سائنس

موضوع: سائنس

دس ہزار سال قبل از مسیح

بتاریخ: 16 مئی 2008

10000bc.gif

میں نے ابھی کچھ دیر پہلے ۱۰،۰۰۰ قبل از مسیح (10,000 BC) فلم دیکھی ہے۔ باوجود اس حقیقت کے کہ اس فلم کی کہانی میں کئی تاریخی، سائنسی اور آرکیالوجیکل نقائص ہیں، میں اس فلم کو ایک اچھی تفریحی فلم قرار دونگا۔ کہانی گھڑنے اور افسانہ طرازی کے اس عمل کے دوران آپ تخلیق کار کو تخیلاتی آزادی تو ضرور دیں گے۔ ورنہ تو کہانی سے محظوظ ہونا دشوار ہوجائیگا۔ تاہم یہ فلم چونکہ یہ دعوی کرتی ہے کہ یہ دس ہزار قبل از مسیح کے دور کی عکاسی کرے گی تو یہ مناسب ہوتا اگر فلم بنانے والے تحقیق سے کام لیتے اور حقائق کی مدد سے ہی کہانی بناتے۔ میرا خیال ہے کہانی تب بھی دلچسپ ہوتی۔

گرچہ یہ ایک اچھی تفریحی فلم ہے، مگر یہ کوئی عظیم فلم نہیں ہے۔ کہانی تقریبا بارہ مسالہ جات کی چاٹ کی طرح چٹپٹی بنائی گئی ہے۔ آپ کو فلم میں اس طرز کی کئی اور پرانی فلموں کے عناصر نظر آئیں گے۔ جیسا کہ نسبتا حال ہی میں جاری ہونے والی فلم آئس ایج۔

کچھ ذکر فلم کے تاریخی اور آرکیالوجیکل اور سائنسی نقائص کا کرتے ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ دس ہزار قبل از مسیح کے وقت مصری عظیم اہرام نہیں بنارہے تھے۔ درحقیقت مصری تہذیب کا دور ہی تین ہزار سال قبل از مسیح سے شروع ہوتا ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ کہانی میں یہ ذکر نہیں کیا گیا کہ یہ واقعی مصری تہذیب ہے۔ فرض کرلیں اگر یہ مصری تہذیب نہیں بھی تھی تب بھی یہ تقریبا ناممکن ہے کہ دس ہزار سال پہلے کوئی انسانی تہذیب اتنی ترقی یافتہ تھی کہ وہ اہرام تعمیر کرتی۔ نہ صرف یہ کہ وہ اہرام تعمیر کررہے تھے بلکہ عظیم اہرام کی نوک پر خالص سونے کا تکون پتھر بھی سجا رہے تھے۔ یہ ہضم کرنا بھی کافی مشکل کام ہے۔ اس بات کے تو شواہد ہیں کہ اس دور کا انسان دھاتوں سے آگاہ تھا۔ مگر تب بھی وہ ان کے استعمال سے نابلد تھا اور یہ تو بہت ہی دشوار ہے کہ وہ ان سے کسی قسم کا اوزار بناتا۔ یا کہ وہ ایک سونے کا اتنا بڑا ٹکڑا نہ صرف تیار کرے بلکہ اسے اہرام کی نوک پر سجائے۔ سونے کی اتنی بڑی چٹان کا وزن عظیم اہرام کے سب سے وزنی بلاک سے بھی پانچ گنا زیادہ ہوتا اور اسے وہاں تک لے جانا اور نصب کرنا ناممکن تھا۔

یہ بات بالکل سمجھ سے باہر ہے کہ کہانی کے ہیرو کا قبیلہ کہاں واقع تھا۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ وہ عظیم برفانی پہاڑ پار کرتے ہیں پھر میدانی علاقے میں آتے ہیں، پھر ایک عظیم صحرا پار کرتے ہیں جس کے ایک طرف عظیم دریا بہہ رہا ہے۔ اگر ہم یہ فرض کریں کہ یاگل قبائل ہمالیہ کے اس پار رہتے تھے تب بھی یہ کافی لمبا سفر بنتا ہے۔ اگر ہم انہیں وسطی ایشیا اور یورپ کے بیچ کہیں رکھیں تب بھی۔

بڑی مرغی نما ڈائنوسار قسم کی مخلوق جو فلم میں دکھائی گئی ہے اس کا ہمارے ہیرو سے سامنا ہونا کافی مشکل ہے۔ کیونکہ ایک تو یہ ٹیرر برڈز جنوبی امریکہ میں پائی جاتی تھیں۔ دوسرا یہ کہ وہ دس ہزار قبل مسیح سے پہلے ناپید ہوچکی تھیں۔

نوکیلے دانتوں والا چیتا جو فلم میں دکھایا گیا ہے وہ بھی شمالی اور جنوبی امریکہ میں پایا جاتا تھا نہ کہ افریقہ یا یورپ میں۔

فلم میں کچھ مضحکہ خیز نظریات کو عجیب بے ڈھنگے طریقے سے دکھایا گیا ہے۔ جیسے یہ کہ مصری خلائی مخلوق تھے جو کسی ایسے جزیرے سے آئے تھے جو سمندر میں ڈوب چکا تھا (اٹلانٹس)۔ اٹلانٹس کے تصوراتی منظرنامے میں ہاتھیوں کی مدد سے تعمیرات کا تواتر سے ذکر ملتا ہے۔ فرعون نما جو حکمران دکھایا گیا ہے وہ سفید فام ہوتا ہے۔ حکمرانوں کے طبقے کے ناک نقوش بھی عجیب سے دکھائے گئے ہیں۔ جس کا مقصد غالبا یہ دکھانا تھا کہ ارتقائی عمل میں انسانی کی یہ نسل دنیا کے دیگر انسانوں سے زیادہ آگے تھی اور زیادہ ذہین تھی۔

فلم میں دکھایا گیا ہے کہ یہ تہذیب مموتھ کو سدھا کر ان سے تعمیراتی کام میں مدد لے رہی تھی۔ جو کہ عین ممکن ہوسکتا تھا۔ گرچہ ایسے کوئی شواہد کبھی نہیں ملے جن سے ایسا لگتا ہو کہ انسان نے کبھی مموتھ کو سدھایا ہو لیکن ڈی این اے تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ مموتھ کے قریب ترین رشتہ دار ہندوستانی اور جنوب مشرقی ایشیا کے ہاتھی ہیں جو قد میں افریقی ہاتھی سے چھوٹے ہیں اور افریقی ہاتھی جو کہ کافی غصیلے اور مشکل ہوتے ہیں ان کے مقابلے میں ایشیائی ہاتھی صدیوں سے انسانوں کے ساتھ کام کررہے ہیں۔

بادبانی کشتیاں۔ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ انسان اس دور میں کشتی بانی کرچکا تھا۔ مگر مجھے یہ علم نہیں کہ دس ہزار سال قبل مسیح کا انسان اتنی بڑی بادبانی کشتیاں بنانے کی ٹیکنالوجی رکھتا تھا۔

یہ ممکن ہے کہ دس ہزار سال قبل مسیح کا انسان پتھروں کی مدد سے تعمیرات کرنے کے فن سے آگاہ تھا۔ تاہم فلم میں دکھائی گئی عظیم تعمیرات کی ٹیکنالوجی کا تب موجود ہونا بے حد مشکل ہے۔ جیسے آپ دیکھیں گے کہ وہ پہیوں لگے ٹھیلے استعمال کرتے ہیں اہراموں کی تعمیر میں۔ دس ہزار سال قبل مسیح میں انسان گھوڑوں پر بیٹھ کر لڑنے کے فن سے بھی یکسر ناآشنا تھا۔ انسان تب گھوڑوں کا شکار کرکے انہیں کھایا کرتا تھا۔ لیکن فلم میں دکھایا گیا ہے کہ انہوں نے نہ صرف گھوڑوں کو سدھا رکھا تھا، بلکہ ان پر سواری بھی کرتے تھے اور انہیں لڑائی میں بھی استعمال کرتے تھے۔

05/05/2008

سائنسدان کافی عرصے سے زمین پر موجود دوسرے جانداروں میں ذہانت پر تحقیق کررہے ہیں۔ پتہ چلا ہے کہ بڑے بن مانس اور بوتل جیسی گردن والی ڈولفنز کافی ذہین مخلوق ہیں۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ڈولفن ان چند جانوروں میں سے ایک ہے جو اپنے وجود سے آگاہی رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ پیچیدہ گتھیاں سلجھانے کی قابلیت بھی رکھتی ہیں۔ ان کے درمیان سماجی شعور بھی پایا جاتا ہے، یہ آواز کو ابلاغ کے لئے استعمال کرنے کے فن میں عام جانوروں سے کہیں زیادہ اور انسان سے کچھ ہی کم مہارت رکھتی ہیں۔ موسیقی سے ان کے شغف کی خبر تو پرانی ہے، اب پتہ چلا ہے کہ یہ ٹیلیوژن سے بھی لطف اندوز ہوتی ہیں۔ نقل اتارنے کے فن میں یہ بندر اور بن مانس سے اگر کم ہیں تو کیا تخلیق، ترکیب اور تدبیر میں ان سے آگے ہیں۔ یہ بات بھی لائق ذکر ہے کہ ان میں سے کچھ اقسام اوزاروں کے استعمال سے بھی واقف ہیں۔ بن مانس، اور انسان کی ذہانت کو دیکھیں تو ڈولفن کی ذہانت حیرت انگیز نظر آتی ہے۔ کیونکہ ڈولفن اور انسان کا ارتقائی رشتہ بہت دور کا ہے اور اس میں خشکی اور تری کے ماحول کا فرق بھی حائل ہے۔

05/17/2007

مصنوعی ذہانت رکھنے والے دو تجرباتی روبوٹ آمنے سامنے۔ ایلیس اور جیبرویکی انٹرنیٹ کے دو مشہور چاٹ روبوٹ ہیں۔ یہ اپنے ڈیٹا بیس میں موجود ڈیٹا کی مدد سے انسانوں سے چیٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مقصد ایلن ٹیورنگ کی تھیوری کو جانچنا ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت انسانی ذہانت کو دھوکا دے سکتی ہے؟ میں کچھ عرصہ پہلے ایلیس سے چیٹ کرچکا ہوں اور میرے خیال میں وہ کافی بیوقوف ہے۔ جیبرویکی تھوڑا بہتر ہے مگر ان کی مشینی سوچ اتنی ذہین نہیں۔ مثال کے طور پر وہ گفتگو کے دوران صرف پچھلے جملے کا جواب دیتے ہیں بجائے اس کے کہ اس سیشن میں ہونے والی پچھلی گفتگو کو جانچیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ بات کیا ہورہی ہے۔
لیکن جب ان دونوں روبوٹوں کو ایک دوسرے سے بات کرنے کے لئے لایا گیا تو نتیجہ ایک ایسی گفتگو ہے جو بظاہر دیکھنے میں کافی ذہین معلوم ہوتی ہے۔

05/17/2007

عالمی حدت اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے جانوروں اور پودوں میں نئی انواع جنم لینا شروع ہوگئی ہیں۔ سائنسدان یہ بات پہلے ہی معلوم کرچکے تھے کہ کرہ ارض کے درجہ حرارت میں اضافے پر جانوروں کی کئی انواع ختم ہوجاتی ہیں، کئی نئی انواع جنم لیتی ہیں اور کئی موجودہ انواع میں جنییاتی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں جن سے وہ نئے ماحول میں بقاء کی جنگ لڑپاتے ہیں۔ اب محققین یہ پتہ لگا پائے ہیں کہ موجودہ گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی تبدیلیوں میں جانوروں کے درمیان بقاء کی جدوجہد شروع ہوچکی ہے۔

ویب 2 بیسڈ آپریٹنگ سسٹم

بتاریخ: 08 مئی 2007

اسماعیل غالمی ایک ایسا ویب بیسڈ آپریٹنگ سسٹم استعمال کرنے کا تجربہ کرچکے ہیں کہ جس میں انہوں نے ایک ہفتے تک اپنے کمپیوٹرفائر فوکس کے علاوہ کسی بھی دوسرے اطلاقئے کو استعمال نہیں کیا۔ ایسا اس لئے کیا تاکہ وہ یہ اندازہ لگا سکیں کہ ایک ویب بیسڈ آپریٹنگ سسٹم کے امکانات کیا ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے اپنے تجربات کو قلمبند کیا اور آفس 2.0 میں استعمال ہونے والی اپلیکیشنز کا ایک ڈیٹابیس بھی مرتب کیا۔

اس ڈیٹابیس میں تقریبا ہر کٹیگری میں کوئی نہ کوئی ویب بیسڈ اپلیکیشن موجود ہے۔ جن میں سے اکثریت بالکل مفت ہیں۔ ورڈ پروسیسنگ، اسپریڈ شیٹ، پریزینٹیشن، گرافی، ڈرائنگ، ڈیسک ٹاپ پبلشنگ اور کئی دیگر زمرہ جات میں سینکڑوں ویب سائٹ لسٹڈ ہیں۔ ان میں سے کئی ہم سب استعمال کرچکے ہیں۔ میں خود ٹیکسٹ ایڈیٹنگ کے علاوہ زیادہ تر کام ویب براؤسر پر ہی کرتا ہوں، اور کافی ساری ویب ٹو اپلیکیشنز روزانہ استعمال کرتا ہوں جیسے جی میل، ایڈسینس، گوگل ڈاکس اینڈ اسپریڈ شیٹس، گوگل کلینڈر اوہ ویسے کیا میں نے آپ کو بتایا کہ اب آپ گوگل کلینڈر سے یاد دہانیاں اپنے ٹیلی نار کے موبائل نمبر پر بذریعہ ایس ایم ایس وصول کرسکتے ہیں۔ یو ٹیوب، فلکر، بلاگر،ڈگ، اسٹمبل اپون، لنکڈان، فیڈبرنر، فیڈ بلٹز وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔

ٹم اوریلی، اوریلی میڈیا کے فاؤنڈر، آزاد سوفٹویر کے وکیل اور جدید ٹیکنالوجی کے خودساختہ فلسفی ہیں۔ ویب ٹو کی اصطلاح انہوں نے اپنی ویب ٹو کانفرنس سے پیش کی۔ ٹم اوریلی کے خیال میں ویب ٹو کیا ہے؟ ۔ مختصرا ویب ٹو، ویب کا وہ ڈھانچہ ہے جو نوے کی دہائی کا انٹرنیٹ بلبلہ پھٹنے کے بعد اس کی راکھ سے نمودار ہوا ہے۔ ٹیکنالوجیکل تبدیلیاں یہ ہیں کہ اب ویب سی ایس ایس، اجیکس، ایکس ایم ایل جیسی ٹیکنالوجیز استعمال کررہا ہے۔ اب ویب کو زیادہ لائق استعمال اور زیادہ سے زیادہ صارف پر مرتکز رکھا جاتا ہے۔ یہ ایک بہت دلچسپ اور حیرت انگیز بات ہے، اور جلد یا بدیر یہ بلبلہ بھی پھٹ ہی جانا ہے۔ کیونکہ حیرانی اور دلچسپی کا یہ عنصر وقت کے ساتھ کم ہوتا جائیگا اور ویب ٹو میں کوئی حیران کن بات نہیں رہے گی۔ اور تب کے لئے تیار ہوگا ویب تھری۔

آبی حیات کا سروے

بتاریخ: 16 دسمبر 2006

کراچی کے ساحل کے قریب گہرے پانیوں میں سینکڑوں ڈولفن اور وہیل مچھلیوں کا پتہ چلا ہے۔ یونیورسٹی آف اسکاٹ لینڈ میرین بایولوجیکل اسٹیشن، ورلڈ وائلڈ فنڈ پاکستان، یونیورسٹی آف کراچی میرین بایولوجی ریسرچ سینڑ کے اشتراک سے قائم کردہ ٹیم نے کراچی کے اردگرد گہرے پانی میں پائی جانیوالی آبی حیات کا پہلا جامع سروے شروع کیا ہے۔ یہ ایک دلچسپ پیش رفت ہے کیونکہ اس سے پاکستان کے سمندروں میں موجود آبی حیات کی معلومات حاصل ہوگی۔ خصوصا پاکستانی Cetaceans کے بارے میں مفید معلومات ملی ہیں اور ساتھ ہی ان آبی ممالیہ کی کچھ نئی species کا بھی پتہ لگا ہے۔

یہ اطلاع اس لئے بھی دلچسپ ہے کہ آبی ممالیائی مخلوق کے ارتقاء کی کڑیاں پہلے بھی پاکستان کے شمالی علاقوں سے کی صورت فوسلز برآمد ہوئی ہیں۔ جن سے ان آبی ممالیہ کے ارتقاء کی مفید معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ اس لئے پاکستان کے سمندر میں ان نسلوں کا پایا جانا ایک خوش کن خبر ہے۔

ڈاکٹر پرویز ہود بھائی جیو نیوز پر

بتاریخ: 15 جنوری 2006

ڈاکٹر پرویز ہودبھائی آج شام آٹھ بجے جیو کے پروگرام جوابدہ میں افتخار احمد کے سوالوں کے جوابات دینگے۔ ڈاکٹر صاحب قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں نیوکلئیر فزکس پڑھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ موصوف ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں۔ درس و تدریس، تعلیمی نصاب، حقوق انسانی، مذہب اور ریاست کے دائرہ اختیار کا تعین، سائنسی علوم کی ترقی اور پاکستان کے خارجی اور داخلی مسائل پر بہت کام کر چکے ہیں۔ کئی ڈاکومنٹری فلمز بنا چکے ہیں، حکومت پاکستان کی سفارش پر نصاب تعلیم میں بہتری اور خامیوں کی نشاندہی پر کی گئی تحقیقات میں پیش پیش رہے ہیں۔ نیوکلیائی توانائی کے بطور اسلحہ استعمال کرنے کے سخت مخالف ہیں اور مذہبی انتہاپسندی کو انسانیت کی فلاح کے لئیے خطرناک جانتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر اور کئی انگریزی روزناموں میں ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔ پاکستان میں سائنس کو پاپولر بنانے کے لئیے پاپولر سائنس کی بدیسی کتابیں اردو میں ترجمہ کرکے شائع کروانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ

آج کے پروگرام کی جو جھلک ٹی وی پر دکھائی جارہی ہے اس میں میزبان افتخار احمد ڈاکٹر صاحب کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں اور مذہب اور ریاست کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب کے جوابات سننے کے لائق ہونگے۔ اس کے علاوہ مذہب اور سائنس کے حوالے سے بھی گفتگو ہوگی۔ یہ پروگرام رات آٹھ بجے اور دوبارہ رات ایک بجے جیو نیوز سے نشر کیا جائے گا۔

موضوعات: سائنس تعلیم پاکستان

وقت میں سفر

بتاریخ: 03 دسمبر 2005

the time machine movie posterجب میں چھوٹا تھا تو ایک ٹی وی چینل ہوتا تھا این ٹی ایم۔ اس چینل پر ایک مرتبہ بیک ٹو دی فیوچر (واپس مسقتبل کی طرف) دکھائی گئی۔ یہ مووی ایک ٹرائیلوجی ہے جس کے تین پارٹ تھے۔ بعد میں ہم نے یہ فلمیں ویڈیو پر بارہا دیکھیں اور ہر بار اتنا ہی مزہ آیا۔ مختصرا اس فلم کی کہانی یہ تھی ایک سائنسدان ایک ایسی کار بناتا ہے جو انسان کو وقت میں کہیں بھی لے جاسکتی ہے۔ ماضی مستقبل حال کہیں بھی۔ سائنسدان اس تجربے کے لئیے ایک نوجوان لڑکے کا انتخاب کرتا ہے اور اسے ماضی میں پہنچادیتا ہے۔

آپ سب یقینا ایسے قصے سن چکے ہونگے کہ جن میں کئی شخص کہیں جاتا ہے اور جب واپس آتا ہے تو اس کے سب رشتےدار جاننے والے مرگئے ہوتے ہیں اور وہ ابھی تک جوان ہوتا ہے۔ یا ایسے قصے کہ جن میں کوئی شخص ماضی میں یا مستقبل میں پہنچ گیا اور جب واپس آیا تو اس کی دنیا وہیں کی وہیں تھی۔ یا ایسے قصے کہ لوگ کسی دیوار کو پار کرکے ایک بالکل الگ دنیا میں پہنچ جاتے ہیں۔ ان موضوعات پر سینکڑوں فلمیں، ناول، ڈرامے اور اشتہارت بن چکے ہیں۔ گرچہ جو کچھ ان فلموں میں دکھایا جاتا ہے وہ بالکل فرضی اور خیالی ہوتا ہے اور ان کا مقصد خالصتا تفریحی اور اصلاحی ہوتا ہے۔ لیکن کیا ایسا ممکن ہے؟ کیا انسان وقت میں سفر کرسکتا ہے؟ کیا انسان کسی ٹائم مشین میں بیٹھ کر ماضی یا مستقبل میں جاسکتے ہیں؟

آپ نے بڑے بوڑھوں کو اکثر کہتے سنا ہوگا کہ ‘وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا’۔ زمانوں یا وقت میں سفر کے لئیے سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ وقت کیا ہے۔ وقت کے بارے میں جو عمومی غلط فہمی پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ ہم وقت کو یوں بیان کرتے ہیں کہ جیسے وقت گزرنے والی کوئی چیز ہے جو ایک مخصوص رفتار سے ہمارے ہاتھوں سے گزرتا جاتا ہے۔ جبکہ ایسا نہیں ہے۔ دراصل وقت ایک ایسی پوزیشن ہے جس میں ہم سفر کر رہے ہوتے ہیں۔ یعنی وقت وہیں رہتا ہے ہم اسے چھوڑ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔

اسے اس مثال سے سمجھئیے۔ فرض کیجئیے آپ ریل میں بیٹھ کر کراچی آرہے ہیں۔ ریل حیدرآباد پہنچتی ہے وہاں آپ ٹہرتے نہیں ہیں۔ اب کوئی آپ سے پوچھتا ہے کہ کونسا اسٹیشن آیا تھا تو آپ بتاتے ہیں کہ حیدرآباد کا اسٹیشن تھا۔ حیدرآباد کا اسٹیشن وہیں ہے آپ اسے چھوڑ کر آگے بڑھ گئے۔ وقت کی مثال ایسے ہی اسٹیشنوں کی سی ہے۔ خلا میں وقت ایسا ہی ہے جیسے اسٹیشن۔ ہر اسٹیشن کائنات کے پھیلاؤ کی کسی نے کسی کیفیت میں موجود رہا ہے۔ یا یوں کہہ لیجئیے کہ وقت ایک خلا ہے جس میں ہم سفر کررہے ہیں۔

وقت کے نہ گزرنے کی ایک اور مثال یہ دی جاسکتی ہے کہ جب ہم کوئی من پسند کام کررہے ہوتے ہیں تو وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلتا جبکہ جب ہم بوریت کا شکار ہوتے ہیں تو ایک ایک لمحہ طویل ہوجاتا ہے۔ یا آپ نے اکثر لوگوں کو کہتے سنا ہوگا کہ آجکل تو وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ اکثر جب شہر کے لوگ دیہات میں جاتے ہیں تو انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہاں وقت دیر سے کٹتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ گھڑیاں وہی وقت بتارہی ہوتی ہیں اور اسی رفتار سے اپنی حرکت جاری رکھے ہوتی ہیں۔ مشہور زمانہ سائنسدان البرٹ آئن اسٹائن نے کہا تھا ‘وقت فریب ہے’۔

آئن اسٹائن سے پہلے نیوٹن دنیا کو یہ بتا چکا تھا کہ موشن (حرکت) وقت کے ساتھ بدلتا ہے۔ اس نے بتایا کہ جو قوت ایک سیب کو درخت سے زمین کی طرف کھینچتی ہے وہی قوت ہماری زمین کی حرکت کا سبب ہے اور اسی سے مدو جزر آتے ہیں۔ لیکن نیوٹن یہ بتانے سے قاصر تھا کہ کیوں یہ کشش ثقل زیادہ فاصلوں پر وقفوں سے اثر انداز ہوتی ہے۔ نیوٹن کے مطابق وقت اور خلاء کی کوئی مقررہ ویلیو تھی۔ اس کے خیال میں وقت ایک فکسڈ (طے شدہ) اکائی ہے جسے کائنات میں موجود کسی ایک گھڑی کی تحت ناپا جاسکتا ہے۔ خلاء کے متعلق اس کا یہ نظریہ تھا کہ خلاء ایک لامحدود، فکسڈ، اور غیر متحرک معیار ہے۔

آئن اسٹائن کے نظریات اضافیت سے یہ باتیں غلط ثابت ہوجاتی ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ وقت کی ایک کوئی ایک مخصوص رفتار، معیار یا سکوت کی کیفیت نہیں۔ یا یوں کہہ لیجئیے کہ وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔ دوسری بات یہ کہ خلا ایک محدود اور متحرک معیار ہے جو کہ وقت سے مطابقت رکھتا ہے یوں آئن اسٹائن ہمیں ایک اور معیار دیتا ہے جسے ہم اسپیس ٹائم کہتے ہیں۔ چونکہ ہمارے پاس فی الوقت ایسا کوئی معیار نہیں جس کی مدد سے وقت کو اسی طرح ناپا جاسکے جیسے ہم مادے کو ناپتے ہیں اور ایسی ہی صورتحال خلاء کے ساتھ بھی ہے جسے ہم کسی دوسرے اعداد و شمار کی مدد سے بیان نہیں کرسکتے۔

آئن اسٹائن کے نظرئیے کو آسانی سے سمجھنے کے لئیے یہ لنک دیکھئیے۔ یہ لنک آپکو نووا آن لائن کے ٹائم ٹریول ویب سائٹ پر ایک انٹرایکٹو فیچر کی طرف لے جاتا ہے۔ اس انٹرایکٹو فیچر کو مکمل کرنے کے بعد آپ نظریہ اضافیت کو کافی حد تک سمجھنے کے لائق ہوجائیں گے۔ آئندہ پوسٹ میں ہم ٹائم ٹریول پر مزید گفتگو کریں گے اور اس بات کا بھی جائزہ لیں گے کہ ٹائم ٹریول کیونکر ممکن ہوسکتا ہے۔

موضوعات: سائنس، وقت، خلاء

برمودا مثلث

بتاریخ: 22 نومبر 2005

یہ علاقہ ہمیشہ سے ہی پراسرار سمجھا جاتا ہے ۱۴۹۲ میں کولمبس نے جزائر غرب الھند پر لنگر انداز ھونے سے پہلے ایک واقعہ جھاز کے روزنامچے میں تحریر کیا کہ انہوں نے ایک آتشیں گولے کو سمندر میں گرتے دیکھایے ۱۱ اکتوبر کی شام کولمبس اور عملے کے ایک آدمی نے پانی کی سطح پر ایک غیر معمولی چمک کو نمو دار ہو کہ یکدم غائب ہوتے دیکھا۔
کولمبس کو سفر سے پہلے یہ بات معلوم تھی کہ ملاحوں کا خیال ہے کہ مغرب کی جانب سفر کرتے ہوئے جھاز دنیا کے پرلے کنارے پر جا گریں گے۔ بعض تجربہ کار ملاحوں کا کہنا تھا کہ آگے سارگیسو سمندر آتا ہے۔ جہاں کی بلائیں کسی جھاز کو صحیح سلامت آگے جانے نہیں دیتیں۔
امریکہ کی دریافت کے بعد سے سمندر کا یہ علاقہ بحری اور فضائی ٹریفک کے اعتبار سے بہت پر رش ہوتا چلا گیا۔ زیادہ رش کے تناسب سے حادثات کے امکانات بھی بڑھتے گئے مگر پے درپے ایسے حیران کن حادثات واقع ہوئے جنہوں نے ذمہ دار افراد کو پریشان کردیا۔ اس علاقہ سے گزرنے والے کئی بحری جھاز،کشتیاں،آبدوزیں،حتٰی کہ لڑاکا اور مسافر ہوائی جھاز اس طرح سے غائب ہوئے کہ کھنا پڑھتا ہے کہ زمین کھاگئی یا آسمان نگل گیا۔ اس سلسلے کی ابتدا ۱۹۴۵ سے ہوئی اور آج تک سمندر کا یہ حصہ نا معلوم کتنے لوگوں کی جان لے چکا ہوگا۔
محققین نے برمودا کے علاقے سے گزرنے والے پائلٹوں سے ادھر کی غیر معمولی وارداتوں کی تفصیل مالوم کی ہے۔ بعض پائلٹوں کا کہنا ہے کہ جب وہ برمودا کے علاقے کی فضا سے گزر رہے تھے تو یہاں ان کے الیکٹرانک آلات نے اچانک کام بند کردیا اور کچھ دیر بعد پھر سے ٹھیک طور پر چلنے لگے۔
کچھ پائلٹوں نے فضا میں روشنی خارج کرتے ہوئے بادلوں کو دیکھنے کی اطلاع دی ہے۔

اس بارے میں ویکیپیڈیا پر کافی معلومات موجود ہیں لیکن ان میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ جدید محققیں برمودا مثلث کو کوئی ماورائے عقل علاقہ نہیں سمجھتے۔ اور نہ ہی یہ علاقہ آج اتنا پراسرار سمجھا جاتا ہے۔ اس قسم کے واقعات جاپان کے پاس ایک سمندری علاقے میں بھی پیش آچکے ہیں جن پر لوگوں کا اسرار ہے کہ یہ واقعات پیرانارمل ہیں۔

Wikipedia: Bermuda Triangle

کائنات کا آغاز

بتاریخ: 21 نومبر 2005


کائنات کی ابتدا کیسے ہوئی؟ یہ وہ سوال ہے جس نے ماہرین کو ایک عرصے سے مشکل میں ڈال رکھا ہے۔ ابتدا میں کچھ نہ تھا۔ نہ مادہ تھا نہ توانائی۔ پھر نا معلوم کیوں کر عدم سے وقت کا وجود ہوا اور یہیں سے کائنات کا عمل شروع ہوا۔

کائنات کے آغاز کے بارے میں سب سے معتبر نظریہ بگ بینگ کا ہے۔ بگ بینگ کے مطابق کائنات کا آغاز دس سے بیس بلین سال پہلے ایک کاسمک دھماکے سے ہوا جسے بگ بینگ کہا جاتا ہے۔ اس دھماکے سے پہلے کائنات کی ساری توانائی اور مادہ کسی ایک نقطے پر جمع تھا اور دھماکے کے بعد یہ اتنہائی تیزی سے پھیلنا شروع ہوا۔ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا اور اس تھیوری کا زیادہ تر کریڈٹ جاتا ہے ایڈون ہبل کو جنہوں نے ۱۹۲۰ میں یہ معلوم کیا کہ کہکشائیں جو ہمارے ملکی وے سے دور ہیں وہ ھم سے اور دور ہوتی جارہی ہیں بلکہ جو کہکشایں ہم سے جتنی دور ہیں وہ ھم سے اتنی ہی تیزی سے دور جارہی ہیں۔ اس بات سے اس نے اندازہ لگایا کہ ساری کائنات اسی طرح پھیل رہی ھوگی اگر اس پھیلاو کو الٹا کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک موقع پرکائنات کسی واحد نقطہ سے نکلی ہوگی۔

سن 1960 میں آرکو پانزیاز نے اور رابرٹ ولسن نے بگ بینگ کے ہالہ کا معلوم کرلیا جسے Cosmic microwave background radiation کہا جاتا ہےاس سے پتہ چلا کہ ہماری کائنات کبہی ایک بہت گرم اور خطرناک جگہ تھی۔ یوں بگ بینگ تھیوری کو اور تقویت ملی۔ ان دونوں دریافتوں سے ماہرین یہ اندازہ لگانے میں کامیاب ھوگئے کہ کائنات ایک بہت بڑے آگ کے گولہ سے شروع ہوئی بگ بینگ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ ستارے اور سیارےجو ہمارے ارد گرد موجود ہیں کس طرح وجود میں آئے بگ بینگ کے نام کی وجہ سے لوگ سمجہتے ہیں کہ یہ کسی قسم کا دھماکہ ہے اور کسی خاص موقع پر پیش آیا ہوگا لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ مثال کے طور پر دھماکے سے اگر ہم ایک بم کی مراد لیتے ہوں تو جب دھماکا ہوتا ہے تو بم میں موجود اجزاء توانائی کے ساتھ باہر کی طرف پھیلتے ہیں اور بکھرتے ہیں۔ بگ بینگ کی مثال ایسی ہے کہ ایک بم کے اندر ہی دھمکا ہوا اور بم کی توانائی کے پھیلنے سے بم کے اندر ہی خلا تخلیق ہوئی جس میں بم کے دیگر اجزاء پھیلتے گئے۔

کائنات کے پھیلاؤ کی ایک اور مثال یوں دی جاسکتی ہے کہ توے پر رکھے پراٹہے کا سوچیں جب اس پر گھی ڈالا جاتا ہے تو آہستہ آہستہ وہ گھی پھیلنے لگتا ہے اب آپ یہ سوچیں کہ آپ اس گھی میں شامل ایک ننھا سا عنصر ھیں تو آپ کو ہر طرف ایک ہی رفتار سے گھی پھیلتا ہوا نظر آئے گا لیکن پراٹھے کی طرح کائنات کا کوئی مرکز نہیں ہے۔

ما بعد تعارف

بتاریخ: 19 نومبر 2005

چند جملے میری جانب سے۔ عازب آپکو بتا چکا ہے کہ اس بلاگ کو موضوع کیا ہے۔ عازب اور مجھے دونوں کو قدیم تہذیبوں کی تاریخ اور سائنس میں دلچسپی ہے۔ ہماری یہ بالکل کوشش نہیں ہوگی کہ ہم اپنے آپکو عالم فاضل ظاہر کرنے کی کوشش کریں بلکہ ہماری کوشش یہ ہوگی کہ اس بلاگ کے ذریعے ہم ایسے لوگوں سے بات چیت کرسکیں جو ان موضوعات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ عازب کا آئیڈیا یہ ہے کہ ہم ڈاکٹر سلیمان قاضی کی کتاب کے موضوعات اپنے الفاظ میں بیان کریں کیونکہ انٹرنیٹ تک رسائی ہونے کے بعد ہمیں پتہ چلا کہ کئی مقامات پر قاضی صاحب صحیح معلومات فراہم نہیں کرسکے اور چند ایک جگہ سائنس پر ان کا ذاتی تعصب غالب آگیا۔ جہاں وہ صحیح معلومات پیش نہیں کرسکے اس میں ان کی کوئی غلطی نہیں کیونکہ پاکستان میں رہتے ہوئے بغیر انٹرنیٹ کے صحیح معلومات کا حصول بہت مشکل ہے۔
میرا آئیڈیا یہ ہے کہ ہم اپنے طور پر اس بلاگ کو مرتب کریں اور ایسے موضوعات بھی ڈسکس کریں جو قاضی صاحب نے ڈسکس نہیں کئیے ہیں۔ اس بات پر اتفاق ہوچکا ہے کہ ہم اس بلاگ کا باقاعدہ آغاز بگ بینگ یعنی کائنات کے آغاز سے کریں گے۔ لیکن میں یہ چاہتا ہوں کہ عازب زیادہ سے زیادہ لکھے اسلئیے ہوسکتا ہے ہمیں یہ پوسٹ لکھنے میں کچھ وقت لگ جائے۔ امید ہے کہ جس طرح آپ نے میرے بیہودہ بلاگ کو پذیرائی بخشی اسی طرح اس بلاگ پر بھی نوازش فرمائیں گے۔

تعارف

بتاریخ: 19 نومبر 2005

میرا نام عازب ھے اور میری عمر سولہ سال ھے۔ میں قرآن حفظ کرنے کے بعد ان دنوں لیجنڈ پبلک اسکول میں دسویں جماعت کا طالبعلم ہوں۔ اپنے بڑے بھائی نعمان کا بلاگ دیکھ کر مجھے بھی بلاگنگ کا شوق ہوا۔ مجھے سائنس اور تاریخ میں دلچسپی ہے اس بلاگ پر ان دو مضامین پر لکھوں گا۔ کیونکہ میں نے ابھی ابھی کمپیوٹر پر اردو لکھنا شروع کی ہے اسلئیے میں پہلے چھوٹی چھوٹی پوسٹ لکھوں گا۔ میرے علاوہ یہاں نعمان بھائی بھی میرا ہاتھ بٹائیں گے۔

اس بلاگ کا ٹائٹل ڈاکٹر قاضی محمد سلیمان کی کتاب ‘کائنات کے ان کھلے راز’ سے لیا گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی کتاب جنگ پبلشرز نے جون ۱۹۹۹ میں شائع کی تھی۔ اس کتاب سے متاثر ہو کر میں نے یہ بلاگ شروع کیا ہے۔