ابنٹو

موضوع: ابنٹو

تین سال کی بے فکری ۔ ابنٹو کا نیا نسخہ

بتاریخ: 25 اپریل 2008

ابنٹو کا نیا نسخہ ابنٹو 8۔04 ہارڈی ہیرون جاری ہوگیا ہے۔ کل ہی اسے اتارا اور نصب کرا۔ بے چینی کا سبب یہ تھا کہ میں اس کا بیٹا نسخہ استعمال کرچکا تھا۔ اور درحقیقت ابنٹو ہارڈی ہیرون اب تک میں نے جتنے بھی لنکس ڈسٹری بیوشنز استعمال کی ہیں ان میں سب سے بہترین ہے۔ ابنٹو میرے تمام ہارڈویر کو بہت اچھی طرح استعمال کرتا ہے اور اس معاملے میں ونڈوز سے بھی سبقت لے جاتا ہے حالانکہ میرے کمپیوٹر کا تمام ہارڈویر ونڈوز کے لئے ہی تیار کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود ونڈوز ایکس پی میری چپ سیٹ کا بھرپور فائدہ نہیں اٹھاتا۔ جبکہ ابنٹو بائی ڈیفالٹ یہ سب استعمال کرتا ہے۔ میں بیٹا نسخے کے ریویو میں لکھ چکا ہوں کہ ابنٹو کا یہ نسخہ کم از کم میرے کمپیوٹر پر تو ویژول ایفکٹس بائی ڈیفالٹ بحال کردیتا ہے۔ اور یہ نئے ایفکٹس بے حد دل خوش کن ہیں۔

انسٹالیشن انتہائی سادہ اور اور برق رفتار تھی محض پندرہ منٹ میں نئے نسخے کی تنصیب مکمل ہوئی۔ انسٹالیشن کے بعد جب لاگ آن ہوا تو مسئلہ یہ درپیش آیا کہ ابنٹو کے اس تازہ اور بے حد بے چینی سے انتظار کئے گئے نسخے کی ریپوزیٹریز ڈاؤن تھیں۔ جس کی وجہ سرورز پر پڑنے والا بے تحاشا لوڈ تھا۔ اس لئے آج سویرے ریپوزیٹریز اپڈیٹ کریں، اردو سپورٹ نصب کی اور یہ رہا میں آپ کے سامنے۔

ابنٹو کے اس نئے نسخے میں فائر فوکس تین کا بیٹا نسخہ ڈیفالٹ براؤسر ہے۔ مجھے اس کا عادی ہونے میں تھوڑی دشواری ہورہی ہے۔ ایک اور مسئلہ نئے فائر فوکس میں گوگل براؤسر سائنک کا نصب کرنا ہے۔ سنا ہے اس کی کوئی جگاڑ موجود ہے جس سے میں فی الحال نا واقف ہوں۔ براؤسر سائنک پلگ ان میرے لئے یوں ضروری ہے کہ میں گھر پر اور کام پر اپنے براؤسر کی سیٹنگز کو ہم آہنگ رکھنا چاہتا ہوں۔ اس سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ میں دونوں جگہوں سے ایک ہی براؤسر ایک ہی سیٹنگز ، بک مارکس اور پاسورڈز وغیرہ کے ساتھ استعمال کرتا ہوں اور اس وقت کی بہت زیادہ بچت ہوجاتی ہے۔

ابنٹو کا یہ نیا نسخہ تقریبا ہر اس شخص کے لئے تجویز کیا جاتا ہے جو لنکس کو آزمانا چاہتا ہے۔ کام کی جگہوں کے لئے بھی یہ نسخہ بے حد کارآمد ہے کیونکہ یہ تین سال تک سپورٹڈ ہے۔ اگر آپ کسی ایسی آپریٹنگ سسٹم کی تلاش میں ہیں جو آپ کو وائرس سے بہتر بچاؤ دے، جہاں آپ کنفگریشن میں کم سے کم وقت صرف کریں اور کام پر زیادہ سے زیادہ دھیان دے سکیں، اگر آپ ایسا آپریٹنگ سسٹم چاہتے ہیں جہاں سب کچھ مفت ہو اور آپ کو کوئی بھی مسروقہ سوفٹویر استعمال نہ کرنا پڑے، اگر آپ بہتر کمپیوٹنگ صلاحیتیں سیکھنا چاہتے ہیں، اگر آپ ایک آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ ایک برادری کے رکن بننا چاہتے ہیں جہاں سب ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ تو بس آپ کی تلاش ختم ہوچکی ہے ابنٹو ہارڈی ہیرون ہی آپ کے تمام سوالات کا جواب ہے۔ آج نصب کریں اور تین سال تک نہ ریفارمٹ کریں، نہ وائرس اسکینر چلائیں، نہ اسپائی ویر اور ٹروجنز کی فکر کریں۔ بس مزے کریں۔

ابنٹو حاصل کرنے کا سب سے آسان نسخہ اسے ڈاؤنلوڈ کرنا ہے۔ تاہم اگر آپ انتظار کرسکتے ہیں تو شپ اٹ کے ذریعے مفت سی ڈیز بھی منگوا سکتے ہیں۔

ہارڈی ہیرون ۔ ابنٹو کا اگلا نسخہ

بتاریخ: 31 مارچ 2008

Compiz Visual Effects in Ubuntu
آج میں نے ابنٹو کے آنے والے نسخے ہارڈی ہیرن کا بیٹا نسخہ ڈاؤنلوڈ کرا اور اپنے کمپیوٹر پر نصب کرکے دیکھا۔ میں عموما بیٹا نسخہ جات نصب کرکے نہیں دیکھتا۔ لیکن ابوشامل کی پوسٹ سے مجھے تحریک ملی۔ ہارڈی کی پہلی خوبی تو یہ ہے کہ یہ طویل مدتی معاونت (لانگ ٹرم سپورٹ) نسخہ ہے۔ یعنی اگر اسے اپریل میں اپنے کمپیوٹر میں نصب کریں تو اگلے تین سال تک اس کی ابنٹو معاونت اور سیکیوریٹی اپڈیٹس دستیاب ہوتے رہیں گے۔ اور کبھی کوئی جینئوئن سوفٹویر ریسٹریکشن کا آئیکون آپ کو منہ نہ چڑا سکے گا۔

لیکن ابنٹو کو صرف اسلئے نصب نہ کریں کہ یہ مفت ہے۔ بلکہ درحقیقت ابنٹو بہتر بھی ہے۔ مثال کے طور پر ونڈوز وسٹا ہو یا ایکس پی دونوں میری چپ سیٹ ڈیٹکٹ نہیں کرپاتے اور اس کے لئے مجھے انسٹالیشن کے بعد ونڈوز اپڈیٹ سے ڈرائیور ڈاؤنلوڈ کرنا پڑتے ہیں۔ ابنٹو گٹسی اور ہارڈی دونوں میرے ہارڈویر کو ڈٹیکٹ بھی کرتے ہیں اور مکمل سپورٹ بھی۔ گٹسی پہلے میرے گرافکس کارڈ کا بھرپور فائدہ نہ اٹھاتا تھا لیکن ہارڈی بائی ڈیفالٹ میرے لئے کمپز این ایبل رکھتا ہے اور میں وسٹا جیسے ویژول ایفکٹس کا لطف اٹھا پاتا ہوں۔ کبنٹو جو کہ ابنٹو کا کے ڈی ای والا نسخہ ہے اس میں تو ویژول ایفکٹس اور بھی اعلی و معیاری ہیں۔ ابنٹو کا نیا ورژن۔ لنکس کرنل کا نسبتا نیا نسخہ استعمال کرتا ہے یہ نسخہ خصوصا میرے کمپیوٹر کے لئے اچھا ہے۔ کیونکہ میرا کمپیوٹر کور ٹو ڈیو ہے اس لئے لنکس کے پچھلے نسخہ جات میرے ہارڈ ویر کا بھرپور استعمال نہ کرپاتے تھے۔ اب میرے کمپیوٹر کا تمام ہارڈویر اپنی صلاحیت کے مطابق استعمال ہوتا ہے جس سے ہارڈی نہایت سبک رفتاری سے تمام کام انجام دیتا ہے۔ بوٹ اپ ٹائم اور شٹ ڈاؤن بھی نہایت تیزی سے ہوتا ہے۔

ہارڈی میں ایک اور نئی چیز ہارڈویر ٹیسٹنگ وزارڈ ہے۔ جو آپ کے ہارڈ ویر کو ڈیٹیکٹ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ایک رپورٹ تیار کرتا ہے جو آپ اپنے لانچ پیڈ اکاؤنٹ پر شائع کرسکتے ہیں۔ وہاں سے ابنٹو کمیونٹی کو آپ کے ہارڈویر کی سپورٹ بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور آپ کو فوری طور پر کوئی عارضی جگاڑ بھی بتائی جاسکتی ہے۔

میری طرح اور بھی کئی صارفین ریلیز نوٹس پڑھ کر یہ سمجھے تھے کہ شاید انک اسکیپ بائی ڈیفالٹ نصب ہوگا لیکن ایسا نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے فائنل ریلیز نسخے میں یہ بائی ڈیفالٹ نصب ہو۔

ہارڈی میں گنوم بٹ ٹورنٹ کے بجائے ٹرانسمیشن نصب ہے۔ اور ڈسک برننگ کے لئے براسیرو۔ اس کے علاوہ گنوم کا فائل براؤسر نوٹیلئیس بھی اب زیادہ بہتر طریقے سے کام کرتا ہے۔ اس نسخے میں یوزر اکاؤنٹس اور ان کے اختیارات کے انتظام کو اور بھی بہتر بنادیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سیکیوریٹی کو مزید بہتر بنانے کے لئے ایک کمانڈ لائن سے چلنے والی فائروال بھی نصب شدہ ہے۔

میں زیادہ تر وی ایل سی میڈیا پلئیر استعمال کرتا ہوں۔ میرے خیال میں ابنٹو کو گنوم پر بھی ایمیروک جیسا کوئی اطلاقیہ رکھنا چاہئے۔ ردھم باکس بھی اچھا ہے لیکن عام طور پر موسیقی سننے والے ایمیروک کو پسند کرتے ہیں مگر چونکہ ایمیروک کے ڈی ای کا حصہ ہے تو گنوم پر اسے استعمال کرنے میں زیادہ مزا نہیں آتا۔

یہ پہلا موقع تھا کہ میں فائر فوکس 3 کا بیٹا نسخہ استعمال کررہا تھا۔ فائر فوکس کے اس نسخے میں ابنٹو نے کئی تبدیلیاں کی ہیں، جیسے ڈیفالٹ تھیم بدل دیا گیا ہے، کچھ پلگ ان بائی ڈیفالٹ نصب ہیں، اور کئی چھوٹی موٹی تبدیلیاں ہیں، لیکن فائر فوکس کا یہ نسخہ صحیح معنوں میں ابنٹو میں درست بیٹھتا نظر آتا ہے۔

اردو سپورٹ دستیاب ہے اور اسے این ایبل کرنے کا طریقہ کار وہی ہے جو گٹسی کے لئے تھا۔ ابنٹو کے ہر نسخے میں اردو بہتر سے بہتر نظر آتی ہے۔ اور اب تک میں نے جتنی لنکس ڈسٹریبیوشنز استعمال کی ہیں ان میں سب سے بہتر اردو سپورٹ ابنٹو میں موجود ہے۔ ابنٹو میں اردو فونٹ ونڈوز کے کسی بھی نسخے سے بہتر دکھائی دیتے ہیں۔ اور ابنٹو میں اردو کی تنصیب ونڈوز سے کہیں زیادہ آسان ہے (بشرطیکہ آپ ہدایات پر من و عن عمل کریں)۔

اسکرین شاٹس:

Ubuntu 8.04 Hardy Heron Screenshot

Ubuntu 8.04 Hardy World Time Applet

میرا نیا کمپیوٹر

بتاریخ: 13 دسمبر 2007

کامران اور عازب کو گھر پر اپنے استعمال کے لئے کمپیوٹر درکار تھا۔ اور جیسا کہ آپ جانتے ہی ہیں (نہیں تو اب جان لیں) کہ میں بڑا مادہ پرست اور لالچی قسم کا انسان ہوں۔ تو میں نے سوچا کہ انہیں اپنا پرانا کمپیوٹر دے کر خود نیا خرید لوں۔ میرا کمپیوٹر پینٹیم تھری آٹھ سو کچھ میگاہرٹز کی رفتار کے ساتھ، دو سو چھپن ایم بی کی ریم اور چالیس جی بی کی ہارڈ ڈسک پر چل رہا تھا۔ اور یہ ہارڈویر میری ضروریات کے لئے بہت مناسب ہے۔ لیکن جب موقع خود آپ کے در پر دستک دے تو اسے لوٹادینا کہاں کی دانشمندی ہے۔ تو جناب۔۔۔

سب سے پہلے تو میں پہنچا وائرڈ پاکستان کے فورم پر وہاں اپنی ضروریات اور کمپیوٹر ہارڈویر کی معلومات نہ ہونے کا ذکر کیا۔ فورم کے ممبران نے جوابا نہ صرف قیمتیں بتائیں بلکہ آئیڈیل ہارڈویر کنفگریشنز بھی لکھ ڈالیں۔ پھر میں نے کراچی کی آنلائن کمپیوٹر دکانوں کو کھنگالا اور ان پر مطلوبہ ہارڈویر کی معلومات اکٹھی کی۔ اگلے دن ہمت باندھ کر یونی پلازہ پہنچا جو کراچی میں کمپیوٹر ہارڈویر کا اہم مرکز ہے۔ دو چار دکانوں سے کیوٹس لینے کے بعد میں گیلیکسی کمپیوٹرز کی دکان پر پہنچا۔ ان کے فرینڈلی اسٹاف نے مجھے جو پرائس کیوٹ کی وہ دیگر دکانوں سے پانچ ہزار روپے کم تھی۔ ایسا نہیں کہ انہوں نے مجھے ڈسکاؤنٹ دیا بلکہ ان کے اسٹاف نے دلجمعی کے ساتھ میری بات سنی اور مجھے ہارڈویر چننے میں مدد کی۔ جیسے جو گرافک کارڈ میں خریدنا چاہ رہا تھا وہ گیارہ ہزار روپے کا تھا انہوں نے مجھے نو ہزار کا کارڈ آفر کرا۔ جب میں نے انہیں بتایا کہ میں ایل سی ڈی ڈسپلے بھی خریدنا چاہتا ہوں تو سیلزمین نے (جس کا نام پوچھنا میں بھول گیا) مجھے یقین دلایا کہ مجھے علیحدہ گرافک کارڈ خریدنے کی ضرورت نہیں اور اگر میں گرافک کارڈ چھوڑ دوں تو آسانی سے اپنی پسند کا مانیٹر خرید سکتا ہوں۔

اس نئے کمپیوٹر کی اسپیسیفیکیشنز یہ ہیں:

گیلیکسی کمپیوٹرز نے اوور آل سسٹم کی ایک سال کی سپورٹ وارنٹی دی ہے۔ جب کہ مختلف ہارڈویر کی مینوفیکچرر وارنٹیز الگ ہیں۔

گھر آتے ہیں کمپیوٹر پر ابنٹو اور ونڈوز انسٹال کر کے دیکھا۔ کیا بات ہے، آپ سوچ سکتے ہیں آٹھ سو میگاہرٹز سے کور ٹو کافی لمبی چھلانگ ہے اور رفتار اور پرفارمنس ظاہر ہے مجھے حیران کن ہی معلوم ہوگی۔ لیکن بدقسمتی سے دونوں آپریٹنگ سسٹمز نے میرے بلٹ ان لین کارڈ کو لوڈ نہیں کیا۔ پہلے تو خود مسئلہ کو سلجھانے کی کوشش کری لیکن جب اندازہ ہوا کہ مسئلہ شاید بائیوز میں ہے اور مجھے بائیوز اپڈیٹ کرنا ہوگی تو میں نے سوچا کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ حل آزمانے سے بھی مسئلہ حل نہ ہو اور مجھے گلیکسی والوں کے پاس واپس جانے پڑے اور وہ کہیں کہ آپ خود کیوں گھسے آپ کی وارنٹی ووائڈ ہوگئی۔ تو اگلے دن میں پھر یونی پلازہ پہنچا۔ انہوں نے دو منٹ میں یہ مسئلہ حل کردیا اور معذرت کے ساتھ ساتھ چائے بھی پیش کی۔

ابنٹو میرے کمپیوٹر کے تمام ہارڈویر کو بائی ڈیفالٹ پہچان لیتا ہے۔ حتی کہ موڈیم کو بھی۔ جو صاحب بھی مجھ سے پوچھتے تھے کہ وہ لنکس کے لئے کونسا موڈیم خریدیں تو ان کے لئے عرض ہے کہ وہ Genica 56K V.92 Data/Fax PCI Modem بے خوف ہوکر خرید سکتے ہیں۔ اپلیکشنز جیسے گمپ اور اوپن آفس اب تیزی سے کھل رہی ہیں اور چمکدار، دبلا پتلا، نازک سا ایل سی ڈی ڈسپلے میری میز پر رکھا بہت شاندار لگ رہا ہے۔ اب بس میں جلدی سے ایک ڈیجیٹل کیمرہ بھی خرید لوں تو آپ کو اپنے نئے کمپیوٹر کی تصاویر دکھاتا ہوں۔

جیو نیوز ٹوٹم میڈیا پلئیر پر

بتاریخ: 21 نومبر 2007

ابنٹو پر gstreamer codecs انسٹال کرنے کے بعد جیو نیوز دیکھا جاسکتا ہے۔

ابنٹو کا نیا نسخہ

بتاریخ: 27 اکتوبر 2007

screenshot ubuntu 7.10کل میں نے ابنٹو کا نیا ورژن ڈاؤنلوڈ کرا اور اس کی آزمائش کی۔ ابنٹو کا یہ ورژن سات اعشاریہ ایک صفر ہے جس کی عرفیت گٹسی گبن ہے۔ میں کافی عرصے سے ابنٹو استعمال نہیں کررہا تھا بلکہ ڈیبیان استعمال کررہا تھا۔ ابنٹو کی اساس بھی ڈیبیان ہی ہے، لیکن اصل ڈیبیان ابنٹو کے مقابلے میں زیادہ تیزرفتار اور زیادہ آزاد ہے۔ ابنٹو کی انسٹالیشن کا وہی عمومی طریقہ تھا جو پچھلی انسٹالیشنز میں تھا یعنی لائیو سی ڈی کو چلائیں اور پھر انسٹال پر کلک کریں۔ انسٹالیشن میں قریبا آدھا گھنٹا صرف ہوا۔ اس دوران میں نے کچھ موسیقی سنی، تھوڑی براؤسنگ کی، اور چند دوستوں کا احوال پوچھنے کو انہیں ای میل بھیجی۔ انسٹالیشن ویسی ہی سادہ اور آسان تھی۔ تاہم انسٹالیشن کے بعد جب میں پہلی بار لاگ ان ہوا تو ڈسپلے سروسر کی کسی کنفگریشن کی وجہ سے گلابی رنگ کی سادہ اسکرین دکھائی دی جس پر کچھ نہیں تھا۔ لیکن ایکس سرور ژورگ کو ری اسٹارٹ کرنے پر یہ دور ہوگئی۔ اگر آپ میں سے کسی کو یہ مسئلہ درپیش ہو تو CTRL+AL+BACKSPACE کی کلیدیں ساتھ دبا کر ڈسپلے منیجر کو ری اسٹارٹ کرلیں۔

لاگ آن کے بعد وہی سادہ مگر پرکشش ابنٹو میرا منتظر تھا۔ اردو والوں کے لئے اس ابنٹو میں یہ خاص بات ہے کہ پہلے جو آپ کو فائر فوکس میں پینگو کو این ایبل کرنا پڑتا تھا اب وہ نہیں کرنا ہوگا۔ صرف نفیس ویب نسخ انسٹال کریں اور آپ کا براؤسر اردو پڑھنے کو تیار ہے۔ نفیس ویب نسخ سائنپٹک سے ڈاؤنلوڈ کریں ڈیبیان پیکیج کے طور پر نفیس ویب نسخ کا نام ٹی ٹی ایف نفیس ہے۔ اپنے سسٹم کو فوری طور پر اردو لکھنے کو تیار کرنے کے لئے یہ صفحہ دیکھیں۔ اگر آپ کوئی ایسا صفحہ کھولتے ہیں جس پر کوئی فلیش ویڈیو ہو، جیسے یو ٹیوب وغیرہ، تو ابنٹو فائر فوکس آپ کو دستیاب پلگ انز میں جی نیش (یا گنیش) بھی دکھاتا ہے۔ لیکن جی نیش ابھی تک انڈر ڈیولپمنٹ ہے اور قابل اعتبار نہیں تو بہتر ہوگا کہ آپ ایڈوب فلیش پلئر ہی ڈاؤنلوڈ اور انسٹال کریں۔

ابنٹو کا نیا ورژن زیادہ پالشڈ ہے۔ لنکس کرنل کا تازہ ترین ورژن ہے، گنوم کا نیا ورژن ہے، تھری ڈی ڈیسکٹاپ ایفکٹس ہیں۔ بظاہر ابنٹو کے پچھلے ورژن سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔ اوپن سورس سوفٹویر کی دنیا میں چونکہ ڈیولپمنٹ جاری رہتی ہے کوڈ میں کئی تبدیلیاں آجاتی ہیں، چند سوفٹویر کے نئے نسخے جاری ہوجاتے ہیں۔ چند سوفٹویر کے نام بدل جاتے ہیں۔ جیسے اس بار گیم انسٹنٹ مسینجر جس کا نام پیجن میں تبدیل ہوگیا ہے۔ پیجن کا انٹرفیس بھی اب کافی بہتر ہوگیا ہے اور اس میں چیٹ کرنے میں اب زیادہ مزہ آرہا ہے۔ ڈیسک بار اپلیٹ کے ساتھ ساتھ اب کی بار گنوم ٹریکر سرچ ٹول بھی انسٹالیشن میں شامل ہے۔ جس سے امید ہے کہ دستاویزات اور فائلوں کو تلاش کرنا اور کھنگالنا اور بھی آسان ہوجائیگا۔ بلیو ٹوتھ انیلائزر نام کا ایک ٹول بھی شامل ہے۔ کھیلوں میں شطرنج اور ٹیٹرس نیا اضافہ ہیں۔ دفتری امور کی انجام دہی کو اوپن آفس ہے۔ لیکن میں گوگل آفس استعمال کرتا ہوں۔ میڈیا پلئرز میں مجھے ہمیشہ شکایت رہی ہے۔ میرے خیال میں گنوم کا ٹوٹم ایک بالکل بے کار اور فضول ویڈیو پلئر ہے۔ ردہم باکس مجھے بہت پسند ہے۔ لیکن ٹوٹم کی جگہ میں وی ایل سی میڈیا پلئر استعمال کرتا ہوں۔

قصہ مختصر ابنٹو کا نیا نسخہ زیادہ صاف ستھرا اور تازہ ترین سوفٹویر سے لیس ہے۔ ابنٹو کو ڈیبیان یا دوسرے آپریٹنگ سسٹمز پر ایک یہ برتری بھی حاصل ہے کہ ابنٹو لنکس کی دنیا میں نوواردوں کے لئے زیادہ سہل ہے۔ اور اب تو وہ ریسٹریکٹڈ سوفٹویر بھی فراہم کررہے ہیں۔ حالانکہ اس پر اوپن سورس کمیونٹی میں کافی لے دے ہوچکی ہے، مگر حقیقت یہی ہے کہ اس سے ابنٹو استعمال میں اور بھی زیادہ سہل ہوگیا ہے۔ چونکہ میں زیادہ تر کام فائر فوکس پر ہی انجام دیتا ہوں تو گوگل براؤسر سائنک کی بدولت میرے لئے اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کہ میں کمپیوٹر اسٹارٹ کرتے ہوئے کونسا آپرٹینگ سسٹم بوٹ کرتا ہوں۔ اسلئے امید ہے کہ میں ابنٹو زیادہ استعمال کرسکوں گا۔

ذکر ایک قرآنی اطلاقیہ

بتاریخ: 23 فروری 2007

ذکر ایک آزاد سوفٹویر ہے جس کی مدد سے کمپیوٹر پر قرآن پڑھنا اور ترجمہ دیکھنا بہت آسان ہوجاتا ہے۔ یہ سوفٹویر لینکس کے علاوہ ونڈوز پر بھی چلتا ہے۔ اس سوفٹویر میں آیت نمبر اور سورہ نمبر ڈالیں اور فورا مطلوبہ آیت تک پہنچ جائیں۔ بائی ڈیفالٹ اس میں اردو ترجمہ شامل نہیں ہوتا لیکن اس میں جناب مولانا فتح محمد جالندھری کا اردو ترجمہ بھی ڈاؤنلوڈ کرکے شامل کیا جاسکتا ہے۔ اپلیکیشن کے اندر ہی مندرجہ ذیل فہرست پر جائیں:

View > Translations > More

جس سے آپ اس ویب صفحے پر پہنچیں گے۔ یہاں سے جالندھری صاحب کا ترجمہ اپنے ڈیسکٹاپ پر ڈاؤنلوڈ کریں۔ اب مندرجہ ذیل فہرست سے ترجمہ شامل کریں:

Tools > Add > Translation

اس کی دیگر خوبیوں میں تلاش کی خوبی بھی لائق بیان ہے۔ جس کی مدد سے ترجمے اور عربی قرآن میں کسی مخصوص لفظ کی تلاش کی جاسکتی ہے۔ بک مارک کی سہولت بھی بہت خوب ہے اس سے روزانہ مطالعہ کرنے والوں، دہرانے والوں، طالبعلموں، محققیقین اور اساتذہ کو بہت آسانی ہوگی۔ دینیات اور قرآن کے طالبعلموں کے لئے یہ ایک اہم اوزار ہے خصوصا اس لئے کہ اسے پلگ ان، تراجم، تھیم وغیرہ شامل کرکے ترقی دی جاسکتی ہے۔ اگر بائی ڈیفالٹ نظر آنے والا عربی، اردو یا انگریزی فونٹ آپ کو مناسب نہ لگے تو آپ اسے اپنے سسٹم پر موجود کسی بھی اچھے فونٹ سے تبدیل کرسکتے ہیں۔ یہ ایک کراس پلیٹ فارم اپلیکیشن ہے کسی بھی آپریٹنگ سسٹم پر اسے انسٹال کرنے کے لئے اس ڈاؤنلوڈ ربط پر جائیں۔ یاد رہے چونکہ یہ سوفٹویر جاوا پر چلتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ آپ کے کمپیوٹر پر سن جاوا رن ٹائم انوائرنمنٹ نصب ہو۔ اگر آپکے پاس سن جاوا رن ٹائم انوائرنمنٹ نصب نہیں ہے تو اسے سن جاوا کے ویب سائٹ سے مفت ڈاؤنلوڈ کیا جاسکتا ہے۔

علاوہ ازیں اس پروجیکٹ کو آپ کے تعاون کی بھی ضرورت ہے۔ اس پروجیکٹ میں ہاتھ بٹانے کے لئے گوگل گروپس پر ذکر میلنگ لسٹ پر اندراج کرائیں اور ترجمے، اپلیکیشن کی کنفگریشن، تھیم ڈیولپمنٹ، نئی خوبیوں کی درخواست اور خامیوں کی اطلاع دینے کے لئے ای میل کریں۔

ذکر منظر
ایک اسکرین شاٹ ، ذکر ابنٹو لینکس پر

ذکر منظر تلاش
دوسرا اسکرین شاٹ، ذکر تلاش منظر

سائبر ڈی ایس ایل

بتاریخ: 04 اکتوبر 2006

کل بالآخر میرے گھر میں سائبر ڈی ایس ایل کنکشن لگ گیا ہے۔ اس سلسلے میں مجھے سب سے زیادہ پریشانی پی ٹی سی ایل کی طرف سے ہوئی۔ کیونکہ میرے ٹیلیفون کا تار شکستہ تھا اور میرے کمپیوٹر سے بہت دور تھا۔ اس کے لئے میرے ذہن میں یہ غلط فہمی تھی کہ مجھے یہ کام لائن مین کو خرچہ پانی دے کر کروانا پڑے گا۔ یوں میں کچھ دن اپنے علاقے کے لائن مین کے پیچھے لگا رہا۔ لائن مین اس چکر میں تھا کہ جیسے ہی اس کے پاس فالتو تار ہوگا وہ میرا کام کرکے کچھ چائے پانی بنالیگا۔ لیکن جب کافی دن گزر گئے تو میں نے اپنے ایکسچینج کے ڈیویژنل انجینئر جناب نسیم حیدر کو فون ملایا۔ انہوں نے میری شکایت تحمل سنی اور مجھے متعلقہ ایس ڈی او کا نمبر دیا۔ ایس ڈی او صاحب نے وعدہ کیا کہ میرا تار اگلے دن ہی مل جائے گا۔ مگر اگلے دن تار نہیں ملا اس سے اگلے دن مجھے پھر جناب نسیم حیدر صاحب کو فون کرنا پڑا انہوں نے مدعا سن کر مجھے دس منٹ بعد فون کرنے کو کہا۔ پانچ منٹ ہی نہ ہوئے تھے کہ ایس ڈی او صاحب کا فون آگیا۔ انہوں نے از سر نو شکایت معلوم کی اور وعدہ کیا ان کے لائن مین ایک گھنٹے سے پہلے پہنچ جائیں گے۔

اور ایسا ہی ہوا۔ لائن مین گرچہ روزے سے تھے اور شدید گرمی اور دھوپ میں اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔ مگر بہت خوش اخلاق تھے اور میری مرضی کے مطابق میرا کام کرکے گئے۔ جاتے ہوئے کہنے لگے کہ ایس ڈی او صاحب کے نام رقعہ لکھ دیں کہ آپ کا کام ہوگیا ہے۔ میں نے اس رقعے میں جناب ایس ڈی او صاحب اور جناب ڈویژنل انجینئر صاحب کا شکریہ ادا کیا اور ان کے لائن مینوں کی مہارت، خوش خلقی اور فرض شناسی کی تعریف کی۔

اس کام میں جو بھی دیر ہوئی وہ سراسر میری غلطی تھی کہ میں قانون شکنی کرتے ہوئے ایک شارٹ کٹ سے ایک ایسا کام کروارہا تھا جو آسانی سے قانونی طریقے اور ضابطے کے تحت ہوسکتا تھا۔

اگلے دن سائبر نیٹ والوں نے آکر موڈیم کی انستالیشن کردی۔ سائبر ڈی ایس ایل میرے کیبل نیٹ سے چار گنا زیادہ تیز رفتار ہے۔ ڈاؤنلوڈ رفتار چالیس اور پچاس کلوبائٹ فی سیکنڈ کو چھو رہی ہے۔ انٹرنیٹ کی اس برق رفتاری کا ایک نقصان بھی ہے کہ پہلے میں جو کام تین گھنٹوں میں کرتا تھا وہ اب ایک گھنٹے میں ہی ہوجاتا ہے۔ میں سائبر ڈی ایس ایل ہر کسی کو تجویز کرتا ہوں۔ کیونکہ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ان کی کسٹومر سپورٹ بہت عمدہ ہے۔ آپ کو بذریعہ فون چوبیس گھنٹے کی ٹیکنیکل سپورٹ دستیاب ہوتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ سائبر نیٹ کے پاس صارفین کو مطمئن کرنے اور ایک بڑی تعداد میں وفادار صارفین کو رکھنے کا کئی سالہ تجربہ ہے۔ میں لنکس استعمال کرتا ہوں تو میں سمجھ رہا تھا کہ ان کی جو ٹیم انسٹالیشن کے لئے آئے گی وہ لنکس سے بابلد ہوگی۔ مگر ایسا نہیں تھا ان کی ٹیم لنکس سے واقف تھی گرچہ انہوں نے کبھی کسی ڈیسکٹاپ لنکس پر موڈیم انسٹال نہیں کیا تھا۔ اور ابنٹو میں تو کافی چیزیں ویسے ہی خود بخود ڈیٹیکٹ ہوجاتی ہیں۔ انسٹالیشن کے لئے آنے والی ٹیم کو میں نے ابنٹو کی سی ڈیز بانٹیں جس سے وہ بہت خوش ہوئے اور وعدہ کیا کہ وہ اسے ضرور آزمائیں گے۔

فاضل مضمون نگار

بتاریخ: 03 ستمبر 2006

میرا ابنٹو تجربہ اسپائیڈر کے تازہ ترین شمارے میں پڑھئیے۔ اس مضمون میں کوئی خاص بات نہیں اور میرا بلاگ پڑھنے والے لوگ اسے پہلے ہی اردو میں پڑھ چکے ہیں۔ چاہے کوئی مجھے شیخی خورہ ہی کہے لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ اب میں باقاعدہ مضمون نگار ہوگیا ہوں۔ اور کسی کے بھی سامنے اسپائیڈر کا پرچہ لہرا کر شیخی بھگار سکتا ہوں۔

آزادی کا لطف

بتاریخ: 29 جولائی 2006

xubuntu-xfce-screenshot.pngلنکس پر جو آزادی کا مزہ ہے وہ ونڈوز کے استعمال کنندگان کیا جانیں۔ اب یہی دیکھیں لنکس کی جو ڈسٹرو یعنی ابنٹو میں استعمال کرتا ہوں صرف اس میں تین فلیور ہیں۔ ابنٹو، کبنٹو اور زبنٹو۔ ابھی ابھی میں نے زبنٹو ڈاؤنلوڈ اور انسٹال کیا ہے۔ اور بھئی کیا بات ہے مان گئے اوپن سورس کی آزادی اور آسانی کو۔ زبنٹو ایک ہلکا اور سبک رفتار آپریٹنگ سسٹم ہے جو کم میموری پر بھی بہترین پرفارمنس دیتا ہے۔ یہ اسطرح ممکن ہے کہ یہ جنوم یا کے ڈی ای کے بجائے ایکس ایف سی ای استعمال کرتا ہے جو خصوصا رفتار اور ضروریات کو مدنظر رکھ کر بنایا جانیوالا ایک ڈیسک ٹاپ ماحول ہے۔

لنکس کی مثال ایک عمارت کی سی ہے جس کی بنیاد ہے لنکس کرنل۔ اس کرنل کے اوپر دیگر سوفٹویر اینٹوں کی طرح جڑتے چلے جاتے ہیں اور عمارت بنتی چلی جاتی ہے۔ چاہے تو آپ آسمان کو چھوتی اسکائی اسکریپر بنالیں یا چاہیں تو ایک دو کمروں کا مکان۔ چاہیں تو خالی بنیاد ہی ڈال کر چھوڑ دیں۔

ابنٹو لنکس کے کرنل پر ڈیبین استعمال کرتا ہے۔ جو ایک اور کمیونٹی پروجیکٹ ہے جسکا مقصد آزاد سوفٹویر کو آسانی سے منتظم کرنا ہے۔ جنوم، اور کے ڈی ای گرافیکل یوزر انٹرفیس اور ڈیسک ٹاپ ماحول فراہم کرتے ہیں جس میں آپ ڈیبین کے پیکجز جمع کرتے چلے جاتے ہیں اور اپنا آپریٹنگ سسٹم بناتے چلے جاتے ہیں۔ ابنٹو لنکس کی ایک ڈسٹریبیوشن (ڈسٹرو) ہے جو لنکس، ڈیبین، جنوم، کے ڈی ای، ایکس ایف سی ای وغیرہ کو بنڈل بنا کر آپ تک پہنچاتی ہے۔ آپ چاہیں تو یہ سب استعمال کریں اور چاہیں تو کوئی بھی استعمال نہ کریں۔ جو پیکیج آپ کو پسند نہ آئے وہ نکال دیں اور جو نئی چیز انسٹال کرنا چاہیں وہ سائینیپٹک سے اتار لیں۔

خیر تو بات ہورہی تھی۔ ایکس ایف سی ای کی جسے انسٹال کرنے سے میری کمپیوٹر کی رفتار اور استعداد میں حیران کن اضافہ ہوگیا ہے۔ ایسا نہیں کہ ایکس ایف سی ای کوئی کم خوبصورت ہے۔ یوزر انٹرفیس، ڈیزائن اور گرافک میں جنوم کی ٹکر کا ہی ہے۔ اور ایسا بھی نہیں کے آپ جنوم یا کے ڈی ای کی کوئی ایپلیکشن اس میں نہیں چلاسکتے۔ اب جنوم اور کے ڈی ای کی تمام اپلیکیشنز اس میں چلاسکتے ہیں۔ اس میں ایبی ورڈ اور جی نمیریک ہے جو اوپن آفس کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے کام انجام دیتے ہیں۔ ویڈیو، میوزک، چیٹ، گیم، ویب سرور غرض ہر طرح اسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ایک جی بی کی میموری پر یہ راکٹ ہے تو ایک سو اٹھائیس ایم بی پر بھی گولی ہے۔

یہاں میں یہ وضاحت کرتا چلوں کہ غیرقانونی، مسروقہ ونڈوز استعمال کرنا قانونا قابل سزا جرم ہے۔ یہ بات بھی طےشدہ ہے کہ یہ بالکل غیراسلامی بھی ہے اور غیر اخلاقی بھی۔ خصوصا تب جب آزاد اور مفت آپریٹنگ سسٹم وافر مقدار میں باسہولت طریقوں سے دستیاب ہیں۔ آزاد سوفٹویر کی دستیابی کے باوجود آپ کی چوری مجبوری نہیں بلکہ ڈاکہ زنی بن جاتی ہے۔ تمام ترقی پذیر ممالک کی عوام کو آزاد سوفٹویر اس لئیے بھی استعمال کرنا چاہئیے کیونکہ یہ انہیں مائیکروسوفٹ اور دیگر مغربی کارپوریشنوں کی غلامی سے آزادی دلاتا ہے۔ آزادی آپ سے چند کلک کے فاصلے پر کھڑی ہے۔

ابنٹو ڈیسکٹاپ سے بلاگر

بتاریخ: 20 اپریل 2006

یہ پوسٹ میں ابنٹو لنکس سے بذریعہ جینوم بلاگ اینٹری پوسٹر بھیج رہا ہوؒں۔ آج کل میرا سب سے زیادہ پسندیدہ مشغلہ ابنٹو اور لنکس ہی ہیں۔ دیکھیں میرا ابنٹو بلاگ۔

کیا آپ کی ونڈوز میں ہے یہ بات؟

بتاریخ: 16 مارچ 2006

اوہ! اوہ!ا بنٹومیں پچھلے کچھ سالوں سے کمپیوٹر استعمال کررہا ہوں۔ میرے کمپیوٹر پر پہلے ونڈوز انسٹال تھی۔ ونڈوز اٹھانوے اور پھر ایکس پی۔ لیکن چوری شدہ ونڈوز استعمال کرنے پر میرا دل ملامت کرتا رہتا تھا۔ خدانخواستہ میں اتنا غریب نہیں کہ اصل ونڈوز خرید نہ سکوں لہذا ضمیر کی اس خلش سے بچنے کا آسان طریقہ تھا چوری شدہ یا مسروق ونڈوز سے جان چھڑانا۔ اس کے دو حل تھے ایک تو یہ کہ میں ونڈوز کا لائسنس حاصل کرلوں یا پھر اوپن سورس آپریٹنگ سسٹم انسٹال کرلوں۔

ایک سال پہلے میں نے دوسرے راستے کو ترجیح دی۔ کیونکہ پہلا راستہ مہنگا اور اتنا پائیدار نہیں کہ اس پر اعتماد کیا جاسکے اور پیسے خرچ کرنے کے بعد آرام نہ ملے تو کیا فائدہ؟ لہذا میں نے اپنے کمپیوٹر کے لئے لنکس ریڈ ہیٹ کا دسواں ورژن ایک سو پچاس روپے میں لینکس پاکستان والوں سے خریدا۔ مگر اس میں بہت مسئلے مسائل کا سامنا کرنا پڑا، انسٹالیشن کے بعد ہارڈویر کے چند مسائل کی وجہ سے میں اسے استعمال نہ کرسکا اور مجبورا ونڈوز کی طرف دوبارہ رجوع کیا۔ مگر پھر وہی الجھن، حالانکہ پورا پاکستان نیک سے نیک، شریف سے شریف، ایماندار سے ایماندار، امیر سے امیر ترین اور غریب تر لوگ بھی مسروق شدہ ونڈوز استعمال کررہے ہیں۔ کسی کو اس میں کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔ اور میں کونسا ایسا پارسا ہوں کہ مسروق شدہ ونڈوز استعمال نہیں کرونگا؟ اگر بل گیٹس کو یہ ناگوار ہوتا تو کب کا یہ ڈاکہ زنی رکوادیتا۔ مگر اس نے نہیں رکوائی کیوں؟ تاکہ ہم لوگ چوری شدہ ونڈوز استعمال کرتے رہیں۔

کچھ دن بعد میں نے ابنٹو کے بارے میں پڑھا۔ یہ لنکس کی ڈیبیان پر مبنی ڈسٹرو ہے۔ ان کے ویب سائٹ پر ایک لنک تھا جہاں سے کوئی بھی ابنٹو دنیا میں کہیں بھی بالکل مفت منگواسکتا تھا۔ بس پھر کیا تھا میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ فٹ فارم پر کر ارسال کیا۔ دو ہفتے میں مجھے ابنٹو کا پیکیج موصول ہوگیا۔ اس پیکیج میں ایک لائیو سی ڈی تھی اور ایک انسٹال سی ڈی۔ پہلے لائیو سی ڈی لگا کر دیکھی تو پتہ چلا کہ میرا سسٹم ابنٹو سے مکمل کمپیٹیبل ہے۔

ڈرتے ڈرتے اپنی ڈی ڈرائیو صاف کی، سی ڈرائیو میں ونڈوز رہنے دی اور ڈی میں ابنٹو کی انسٹالیشن شروع کی۔ انسٹالشن میں ونڈوز سے دگنا وقت لگا۔ تاہم آسانی سے انسٹالیشن ہوگئی۔ لاگ آن ہوا ویب براؤسر کھولا تو میرا کیبل کنکشن بالکل ٹھیک چل رہا تھا۔ ای میل کلائنٹ کنفگر کیا تو پتہ چلا کہ میرے کیبل والے کا روٹر ونڈوز کا آئی ایس اے سرور استعمال کرتا ہے۔ کیبل والے سے رابطہ کیا تو پتہ چلا کہ وہ لنکس کے بارے میں مدد فراہم کرنے سے قاصر ہے تاہم ان کے پاس ایک لڑکا کام کرتا ہے جو لنکس پر نیٹ ورکنگ کا تجربہ رکھتا ہے لیکن وہ ان دنوں دبئی گیا ہوا تھا اور اس کی آمد دو مہینے سے پہلے متوقع نہیں تھی۔ مایوس ہوکر میں نے ونڈوز کی سی ڈی کے ذریعے ابنٹو کا صفایا کردیا۔

کچھ دن بعد اردو محفل پر لنکس کارنر دیکھا۔ تو دل میں ایک امید جاگی اور ابنٹو کے بارے میں ایک پوسٹ لکھی اس امید پر کہ شاید کچھ مدد مل جائے اور پوسٹ لکھنے کے فورا بعد ابنٹو دوبارہ انسٹال کی۔ اب بھی وہی مسائل درپیش تھے جو پچھلی انسٹالیشن میں تھے۔ مگر اب کی بار میں نے ہمت نہ ہارنے کا تہیہ کررکھا تھا۔ ابنٹو کے چیٹ روم میں گیا، سپورٹ فورمز پر مدد طلب کی مگر کوئی بھی ونڈوز کے آئی ایس اے سرور کے بارے میں مدد فراہم کرنے پر تیار نہ تھا۔ بالآخر چند گھنٹوں کی مسلسل تلاش اور دسیوں حل آزمانے کے بعد بالآخر ایک حل مل ہی گیا جسے آزمانے سے ای میل، چیٹ، ایف ٹی پی سب نے کام شروع کردیا۔ اب مسئلہ تھا موڈیم کنفگر کرنے کا، چونکہ میرا موڈیم کنکسنٹ لنکس سے کمپیٹیبل نہیں تھا اور کاپی رائٹ کے مسئلوں کی وجہ سے ابنٹو اس کا ڈرائیور فراہم کرنے سے قاصر تھا۔ تلاش کرتا کرتا لنکسنٹ نامی سائٹ پر پہنچا جہاں سے ہزار مشکل کے بعد بالآخر اپنے موڈیم کے لئیے سوفٹویر حاصل کیا۔ موڈیم کنفگر کیا اور وہ فورا کنیکٹ ہوگیا۔

ایک اور مسئلہ موسیقی کے حوالے سے تھا۔ رئیل فارمیٹ، ایم پی تھری، ویو اور اے وی آئی فارمیٹ بائی ڈیفالٹ ابنٹو میں شامل نہیں تھے اور کوئی لنکس بیسڈ میڈیا پلیر انہیں اسوقت تک نہیں چلاسکتے جب تک خصوصی کوڈیکس ڈاؤنلوڈ نہ کئے جائیں۔ بہر حال کوڈیکس بھی انسٹال ہوگئے۔

اب کوئی ایسا کام نہیں بچا تھا جو میں ونڈوز پر کرسکتا تھا اور ابنٹو پر نہیں۔ لہذا پچھلے ایک ہفتے سے میں مسلسل ابنٹو استعمال کررہا ہوں اور بہت خوش ہوں۔ اسلئے بھی کہ میں اسے استعمال کرنے کا قانونی طور پر اختیار رکھتا ہوں اور اسلئیے کہ یہ ونڈوز سے ہزار گنا بہتر ہے۔

اوپن آفس، پی ڈی ایف، میڈیا پلئیر، ایم ایس این، یاہو، آئی آر سی، پی ایچ پی، پائتھن، ویب، ای میل، ہزارہا مختلف قسم کے مفت سوفٹویر۔ سب کچھ تو ہے اس میں! میں ڈیسک ٹاپ پر ویدر رپورٹ دیکھ سکتا ہوں، ساؤنڈ فائلز ریکارڈ کرسکتا ہوں، ای بکس پڑھ سکتا ہوں، لکھ سکتا ہوں، کئی قسم کے گیم کھیل سکتا ہوں، اپنی بھانجی کے لئے معیاری تعلیمی سوفٹویر انسٹال کرسکتا ہوں، عازب کے لئے آڈیو مکسنگ سوفٹویر شامل ہیں، کچھ پریشانی ہو تو زبردست سپورٹ آپشنز ہیں جہاں سے دو منٹ سے بھی کم وقت میں جواب آتا ہے۔ اور یہ سب کچھ مفت اور قانونی۔ کیا آپکی ونڈوز میں ہے یہ بات؟