سیاست

موضوع: سیاست

بدی کو کوسیں، بدنام کو نہیں

بتاریخ: 10 اپریل 2008

مجھے اپنے ہموطنوں سے شکوہ ہے کہ اکثر وہ انجانے میں مہاجروں پر الزامات لگاتے ہیں۔ مجھے اندازہ ہے کہ وہ ایسا بالکل نہیں کرنا چاہتے لیکن کراچی کے فسادات کا تذکرہ ہو تو لوگ خودبخود شہر کو اردو بولنے والوں اور دیگر زبانیں بولنے والوں کے درمیان تقسیم کردیتے ہیں۔ سوال اٹھائے جاتے ہیں کہ مہاجر ایم کیو ایم جیسی گھٹیا جماعت کو کیوں سپورٹ کرتے ہیں۔ مہاجر خود کو مہاجر کیوں کہلواتے ہیں۔ مہاجر ایسے، پنجابی ویسے، پختون ویسے۔ وغیرہ وغیرہ۔ میں مہاجر ہونے کو کوئی بے عزتی نہیں بلکہ فخر کی بات سمجھتا ہوں۔ مگر ایسے تذکروں سے مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے میری قومیت پر سوال اٹھایا جارہا ہو۔ جیسے میرے مزاج کو ایک مخصوص سیاسی جماعت کا مزاج سمجھا جارہا ہو۔ اور میری سوچ کو قومی سوچ کے برخلاف سمجھا جارہا ہو۔

میں اکثر لکھتا ہوں کہ اگر کراچی کے حالات کا ذکر ہو تو لامحالہ اس تذکرے سے لسانیت اور تعصب کی بو آنے لگتی ہے۔

عموما ایسے تذکروں میں آپ دیکھیں گے کہ آدھے مہاجر ایم کیو ایم کی صفائی دینے لگتے ہیں اور باقی آدھے یہ صفائی پیش کرنے لگتے ہیں کہ ایم کیو ایم مہاجروں کی نمائندہ جماعت نہیں ہے۔ جیسے ہم ہی چور ہوں، ہم ہی ملزم ہوں اور ہم ہی پر مقدمہ چلایا جارہا ہو۔ آخر ہم صفائی کیوں پیش کریں؟

یہاں حالات خراب کرنے کے لئے کسی کو محض تیس چالیس غنڈوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جہاں ایک طرف اس شہر میں روزگار کی فراوانی ہے وہاں دوسری طرف یہاں روزانہ پورے ملک سے سینکڑوں غیر ہنرمند، بے پڑھے لکھے اور انتہائی پسماندہ علاقوں کے نوجوان خواب لیکر آتے ہیں۔ یہ ان نوجوانوں کے علاوہ ہیں جو اس شہر میں پہلے سے رہ رہے ہیں۔ ان کے پاس روزگار نہیں، کوئی اعلی نظریات نہیں، کرنے کو کوئی قابل ذکر کام نہیں۔ یہ لوگ ایسے گروہوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو انہیں ان فسادات میں بطور پٹرول استعمال کرتے ہیں۔ یہ گروہ بھرتی کرتے وقت کبھی بھی مہاجر، سندھی، پنجابی، پختون یا بلوچ نوجوان میں کوئی تفریق نہیں کرتے۔ اور ان غنڈوں میں آپ کو ہر قومیت کے لوگ ملیں گے۔ ناراض، بے روزگار اور خود کو منوانے کی خواہش رکھنے والے ان نوجوان غنڈوں کی مارکیٹ سے انہیں ایم کیو ایم ہی نہیں کوئی بھی سیاسی جماعت، جرائم پیشہ گروہ، ایجنسیاں یا لسانی تنظیم کبھی بھی کرائے پر حاصل کرسکتی ہے۔

بد اچھا اور بدنام برا، سارے فساد کا الزام لوگ اسی جماعت کے سر ڈال دیتے ہیں جو بدنام ہے۔ بلاشبہ وہ جماعت غنڈہ گردی اور دہشت گردی میں ملوث رہی ہے۔ لیکن اگر ہم حقائق سے نظریں چراتے رہیں گے اور الزام تراشی کے لئے آسان ترین شکار پر ضرب لگاتے رہیں گے تو ہم کبھی مسائل سلجھا نہیں سکیں گے۔

ان واقعات کا آغاز اس دن سے ہوتا ہے جب آصف زرداری نائن زیرو پہنچتے ہیں۔ جہاں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی جو ہمیشہ ایک دوسرے کو نظریاتی حلیف قرار دیتے رہے ہیں، اپنے پرانے اختلافات سے دست بردار ہونے پر تیار ہوجاتے ہیں۔ ایم کیو ایم نوے کی دہائی میں ہونے والے اپنے کارکنان کے ماورائے عدالت قتل پر پیپلزپارٹی سے معافی نامے کا مطالبہ ترک کردیتی ہے اور پیپلزپارٹی ایم کیو ایم کو بارہ مئی کے واقعے پر معاف کردیتی ہے۔ ایم کیو ایم پیپلز پارٹی کو غیرمشروط تعاون اور حمایت کا اپنا وعدہ دہراتی ہے۔ اور اگلے دن سے عجیب و غریب واقعات کا تسلس شروع ہوجاتا ہے۔

اسمبلی میں تین نشستیں رکھنے والی ایم ایم اے کو وزارت دی جاتی ہے۔ ق لیگ کے لوٹوں کو ن لیگ میں قبول کیا جاتا ہے۔ مقدمے معاف ہوتے ہیں، جج رہا ہوتے ہیں۔ ہر طرف مفاہمت کا دور دورہ ہے۔ تو اس مفاہمت میں قومی اسمبلی میں انیس نشستیں رکھنے والی جماعت کو شامل کرنے میں کس کو اعتراض ہے اور کیوں؟ جب کہ ایم کیو ایم کی مفاہمت صرف پیپلز پارٹی سے ہے نہ کہ حکمران جماعت کے تمام اتحادیوں سے۔ سوال یہ ہے کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے قریب آنے سے نقصان کس کا ہے؟

کراچی کی مختصر سی تاریخ حادثات اور فسادات سے بھری پڑی ہے۔ لسانی اور سیاسی جھگڑوں کے حوالے سے یہ شہر ہمیشہ زخم کھاتا رہا ہے۔ ہر تازہ زخم کے بعد یہ شہر پھر بھی اپنی ترقی کا سفر جاری رکھتا ہے۔ اور سب کی طرح مجھے بھی ڈر لگتا ہے کہ کہیں کسی دن یہ زخموں سے اتنا چھلنی نہ ہوجائے کہ پھر اٹھ نہ سکے اور اس کی کہانی ایک بے تکے موڑ پر ختم ہوجائے۔

ایک اور بھٹو آگیا ہے

بتاریخ: 30 دسمبر 2007

new-bhutto.jpg

جب میں اپنے بلاگ پر محترمہ کے ایک انٹرویو کے بارے میں لکھ رہا تھا تو مجھے معلوم نہیں تھا کہ دن اتنی جلدی آجائے گا۔ مگر نیا شہزادہ آگیا ہے۔ ایک اور بھٹو میدان سیاست میں اتر چکا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے اپنے مختصر سے خطاب میں کہا کہ وہ پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے ممبران کے شکرگزار ہیں کہ جنہوں نے انہیں بطور چئیرمین نامزد کیا۔ وہ پیپلزپارٹی کے تمام چئیرپرسنز کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے جمہوریت اور وفاق پاکستان کی مضبوطی اور سلامتی کے لئے کام کریں گے۔ آخر میں انہوں نے جذبات سے مغلوب آواز میں کہا کہ ان کی والدہ ہمیشہ کہا کرتی تھیں، جمہوریت بہترین انتقام ہے۔

آپ کا ووٹ

بتاریخ: 25 دسمبر 2007

اگر آپ کے گھر میں کوئی دعوت ہو اور سب سے پوچھا جائے کہ اس دعوت میں کن کھانوں کا اہتمام کیا جائے۔ تب آپ چپ رہیں اور اپنی رائے کا اظہار نہ کریں تو یقینا باقی لوگ اپنی مرضی کا اہتمام کرلیں گے۔ کیا اس اہتمام پر آپ کو شکوہ کرنے یا ناپسندیدگی کا اظہار کرنے کا حق ہوگا؟ اگر آپ ناپسندیدگی کا اظہار کریں گے یا شکوہ کریں گے تو کیا باقی لوگ یہ نہیں کہیں گے کہ آپ سے پوچھا گیا تھا، مگر آپ نے اپنی رائے نہیں دی۔ لحاظہ اب آپ چپ رہیں اور دوسروں کی رائے اور پسند کا احترام کریں۔

پاکستان میں لوگوں کی ایک بڑی اکثریت انتخابات میں اپنا ووٹ استعمال نہیں کرتی۔ عجیب بات یہ ہے کہ کم پڑھے لکھے، جاہل اور غریب لوگ زیادہ ووٹ ڈالتے ہیں۔ بنسبت تعلیم یافتہ اور زیادہ یا درمیانی آمدنی والے افراد کے۔ مجھے ایک اور بات جو عجیب لگتی ہے وہ یہ ہے کہ یہی پڑھے لکھے لوگ اکثر محفلوں میں ملکی حالات پر مایوسی کا اظہار کرتے ہیں، یہ سیاستدانوں سے نالاں ہیں، فوج سے شاکی، میڈیا پر انہیں یقین نہیں، اداروں پر انہیں اعتماد نہیں۔ لیکن جب وہ دن آتا ہے کہ اچھے یا برے نمائندوں کو منتخب کیا جاسکے تو یہ لوگ اپنی ناراضگی اور مایوسی کا اظہار گھر بیٹھ کر کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ ووٹ ڈالنے نہیں جاتے ان میں سے اکثر اس دن بھی ٹیلیوژن پر الیکشن نشریات دیکھتے ہیں، نتائج پر تبصرے کرتے ہیں، جب وہی گھسے پٹے نمائندے جیتتے رہتے ہیں تو یہ پھر اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہیں اور اگلے دن سے پھر انہی معمولات میں مشغول ہوجاتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ جب یہ لوگ جمہوریت کی راہ میں ووٹ ڈالنے جیسے ایک اہم ترین قومی فرض کو بھی ادا نہیں کرتے۔ تو کیا انہیں مایوس ہونے، تبصرے کرنے اور حالات پر کڑھنے کا حق ہے؟

کیا آپ آٹھ جنوری کو اپنے ووٹ کا حق استعمال کریں گے؟

انتخابات یا بائیکاٹ

بتاریخ: 10 دسمبر 2007

پاکستان میں ایمرجنسی، پی سی او اور ججوں کی معطلی کے بعد الیکشن میں حصہ لینا کچھ لوگوں کو بے معنی نظر آتا ہے۔ شاید وہ کسی حد تک صحیح بھی ہیں۔ لیکن سیاسی جماعتوں کے پاس دو راستے ہیں:

اول تو یہ کہ وہ الیکشن کا بائیکاٹ کردیں۔ ایسا ہو تو مشرف کے پاس دو راستے ہونگے۔ ایک تو یہ کہ الیکشن کا انعقاد غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا جائے۔ دوسرا یہ کہ الیکشن کرائے جائیں اور ایک ربڑ اسٹیمپ اسمبلی تخلیق کرواکر آئین کے ساتھ مزید چھیڑ چھاڑ کی جائے۔ دونوں صورتوں میں اپوزیشن کے احتجاجوں سے ملکی عدم استحکام میں اضافہ ہوتا رہے گا، شمالی علاقہ جات میں کشیدگی برقرار رہے گی، دہشت گردی اور انتہاپسندی کے شعلوں کو ہوا ملتی رہے گی۔

دوسرا راستہ ہے کہ الیکشن میں بھرپور حصہ لیا جائے۔ الائنسز بنائے جائیں، لوٹا لیگ اور ملا الائنس میں دراڑ ڈالی جائے۔ پارلیمنٹ تک پہنچا جائے اور آئین کی بحالی اور ججز کی واپسی کو ممکن بنایا جائے۔

ایسی صورتحال میں کہ جب ایمرجنسی نافذ ہو، الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری مشکوک ہو، بلدیاتی حکومتوں کی شکل میں پچھلی حکومت کی مشینری فعال ہو، تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ انتخابات شفاف ہونگے۔ انتخابات چاہے غیر شفاف و غیرمنصفانہ ہوں لیکن آپ نتائج پر تب تک معترض نہیں ہوسکتے جب تک آپ انتخابات میں حصہ نہ لیں۔ میرے خیال میں اپوزیشن جماعتیں اگر انتخابات میں شکست کھا بھی جاتی ہیں تب بھی ان کو انتخابات سے بہت زیادہ طاقت حاصل ہوگی اور ملک میں جمہوری اداروں کے درمیان توازن کی کوئی صورت بنی رہے گی۔ ورنہ کھلی آمریت اور من مانی کے لئے راستہ صاف رہے گا۔

پاکستان کی عوام کا یہ فرض ہے اور ان کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ انتخابات میں بھرپور حصہ لیں زیادہ سے زیادہ لوگ اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں۔ میرے خیال میں یہی صحیح راستہ ہے۔ باقی سب راستے انتشار، افراتفری، آمریت اور عدم استحکام کی طرف جاتے ہیں جن سے ملکی اداروں، جمہوریت، انصاف اور بحالی آئین کی مہم کو کوئی فائدہ نہ ہوگا۔

اپڈیٹ: اسی موضوع پر جہانزیب کی پوسٹ “ووٹ دیجئے
ٹیتھ مائیسٹرو پر علی ملک کی تحریر: بائیکاٹ ایک آپشن کیوں نہیں؟

10/28/2007

ٹائم میگزین پر بے نظیر بھٹو کا مشکل ترین مشن:

ٹائم میگزین سرورق(انگریزی سے اقتباس)
اس سے بھی مشکل کام ہوگا واشنگٹن کی توقعات کا انتظام کرنا کہ بے نظیر عسکریت پسندوں کے خلاف مضبوط کاروائی کریں۔ بے نظیر نے دعوی کیا ہے کہ جنرل مشرف نے عسکریت پسندی سے نمٹنے کے لئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کرے۔ لیکن خود انہوں نے بھی کوئی ٹھوس حل فراہم نہیں کرے ہیں، سوائے اس کے کہ جمہوریت کو ہی پاکستان کی سب بیماریوں کے تریاق کے طور پر استعمال کیا جائے۔ “یہ بالکل واضح ہوچکا ہے کہ آمریت باکل سودمند نہیں ہے اور یہ صورتحال کو مزید ابتر اور طوائف الملوک بنارہی ہے۔” وہ کہتی ہیں “اور یہ ابتری اور طوائف الملوکی عسکریت پسندوں کے حق میں جاتی ہے۔”

10/21/2007

پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن اور سابق وزیرِاعظم بینظیر بھٹو نے جناح ہسپتال میں اٹھارہ اکتوبر کے بم دھماکوں میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کی۔

یہ محترمہ کا ان کے آبائی شہر کا وطن واپسی کے بعد پہلا دورہ تھا اس دوران انہوں نے لیاری میں ایک کارکن کے گھر جا کر تعزیت کی اور کھارادر میں ایک مزار پر چادر چڑھائی۔

شہزادی آرہی ہے

بتاریخ: 17 اکتوبر 2007

شہزادی بے نظیر بھٹو

جیسے برسات میں پتنگے نکل آتے ہیں۔ اسی طرح جمہوریت کے موسم میں جیالے نکل آتے ہیں۔ آپ سوچتے ہیں کہ اگر ان کی اتنی بڑی تعداد یہیں کہیں موجود تھی تو پہلے کیوں نہ دکھائی دی۔ تو جناب پہلے ایسی ہوا کہاں تھی، پہلے ایسا موسم کہاں تھا۔ اب ہر طرف بینر بندھے ہیں جن پر درج ہے کہ “اب راج کرے گی خلق خدا” ۔ کیونکہ شہزادی صاحبہ تشریف لارہی ہیں۔ روایتی سندھی موسیقی پر بنے پارٹی کے ترانوں سے شہر گونج رہا ہے۔ جیالے اور جیالیاں رقصاں ہیں، شاداں ہیں اور پر امید ہیں کہ ان کی وزیراعظم، بھٹو کی بیٹی آرہی ہے۔ جس کا باپ شہید، جس کے بھائی شہید، جس کا شوہر سات سال جیل کاٹ کر نکلا ہے۔ جس کے خاندان کے احسانات عظیم کے بوجھ تلے یہ دھرتی دبے چلے جارہی ہے۔ وہ شہزادی آرہی ہے۔

محترمہ آرہی ہیں
جمہوریت لارہی ہیں

یہ جمہوریت پہلے بھی تیار ہوجاتی مگر محترمہ کے پاس تمام اجزائے ترکیبی موجود نہ تھے اس لئے دیر ہوگئی جس کے لئے معذرت۔ امید ہے پاکستانی عوام اب بھی اس کے لئے بے قرار ہوگی۔ تو لیجئے تیار ہے، گرما گرم نوش فرمائیے۔

مشرف کا پاکستان

بتاریخ: 29 ستمبر 2007

بی بی سی اردو پر عامر احمد خان لکھتے ہیں:

“یہ تو وہی پاکستان ہے جسے میں جانتا ہوں، پہچانتا ہوں، اپنے ہاتھوں کی لکیروں کی طرح۔ یہ وہی فوج ہے جو میری زندگی کی غلام گردش کی محافظ ہے اور اگر وہ چوک بھی جائے تو اسے راہ راست پر لانے کے لیے عدالت ہے نا۔”

قاضی صاحب، عمران خان اور ن لیگ کے علاوہ تمام قانونی، آئینی، اور سیاسی ماہرین کو علم تھا کہ کیا فیصلہ آنے والا ہے۔ اور شاید قاضی صاحب کو بھی کیونکہ ان کی ایم ایم اے نے ہی تو صدر کو دو عہدے رکھنے کی پارلیمانی منظوری دلوائی تھی۔ فیصلہ منصفانہ ہے۔ ڈکٹیٹروں کے راستے آئین یا عدلیہ نہیں روک سکتی۔ ان کے راستے پارلیمان، سیاستدان اور عوام ہی روک سکتے ہیں۔ پارلیمنٹ صدر جنرل کے قبضے میں ہے، سیاستدان ان کی مٹھی میں ہیں اورعوام بھیڑ بکریوں کی طرح جس طرف کوئی ہانک دے وہیں چل دیتی ہے۔

آپ کے سوال کیا ہیں؟

بتاریخ: 11 جولائی 2007

آپریشن سائلنس اپنے اختتام کو پہنچا۔جناب پرویز ہود بھائی چوک ڈاٹ کام پر اپنے مضمون “مزید لال مسجدوں کا تدارک” پر اس بارے میں اظہار خیال کرتے ہیں۔ قدیر، افضل، اجمل، نبیل، اظہر،خالد بھی فکرمند ہیں۔ ڈاکٹر علوی، پاکستانی اسپیکٹیٹر، اسلام آباد میٹروبلاگ کے بلاگر، دیگر کئی انگریزی اور اردو بلاگر، ان سب تحریروں پر تبصرہ جات کرنے والے، اور آنلائن فورمز پر۔ ٹی وی، ریڈیو، اخبارات ہر جگہ یہی ذکر ہے۔ چاہے کوئی انتہاپسندی کے اُس طرف ہے یا روشن خیالی کے اِس طرف۔ تشویش ان کو بھی ہے جو اعتدال کی نازک ڈور پر جھولتے ہیں اور ان کو بھی کہ جو بندوق تھامے محاذوں پر کھڑے ہیں۔

میرے ذہن میں بھی سوال ہیں۔ لیکن سردست صرف ایک سوال ہے جو میرے خیال میں ہم سب کو سوچنا ہوگا۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ سوال بہت بے چیدہ ہیں اور ان کے جوابات پر مشتمل حل ناقابل عمل معلوم ہوتے ہیں۔ مگر پھر بھی۔۔۔

پاکستان میں ایسے کتنے مدارس ہیں جو طالبعلموں کو اس بات پر اکسا رہے ہیں کہ وہ ملک کی عورتوں کے چہرے نقابوں سے ڈھک دیں نہیں تو ان پر تیزاب ڈال دیں۔ ایسے اور کتنے ادارے ہیں جو سی ڈیز جلانے، ہجاموں کی دکانوں پر حملے کرنے اور زنا کرنے والوں کو قتل کرنے کی ترغیب دے رہیں۔ کیا جہادیوں کی یہ فوج جو کشمیر اور افغانستان آزاد کرانا چاہتی تھی اب اپنا مقصد پاکستانیوں کو زیر کرنا بناچکی ہے؟ کیا ہمارے محلوں کے وہ بچے جو قرآن حفظ کرنے گئے ہیں واپسی پر ہمارے چہرے جھلسائیں گے اور ہمیں ڈرائیں دھمکائیں گے؟ نہیں سوال یہ نہیں۔

پاک فوج، پارلیمینٹ، حکومت پاکستان، سیاستدان، عدالتیں، میڈیا کیا یہ سب ادارے اس بات پر غور کررہے ہیں کہ اگر کسی دن یہ مدارس، یہ ادارے، یہ افراد ہاتھ سے نکل گئے تو پاکستان کی عوام کے جان و مال عزت و آبرو کی حفاظت کے لئے کتنے آپریشن سائلنس درکار ہونگے؟ اوں ہوں، نہیں یہ وہ سوال نہیں۔

مجھے سخت تشویش ہے، اور میری طرح ان سب پاکستانیوں کو بھی جو انٹرنیٹ پر، گھروں میں، دکانوں، بازاروں، گلیوں، محلوں، نکڑوں اور چائے خانوں میں اس وقت اپنی تشویش کا اظہار کررہے ہیں اور اس امید میں ہیں کہ کوئی ان کو یہ یقین دلائے گا کہ ان کی حفاظت کے لئے پاکستان میں کوئی قانون موجود ہے، ایسے ادارے اور ایسی عدالتیں موجود ہیں جو انصاف فراہم کرسکیں۔ لیکن پاکستانیوں کو یقین کون دلائے گا؟ جب یقین دلانے والے لوگ ہی قانون شکن، ادارہ شکن، آزادی دشمن، انصاف دشمن ہوں تو کوئی بھی پاکستانی کیسے کسی کی بات کا یقین کرے اور کیسے اس کا خوف دور ہو؟ کیا یہ وہ سوال ہے؟ شاید ہے یا شاید نہیں ہے۔

جامعہ حفصہ، فریدیہ، لال مسجد کے بعد آپریشن سائلنس کا راستہ چننا ہے یا تعلیم، انصاف اور آزادی کا؟ سوال یہ ہے۔

آپ کے ذہن میں کیا سوچ اور سوال ہیں؟

بےنظیر ہیں ہم

بتاریخ: 18 مئی 2007

آپ نے بی بی سی اردو پر بےنظیر بھٹو کی کتاب دختر مشرق کے نئے ایڈیشن کی بابت تو پڑھ ہی لیا ہوگا۔ اس نئے باب میں محترمہ دنیا کے موجودہ حالات، دہشت گردی اور پاکستان میں آمریت پر بات کرتی ہیں۔ مگر بدقسمتی سے پاکستانی عوام کو ان ایشوز سے زیادہ دلچسپی ایم کیو ایم نامی سیاسی جماعت میں ہے۔ آجکل ہر ہیڈلائن جو ایم کیو ایم کے خونی ماضی سے متعلق ہو وہ ایڈیٹرز کی پسندیدہ ہوتی ہے۔ اس لئے ندیم سعید کے ریویو کا کیپشن اور سرخی اسطرح بنائی گئی ہے۔ میں سوچ رہا ہوں کہ اپنے بلاگ کو غیر معمولی مقبولیت اور تبصرہ جات کو دوام دینے کے لئے ایم کیو ایم پر کوئی چار چھ پوسٹس لکھ ڈالوں۔ مجھے امید ہے اس سے جذبات کا ایک طوفان میرے بلاگ کی سمت دوڑا چلا آئے گا۔
مشرف ایم کیو ایم مشکوک
لسانیت، چھوٹے صوبوں کا احساس محرومی، لسانی اور قوم پرست تحریکیں۔ یہ سب میڈیا کے لئے بڑی قابل منافع چیزیں ہیں کیونکہ یہ پاکستانی عوام کو بہت متاثر کرتی ہیں۔ لسانیت اور قوم پرستی کا ذکر چھیڑیں تو ہر کوئی سقراط بقراط بنا آدھمکتا ہے۔ پاکستانیوں کو اس بات کی بہت فکر رہتی ہے کہ کہیں کسی لسانی تنظیم یا قوم پرست تنظیم کے ہاتھوں اسی تنظیم کی زبان اور قوم کے لوگوں کا خون ناحق نہ بہہ پائے۔ تاہم اس فکر کے علاوہ باقی ماندہ پاکستان کی انہیں ایسی کوئی خاص تشویش نہیں ہوتی۔ ہر کوئی اپنی ہی مستی میں مست اور دوسروں کی مستی سے شاکی ہے۔

خون ناحق بہا افسوس صد افسوس۔ مگر اس کے بعد جو ایم کیو ایم کی ہا ہا کار مچی ہے تو سارے پرانے رجسٹر کھل گئے ہیں اور ہمارے دوست ڈرامہ کنگ اظہر الحق صاحب نے اسکا خوب بیان کیا۔ ویسے اظہر کے ڈائیلاگ اگر آپ پڑھیں تو افسوس ہوتا ہے کہ کیسے کیسے آغا حشر تلاش معاش میں صحرائے بے رونق کا شکار ہوگئے۔

ایسی ہی ہماری محترمہ بی بی بینظیر ہیں۔ اگر سیاست کی دشت نوردی اور پاکستان کی مجبور اور لاچار بھوکی ننگی عوام کا درد دل میں نہ ہوتا تو محترمہ کیمبرج میں پروفیسر ہوتیں۔ میں سوچ رہا ہوں دختر مشرق کی سوانح پڑھ ہی لوں۔ ہم پاکستانی بھلے اچھے انسان نہ ہوں مگر کوئی بھی اسٹیج ہو، کبھی بھی ہمیں کال کریں ہم ہر کردار اچھی طرح ادا کرسکتے ہیں۔ سیاستدان کا کردار، عوام کا کردار، جج کا کردار، وکیل کا کردار، فوجی کا کردار یا لبرل سیکولر جمہوریت پسند آدرشی کا کردار۔ ڈائیلاگ ڈیلیوری میں ہمارا جواب نہیں، اداکاری میں ہمارا کوئی ثانی نہیں اور ہر صورتحال میں موقع دیکھ کر رنگ بدلنے میں ہم بےنظیر ہیں۔

بارہ مئی

بتاریخ: 13 مئی 2007

کل کراچی میں غنڈہ گردی اپنے عروج پر تھی۔ چیف جسٹس کے جلوس کو روکنے کے لئے حکومت سندھ اور متحدہ قومی موومنٹ نے سر دھڑ کی بازی لگادی۔ متحدہ قومی موومنٹ کے تصادمی منصوبے کے آثار تو تب ہی نظر آنا شروع ہوگئے تھے جب انہوں نے چیف جسٹس کی آمد کے موقع پر اپنے جلوس کا اعلان کیا۔ ہفتے کی رات سے ہی پورے شہر کی ناکہ بندی کردی گئی خصوصا شہر کی اہم ترین شاہراہ، شارع فیصل کو ٹریفک کے لئے بالکل بلاک کردیا گیا۔ اس دوران شارع فیصل پر سے ایم کیو ایم کی ریلی گزری، اور ہزارہا لوگ ٹریفک جام میں گھنٹوں محصور رہے۔

ساری رات اور اگلے تمام دن شارع فیصل بلاک رہی تمام متحدہ قومی موومنٹ کی ریلیوں کو تبت سنٹر، ائر پورٹ اور شہر کے کسی بھی علاقے میں پہنچنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئی۔ اس دوران پیپلز پارٹی، اے این پی، پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ کی ریلیوں کو مختلف علاقوں میں روک دیا گیا اور انہیں ائرپورٹ تک نہیں پہنچنے دیا گیا۔

عوامی نیشنل پارٹی کی ایک ریلی جب شارع فیصل پر بلوچ کالونی فلائی اوور کے قریب پہنچی تو فلائی اوور سے ان پر بلاک گرائے گئے اور فائرنگ کی گئی جس سے کئی کارکن زخمی ہوگئے۔

شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ سے چونتیس افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں اور ڈیڑھ سو بھی زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں پاکستان پیپلز پارٹی اور اے این پی کے کارکنان کی تعداد زیادہ ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ نے اپنے بارہ کارکنان کے ہلاک ہونے کا دعوی کیا ہے۔

وکلاء، پیپلز پارٹی، اے این پی، مسلم لیگ ن اور ایم ایم اے نے ایم کیو ایم کے دہشت گردوں پر فائرنگ کے الزامات عائد کئے ہیں۔ آج ٹی وی اور جیو ٹی وی پر ایسی ویڈیو کلپس بھی دکھائی گئیں جن میں مسلح افراد ایک ہاتھ میں خودکار اسلحہ اور دوسرے میں متحدہ کا جھنڈا تھامے ہوئے ہیں۔ بار ایسوسی ایشنز نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کے دفاتر کے اردگرد متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنان خودکار اسلحے سے لیس موجور ہیں اور انہیں آگے بڑھنے نہیں دیا جارہا۔ ملیر بار کے وکلاء کو ملیر پر یرغمال بنایا گیا شدید فائرنگ میں چاروں طرف سے محصور وکلاء کو چھڑوانے کے لئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو بذات خود سی سی پی اور کراچی کو حکم دینا پڑا کہ ان وکلاء کو وہاں سے نکالا جائے۔ متحدہ قومی موومنٹ نے ریلیوں، پبلسٹی اور عوامی رابطہ مہم پر لاکھوں روپیہ خرچ کرا، کارکنوں کو جھنڈے، بینر، ٹی شرٹس، سواریاں حتی کہ ہفتے کی رات سے مسلسل قورمے، بریانی اور حلوہ پوری کی ضیافت تک کا اہتمام کیا گیا۔

یہ سب انتہائی شرمندگی کا مقام ہے۔ اور مجھے افسوس ہے کہ میں نے متحدہ قومی موومنٹ کی حمایت پر اپنے الفاظ اور وقت ضائع کرا۔

گرچہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری واپس تو چلے گئے ہیں۔ تاہم انہوں نے واپسی کا فیصلہ کرکے اور تمام دن ائر پورٹ پر محصور رہ کر ایم کیو ایم پر اخلاقی فتح حاصل کرلی۔ ایم کیو ایم کا کیس نہ صرف کمزور تھا بلکہ ایم کیو ایم نے جان بوجھ کر فساد اور فتنہ پھیلایا۔

اس ساری خونریزی اور فساد کی ذمہ داری متحدہ قومی موومنٹ، صوبائی اور وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے اور انہیں فوری طور پر مستعفی ہوجانا چاہئے، جرنل مشرف کو فورا وردی اتار کر صدارات سے استعفی دے دینا چاہئے۔

صبرنامہ

بتاریخ: 11 مئی 2007

آج اور کل کا دن کراچی میں بہت زیادہ سیاسی گہما گہمی والے دن ہونگے۔ سیاسی جماعتیں، وکلاء اور نامعلوم شرپسند عناصر چیف جسٹس کی کراچی آمد کے موقع پر جلسے جلوس کی تیاریاں کررہے ہیں۔ دونوں جلوسوں میں تصادم کے خطرے کی پیش گوئی کی جارہی ہے۔

ایک طرف تو سیاسی گرمی ہے، دوسری طرف ماحولیاتی۔ لوڈ شیڈنگ کا ایک بھیانک عذاب شہریوں کے سر پر مسلط ہے۔ دن میں کوئی بارہ پندرہ گھنٹے بجلی دستیاب ہوتی ہے۔ کارخانوں میں مزدور، دکانوں میں دکاندار، دفتروں کے ملازمین، تاجر، سرمایہ دار سب دن کا زیادہ وقت بجلی کی راہ دیکھتے گزاردیتے ہیں۔ شہر میں موم بتی، یو پی ایس، بیٹریوں، جنیریٹر، اور لالٹینوں کے کارخانوں کے علاوہ ہر کسی کا کام ٹھپ جارہا ہے۔ چھوٹے چھوٹے دڑبوں میں قید بچے اور خواتین گرمی اور اندھیرے سے بے حال ہیں۔

ادھر حیدرآباد سمیت اندرون سندھ میں گیسٹرو کی وبا پھیلی ہوئی ہے۔ روز گیسٹرو، اسہال، ڈائہیریا اور لو لگنے سے متاثرہ درجنوں افراد ہسپتالوں میں لائے جارہے ہیں۔ ہپستال جن میں بجلی ناپید، صفائی ندارد اور ڈاکٹر کمیاب ہیں۔

سندھ کے لوگ یہ بات سوچ رہے ہیں، کہ یہ سب کیا ہورہا ہے؟ انہیں نہیں معلوم کہ یہ سب ان کے عظیم تر مفاد میں ہورہا ہے۔ وہ تو بس یہ جانتے ہیں کہ انصاف بہت دور ہے، ان کی پہنچ، ان کے خیالات سے بھی بہت دور. . . اور ان کے مسائل عظیم تر، پریشان کن اور جان لیوا۔