عمومی

موضوع: عمومی

کتنی حسین ہے یہ زندگی

بتاریخ: 18 مئی 2008

دوسری فلم ہے شہرہ آفاق امریکی فلم It’s a Wonderful Life۔ انیس سو چھیالیس میں جنگ عظیم دوئم کے خاتمے کے بعد کی یہ بلیک اینڈ وائٹ امریکی فلم، امریکن فلم انسٹی ٹیوٹ کی سو بہترین امریکی فلموں میں سے ایک ہے۔ اور سب سے زیادہ متاثر کن فلموں کی فہرست میں نمبر ایک پر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس فلم کا امریکی معاشرے پر بہت گہرا اثر ہے۔

یہ کہانی ہے بریڈ فورڈ فالز نامی ایک افسانوی شہر کے رہائشی جارج بیلی کی۔ ایک درمیانی عمر کا مرد جس کی زندگی ناکامیوں سے عبارت ہے۔ جو تھک چکا ہے اور آج کرسمس کی شام جارج خودکشی کا ارادہ کر گھر سے نکلا ہے۔ ادھر جارج کے پیارے، اس کے چاہنے والے، اس کے دوست، رشتے دار اور بچے اس کے لئے دعا کرتے ہیں۔ وہ خدا سے فریاد کرتے ہیں کہ وہ ان کے پیارے جارج بیلی کی مدد کرے۔ یہ فریاد عرش پر پہنچتی ہے۔ جہاں یہ طے پاتا ہے کہ جارج بیلی کی رہنمائی کو ایک فرشتہ بھیجا جائے۔ کلیرنس اوڈباڈی وہ فرشتہ ہوتا ہے جسے جارج کی مدد کے لئے منتخب کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کام کے لئے ضروری ہے کہ کلیرنس کو جارج کی زندگی کے بارے میں بتایا جائے۔ لہذا اسے جارج کی زندگی کی جھلکیاں دکھائی جاتی ہیں۔ یوں جارج کی کہانی فلیش بیکس میں بیان ہوتی ہے۔

کلیرنس جارج کی مدد کو پہنچتا ہے۔ وہ جارج کو بتاتا ہے کہ وہ ایک فرشتہ ہے اور اس کی مدد کو آیا ہے۔ جارج اور کلیرینس کے درمیان تلخ کلامی میں جارج کہتا ہے کہ اس کی خواہش ہے کہ وہ کبھی پیدا ہی نہ ہوا ہوتا۔ تب کلیرینس جارج کو ایک ایسی دنیا میں لے جاتا ہے جہاں کسی جارج بیلی کا کبھی جنم ہی نہیں ہوا۔ وہ جارج کو دکھاتا ہے کہ اس نے اپنی زندگی میں کتنے لوگوں کی زندگیاں بدل دیں۔ اس کی وجہ سے اس کے شہر، اس کے دوستوں اس کے رشتے داروں کی زندگیاں کتنی آسودہ ہوگئیں۔ اگر وہ نہ ہوتا تو بریڈفورڈ فالز کس قدر خراب شہر ہوتا، اس کے دوست اور رشتے داروں کی زندگیاں کتنی خراب ہوتیں۔ جارج اس دنیا میں اپنے پیاروں کی یہ حالت دیکھ کر گھبرا جاتا ہے وہ واپس پل پر آتا ہے اور چیخ چیخ کر فریاد کرتا ہے کہ وہ جینا چاہتا ہے۔ اور اس کی دعا قبول کی جاتی ہے۔

یہ فلم پبلک ڈومین میں ہے اس لئے اسے آسانی سے ڈاؤنلوڈ کیا جاسکتا ہے یا گوگل ویڈیو پر دیکھا جاسکتا ہے۔ عام خیال ہے کہ فلم کے کاپی رائٹ تنازعات سے دنیا بھر کے ٹیلیوژن چینلز کو یہ فلم تقریبا مفت میں ہی مل گئی۔ اپنی ابتدائی ریلیز کے وقت یہ فلم باکس پر ایک ناکام فلم مانی گئی تھی۔ لیکن بعد میں اس کی کھلے عام ٹیلیوژن نشریات سے فلم کو ایک نئی زندگی اور عوامی قبولیت و پذیرائی میسر آئی۔ اگر یہ فلم اس طرح آسانی سے دستیاب نہ ہوتی تو شاید یہ محض سن چھیالیس کی ایک اوسط کرسمس فلم سے زیادہ کچھ نہ ہوتی۔

فلم میں جارج بیلی کا کردار ادا کرنے والے اداکار، جیمز سٹیورٹ کی باکمال اداکاری کا ایک اور نمونہ ہے الفریڈ ہچکاک کی Vertigo. لیکن اس پر پھر کبھی بات کریں گے۔

پوٹرز کی قربانیاں، اور قربانیوں کی کہانیاں

بتاریخ: 20 جنوری 2008

میں آجکل ہیری پوٹر سیریز پڑھ رہا ہوں۔ ہیری پوٹر کی کہانی بے حد دلچسپ ہے۔ اس کی تعریف اور تنقید میں ہزاروں صفحات لکھے جا چکے ہیں۔ اس لئے میں آپ کو یہ بتا کر مزید بور نہیں کرونگا کہ مجھے یہ داستان کس قدر مسحورکن معلوم ہوتی ہے۔

دین دار حضرات کہتے ہیں کہ جب سے دنیا بنی ہے تب سے معرکہ حق و باطل جاری و ساری ہے۔ بدی کا ایک پیروکار، ایک گروہ، ایک ریلا آتا ہے تو کوئی نیکی کا نمائندہ، کوئی گروہ یا قبیلہ اس کے آگے بندھ باندھنے کو موجود ہوتا ہے۔ ہر دور میں یہ داستان رونما ہوئی ہے۔ ہر دور میں ان معرکوں پر کہانیاں گھڑی گئی ہیں، داستانیں سنائی گئی ہیں۔ ہیری کی کہانی بھی ایسے ہی ایک معرکے کی کہانی ہے۔ ان سب داستانوں میں چند عناصر بے حد عام ہوتے ہیں۔ جیسے برائی کا بہت طاقتور ہونا اور اس سے ہونے والے معرکے میں اچھائی کی جیت کا بہت کم امکان ہونا۔ ہماری داستانوں کے ہیروز کا معصوم ہونا، نیک ہونا، دردمند ہونا اور سب سے بڑھ کر یہ دوسروں کی فلاح کے لئے ان کا عظیم قربانیاں پیش کرنا۔ ہیری کی داستان میں بھی ایسا ہی ہے۔

برائی کی طاقت کا نمائندہ وولڈیمارٹ جادوگر ساری جادوئی دنیا اور انسانوں پر حکومت کرنا چاہتا ہے، وہ موت پر فتح پالینا چاہتا ہے۔ لیکن اس کی راہ میں اچھے جادوگر رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ وہ اسے ان مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیتے۔ ایسے ہی اچھے جادوگر ہیری کے والدین بھی ہوتے ہیں۔ وولڈیمارٹ جب ہیری اور اس کے ماں باپ کو مارنے آتا ہے تو اس کی ماں ہیری کو بچانے کے لئے اپنی جان دے دیتی ہے جس سے وولڈیمارٹ کا جادو الٹا پڑجاتا ہے اور اس کی طاقت ختم ہوجاتی ہے اور وہ بس ایک کمزور سایہ بن کر رہ جاتا ہے۔ اور پھر وقت آتا ہے کہ جب ہیری کو بھی قربانی دینا پڑتی ہے۔

یہ کہانی ہیری پوٹر کی ہی نہیں ہے۔ یہ کہانی پوری انسانیت کی ہے۔ حقائق ہوسکتا ہے اتنے ڈرامائی نہ ہوتے ہوں۔ لیکن انسانی تہذیب کا ارتقاء، ترقی اور پھیلاؤ میں کئی انسانوں کی بے لوث قربانیاں شامل ہیں۔ جان دینا ہی کوئی قربانی کی معراج نہیں، لیکن انسانوں نے عظیم مقاصد کے لئے بے خوف و خطر جانیں بھی دی ہیں۔ لوگ ان قربانیوں کی داستانیں ایک دوسرے کو سناتے ہیں۔ معصوموں کی موت پر سوگ مناتے ہیں اور ان کی عظیم قربانی پر تاقیامت ان کے شکر گزار رہتے ہیں۔

دو سال

بتاریخ: 29 اکتوبر 2007

اکتوبر کی بائیس تاریخ کو، نعمان کی ڈائری کے دو سال پورے ہوگئے۔ ابتدا میں یہ بلاگ محض روز مرہ کے واقعات قلم بند کرنے کا ایک ذریعہ تھا، لیکن آہستہ آہستہ اس میں نئے موضوعات شامل ہوتے گئے۔ پہلے یہ بلاگ اسپاٹ پر واقع تھا پھر میں نے اسے اس نئے ڈومین پر منتقل کردیا۔ اس دوران اس بلاگ پر دو سو تینتیس پوسٹس 233 اور گیارہ سو چھیاسٹھ 1166 تبصرہ جات شائع ہوئے۔ میرے لئے یہ عرصہ انتہائی مفید اور کارآمد ثابت ہوا۔ اس دوران میں نے بہت کچھ سیکھا اور حاصل کیا۔

اس بلاگ کی بدولت میں نے سی ایس ایس اور پی ایچ پی سیکھی، اس بلاگ کی بدولت میں نے زندگی میں پہلی بار کسی انگریزی میگزین کے لئے کچھ لکھا، اس بلاگ کی بدولت مجھے چند ایسے دوست ملے جن کے ساتھ عام زندگی میں کاروباری روابط استوار ہوئے اور فائدہ بھی ہوا۔ اس بلاگ کی بدولت میں انٹرنیٹ پر اردو کی ترویج میں مشغول برادری کے قریب آیا، اور اردو کی ترویج میں کچھ کرنے کی سعی کا موقع ملا۔ بلاگنگ ہی کے سبب میرے سوچنے اور سمجھنے کے ڈھنگ میں بہتری آئی، خیال میں وسعت آئی، کام میں جدت طرازی کا شوق پیدا ہوا، وغیرہ وغیرہ۔ فائدے بے شمار ہیں اور انہیں لکھنے کے لئے وقت بہت کم۔

نعمان کی ڈائری کے قارئین جو اس تمام عرصے میری حوصلہ افزائی کرتے رہے اور جن کی بدولت مجھے یہ سب فائدے حاصل ہوئے ان سب کا بہت شکریہ۔ امید ہے آپ آئندہ بھی اسی طرح حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے۔

10/27/2007

karachi lights night full moon

ستائیس اور اٹھائیس اکتوبر کی درمیانی رات، یعنی کل، کراچی کے لوگوں نے ایک انتہائی سحر انگیز منظر کا مشاہدہ کیا۔ میں کل شام جب باہر نکلا ہوں تو سامنے ایک بڑا سا چاند آسمان پر دمک رہا تھا۔ میں نے اپنی زندگی میں اتنا حسین منظر نہیں دیکھا تھا۔ یہ چاند تصویر میں اتنا بڑا نظر نہیں آرہا۔ لیکن حقیقت میں بہت ہی زیادہ بڑا اور بہت ہی چمکدار معلوم ہورہا تھا۔ اور شہر کی روشنیوں کے باوجود اس کی روشنی باقاعدہ محسوس ہورہی تھی۔ مغرب کے کچھ دیر بعد اس کی روشنی کچھ گلابی سی تھی پھر، تھوڑی زردی مائل ہوئی اور رات گہری ہونے تک تو بس نہ پوچھیں۔ میرے پاس اگر میرا کیمرہ فون ہی ہوتا تو کچھ تصاویر میں بھی لے لیتا۔ ویسے میرے دفتر اور گھر کی کھڑکیوں سے چاند کا نظارہ بہت ہی حسین نظر آتا ہے۔ میں پہلے بھی ایک تصویر ایسی پوسٹ کرچکا ہوں۔ خیر یہ تصویر آج کے جنگ (کراچی) کے صفحہ اول پر شائع ہوئی ہے اور فوٹوگرافر ہیں جناب شعیب احمد۔

نعمان اسلام آباد میں

بتاریخ: 13 ستمبر 2007

ان دنوں‌ میں نیشنل کنونشن کے سلسلے میں اسلام آباد آیا ہوا ہوں۔ بہت ساری تصویروں، ڈھیر ساری باتوں ڈھیر جمع ہے۔ لیکن اسلام آباد میں ڈیسنٹ انٹرنیٹ کیفوں کی شدید قلت ہے۔ لحاظہ انتظار فرمائیے۔

05/17/2007

بارہ مئی کو جب پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کی غرض سے عروج ضیاء (میٹروبلاگنگ کی بلاگر اور جرنلسٹ) مزار قائد کی طرف جارہی تھیں تو شرپسندوں نے ان کے سر پر ٹی ٹی پستول رکھ دی۔ ان کا پریس کارڈ دیکھنے پر انہیں جانے دیا گیا۔ یہ سب کچھ پولیس موبائل کی موجودگی میں ہوا۔ اسی بارے میں پڑھئے ڈاکٹر علوی کی پوسٹ۔

05/17/2007

مصنوعی ذہانت رکھنے والے دو تجرباتی روبوٹ آمنے سامنے۔ ایلیس اور جیبرویکی انٹرنیٹ کے دو مشہور چاٹ روبوٹ ہیں۔ یہ اپنے ڈیٹا بیس میں موجود ڈیٹا کی مدد سے انسانوں سے چیٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مقصد ایلن ٹیورنگ کی تھیوری کو جانچنا ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت انسانی ذہانت کو دھوکا دے سکتی ہے؟ میں کچھ عرصہ پہلے ایلیس سے چیٹ کرچکا ہوں اور میرے خیال میں وہ کافی بیوقوف ہے۔ جیبرویکی تھوڑا بہتر ہے مگر ان کی مشینی سوچ اتنی ذہین نہیں۔ مثال کے طور پر وہ گفتگو کے دوران صرف پچھلے جملے کا جواب دیتے ہیں بجائے اس کے کہ اس سیشن میں ہونے والی پچھلی گفتگو کو جانچیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ بات کیا ہورہی ہے۔
لیکن جب ان دونوں روبوٹوں کو ایک دوسرے سے بات کرنے کے لئے لایا گیا تو نتیجہ ایک ایسی گفتگو ہے جو بظاہر دیکھنے میں کافی ذہین معلوم ہوتی ہے۔

بدی کے مقابل پیار کا بٹن

بتاریخ: 14 مئی 2007

I Love Karachiدور پار کی کسی ریاست میں ایک عظیم شہر ہے۔ شہر جو پورا ملک ہے۔ جو حسین تو نہیں، مگر جفاکش ہے، وفا شعار ہے اور لائق بھروسا ہے۔ جو ذمہ دار ہے، بڑا ہے، قدامت، جدت، مشرق اور مغرب کے بیچ میں کھڑا ہے۔ جو ایک پل ہے معاشی خوشحالی کا، خوابوں کا۔ جہاں پری زاد اور پریاں رہتی ہیں۔ جہاں برے جادوگر اور شیطان بھی بستے ہیں۔ یہ بدی کی طاقتیں ایک عرصے سے اس شہر کے پیچھے پڑی ہیں۔ یہاں کے رہنے والوں کو دہشت زدہ کرکے یہ ان کے خواب ان سے چھین لینا چاہتے ہیں۔ یہ برے جادوگر چاہتے ہیں کہ اس شہر میں ہر طرف فساد، آگ اور خون ہو۔

ان برے جادوگروں کے مقابلے میں ایک ننھا پری زاد ایک چھوٹا سے بٹن بناتا ہے۔ یہ بٹن ہے پیار کا۔ ننھا پری زاد لوگوں سے کہتا ہے کہ اپنے دروازوں، کھڑکیوں، لباس اور سواریوں پر یہ بٹن چسپاں کرلو۔ اس بٹن میں وہ منتر ہے جو بدی کی طاقتوں کے سارے مظالم کا جواب ہے۔ اسے دیکھ کر شیطان بھاگ تو نہیں جائیں گے، مگر یہ ان پر ویسا ہی اثر کرے گا جیسا آگ اور خون کی ہولی تم پر کرتی ہے۔ اس بٹن سے وہ شیطان دہشت زدہ ہوجائیں گے۔

آپ بھی اس ننھے پری زاد کا یہ جادوئی بٹن اپنے بلاگ، گاڑیوں، گھروں اور دکانوں پر لگائیں اور اس عظیم شہر کے مظلوم عوام کا ساتھ دیں۔

مزید تصاویر

بتاریخ: 17 اپریل 2007

کچھ تصاویر جو میں نے راہ چلتے اپنے موبائل فون سے کھینچیں۔

خوشبو آ نہیں سکتی، کبھی کاغذ کے پھولوں سے

بتاریخ: 04 مارچ 2007

اتنے دنوں کی کوشش کے بعد، بالآخر آج میں نے نعمان کی ڈائری ہیک کرہی لی اس سے پہلے کہ وہ مجھ سے اس کا کنٹرول واپس جھین لے میں نے سوچا کم از کم اس کا بھانڈا تو پھوڑ ہی دوں۔ بڑا استاد بنا پھرتا ہے۔ میں نے بھی اس کی قلعی نہ کھولی تو نام نہیں۔

ارے بلاگر بھائیوں یہ جو نعمان ہے نا، ارے یہی جو یہاں آزاد سوفٹویر، آزاد عورت، آزاد معاشرے کے نعرے لگاتا ہے اور انصاف و آزادی کا بڑا حمایتی بنا پھرتا ہے۔ سنو سنو آج مجھ سے سنو اس کے کالے کارنامے۔ ادھر تو یہ بڑا انسانیت کا ہمدرد، نیک دل، انصاف پسند اور خدا ترس بننے کی اداکاری کرتا ہے۔ ادھر یہ اپنی دکان پر غریب گاہگوں سے دو روپے زائد وصول کررہا ہے۔ آٹھ آٹھ آنے پر یہ خود بھی آٹھ آٹھ آنسو رونے کی اداکاری کرتا ہے اور گاہگوں کو بھی رلاتا ہے۔ بیچاروں کی خون پسینے کی کمائی مہنگی دہی اور پتلا دودھ خریدوا کر نچوڑ لیتا ہے اور اس سے اپنی ریاست کھڑی کرنے کے چکر میں ہے۔ تو بھائیو اس کے جھانسے میں نہ آنا۔

ارے اس کے کرتوتوں سے تو دفتر بھر جائیں دو چار کارنامے اور سنا دیتا ہوں تاکہ اس کی اصلیت کا پردہ چاک ہوسکے اور اس کا اصل روپ عیاں ہو۔ کوئی گز بھر لمبی زبان ہے اس کی، اور اتنے ہی قطر میں اس کی توند پھیلی ہوئی ہے۔ ایک بار میں نے ازراہ طنز پوچھا، ابے یہ اس پیٹ میں کسی کا پاپ ہے یا یہ سارے تیرے ہی پاپ ہیں۔ تو ڈھٹائی سے بولا نہیں جی جو کچھ ہے اب تو میرا ہی ہے۔ گھر والوں نے، میرے جیسے مخلص دوستوں نے اسے بڑے مشورے دئیے کہ یار اس سے چھٹکارا پا اور واپس جوانی اور رعنائی کی طرف لوٹ آ۔ مگر نہیں، جان جائے خرابی سے ہاتھ نہ رکے رکابی سے۔

اور سنو یہ جو بڑا فری سوفٹویر آزاد سوفٹویر کرتا ہے۔ کل میں نے اس کے بھائی کو ایک ٹھیلے سے ونڈوز وسٹا کی سی ڈی خریدتے رنگے ہاتھوں پکڑا ہے۔ میری جرح پر اس نے بتایا کہ بھائی چاہتے ہیں ہم اپنے کمپیوٹر پر ایک کونے پر چوری کی ونڈوز بھی ڈال دیں۔ توبہ توبہ، یہاں کیسا ابنٹو اور لینکس کی جے جے کار کرتا ہے اور خود اس کے بھائی چوری کی ونڈوز استعمال کررہے ہیں۔ اللہ معاف کرے بھئی ایسا دوغلا آدمی میں نے نہیں دیکھا۔ زبان پر کچھ، دل میں کچھ، باتیں بڑی بڑی اور اعمال دیکھو۔

پیسے کمانے کی مشین بنا ہوا ہے۔ کھٹارا گاڑیوں کو سادے پانی سے دھلوا کر نئی بنا کر بیچتا ہے۔ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر گندے گندے ویب سائٹ چلاتا ہے جن پر ننگ دھڑنگ بھارتی اداکاراؤں کی تصویریں اور اسے بھی زیادہ عریاں خبریں شائع ہوتی ہیں۔ اب پیسہ کمانے کی ایسی بھی کیا دوڑ کہ بندہ حرام حلال کی تمیز ہی کھودے۔ اور سنو یہ بڑا بدتمیز بھی ہے۔ ایک بیچارہ بلاگر ملتان سے پیدل چل کر امتحان کے سلسلے میں کراچی آیا اور اس سے ملاقات کرنی چاہی تو اس نے بہانے سے اسے ٹال دیا۔ اجی اس کا کیا جاتا ہے مگر اس ملتانی بلاگر نے دیکھو نا ہم کراچی والوں کے بارے میں کیسی رائے قائم کی اور اس پر طرہ یہ کہ اسے شائع بھی کردیا۔ دیکھو وہاں سب نے کراچی والوں کے بارے میں کیسی کیسی باتیں لکھیں۔

اس کی کچھ حرکتیں تو ایسی ہیں کہ مجھ ایسا شریف آدمی انہیں رقم بند کرتے ہوئے بھی شرم سے پانی پانی ہوتا ہے۔ دین سے دور تو یہ شخص ہے ہی لیکن دنیا سے بھی بیگانہ ہے۔ ایک عرصے سے میں اس کی تلاش میں ہوں کہ اسے پکڑوں، جھنجھوڑوں، راہ راست پر لانے کی کوشش کروں مگر یہ ملتانی بلاگر کی طرح مجھے بھی دھوکہ دے جاتا ہے۔ بڑے فون کھڑکائے بڑی آوازیں لگائیں، مگر یہ میری ہر صدا، ہر پکار نظر انداز کرتا جارہا ہے۔ آپ ہی بتائیں بھلا یہ بھی کوئی آدمیت ہے کہ آدمی اپنے عمر بھر کے رفیق، اپنے ہمدرد اور اپنے ضمیر کو ہی بھول جائے اور اسے پہچاننے سے انکار کردے؟

سائبرنیٹ کی سروس میں تعطل

بتاریخ: 24 فروری 2007

میں اپنی انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنی، سائبر نیٹ سے بے حد مطمئن ہوں۔ سائبر ڈی ایس ایل کی بدولت مجھے ہر وقت انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے۔ لیکن ایک اور خوبی سائبر نیٹ کی یہ ہے کہ اس تمام عرصے میں ایک بھی بار مجھے سروس میں تعطل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ابھی پرسوں ہی میں نے ڈیبیان ڈاؤنلوڈ اور انسٹال کی ہے۔ اس پانچ گھنٹے طویل ڈاؤنلوڈ میں کہیں کوئی تعطل نہیں آیا۔ سروس حاصل کرنے کے ابتدائی ایک دو روز کے علاوہ مجھے یاد نہیں کہ کبھی مجھے کسٹومر سپورٹ سے رابطہ کرنا پڑا ہو۔ سائبر نیٹ کے عملے کو میں نے انتہائی لائق، مستعد، اور بااخلاق پایا ہے۔

کل شام سائبرنیٹ‌ کی ڈی ایس ایل سروس اچانک بند ہوگئی۔ فون کیا تو کسٹمر سپورٹ کی تمام لائنیں مصروف۔ میں تب ہی سمجھ گیا کہ کچھ خرابی ہوگئی ہے۔ لائن ملی تو پتہ چلا کہ سائبر نیٹ کو اچانک کسی ہارڈویر سے متعلق افتاد کا سامنا ہے اور ان کے انجینئر سر توڑ کوششیں کررہے ہیں۔ ہر فون کال کے جواب پر وہ کہتے کہ سر بس ایک دو گھنٹے بعد سروس بحال ہوجائیگی۔ مگر رات کے دو بجے جاکر کہیں سروس بحال ہوئی۔ میں ابھی بھی ان کی سروس سے بہت مطمئن ہوں، لیکن بطور ایک کسٹومر میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ انہیں کیا مسئلہ درپیش تھا اور انہیں اس سے نمٹنے میں اتنی دیر کیوں لگی۔

زحمت کے لئے معذرت

بتاریخ: 04 فروری 2007

جب ہم سبزہ ڈاٹ آرگ شروع کررہے تھے تب ہمیں معلوم نہ تھا کہ ہم اتنا اچھا کام انجام دیں گے۔ دوستوں کی مدد سے ایک چھوٹا سا ہوسٹنگ پیکیج لیا اور ہمارے ویب ہوسٹ کا دعویٰٰ تھا کہ ہم شايد ہی اس کی فراہم کردہ بینڈوتھ پار کرپائیں۔ مگر ہوا یہ کہ سال پورا ہونے سے پہلے ہی ہم نے نہ صرف اپنی ماہانہ بینڈوتھ حد پار کرڈالی بلکہ اس سے تین گنا زیادہ بینڈوتھ تک جا پہنچے۔ ہمارے ویب ہوسٹ نے بذریعہ ای میل ہمیں خبردار کردیا تھا۔ ویب سرور کا ڈاؤن ٹائم بڑھتا رہا اور بالآخر ہمارے ویب ہوسٹ نے ہمیں انخلاء کا نوٹس بھیج دیا۔ ہم اس سلسلے میں اپنے پچھلے ویب ہوسٹ کے ممنون ہیں کہ انہوں نے ہمیں ایک عمدہ سروس انتہائی ارزاں نرخوں پر فراہم کی اور ہمارے سائٹ کی بخیریت نئے سرور پر منتقلی میں تعاون فرمایا۔

حیرانی کی بات یہ ہے کہ ہم نے یہ کامیابی صرف بلاگز سے حاصل کی۔ ہماری اشتہاراتی آمدنی میں حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے اور آئندہ ہم اشتہارات کی مدد سے سبزہ کی ہوسٹنگ کا خرچ نکال کر بھی کافی سارے پیسے بچالیں گے۔ (کیسے؟ یہ جاننے کے لئے مارچ کا اسپائڈر میگزین پڑھنا نہ بھولیں جس میں ایڈسینس کے استعمال کے حوالے سے پاکستانی ویب پبلشرز کے لئے رہنمائی پر میرا ایک مضمون شائع ہورہا ہے۔)

اب ہم اپنا کام ڈریم ہوسٹ پر لے گئے ہیں۔ اردو ویب ڈاٹ آرگ بھی ڈریم ہوسٹ پر ہی چلتا ہے۔ ڈریم ہوسٹ کی بینڈوتھ اور ڈسک اسپیس لمٹ بہت زیادہ ہے کنٹرول پینل بھی آسان ہے۔ اور چونکہ ڈریم ہوسٹ کے تمام سرور لنکس ڈیبیان پر مبنی ہیں اس لئے ایک دلی اطمینان بھی ہے۔ فی الوقت ڈومین پروپگیشن کا کچھ مسئلہ ہے جو کہ امید ہے جلد حل ہوجائے گا۔ غیر حاضری کے اس عرصے میں جن کرمفرماؤں نے بذریعہ ای میل ہم سے استسفار کیا، اور جن قارئین کو کوفت کا سامنا رہا ان سب سے دلی معذرت۔ امید ہے آپ مستقبل میں بھی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے۔