آج دوپہر کو اسلام آباد سے گھر لوٹا۔ جب صبح اسلام آباد ائرپورٹ پر تھا تو وہاں کا موسم ایسا دل خوش کن تھا کہ گھر آتے دل اداس ہوتا تھا۔ جیسے ہی ائر پورٹ سے نکلے ہیں تو گرمی اور کراچی کی مرطوب ہواؤں نے استقبال کیا۔ پانچ دن اسلام آباد کی سڑکوں پر سفر کرنے کے بعد آپ سوچ سکتے ہیں کہ کراچی کا ٹریفک کیسا لگا ہوگا۔ لوگ گاڑی پر گاڑی چڑھائے جارہے ہیں، اشتہارات نے سڑک کے کسی کونے کسی عمارت کسی پل کسی سگنل کسی اسٹریٹ لائٹ کو نہیں بخشا ہے۔ تیز رفتار، ادھم مچاتی، حواس باختہ کردینے والی کراچی کی مصیبت زدہ زندگی۔
اوپر سے لوڈ شیڈنگ۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں روز قریبا چار گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔ ہر تین گھنٹے بعد ایک گھنٹے کی۔ لوگوں کو ٹھیک ٹھیک اندازہ ہوتا ہے کہ بجلی کب جائے گی۔ یہاں کراچی میں دو دو گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ جو کسی ظالم بادشاہ کے دربار میں غلاموں کے جسموں پر اچانک پڑنے والے کوڑوں کی طرح کبھی بھی پڑسکتی ہے۔۔۔ شڑاپ ۔۔۔۔ اور مظلوم صرف بلک کر، کراہ کر رہ جاتے ہیں۔
میں وہاں ایک ورکشاپ میں حصہ لینے گیا تھا۔ اس ورکشاپ میں ملک کے دیگر علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں کی بڑی تعداد تھی۔ مقصد بچوں کے لئے کہانی لکھنے کے تخلیقی عمل کو آسان مشقوں کے ذریعے سمجھنا تھا۔ میں بچوں کو جن بھوتوں پریوں اور چڑیلوں کی کہانیاں سنانا چاہتا ہوں یا پھر تاریخ کے اسباق۔ میرے کچھ دوست اخلاقیات کے درس کہانیوں میں پرونا چاہتے تھے۔ کچھ سیرت محمد سے بچوں کی دلچسپی اور تعلیم کے درس مرتب کرنا چاہتے تھے۔ اور کچھ ساتھی ان بچوں کو فرہنگی زبان میں اسلامیات پڑھانا چاہتے تھے۔ ہم سب کے اذہان انہی کہانیوں سے بھرے پڑے تھے جن میں بچوں کو دلچسپی نہیں۔ شاید آج کے بچے کی تخیلاتی دنیا کو متغیر کرنا اتنا آسان نہیں جتنا ہمارے بچپن میں تھا۔
ورکشاپ سے پرے پرے جب ہم ہوسٹل میں آٹہرتے تو خوب مباحثے چھڑتے۔ یہ بڑا رنگا رنگ ماحول تھا جہاں ملک کے ہر علاقے سے آئے ہوئے لوگ تھے اور ہر کوئی ایک دوسرے کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔
میں نے اندازہ لگایا کہ مہنگائی سے کراچی کے لوگ بھی بے حد بری طرح متاثر ہیں مگر پنجاب اور سرحد کے لوگوں کی مشکلات اور بھی زیادہ ہیں۔ لوگوں کے ذرائع آمدنی بے حد قلیل ہیں اور اگر آپ صرف ان کی آمدن کے اعداد ہی سن لیں تو سوچ سکتے ہیں کہ زندگی کی گاڑی چلانا ان کے لئے کیسا دشوار ہوگا۔ بچوں کی تعلیم کپڑا اور دوائی تو چھوڑ، یہاں تو کھانے کے بھی لالے پڑے ہیں۔
صوبہ سندھ اور بلوچستان میں تو غربت افریقہ کے غریب ترین ممالک سے بھی زیادہ ہوتی جارہی ہے۔ وہاں لوگ اناج کی گاڑیوں پر حملے کررہے ہیں۔ صحت، تعلیم اور پینے کا پانی تو انہیں پہلے ہی میسر نہیں تھا۔ اب تو دو وقت کا کھانا بھی ان کی پہنچ سے دور ہوگیا ہے۔ وہاں لوگ پرتشدد ہورہے ہیں۔
الغرض ملک کے کسی علاقے کے رہنے والے لوگوں کی زندگی کم مصیبت زدہ نہیں ہے۔ ایک ہی کہانی پورے ملک کی ہے۔ لوگ بے حد فکر مند ہیں اور ناامید بھی۔
میرے دوست عمران جو لاہور میں نکڑ تماشہ کرتے ہیں وہ مجھے بصد اصرار مری لے گئے۔ مزید دکھ ہوا۔ جگہ جگہ کوڑے کے ڈھیر ملکہ کوہسار کو فقیروں کی بستی کی اندھی بڑھیا جیسا بدنما بنارہے ہیں۔ درخت ڈھائے جارہے ہیں اور لینڈسلائیڈنگ کے خطرے کے باوجود انتہائی ناقص عمارات تعمیر کی جارہی ہیں۔
یہاں آکر آپ دیکھتے ہیں کہ ایک طرف تو نام نہاد ٹورسٹ ہیں جو مال روڈ سے خریداری کو تفریح سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف وہ چھوٹے بچے ہیں جو ہاتھ سے دھکیلنے والی گاڑیوں میں موٹی موٹی خواتین کو بٹھا کر پنڈی پوائنٹ تک دھکیل لے جاتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ مایوسی تب ہوتی ہے جب اس ٹھیلے پر بیٹھنے والا اور اسے دھکیلنے والا بچہ دونوں ہم عمر ہی ہوں۔ کیسی عجب ناانصافی ہے۔
مری میں میرا دل تب اور اداس ہوا جب تفریح کے لئے آئے ہوئے ایک خاندان کے والد نما آدمی کو اپنے سات آٹھ سالہ بچے کے رخسار پر تڑ ٹڑ چانٹے رسید کرتے دیکھا۔ میں تو اس سے لڑنے پہنچ گیا ہوتا اگر عمران نے مجھے نہ روکا ہوتا۔ میں کافی دیر تک اس خبیث انسان کو گالیاں دیتا رہا۔
آپ سوچ رہے ہونگے کہ یہ پوسٹ تو کچھ عجیب ہی بے تکی ہوتی جارہی ہے۔ میں بس یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ اب کی بار میں اسلام آباد سے ایسا خوش خوش نہیں لوٹا ہوں۔ اب کی مرتبہ میں فکرمند اور اداس ہوں۔ حالات اچھے نہیں ہیں، ایک طرف تو ایک سرکاری ادارہ لاکھوں روپے خرچ کرکے لوگوں سے کہہ رہا ہے کہ وہ بچوں کے لئے کہانیاں لکھیں۔ دوسری طرف ہم ان بچوں کو نہ اچھی غذا دے سکتے ہیں، نہ اچھا لباس۔ ہم انہیں اچھی تعلیم بھی نہیں دے پارہے، ان کی صحت دنیا بھر کے بچوں میں خراب ترین ہے، اکیسویں صدی میں بھی ہمارے ملک کا بچہ ننگے پیر گھومتا ہے، گندہ پانی پیتا ہے اور قے جلاب جیسے امراض میں بن کھلے ہی مرجھا جاتا ہے۔ ہمارے پاس ان بچوں کو دینے کے لئے ایک اچھا مستقبل تو بالکل نہیں ہے۔
وہ کہتے ہیں بچوں کے لئے کہانی سناؤ۔ لیکن اس بچے کو کہانی کون سنائے گا جس سے کوئی پیار ہی نہیں کرتا۔
زمرہ جات: اسلام آباد, پاکستانی معاشرہ
|
کراچی میں اب تک پانچ مبینہ ڈاکوؤں کو زندہ جلایا جاچکا ہے جن میں سےچار ہلاک ہوچکے ہیں۔ کسی نے اسے معاشرے میں بڑھتے ہوئے تشدد کے رجحان کا اشارہ بتایا، کسی نے اسے عوام کی انتقامی کاروائی قرار دے دیا۔ جتنے لوگ اتنی باتیں۔ لیکن اس فعل کی حوصلہ افزائی کرنے والوں نے کیا یہ سوچا ہے کہ اسطرح جرائم کم ہونگے؟ نہیں، بلکہ اس سے ڈاکو خوفزدہ تو ضرور ہوجائیں گے اور ایک خوفزدہ ڈاکو جس کے ہاتھ میں گن ہو اور جسے یہ ڈر ہو کہ اگر پکڑا گیا تو زندہ نہیں بچے گا وہ کس قدر خطرناک ہوگا؟ یہاں تو موبائل چھیننے میں ذرا سی مزاحمت پر دھائیں سے گولی داغ دیتے ہیں۔
اس المیے کا ایک اور المناک پہلو اخبارات اور ٹیلیوژن کا اس کو کوریج دینا بھی تھا۔ دنیا کے اکثر مہذب ممالک میں ٹیلیوژن پر سوختہ لاشیں نہیں دکھائی جاتیں۔ یہاں ہمارا میڈیا لاشیں بھی دکھا رہا ہے، ان سے اٹھنے والے شعلے بھی اور ان کے گرد کھڑا ہوا مجمع بھی۔ دردناک امر یہ ہے کہ اس مجمعے میں آٹھ سے دس سال کے بچے بھی کھڑے ہیں۔ جو خوش ہیں اور تالیاں بجارہے ہیں۔ واقعی ہم لوگ غاروں کے دور کے وحشی انسان سے بھی بدتر ہوگئے ہیں جہالت اور بربریت میں دنیا اگر ہماری مثال دے تو کچھ غلط نہ ہوگا۔
لیکن اس واقعے کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ جو اکثر اخبارات اپنی کاروباری اور سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے نظر انداز کردیتے ہیں۔ وہ ہے لیاری گینگ وار۔ پاکستان کے دیگر علاقوں میں رہنے والے شاید اس گینگ وار کے پس منظر سے اتنی اچھی طرح آگاہ نہ ہوں۔ خود مجھے بھی اس کا اتنا زیادہ علم نہیں ہے اس لئے کراچی کے بلاگرز سے درخواست ہے کہ وہ اس مسئلے کو انوسٹیگیٹ کریں اور اسے اپنے بلاگز پر نمایاں کریں۔

لیاری ایک بہت بڑا علاقہ ہے اور یہ کراچی کی قدیم ترین بستیوں پر مشتمل ہے۔ انگریزوں کے آنے سے پہلے یہاں وہ مکرانی لوگ رہتے تھے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ افریقہ کے غلاموں کی نسل ہیں جو کبھی بھاگ کر مکران کے ساحلوں پر پناہ گزیں ہوئی۔ بعد ازاں کچھی، سندھی، میمن قومیتوں نے بھی یہاں آبادیاں بنائیں۔ بلوچ بھی ایک بڑی تعداد میں یہاں رہتے ہیں۔ یہ علاقہ شہر کے پسماندہ ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔ گرچہ ہر حکومت نے عموما اور پیپلز پارٹی کے ادوار میں خصوصا اس علاقے میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بڑی رقوم خرچ کی گئی ہیں لیکن یہاں کے لوگوں کی قسمت نہ بدلی۔ اسی کی دہائی میں جب پاکستان میں کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر عام ہوا تو لیاری ہی وہ علاقہ تھا جو اسمگلنگ کا گڑھ بنا۔ آج بھی یہاں شراب چرس ہیروئن اور اسلحہ فروخت بھی ہوتا ہے بلکہ پورے پاکستان کو سپلائی بھی کیا جاتا ہے۔ پچھلی حکومت کے دور میں اس گینگ وار کا آغاز ہوا جب لیاری کے دو گینگ ایک دوسرے سے برسرپیکار ہوگئے۔ کہا جاتا ہے کہ پچھلی حکومت نے جرائم سے نمٹنے کے لئے ہندوستان کے شہر بمبئی کا آزمودہ نسخہ اپنایا۔ یعنی جرائم پیشہ افراد کو آپس میں لڑا کر انہیں ایک علاقے تک محدود کردیا جائے جہاں وہ ایک دوسرے سے لڑ بھڑ کر کمزور ہوجائیں۔
جب ان جرائم پیشہ افراد کا کاروبار آپسی لڑائی اور حکومت کی سختی کی وجہ سے کم ہوا تو ان کے معمولی کارندوں نے پورے شہر میں ڈکیتیوں، موبائل چھیننے اور کاریں و موٹر سائیکلیں چھیننے کو کاروبار بنالیا اور پورے شہر میں اسٹریٹ کرائم پھیل گئے۔ کہا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک گروہ کو پچھلی حکومت کی سرپرستی حاصل تھی اور دوسرے گروہ کو موجودہ حکومت کے عناصر کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اگر ایسا ہے تو گینگ وار مزید سنگین ہوجائیگی۔ جس سے شہر میں ڈکیتیوں اور سڑکوں پر ہونے والے جرائم میں مزید اضافہ ہوگا۔
چودہ مئی کو ڈاکوؤں کو جس علاقے میں جلایا گیا ہے وہ لیاری ہی میں لگتا ہے۔ لیاری کے جرائم پیشہ عناصر کے ٹھکانے لیاری سے باہر عثمان آباد اور رنچھوڑلائن تک پھیل چکے ہیں۔ ان علاقوں میں بھی منشیات کا کام عروج پر ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ شعیب سڈل ان مسائل سے کیسے نمٹیں گے۔ ان کے کیرئر پر نظر ڈالیں تو وہ جہاں گئے ہیں وہاں تشدد کی چنگاریوں نے مزید شعلے ہی بھڑکائے ہیں۔ کراچی اور بلوچستان اس کی دو مثالیں ہیں۔ جرائم سے بذریعہ سختی و تشدد نمٹنا اب ایک قدیم اور دنیا بھر میں متروک طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ ان سے نمٹنے کے لئے ڈسپلن، ٹیکنالوجی اور عوامی بیداری ہی صحیح ہتھیار ہیں۔ میرے ایک دوست جو کراچی پولیس کے بڑے مداح ہیں وہ کہتے ہیں کہ کراچی کی پولیس پاکستان بھر میں کارکردگی کے لحاظ سے سب سے بہتر ہے۔ اور میں ہمیشہ ان کا مذاق اڑاتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ کراچی پولیس کا طریقہ کار ابھی بھی وہی انگریز راج کا ہے جسے بدلنے کی ضرورت ہے، ٹیکنالوجی اور تنخواہوں میں دو سو فیصد اضافہ کرے بغیر ان کی کارکردگی میں مزید بہتری کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
زمرہ جات: پاکستانی معاشرہ, کراچی
|
مجھے اپنے ہموطنوں سے شکوہ ہے کہ اکثر وہ انجانے میں مہاجروں پر الزامات لگاتے ہیں۔ مجھے اندازہ ہے کہ وہ ایسا بالکل نہیں کرنا چاہتے لیکن کراچی کے فسادات کا تذکرہ ہو تو لوگ خودبخود شہر کو اردو بولنے والوں اور دیگر زبانیں بولنے والوں کے درمیان تقسیم کردیتے ہیں۔ سوال اٹھائے جاتے ہیں کہ مہاجر ایم کیو ایم جیسی گھٹیا جماعت کو کیوں سپورٹ کرتے ہیں۔ مہاجر خود کو مہاجر کیوں کہلواتے ہیں۔ مہاجر ایسے، پنجابی ویسے، پختون ویسے۔ وغیرہ وغیرہ۔ میں مہاجر ہونے کو کوئی بے عزتی نہیں بلکہ فخر کی بات سمجھتا ہوں۔ مگر ایسے تذکروں سے مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے میری قومیت پر سوال اٹھایا جارہا ہو۔ جیسے میرے مزاج کو ایک مخصوص سیاسی جماعت کا مزاج سمجھا جارہا ہو۔ اور میری سوچ کو قومی سوچ کے برخلاف سمجھا جارہا ہو۔
میں اکثر لکھتا ہوں کہ اگر کراچی کے حالات کا ذکر ہو تو لامحالہ اس تذکرے سے لسانیت اور تعصب کی بو آنے لگتی ہے۔
عموما ایسے تذکروں میں آپ دیکھیں گے کہ آدھے مہاجر ایم کیو ایم کی صفائی دینے لگتے ہیں اور باقی آدھے یہ صفائی پیش کرنے لگتے ہیں کہ ایم کیو ایم مہاجروں کی نمائندہ جماعت نہیں ہے۔ جیسے ہم ہی چور ہوں، ہم ہی ملزم ہوں اور ہم ہی پر مقدمہ چلایا جارہا ہو۔ آخر ہم صفائی کیوں پیش کریں؟
یہاں حالات خراب کرنے کے لئے کسی کو محض تیس چالیس غنڈوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جہاں ایک طرف اس شہر میں روزگار کی فراوانی ہے وہاں دوسری طرف یہاں روزانہ پورے ملک سے سینکڑوں غیر ہنرمند، بے پڑھے لکھے اور انتہائی پسماندہ علاقوں کے نوجوان خواب لیکر آتے ہیں۔ یہ ان نوجوانوں کے علاوہ ہیں جو اس شہر میں پہلے سے رہ رہے ہیں۔ ان کے پاس روزگار نہیں، کوئی اعلی نظریات نہیں، کرنے کو کوئی قابل ذکر کام نہیں۔ یہ لوگ ایسے گروہوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو انہیں ان فسادات میں بطور پٹرول استعمال کرتے ہیں۔ یہ گروہ بھرتی کرتے وقت کبھی بھی مہاجر، سندھی، پنجابی، پختون یا بلوچ نوجوان میں کوئی تفریق نہیں کرتے۔ اور ان غنڈوں میں آپ کو ہر قومیت کے لوگ ملیں گے۔ ناراض، بے روزگار اور خود کو منوانے کی خواہش رکھنے والے ان نوجوان غنڈوں کی مارکیٹ سے انہیں ایم کیو ایم ہی نہیں کوئی بھی سیاسی جماعت، جرائم پیشہ گروہ، ایجنسیاں یا لسانی تنظیم کبھی بھی کرائے پر حاصل کرسکتی ہے۔
بد اچھا اور بدنام برا، سارے فساد کا الزام لوگ اسی جماعت کے سر ڈال دیتے ہیں جو بدنام ہے۔ بلاشبہ وہ جماعت غنڈہ گردی اور دہشت گردی میں ملوث رہی ہے۔ لیکن اگر ہم حقائق سے نظریں چراتے رہیں گے اور الزام تراشی کے لئے آسان ترین شکار پر ضرب لگاتے رہیں گے تو ہم کبھی مسائل سلجھا نہیں سکیں گے۔
ان واقعات کا آغاز اس دن سے ہوتا ہے جب آصف زرداری نائن زیرو پہنچتے ہیں۔ جہاں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی جو ہمیشہ ایک دوسرے کو نظریاتی حلیف قرار دیتے رہے ہیں، اپنے پرانے اختلافات سے دست بردار ہونے پر تیار ہوجاتے ہیں۔ ایم کیو ایم نوے کی دہائی میں ہونے والے اپنے کارکنان کے ماورائے عدالت قتل پر پیپلزپارٹی سے معافی نامے کا مطالبہ ترک کردیتی ہے اور پیپلزپارٹی ایم کیو ایم کو بارہ مئی کے واقعے پر معاف کردیتی ہے۔ ایم کیو ایم پیپلز پارٹی کو غیرمشروط تعاون اور حمایت کا اپنا وعدہ دہراتی ہے۔ اور اگلے دن سے عجیب و غریب واقعات کا تسلس شروع ہوجاتا ہے۔
اسمبلی میں تین نشستیں رکھنے والی ایم ایم اے کو وزارت دی جاتی ہے۔ ق لیگ کے لوٹوں کو ن لیگ میں قبول کیا جاتا ہے۔ مقدمے معاف ہوتے ہیں، جج رہا ہوتے ہیں۔ ہر طرف مفاہمت کا دور دورہ ہے۔ تو اس مفاہمت میں قومی اسمبلی میں انیس نشستیں رکھنے والی جماعت کو شامل کرنے میں کس کو اعتراض ہے اور کیوں؟ جب کہ ایم کیو ایم کی مفاہمت صرف پیپلز پارٹی سے ہے نہ کہ حکمران جماعت کے تمام اتحادیوں سے۔ سوال یہ ہے کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے قریب آنے سے نقصان کس کا ہے؟
کراچی کی مختصر سی تاریخ حادثات اور فسادات سے بھری پڑی ہے۔ لسانی اور سیاسی جھگڑوں کے حوالے سے یہ شہر ہمیشہ زخم کھاتا رہا ہے۔ ہر تازہ زخم کے بعد یہ شہر پھر بھی اپنی ترقی کا سفر جاری رکھتا ہے۔ اور سب کی طرح مجھے بھی ڈر لگتا ہے کہ کہیں کسی دن یہ زخموں سے اتنا چھلنی نہ ہوجائے کہ پھر اٹھ نہ سکے اور اس کی کہانی ایک بے تکے موڑ پر ختم ہوجائے۔
زمرہ جات: دہشت گردی, سیاست, پاکستانی معاشرہ, کراچی
|
کچھ لوگوں کو خوشامد بڑی پسند ہوتی ہے۔ اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خوشامدیوں کو بہت پسند ہوتے ہیں۔ مسلم لیگ نواز گروپ کے سربراہ نواز شریف کو خوشامد پسند ہو کہ نہ ہو، مگر خوشامدیوں کو وہ بہت پسند ہیں۔ وہ جب بھی اقتدار میں آتے ہیں تو اخبارات ان کے جانثاروں کی بڑھکوں سے سجے نظر آنے لگتے ہیں۔ نذیر ناجی صاحب ان کے پچھلے ادوار میں ان کی بڑی توصیف کیا کرتے تھے اور ایک عطاالحق قاسمی صاحب۔ ناجی صاحب تو سکہ بند صحافی لوٹے ہیں جو اکثر طاقت کے توازن کی طرف لڑھکتے رہتے ہیں۔ لیکن قاسمی صاحب نواز شریف کے ایک دیرینہ جانثار حمایتی ہیں۔ وہ ایک کالم نویس اور مشہور مزاح نگار بھی ہیں۔ موصوف نواز شریف کی پچھلی حکومت میں ناروے کے سفیر رہ چکے ہیں۔ ان کے کالم انتہائی جانبدارانہ ہوتے ہیں۔ مجھے ان کے لکھنے کا انداز بہت پسند ہے۔ لیکن کبھی کبھی وہ اپنے پسندیدہ لیڈر کی حمایت، تعریف اور توصیف میں زمین آسمان کے قلابے ایسے ملاتے ہیں کہ پڑھنے والے کو شرم محسوس ہونے لگتی ہے کہ وہ اس عظیم الشان لیڈر کا حامی کیوں نہیں ہے۔ ایسا کرتے وقت بعض اوقات ان کی زبان عامیانہ ہوجاتی ہے اور وہ صحافتی اخلاقیات اور اردو زبان کی روایتی شائستگی اور شگفتگی کو بھی یکسر نظر انداز کردیتے ہیں۔
ہوا یوں کہ صدارتی ترجمان راشد قریشی صاحب نے بیان جاری کیا کہ:
۔نواز شریف کے علاوہ کسی سے بھی پوچھ لیا جائے سب کہتے ہیں کہ وہ صدر کے ساتھ کام کرنے کیلئے تیا ر ہیں۔اس لیے نواز شریف کو بھی کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔
جس پر نواز شریف نے جوابی بیان داغا کہ:
صدارتی ترجمان حیثیت دیکھ کر بات کریں۔ آمریت دفن کرنے کیلئے جلد قانون سازی کرنا ہوگی.
اگر حیثیت کی بات ہورہی ہے تو نواز شریف پر یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ وہ عوامی نمائندے ہیں کوئی شہنشاہ نہیں کہ جس کی حیثیت تنقید سے بالاتر ہو۔ یہ نیا پاکستان ہے، اور اب یہاں تنقید اسی طرح کی جاتی ہے۔ خود پرویز مشرف پر آٹھ سالہ دور حکومت میں لوگوں نے جی بھر کر تنقید کی ہے۔ برا بھلا کہا ہے اور برملا ملکی ٹی وی چینلز پر کہا ہے اس لئے نواز شریف کو بھی تیار رہنا ہوگا اس قسم کی تنقید سننے اور اس کا مدلل جواب دینے کے لئے۔ لیکن یہ بنیادی بات ہمارے کالم نویس عطاالحق صاحب کو بھی سمجھ نہیں آئی اور آج کے اخبار میں انہوں نے اپنے چہیتے لیڈر کی توصیف میں ایک اور کالم لکھ مارا۔ :
چوہدری نثار علی کی پریس کانفرنس بھی ٹی وی چینل پر براہ راست دیکھنے کا موقع ملا۔ ان کا لہجہ بتاتا تھا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف بطور صدر چند گھڑی کے مہمان ہیں، آپ انہیں مہمان اداکار بھی کہہ سکتے ہیں۔ چوہدری صاحب نے صدارتی ترجمان میجر جنرل (ر) راشد قریشی کی جس طرح دُھنائی کی، اس حوالے سے He asked for itوالی بات ہی کہی جا سکتی ہے کیونکہ موصوف نے پاکستانی عوام کے مقبول قائد میاں نواز شریف کے لئے جو زبان استعمال کی تھی، اس کے بعد یہ ان کا ”حق“ بنتا تھاکہ انہیں ان کی اوقات یاد دلائی جاتی.
چلیں لگتا ہے عطاالحق قاسمی صاحب، جو ہمارے دیگر معزز شعرا کی طرح یورپی اور امریکی مشاعروں کے شیدائی ہیں، اب ان کی سفارتی ذمہ داریاں شروع ہوا ہی چاہتی ہیں۔ لیکن اگر اسطرح صدر پاکستان کو اوقات یاد دلانے پر واہ واہ کرنے والے لوگ سفارتکار بنیں گے۔ تو نوازشریف وہی غلطی دہرائیں گے جو وہ پچھلے ادوار میں دہرا چکے ہیں۔ اور کالم نویسوں کو بھی یہ سمجھنا چاہئے کہ ایمانداری اور انصاف جس کی توقع وہ معاشرے سے رکھتے ہیں، معاشرہ بھی ان سے توقع رکھتا ہے کہ وہ اپنا کام ایمانداری اور غیرجانبداری سے انجام دیں گے۔
زمرہ جات: جمہوریت, ذرائع ابلاغ, پاکستانی معاشرہ
|
پاکستانی ان دنوں ڈنمارک میں چھپنے والے کارٹونوں کے سبب خفا ہیں۔ مجھے اس موضوع سے کوئی خاص دلچسپی نہیں۔ میرا خیال ہے کہ اگر کوئی شخصیت میرے لئے قابل احترام ہے۔ تو میری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ کوئی اس شخصیت کی تضحیک نہ کرے۔ ان کارٹونوں کو شائع کرنے کا مقصد ہی شرانگیزی اور مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنا تھا۔ ہمیں اس شرانگیزی کا خاتمہ مزید شر پھیلا کر نہیں کرنا چاہئے۔ اور نہ کسی کو اجازت دینی چاہئے کہ وہ ہمارے مذہبی جذبات کو مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرے۔ احتجاج کے تمام غیرمتشدد، مہذب، اور اثرانگیز طریقے اختیار کرے جائیں۔ مگر دشمن کے جھانسے میں نہ آئیں۔
اس کے علاوہ ایک اور مسئلہ ویکیپیڈیا پر محمد ﷺ کے بارے میں مضمون پر چند پینٹینگز کی تصاویر کا ہے۔ میرے خیال میں ایسے پاکستانی جنہیں انٹرنیٹ تک رسائی نہیں، یا جو زیادہ تعلیم یافتہ نہیں وہ ان دنوں معاملات کو ایک نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ یعنی ان کے مذہب اور عقائد کی توہین باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کی جارہی ہے۔ لہذا میں نے سوچا کہ اس بارے میں کچھ لکھوں۔ ویکیپیڈیا کے مضمون پر موجود آپ ﷺ کی تصاویر کا مقصد ڈنمارک کے کارٹونوں سے بالکل مختلف ہے۔ یہ تصاویر توہین آمیز نہیں۔
ان میں سے ایک پینٹنگ میں محمد ﷺ صحابہ کرام کو مہینوں کے بارے میں بتارہے ہیں۔ یہ تصویر ابو الریحان البیرونی کی کتاب الآثار الباقية عن القرون الخالية کے قدیم نسخے میں موجود تھی جسے بعد ازاں سترھویں صدی کے نسخے میں نقل کیا گیا۔ یہ نسخہ اب فرانس کی قومی لائبریری کی ملکیت ہے۔
دوسری میں آپ ﷺ فرشتوں اور صحابہ کرام کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس تصویر میں بھی آپ ﷺ کا چہرہ مبارک نہیں دکھایا گیا ہے۔
اور تیسری میں آپ ﷺ کا چہرہ مبارک نہیں دکھایا گیا ہے یہ تصویر استنبول کے توپ کاپی عجائب گھر میں رکھی ہوئی ہے۔
پھر بھی اگر آپ کو یہ تصاویر نا مناسب معلوم ہوتی ہیں تو ان تصاویر کے خلاف اپنے احتجاج کو ڈنمارک کے کارٹونوں کے خلاف احتجاج سے نہ ملائیں۔ ڈنمارک کے کارٹون سراسر شرانگیزی ہے جس کا مقصد ہی مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنا ہے۔ لیکن ویکیپیڈیا پر موجود تصاویر شرانگیز نہیں بلکہ تاریخی اور علمی اہمیت کی دستاویزات کی تشبیہہ ہیں۔ آپ ان سے اختلاف کا اظہار کریں اور پٹیشن پر اپنے تاثرات ضرور درج کریں۔ لیکن اس معاملے کو ڈنمارک کے معاملے جیسا نہ سمجھیں۔
زمرہ جات: مذہبی رواداری, پاکستانی معاشرہ
|
دنیا بھر میں ویلنٹائن ڈے منایا جارہا ہے۔ کراچی میں پھولوں، تحائف اور ویلنٹائن کارڈز کی فروخت زوروں پر ہے۔ خود راقم نے۔ آہم آہم۔۔۔
تاہم چند ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں محبت کرنے والے لوگ بالکل پسند نہیں۔ وہ آدمی اور عورت، لڑکا اور لڑکی کے درمیان محبت کے اظہار کو مغربی تہذیبی یلغار سمجھتے ہیں۔ ان لوگوں کے عزائم انتہائی جارحانہ ہیں۔ اور نعمان وقتا فوقتا اپنے بلاگ کے قارئین کی توجہ ان کی طرف مبذول کراتا رہتا ہے تاکہ لوگ ان عناصر سے چوکنے رہیں۔
چوکنے رہنے پر یاد آیا کوئی دو روز قبل ٹیلیویژن پر نیوز چینلز نے یہ سلائیڈ چلائی کہ دو مشتبہ خود کش بمبار جن کا تعلق وزیرستان سے ہے وہ کراچی پہنچ چکے ہیں۔ شہر بھر میں سیکیوریٹی انتہائی سخت کردی گئی۔ افواہیں یہ اڑنے لگیں کہ ان میں ایک بمبار ساٹھ سال کی عمر کا قبائلی بوڑھا جس نے براؤن جیکٹ پہن رکھی تھی اور اسے چادر سے چھپا رکھا تھا۔ اس نے ایک کار سوار سے لفٹ لی۔ پھر کار سوار کو اپنی خودکش جیکٹ دکھائی اور اس سے گورنر ہاؤس والی سڑک پر چلنے کو کہا۔ کار سوار اپنی جان خطرے میں ڈال کر اسے سارے شہر میں گھماتا رہا۔ تنگ آکر اس بوڑھے نے خود ہی کار سے اترنے کا فیصلہ کرلیا۔ کار سوار فورا سی پی ایل سی گورنر ہاؤس پہنچا اور اس نے مشتبہ بمبار کا خاکہ بنوایا۔
اپڈیٹ: یہ افواہ نہیں بلکہ سچی خبر نکلی
اس افواہ میں کئی جھول ہیں مسئلا یہ کہ کراچی شہر میں کوئی کسی اجنبی کو رات کے وقت لفٹ کیوں دے گا۔ دوسری بات خودکش بمبار گاڑی چھیننے کے بجائے لفٹ لینا کیوں پسند کرے گا؟ لیکن بہر حال اس سے شہر بھر میں سیاسی کارکن ڈرے رہے اور وہ ایسے تمام پختونوں کو مشکوک نظروں سے دیکھتے رہے جنہوں نے جیکٹ پہن رکھی ہو یا چادر لپیٹ رکھی ہو۔
زمرہ جات: انتخابات 2008, دہشت گردی, پاکستانی معاشرہ, کراچی
|
شاکر نے اپنے بلاگ پر ایک بھاگے ہوئے بچے کی سرگزشت بیان کی ہے۔ اس بچے کی کہانی یہ تھی کہ گھر والے اسے حافظ قرآن بنانا چاہتے تھے۔ وہ گھر والوں کی خواہش دلجمعی سے پوری کرنے کی اپنی سی کوشش بھی کرتا تھا مگر مدرسے کے قاری صاحب کے متشدد روئیے نے اسے مدرسے سے متنفر کردیا۔ شاکر کے بلاگ پر آپ کو اکثر اچھے موضوعات نظر آئیں گے۔ وہ اکثر الجھے ہوئے عام مسائل کو اپنی روایتی سادگی سے بیان کرتے ہیں اور پھر اسی سادگی کے ساتھ انہیں سلجھانے کی تجویز بھی پیش کرتے ہیں۔ مجھے ان کا یہ انداز تحریر بہت پیارا لگتا ہے۔
قرآن حفظ کرنے والے بچوں کے مسائل ایک سنجیدہ معاشرتی مسئلہ ہیں۔ جن پر بالغان اپنے دینی رجحانات کے سبب توجہ نہیں دیتے۔ میرا چھوٹا بھائی عازب بھی ماشاءاللہ حافظ قرآن ہے اس لئے مجھے ان میں سے کچھ مسائل کا ذاتی تجربہ بھی ہے۔
مدارس کا روایتی ماحول
گرچہ میرا بھائی عازب ایک ایسے مدرسے میں پڑھتا تھا کہ جہاں عصری علوم کی بنیادی تعلیم پر بھی توجہ دی جاتی تھی۔ لیکن بعد ازاں ہمیں معلوم ہوا کہ یہ توجہ محض اشتہاری تھی۔ مضامین جیسے ریاضی اور انگریزی جن کی آگے چل کر طالبعلموں کو سخت ضرورت ہوتی ہے ان پر قطعا توجہ نہیں دی گئی۔ عازب نے تیرہ سال کی عمر میں قرآن حفظ کرلیا تھا جس کے بعد اسی مدرسے میں اسے عام اسکول کی تعلیم دی جانے لگی۔ یہ تعلیم اتنی غیرمعیاری تھی کہ چھٹی جماعت کے بچے اردو زبان میں ایک چھوٹا سے مضمون لکھنے کے بھی لائق نہ تھے۔ جب میٹرک کے امتحان سر پر آئے تو مدرسے کی انتظامیہ کی سختیاں بڑھ گئیں جو کہ سراسر بے جا تھیں۔ وہ بچوں پر اچھی کارکردگی کے لئے سخت دباؤ ڈالتے تھے جب کہ اس بارے میں وہ خود اپنی ذمے داری سے غافل تھے۔ نتیجتا عازب کی مدرسے میں حاضری کم ہوتی گئی۔ سائنس کے مضامین منتخب کرنے کے سبب یہ ضروری تھا کہ اسے امتحانات کے لئے سخت محنت کرنا ہوگی اور مدرسے جانا محض وقت کا ضیاع لگتا تھا۔ چنانچہ نویں جماعت کے پرچوں کے بعد مدرسے کی انتظامیہ نے اسے مدرسے سے فارغ کرنے کی دھمکی دے دی۔ جب میرے والد وہاں پہنچے تو انہوں نے شرط عائد کی کہ اگر اس نے نویں جماعت کا امتحان پاس کرلیا تو اسے دسویں جماعت کی کلاسز لینے کی اجازت دی جائیگی۔ نتیجہ آیا اور عازب کا نتیجہ مدرسے میں پابندی سے حاضر ہونے والے کئی بچوں سے بہتر تھا۔ لیکن مدرسے کی انتظامیہ اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے عازب کو اسکول سے نکالنے پر بضد تھی۔ جس کے بعد ہم نے عازب کو محلے کے ایک پرائیویٹ اسکول میں داخل کرواکر دسویں جماعت کا امتحان دلوایا اور وہ بی گریڈ کے ساتھ پاس ہوگیا۔
مدرسے کا یونیفارم شلوار قمیض اور ٹوپی پر مشتمل تھا اور عازب کو یہ یونیفارم بچپن سے بہت برا لگتا تھا۔ گھر میں اس کے بھائی، محلے میں اس کے دوست، رشتے داروں میں اس کے ہم عمر کزن سب پتلونیں پہنتے تھے اور اسے شلوار قمیض پہن کر اسکول جانا سخت برا لگتا تھا۔
مدرسے میں اساتذہ کا رویہ انتہائی سخت گیر تھا۔ گرچہ وہاں جسمانی تشدد نہیں کیا جاتا تھا مگر تشدد کے دیگر کئی طریقے ان لوگوں نے ایجاد کر رکھے تھے۔ جن میں سرفہرست طلبہ کی تحقیر اور اہانت آمیز رویہ شامل تھے۔ گرچہ مدرسے میں کبھی دہشت گرد جہادی گروہوں کی حمایت نہیں کی جاتی تھی۔ لیکن مدرسے کے اساتذہ طالبعلموں کے سامنے دیگر مکاتب فکر کے ماننے والے مسلمانوں پر تنقید کرتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے۔
مدرسے کا گھٹا ہوا ماحول طلباء کی تخلیقی صلاحیتوں پر بری طرح اثر انداز ہوتا تھا۔ طلباء کو یہ عادت ڈالی جاتی تھی کہ وہ استدلالی طرز فکر سے اجتناب کریں۔ نہ سوال کریں نہ کسی مدلل جواب کی امید کریں۔
گرچہ پاکستان کے دیگر عام نام نہاد انگریزی میڈیم پرائیویٹ اسکولوں کا حال بھی اس سے کچھ مختلف نہیں لیکن اس مدرسے کا ماحول انتہائی بے تکا تھا۔ اس تعلیم میں تفریح کا کوئی عنصر نہیں تھا، ایک سخت گھٹا گھٹا ماحول جو طلباء کو عجیب قسم کے روبوٹ بنانے پر اصرار کرتا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب عازب کو اسکول سے نکالا گیا تو اس دن کے بعد سے اب وہ صرف عید کی نماز پر یا تراویح کے دوران شلوار قمیض پہنتا ہے۔ اس کا طرز فکر مدرسے کی تعلیم و تربیت کے بالکل برعکس ہے۔ مدرسے میں موسیقی کے خلاف کرے گئے پرچار کے برعکس اسے موسیقی میں انتہائی دلچسپی ہے۔ اکثر لوگ جب اس کا حلیہ دیکھتے ہیں تو انہیں یقین نہیں آتا کہ یہ لڑکا حافظ قرآن بھی ہوگا۔
والدین کا رویہ
میرے خیال میں والدین کی اپنے بچوں کو حافظ قرآن بنانے کی خواہش بھی ان مسائل کا ایک سبب ہے۔ نہ وہ اپنے بچے کے رجحان کا خیال کرتے ہیں نہ اس بات کا کہ اگر بڑا ہونے پر ان کا بچہ مختلف رجحان رکھتا ہو تو اس کے لئے قرآن شریف کو دہرانا شاید اتنا آسان نہیں ہوگا۔ وہ یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ اگر یہ قرآن شریف حفظ کرکے بھول گیا تو اس کی زندگی کے جو قیمتی سال اسے حفظ کرنے میں صرف ہوئے ہیں ان کا مداوا کیا ہوگا؟ والدین کو چاہئے کہ وہ کم از کم اپنے بچوں کو اس عمر تک پہنچنے دیں کہ جب وہ اپنے لئے یہ فیصلہ خود کرسکیں۔ اس دوران والدین اپنے بچوں کی تربیت پر توجہ دیں اور کوشش کریں کہ بچوں کو گھر میں ایسا ماحول ملے جو انہیں دینی تعلیم کے حصول پر مائل کرے۔ اپنی مرضی کا فیصلہ بچوں پر تھوپنے کے بجائے ان پر یہ ذمہ داری ڈالی جائے کہ وہ اگر چاہیں تو بڑے ہوکر یہ سعادت حاصل کریں اور اپنے لئے اور والدین کے لئے ثواب کمائیں۔
معاشرے کی ذمے داری
ہمارے ملک میں یہ ٹرینڈ رہا ہے کہ کبھی ہر کوئی ڈاکٹری اور انجینئرنگ پڑھنے لگتا ہے۔ کبھی بزنس منیجمنٹ کا دور آتا ہے، کبھی انفارمیشن ٹیکنالوجی کا۔ طریقہ کار یہ ہے کہ معاشرے کو اس وقت جس قسم کے ہنرمند اور تعلیم یافتہ افراد کی ضرورت ہو اس قسم کی تعلیم پر زور دیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے ملک کو سالانہ کتنے حافظ قرآن کی ضرورت ہوتی ہے؟ صنعت و حرفت، مدارس، علمی و تحقیقاتی اداروں میں قرآن حفظ کرنے والے (دیگر دینی علوم سے بے بہرہ) کتنے لوگوں کی ضرورت ہے۔ میرا خیال یہ ہے کہ معاشرے کو ہر سال ہزاروں حافظ قرآن بچوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ قرآن حفظ کرنے والے بچوں کے انتخاب کا کوئی طریقہ ہونا چاہئے۔ جس سے یہ پتہ چلے کہ بچوں کا رجحان کیا ہے اور صرف انہی بچوں کو یہ تعلیم دی جانی چاہئے جو دینی علوم حاصل کرنے کا شوق، استعداد اور رجحان رکھتے ہوں نہ کہ ہر بچے کو اس میں شامل کرلیا جائے۔ ان میں سے کچھ بچے بہت اچھے ڈاکٹر، بزنس مین، فنکار، انجینئر، سائنسدان کچھ بھی بن سکتے ہیں۔ لیکن بلارجحان کے انہیں دینی تعلیم کی طرف دھکیل کر ہم ان کی دیگر صلاحیتیں بھی ضائع کردیتے ہیں اور وہ نہ دینی تعلیم پر پورے اتر پاتے ہیں اور نہ ہی کچھ اور کرپاتے ہیں۔
زمرہ جات: تعلیم, پاکستانی معاشرہ
|
امید آزادی ایک ایرانی بلاگر ہیں جو فارسی اور انگریزی میں لکھتے ہیں۔ ان دنوں یہ امریکی شہر اٹلانٹا کے ایک ہائی اسکول کے طالبعلم ہیں۔ انہوں نے شہید جمہوریت محترمہ کے بیٹے بلاول کے بارے میں ایک افسانہ لکھا ہے۔ یہ افسانہ جس کا عنوان بلاول کا جنون ہے امید نے اپنی ورلڈ لٹریچر کلاس میں پیش کرنے کے لئے لکھا تھا۔ امید ایک انتہائی ذہین اور سمجھدار نوجوان ہیں۔ اس کا اندازہ مجھے ان کے ساتھ ای میلز کے تبادلے کے بعد ہوا۔ وہ اپنے افسانے میں بلاول کا انجام بھی اس کی ماں جیسا ہی دکھاتے ہیں جو مجھے نامناسب لگا میرا خیال تھا کہ اس سے بہتر اختتام یہ ہوتا کہ بلاول وزیر اعظم ہاؤس میں حلف اٹھانے کے بعد اعلان کرتا کہ اس نے اپنی ماں کا انتقام لے لیا۔ امید کا کہنا ہے:
میری پیشن گوئی میرے ذاتی تخیل یا بغض پر مبنی نہیں بلکہ کچھ سماجی اور تاریخی حقائق ہیں جن پر میں ہمیشہ اپنے ملک، ایران میں پیش آنے والے حالات کی وجہ سے اعتماد کرتا ہوں۔ سوشیولوجیکلی، جمہوریت ایک اچانک رونما ہونے والا انجام نہیں بلکہ منظم معاشرتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہوتا ہے جن سے پاکستان نہیں گزرا۔ اپنے ملک کے تجربات کی روشنی میں، میں پاکستان کی جمہوری تحاریک کے بارے میں ایسا سوچتا ہوں۔ یہ میری پیشن گوئی ہے جو میں امید کرتا ہوں کہ سچ ثابت نہ ہو لیکن میں محسوس کرتا ہوں کہ بھٹو کی تحریک تقریبا انہی وجوہات کی وجہ سے ناکام ہوجائیگی جن کی وجہ سے پچاس سال قبل مصدق کی تحریک ناکام ہوگئی تھی۔
میری رائے ابھی بھی امید سے مختلف ہے، لیکن اس کی اس دلیل میں وزن ہےکہ جمہوریت کو اپنانے کے لئے معاشرے کو جن تبدیلیوں سے گزرنا پڑتا ہے ان سے گزرے بغیر پاکستان جمہوریت اپنانے میں ناکام رہے گا۔ ہمارے معاشرے کا تعلیم یافتہ مڈل کلاس طبقہ جمہوریت کو ایک فضول خیالی پلاؤ تصور کرتا ہے۔ کبھی اس طبقے کے مفاد میں ہو تو اس پلاؤ کی دیگیں چڑھائی جاتی ہیں، جج بحال کرائے جاتے ہیں پتھراؤ کرے جاتے ہیں۔ اور کبھی جب ان کے مفاد میں ہو تو یہ ہر غیرقانونی کام پر خاموش رہتے ہیں اور شور نہیں مچاتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر جدوجہد کرنی ہے تو ہمیں اپنے معاشرے میں کرنا ہوگی جو جمہوریت کی راگنی تو الاپتا ہے لیکن اسے اپنانے کو پوری طرح تیار نہیں۔
زمرہ جات: آزادی, بےنظیر, جمہوریت, پاکستانی معاشرہ
|
میں اپنے بلاگ پر کئی مرتبہ لکھ چکا ہوں کہ پاکستان کی عوام کو ہر صورت الیکشن کے دن باہر آنا ہوگا اور اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنا ہوگا۔ کیونکہ یہ بات ازحد ضروری ہے کہ پاکستان کو موجود خطرناک حالات سے ایک منتخب حکومت نمٹے۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے الیکشن میں ہرصورت حصہ لینے کا اعلان کیا ہے، پاکستان مسلم لیگ (ن) بھی الیکشن میں حصہ لینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ عالمی برادری پاکستان پر جمہوریت کی طرف واپسی کے لئے دباؤ ڈال رہی ہے اور دنیا ہماری طرف دیکھ رہی ہے کہ ہم کس راستے کا انتخاب کرتے ہیں۔ ایک راستہ عالمی برادری میں ہماری قدر، ہمارے اعتماد اور بطور قوم ہمارے وقار میں اضافے کا سبب بنے گا۔ اور دوسرا راستہ خودکشی کا ہے۔
اسٹیبلیشمنٹ نے اپنے پسندیدہ نمائندوں کو جتانے کا انتظام کر رکھا ہے۔ گھوسٹ پولنگ اسٹیشن، مہرزدہ بیلٹ پیپرز، انتخابی فہرستوں کے گھپلے اور بلدیاتی انفراسٹرکچر کا انتخابی استعمال سمیت کئی الزامات لگائے جارہے تھے۔ پاکستان کے دونوں سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور بےنظیر کے اعلان کیا تھا کہ وہ الیکشن میں حصہ لیں گے اور لوٹا لیگ کے لئے میدان کھلا نہیں چھوڑیں گے۔ محترمہ پچھلے دو سال سے جنرل اور صدر مشرف سے مذاکرات کرتی رہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد کچھ لوگ اقتدار کا حصول بتاتے ہیں۔ میں ان لوگوں سے یہ سوال کرتا ہوں کہ کیا بیلٹ پیپر کے ذریعے اقتدار کے حصول کی کوشش کرنا جرم ہے؟ اگر جرم ہے تو یقینا اس کی مذمت کریں۔ اگر نہیں ہے تو ستائش کریں کہ محترمہ نے ہمیشہ بیلٹ پیپر کے ذریعے اقتدار کے حصول کو اپنا طریقہ بنایا اور احتجاجی سیاست سے گریز کرا۔ اس کے لئے انہوں نے نواز شریف کے ساتھ چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط کرے۔ اس کے لئے انہوں نے پرو مشرف ہونے کا طعنہ بھی سنا۔ مگر مذاکرات، ڈپلومیسی اور آئینی طریقے سے مشرف کو رخصت کرنے کو صحیح اور بہتر راستہ چنا۔ چاہے آپ کو بے نظیر سے کتنے ہی اختلاف ہوں لیکن کیا آپ بھی میری طرح یہ باتیں سوچ رہے ہیں:
- بے نظیر میں ایسا کیا تھا کہ کچھ لوگوں کو اسے قتل کرنا پڑا؟
- وہ کون لوگ تھے کہ جن کے مفادات کو بےنظیر کی کامیابی سے نقصان پہنچنا تھا؟
- کیا اسے اس لئے قتل کیا گیا کہ وہ انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف تھی؟
- یا اسے اس لئے قتل کیا گیا کہ وہ پاکستان کے عوام کی ووٹوں پر منتخب ہوکر اقتدار میں آنا چاہتی تھی؟
- کیا دہشت گردی کو غلط سمجھنا گناہ ہے؟ کیا عوام کی طاقت، پارلیمنٹ کی بالادستی اور جمہوریت کے لئے کام کرنا غلط ہے؟
جن لوگوں نے بےنظیر کو قتل کیا وہ پاکستان کے دشمن تھے، وہ پاکستان کی عوام کے دشمن تھے۔ وہ نہیں چاہتے کہ پاکستان کی عوام کو جمہوریت، انصاف، امن اور خوشحالی حاصل ہو۔ کیا آپ ان کا مقصد کامیاب ہونے دیں گے؟ یا آپ الیکشن کے دن گھر سے نکلیں گے اور ووٹ دیں گے؟ آپ اگر بے نظیر کے مداح ہیں تو شہید شہزادی کے مقصد کو کامیاب بنائیں۔ اگر آپ بےنظیر کے نقاد ہیں تب بھی گھر سے نکلیں، اور پیپلزپارٹی کو نہ سہی، اپنی پسند کے نمائندے کو ووٹ دیں اور پاکستان کے دشمنوں کے منصوبوں کو ناکام بنادیں۔ اگر آپ ووٹ نہیں ڈالیں گے تو آمریت، ظلم، دہشت گردی، نا انصافی، اور افراتفری جاری رہے گی۔
زمرہ جات: انتخابات 2008, بےنظیر, جمہوریت, دہشت گردی, پاکستانی معاشرہ
|

جب میں اپنے بلاگ پر محترمہ کے ایک انٹرویو کے بارے میں لکھ رہا تھا تو مجھے معلوم نہیں تھا کہ دن اتنی جلدی آجائے گا۔ مگر نیا شہزادہ آگیا ہے۔ ایک اور بھٹو میدان سیاست میں اتر چکا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے اپنے مختصر سے خطاب میں کہا کہ وہ پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے ممبران کے شکرگزار ہیں کہ جنہوں نے انہیں بطور چئیرمین نامزد کیا۔ وہ پیپلزپارٹی کے تمام چئیرپرسنز کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے جمہوریت اور وفاق پاکستان کی مضبوطی اور سلامتی کے لئے کام کریں گے۔ آخر میں انہوں نے جذبات سے مغلوب آواز میں کہا کہ ان کی والدہ ہمیشہ کہا کرتی تھیں، جمہوریت بہترین انتقام ہے۔
زمرہ جات: بےنظیر, سیاست, پاکستانی معاشرہ
|
12/30/2007
نیویارک ٹائمز پر:
پاکستان کے مقامی دہشتگرد، القاعدہ خطرے میں اضافے کا سبب
پاکستانی انگریزی اخبار ڈیلی ٹائمز اپنے ادارئے میں لکھتا ہے کہ حملے کرکے جھٹلانا القاعدہ کے لئے کوئی نئی بات نہیں۔ گرچہ محترمہ کو اس بات کا اندازہ تھا کہ القاعدہ اور طالبان کی ٹاپ ہٹ لسٹ پر ان کا نام ہے اور یہ کہ ان کے سیاسی مخالفین بھی انہیں مکمل امریکہ نواز اور پرو مشرف ثابت کرنے پر تلے ہیں۔ تب بھی وہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کو پاکستان کو لاحق سب سے بڑا خطرہ قرار دیتی رہیں۔ انہیں اس بات کی پرواہ نہیں تھی کہ اس سے وہ امریکہ نواز ثابت ہورہی ہیں اور اس کا اثر ووٹوں پر پڑ سکتا ہے۔
چاہے آپ اس بات سے سرے سے انکاری ہوں کہ بےنظیر کا قتل القاعدہ کے مقامی دہشتگردوں نے کیا ہے۔ تب بھی اس حقیقت سے انکار کرنا بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلینے کے مترادف ہوگا کہ پاکستان کو انتہاپسند دہشت گردوں سے شدید خطرہ لاحق ہے۔ قوم کو چاہے دہشت گردی سے نمٹنے کے مشرف کے طریقہ کار پر اعتراض ہو، لیکن ایک بھیانک خطرہ جو بالکل سامنے کھڑا ہے اسے پہچان لینا چاہئے۔ محترمہ کے مخالفین ان پر امریکہ کا پٹھو اور مشرف نواز ہونے کا الزام لگاتے رہے۔ لیکن اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بھی وہ پاکستان کے اینٹی امریکی ماحول میں بھی سچ کہتی رہیں، یہ سوچنا حماقت ہوگا کہ محترمہ کو پرو امریکہ ہونے کے سیاسی اور انتخابی مضمرات سے آگاہی نہیں تھی یا یہ کہ وہ روایت پسند اردو میڈیا پر کی جانیوالی اپنی کردارکشی سے بے خبر تھیں۔ لیکن ان کے ذہن میں بھی ضرور یہ خیال تھا کہ کیا ہم دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ صرف اس لئے نہ لڑیں کیونکہ یہ امریکہ کے مفاد میں ہے؟ کیا ہزاروں پاکستانیوں کی زندگیوں کو لاحق خطرہ بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو ہماری جنگ نہیں بناتا۔
|
12/28/2007
انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے سانحے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے:
تنظیم کے مطابق ایسی تفتیش کی اہمیت اس لیے بڑھ گئی ہے کہ محترمہ بھٹو نے اپنی ہلاکت سے پہلے کھلے عام حکومت پر الزام لگائے تھے کہ انہیں سیکیورٹی فراہم نہیں کی جارہی۔
اس کے علاوہ تنظیم کے نمائندے کے بقول پاکستان میں آزاد عدلیہ کی غیر موجودگی میں بھی ایسی تحقیقات کا غیر جانب دارانہ ہونا بے حد اہم ہے۔
وزارت داخلہ نے قتل کا ذمہ دار بیت اللہ محسود کو ٹہرایا ہے۔
پیپلز پارٹی نے وزارت داخلہ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اصل مجرموں کو چھپانے کی کوشش ہے۔
|
"اداسی" پرمنهاج الرحمان لکھتے ہیں: کمال پوسٹ ھے نعمان صاحب۔ اس ملک میں فرعونیت کی انتھا ھو چکی ھے۔ ھمارا موسی نا
"اداسی" پرابوشامل لکھتے ہیں: لیں جی آپ کو تیسری مرتبہ ہمارے بلاگ سے بھی ٹیگ کر دیا گیا ہے، اب آپ
"اداسی" پرArif Anjum لکھتے ہیں: آپ کو یہاںپر ٹیگ کردیا گیا ہے۔ پولیس کو مطلع کرنے کی کوشش نہ کیجئے اور
"برمودا مثلث" پرمحمد طفیل لکھتے ہیں: ماشاءاللّہ آپ نے اپنی قومی زبان کی بہت بڑی خدمت کرکے اپنے ہم وطنوں کو بہت اچھی
"میرا نیا کمپیوٹر" پرwaqas khan لکھتے ہیں: GALAXY COMPUTER thats enough ap logo k rates bahot zada hotay hai recently many Nvidia Geforce 8600 512mb
"میرا نیا کمپیوٹر" پرwaqas khan لکھتے ہیں: mere piyary bhaio mere ap sab sya request hai k please galaxy computers say kuch bhe na purchase
"اداسی" پررضوان نور لکھتے ہیں: بات تو غیر متعلق سی ہے مگر پھر بھی کیے دیتے ہیں کہ آپ کو اس ناچیز