکن آپ بلاگ کے ڈیزائن کے لئے وہ زہر قاتل ہے اس سے حتی الامکان پرہیز کریں۔

5۔ کراس براؤسر ٹیسٹنگ
اپنے بلاگ کو کم از کم فائر فوکس اور انٹرنیٹ ایکسپلورر کے مختلف ورژن پر چیک کریں۔

جاری ہے۔۔۔

ننھا موبائل فون

بتاریخ: 13 اکتوبر 2006

نوکیا 1112 موبائل فونمجھ سے موبائل فون پر ایس ایم ایس نہیں لکھے جاتے۔ اور نہ ہی موبائل فون کو گانے سننے یا ویڈیو دیکھنے کے لئے استعمال کرنا پسند کرتا ہوں۔ مجھے تو بس ایسا فون پسند ہے کہ جس کے ذریعے میں اپنے احباب کو بوقت ضرورت فون کرسکوں، رات کو گھر آنے سے پہلے امی کو فون کرکے یہ پوچھ سکوں کہ انہیں کچھ منگوانا تو نہیں ہے، یا اگر رات کو کامران اور عازب دیر سے گھر آئیں تو انہیں فون کرسکوں۔ یہ تمام کام میرے نئے موبائل فون نوکیا 1112 میں بطریق احسن انجام دئیے جاسکتے ہیں جو میں نے کل ہی خریدا ہے۔

میں اس سے پہلے کئی دیگر موبائل فون استعمال کرچکا ہوں، مگر نوکیا 1112 کی سادگی، کارآمدگی، اور ڈیزائن نے میرا دل موہ لیا ہے۔ یہ ایک ننھا سا موبائل فون ہے جس میں نہ رنگ برنگے جھلماتے گرافکس ہیں اور نہ ہی دیگر ایسی خصوصیات جو موبائل فون کو تفریحی آلے میں بدل دیں۔ اس کا وزن ہلکا ہے اور رنگ نہایت خوش کن۔ قیمت بھی بہت مناسب ہے اور سال بھر کی وارنٹی بھی۔ استعمال میں نہايت آسان ہے۔ اس کی رنگ ٹونز بھی ایم پی تھری طرز کی ہیں جو کانوں کو بھلی معلوم ہوتی ہیں۔

ایک اہم خوبی اس میں یہ ہے کہ اس کا انٹرفیس اردو زبان میں بھی دیا گیا ہے۔ اس انٹرفیس کی ایک خامی یہ ہے کہ اس میں ہندسے عربی میں نظر آتے ہیں۔ موبائل فون کا اردو انٹرفیس اور گائیڈ بک غالبا مائیکروسوفٹ کا ٹاہوما فونٹ استعمال کرتی ہیں۔ جو ایک عجیب ٹیڑھا میڑھا فونٹ ہے۔ لیکن امید ہے کہ جلد ہی ایسے موبائل فون بھی بازار میں دستیاب ہونگے جو اردو کو نستعلیق فونٹ میں دکھائیں گے۔ تب تک کے لئیے میں فی الحال انگریزی انٹرفیس ہی استعمال کرونگا۔

ساکنان شہر قائد کے عالمی مشاعرے کی روداد

بتاریخ: 26 مارچ 2006

سامعین مشاعرہ

کراچی کے لوگ ادب اور علم دوست ہیں۔ کوچہ ثقافت، کتب میلے، مشاعرے ہمارے شہر کی ایک اور خوبی ہیں۔ اگر آپ انٹرنیٹ پر لفظ مشاعرہ شہروں کے نام کے ساتھ تلاش کریں تو آپ کو تقریبا تمام خبریں کراچی ہی کی نظر آئیں گی۔ مزاحیہ، نعتیہ، مرثیہ خوانی، اور روایتی مشاعرے شہر میں سال بھر منعقد ہوتے رہتے ہیں۔ کوچہ ثقافت میں ہر اتوار ایک مشاعرے کا اہتمام ہوتا ہے۔ لیکن ان سب مشاعروں میں ساکنان شہر قائد کے عالمی مشاعرے کی محفل سب سے بڑی اور ممتاز ہے جس میں ہر سال دنیا بھر سے شعرائے کرام تشریف لاتے ہیں اور اپنا کلام ہزاروں کے مجمعے کے آگے پیش کرتے ہیں۔

تئیس مارچ کی شب اس سلسلے کا سولہواں سالانہ مشاعرہ تھا جس میں کم و بیش پانچ سے دس ہزار سامعین نے شرکت کی۔ جن میں ایک بڑی تعداد طلباء و طالبات، گھریلو خواتین اور بچوں کی تھی۔

نیشنل اسٹیڈیم میں، کراچی کی روایتی ٹھنڈی ہواؤں اور برقی قمقموں کے درمیان، فرشی نشستوں پر اہل دل دس بجے ہی اچھی اچھی نشستیں گھیر بیٹھے تھے۔ مشاعرہ شروع ہوتے ہوتے رات کے گیارہ بج گئے۔ مگر پھر جو محفل جمی ہے تو صبح چھ بجے تک داد و تحسین کی صداؤں سے فضا گونجتی رہی۔ مشاعرہ کمیٹی کے منتظم اعلی اظہر عباس ہاشمی نے ہر سال کی طرح پچھلے سال سے بہتر انتظامات کئیے تھے۔ تمام رات بہترین نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا گیا۔ مشاعرے کی نظامت رضوان صدیقی نے کی، کرسی صدارت گورنر سندھ عشرت العباد نے سنبھالی۔ جی نہیں اس میں اقتدار کا تعلق نہیں، شہر قائد کی خوش نصیبی ہے کہ اسے ہمیشہ علم اور ادب دوست گورنر میسر آئے جیسے گورنر معین الدین حیدر، جناب حکیم محمد سعید، اور موجودہ گورنر عشرت العباد۔ اسلئیے گورنر سندھ کا صدارت کرنا بھی روایت ہوچلا ہے۔ دیگر مہمانان میں وزیر داخلہ سندھ رؤف صدیقی، وفاقی وزیر صفوان اللہ، ناظم اعلی مصطفی کمال اور آئی جی سندھ شامل تھے۔

مشاعرے میں جمیل الدین عالی، محترمہ کشور ناہید، اور جون ایلیا کی کمی محسوس کی گئی۔ جمیل الدین عالی صاحب علیل ہونے کے سبب اور محترمہ کشور ناہید ذاتی مصروفیات کی بنا پر شرکت نہ کرسکیں۔ جون ایلیا ہم سے جدا ہوچکے ہیں۔ ان کی کمی محسوس کرنے کی وجہ نوجوان شاعر قیصر وجدی بنے، جنہوں نے جون ایلیا کے لہجے میں اپنا کلام پیش کیا۔

مشاعرے میں پاکستان سے مشہور شعرائے کرام، راغب مراد آبادی، پروفیسر عنایت علی خان، انجم شادانی، شیخ الجامعہ ڈاکٹر پیرزادہ قاسم، ذکیہ غزل، ثروت ظفر، اور عباس تابش کے کلام کو زیادہ سراہا گیا۔ گورنر سندھ اور وزیر داخلہ رؤف صدیقی نے بھی چند اشعار سنائے۔

بھارت سے آنے والے شعرائے کرام نے مشاعرہ لوٹ لیا۔ جناب وسیم بریلوی نے اپنا کلام پیش کرنے سے پہلے کہا کہ میری خوش نصیبی ہے کہ میں آج باشعور سامعین کے سامنے اپنا کلام پیش کرنے جارہا ہوں۔ بھارت سے آنے والے دیگر شعراء میں طاہر فراز، شیاما سنگھ صبا، مدن موہن دانش اور مظفر رزمی شامل تھے۔

بھارت کے علاوہ آسٹریلیا، برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، متحدہ عرب امارت اور کویت سے آئے ہوئے شعرائے کرام نے بھی اپنا کلام پیش کیا۔ تاہم جو بات سب سے زیادہ محسوس کی گئی وہ یہ تھی کہ سنایا گیا زیادہ تر کلام پچھلے مشاعروں کی نسبت بہت ہلکا تھا۔

تصویر میٹروبلاگنگ پر آفرین کی اس پوسٹ سے لی گئی ہے۔