دہشت گردی

موضوع: دہشت گردی

بدی کو کوسیں، بدنام کو نہیں

بتاریخ: 10 اپریل 2008

مجھے اپنے ہموطنوں سے شکوہ ہے کہ اکثر وہ انجانے میں مہاجروں پر الزامات لگاتے ہیں۔ مجھے اندازہ ہے کہ وہ ایسا بالکل نہیں کرنا چاہتے لیکن کراچی کے فسادات کا تذکرہ ہو تو لوگ خودبخود شہر کو اردو بولنے والوں اور دیگر زبانیں بولنے والوں کے درمیان تقسیم کردیتے ہیں۔ سوال اٹھائے جاتے ہیں کہ مہاجر ایم کیو ایم جیسی گھٹیا جماعت کو کیوں سپورٹ کرتے ہیں۔ مہاجر خود کو مہاجر کیوں کہلواتے ہیں۔ مہاجر ایسے، پنجابی ویسے، پختون ویسے۔ وغیرہ وغیرہ۔ میں مہاجر ہونے کو کوئی بے عزتی نہیں بلکہ فخر کی بات سمجھتا ہوں۔ مگر ایسے تذکروں سے مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے میری قومیت پر سوال اٹھایا جارہا ہو۔ جیسے میرے مزاج کو ایک مخصوص سیاسی جماعت کا مزاج سمجھا جارہا ہو۔ اور میری سوچ کو قومی سوچ کے برخلاف سمجھا جارہا ہو۔

میں اکثر لکھتا ہوں کہ اگر کراچی کے حالات کا ذکر ہو تو لامحالہ اس تذکرے سے لسانیت اور تعصب کی بو آنے لگتی ہے۔

عموما ایسے تذکروں میں آپ دیکھیں گے کہ آدھے مہاجر ایم کیو ایم کی صفائی دینے لگتے ہیں اور باقی آدھے یہ صفائی پیش کرنے لگتے ہیں کہ ایم کیو ایم مہاجروں کی نمائندہ جماعت نہیں ہے۔ جیسے ہم ہی چور ہوں، ہم ہی ملزم ہوں اور ہم ہی پر مقدمہ چلایا جارہا ہو۔ آخر ہم صفائی کیوں پیش کریں؟

یہاں حالات خراب کرنے کے لئے کسی کو محض تیس چالیس غنڈوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جہاں ایک طرف اس شہر میں روزگار کی فراوانی ہے وہاں دوسری طرف یہاں روزانہ پورے ملک سے سینکڑوں غیر ہنرمند، بے پڑھے لکھے اور انتہائی پسماندہ علاقوں کے نوجوان خواب لیکر آتے ہیں۔ یہ ان نوجوانوں کے علاوہ ہیں جو اس شہر میں پہلے سے رہ رہے ہیں۔ ان کے پاس روزگار نہیں، کوئی اعلی نظریات نہیں، کرنے کو کوئی قابل ذکر کام نہیں۔ یہ لوگ ایسے گروہوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو انہیں ان فسادات میں بطور پٹرول استعمال کرتے ہیں۔ یہ گروہ بھرتی کرتے وقت کبھی بھی مہاجر، سندھی، پنجابی، پختون یا بلوچ نوجوان میں کوئی تفریق نہیں کرتے۔ اور ان غنڈوں میں آپ کو ہر قومیت کے لوگ ملیں گے۔ ناراض، بے روزگار اور خود کو منوانے کی خواہش رکھنے والے ان نوجوان غنڈوں کی مارکیٹ سے انہیں ایم کیو ایم ہی نہیں کوئی بھی سیاسی جماعت، جرائم پیشہ گروہ، ایجنسیاں یا لسانی تنظیم کبھی بھی کرائے پر حاصل کرسکتی ہے۔

بد اچھا اور بدنام برا، سارے فساد کا الزام لوگ اسی جماعت کے سر ڈال دیتے ہیں جو بدنام ہے۔ بلاشبہ وہ جماعت غنڈہ گردی اور دہشت گردی میں ملوث رہی ہے۔ لیکن اگر ہم حقائق سے نظریں چراتے رہیں گے اور الزام تراشی کے لئے آسان ترین شکار پر ضرب لگاتے رہیں گے تو ہم کبھی مسائل سلجھا نہیں سکیں گے۔

ان واقعات کا آغاز اس دن سے ہوتا ہے جب آصف زرداری نائن زیرو پہنچتے ہیں۔ جہاں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی جو ہمیشہ ایک دوسرے کو نظریاتی حلیف قرار دیتے رہے ہیں، اپنے پرانے اختلافات سے دست بردار ہونے پر تیار ہوجاتے ہیں۔ ایم کیو ایم نوے کی دہائی میں ہونے والے اپنے کارکنان کے ماورائے عدالت قتل پر پیپلزپارٹی سے معافی نامے کا مطالبہ ترک کردیتی ہے اور پیپلزپارٹی ایم کیو ایم کو بارہ مئی کے واقعے پر معاف کردیتی ہے۔ ایم کیو ایم پیپلز پارٹی کو غیرمشروط تعاون اور حمایت کا اپنا وعدہ دہراتی ہے۔ اور اگلے دن سے عجیب و غریب واقعات کا تسلس شروع ہوجاتا ہے۔

اسمبلی میں تین نشستیں رکھنے والی ایم ایم اے کو وزارت دی جاتی ہے۔ ق لیگ کے لوٹوں کو ن لیگ میں قبول کیا جاتا ہے۔ مقدمے معاف ہوتے ہیں، جج رہا ہوتے ہیں۔ ہر طرف مفاہمت کا دور دورہ ہے۔ تو اس مفاہمت میں قومی اسمبلی میں انیس نشستیں رکھنے والی جماعت کو شامل کرنے میں کس کو اعتراض ہے اور کیوں؟ جب کہ ایم کیو ایم کی مفاہمت صرف پیپلز پارٹی سے ہے نہ کہ حکمران جماعت کے تمام اتحادیوں سے۔ سوال یہ ہے کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے قریب آنے سے نقصان کس کا ہے؟

کراچی کی مختصر سی تاریخ حادثات اور فسادات سے بھری پڑی ہے۔ لسانی اور سیاسی جھگڑوں کے حوالے سے یہ شہر ہمیشہ زخم کھاتا رہا ہے۔ ہر تازہ زخم کے بعد یہ شہر پھر بھی اپنی ترقی کا سفر جاری رکھتا ہے۔ اور سب کی طرح مجھے بھی ڈر لگتا ہے کہ کہیں کسی دن یہ زخموں سے اتنا چھلنی نہ ہوجائے کہ پھر اٹھ نہ سکے اور اس کی کہانی ایک بے تکے موڑ پر ختم ہوجائے۔

دہشت، انتہاپسندی اور ویلنٹائن ڈے

بتاریخ: 14 فروری 2008

دنیا بھر میں ویلنٹائن ڈے منایا جارہا ہے۔ کراچی میں پھولوں، تحائف اور ویلنٹائن کارڈز کی فروخت زوروں پر ہے۔ خود راقم نے۔ آہم آہم۔۔۔

تاہم چند ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں محبت کرنے والے لوگ بالکل پسند نہیں۔ وہ آدمی اور عورت، لڑکا اور لڑکی کے درمیان محبت کے اظہار کو مغربی تہذیبی یلغار سمجھتے ہیں۔ ان لوگوں کے عزائم انتہائی جارحانہ ہیں۔ اور نعمان وقتا فوقتا اپنے بلاگ کے قارئین کی توجہ ان کی طرف مبذول کراتا رہتا ہے تاکہ لوگ ان عناصر سے چوکنے رہیں۔

چوکنے رہنے پر یاد آیا کوئی دو روز قبل ٹیلیویژن پر نیوز چینلز نے یہ سلائیڈ چلائی کہ دو مشتبہ خود کش بمبار جن کا تعلق وزیرستان سے ہے وہ کراچی پہنچ چکے ہیں۔ شہر بھر میں سیکیوریٹی انتہائی سخت کردی گئی۔ افواہیں یہ اڑنے لگیں کہ ان میں ایک بمبار ساٹھ سال کی عمر کا قبائلی بوڑھا جس نے براؤن جیکٹ پہن رکھی تھی اور اسے چادر سے چھپا رکھا تھا۔ اس نے ایک کار سوار سے لفٹ لی۔ پھر کار سوار کو اپنی خودکش جیکٹ دکھائی اور اس سے گورنر ہاؤس والی سڑک پر چلنے کو کہا۔ کار سوار اپنی جان خطرے میں ڈال کر اسے سارے شہر میں گھماتا رہا۔ تنگ آکر اس بوڑھے نے خود ہی کار سے اترنے کا فیصلہ کرلیا۔ کار سوار فورا سی پی ایل سی گورنر ہاؤس پہنچا اور اس نے مشتبہ بمبار کا خاکہ بنوایا۔

اپڈیٹ: یہ افواہ نہیں بلکہ سچی خبر نکلی

اس افواہ میں کئی جھول ہیں مسئلا یہ کہ کراچی شہر میں کوئی کسی اجنبی کو رات کے وقت لفٹ کیوں دے گا۔ دوسری بات خودکش بمبار گاڑی چھیننے کے بجائے لفٹ لینا کیوں پسند کرے گا؟ لیکن بہر حال اس سے شہر بھر میں سیاسی کارکن ڈرے رہے اور وہ ایسے تمام پختونوں کو مشکوک نظروں سے دیکھتے رہے جنہوں نے جیکٹ پہن رکھی ہو یا چادر لپیٹ رکھی ہو۔

خون ناحق کی صدا

بتاریخ: 31 دسمبر 2007

میں اپنے بلاگ پر کئی مرتبہ لکھ چکا ہوں کہ پاکستان کی عوام کو ہر صورت الیکشن کے دن باہر آنا ہوگا اور اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنا ہوگا۔ کیونکہ یہ بات ازحد ضروری ہے کہ پاکستان کو موجود خطرناک حالات سے ایک منتخب حکومت نمٹے۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے الیکشن میں ہرصورت حصہ لینے کا اعلان کیا ہے، پاکستان مسلم لیگ (ن) بھی الیکشن میں حصہ لینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ عالمی برادری پاکستان پر جمہوریت کی طرف واپسی کے لئے دباؤ ڈال رہی ہے اور دنیا ہماری طرف دیکھ رہی ہے کہ ہم کس راستے کا انتخاب کرتے ہیں۔ ایک راستہ عالمی برادری میں ہماری قدر، ہمارے اعتماد اور بطور قوم ہمارے وقار میں اضافے کا سبب بنے گا۔ اور دوسرا راستہ خودکشی کا ہے۔

اسٹیبلیشمنٹ نے اپنے پسندیدہ نمائندوں کو جتانے کا انتظام کر رکھا ہے۔ گھوسٹ پولنگ اسٹیشن، مہرزدہ بیلٹ پیپرز، انتخابی فہرستوں کے گھپلے اور بلدیاتی انفراسٹرکچر کا انتخابی استعمال سمیت کئی الزامات لگائے جارہے تھے۔ پاکستان کے دونوں سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور بےنظیر کے اعلان کیا تھا کہ وہ الیکشن میں حصہ لیں گے اور لوٹا لیگ کے لئے میدان کھلا نہیں چھوڑیں گے۔ محترمہ پچھلے دو سال سے جنرل اور صدر مشرف سے مذاکرات کرتی رہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد کچھ لوگ اقتدار کا حصول بتاتے ہیں۔ میں ان لوگوں سے یہ سوال کرتا ہوں کہ کیا بیلٹ پیپر کے ذریعے اقتدار کے حصول کی کوشش کرنا جرم ہے؟ اگر جرم ہے تو یقینا اس کی مذمت کریں۔ اگر نہیں ہے تو ستائش کریں کہ محترمہ نے ہمیشہ بیلٹ پیپر کے ذریعے اقتدار کے حصول کو اپنا طریقہ بنایا اور احتجاجی سیاست سے گریز کرا۔ اس کے لئے انہوں نے نواز شریف کے ساتھ چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط کرے۔ اس کے لئے انہوں نے پرو مشرف ہونے کا طعنہ بھی سنا۔ مگر مذاکرات، ڈپلومیسی اور آئینی طریقے سے مشرف کو رخصت کرنے کو صحیح اور بہتر راستہ چنا۔ چاہے آپ کو بے نظیر سے کتنے ہی اختلاف ہوں لیکن کیا آپ بھی میری طرح یہ باتیں سوچ رہے ہیں:

  • بے نظیر میں ایسا کیا تھا کہ کچھ لوگوں کو اسے قتل کرنا پڑا؟
  • وہ کون لوگ تھے کہ جن کے مفادات کو بےنظیر کی کامیابی سے نقصان پہنچنا تھا؟
  • کیا اسے اس لئے قتل کیا گیا کہ وہ انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف تھی؟
  • یا اسے اس لئے قتل کیا گیا کہ وہ پاکستان کے عوام کی ووٹوں پر منتخب ہوکر اقتدار میں آنا چاہتی تھی؟
  • کیا دہشت گردی کو غلط سمجھنا گناہ ہے؟ کیا عوام کی طاقت، پارلیمنٹ کی بالادستی اور جمہوریت کے لئے کام کرنا غلط ہے؟

جن لوگوں نے بےنظیر کو قتل کیا وہ پاکستان کے دشمن تھے، وہ پاکستان کی عوام کے دشمن تھے۔ وہ نہیں چاہتے کہ پاکستان کی عوام کو جمہوریت، انصاف، امن اور خوشحالی حاصل ہو۔ کیا آپ ان کا مقصد کامیاب ہونے دیں گے؟ یا آپ الیکشن کے دن گھر سے نکلیں گے اور ووٹ دیں گے؟ آپ اگر بے نظیر کے مداح ہیں تو شہید شہزادی کے مقصد کو کامیاب بنائیں۔ اگر آپ بےنظیر کے نقاد ہیں تب بھی گھر سے نکلیں، اور پیپلزپارٹی کو نہ سہی، اپنی پسند کے نمائندے کو ووٹ دیں اور پاکستان کے دشمنوں کے منصوبوں کو ناکام بنادیں۔ اگر آپ ووٹ نہیں ڈالیں گے تو آمریت، ظلم، دہشت گردی، نا انصافی، اور افراتفری جاری رہے گی۔

12/30/2007

نیویارک ٹائمز پر:
پاکستان کے مقامی دہشتگرد، القاعدہ خطرے میں اضافے کا سبب

پاکستانی انگریزی اخبار ڈیلی ٹائمز اپنے ادارئے میں لکھتا ہے کہ حملے کرکے جھٹلانا القاعدہ کے لئے کوئی نئی بات نہیں۔ گرچہ محترمہ کو اس بات کا اندازہ تھا کہ القاعدہ اور طالبان کی ٹاپ ہٹ لسٹ پر ان کا نام ہے اور یہ کہ ان کے سیاسی مخالفین بھی انہیں مکمل امریکہ نواز اور پرو مشرف ثابت کرنے پر تلے ہیں۔ تب بھی وہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کو پاکستان کو لاحق سب سے بڑا خطرہ قرار دیتی رہیں۔ انہیں اس بات کی پرواہ نہیں تھی کہ اس سے وہ امریکہ نواز ثابت ہورہی ہیں اور اس کا اثر ووٹوں پر پڑ سکتا ہے۔

چاہے آپ اس بات سے سرے سے انکاری ہوں کہ بےنظیر کا قتل القاعدہ کے مقامی دہشتگردوں نے کیا ہے۔ تب بھی اس حقیقت سے انکار کرنا بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلینے کے مترادف ہوگا کہ پاکستان کو انتہاپسند دہشت گردوں سے شدید خطرہ لاحق ہے۔ قوم کو چاہے دہشت گردی سے نمٹنے کے مشرف کے طریقہ کار پر اعتراض ہو، لیکن ایک بھیانک خطرہ جو بالکل سامنے کھڑا ہے اسے پہچان لینا چاہئے۔ محترمہ کے مخالفین ان پر امریکہ کا پٹھو اور مشرف نواز ہونے کا الزام لگاتے رہے۔ لیکن اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بھی وہ پاکستان کے اینٹی امریکی ماحول میں بھی سچ کہتی رہیں، یہ سوچنا حماقت ہوگا کہ محترمہ کو پرو امریکہ ہونے کے سیاسی اور انتخابی مضمرات سے آگاہی نہیں تھی یا یہ کہ وہ روایت پسند اردو میڈیا پر کی جانیوالی اپنی کردارکشی سے بے خبر تھیں۔ لیکن ان کے ذہن میں بھی ضرور یہ خیال تھا کہ کیا ہم دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ صرف اس لئے نہ لڑیں کیونکہ یہ امریکہ کے مفاد میں ہے؟ کیا ہزاروں پاکستانیوں کی زندگیوں کو لاحق خطرہ بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو ہماری جنگ نہیں بناتا۔

12/28/2007

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے سانحے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے:

تنظیم کے مطابق ایسی تفتیش کی اہمیت اس لیے بڑھ گئی ہے کہ محترمہ بھٹو نے اپنی ہلاکت سے پہلے کھلے عام حکومت پر الزام لگائے تھے کہ انہیں سیکیورٹی فراہم نہیں کی جارہی۔

اس کے علاوہ تنظیم کے نمائندے کے بقول پاکستان میں آزاد عدلیہ کی غیر موجودگی میں بھی ایسی تحقیقات کا غیر جانب دارانہ ہونا بے حد اہم ہے۔

وزارت داخلہ نے قتل کا ذمہ دار بیت اللہ محسود کو ٹہرایا ہے۔

پیپلز پارٹی نے وزارت داخلہ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اصل مجرموں کو چھپانے کی کوشش ہے۔

12/28/2007

بے نظیر بھٹو کا قتل
نیویارک ٹائمز پر گیٹی امیجز کے فوٹوگرافر جان مور کی جائے واردات پر کھینچی گئی تصاویر۔ جان مور محترمہ کی انتخابی مہم کور کررہے تھے۔

بتاریخ: 27 دسمبر 2007

ہماری شہزادی کو قتل کردیا گیا. آخر ظالم، درندے، دہشت کے متوالے کامیاب ہیوگئے. انہوں نے جمہوریت کی ہماری امید کو قتل کردیا. اللہ تو میری والدہ کو صبر دے، اللہ تو پاکستانی قوم کو صبر دے، اللہ تو ہماری شہزادی کے بچوں کو صبر عطا فرما انہیں حوصلہ عطا فرما. یاللہ اس مشکل گھڑی میں ہماری مدد فرما. محترمہ بے نظیر بھٹو آپ ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گی.

12/10/2007

پاکستان میں جمہوریت دنیا کے لئے کیوں ضروری ہے - بینظیر بھٹو

کرسچن سائنس مانیٹر پر محترمہ کا مضمون۔ اور ڈاکٹر علوی کی پوسٹ۔

10/28/2007

ٹائم میگزین پر بے نظیر بھٹو کا مشکل ترین مشن:

ٹائم میگزین سرورق(انگریزی سے اقتباس)
اس سے بھی مشکل کام ہوگا واشنگٹن کی توقعات کا انتظام کرنا کہ بے نظیر عسکریت پسندوں کے خلاف مضبوط کاروائی کریں۔ بے نظیر نے دعوی کیا ہے کہ جنرل مشرف نے عسکریت پسندی سے نمٹنے کے لئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کرے۔ لیکن خود انہوں نے بھی کوئی ٹھوس حل فراہم نہیں کرے ہیں، سوائے اس کے کہ جمہوریت کو ہی پاکستان کی سب بیماریوں کے تریاق کے طور پر استعمال کیا جائے۔ “یہ بالکل واضح ہوچکا ہے کہ آمریت باکل سودمند نہیں ہے اور یہ صورتحال کو مزید ابتر اور طوائف الملوک بنارہی ہے۔” وہ کہتی ہیں “اور یہ ابتری اور طوائف الملوکی عسکریت پسندوں کے حق میں جاتی ہے۔”

10/21/2007

پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن اور سابق وزیرِاعظم بینظیر بھٹو نے جناح ہسپتال میں اٹھارہ اکتوبر کے بم دھماکوں میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کی۔

یہ محترمہ کا ان کے آبائی شہر کا وطن واپسی کے بعد پہلا دورہ تھا اس دوران انہوں نے لیاری میں ایک کارکن کے گھر جا کر تعزیت کی اور کھارادر میں ایک مزار پر چادر چڑھائی۔

طبل جنگ بچ چکا ہے

بتاریخ: 19 اکتوبر 2007

بینظیر دبئی میں ہی پریس کانفرنس میں یہ کہہ چکی تھیں کہ ان کی جان کو خطرہ حکومت میں موجود چند عناصر سے ہے جو دہشت گردی کی پشت پناہی کرتے ہیں اور وہ ان کی آمد سے خوفزدہ ہیں۔

بینظیر کو وزیر اعظم اور صدر سے بھی زیادہ سیکیوریٹی پرووائڈ کرنے کا دعوی مضحکہ خیز حد تک جھوٹا ہے۔ بیس ہزار پولیس اہلکار پورے شارع فیصل پر موجود تھے۔ لیکن پندرہ لاکھ سے بھی زیادہ افراد کے اس ہجوم کی نگرانی کے لئے بیس ہزار پولیس اہلکار جو کہ کسی بھی جدید ٹیکنالوجی سے لیس نہیں تھے اور سیمی آٹومیٹک ہتھیاروں کے علاوہ ان کے پاس وائرلیس تک نہ تھے۔ حکومت نہ بم جام کرنے والی ڈیوائسز اگر محترمہ کے ساتھ چلنے والی گاڑیوں میں نصب کررکھی تھیں تو انہوں نے کام کیوں نہ کیا؟ شارع فیصل پر ان دو دھماکوں کے علاوہ کئی اور مقامات سے خودکش بیلٹس ملی ہیں۔ تین مشتبہ افراد سارا دن گرفتار ہوئے تھے۔ منصوبہ یہ تھا کہ پہلا دھماکہ ٹرک کے آگے کرا جائے گا جس سے ہجوم گھبرا کر پیچھے بھاگے گا جس کے نتیجے میں ٹرک کے گرد قائم پیپلز پارٹی کے سیکیوریٹی ونگ کا حصار ٹوٹ جائے گا۔ حصار ٹوٹنے کے بعد دوسرا دھماکہ ٹرک کے اندر یا اس کے باہر کیا جائے گا۔ اور تیسرا دھماکہ ٹرک کے اندر کرنے کی کوشش کی جائے گی اور پرائم ٹارگٹ کو قتل کرنے کی کوشش کی جائیگی۔ خوش قسمتی سے کراچی پولیس، کیمرہ مین اور میڈیا کی بڑی تعداد میں موجودگی کی وجہ سے پہلے دھماکے کے بعد مچنے والی بھگدڑ ایسی نہیں تھی کہ ٹرک کے گرد موجود حصار ٹوٹ پاتا۔ تب دوسرے بمبار نے خود کو سیکیوریٹی کی انسانی شیلڈ سے ٹکرایا۔ جس سے سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں اور ٹرک کو بھی نقصان پہنچا۔ اسی دوران کسی شخص نے ٹرک کی ونڈ شیلڈ اور ٹائرز پر فائر کرے۔ لیکن جو انسانی شیلڈ ٹوٹی تھی پیلزپارٹی کے کارکنان نے اسے فورا دوبارہ بنادیا۔ اب اگر تیسرا بمبار اسی شیلڈ پر حملہ کرتا تب بھی پرائم ٹارگٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا اور خدشہ تھا کہ یہ تیسرا بمبار ہی کمانڈ کررہا تھا اس نے وہاں بھاگنا زیادہ بہتر جانا۔

مرنے والوں میں ساٹھ سے زیادہ جوان پیپلزپارٹی کی سیکیوریٹی ونگ کے وہ نوجوان تھے جنہوں نے ٹرک کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔ تین سیکیوریٹی اہلکار ٹرک کے ریک پر ہلاک ہوئے۔ اور ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد سندھ پولیس کے جوانوں کی ہے۔

کارکنان نے مثالی اعصابی جرات کا مظاہرہ کرا۔ پولیس کے خون میں لت پت اہلکار ہجوم کی مدد کرتے رہے ۔ یہ فرض شناسی اور احساس ذمہ داری کا زبردست مظاہرہ تھا۔

ٹرک میں موجود لیڈران کو فورا محفوظ مقام پر پہنچانا اسلئے ضروری تھا کہ اس بات کا اندازہ کرلیا گیا تھا کہ دیگر حملہ آور اردگرد موجود ہیں اور ایک اور حملہ متوقع ہے۔ جس کے نتیجے میں لیڈران کو نقصان پہنچتا یا نہیں لیکن اور بہت لوگ مرتے۔

شہر کے ہسپتال ریڈالرٹ پر تھے۔ جناح اور لیاقت ہسپتال قریب ترین تھے۔ لیکن شہری حکومت کا ٹراما سینٹر جو ایسے حادثات کے لئے ویل ایکویپڈ ہے وہ جائے حادثہ سے دور تھا اور وہاں کم زخمی لوگوں کو لے جایا گیا۔

لوگ کہتے ہیں کہ ہیلی کاپٹر میں بے نظیر کو کیوں نہ لے جایا گیا۔ یہ وہی سوال ہے جو ایم کیو ایم کے لوگوں نے بارہ مئی کو چیف جسٹس سے کیا تھا کہ ہیلی کاپٹر میں جانے میں کیا عذر ہے۔ لیکن چیف جسٹس نے انکار کردیا تھا۔ اگر چیف جسٹس انکار کرسکتے ہیں تو بے نظیر کیوں نہیں؟

زخمیوں اور مرنے والوں میں ایک بڑی تعداد اندرون سندھ اور پنجاب سے آئے ہوئے پیپلز پارٹی کے کارکنان کی ہے۔ مرنے والوں کی شناخت اور ان کے لواحقین تک ان کی میتیں پہنچانے کا کام جاری ہے۔ زخمیوں کی بڑی تعداد ہسپتالوں سے فارغ کی جاچکی ہے۔ چند بری طرح جھلسنے والے مریض سنگین حالت میں ہیں اور ڈر ہے کہ ڈیتھ ٹول ابھی اور بڑھے گا۔

مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ یہ کون لوگ ہیں۔ آخر یہ چاہتے کیا ہیں؟ اگر یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کے عوام ان کے مذموم مقاصد کے آگے گھٹنے ٹیک دیں۔ تو یہ کبھی قبول نہ ہوگا۔ پاکستانیوں کو اسوقت یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس کے ساتھ ہیں۔ پاکستان کے ساتھ، یا انتہاپسندوں کے ساتھ۔ یہ لاشیں دیکھیں اور سوچیں کہ ہمیں کسطرف جانا ہے؟

میں کل شام ہی محب سے بات کررہا تھا۔ اور محب نے کہا کہ وزیرستان میں مرنے والے لوگ ہمارے اپنے ہیں اور فوج ہمارے اپنے لوگوں کو ماررہی ہے۔ تو میں نے محب سے کہا کہ ہمارے جو تین سو فوجی جوان انہوں نے یرغمال بنائے اس پر لوگوں کو کیوں دکھ اور فکر نہیں۔ میں یہ پوچھتا ہوں کہ آپ کس کے ساتھ ہیں؟ ان کے ساتھ جنہوں نے بم پھاڑ کے ڈیڑھ سو لوگوں کو آن واحد میں ہلاک کردیا۔ یا ہمارے ساتھ جو پاکستان میں جمہوریت، امن، انصاف، تعلیم اور ترقی دیکھنا چاہتے ہیں۔

کوئی کہتا ہے کہ بے نظیر فوج کو تباہ کرنے آرہی ہیں۔ جو کہ غلط ہے بے نظیر فوج کو بچانے آرہی ہے۔ کیونکہ ہر سچے پاکستانی کو اسوقت اپنے ملک کی فوج کے ساتھ ہونا چاہئے۔ قاتلوں سے ہتھیار ڈلوانے کے لئے اگر ہم متحد نہ ہونگے تو خانہ جنگی پورے ملک کو لپیٹ لے گی۔

حملہ ہو گیا

بتاریخ: 19 اکتوبر 2007

آخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ میں اسوقت گھر میں بیٹھا ہوں۔ کافی دیر سے ایک کے بعد ایمبولینسز کے سائرن سنائی دے رہے ہیں۔ خدشہ حقیقت میں بدل گیا۔ اور حملہ ہو ہی گیا۔ خوف کی فضا ہے، دماغ ماؤف ہے، کچھ لکھنے کے قابل نہیں ہوں۔ دعا کیجئیے!