موسیقی

موضوع: موسیقی

گیتوں سے مہکا ہے سارا چمن

پاکستان کا مہابلی ۔ امانت علی

بتاریخ: 05 اکتوبر 2007

اللہ کی ہم پر اتنی مہربانی ہے کہ اس نے دنیا کی خوبصورت ترین زبانوں میں سے ایک اردو ہماری جھولی میں ڈال دی ہے۔ بقول گلزار صاحب:

وہ یار میرا خوشبو کی طرح
جس کی زبان اردو کی طرح

ہماری قومی زبان گرچہ ہمارے احساس کمتری کی وجہ سے سائنسی علوم میں کچھ مقام نہ بناسکی۔ لیکن شاعری اور ادب کی بات ہو تو ہمارے خزینے میں ایسے ایسے موتی اور جواہر ہیں کہ جن کی آب و تاب سے ایک عالم جھلملایا ہے۔ یہ وہی زبان ہے جو ہندوستانی فلموں کے گانوں کی زبان ہے۔ باوجود اس امر کے کہ ہندوستان کا کوئی گلوکار، موسیقار، اداکار، حتی کہ ہندوستانی فلم بین بھی یہ زبان نہیں بولتا۔ لیکن اس کے باوجود وہ اس زبان میں ڈائیلاگ بولتے ہیں، اسی میں گانے لکھتے ہیں اور گلوکاروں اور اداکاروں کو کامیابی کے لئے اسی زبان کے تلفظ کو سیکھنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ یہ زبان آج تک ہندوستانی فلمی گانوں کی آفیشل زبان ہے۔

اس اردو زبان پر ہم پاکستانیوں کی قدرت، الفاظ پر ہماری گرفت، اور شاعری کی اعلی سمجھ بوجھ جب ہماری روایتی دردمندی، انکساری، محبت اور عاجزی کی کیفیات سے ملتی ہیں تو وہ گلوکار سامنے آتے ہیں جو ہندوستان میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔

amanat ان بڑے ناموں کا تو کیا ذکر، ہمارے فیصل آباد کا ایک انیس سالہ لڑکا امانت علی ہندوستانی ٹی وی چینل زی ٹی وی پر نشر ہونے والے پروگرام سا رے گا ما میں اس وقت ٹاپ تھری تک پہنچ گیا ہے۔ مجھے اس پروگرام کی چند ایک اقساط دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اور ہر مرتبہ میں نے یہی دیکھا کہ امانت کو تمام ہندوستانی گلوگاروں پر ایک واضح برتری حاصل ہے۔ مقابلے کے ججز اس بات کا برملا اظہار کرتے ہیں کہ بچ رہنے والے گلوگاروں میں امانت سب سے بہترین ہے۔ ایک جج کا کہنا ہے کہ امانت اتنا اچھا گاتا ہے کہ وہ اس مقابلے سے ہی بہت اونچے معیار کا گاتا ہے۔

کل شاہ رخ خان کی فرمائش پر امانت نے شاہ رخ کی فلم کبھی الوداع نہ کہنا کا گانا “متوا” گایا۔ یہ گانا اصل میں بھی شفقت امانت علی خان نے گایا ہے جن کا تعلق پاکستان کے ایک مشہور گائیک گھرانے سے ہے۔ مگر جب امانت نے کل یہ گانا گایا تو اس نے اتنی خوبصورتی سے اسے پیش کیا کہ جج حضرات کو اپنی کرسیاں چھوڑنی پڑ گئیں۔ اس سے پہلے ایک غزل اس نے جگجیت سنگھ کے روبرو سنائی تھی جو کہ ہندوستان کے مشہور غزل گائیک ہیں۔ جگجیت سنگھ نے صاف کہہ دیا کہ یہ لڑکا اس مقابلے سے بہت آگے ہے۔

لیکن چونکہ یہ مقابلہ ایس ایم ایس، ویب اور فون ووٹنگ پر چلتا ہے (امانت کو ووٹ دینے کے لئے یہاں کلک کریں) اس لئے یہ کہنا کافی مشکل ہے کہ امانت یہ مقابلہ جیت پائے گا۔ لیکن یہ بات کتنے فخر کی ہے کہ ہمارا ایک چھوٹا سا بچہ ہندوستان کی عوام کے دل جیت چکا ہے۔ اسے لاکھوں ہندوستانی ایس ایم ایس کے ذریعے ووٹ کرتے ہیں۔ مقابلہ جیتنا کوئی بڑی بات نہیں، عزت کمانا، نام پانا اور عام لوگوں کے دل جیت لینا یہ بڑا کمال ہے۔ مجھے بہت خوشی ہوتی ہے جب امانت کو بلایا جاتا ہے اور پاکستان کا نام لیا جاتا ہے۔ پاکستانی گلوکاروں کا ذکر کیا جاتا ہے اور پاکستانی موسیقی کی بات ہوتی ہے۔ اور جب کیمرہ گھوم کر سامنے دیوار پر لگے ایک بڑے سے سبز ہلالی پرچم پر جاتا ہے۔ اور ہر کوئی اس سبز ہلالی پرچم کی سرزمین سے اٹھنے والی شاعری، موسیقی اور گائیکی پر جھوم رہا ہوتا ہے۔ مجھے بہت فخر محسوس ہوتا ہے۔ اس فخر کا باعث ہیں پاکستان کے مہابلی ۔۔ امانت علی۔

میرا پیا گھر آیا

بتاریخ: 21 ستمبر 2007

آؤ نی سئیوں رل دیو نی ودھائی
میں ور پایا سوہنا ماہی
گھڑیال دے یو نکال نی
او لال نی میرا پیا گھر آیا

پیا گھر آیا سانو اللہ ملایا
ہن ہویا فضل کمال نی میرا پیا گھر آیا

گھڑی گھڑی گھڑیال بجاوے رہن وصل دی پیا گھٹاوے
میرے من دی بات نہ پاوے ہاتھوں جا ستو گھڑیال نی
میرا پیا گھر آیا لال نی
میرا پیا گھر آیا لال نی
ہو لال نی۔۔۔

میرے لئے اکثر اچھے (غیر فلمی) پنجابی گانے سمجھنا بہت مشکل ہے۔ لیکن نصرت کو سمجھنے کے لئے پنجابی آنا ضروری تو نہیں؟ گرچہ بول کہیں پڑھ کر میں انہیں دہرا تو سکتا ہوں لیکن ان کا ترجمہ نہیں کرسکتا۔ محسوس کرسکتا ہوں، بیان نہیں کرسکتا۔ اس قوالی کے آخر سے پہلے جو راگ گائے گئے ہیں وہ سب کچھ سمجھانے کو کافی ہیں۔ ویسے میں واقعی اب پنجابی سمجھنا اور بولنا چاہتا ہوں۔ میں پنجابی صوفیانہ کلام سمجھنا چاہتا ہوں۔ نصرت کی قوالیاں سمجھنا چاہتا ہوں۔ پنجابی فلمی گیت سننا چاہتا ہوں۔ اور یہ جاننا چاہتا ہوں کہ پنجابی اسٹیج ڈراموں کی جگتوں میں لوگوں کو کیا لطف آتا ہے۔ آپ یہ بالکل نہیں سمجھ سکتے جب تک آپ کو زبان نہ آتی ہو اور آپ اس کی خوبصورتی سے واقف نہ ہوں۔

بھلے شاہ دی سیج پیاری نی میں تارن ہارے تاری
اللہ ملایا ہن آئی واری ہن وچھرن ہویا محال نی
میرا پیا گھر آیا
ہن وچھرن ہویا محال نی
میرا پیا گھر آیا
ہو لال نی

پنجابی سیکھنے کے لئے کیا کرنا چاہئے؟

برسات کے دن

بتاریخ: 28 اگست 2007

ابھی کچھ زیادہ عرصے پہلے کی بات نہیں، ایک وقت تھا کہ کراچی میں لوگ بارش کو ترسا کرتے تھے۔ ذرا سی پھوار پڑتے ہی لوگ خوشی سے جھوم اٹھتے تھے۔ ہمارے گھر میں آلو بھرے پراٹھے اور پکوڑے بنائے جاتے تھے۔ لوگ اپنے گھروں میں اونچی آواز پر برسات کے نغمے چلادیتے۔ ملکہ ترنم کی آواز گونجتی

کچھ دیر تو رک جاؤ
برسات کے بہانے

اور مہدی حسن خان صاحب کی فریاد گونجتی

اے ابر کرم
آج اتنا برس،
اتنا برس کے وہ جا نہ سکیں

ذرا اور نئی نسل علی حیدر کو سنتی

بارش کا ہے موسم
چلے ٹھنڈی ہوا
کونے پر گلی کے
کوئی ہے کھڑا

ہمارے محلے میں لوگ اپنے فلیٹوں سے نکل کر سڑکوں پر اور خواتین بلڈنگوں کی چھتوں پر بارش سے لطف اندوز ہوا کرتی تھیں۔ فضا میں محبتیں بکھر جاتی تھیں۔ لوگ خواہ مخواہ رومانٹک ہوجاتے تھے۔ کہیں نئے معاشقے شروع ہوتے تو کہیں پرانے گلے شکوے دور ہوجاتے۔ بچے گندے پانی میں چھپاچھپ کرتے پھرتے تھے۔

اللہ میاں بارش دے
سو برس کی نانی دے

مگر اب وہ دن خواب ہوئے۔ اب تو یہ عالم ہے کہ ادھر ذرا سی گھٹا چلی ادھر سارا شہر خوفزدہ ہوجاتا ہے۔ ٹریفک جام، لوڈ شیڈنگ، سیوریج کے عذاب عظیم کے اندیشے انہیں بری طرح گھیر لیتے ہیں۔ اب کے برس آسمان بھی خوب جی بھر کے برسا ہے۔ گلیاں ندی نالے بن گئی ہیں اور لوگ برسات کے گیت بھول گئے ہیں۔ محبتوں کے دن مصیبتوں کے دن بن گئے ہیں۔ خوشیاں خوفزدہ ہوگئی ہیں اور بچے بھی گندے پانی کی فراوانی سے سہم گئے ہیں۔

بتاریخ: 26 اگست 2007

مزید کول بوائز ویڈیوز

چھورا گنگا کنارے والا

بتاریخ: 30 اکتوبر 2006

کھئی کے پان بنارس والاہندوستانی فلموں کا اپنا ایک الگ چٹخارا ہے۔ امیتابھ بچن کو پتہ نہیں ”کھئی کے پان بنارس والا” پر کس نے نچایا تھا مگر شاہ رخ کو اس گانے پر سروج خان نے نچایا ہے۔ مجھے یہ شوخی بھرا گانا بہت پسند ہے۔ امیتابھ تو اس قسم کے شوخی بھرے گانوں میں کمال کردیتے ہیں۔ اپنے لمبے قد اور ماچو امیج کے باوجود وہ نہ صرف ناچتے ہیں بلکہ اپنے چہرے کے تاثرات سے دیکھنے والوں کے چہروں پر بھی مسکراہٹ بھکیر دیتے ہیں۔ ان کے ایسے یادگار گانوں میں رنگ برسے، میرے آنگنے میں، کجرارے اور کھئی کے پان بنارس والا پاک و ہند کے شائقین فلم ایک عرصے سے گنگنا رہے ہیں۔ پیش خدمت ہیں کھئی کے پان بنارس والا کے بول:

ہمم بررر ۔ ۔۔
ارے بھنگ کا رنگ چڑھا ہو چکا چک
پھر لو پان چبائے
آآ یمممم آہ
ارے ایسا جھٹکا لگے جیا پہ
پنر جنم ہوجائے

او کھئی کے پان بنارس والا
کھل جائے بند عقل کا تالا
او پھر تو ایسا کرے دھمال
سیدھی کردے سب کی چال
او چھورا گنگا کنارے والا
او چھورا گنگا کنارے والا

او کھئی کے پان بنارس والا

ارے رام دہائی! کیسے چکر میں پڑ گیا۔ ہائے! ہائے! ہائے!
کہاں جان پھنسائی! میں تو سولی پہ چڑھ گیا ہائے! ہائے! ہائے!
ارے کیسا سیدھا سادھا میں کیسا بھولا بھالا۔ ہاں! ہاں!
ارے کیسا سیدھا سادھا میں کیسا بھولا بھالا
جانے کون گھڑی میں پڑ گیا پڑھے لکھوں سے پالا
میٹھی چھری سے! میٹھی چھری سے ہوا حلال
چھورا گنگا کنارے والا
او چھورا گنگا کنارے والا

او کھئی کے پان بنارس والا
کھل جائے بند عقل کا تالا
او پھر تو ایسا کرے دھمال
سیدھی کردے سب کی چال
او چھورا گنگا کنارے والا
او چھورا گنگا کنارے والا۔ ہاں!

ایک کنیا کنواری ہمری صورت پہ مرگئی۔ ہائے! ہائے! ہائے!
ایک میٹھی کٹاری ہمرے دل میں اتر گئی۔ ہائے! ہائے!
کیسی گوری گوری، وہ تیکھی تیکھی چھوری۔ واہ! واہ!
کیسی گوری گوری، وہ تیکھی تیکھی چھوری
کرکے جورا جوری کرگئی ہمرے دل کی چوری
ملی چھوری تو، ملی چھوری تو ہوا نہال
چھورا گنگا کنارے والا
او چھورا گنگا کنارے والا

او کھئی کے پان بنارس والا
کھل جائے بند عقل کا تالا
او پھر تو ایسا کرے دھمال
سیدھی کردے سب کی چال
او چھورا گنگا کنارے والا
او چھورا گنگا کنارے والا۔ ہاں!