مناہل اور فرزین

موضوع: مناہل اور فرزین

دنیا کی سب سے کیوٹ سب سے پیاری سب سے ذہین اور معصوم بچیاں۔ میری ننھی پریاں

مناہل کی چالاک دوست

بتاریخ: 21 جنوری 2008

کل ہماری ایک رشتے دار جو کہ میری بہن عینی کی دوست بھی ہیں، اپنے بچوں کے ہمراہ ہمارے گھر آئیں۔ ان کی چھوٹی بیٹی عمائمہ میری بھانجی مناہل کے ساتھ کی ہے اور اس کی دوست بھی۔ لیکن یہ بچی (ماشاءاللہ) ہماری مناہل کے مقابلے میں بہت چالاک ہے۔ اس نے آتے ہی مناہل کو بتایا کہ کل میری برتھ ڈے ہے۔ پھر مناہل سے کہا کہ تم مجھے میری برتھ ڈے پر کوئی گفٹ نہیں دو گی۔ اور پھر تحفے کے نام پر مناہل کے شارپنر، کلرپنسلز، کلرنگ بکس جو مناہل کے پاس درجنوں کے حساب سے ہیں، کتابیں، اسنیکس اور ٹافیاں وغیرہ اپنے بیگ میں بھر لیں۔ مناہل سے چھوٹی والی میری بھانجی فرزین اتنی بھولی نہیں۔ وہ ابھی صرف سال بھر کی ہے لیکن جب اس نے دیکھا کہ ایک لڑکی ان کی چیزیں اٹھا اٹھا کر اپنے بیگ میں ڈال رہی ہے تو اس نے رونا شروع کردیا اور اس لڑکی سے وہ بیگ چھیننے کی کوشش کرنے لگی۔ تب بڑوںکی توجہ اس طرف مبذول ہوئی تو عینی نے دیکھا کہ اس کی بیٹی کا کافی سارا سامان عمیمہ کے بیگ میں بھرا ہے۔ عمائمہ کی امی بڑی کھسیانی ہوئیں اور وہ سامان نکال کر دینے لگیں۔ پھر عینی نے کچھ چیزیں جو نئی الگ سے الماری میں رکھی تھیں وہ عمائمہ کو دیں۔

اس کے بعد مناہل عمائمہ کو اپنا پلاسٹک کا ڈاکٹری سامان دکھانے لگی۔ دونوں نے ایک کونے میں چھوٹا سے کلینک سجایا۔ مناہل بیچاری کو تو یہی پتہ تھا کہ ڈاکٹر صرف آآآ کروا کر گلا دیکھتے ہیں، اسٹیتھواسکوپ لگاتے ہیں، تھرمامیٹر لگاتے ہیں اور ایک کاغذ پر دوا لکھتے ہیں۔ لیکن عمائمہ نے اسے بتایا کہ ڈاکٹر آپریشن بھی کرتے ہیں۔ پھر اس نے مناہل کو کارپٹ پر لٹایا اور اس کے پیٹ پر مارکر سے سرکل بنایا۔ اور پتہ نہیں کسطرح باقی آپریشن انجام دیا۔ جب سونے سے پہلے عینی مناہل کے کپڑے بدلنے لگی تو اس نے وہ نشان دیکھا۔ اور فکر مند ہوگئی، اسے لگتا ہے کہ اس کی بیٹی بہت ہی بھولی ہے اور عمائمہ بہت ہی چالاک اس نے مناہل کو بتایا کہ اس طرح کسی کو اپنی سب چیزیں نہیں دے دیتے اور یہ کہ بچوں کو بچوں والے کھیل کھیلنے چاہئے۔ آج مناہل مجھ سے کہنے لگی ماموں آپ بھولے ہیں یا چالاک؟

عید کی خریداریاں

بتاریخ: 08 اکتوبر 2007

میرے ایک نئے دوست جناب راشد صاحب کی بدولت مجھے عید سے چند دن پہلے شہر بھر کی مارکیٹوں میں گھومنے کا موقع ملا۔ دراصل راشد صاحب عروسی ملبوسات کی ایک معروف بوتیک میں ملازم ہیں۔ عید کے فورا بعد ہونے والی شادیوں کی وجہ سے ان پاس بے تحاشہ آرڈر ہیں۔ راشد صاحب ایک اچھے سیلز مین کی طرح اپنے گاہگوں کی ضروریات اور مفادات کا بے حد خیال رکھتے ہیں۔ اسلئے انہیں ڈر ہے کہ عید کے اضافی کام کی وجہ سے ان کے کارخاندار اور کاریگر کہیں ان کے کام آگے نہ کردیں اسلئے وہ خود ہر جگہ پیش پیش رہ کر کام نمٹا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ مجھے اپنے ساتھ طارق روڈ، بہادرآباد اور کریم آباد کے مینا بازار لے گئے۔

میں قطعا ان لڑکوں میں سے نہیں ہوں جو عید سے پہلے بازاروں میں گھومتے ہیں۔ بلکہ مجھے تو بھیڑ والی جگہوں پر متلی اور چکر کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ گرمی اور پسینہ تو مجھ سے بالکل برداشت نہیں ہوتا اور گاڑیوں کا دھواں میری جلد اور بالوں کی صحت کے لئے سخت نقصان دہ ہے۔ لیکن ڈالمین سے اپنے لئے کچھ کپڑے خریدنا تھے اور جوتے پہننا تھے تو راشد کے ساتھ ہولیا۔ ویسے تو ہمارے گھر میں سب عید کی تیاری کافی پہلے سے کررکھتے ہیں۔ میری امی نے ہم تینوں بھائیوں کے لئے ایک جیسے لیکن مختلف رنگوں کے کاٹن کے کرتے سلو ارکھے ہیں۔ میں شلوار قمیض، کرتا پاجامہ کم ہی پہنتا ہوں بس عید ایسے مواقع پر۔ حالانکہ کرتا پاجامہ مجھ پر خوب جچتے ہیں۔ میرے دونوں بھائیوں کو یہ شکوہ رہتا ہے کہ امی سب سے اچھے کپڑے میرے لئے سلوادیتی ہیں۔ عازب کے روز طارق روڈ کے چکر لگ رہے ہیں، وہ اور اس کے دوست کسی بھی ایک دوست کی گاڑی میں بھر کر ہر روز طارق روڈ پہنچ جاتے ہیں اور جان بوجھ کر پوری خریداری نہیں کرتے تاکہ اگلے روز آنے کا بہانہ رہے۔ کامران بھی چاند رات کو ہی جوتے خریدنے جائے گا۔ حالانکہ اصل عید تو اس کی ہے کیونکہ ایک تو اس کے روزے بھی پورے جاتے ہیں بلکہ پورے رمضان وہ کوئی نماز نہیں چھوڑتا۔ دو چار قرآن ختم کرتا ہے اور پورے اہتمام سے روزے رکھتا ہے۔

رمضان بھر کی تیاری کے باوجود بھی آخر وقت تک کچھ نہ کچھ یاد آتا ہی رہتا ہے۔ میری والدہ کل شام کو پارلر گئیں تو تقریبا بارہ بجے رات کو لوٹیں۔ کل راشد کے ساتھ میں پہلے اپنے بال کٹوانے، اسٹریکنگ کروانے اور فیشل مساج وغیرہ کے لئے گیا۔ ہم شام کو ساڑھے سات بجے ویلا بہادرآباد میں داخل ہوئے تو رات ساڑھے گیارہ بجے وہاں سے نکلے ہیں۔ ہم سمجھ رہے تھے کہ ہم ہی ہوشیار ہیں جو چاند رات سے پہلے ہی سب کام کرلیں گے۔ وہاں پہنچ کر پتہ لگا کہ اس شہر میں سبھی ڈیڑھ ہوشیار ہیں۔ (کراچی کی زبان میں ڈیڑھ ہوشیار اوور اسمارٹ ہونے کو کہا جاتا ہے)۔

شہر بھر کے بازاروں میں اسقدر رش ہے کہ کہیں تل دھرنے کو جگہ نہیں۔ خواتین، بچوں اور ان خواتین اور بچوں کے ساتھ ان کے شوہر اور والد۔ اور نوجوان لڑکے لڑکیاں، ٹولوں اور غولوں کی شکل میں ہر جگہ بھرے پڑے ہیں۔ سمجھ نہیں آتا اگر اسقدر مہنگائی ہے تو یہ لوگ خریداری کیسے کررہے ہیں۔ بقول راشد سب کریڈٹ کارڈ کا کرشمہ ہے۔ ہر جگہ پارکنگ کی اتنی پریشانی ہے کہ اگر آپ کو طارق روڈ پر خریداری کرنی ہے تو پی سی ایچ ایس کی اندورنی گلیوں یا پھر بہادرآباد کر پرلے سرے گاڑی کھڑی کرکے آئیں۔ آئسکریم، بن کباب، رول، تکہ کباب وغیرہ کھانے کے لئے تو کہیں رکئے گا بھی نہیں۔ دکاندار بھی نک چڑھے ہوگئے ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے مچھلی بازار ہو۔

چھوٹے بچوں کی دکانوں پر خصوصا زیادہ بھیڑ ہے۔ ایک دکاندار نے جو راشد کے دوست ہیں بتایا کہ انہوں نے اتنی زبردست سیل پچھلے پانچ سال میں نہیں کی۔ ان کی دکان پر بچوں کے کپڑے، جوتے، گھڑیاں، چشمے اور جرابیں سب دستیاب ہیں اور ان کے پاس ابھی سے اسٹاک ختم ہونے لگا ہے اور وہ پرانی ورائٹی آگے سے مہنگے داموں اٹھا کر کام چلا رہے ہیں۔

چھوٹی چھوٹی بچیاں اپنی امی سے ضد کرکے اپنے لئے جیولری اور مرمیڈ ڈریسز خرید رہی ہیں۔ چھوٹی چھوٹی ننھی پریاں سب فکرات سے بے نیاز بے حد ایکسائٹڈ ہیں کہ عید آئے گی تو وہ اپنے نئے کپڑے پہنیں گی، مہندی لگائیں گی اور چوڑیاں پہن کر سب سے عیدی وصول کریں گی۔ چھوٹے لڑکے بھی اپنے ابو جیسے والٹ خریدرہے ہیں۔ ان ننھے والٹس میں وہ اپنی عیدی جمع کریں گے۔ کرتا کارنر والوں نے چھوٹے بچوں کے لئے خصوصا کاٹن کے ننھے کرتے تیار کرے ہیں جن کے ساتھ چوڑی دار اور ہندوستانی پاجامے ہیں۔ ناگرہ یا سلیم شاہی جوتیوں کے ساتھ، یہ کرتے خوب کھلیں گے۔ دوسری طرف چھوٹی بچیاں بھی رنگ برنگی پوشاکیں زیب تن کرے، چھوٹی چھوٹی دوپٹیاں گلے میں ڈالے، گالوں پر گول گول لالی کے ٹپے اور ہونٹوں پر سرخی لگائے شہزادیاں بن جائیں گی۔ روز عید جب یہ ننھے شہزادے شہزادیاں اپنے بڑوں کو عید مبارک کہیں گے تو وہ اتنے نہال ہونگے کہ بھول جائینگے کہ کتنے دھکے کھا کر اور کیسے جتن کرکے عید کی تیاری کی گئی تھی۔

بہادر فرزین

بتاریخ: 04 ستمبر 2007

میری بھانجی فرزین ابھی آٹھ ماہ کی ہے۔ اور ہم سب گھر والے اسے دیکھ دیکھ کر بہت حیران بھی ہوتے ہیں اور خوش بھی۔ جیسے جب وہ گھٹنوں کے بل چلنے کی کوشش کررہی تھی۔ وہ بار بار کوشش کرتی، کئی بار گرتی، کبھی ناک پھوڑتی تو کبھی سر۔ مگر ہر تکلیف سے بے پرواہ آگے بڑھنے کی جستجو کم نہ ہوتی۔ اور بالآخر وہ گھٹنوں چلنے میں کامیاب ہوگئی۔ اب وہ یہ چاہتی ہے کہ بس ہر وقت چلتی رہے۔ پہلے جو سب چیزیں اس کی دسترس سے دور ہوتی تھیں وہ ان سب کو چھو لینا چاہتی ہے۔ کوئی بھی نئی چیز دکھائی دے تو لپک کر اسے پکڑنے کی کوشش کرتی ہے۔ پیپسی اس کا سب سے پسندیدہ مشروب ہے۔ اس کے سامنے پیپسی کی بوتل لاکر رکھ دیں اور پھر اس کی بے تابی اور اشتیاق کا نظارہ کریں۔ اتوار کے روز ایسے ہی ایک پیپسی کی بوتل تک پہنچنے کے چکر میں وہ میری گود سے پھسل گئی اور اس کا ہاتھ اسی کے جسم تلے دب گیا۔ ایک دم سے کرچ کر کے ہڈی چٹخنے کی آواز آئی۔ ہم سب بہت ڈر گئے مگر فرزین پانچ منٹ ہی میں اپنا درد بھول کر سوگئی۔ رات گئے جب وہ سوکر اٹھی تو رونا شروع کردیا۔ کوئی اس کے ہاتھ کو ذرا سا چھوتا تو رونا شروع کردیتی۔ ہم اسے فورا ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔ ایکسرے کرایا تو ڈاکٹر نے بتایا کہ تشویش کی کوئی بات نہیں چھوٹے بچوں کی ہڈیاں بہت نرم ہوتی ہیں اور آسانی سے نہیں ٹوٹتیں۔

اب وہ ماشاءاللہ اپنے گھر میں ہے اور اس کی امی نے بتایا خوب چل پھر رہی ہے۔ بلکہ اگلے ہی دن اس کا ہاتھ ٹھیک ہوگیا تھا۔ بچے کتنے بہادر ہوتے ہیں۔ اگر ایسا کسی بڑے کے ساتھ ہوا ہوتا تو وہ ہفتے بھر تک تو اپنی چوٹ سہلاتا اور کئی دن تک اس ہاتھ کے استعمال میں محتاط رہتا۔

مجھے لگتا ہے کہ ہم جیسے جیسے بڑے ہوتے جاتے ہیں ویسے ویسے ڈرپوک ہوجاتے ہیں، کم ہمت ہوجاتے ہیں اور جلد حوصلہ ہارنے لگتے ہیں۔ اسی لئیے بڑا ہونے پر ہماری نئی چیزیں سیکھنے کی صلاحیت زنگ آلود ہوجاتی ہے۔ چھوٹے بچے اتنی ساری چیزیں اتنی جلدی شاید اس لئے سیکھ لیتے ہیں کہ وہ بہادر ہوتے ہیں، تجربہ کرنے سے نہیں ڈرتے اور مستقل جدوجہد کرتے رہتے ہیں۔

بچوں کے لئے اردو آڈیو کہانیاں

بتاریخ: 14 مئی 2007

سلام بازار کے عمیر نے تو کمال کردیا ہے۔ پیش خدمت ہے پیارے بچوں کے لئے قصہ کہانی وہ بھی آڈیو پوڈ کاسٹ کی شکل میں۔ اس سلسلے کی پہلی کہانی اچھی چڑیا۔ میں ابھی یہ سن نہیں سکا ہوں مگر شام کو مناہل کے ساتھ سنوں گا۔ لیکن یہ لنک فورا شئیر کرنا بہت ضروری تھا۔

عمیر نے ایک بار پھر کمال کردیا۔ واضح رہے کہ عمیر کو پہلا اردو بلاگر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

تازہ: مناہل اور میں نے ابھی ابھی یہ آڈیو فائل سنی۔ میری غلطی کہ میں سمجھا اس میں علی بابا کی کہانی ہے مگر اس میں اچھی چڑیا کی منظوم کہانی تھی۔ جو مناہل کو بہت اچھی لگی۔ عمیر کی آواز بھی اچھی ہے اور کہانی سنانے کا انداز بھی۔ ابھی وہ علی بابا کی کہانی کا ترجمہ کررہے ہیں۔ امید ہے جلد ہی وہ بھی دستیاب ہوگی۔

Minahil in Fairytopia

بتاریخ: 12 جولائی 2006

مناہل پرستان میں

مناہل پرستان میں

تازہ ترین

بتاریخ: 17 مارچ 2006

عبداللہ کے گاؤں کا احوال۔

بتاریخ: 09 فروری 2006

میری بہن نورالعین آج دوپہر میں کسی وقت پاک پتن اور لاہور کے دورے کے بعد وطن واپس پہنچیں گی۔ نورالعین کی ساس پاک پتن والے بزرگ کو بہت مانتی ہیں اور انہوں نے وہاں کچھ ایسی منت مانگ رکھی تھی کہ وہ اپنی بہو کو وہاں کسی سال ضرور لے جائیں گی۔ میری بہن اور بہنوئی ان چیزوں کو نہیں مانتے۔ جس دن انہیں پاک پتن روانہ ہونا تھا اسی دن اعجاز بھائی (میرے بہنوئی) کو بھی پنجاب بھینسیں خریدنے جانا تھا۔ مناہل کو وہ لوگ ہمارے پاس چھوڑ گئے ایک دو دن تو پریشانی ہوئی کیونکہ ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ مناہل کہ امی ابو دونوں اسے چھوڑ کر جارہے تھے۔ لیکن مناہل بہت جلد ہی بہل گئی بس دن میں ایک دو بار اسے اچانک امی ابو کی یاد آنے لگتی تو ہم اس کی ممی کو فون کروادیتے۔

پاک پتن سے نورالعین اور ان کے سسرال والے لاہور چلے گئے اور پنجاب سے اعجاز بھائی بھی ان کے پاس لاہور ہی پہنچ گئے اور اطلاعات یہ ہیں کہ ان تین دنوں میں انہوں نے لاہور میں سوائے خریداری کے کچھ نہیں کیا۔ نہ شالامار باغ دیکھا، نہ قلعہ، بس دور سے بادشاہی مسجد دیکھی۔ حالانکہ لاہور میں شاپنگ کی ایسی کیا چیز ہے جو کراچی میں نہیں تھوڑا سا پیسوں کا انیس بیس کا پھیر ہوتا لیکن خواتین کو تو بس ایک یہ ہی تفریح نظر آتی ہے۔ اور پھر عینی کی ساس تو خریداری کے حوالے سے مشہور ہیں۔ مناہل کے لئیے انہوں نے کلرنگ پنسلز، کتابیں، اسٹیشنری اور دیگر ایسا سامان لیا ہے۔ مناہل کو رنگوں اور فطری مناطر میں بہت دلچسپی ہے اسکے علاوہ ڈرائنگ کا بھی اسے بہت شوق ہے۔ ماشاءاللہ اس میں ابھی سے کافی فنکارانہ رجحان دکھائی دیتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اسے ابھی پنسل بھی پکڑنا نہیں آتی تاہم اس کے شاہکار کسی بھی اچھی آرٹ گیلری میں تجریدیت کے نام پر فروخت کئیے جاسکتے ہیں۔ خصوصا اس کے بنائے ہوئے ہاتھی جو عموما گلابی یا نیلے رنگ کے ہوتے ہیں یا پھر اس کی بنائی ہوئی چڑیا جو عموما تین چار گول اشکال پر مشتمل ہوتی ہے اور سرخ رنگ کی ہوتی ہے۔ ویسے مجھے تجریدی آرٹ کا کچھ پتہ نہیں ہے بس سن رکھا ہے کہ اس میں اشکال نظر نہیں آتیں آرٹسٹ بس بتادیتا ہے کہ یہ گھر ہے، یا پہاڑ ہے یا کوئی برتن ہے اور آپ کو یقین کرنا پڑتا ہے۔ مناہل کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے وہ ڈرائنگ کرکے ہمیں بتادیتی ہے کہ یہ ہاتھی ہے یا ڈاگی ہے اور ہمیں یقین کرنا پڑتا ہے۔

کل رات میں مناہل کو تعزئیے دکھانے لے گیا۔ مناہل کی جو بات مجھے سب سے اچھی لگتی ہے وہ یہ ہے کہ اسے ایسے کسی کھلونے میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی جس سے تشدد کا اظہار ہوتا ہو۔ محرم کی نو تاریخ میں پرانے شہر کے علاقوں میں جہاں تعزئیے لگتے ہیں وہاں ماننے اور نہ ماننے والوں کے ہجوم لگ جاتے ہیں۔ ساتھ ہی کچھ خانہ بدوش گروہ اس موقع پر سندھ سے بطور خاص آتے ہیں یہ لوگ سڑکوں پر چادریں بچھا کر رنگ برنگی تلواریں، نقشین تیر کمان، کلہاڑے وغیرہ بیچتے ہیں۔ میں سوچ رہا تھا کہ مناہل ان میں سے کچھ مانگے گی کیونکہ یہ چیزیں بہت کلرفل ہوتی ہیں اور مناہل کو رنگوں سے بہت دلچسپی ہے۔ لیکن مناہل نے ان کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا۔ اس کے بجائے مناہل نے ربڑ کا ایک چھوٹا سا چوہا خریدا ہے، ایک کاغذ کی گلابی اور پیلے رنگ کی ٹوپی، ایک بال پین جس کی نوک دبانے سے اس میں ایک بلب جلتا ہے اور چھوٹی سی ڈھولکی۔ بعد میں ہم نے مناہل کے لئیے چکن تکہ لیا اور گھر آگئے۔

پکنک ان ہسپتال

بتاریخ: 14 نومبر 2005

عید پر اعجاز بھائی کو بخار ہورہا تھا۔ جو کسی طرح اترنے کا نام نہ لے رہا تھا۔ تیسری عید کو ان کے گھر والے انہیں ہمدرد یونیورسٹی ہسپتال لے گئے۔ وہاں جا کر وائرل انفیکشن تشخیص ہوا اور انہوں نے ایک کمرا اعجاز بھائی کو الاٹ کردیا۔ نورالعین مناہل کو ہمارے گھر چھوڑ کر خود سارا دن ہسپتال میں رہتی۔ تین دن بعد ہسپتال والوں نے انہیں چھوڑ دیا۔ اب ماشاءاللہ وہ خیریت سے ہیں۔

ہمارے یہاں لوگوں کو اتنا شوق عیادت کا نہیں ہوتا جتنا ہسپتال جانے کا ہوتا ہے۔ ادھر سنا کہ فلاں شخص ہسپتال میں ہے ادھر اس کی عیادت کو دوڑے۔ وہی شخص جب گھر میں ہوتا ہے تو کوئی اس کی عیادت کو نہیں آتا۔ اعجاز بھائی کو بھی تین دن تیماردار اور عیادت دار گھیرے رہے۔ وہیں بیٹھے بیٹھے اعجاز بھائی کے سرہانے رکھے سارے پھل کھاجاتے، خوب کولڈ ڈرنکس اور چائے پیتے، ادھر ادھر کی برائیاں کرتے، بیماریوں پر اپنی اپنی تحقیقاتی روپورٹس شیئر کی جاتیں۔ مریض کو ایسے سب قصے سنائے جاتے جہاں ایک آدمی معمولی بخار کے وائرس سے پاگل ہوگیا یا عازم سفر اخیر ہوا۔ اگر مریض ڈرنے سے انکار کردیتا تو اسے یہ بتایا جاتا کہ یہ بخار کسی موذی بیماری کا پیش خیمہ بھی ہوسکتا ہے۔ بوڑھی خواتین منہ ہی منہ کچھ بدبدا کر پھونکیں مارتیں۔ مرد حضرات مریض کے سرہانے بیٹھ کر اپنے کاروبار کے اسرار و رموز ایکدوسرے کو بتاتے۔ کبھی پالیٹیکس پر بات ہوتی کبھی زلزلے پر۔

اعجاز بھائی کے پاس رات کو ان کی والدہ یا رشتے کی نانی رکتیں مردوں میں ان کا ایک کزن رکتا جو ہسپتالوں میں بطور تیمار دار رہنے کے حوالے سے خاصا تجربہ کار ہے۔ اور یہ سب اٹینڈینٹس ساری رات گھوڑے ہی نہیں، گدھے، گائے بھینسیں، بکری، دنبے، کتے، بلیاں اور کوے بیچ کر سوتے اور صبح دس بجے تک کروٹ بھی نہ لیتے۔

مناہل بڑی بہادر بچی ہے۔ تین دن تک اس نے ایک بار بھی اپنے پاپا کے پاس جانے کی ضد نہ کی اور جب پاپا نے ہسپتال سے فون کیا تو بولی۔ “پاپا آپ مجھے بہت یاد آرہے ہیں مجھے نانی کے ہاں سے لے جائیں”۔ اس سارے عرصے میں اس نے ہمارے گھر میں کسی کو تنگ نہ کیا، نہ روئی نہ ضد کی۔ ورنہ جب وہ اپنی امی کے ساتھ ہوتی ہے تو اتنا شور مچاتی ہے اور بہت ضد کرتی ہے۔ جب اس کے پاپا گھر آگئے تو وہ گھر جاکر اجنبی سی بنی رہی۔ اس کے پاپا نے اسے پاس بلایا تو پھر شرماتی شرماتی ان کے پاس چلی گئی اور بڑے جذباتی انداز میں بولی پاپا میں تو آپ سے اتنا پیار کرتی ہوں اور آپ مجھے نانی کے ہاں چھوڑ کر چلے گئے۔

آج ایک گانا پیش خدمت ہے۔ میں رقص بھی پیش کردیتا مگر اس ڈر کے مارے یہ جسارت نہیں کر رہا کہ کہیں میرا رقص دیکھ کر آپ لوگوں کو ہمدرد یونیورسٹی ہسپتال کے شعبہ امراض خلل دماغ میں مشورے کے لئیے نہ جانا پڑجائے۔ اور اتنے پیسے تو آپ کے علاج میں خرچ نہیں ہونگے جتنے پیسوں کی آپ کے رشتہ دار چائے پی جائیں گے۔ دیکھا مجھے آپ لوگوں کی بچت کرانے کا کتنا خیال رہتا ہے۔ تو یہ رہا گانا، اور اس گانے کے ساتھ اردو بلاگرز سے ایک عرض کرنی ہے کیوں نہ ہم لوگ بلاگز کے ذریعے انتاکشری کھیلیں؟ بس شرط یہ ہوگی کہ گانا تھوڑا سا لکھنا ہوگا اور گانے کے ڈاؤنلوڈ کا لنک دینا ہوگا۔ کیا خیال ہے؟

ایسی نظر سے دیکھا اس ظالم نے چوک پر
ہم نے کلیجہ رکھ دیا، چاقو کی نوک پر

( تماشائیوں کا شور: سبحان اللہ! کمال کردیا! او میں تو مر گیا! )

میرا چین وین سب اجڑا
ظالم نظر ہٹالے

برباد ہورہے ہیں جی
تیرے اپنے شہر والے

ہو میری انگڑائی نہ ٹوٹے تو آجا

کجرارے ! ! !

کجرارے کجرارے تیرے کارے کارے نینا
او کجرارے کجرارے تیرے کارے کارے نینا
ہو میرے نینا میرے نینا میرے نینا جڑواں نینا
کجرارے کجرارے تیرے کارے کارے نینا
او کجرارے کجرارے تیرے کارے کارے نینا

امیتابھ اور ایشوریا کا تباہی ڈانس نمبر۔ اس گانے کی خاص بات ایشوریا نہیں ہے بلکہ اس گانے کے بول اور موسیقی ہیں۔ دیکھیں پہلے شعر کے بعد جو تماشائی واہ واہ کرتے ہیں اگر صرف اسے گانے سے نکال دیں تو یہ پورا گانا بیکار ہوجائیگا۔ اس گانے کی چند ویڈیو کلپز یہاں دیکھی جاسکتی ہیں۔