ٹیلیوژن

موضوع: ٹیلیوژن

برررررررر ۔ کوک کی پاکستانی ڈکار

بتاریخ: 25 مئی 2008

کرن اور جارج

بتاریخ: 11 اپریل 2008

kiran-and-george.jpg

جارج کا پاکستان کے جارج نے کرن سے شادی کرکے پاکستان میں ہی گھر بسالیا ہے۔ آج کل دونوں میاں بی بی آج ٹی وی پر کرن اینڈ جارج کے نام سے ایک صبح کا شو کرتے ہیں۔ شروع میں یہ مجھے بالکل اچھا نہیں لگا تھا۔ ایک تو جارج کی خراب اردو اور اس کی اردو زدہ انگریزی کافی ناگوار معلوم ہوتی تھی۔ دوسرا یہ کہ دونوں میزبانوں میں اکثر کوآرڈینیشن کا فقدان نظر آتا تھا۔ لیکن اتفاق کچھ ایسا ہے کہ رات کو جب میں ٹی وی کے سامنے بیٹھتا ہوں تو یہ شو آرہا ہوتا ہے اور میری نظر اس پر پڑتی رہی۔ اس دوران انہوں نے ٹینا ثانی کو مدعو کیا وہ شو مجھے بہت پسند آیا۔ اس کے بعد میں نے محسوس کیا کرن اور جارج نہ صرف یہ کہ ایک تفریحی شو کرتے ہیں بلکہ وہ یہ کوشش بھی کرتے ہیں کہ ان کا شو معاشرے میں کسی اصلاح ،کسی بہتری کا سبب بنے۔ جو ایک لائق ستائش کام ہے۔

جارج اور کرن کے شو میں مشہور شخصیات کے علاوہ ایسے لوگ بھی آتے ہیں جو عام سے ہوتے ہیں مگر زندگی انہیں کسی بڑے سانحے کے سامنے لا کھڑا کردیتی ہے۔ اور وہ عام سے لوگ نہایت بہادری اور دلیری سے ان حالات سے لڑتے ہیں۔ جیسے انہوں نے آٹزم نامی بیماری میں مبتلا بچے منیب کے والدین کو مدعو کیا۔ اس سے پہلے انہوں نے حریم کو مدعو کیا جو صرف سترہ سال کی ہے اور جس نے اپنی زندگی کے پچھلے چند سال کینسر سے لڑنے میں گزارے۔ اس کے علاوہ اسکولوں کے اساتذہ، سماجی تنظیموں کے نمائندگان، اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی اکثر ان کے مہمان ہوتے ہیں۔ میرا خیال ہے لوگ یقینا انہی گنی چنی مشہور شخصیات کو مختلف مارننگ شوز میں مہمان دیکھ دیکھ کر اکتا جاتے ہونگے اور ایسے لوگوں کے لئے کرن اور جارج کا شو اچھا ہے کیونکہ یہ مختلف ہے۔ اس میں گفتگو برائے تفریح نہیں بلکہ گفتگو برائے ابلاغ ہوتی ہے جو نہ صرف دلچسپ بھی ہوتی ہے بلکہ اکثر کافی اثرپذیر بھی۔

کرن اور جارج یو ٹیوب پر

کرن اور جارج : بلاگ

ٹینا ثانی کرن اور جارج پر:

اس کے چھوٹے سائز پر مت جانا

بتاریخ: 31 مارچ 2008

دی گریٹ ڈیبیٹ

بتاریخ: 15 فروری 2008

آج شام جیو ٹی وی پر الیکشن کے سلسلے کا پروگرام گریٹ ڈیبیٹ کچھ دیر دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس پروگرام میں پاکستان کی چھ بڑی سیاسی جماعتوں کے نمائندے مختلف امور پر اپنی پارٹی کا موقف بیان کرتے ہیں۔ اس سے پہلے میں اس سلسلے کا ایک اور پروگرام دیکھ چکا ہوں جو کہ پولیس کے محکمے کی بہتری کے بارے میں تھا۔ آج پانی پر بات ہورہی تھی۔ یہ پروگرام دیکھ کر مجھے خاصی مایوسی ہوئی۔ تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندے درحقیقت مسائل کا بالکل ادراک نہیں رکھتے تھے۔ نہ ہی ان میں سے کسی کے پاس کوئی اطمینان بخش حل موجود تھے۔ ان میں سے اکثر نامعلوم وجوہات کی بنا پر اپنے جوابات میں انگریزی الفاظ زبردستی ٹھونسنے کی کوشش کرکے معزز بننے کی کوشش کررہے تھے۔ باقی نمائندگان تو پھر بھی کچھ فائلیں، کاغذات اور اپنی پارٹی کا منشور سامنے رکھے بیٹھے تھے جسے وہ وقتا فوقتا الٹ پلٹ کر دیکھتے رہتے۔ مگر ایم ایم اے کے مولوی صاحب تو غالبا سب کچھ حفظ کرکے آئے تھے۔ جیسے وہ کسی دینی مجلس میں فی البدیہہ خطبہ دے لیتے ہیں۔ سوچ رہے ہونگے یہ بھی اس قسم کی ہی کوئی مجلس ہے۔ ان سب کو ایک ساتھ بیٹھے دیکھ کر آپ کو ایسا لگتا ہے کہ جیسے دسویں جماعت کے بچے اے یو خان کی شرح میں سے انگریزی کا مضمون سنارہے ہوں۔ یعنی ایک ہی مضمون میرا اسکول، ایک اسکول فنکشن، کرکٹ میچ، بابائے قوم، ایک یادگار دن، وغیرہ سب کے لئے فٹ۔ مثال کے طور پر اگر ان سے پوچھا جائے کہ پینے کے صاف پانی کے بارے میں آپ کا کیا موقف ہے اور آپ اپنے پروگرام پر کیسے عمل پیرا ہونگے تو ان کے جوابات کچھ اس طرح کے ہوتے ہیں:

جی پینے کے پانی کے بارے میں ہماری جماعت کی پالیسی بالکل واضح ہے کہ پینے کا صاف پانی ہر پاکستانی کا بنیادی حق ہے۔ ہمارے ملک میں ہر سال سینکڑوں لوگ پانی سے پیدا ہونے والی انفیکشنز سے متاثر ہوکر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ملک میں ہیپاٹائٹس کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ہماری پارٹی کے پاس پانی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے جامع پلان ہے۔ جس میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ۔۔۔ (اس موقع پر وہ اپنے سامنے رکھے کاغذ دیکھیں گے) ہم پاکستان کے ہر علاقے شہروں اور دیہات میں فلٹریشن پلانٹ لگائیں گے۔ صنعتی فضلے کو صحیح طرح ٹھکانے لگانے کے سلسلے میں ٹاسک فورس بنائیں گے۔ ہم ایک کمیٹی بنائیں گے جو یہ تلاش کرے گی کہ پینے کا پانی کس طرح صاف کیا جائے۔

اگر نمائندہ ایم کیو ایم یا پی ایم ایل کیو کا ہو تو:

ہم نے پچھلے پانچ سال میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا بھرپور بندوبست کرنے کی کوشش کی ہے۔ (ایم کیو ایم کا نمائندہ ہو تو) کراچی میں، (ق لیگ کا ہو تو)، پنجاب میں ہم نے سینکڑوں فلٹریشن پلانٹ لگائے ہیں۔

اگر اپوزیشن جماعتوں کا ہو تو:

پچھلے دس سالوں میں اس صورتحال پر کچھ کام نہیں ہوا جس سے عوام کے مصائب میں اضافہ ہوا۔

اور اگر ایم ایم اے کا ہو جو کہ نہ تین میں ہیں نہ تیرہ میں تو:

الحمداللہ صوبہ سرحد میں ہم نے پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے اور پاکستان کے دیگر صوبوں کی نسبت سرحد میں اس قسم کی صورتحال نہیں (اچھا تو سرحد کی چھوٹی سی خانہ جنگی کے بارے میں کیا خیال ہے؟) ہم اقتدار میں آکر کوشش کریں گے کہ پورے پاکستان میں شہریوں کو پینے کا صاف پانی میسر ہو۔

انہی خطوط پر آپ ان کے اگلے اور پچھلے تمام پروگرامز میں ہونے والی گفتگو کا اندازہ کرسکتے ہیں۔ جس میں ایسے کھوکھلے دعوے ہیں کہ جن پر ان نمائندوں نے کبھی خواب میں بھی غور نہ کیا ہوگا۔ گرچہ اس طرح کے پروگرام ایک نئی اور اچھی روایت ہیں۔ مگر افسوس ہمارا سیاستدان آج بھی بے حد دقیانوسی، کم علم اور ذہنی پسماندگی کا شکار ہیں۔

میزبان: اچھا عدلیہ کی آزادی کے بارے میں آپ کی پارٹی کا کیا نقطہ نظر ہوگا:

نمائندگان: عدلیہ کی آزادی کے بارے میں ہماری پارٹی کا موقف بہت واضح ہے۔ ہم عدلیہ کی مکمل آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم ایک ٹاسک فورس بنائیں گے اور آئنی ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دیں گے۔ جو اس بات کا جائزہ لے گی کہ عدالتوں میں انصاف کی فراہمی کو کس طرح بہتر بنایا جائے۔

میزبان: بے روزگاری دور کرنے کے بارے میں آپ کے پاس کیا حکمت عملی ہے؟

نمائندگان: بےروزگاری کے بارے میں ہماری پارٹی کا موقف بہت واضح ہے۔ ہم ہر پاکستانی کو روزگار دینے پر یقین رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم ایک ٹاسک فورس بنائیں گے اور ایک کمیٹی تشکیل دیں گے۔ جو اس بات کا جائزہ لے گی کہ اتنے مصائب کے باوجود ان بے وقوف بیروزگاروں نے ابھی تک خودکشی کیوں نہیں کی۔

ایم ایم اے کا نمائندہ: صوبہ سرحد میں ہم نے بیروزگاری کا خاتمہ کردیا ہے۔ اب ہر بیروزگار طالبان کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ میں شریک ہوسکتا ہے۔

ایم کیو ایم: کراچی اور حیدرآباد میں تو بیروزگاری ہے ہی نہیں۔ اگر ہے تو کراچی میں موبائل اسنیچنگ کے بھرپور انتظام ہے جہاں نوجوان اپنی صلاحیتوں اور قابلیت کا بھرپور فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ اگر وہ یہ نہیں کرسکتے تو تنظیم میں شامل ہوجائیں۔ جہاں جھنڈے لگانے والوں اور دیواروں پر گالیاں لکھنے والوں کی ہر وقت ضرورت رہتی ہے۔

پی ایم ایل ق: ہم سب بیروزگاروں کو وظیفہ دیں گے۔

پی ایم ایل این: ہم پیلی ٹیکسیاں نکالیں گے۔

پی پی پی: محترمہ آئیں گی تو روزگار لائیں گی۔

میزبان: لیکن محترمہ تو۔۔۔

پی پی پی نمائندہ: وہی تو اب آپ کو بلاول کا انتظار کرنا ہوگا۔

ایک دم بکواس اور بورنگ۔ واقعی پاکستان کی عوام کے پاس آپشن ہی کیا ہے۔ خچر نہ سہی تو گدھا، گدھا نہ ملے تو سائیکل یا پھر بھس بھرا شیر۔ لیکن پھر بھی اٹھارہ فروری کو ووٹ دینے ضرور نکلئے گا۔ چاہے آپ کسی کو بھی ووٹ دیں۔ مگر اپنا ووٹ ضائع نہ جانے دیں۔

جیو نیوز ٹوٹم میڈیا پلئیر پر

بتاریخ: 21 نومبر 2007

ابنٹو پر gstreamer codecs انسٹال کرنے کے بعد جیو نیوز دیکھا جاسکتا ہے۔

پاکستانی امیتابھ بچن

بتاریخ: 20 نومبر 2007

کل شام کی چائے کے بعد ہم سب گھر والے ساتھ ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ اب چونکہ پاکستان کے مشہور اور مقبول نیوز چینلز تو بند ہیں لحاظہ ہم بھارتی رقص و موسیقی کے دلچسپ اور تفریح سے بھرپور پروگرامز سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ اچھا ہوا صاحب اقتدار صدر محترم جنرل اعلی (بھائی ایمرجنسی ہے القابات اور طرز تخاطب کا خیال رکھنا ضروری ہے) نے نیوز چینلز بند کردئے۔ خون جلانے، دل ہولانے اور مغز کو پراگندہ کرنے والے پروگرامز اور جو وقت بچ جائے اس میں موبائل کمپنیوں کے اشتہارات دکھانے کے علاوہ ان چینلز پر آتا کیا تھا؟

بھارتی چینل پر کوئی نوجوان جوڑا امیتابھ بچن کی کسی فلم کے گیت پر رقص کا مظاہرہ کررہا تھا۔ مجھے خیال آیا کہ بھارتی ٹی وی چینلز اور میڈیا پر امیتابھ کا اس قدر ذکر ہوتا ہے، کہ کوئی چینل ایسا نظر نہیں آتا جس پر ایک گھنٹے کے اندر کم از کم ایک بار امیتابھ کا نام، اس کی کسی فلم کی جھلک، اس کا کوئی گانا، یا کوئی تذکرہ نظر نہ آئے۔ امیتابھ بچن اس وقت شاید بھارتی کلچر کا ایسا نمائندہ بن گیا ہے کہ جس کے بغیر بھارتی میڈیا اپنے خبرناموں، تفریح، معلومات، مزاح، یا ثقافتی پروگراموں کو بالکل ادھورا سمجھتا ہے۔

باقی پاکستانی ٹی وی چینلز پر ایسا نہیں، لیکن کم از کم جیو ٹی وی نیٹ ورک پر ہمارے جنرل محترم پرویز مشرف صاحب کو امیتابھ بچن جیسی ہی حیثیت حاصل تھی۔ جیو نیوز پر تو جنرل محترم کا اسقدر تذکرہ ہوتا تھا کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ گویا پاکستانیوں کی زندگی ہی مشرف صاحب کے اردگرد گھوم رہی ہے۔ کوئی ٹاک شو ہو یا دینی پروگرام، مزاحیہ خاکے ہوں یا گرینڈ ڈیبیٹ، تندو تیز سوالات کا پروگرام جوابدہ ہو، یا نرما نرم آج کامران خان کے ساتھ۔ ہر تیس منٹ میں چار چھ بار تو صاحب کا ذکر ضرور سنائی پڑتا تھا۔

ہمارے صدر محترم قابل احترم آرمی چیف جناب مشرف صاحب اور امیتابھ میں ایک اور بات ایک سی ہے۔ دونوں کو یہ خیال ہے کہ ان کا متبادل کوئی نہیں۔ اور شاید دونوں صحیح بھی ہیں۔ سوچیں اگر بھارتی چینلز سے امیتابھ کو اور پاکستانی چینلز سے مشرف صاحب کو ہٹادیں تو ٹی وی چینلز کیسے چلیں گے۔ ایسے کونسے لیجنڈری آئیکونز ہیں جو امیتابھ یا مشرف صاحب جیسے اثرانگیز ہوں؟

اب جیو ٹی وی بند ہے اور ہم اپنے امیتابھ بچن سے بھی دور ہوگئے ہیں۔ گرچہ سرکاری میڈیا اس بات کی بھرپور کوشش کررہا ہے کہ ہم جنرل صاحب صدر محترم کے افکار و خیالات، ان کی شخصیت کی اثرانگیزی کی کمی محسوس نہ کریں۔ مگر سرکاری ٹی وی چینلز بھارتی ٹی وی چینلز کی بھیڑ میں گم ہوجاتے ہیں۔ میں نے چائے کا گھونٹ بھرا اور ٹی وی پر نظر ڈالی۔

ارے دیوانوں
مجھے پہچانو
کہاں سے آیا
میں ہوں کون
میں ہوں ڈون
میں ہوں ڈون۔۔۔

امیتابھ بچن ٹی وی پر رقصاں تھا

پاکستان کا مہابلی ۔ امانت علی

بتاریخ: 05 اکتوبر 2007

اللہ کی ہم پر اتنی مہربانی ہے کہ اس نے دنیا کی خوبصورت ترین زبانوں میں سے ایک اردو ہماری جھولی میں ڈال دی ہے۔ بقول گلزار صاحب:

وہ یار میرا خوشبو کی طرح
جس کی زبان اردو کی طرح

ہماری قومی زبان گرچہ ہمارے احساس کمتری کی وجہ سے سائنسی علوم میں کچھ مقام نہ بناسکی۔ لیکن شاعری اور ادب کی بات ہو تو ہمارے خزینے میں ایسے ایسے موتی اور جواہر ہیں کہ جن کی آب و تاب سے ایک عالم جھلملایا ہے۔ یہ وہی زبان ہے جو ہندوستانی فلموں کے گانوں کی زبان ہے۔ باوجود اس امر کے کہ ہندوستان کا کوئی گلوکار، موسیقار، اداکار، حتی کہ ہندوستانی فلم بین بھی یہ زبان نہیں بولتا۔ لیکن اس کے باوجود وہ اس زبان میں ڈائیلاگ بولتے ہیں، اسی میں گانے لکھتے ہیں اور گلوکاروں اور اداکاروں کو کامیابی کے لئے اسی زبان کے تلفظ کو سیکھنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ یہ زبان آج تک ہندوستانی فلمی گانوں کی آفیشل زبان ہے۔

اس اردو زبان پر ہم پاکستانیوں کی قدرت، الفاظ پر ہماری گرفت، اور شاعری کی اعلی سمجھ بوجھ جب ہماری روایتی دردمندی، انکساری، محبت اور عاجزی کی کیفیات سے ملتی ہیں تو وہ گلوکار سامنے آتے ہیں جو ہندوستان میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔

amanat ان بڑے ناموں کا تو کیا ذکر، ہمارے فیصل آباد کا ایک انیس سالہ لڑکا امانت علی ہندوستانی ٹی وی چینل زی ٹی وی پر نشر ہونے والے پروگرام سا رے گا ما میں اس وقت ٹاپ تھری تک پہنچ گیا ہے۔ مجھے اس پروگرام کی چند ایک اقساط دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اور ہر مرتبہ میں نے یہی دیکھا کہ امانت کو تمام ہندوستانی گلوگاروں پر ایک واضح برتری حاصل ہے۔ مقابلے کے ججز اس بات کا برملا اظہار کرتے ہیں کہ بچ رہنے والے گلوگاروں میں امانت سب سے بہترین ہے۔ ایک جج کا کہنا ہے کہ امانت اتنا اچھا گاتا ہے کہ وہ اس مقابلے سے ہی بہت اونچے معیار کا گاتا ہے۔

کل شاہ رخ خان کی فرمائش پر امانت نے شاہ رخ کی فلم کبھی الوداع نہ کہنا کا گانا “متوا” گایا۔ یہ گانا اصل میں بھی شفقت امانت علی خان نے گایا ہے جن کا تعلق پاکستان کے ایک مشہور گائیک گھرانے سے ہے۔ مگر جب امانت نے کل یہ گانا گایا تو اس نے اتنی خوبصورتی سے اسے پیش کیا کہ جج حضرات کو اپنی کرسیاں چھوڑنی پڑ گئیں۔ اس سے پہلے ایک غزل اس نے جگجیت سنگھ کے روبرو سنائی تھی جو کہ ہندوستان کے مشہور غزل گائیک ہیں۔ جگجیت سنگھ نے صاف کہہ دیا کہ یہ لڑکا اس مقابلے سے بہت آگے ہے۔

لیکن چونکہ یہ مقابلہ ایس ایم ایس، ویب اور فون ووٹنگ پر چلتا ہے (امانت کو ووٹ دینے کے لئے یہاں کلک کریں) اس لئے یہ کہنا کافی مشکل ہے کہ امانت یہ مقابلہ جیت پائے گا۔ لیکن یہ بات کتنے فخر کی ہے کہ ہمارا ایک چھوٹا سا بچہ ہندوستان کی عوام کے دل جیت چکا ہے۔ اسے لاکھوں ہندوستانی ایس ایم ایس کے ذریعے ووٹ کرتے ہیں۔ مقابلہ جیتنا کوئی بڑی بات نہیں، عزت کمانا، نام پانا اور عام لوگوں کے دل جیت لینا یہ بڑا کمال ہے۔ مجھے بہت خوشی ہوتی ہے جب امانت کو بلایا جاتا ہے اور پاکستان کا نام لیا جاتا ہے۔ پاکستانی گلوکاروں کا ذکر کیا جاتا ہے اور پاکستانی موسیقی کی بات ہوتی ہے۔ اور جب کیمرہ گھوم کر سامنے دیوار پر لگے ایک بڑے سے سبز ہلالی پرچم پر جاتا ہے۔ اور ہر کوئی اس سبز ہلالی پرچم کی سرزمین سے اٹھنے والی شاعری، موسیقی اور گائیکی پر جھوم رہا ہوتا ہے۔ مجھے بہت فخر محسوس ہوتا ہے۔ اس فخر کا باعث ہیں پاکستان کے مہابلی ۔۔ امانت علی۔

او ماما!

بتاریخ: 04 اکتوبر 2007

johnny bravoجونی براوو میرا فیوریٹ کارٹون کیریکٹر ہے۔ انفیکٹ میرے اور جونی کے درمیان کئی باتیں مشترک ہیں۔ جیسے جونی بھی میری ہی طرح ہینڈسم اور ذہین ہے۔ ہم دونوں پر لڑکیاں جھٹ پٹ فدا ہوجاتی ہیں۔ ہم دونوں بےحد ہردلعزیز اور عظیم ہیں۔

جانی ہی کی طرح میری امی بھی میرے کھانے کا بطور خاص خیال رکھتی ہیں۔ مٹاپے سے نجات کی ڈائٹ ہو یا مسل بڑھانے کی شی از مائی ڈائٹ ایکسپرٹ۔ اور بنی براوو کی طرح میری امی بھی مجھے ابھی تک بچہ ہی سمجھتی ہیں۔

جانی کی طرح میرے بالوں کی پرکشش اور سیکسی اسٹائلنگ کے پیچھے بھی ایک ہیراسٹائلنگ جیل کا کمال شامل ہے (سوری دیگر سیلیبریٹیز کی طرح میں اپنے حسن کے راز افشاء نہیں کرتا)۔ ہم دونوں ہی کو اس بات کا احساس ہے کہ ہم چونکہ بےحد خوش شکل، ہینڈسم اور ذہین ہیں اسلئے لوگ فورا ہماری محبت میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔ افسوس کہ ہم دونوں ہی اکثر کم شکل، احساس کمتری کے مارے اور حس لطیف سے عاری لوگوں کی حسد کا شکار ہوجاتے ہیں۔ مگر اس سے ہمارے حوصلے کم نہیں ہوتے۔

اور جب سے میں نے وزن گھٹایا ہے۔ میرے بازوؤں کی مچھلیاں بھی میری ٹی شرٹس سے چھلانگ لگا کر باہر آنے کو پھڑکتی رہتی ہیں۔ ویسے میں جسم کی نمائش کو اچھا نہیں سمجھتا لیکن پکنکس وغیرہ پر جاتا ہوں تو پبلک ڈیمانڈ پر اس سے ہچکچاتا بھی نہیں۔ جونی کا تو پتہ نہیں لیکن مجھے کئی بار ماڈلنگ اور اداکاری کی آفرز ہوچکی ہیں۔ شعیب منصور فواد خان کے رول میں مجھے لینا چاہتے تھے۔ لیکن داڑھی والے رول کی وجہ سے میں نے انکار کردیا۔ اور ایسی فلم کا کیا فائدہ جس میں مجھے اپنے پرفیکٹ ایبز دکھانے کا موقع نہ ملے، جس میں ناچ گانا نہ ہو اور جس میں ہیروئن بھی کسی اور کو ملے۔

05/26/2007

ڈان گروپ والوں نے اپنے انگریزی خبروں کے چینل ڈان نیوز کی ٹیسٹ ٹرانسمیشن کا افتتاح کردیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت اور ڈان کے درمیان جاری تناؤ کچھ کم ہوگیا ہے۔ خود جنرل مشرف نے بہ نفس نفیس چینل کا افتتاح کیا اور اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے میڈیا کو آزادی دی۔ جنرل مشرف نے پریس کا یہ دعوی کہ پریس کی آزادی صحافیوں کی جدودجہد اور مطالبوں کا نتیجہ ہے رد کرتے ہوئے کہا کہ پریس کو آزادی دیتے وقت ان کے علم میں ایسا کوئی مطالبہ نہیں تھا۔

آج کو سلام

بتاریخ: 13 مئی 2007

بارہ مئی کو کراچی کے لوگوں کی ترجیحات بدل گئی ہیں، اب اگر لوگوں کو شہر میں ہونے والے واقعات کی بغیر چھانٹی کی گئی کوریج دیکھنا ہوگی تو وہ جیو نیوز کے بجائے آج ٹی وی کا رخ کریں گے۔

آج ٹی وی نے شہر بھر کے مختلف علاقوں سے لائیو کوریج پیش کی۔ ان کے رپورٹرز کی بہادری، جرات اور فرض شناسی لائق تحسین ہے۔ جس وقت جیو ٹی وی الطاف حسین کا خطاب نشر کررہا تھا اس وقت آج ٹی وی شارع فیصل پر فائرنگ کے واقعات دکھا رہا تھا جس کے بعد منٹوں میں آنا فانا آج ٹی وی کے دفاتر کو متحدہ قومی موومنٹ کے مسلح کارکنان نے گھیر لیا۔ چھ گھنٹے تک لگاتار آج ٹی وی کے دفتر اور اس کے اردگرد کے علاقے کو دہشت گردوں نے یرغمال بنائے رکھا۔ کراچی میٹرو بلاگنگ کے ایم بی نے اس واقعے کی لائیو بلاگنگ میٹروبلاگ پر شائع کی۔

آج ٹی وی نے اس دہشت گرد ٹولے کو براہ راست عوام کے سامنے پیش کیا۔ ان کے ہاتھوں میں متحدہ قومی موومنٹ کے جھنڈے تھے اور سینے پر بیج آویزاں تھے۔ انہوں نے آج ٹی وی کے دفتر اسٹریٹ فائر کرے جس سے نیوز روم کی کھڑکیاں چکنا چور ہوگئیں۔

اس حملے سے پہلے ہفتے کی رات جب شارع فیصل بلاک کی گئی اور ہزارہا گاڑیاں شہر کے مختلف علاقوں سے شارع فیصل پر آملنے والی سڑکوں پر جمع ہوگئیں تو آج ٹی وی نے اس کی براہ راست نشریات پیش کی اور ان کے رپورٹرز نے بتایا کہ شارع فیصل پر ایم کیو ایم کی ریلی نکل رہی ہے۔ اس موقع پر رپورٹرز نے عوامی جذبات کی کھلم کھلا ترجمانی کی اور انتظامیہ، ایم کیو ایم اور حکومت کے بارے میں لوگوں کے سخت الفاظ دہرائے۔ اس سے پہلے بھی ایک بار شہر بھر میں آج ٹی وی کی نشریات بند کردی گئی تھی۔

منسٹر کے بڑے ہاتھ

بتاریخ: 16 مارچ 2007

وفاقی وزیر قانون جناب محترم وصی ظفر صاحب (ایل ایل بی) کا وائس آف امریکہ پر مباحثہ جس میں انہوں نے دی نیوز کے صحافی انصار عباسی کو بڑے ہاتھوں (اوہ معاف کیجئے گا،) آڑے ہاتھوں لیا۔ ویسے تو مجھے اپنے ملک کی دلیر فوج، اور بہادر و غیور لیگی قیادت پر فخر ہمیشہ سے ہے لیکن یہ دیکھ کر تو میں فخر سے چوڑا ہوگیا ہوں۔ جناب جرنیل مشرف پرویز صاحب کل گوجرانوالہ میں ایک سیاسی جلسے سے خطاب کے دوران بتارہے تھے کہ ان کے ہونٹ سلے ہوئے ہیں اور وہ ملکی مفاد میں خاموش ہیں۔ آہ کاش کہ جرنل مشرف نے وصی ظفر کے ہونٹ بھی کسی بیرک میں رکھوادئے ہوتے۔

سمجھدار نادیہ

بتاریخ: 08 دسمبر 2006

نادیہ خان شوجیو ٹی وی پر نادیہ خان شو میری امی کا سب سے پسندیدہ ٹی وی پروگرام ہے۔ میں عموما ٹی وی پروگراموں پر کڑی نقطہ چینی کرتا ہوں۔ مگر نادیہ خان شو اتنا بہترین ہے کہ تنقید کی گنجائش بہت کم ہے۔ یہ ایک صبح کا شو ہے اور خاص طور پر اس کی ٹارگٹ آڈینس خواتین ہیں۔ مگر شو کا اسکوپ اور اس کا فارمیٹ اتنا دلچسپ ہے کہ مرد بھی اسے دیکھ کر بور نہیں ہونگے۔ اور پھر نادیہ کی جاندار میزبانی۔

نادیہ بے تکان مگر بہت اچھا بولتی ہے۔ گرچہ بظاہر وہ ایک کھلنڈری سی شرارتی لڑکی معلوم ہوتی ہے۔ مگر جب آپ اس کی بات سنتے ہیں تو آپ کو احساس ہوتا ہے کہ یہ لڑکی ذہین اور سمجھدار بھی ہے۔ اسے بات کرنے کا ڈھنگ آتا ہے اور اپنی بات کو دلچسپ اور پرمزاح بنانا بھی آتا ہے۔ خصوصا پروگرام کا انٹرویو والا حصہ خالصتا نادیہ کی ذہانت کا مرہون منت ہے۔ وہ اپنے مہمانوں سے وہ سوال پوچھتی ہے جو اس کی آڈینس پوچھنا چاہتے ہیں۔ اور جب براہ راست ٹیلی فون کال کرکے ناظرین بھی سوال کرتے ہیں تو نادیہ ان کے سوالوں میں مزید سوال شامل کرتی جاتی ہے اور انٹرویو ایک مزے کی گفتگو میں ڈھل جاتا ہے جسے سب انجوائے کرتے ہیں۔

چونکہ اکثر گھروں میں اس وقت خواتین بچوں اور شوہروں کو اسکول و کام پر روانہ کرکے فارغ ہوتی ہیں۔ تو ان کے لئے کھانا پکانے کی ترکیبیں بھی شامل ہیں۔ یہ ترکیبیں ایسی نہیں کہ ان کے لئے کچھ ایکسوٹک لوازمات درکار ہوں، بلکہ سیدھے سادھے دیسی کھانے ہوتے ہیں اور پروگرام کے اس حصے میں جو ایکسپرٹ آتی ہیں وہ بھارتی ہیں۔ لہذا دوسرے علاقوں کے کھانے مثال کے طور پر دالیں یا کڑی ہی کو لیں تو دنیا کے ہر علاقے کی الگ ترکیب ہے۔ اس سے خواتین کا یہ مسئلہ کہ آج کیا پکایا جائے کافی حد تک حل ہوجاتا ہے۔ اور بھارتی ترکیبیں ہونے کی وجہ سے کھانوں کے ذائقے اتنے بھی بدیسی معلوم نہیں ہوتے اور اجزائے ترکیبی بھی آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں۔

آسان ورزشیں بھی بتائی جاتی ہیں جنہیں بغیر کسی سامان کے گھر پر کیا جاسکتا ہے۔ ورزش کے ساتھ ڈیزائنر ڈائیٹ نامی ایک سیگمنٹ بھی ہے۔ جس میں لوگوں کو غذائیت پلان کرنے کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ جو بہت اچھا ہے کیونکہ دیکھا گیا ہے کہ عموما ہمارے یہاں لوگ اور بالخصوص خواتین بے وقت، اور الٹا سیدھا کھانے سے مختلف بیماریوں کا شکار ہوجاتی ہیں۔ ڈائیٹ پلان کی تو ہر کسی کو ضرورت ہوتی ہے چاہے وہ مرد ہو کہ عورت بچہ ہو یا بوڑھا۔ اس سیگمنٹ میں سب کا خیال رکھا جاتا ہے۔

پروگرام کے آخر میں ناظرین کی آراء شامل کی جاتی ہیں۔ ان میں کچھ لوگ نادیہ کو بذریعہ، وائس میل، ڈاک اور ای میل اپنے مسائل بھی بھیجتے ہیں۔ نادیہ کے جوابات اتنے اچھے ہوتے ہیں کہ آپ بس اس کی سمجھداری کے گرویدہ ہوجاتے ہیں۔ پھر اگر کوئی سمجھداری کی بات اتنی سادگی، اتنی نفاست اور اتنے خلوص سے کہے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ بات کرنے والا ہر کسی کو اچھا نہ لگنے لگے۔

پروگرام کی ایک اور خاص بات اس کا تھیم میوزک، گرافکس، سیٹ ڈیزائن، لائٹنگ اور کیمرہ ورک ہیں۔ اس کے پیچھے وہ فنکار ہیں جنہیں ہم نہیں دیکھ پاتے۔ لیکن اس شو میں یہ فنکار نادیہ کی میزبانی سے بالکل میچ کرتے ہیں۔ ایک بے تکلف، سادہ مگر پروقار اور شائستہ امتزاج ہر جگہ نظر آتا ہے۔ گرافکس بھی بہت اچھے بنائے گئے ہیں جو دن کے آغاز اور تازگی سے بالکل میل کھاتے ہیں۔ یہی فنکاری پروگرام کی موسیقی میں ہے۔ نہ زیادہ ہلکی کے پھر سے سونے کو جی چاہے اور نہ بوجھل کے صبح صبح سر میں درد کردے۔

نادیہ خان شو پاکستانی اوپرا تو نہیں، لیکن ایک دلچسپ ٹی وی شو ہے جسے صبح صبح دیکھنا اچھا محسوس ہوتا ہے۔ ویسے یہ شو رات کو بھی مکرر نشر کیا جاتا ہے۔ لیکن براہ راست دیکھنے کا مزہ اور ہے۔