انتخابات 2008

موضوع: انتخابات 2008

02/21/2008

پیپلز پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ نے سندھ ہائیکورٹ میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے دو سو پچاس کے انتخابی نتائج کا سرکاری اعلان روکنے اور حلقے میں دوبارہ انتخابات کرانے کی درخواست دائر کی ہے۔

روزنامہ امت میں ڈاکٹر اختیار بیگ کا انٹرویو۔ (شکریہ می)

پیپلز پارٹی نے کراچی کے چار حلقوں میں دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

سوالات

بتاریخ: 19 فروری 2008

  • کیا نواز شریف بے نظیر کے قتل کی اقوام متحدہ سے تحقیقات کی حمایت کریں گے؟
  • کیا زرداری ججوں کی بحالی کے نواز شریف کے مطالبے پر عمل درآمد میں ساتھ دیں گے؟ یا وہ عدلیہ کی بحالی کے بجائے عدلیہ کی آزادی کی گردان جاری رکھیں گے؟
  • صدر پرویز مشرف کا مستقبل میں کیا کردار ہوگا؟
  • کیا صوبہ سندھ میں پیپلزپارٹی ایم کیو ایم کو حکومت سازی میں شامل کرے گی؟
  • دہشت گردی کے خلاف جنگ کا کیا لائحہ عمل طے ہوگا؟

کچھ اور سوالات بھی ہیں۔ یہ بات تو طے ہے کہ مشرف لیگ کے دن ختم ہونے کے بعد بھی آگے بہت مشکل دن ہیں جن سے نکلنے کا راستہ ہمارے سیاستدانوں کو ڈھونڈنا ہوگا۔

نتیجہ: NA-250

بتاریخ: 19 فروری 2008

خوش بخت شجاعت تریپن ہزار ووٹ لے کر ڈاکٹر صاحب کے تینتالیس ہزار ووٹوں‌ پر سبقت لے گئی ہیں۔ وہ بغیر دھاندلی کے بھی جیت جاتیں‌ مگر تب شاید دس ہزار ووٹوں‌کا فرق نہ ہوتا۔ بہر حال خوش بخت کے حامیوں‌ مبارکبار امید ہے وہ ایک اچھی پارلیمینٹیرین ثابت ہونگی اور حلقے کے لوگوں‌ کی آواز بننے کا فرض ادا کریں‌ گی۔

کراچی کے بلاگرز اور متحدہ قومی موومنٹ کی دھاندلیاں

بتاریخ: 19 فروری 2008

میٹرو بلاگنگ کراچی پر جناب امیر حمزہ جعلی ووٹ ڈالنے کے اپنے ایڈونچر کی کہانی بمعہ تصاویر بیان کرتے ہیں۔

عجیب بات یہ ہے کہ کراچی کے بلاگرز جس دھاندلی کی اطلاعات تواتر سے دے رہے ہیں ہمارا میڈیا اس دھاندلی پر قطعا آنکھیں بند کرے بیٹھا رہا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کی دھاندلی کے ذکر پر مبنی پاکستانی بلاگستان کی تحاریر:

نعمان کی ڈائری۔ دھاندلی کے واقعات
کے او۔ میرا ووٹنگ تجربہ
ٹیتھ میسٹرو۔ گلستان جوہر میں دھاندلی
امیر حمزہ
ایمرجنسی ٹائمز ۔ فارس کا کراچی کے دو انتخابی اسٹیشنوں کا دورہ

02/18/2008

خالد عمر بھی اپنا ووٹ ڈالنے گئے لیکن کافی دوڑ دھوپ کے بعد بھی ان کا نام کسی ووٹر فہرست میں نہ نکلا۔ لیکن دھاندلی کے تقریبا وہی واقعات جو ڈاکٹر علوی اور نعمان نے بیان کرے۔ خالد عمر نے بھی دہرائے ہیں۔

02/18/2008

میٹروبلاگ کراچی پر ڈاکٹر علوی نے ہمارے حلقے کے انتخابات کا جائزہ پیش کیا اور قارئین سے ووٹ طلب کیا کہ وہ کسے ووٹ دیں گے۔ حیرت انگیز طور پر ان کے پول بھی میں خوش بخت جیتتی نظر آرہی ہیں۔ (اف خدا یہ اس دنیا کو کیا ہوتا جارہا ہے کم از کم میٹروبلاک کے قارئین سے میں یہ توقع نہیں رکھتا تھا)۔

02/18/2008

جیو پر اپنے حلقے کے نتائج دیکھیں۔

واضح رہے یہ نتائج فی الحال حتمی نہیں کہے جاسکتے۔

دھاندلی کے واقعات

بتاریخ: 18 فروری 2008

میں ووٹ ڈالنے کے لئے دوپہر ڈھائی بجے گھر سے نکلا۔ جب میں اپنے پولنگ اسٹیشن والی سڑک پر پہنچا تو دیکھا کہ وہاں ایم کیو ایم کے علاوہ کسی بھی پارٹی کا پولنگ کیمپ نہیں تھا۔ پولنگ اسٹیشن پہنچا تو وہاں اندر صرف ایم کیو ایم کے پولنگ ایجنٹ موجود تھے۔ بڑی تعداد میں ایم کیو ایم کے حمایتی اور کارکن پولنگ اسٹیشن کے اندر بھی موجود تھے۔ وہاں موجود لوگ زیادہ تر میرے رشتے دار، محلے دار اور کزن تھے۔

ایم کیو ایم کے کارکنان پولنگ بوتھ کے اندر بھی جھانک رہے تھے۔ حتی کہ جب میں اپنے بیلٹ پیپر پر مہر لگارہا تھا تب بھی ایک لڑکا میرے بیلٹ پیپر پر جھانک رہا تھا۔ میں نے اسے منع کیا اور اسے کے جانے پر بیلٹ پیپرز پر مہر لگائی۔

میں کچھ دیر وہاں ان لڑکوں کے ساتھ بیٹھا۔ وہ مجھے مذاق میں ایک اور ووٹ ڈالنے کی آفر کررہے تھے۔ وہاں کچھ لوگ گلابی پرچی لے کر آرہے تھے اور بغیر شناختی کارڈ دکھائے بیلٹ پیپر حاصل کررہے تھے۔ ایک تیس سے کچھ اوپر سال کے شخص نے اپنے ایک مردہ رشتے دار کا شناختی کارڈ دکھا کر ووٹ ڈالا۔ شناختی کارڈ پر بنی تصویر صاف بتارہی تھی کہ وہ ان کی نہیں ہے۔

مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ جب ایم کیو ایم کی جیت یقینی ہی تھی تو دھاندلی کی کیا ضرورت تھی؟

ڈاکٹر علوی گلستان جوہر کراچی سے اپنا ووٹ ڈالنے کا تجربہ بیان کرتے ہوئے وہاں ہونے والی دھاندلی کا پردہ فاش کرتے ہیں

قدیر نے سیاستدانوں سے سخت مایوس ہونے کے باوجود ووٹ ڈالا

شاکر فیصل آباد میں اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کی روداد بیان  کی۔ تصاویر کے ساتھ

اجمل نے اسلام آباد میں اپنا ووٹ ڈالا

شعیب نے کراچی میں ووٹ ڈلا

پولنگ اسٹیشن پر

بتاریخ: 17 فروری 2008

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ووٹرز کی رہنمائی کے لئے یہ ویڈیو جاری کیا ہے:

ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ بمقابلہ ایم کیو ایم

بتاریخ: 17 فروری 2008

افتخار نے اپنے بلاگ پر پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ کی حمایت کی ہے اور قارئین سے انہیں ووٹ دینے کی فرمائش کی ہے۔ جو میرے خیال میں دیگر صوبوں میں رہنے والوں کے لئے ایک بہترین آپشن ہے۔ کیوں کہ ان کی جیت کا امکان ہے اور وہ اچھا مقابلہ کررہے ہیں تو جتنے زیادہ ووٹ انہیں ملیں گے لوٹا لیگ کے اتنے ہی ووٹ کم ہونگے اور آئین و پارلیمنٹ کی بالادستی بحال ہوگی۔ اگر بی بی زندہ ہوتیں تو شاید انتخابی معرکے کی صورتحال یہ نہ ہوتی۔

ہمارے حلقے میں ن لیگ کا امیدوار پیپلزپارٹی کے حق میں دستبردار ہوگیا ہے۔ اور اگر آپ نے میری پچھلی تحاریر پڑھی ہوں تو میں کافی کنفیوز تھا۔ کیوں کہ ڈاکٹر اختیار بیگ اور خوش بخت شجاعت دونوں کافی سلجھے ہوئے امیدوار معلوم ہوتے ہیں۔ مگر میری والدہ کا خیال ہے کہ خوش بخت شجاعت (ایم کیو ایم) شاید ہی کبھی اپنی پارٹی کی پالیسیوں سے اختلاف کریں۔ اور دوئم یہ کہ خوش بخت شجاعت کا معاملات میں کوئی اپنا نقطہ نظر نہیں۔ اس کے برعکس ڈاکٹر صاحب ماہر معیشت ہیں، صنعتکار ہیں، انتخابات سے پہلے وہ اکثر حکومت کو بھی معیشت کی بہتری کے لئے تجاویز دیتے رہے ہیں۔ جس کا مطلب ہے وہ کم از کم معاشی مسائل پر تو نظر رکھتے ہیں۔ میری والدہ کو قوی امید ہے کہ ڈاکٹر صاحب جیت جائیں گے۔ کیونکہ کئی ووٹر شاید ایک خاتون امیدوار کو ووٹ دینا پسند نہ کریں۔جیسے پچھلی سے پچھلی مرتبہ ایم کیو ایم کی نسرین جلیل اسی حلقے سے جماعت اسلامی کے عبدالستار افغانی کے ہاتھوں ہار گئی تھیں۔

میں خواتین کا الیکشن میں حصہ لینا بہت اچھا سمجھتا ہوں۔ مگر میرے خیال میں ڈاکٹر صاحب ہر لحاظ سے ایک بہتر امیدوار ہیں۔ گرچہ خوش بخت میں بھی کوئی قابل ذکر خامیاں نہیں لیکن میں ان کی پارٹی سے کوئی ایسا خاص متاثر نہیں ہوں۔ ان کی پارٹی کے ہی ایک نمائندے عامر لیاقت حسین کو لال مسجد واقعے پر پارٹی نے دیوار سے لگادیا ہے۔ انہیں نہ الیکشن کا ٹکٹ دیا گیا اور نہ ہی وہ انتخابی مہمات میں نظر آتے ہیں۔ تو یہ کہنا بہت آسان ہے کہ محترمہ کی انفرادی صلاحیتیں کبھی منظر عام پر نہ آسکیں گی۔ ان کی پارٹی نے پچھلے تمام عرصے میں وفاق یا صوبے میں کوئی قابل ذکر قانون سازی نہیں کی۔ ان کی جماعت انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف بھی کوئی اچھا منصوبہ پیش نہ کرسکی۔ ان کے حکومت میں ہوتے ہوئے بلوچستان میں آپریشن جاری رہا، وزیرستان سے سینکڑوں خاندانوں کو کراچی آنا پڑا، کراچی میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ جاری رہی، اسٹریٹ کرائمز میں بے حد اضافہ ہوا۔ ان کی پارٹی نے جنرل مشرف کی اندھا دھند حمایت کی۔ حتی کہ ان کی انتخابی مہم کے اہم وعدے کہ صوبہ سندھ کو این ایف سی ایوارڈ سے اس کا جائز حصہ دلایا جائیگا اس پر بھی عمل نہیں ہوا۔ صوبہ سندھ میں تعلیم کا محکمہ زبوں حالی کی بدترین سطح پر پہنچ گیا۔ کسی نئی بڑی یونیورسٹی کا سنگ بنیاد نہیں رکھا گیا۔ اندرون سندھ بیروزگاری میں اضافہ ہوا اور ڈیولپمنٹ جو کراچی اور پنجاب میں ہوئی اس کی آدھی بھی اندرون سندھ میں نہ ہوئی۔ کرپشن ایسے کا ایسا رہا ایک سروے کے مطابق سندھ پاکستان کا دوسرا کرپٹ ترین صوبہ ہے۔ جہاں سب سے زیادہ کرپشن محکمہ تعلیم اور پولیس میں ہے۔ صحت کا شعبہ بھی از حد نچلی سطح پر ہے۔ حیدرآباد سمیت سندھ کے کئی علاقوں میں بچے گیسٹرو سے ہلاک ہوئے۔

ppp_arrow.gifتو پارٹی کی بنیاد پر تو خوش بخت کو ووٹ نہیں دیا جاسکتا اور شخصیت کی بنیاد پر ڈاکٹر صاحب ان سے بہتر نظر آتے ہیں۔ اس لئے کل میں ڈاکٹر بیگ کو ووٹ دونگا۔ اگر آپ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے دو سو پچاس میں رہتے ہیں تو آپ سے درخواست ہے کہ الیکشن کے دن گھر سے نکلیں اور تیر پر نشان لگا کر ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ کو ووٹ دیں۔

دی گریٹ ڈیبیٹ

بتاریخ: 15 فروری 2008

آج شام جیو ٹی وی پر الیکشن کے سلسلے کا پروگرام گریٹ ڈیبیٹ کچھ دیر دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس پروگرام میں پاکستان کی چھ بڑی سیاسی جماعتوں کے نمائندے مختلف امور پر اپنی پارٹی کا موقف بیان کرتے ہیں۔ اس سے پہلے میں اس سلسلے کا ایک اور پروگرام دیکھ چکا ہوں جو کہ پولیس کے محکمے کی بہتری کے بارے میں تھا۔ آج پانی پر بات ہورہی تھی۔ یہ پروگرام دیکھ کر مجھے خاصی مایوسی ہوئی۔ تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندے درحقیقت مسائل کا بالکل ادراک نہیں رکھتے تھے۔ نہ ہی ان میں سے کسی کے پاس کوئی اطمینان بخش حل موجود تھے۔ ان میں سے اکثر نامعلوم وجوہات کی بنا پر اپنے جوابات میں انگریزی الفاظ زبردستی ٹھونسنے کی کوشش کرکے معزز بننے کی کوشش کررہے تھے۔ باقی نمائندگان تو پھر بھی کچھ فائلیں، کاغذات اور اپنی پارٹی کا منشور سامنے رکھے بیٹھے تھے جسے وہ وقتا فوقتا الٹ پلٹ کر دیکھتے رہتے۔ مگر ایم ایم اے کے مولوی صاحب تو غالبا سب کچھ حفظ کرکے آئے تھے۔ جیسے وہ کسی دینی مجلس میں فی البدیہہ خطبہ دے لیتے ہیں۔ سوچ رہے ہونگے یہ بھی اس قسم کی ہی کوئی مجلس ہے۔ ان سب کو ایک ساتھ بیٹھے دیکھ کر آپ کو ایسا لگتا ہے کہ جیسے دسویں جماعت کے بچے اے یو خان کی شرح میں سے انگریزی کا مضمون سنارہے ہوں۔ یعنی ایک ہی مضمون میرا اسکول، ایک اسکول فنکشن، کرکٹ میچ، بابائے قوم، ایک یادگار دن، وغیرہ سب کے لئے فٹ۔ مثال کے طور پر اگر ان سے پوچھا جائے کہ پینے کے صاف پانی کے بارے میں آپ کا کیا موقف ہے اور آپ اپنے پروگرام پر کیسے عمل پیرا ہونگے تو ان کے جوابات کچھ اس طرح کے ہوتے ہیں:

جی پینے کے پانی کے بارے میں ہماری جماعت کی پالیسی بالکل واضح ہے کہ پینے کا صاف پانی ہر پاکستانی کا بنیادی حق ہے۔ ہمارے ملک میں ہر سال سینکڑوں لوگ پانی سے پیدا ہونے والی انفیکشنز سے متاثر ہوکر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ملک میں ہیپاٹائٹس کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ہماری پارٹی کے پاس پانی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے جامع پلان ہے۔ جس میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ۔۔۔ (اس موقع پر وہ اپنے سامنے رکھے کاغذ دیکھیں گے) ہم پاکستان کے ہر علاقے شہروں اور دیہات میں فلٹریشن پلانٹ لگائیں گے۔ صنعتی فضلے کو صحیح طرح ٹھکانے لگانے کے سلسلے میں ٹاسک فورس بنائیں گے۔ ہم ایک کمیٹی بنائیں گے جو یہ تلاش کرے گی کہ پینے کا پانی کس طرح صاف کیا جائے۔

اگر نمائندہ ایم کیو ایم یا پی ایم ایل کیو کا ہو تو:

ہم نے پچھلے پانچ سال میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا بھرپور بندوبست کرنے کی کوشش کی ہے۔ (ایم کیو ایم کا نمائندہ ہو تو) کراچی میں، (ق لیگ کا ہو تو)، پنجاب میں ہم نے سینکڑوں فلٹریشن پلانٹ لگائے ہیں۔

اگر اپوزیشن جماعتوں کا ہو تو:

پچھلے دس سالوں میں اس صورتحال پر کچھ کام نہیں ہوا جس سے عوام کے مصائب میں اضافہ ہوا۔

اور اگر ایم ایم اے کا ہو جو کہ نہ تین میں ہیں نہ تیرہ میں تو:

الحمداللہ صوبہ سرحد میں ہم نے پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے اور پاکستان کے دیگر صوبوں کی نسبت سرحد میں اس قسم کی صورتحال نہیں (اچھا تو سرحد کی چھوٹی سی خانہ جنگی کے بارے میں کیا خیال ہے؟) ہم اقتدار میں آکر کوشش کریں گے کہ پورے پاکستان میں شہریوں کو پینے کا صاف پانی میسر ہو۔

انہی خطوط پر آپ ان کے اگلے اور پچھلے تمام پروگرامز میں ہونے والی گفتگو کا اندازہ کرسکتے ہیں۔ جس میں ایسے کھوکھلے دعوے ہیں کہ جن پر ان نمائندوں نے کبھی خواب میں بھی غور نہ کیا ہوگا۔ گرچہ اس طرح کے پروگرام ایک نئی اور اچھی روایت ہیں۔ مگر افسوس ہمارا سیاستدان آج بھی بے حد دقیانوسی، کم علم اور ذہنی پسماندگی کا شکار ہیں۔

میزبان: اچھا عدلیہ کی آزادی کے بارے میں آپ کی پارٹی کا کیا نقطہ نظر ہوگا:

نمائندگان: عدلیہ کی آزادی کے بارے میں ہماری پارٹی کا موقف بہت واضح ہے۔ ہم عدلیہ کی مکمل آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم ایک ٹاسک فورس بنائیں گے اور آئنی ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دیں گے۔ جو اس بات کا جائزہ لے گی کہ عدالتوں میں انصاف کی فراہمی کو کس طرح بہتر بنایا جائے۔

میزبان: بے روزگاری دور کرنے کے بارے میں آپ کے پاس کیا حکمت عملی ہے؟

نمائندگان: بےروزگاری کے بارے میں ہماری پارٹی کا موقف بہت واضح ہے۔ ہم ہر پاکستانی کو روزگار دینے پر یقین رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم ایک ٹاسک فورس بنائیں گے اور ایک کمیٹی تشکیل دیں گے۔ جو اس بات کا جائزہ لے گی کہ اتنے مصائب کے باوجود ان بے وقوف بیروزگاروں نے ابھی تک خودکشی کیوں نہیں کی۔

ایم ایم اے کا نمائندہ: صوبہ سرحد میں ہم نے بیروزگاری کا خاتمہ کردیا ہے۔ اب ہر بیروزگار طالبان کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ میں شریک ہوسکتا ہے۔

ایم کیو ایم: کراچی اور حیدرآباد میں تو بیروزگاری ہے ہی نہیں۔ اگر ہے تو کراچی میں موبائل اسنیچنگ کے بھرپور انتظام ہے جہاں نوجوان اپنی صلاحیتوں اور قابلیت کا بھرپور فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ اگر وہ یہ نہیں کرسکتے تو تنظیم میں شامل ہوجائیں۔ جہاں جھنڈے لگانے والوں اور دیواروں پر گالیاں لکھنے والوں کی ہر وقت ضرورت رہتی ہے۔

پی ایم ایل ق: ہم سب بیروزگاروں کو وظیفہ دیں گے۔

پی ایم ایل این: ہم پیلی ٹیکسیاں نکالیں گے۔

پی پی پی: محترمہ آئیں گی تو روزگار لائیں گی۔

میزبان: لیکن محترمہ تو۔۔۔

پی پی پی نمائندہ: وہی تو اب آپ کو بلاول کا انتظار کرنا ہوگا۔

ایک دم بکواس اور بورنگ۔ واقعی پاکستان کی عوام کے پاس آپشن ہی کیا ہے۔ خچر نہ سہی تو گدھا، گدھا نہ ملے تو سائیکل یا پھر بھس بھرا شیر۔ لیکن پھر بھی اٹھارہ فروری کو ووٹ دینے ضرور نکلئے گا۔ چاہے آپ کسی کو بھی ووٹ دیں۔ مگر اپنا ووٹ ضائع نہ جانے دیں۔

دہشت، انتہاپسندی اور ویلنٹائن ڈے

بتاریخ: 14 فروری 2008

دنیا بھر میں ویلنٹائن ڈے منایا جارہا ہے۔ کراچی میں پھولوں، تحائف اور ویلنٹائن کارڈز کی فروخت زوروں پر ہے۔ خود راقم نے۔ آہم آہم۔۔۔

تاہم چند ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں محبت کرنے والے لوگ بالکل پسند نہیں۔ وہ آدمی اور عورت، لڑکا اور لڑکی کے درمیان محبت کے اظہار کو مغربی تہذیبی یلغار سمجھتے ہیں۔ ان لوگوں کے عزائم انتہائی جارحانہ ہیں۔ اور نعمان وقتا فوقتا اپنے بلاگ کے قارئین کی توجہ ان کی طرف مبذول کراتا رہتا ہے تاکہ لوگ ان عناصر سے چوکنے رہیں۔

چوکنے رہنے پر یاد آیا کوئی دو روز قبل ٹیلیویژن پر نیوز چینلز نے یہ سلائیڈ چلائی کہ دو مشتبہ خود کش بمبار جن کا تعلق وزیرستان سے ہے وہ کراچی پہنچ چکے ہیں۔ شہر بھر میں سیکیوریٹی انتہائی سخت کردی گئی۔ افواہیں یہ اڑنے لگیں کہ ان میں ایک بمبار ساٹھ سال کی عمر کا قبائلی بوڑھا جس نے براؤن جیکٹ پہن رکھی تھی اور اسے چادر سے چھپا رکھا تھا۔ اس نے ایک کار سوار سے لفٹ لی۔ پھر کار سوار کو اپنی خودکش جیکٹ دکھائی اور اس سے گورنر ہاؤس والی سڑک پر چلنے کو کہا۔ کار سوار اپنی جان خطرے میں ڈال کر اسے سارے شہر میں گھماتا رہا۔ تنگ آکر اس بوڑھے نے خود ہی کار سے اترنے کا فیصلہ کرلیا۔ کار سوار فورا سی پی ایل سی گورنر ہاؤس پہنچا اور اس نے مشتبہ بمبار کا خاکہ بنوایا۔

اپڈیٹ: یہ افواہ نہیں بلکہ سچی خبر نکلی

اس افواہ میں کئی جھول ہیں مسئلا یہ کہ کراچی شہر میں کوئی کسی اجنبی کو رات کے وقت لفٹ کیوں دے گا۔ دوسری بات خودکش بمبار گاڑی چھیننے کے بجائے لفٹ لینا کیوں پسند کرے گا؟ لیکن بہر حال اس سے شہر بھر میں سیاسی کارکن ڈرے رہے اور وہ ایسے تمام پختونوں کو مشکوک نظروں سے دیکھتے رہے جنہوں نے جیکٹ پہن رکھی ہو یا چادر لپیٹ رکھی ہو۔