مذہبی رواداری

موضوع: مذہبی رواداری

برداشت، رواداری، احترام انسانیت۔

ویکیپیڈیا کی تصاویر اور ڈنمارک کے خاکوں کا فرق

بتاریخ: 02 مارچ 2008

پاکستانی ان دنوں ڈنمارک میں چھپنے والے کارٹونوں کے سبب خفا ہیں۔ مجھے اس موضوع سے کوئی خاص دلچسپی نہیں۔ میرا خیال ہے کہ اگر کوئی شخصیت میرے لئے قابل احترام ہے۔ تو میری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ کوئی اس شخصیت کی تضحیک نہ کرے۔ ان کارٹونوں کو شائع کرنے کا مقصد ہی شرانگیزی اور مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنا تھا۔ ہمیں اس شرانگیزی کا خاتمہ مزید شر پھیلا کر نہیں کرنا چاہئے۔ اور نہ کسی کو اجازت دینی چاہئے کہ وہ ہمارے مذہبی جذبات کو مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرے۔ احتجاج کے تمام غیرمتشدد، مہذب، اور اثرانگیز طریقے اختیار کرے جائیں۔ مگر دشمن کے جھانسے میں نہ آئیں۔

اس کے علاوہ ایک اور مسئلہ ویکیپیڈیا پر محمد ﷺ کے بارے میں مضمون پر چند پینٹینگز کی تصاویر کا ہے۔ میرے خیال میں ایسے پاکستانی جنہیں انٹرنیٹ تک رسائی نہیں، یا جو زیادہ تعلیم یافتہ نہیں وہ ان دنوں معاملات کو ایک نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ یعنی ان کے مذہب اور عقائد کی توہین باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کی جارہی ہے۔ لہذا میں نے سوچا کہ اس بارے میں کچھ لکھوں۔ ویکیپیڈیا کے مضمون پر موجود آپ ﷺ کی تصاویر کا مقصد ڈنمارک کے کارٹونوں سے بالکل مختلف ہے۔ یہ تصاویر توہین آمیز نہیں۔

ان میں سے ایک پینٹنگ میں محمد ﷺ صحابہ کرام کو مہینوں کے بارے میں بتارہے ہیں۔ یہ تصویر ابو الریحان البیرونی کی کتاب الآثار الباقية عن القرون الخالية کے قدیم نسخے میں موجود تھی جسے بعد ازاں سترھویں صدی کے نسخے میں نقل کیا گیا۔ یہ نسخہ اب فرانس کی قومی لائبریری کی ملکیت ہے۔

دوسری میں آپ ﷺ فرشتوں اور صحابہ کرام کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس تصویر میں بھی آپ ﷺ کا چہرہ مبارک نہیں دکھایا گیا ہے۔

اور تیسری میں آپ ﷺ کا چہرہ مبارک نہیں دکھایا گیا ہے یہ تصویر استنبول کے توپ کاپی عجائب گھر میں رکھی ہوئی ہے۔

پھر بھی اگر آپ کو یہ تصاویر نا مناسب معلوم ہوتی ہیں تو ان تصاویر کے خلاف اپنے احتجاج کو ڈنمارک کے کارٹونوں کے خلاف احتجاج سے نہ ملائیں۔ ڈنمارک کے کارٹون سراسر شرانگیزی ہے جس کا مقصد ہی مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنا ہے۔ لیکن ویکیپیڈیا پر موجود تصاویر شرانگیز نہیں بلکہ تاریخی اور علمی اہمیت کی دستاویزات کی تشبیہہ ہیں۔ آپ ان سے اختلاف کا اظہار کریں اور پٹیشن پر اپنے تاثرات ضرور درج کریں۔ لیکن اس معاملے کو ڈنمارک کے معاملے جیسا نہ سمجھیں۔

آپ کے سوال کیا ہیں؟

بتاریخ: 11 جولائی 2007

آپریشن سائلنس اپنے اختتام کو پہنچا۔جناب پرویز ہود بھائی چوک ڈاٹ کام پر اپنے مضمون “مزید لال مسجدوں کا تدارک” پر اس بارے میں اظہار خیال کرتے ہیں۔ قدیر، افضل، اجمل، نبیل، اظہر،خالد بھی فکرمند ہیں۔ ڈاکٹر علوی، پاکستانی اسپیکٹیٹر، اسلام آباد میٹروبلاگ کے بلاگر، دیگر کئی انگریزی اور اردو بلاگر، ان سب تحریروں پر تبصرہ جات کرنے والے، اور آنلائن فورمز پر۔ ٹی وی، ریڈیو، اخبارات ہر جگہ یہی ذکر ہے۔ چاہے کوئی انتہاپسندی کے اُس طرف ہے یا روشن خیالی کے اِس طرف۔ تشویش ان کو بھی ہے جو اعتدال کی نازک ڈور پر جھولتے ہیں اور ان کو بھی کہ جو بندوق تھامے محاذوں پر کھڑے ہیں۔

میرے ذہن میں بھی سوال ہیں۔ لیکن سردست صرف ایک سوال ہے جو میرے خیال میں ہم سب کو سوچنا ہوگا۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ سوال بہت بے چیدہ ہیں اور ان کے جوابات پر مشتمل حل ناقابل عمل معلوم ہوتے ہیں۔ مگر پھر بھی۔۔۔

پاکستان میں ایسے کتنے مدارس ہیں جو طالبعلموں کو اس بات پر اکسا رہے ہیں کہ وہ ملک کی عورتوں کے چہرے نقابوں سے ڈھک دیں نہیں تو ان پر تیزاب ڈال دیں۔ ایسے اور کتنے ادارے ہیں جو سی ڈیز جلانے، ہجاموں کی دکانوں پر حملے کرنے اور زنا کرنے والوں کو قتل کرنے کی ترغیب دے رہیں۔ کیا جہادیوں کی یہ فوج جو کشمیر اور افغانستان آزاد کرانا چاہتی تھی اب اپنا مقصد پاکستانیوں کو زیر کرنا بناچکی ہے؟ کیا ہمارے محلوں کے وہ بچے جو قرآن حفظ کرنے گئے ہیں واپسی پر ہمارے چہرے جھلسائیں گے اور ہمیں ڈرائیں دھمکائیں گے؟ نہیں سوال یہ نہیں۔

پاک فوج، پارلیمینٹ، حکومت پاکستان، سیاستدان، عدالتیں، میڈیا کیا یہ سب ادارے اس بات پر غور کررہے ہیں کہ اگر کسی دن یہ مدارس، یہ ادارے، یہ افراد ہاتھ سے نکل گئے تو پاکستان کی عوام کے جان و مال عزت و آبرو کی حفاظت کے لئے کتنے آپریشن سائلنس درکار ہونگے؟ اوں ہوں، نہیں یہ وہ سوال نہیں۔

مجھے سخت تشویش ہے، اور میری طرح ان سب پاکستانیوں کو بھی جو انٹرنیٹ پر، گھروں میں، دکانوں، بازاروں، گلیوں، محلوں، نکڑوں اور چائے خانوں میں اس وقت اپنی تشویش کا اظہار کررہے ہیں اور اس امید میں ہیں کہ کوئی ان کو یہ یقین دلائے گا کہ ان کی حفاظت کے لئے پاکستان میں کوئی قانون موجود ہے، ایسے ادارے اور ایسی عدالتیں موجود ہیں جو انصاف فراہم کرسکیں۔ لیکن پاکستانیوں کو یقین کون دلائے گا؟ جب یقین دلانے والے لوگ ہی قانون شکن، ادارہ شکن، آزادی دشمن، انصاف دشمن ہوں تو کوئی بھی پاکستانی کیسے کسی کی بات کا یقین کرے اور کیسے اس کا خوف دور ہو؟ کیا یہ وہ سوال ہے؟ شاید ہے یا شاید نہیں ہے۔

جامعہ حفصہ، فریدیہ، لال مسجد کے بعد آپریشن سائلنس کا راستہ چننا ہے یا تعلیم، انصاف اور آزادی کا؟ سوال یہ ہے۔

آپ کے ذہن میں کیا سوچ اور سوال ہیں؟

لال مسجد کا محاصرہ

بتاریخ: 04 جولائی 2007

جیو نیوز کے نمائندوں کے مطابق منگل کے دن آنسو گیس کی شیلنگ کے بعد سینکڑوں کی تعداد میں طالبات جامعہ چھوڑ کر جاچکی ہیں۔ تاہم ابھی بھی جامعہ میں طالبات موجود ہیں جن کی تعداد کے بارے میں متضاد قیاس آرائیاں کی گئی ہیں۔ تاہم منگل کے روز کی حکمت عملی کے سبب کافی طالبات کو جامعہ چھوڑنے پر مجبور کردیا گیا۔ اب یہ اطلاع ہے کہ چند طالبات نے خود کو حکام کے حوالے کردیا جنہیں فورا چھوڑ دیا گیا ہے اور ان کے والدین انہیں گھر لے جاسکتے ہیں۔ تاہم مدرسے میں ایسی سینکڑوں طالبات اور طلباء زیر تعلیم ہیں جن کا تعلق پاکستان کے انتہائی دوردراز علاقوں سے ہے۔ کئی ایسی طالبات ہیں کہ جن کے پاس جامعہ کے علاوہ سر چھپانے کا اور کوئی ٹھکانا نہیں۔ مسجد اور مدرسوں میں اس وقت کتنے طالبعلم ہیں یہ کسی کو نہیں معلوم۔ ان میں سے کتنے مسلح ہیں یہ بھی نامعلوم ہے۔ ان کے پاس خوراک، بجلی وغیرہ کا کیا انتظام ہے اس بارے میں بھی کچھ کہنا ممکن نہیں۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ حکومت کو مکمل حق حاصل ہے کہ وہ لال مسجد کی انتظامیہ کے خلاف ایکشن لے۔ ایکشن کے طریقہ کار سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، اس کی غلط ٹائمنگ پر اعتراض کیا جاسکتا ہے، خونریزی کا خدشہ بھی خوفناک ہے لیکن یہ بات سب سے زیادہ ضروری ہے کہ ریاست کی رٹ منوائی جائے اور آئین پاکستان کی حفاظت کے لئے کاروائی کی جائے۔ تاہم کاروائی کا مقصد اگر بدنیتی سے خون خرابہ کرنا ہے تو اس کے انتہائی سنگین نتائج مرتب ہونگے جن پر تمام پاکستانیوں کو تشویش ہے۔ حکومت کو محاصرہ جاری رکھنا چاہئے اور زیادہ سے زیادہ دیر تک اس محاصرے کو جاری رکھ کر طلباء اور انتظامیہ کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ یہی سب سے مناسب حکمت عملی ہے۔

lalmasjid-1.gif

lalmasjid-2.gif

lalmasjid-3.jpg

lalmasjid-4.jpg

lalmasjid-5.jpg

مجھے یہ دیکھ کر شدید حیرت ہورہی ہے کہ مسجد کے اندر نہ صرف یہ کہ اتنی بڑی تعداد میں اسلحہ موجود ہے بلکہ یہ انتہائی جدید اور خودکار اسلحہ ہے جو یقینا کافی مہنگا بھی ہوگا۔ مسجد کی انتظامیہ کے پاس کیا اس تمام اسلحے کے لائسنس موجود ہیں۔ کن رقومات سے یہ اسلحہ خریدا گیا اور اس کی مسجد تک رسائی کس طرح ممکن ہوئی جبکہ مسجد کے اطراف میں اتنے اہم انٹیلی جنس اداروں کے دفاتر ہیں۔

خدا کے لئیے

بتاریخ: 03 جولائی 2007

in_the_name_of_god.jpg

شعیب منصور کی فلم “خدا کے لئے” کا ویب سائٹ آنلائن ہوگیا ہے۔ پاکستان کی معدوم شدہ فلمی صنعت کے لئے شعیب کی فلم ایک نئی امید لے کر آئی ہے۔ سپریم عشق، الفا براوو چارلی، سنہرے دن اور دل دل پاکستان والے شعیب منصور ایک نہایت باصلاحیت اور مقبول ہدایت کار ہیں۔ خدا کے لئے کے ویب سائٹ پر شعیب لکھتے ہیں کہ:

نو گیارہ کے بعد بیرون ملک مقیم پاکستانی اور دنیا بھر میں پھیلے مسلمانوں کو درپیش مسائل نے انہیں یہ فلم بنانے پر راغب کیا۔ یہ فلم جدت پسند مسلمانوں اور انتہاپسند مسلمانوں کے درمیان جاری کشمکش کی عکاسی کرتی ہے۔ جہاں ایک طرف نائین الیون کے بعد جدت پسند مسلمانوں کو انتہاپسندوں کی مخالفت کا سامنا ہے وہیں مغرب بھی انہیں شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ان حالات نے جہاں ہر حساس دل کو متاثر کیا وہیں میں بھی ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ کہ پھر ایک دن ان کی نظر سے ان کے دوست جنید جمشید کا انٹرویو گزرا جس میں جنید ایک بالکل نئے کاسٹیوم میں ملبوس یہ بیان دے رہے تھے کہ انہوں نے موسیقی تج دی ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ موسیقی اسلام میں حرام ہے۔ شعیب لکھتے ہیں کہ مجھے یہ پڑھ کر بہت دکھ ہوا کہ ہماری پندرہ سالہ دوستی اور ساتھ کام کرنے کا تجربہ جنید کیسے مجھ سے بات کئے بغیر یوں تلف کرسکتا ہے؟ شعیب کے بقول جنید کے ان بیانات کا نوجوان نسل پر پڑنے والے اثر کا تدارک ضروری تھا۔

فلم میں پاکستانی اداکار شان مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ دیگر کاسٹ میں ایمان علی، فواد خان، رشید ناز اور بھارتی اداکار نصیرالدین شاہ شامل ہیں۔ فلم کا ساؤنڈ ٹریک اس کا سب سے مضبوط پہلو ہوگا۔ میں نے ابھی تک اس کی موسیقی نہیں سنی ہے۔ مگر بول اگر شعیب منصور کے ہوں اور کئی باصلاحیت نئے فنکاروں نے موسیقی ترتیب دی ہو، گانے گائے ہوں، ریکارڈنگ اور مکسنگ کا کام شکاگو میں ہوا ہو تو پھر عمدہ موسیقی کی توقع یقینی ہوجاتی ہے۔

khuda-ke-liye.jpg

فلم کی کہانی بہت جاندار معلوم ہوتی ہے۔ اداکار شان، نصیرالدین شاہ اور رشید ناز کی صلاحیتوں کا بھی ہر کوئی معترف ہے اور شعیب کے میوزک ویڈیوز، ڈراموں اور ڈاکومنٹریز بے انتہا دلچسپ اور خوشنما ہوتی ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر بہت بے چینی سے اس فلم کا انتظار ہے۔ ریلیز کی متوقع تاریخ بیس جولائی سننے میں آرہی ہے۔

میرے علاوہ اسلام آباد کے انتہاپسند مذہبی حلقوں کو بھی فلم کا بے چینی سے انتظار ہے۔ غازی عبدالرشید صاحب یہ بیان دے چکے ہیں کہ یہ فلم خلاف اسلام ہے اور اگر یہ سنسر بورڈ سے پاس کرائے بغیر جاری کی گئی تو حکومت نتائج کی ذمہ دار ہوگی۔ غازی عبدالرشید صاحب کو یہ فیصلہ دینے سے پہلے کہ آیا یہ فلم خلاف اسلام ہے یا نہیں یہ فلم دیکھنا ہوگی۔ ویسے میں تو یہ سمجھتا تھا کہ غازی صاحب کے دین میں تو فلم ہی خلاف اسلام ہے چاہے وہ کوئی سی بھی ہو شکر ہے غازی صاحب نے تصدیق کردی کہ ہر فلم خلاف اسلام نہیں ہوتی بلکہ کوئی کوئی فلم خلاف اسلام ہوتی ہے۔ خصوصا ایسی فلم جس میں جدت خیالی کا ذکر ہو۔

طالبان سے بچاؤ کی تدابیر

بتاریخ: 25 جون 2007

[ مندرجہ ذیل پوسٹ میں مصنف یہ فرض کرلیتا ہے کہ مستقبل میں پاکستان کی طالبانائزیشن کا دائرہ وسیع ہورہا ہے اور ملک کے دیگر علاقوں سے بھی ایسی خبریں آرہی ہیں۔ ایسے موقعے پر مصنف اپنے قارئین کو کیا مشورہ دیگا یہ پوسٹ اسی بابت ہے۔ ]

طالبانائزیشن کے اس شور شرابے میں اگر آپ اپنی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کے حوالے سے پریشان ہیں تو پیش خدمت ہیں چند حفاظتی تدابیر۔ اگر پاکستان کی طالبانائزیشن کا دائرہ آپ کے علاقے تک پھیل جائے تو مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں:

ا۔ اپنے گھر سے تمام انگریزی، بھارتی فلموں کی سی ڈیاں اور ڈی وی ڈیز سڑک پر پھینک دیں۔ کیونکہ کچھ پتہ نہیں کب آپ کا کوئی بدخواہ آپ کی چغلی کردے اور طالبان دروازہ توڑتے ہوئے آپ کے گھر میں گھس جائیں۔ تب آپ کو یہ سی ڈیز چھپانے کا موقع نہ ملے گا۔ تمام بھارتی گانے اور پاکستانی پاپ موسیقی بھی ٹھکانے لگادیں اور حفظ ماتقدم کے طور مولانا طارق جمیل کی سی ڈیز خرید کر رکھ لیں۔ ڈریں نہیں خدانخواستہ طالبانائزیشن کے بعد آپ یہ سی ڈیز دیکھنے سے محروم نہیں ہوجائیں گے، بس اتنا ہوگا کہ یہ آپ کو چوری چھپے کرائے پر دیکھنا پڑیں گی۔

3۔ گھر کے تمام مردوں کی پتلون قمیضیں چھپا دیں اور گھر سے باہر جب بھی نکلیں شلوار قمیض پہن کر نکلیں۔

4۔ داڑھی رکھ لیں۔ یا کم از کم مونچھیں تو لازمی رکھ لیں۔ فرنچیز اور داڑھیوں کے عجیب نمونوں سے پرہیز کریں۔

5۔ انٹرنیٹ پر اگر آپ اپنے اصلی نام سے طالبان دشمن، پاکستان دشمن، دہشت گرد دشمن مواد لکھتے رہے ہیں تو وہ سب مٹادیں۔ اور آئندہ جعلی ناموں سے یہ مواد شائع کیجئے گا۔

6۔ اگر آپ شیعہ، بوہری یا اسماعیلی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں، احمدی مرزائی یا قادیانی ہیں، کسی این جی او کے لئے کام کرتے رہے ہیں، یا خواتین کے حقوق کے لئے نعرے لگا چکے ہیں، افغانستان کے ان علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں شمالی اتحاد کا اثر رسوخ رہا ہے، تو کسی کی ہدایت یا مشورے کا انتظار نہ کریں اور فورا پاکستان سے فرار ہونے کی کوشش کریں۔

7۔ اگر آپ کی بچیاں کسی اسکول یا کالج میں پڑھتی ہیں تو انہیں گھر بٹھالیں۔ گھر کی خواتین کے کسی بھی ضروری کام سے باہر نکلنے کو قطعا منع کردیں۔ خواتین اپنے حفاظت کے لئے اگر باہر نکلیں تو اپنے ساتھ کسی بھائی یا باپ کو لے کر چلیں اور اگر شوہر ساتھ ہے تو احتیاطا نکاح نامے کی فوٹو کاپی بھی رکھ لیں۔ بوائے فرینڈ یا منگیتر جیسی کسی چیز کے ساتھ گھر سے باہر نکلنا انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے۔ اسلئے اس سے بالکل پرہیز کریں۔

8۔ آپ کے محلے میں دیوبندی فرقے کی جو مسجد ہو صرف اسی میں نماز ادا کریں۔

9۔ کبھی بھول کر بھی کسی محفل میں ایسی گفتگو نہ کیجئے گا جس سے یہ معلوم ہو کہ آپ دنیا بھر میں کسی بھی جہادی تنظیم کے نکتہ نظر یا مقصد سے اختلاف رکھتے ہیں۔

10۔ لوگوں کے درمیان مذہبی، سیاسی یا تفریحی موضوعات پر گفتگو سے پرہیز کریں اور اپنی رائے کا اظہار کسی کے سامنے تب تک نہ کریں جب تک آپ کو یقین نہ ہو کہ وہ آپ کے ہمدرد ہیں۔

شریعت اور جمہوریت

بتاریخ: 04 جون 2007

کیا جمہوریت کے ذریعے نفاذِاسلام ممکن ہے؟ (قسط اول، دوئم)۔ لال مسجد کے خطیب عبدالرشید غازی کا مضمون روزنامہ جنگ میں۔ اس مضمون میں عبدالرشید غازی یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ جمہوریت خود خلاف اسلام ہے اس لئے جمہوریت کے ذریعے اسلام کا نفاذ ممکن نہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

اسلام سیاسی، معاشی، معاشرتی غرض ہر لحاظ سے ایک کامل و اکمل دین ہے۔ اسلام کی ابتدائی فتوحات میں صحابہ کرام نے مفتوح قوموں کے سامنے اسلامی نظام حکومت کا خلاصہ ان الفاظ میں پیش کیا تھا کہ اسلام کا بنیادی مقصد بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ تعالیٰ کی غلامی میں داخل کرنا ہے جبکہ جمہوریت کی ایک بہت زیادہ مشہور اور جامع مانع تعریف امریکا کے سولہویں صدر ابراہم لنکن نے ان الفاظ میں بیان کی’Government of the people by the people, for the people” یعنی”بندوں کی حکومت ،بندوں کے ذریعے،بندوں کے لیے“دوسرے الفاظ میں یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ”بندوں کوبندوں کی مرضی سے بندوں کی غلامی میں داخل کرنا “۔

اسی سے اندازہ ہوجانا چاہئے کہ اسلام اور جمہوریت میں کتنا واضح بُعد ہے جبکہ اسلام تو بندوں کی غلامی سے نکال کراللہ کی غلامی میں لانے کا نام ہے۔ نیز یہ امر بھی قابل غور ہے کہ بنی نوع انسان آغاز اسلام سے قبل ”جمہوریت“ کے ناکام تجربے سے گزرچکا ہے ۔ 500 قبل مسیح یونان کی بعض ریاستوں میں ”جمہوریت“ رائج رہی لیکن اپنے گوناگوں مفاسد اور مضرت رساں پہلوؤں کے باعث بری طرح ناکام ثابت ہوئی حتیٰ کہ ”ارسطو“ جیسا مفکر بھی اس طرز سیاست کے شدید مخالفین میں سے تھا ۔ بعد ازاں قریباً دو ہزار سال تک اس فرسودہ نظام سلطنت سے کرہٴ ارض مکمل طور پر پاک رہا پھر اٹھارہویں صدی کے اواخر میں4 /اگست1779ء کی ایک منحوس شب”جمعیت وطنیت فرانس“ نے اپنا منشور انقلاب شائع کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انقلاب فرانس کے بعد مذکورہ ”منشور آزادی“ پیش کرکے ”جمہوریت“ کے مُردہ جسم میں جان ڈالنے والے وہ لوگ تھے جو مذہب سے شدید نفرت کرتے تھے ،کلیسا کے مظالم اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے سسکتے فرانسیسی اپنے بادشاہ کے استبدادی نظام اور ٹیکسوں کی بھر مار تلے بھی کچلے جارہے تھے چنانچہ ان کے منشور آزادی میں جتنی دشمنی بادشاہی نظام سے نظر آتی ہے اس سے دُگنی بیزاری اور نفرت ”مذہب“ سے بھی روا رکھی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اس منشور آزادی میں سیاسی مساوات اور جنسی مساوات ایسی ہیں جن کا جواز انجیل سے بھی ثابت نہیں ہوسکتا اور اسلامی نصوص میں تو ان کے خلاف اتنی واضح آیات اور احادیث مل سکتی ہیں کہ باقاعدہ ایک کتاب تیار ہوسکتی ہے۔”جمہوریت“ میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کا تصور گویا اس نظام کی روح تصور کیا جاتاہے جبکہ اسلامی طرزحکومت میں حزب اختلاف کا تصور محال ہی نہیں سرے سے ناپید ہے۔ ذراغور کیجئے! جب خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق  کے دست صداقت پر تمام اکابر صحابہ  نے بیعت کرلی تو اس کے بعد کونسی سیاسی پارٹی یا گروہ بچ رہا تھا جو حکومت کے اقدامات پر نکتہ چینی کرنے کے لئے باقاعدہ تشکیل دیا گیا ہو۔یقیناکوئی نہیں مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ آج ہمارے مذہبی راہنمابھی جمہوریت کے لادینی نظام پر تنقید کرنے کی بجائے اس کے ٹوٹے پھوٹے ستونوں کو اسلامی پلستر سے جوڑنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

جناب عبدالرشید غازی صاحب کی عربی اور اردو میں مہارت پر تو کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے۔ تاہم مجھے لگتا ہے کہ ان کی انگریزی کافی کمزور معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ انگریزی لفظ people کا اردو ترجمہ بندہ نہیں ہوتا۔ اردو لفظ بندہ چونکہ بندگی سے جڑا ہے اس لئے غازی یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ جمہوریت دراصل بندگی سے بغاوت ہے۔

اسلام سے قبل دنیا جمہوریت کے ناکام تجربے سے گزر چکی تھی۔ یہ میرے لئے بالکل نئی معلومات ہیں۔ کیونکہ میں تو یہ سمجھتا تھا کہ موجودہ جہوری فلسفے کا آغاز یورپ کی بیداری نو سے ہوتا ہے۔ اس جمہوریت میں اور یونانی جمہوریت میں کئی فرق ہیں۔ جیسا کہ اگر ابراہم لنکن کے ہی مندرجہ بالا قول کو دیکھیں تو یونانی جمہوریت میں عوام کی حکومت نہیں بلکہ خواص کی حکومت ہوتی تھی، جسے خاص خاص لوگ ہی منتخب کرتے تھے اور مخصوص لوگ ہی چلاتے تھے۔ تاہم رائے دہندگی، ایوان نمائندگان، وغیرہ ضرور مستعار لئے گئے ہیں مگر موجودہ جمہوریت اس جمہوریت سے ارتقائی عمل میں اتنی دور آچکی ہے کہ ان دونوں کو ایک جیسا سمجھنا محض غلطی ہے۔

انقلاب فرانس کے بانیان مذہب بیزار تھے یا کلیسا بیزار تھے؟ جہاں تک مجھے علم ہے ان کی بیزاری کا تعلق کلیسا اور امراء کے مظالم سے تھا۔ مذہب بیزاریت تو جمہوریت کا کبھی عنصر نہیں رہی۔ حتی کہ امریکہ میں بھی جمہوریت اور مذہب کا گہرا تعلق ہے۔ معلوم نہیں غازی صاحب کو یہ کیوں لگتا ہے کہ جمہوریت پسندی دراصل مذہب بیزاری، اسلامی احکامات سے مفر اور جنسی اختلاط کی آزادی کے سوا اور کچھ نہیں۔

لال مسجد نفاذ شریعت اور تاثرات دیگر

بتاریخ: 09 اپریل 2007

آج کے اخبار روزنامہ جنگ میں مولانا سلیم اللہ خان، صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا مراسلہ شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے وفاق المدارس کا جامعہ حفصہ کی کاروائیوں کے بارے میں موقف بیان کیا ہے۔ جنگ کے اردو سرچ صفحات پر تو میں یہ مضمون نہیں تلاش سکا تاہم اس کی خبر ملاحظہ فرمائیں اور چاہیں تو جنگ ملٹی میڈیا پر اصل مضمون کا مطالعہ کریں۔

روزنامہ جنگ پر ہی معروف کالم نگار منو بھائی کا کالم، شاخیں اور جڑیں جامعہ حفصہ کے کرتا دھرتاؤں پر بڑے کاٹ دار لہجے میں طنز کرتے ہوئے منو بھائی لکھتے ہیں:

شمیم اختر کے پڑوسیوں نے حکومت سے کہا ہے کہ حکومت شمیم اختر کے رہائشی مکان کی الاٹمنٹ منسوخ کردے اور انہیں کسی اور علاقے میں بھیج دے۔ ایک پریس کانفرنس میں شمیم اختر کے پڑسیوں نے بتایا کہ حکومت نے شمیم اختر کے بیٹے کو جی6فور کی گلی87 میں گھر الاٹ کیا ہے اور وہ( شمیم اختر) وہاں بھی آنے لگی ہیں ،چنانچہ وہاں کے پڑوسیوں کو اندیشہ لاحق ہوگیا ہے کہ وہ جسم فروشی کا دھندہ وہاں بھی شروع کردیں گی اور اگر ان کے اس علاقے میں داخلے پر پابندی نہ لگائی گئی تو عام لوگوں کے لئے بہت ہی مشکل بلکہ ناممکن ہو جائے گا کہ وہ دعوت گناہ کو قبول کرنے سے انکار کردیں، چنانچہ محترمہ شمیم اختر اور ان کے بیٹے کو کسی اور علاقے میں بھیج دیا جائے جہاں کے لوگ دعوت گناہ قبول کرنے سے انکار کردیں یا جہاں کے لوگوں کے سسٹم میں مطلوبہ سہولت کی کوئی گنجائش ہی نہ ہو۔

انگریزی روزنامہ ڈیلی ٹائمز کراچی کے مختلف مدارس سے اس سلسلے میں رابطہ کرتا ہے۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے الحاق شدہ تمام مدارس کے علماء کرام نے جامعہ حفصہ کے قدم کو غیر اسلامی، غیر ضروری اور غیر قانونی قرار دیا ہے۔ وفاق المدارس العربیہ کے تحت چلنے والے سب سے بڑے ادارے کراچی کی جامعہ دارالعلوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے ترجمان قاری محمد اقبال کا کہنا ہے کہ کراچی کے لوگوں کو خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کے الطاف حسین نے گزشتہ شب ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈنڈا بردار شریعت کا بزور طاقت نفاذ برداشت نہیں کیا جائیگا اور اس کے خلاف پندرہ اپریل کو احتجاجی ریلی منعقد کی جائیگی۔

انگریزی روزنامہ دی نیوز پر میر جمیل الرحمن لکھتے ہیں:

انگریزی سے ترجمہ:

ایسے شخص کی جنس کا تعین کرنا تقریبا ناممکن ہے جو سر سے پیر تک کالا برقعہ اوڑھے ہو۔ وہ لمبی ہیں اور ان میں سے کوئی ہی بمشکل پانچ فٹ نو انچ سے کم قامت کی ہوگی جو کہ پاکستان میں خواتین کی اوسط قامت سے کہیں زیادہ ہے۔

انگریزی بلاگ چائے خانہ پر ایک پوسٹ “اب تیرا کیا بنے گا کالیا” میں بلاگر مشرف سے اپیل کرتے ہیں کہ جیسا کہ ملک کے چیف جسٹس کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا ہے وہ امید کرتے ہیں کہ اس خود ساختہ عدالت کے خالق کو بھی سڑکوں پر گھسیٹا جائیگا۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے ملک میں بڑھتی ہوئی انارکی، مذہبی انتہاپسندی اور شہریوں کی پراسرار گمشدگیوں پر اپنی تشویش کا اعادہ کیا ہے۔ کمیشن نے حالیہ میٹنگ کے بعد یہ پریس ریلیز جاری کی ہے۔

توبہ کا دروازہ رہائی کا ضامن

بتاریخ: 30 مارچ 2007

آنٹی شمیم کی توبہ۔

طالبان کے نقش قدم پر

بتاریخ: 28 مارچ 2007

اسلام آباد میں جامعہ حفصہ نامی ایک مدرسے کی طالبات نے اسلام آباد میں ایک مکان پر دھاوا بول کر تین خواتین کو یرغمال بنالیا جنہیں بعد ازاں مدرسے منتقل کردیا گیا ہے۔ پولیس نے جوابی کاروائی کرتے ہوئے مدرسے کی چار استانیوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ مدرسے کے منتظم نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ اگر استانیوں کو فورا رہا نہ کیا گیا تو جہاد کا اعلان کردیا جائے گا۔ مدرسے کے منتظم نے بتایا کے یرغمال بنائی جانیوالی خواتین جنسی کاروبار میں ملوث تھیں اور انہیں اہل محلہ کی جانب سے ان کے خلاف شکایتیں موصول ہونے پر کاروائی عمل میں لائی گئی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان خواتین پر زنا کا مقدمہ چلایا جائے ورنہ مدرسے کے اندر ہی قاضی عدالت لگا کر شریعت کی رو سے ان خواتین کو قرار واقعی سزا دی جائیگی۔ ادھر وزیرستان میں مقامی طالبان، پنجابی طالبان اور ساری دنیا سے جمع کئے گئے طالبان ازبک غیر ملکیوں کے خلاف برسر پیکار ہیں اور حکومت پاکستان خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ وزیرستان، باجوڑ، صوبہ سرحد کے شہری علاقوں اور دیگر علاقوں سے آئے دن اس قسم کی خبریں آرہی ہیں۔

کبھی نائیوں کو داڑھی مونڈھنے پر بم سے اڑانے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
کبھی بچیوں کے اسکولوں کو خودکش حملے سے تباہ کرنے کی دھمکیاں ملتی ہیں۔
کبھی کسی علاقے میں ویڈیو شاپس کو نذر آتش کردیا جاتا ہے۔
کبھی مدرسے کی طالبات قانون ہاتھ میں لیتے ہوئے لائبریریوں پر قبضہ کرلیتی ہیں۔

ملک میں انارکی اور لاقانونیت بڑھتی جارہی ہے اور معاشرہ تیزی سے مذہبی جنونیت کا شکار ہوتا جارہا ہے۔

ذکر ایک قرآنی اطلاقیہ

بتاریخ: 23 فروری 2007

ذکر ایک آزاد سوفٹویر ہے جس کی مدد سے کمپیوٹر پر قرآن پڑھنا اور ترجمہ دیکھنا بہت آسان ہوجاتا ہے۔ یہ سوفٹویر لینکس کے علاوہ ونڈوز پر بھی چلتا ہے۔ اس سوفٹویر میں آیت نمبر اور سورہ نمبر ڈالیں اور فورا مطلوبہ آیت تک پہنچ جائیں۔ بائی ڈیفالٹ اس میں اردو ترجمہ شامل نہیں ہوتا لیکن اس میں جناب مولانا فتح محمد جالندھری کا اردو ترجمہ بھی ڈاؤنلوڈ کرکے شامل کیا جاسکتا ہے۔ اپلیکیشن کے اندر ہی مندرجہ ذیل فہرست پر جائیں:

View > Translations > More

جس سے آپ اس ویب صفحے پر پہنچیں گے۔ یہاں سے جالندھری صاحب کا ترجمہ اپنے ڈیسکٹاپ پر ڈاؤنلوڈ کریں۔ اب مندرجہ ذیل فہرست سے ترجمہ شامل کریں:

Tools > Add > Translation

اس کی دیگر خوبیوں میں تلاش کی خوبی بھی لائق بیان ہے۔ جس کی مدد سے ترجمے اور عربی قرآن میں کسی مخصوص لفظ کی تلاش کی جاسکتی ہے۔ بک مارک کی سہولت بھی بہت خوب ہے اس سے روزانہ مطالعہ کرنے والوں، دہرانے والوں، طالبعلموں، محققیقین اور اساتذہ کو بہت آسانی ہوگی۔ دینیات اور قرآن کے طالبعلموں کے لئے یہ ایک اہم اوزار ہے خصوصا اس لئے کہ اسے پلگ ان، تراجم، تھیم وغیرہ شامل کرکے ترقی دی جاسکتی ہے۔ اگر بائی ڈیفالٹ نظر آنے والا عربی، اردو یا انگریزی فونٹ آپ کو مناسب نہ لگے تو آپ اسے اپنے سسٹم پر موجود کسی بھی اچھے فونٹ سے تبدیل کرسکتے ہیں۔ یہ ایک کراس پلیٹ فارم اپلیکیشن ہے کسی بھی آپریٹنگ سسٹم پر اسے انسٹال کرنے کے لئے اس ڈاؤنلوڈ ربط پر جائیں۔ یاد رہے چونکہ یہ سوفٹویر جاوا پر چلتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ آپ کے کمپیوٹر پر سن جاوا رن ٹائم انوائرنمنٹ نصب ہو۔ اگر آپکے پاس سن جاوا رن ٹائم انوائرنمنٹ نصب نہیں ہے تو اسے سن جاوا کے ویب سائٹ سے مفت ڈاؤنلوڈ کیا جاسکتا ہے۔

علاوہ ازیں اس پروجیکٹ کو آپ کے تعاون کی بھی ضرورت ہے۔ اس پروجیکٹ میں ہاتھ بٹانے کے لئے گوگل گروپس پر ذکر میلنگ لسٹ پر اندراج کرائیں اور ترجمے، اپلیکیشن کی کنفگریشن، تھیم ڈیولپمنٹ، نئی خوبیوں کی درخواست اور خامیوں کی اطلاع دینے کے لئے ای میل کریں۔

ذکر منظر
ایک اسکرین شاٹ ، ذکر ابنٹو لینکس پر

ذکر منظر تلاش
دوسرا اسکرین شاٹ، ذکر تلاش منظر

ملائیت کی طرف ایک قدم اور

بتاریخ: 15 نومبر 2006

اسلام کے نام پر پاکستان کے عوام کے ساتھ جاری مسلسل ڈرامے بازی کا نیا ایکٹ حسبہ بل کے عنوان سے سرحد اسمبلی کے تھیٹر میں منظور ہوچکا۔ اس قانون کی کئی شقیں انتہائی متنازعہ ہیں۔ جن سے عدلیہ کے انتظام سے ہٹ کر ایک متوازی عدالتی نظام کیا گیا ہے۔ اس سے کیا فائدہ ہوگا۔ صرف یہ کہ طالبانائزیشن کو ڈنڈے کے زور پر منوایا جاسکے گا، مخالفین کو ہراساں کیا جاسکے گا اور مذہب کے نام گلی محلوں کی سطح پر بھی ڈرامے اسٹیج کئے جاسکیں گے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے اس بل پر کڑی تنقید کی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی اسے ازمنہ وسطی کی جہالت گردانا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ پاکستان میں جمہوریت اور قانون کی عملداری کے لئے ایک سنگین دھچکا ہے۔ ایسی دیوار جو پہلے ہی شکستہ ہے ایسے زیادہ جھٹکے برداشت نہیں کر پائے گی۔ واضح رہے کہ حسبہ بل کی منظوری تبلیغی جماعت کے اجتماع کے ختم ہوتے ہی عمل میں آئی ہے اور باجوڑ واقعے کی وجہ سے سیاسی لحاظ سے یہ بالکل مناسب وقت تھا اس قانون کو منظور کرانے کا۔

حسبہ بل کا پرانا سپریم کورٹ کا مسترد شدہ مسودہ انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔ نیا مسودہ فی الحال دستیاب نہیں۔ ویکیپیڈیا پر انگریزی میں اس بارے میں ایک مضمون موجود ہے جو اس لائق ہے کہ غور سے پڑھا جائے۔

نمازی کرکٹر

بتاریخ: 27 اکتوبر 2006

آج کل ایک تذکرہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف کے اس بیان کا بھی ہے جس میں انہوں نے کرکٹ ٹیم کی مذہبی سرگرمیوں پر تنقید کی تھی۔ ہائے بیچارے ڈاکٹر صاحب، انہیں پتہ نہیں کہ ان مذہبی سرگرمیوں کے پیچھے کیسے کیسے مضبوط ہاتھ ہیں، میں نے تو ڈاکٹر نسیم اشرف کے استعفی پر ایک پوسٹ بعنوان ٰحسرت ان غنچوں پر جو بن کھلے مرجھا گئےٰ لکھ کر محفوظ بھی کرلی ہے۔ میں اس بارے میں کچھ عرصہ پہلے ایک پوسٹ لکھ چکا ہوں اور مجھے کرکٹرز کی مذہبی سرگرمیوں یا ان کی عبادات پر قطعا کوئی اعتراض نہیں اور نہ ہی میں یہ درست سمجھتا ہوں کہ کسی کو ان کی عبادات پر اعتراض کرنے کا حق حاصل ہے۔ اور بس۔

کچھ لوگ اس بارے میں جو مدافعانہ دلائل دیتے ہیں مجھے ان دلائل پر بھی اعتراض ہے۔ مثلا وہ یہ کہتے ہیں کہ:

ا۔ ساتھ نماز پڑھنے سے ٹیم میں اسپورٹس میں اسپرٹ پیدا ہوتی ہے۔
یعنی جو کھلاڑی اس نماز میں شریک نہیں ہوتے وہ اس ہم آہنگی اور اسپورٹس مین شپ سے الگ تھلگ رہ جاتے ہیں؟ غالبا یہی وجہ ہے کہ دانش کنریا کا سلیکشن نہیں ہو پاتا۔

2۔ نمازوں کی تشہیر سے نوجوانوں کو ترغیب ملتی ہے۔
نوجوانوں کو مجاپدوں کی صحراؤں میں ادا کی جانے والی نمازوں کی تصویروں سے ملنے والی ترغیب کافی نہیں؟

مولانا انضمام الحق نے اپنے جوابی بیان میں کہا ہے “کہ جن لوگوں کو ٹیم کی مذہبی سرگرمیوں پر اعتراض ہے ان کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں”۔
جناب انہوں نے یہ بیان مولوی ہونے کے ناتے نہیں دیا بلکہ کرکٹ بورڈ کا چیرمین ہونے کے تعلق سے دیا ہے۔ ہاں کرکٹ کے بارے چیرمین صاحب کی نااہلیت پر اگر آپ کچھ ارشاد فرماتے تو یہ اچھا جواب ہوتا۔ ویسے مجھے انضمام کی بات سے اتفاق ہے کہ وہ جبرا نماز نہیں پڑھواتے ہونگے۔ کیونکہ کھلاڑیوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ انہیں کیا کرنا ہے۔

عجیب بات یہ ہے کہ اس مذہبی ماحول کے باوجود ایسے شواہد ملتے ہیں کہ قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی چرس اور شراب کا استعمال کرتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو کیا وہ باجماعت نماز میں کسی دباؤ کے تحت شامل ہوتے ہیں یا نشہ اور نماز ساتھ ساتھ چل رہے ہیں؟