اللہ کی ہم پر اتنی مہربانی ہے کہ اس نے دنیا کی خوبصورت ترین زبانوں میں سے ایک اردو ہماری جھولی میں ڈال دی ہے۔ بقول گلزار صاحب:
وہ یار میرا خوشبو کی طرح
جس کی زبان اردو کی طرح
ہماری قومی زبان گرچہ ہمارے احساس کمتری کی وجہ سے سائنسی علوم میں کچھ مقام نہ بناسکی۔ لیکن شاعری اور ادب کی بات ہو تو ہمارے خزینے میں ایسے ایسے موتی اور جواہر ہیں کہ جن کی آب و تاب سے ایک عالم جھلملایا ہے۔ یہ وہی زبان ہے جو ہندوستانی فلموں کے گانوں کی زبان ہے۔ باوجود اس امر کے کہ ہندوستان کا کوئی گلوکار، موسیقار، اداکار، حتی کہ ہندوستانی فلم بین بھی یہ زبان نہیں بولتا۔ لیکن اس کے باوجود وہ اس زبان میں ڈائیلاگ بولتے ہیں، اسی میں گانے لکھتے ہیں اور گلوکاروں اور اداکاروں کو کامیابی کے لئے اسی زبان کے تلفظ کو سیکھنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ یہ زبان آج تک ہندوستانی فلمی گانوں کی آفیشل زبان ہے۔
اس اردو زبان پر ہم پاکستانیوں کی قدرت، الفاظ پر ہماری گرفت، اور شاعری کی اعلی سمجھ بوجھ جب ہماری روایتی دردمندی، انکساری، محبت اور عاجزی کی کیفیات سے ملتی ہیں تو وہ گلوکار سامنے آتے ہیں جو ہندوستان میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔
ان بڑے ناموں کا تو کیا ذکر، ہمارے فیصل آباد کا ایک انیس سالہ لڑکا امانت علی ہندوستانی ٹی وی چینل زی ٹی وی پر نشر ہونے والے پروگرام سا رے گا ما میں اس وقت ٹاپ تھری تک پہنچ گیا ہے۔ مجھے اس پروگرام کی چند ایک اقساط دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اور ہر مرتبہ میں نے یہی دیکھا کہ امانت کو تمام ہندوستانی گلوگاروں پر ایک واضح برتری حاصل ہے۔ مقابلے کے ججز اس بات کا برملا اظہار کرتے ہیں کہ بچ رہنے والے گلوگاروں میں امانت سب سے بہترین ہے۔ ایک جج کا کہنا ہے کہ امانت اتنا اچھا گاتا ہے کہ وہ اس مقابلے سے ہی بہت اونچے معیار کا گاتا ہے۔
کل شاہ رخ خان کی فرمائش پر امانت نے شاہ رخ کی فلم کبھی الوداع نہ کہنا کا گانا “متوا” گایا۔ یہ گانا اصل میں بھی شفقت امانت علی خان نے گایا ہے جن کا تعلق پاکستان کے ایک مشہور گائیک گھرانے سے ہے۔ مگر جب امانت نے کل یہ گانا گایا تو اس نے اتنی خوبصورتی سے اسے پیش کیا کہ جج حضرات کو اپنی کرسیاں چھوڑنی پڑ گئیں۔ اس سے پہلے ایک غزل اس نے جگجیت سنگھ کے روبرو سنائی تھی جو کہ ہندوستان کے مشہور غزل گائیک ہیں۔ جگجیت سنگھ نے صاف کہہ دیا کہ یہ لڑکا اس مقابلے سے بہت آگے ہے۔
لیکن چونکہ یہ مقابلہ ایس ایم ایس، ویب اور فون ووٹنگ پر چلتا ہے (امانت کو ووٹ دینے کے لئے یہاں کلک کریں) اس لئے یہ کہنا کافی مشکل ہے کہ امانت یہ مقابلہ جیت پائے گا۔ لیکن یہ بات کتنے فخر کی ہے کہ ہمارا ایک چھوٹا سا بچہ ہندوستان کی عوام کے دل جیت چکا ہے۔ اسے لاکھوں ہندوستانی ایس ایم ایس کے ذریعے ووٹ کرتے ہیں۔ مقابلہ جیتنا کوئی بڑی بات نہیں، عزت کمانا، نام پانا اور عام لوگوں کے دل جیت لینا یہ بڑا کمال ہے۔ مجھے بہت خوشی ہوتی ہے جب امانت کو بلایا جاتا ہے اور پاکستان کا نام لیا جاتا ہے۔ پاکستانی گلوکاروں کا ذکر کیا جاتا ہے اور پاکستانی موسیقی کی بات ہوتی ہے۔ اور جب کیمرہ گھوم کر سامنے دیوار پر لگے ایک بڑے سے سبز ہلالی پرچم پر جاتا ہے۔ اور ہر کوئی اس سبز ہلالی پرچم کی سرزمین سے اٹھنے والی شاعری، موسیقی اور گائیکی پر جھوم رہا ہوتا ہے۔ مجھے بہت فخر محسوس ہوتا ہے۔ اس فخر کا باعث ہیں پاکستان کے مہابلی ۔۔ امانت علی۔
زمرہ جات: موسیقی, ٹیلیوژن
|
آؤ نی سئیوں رل دیو نی ودھائی
میں ور پایا سوہنا ماہی
گھڑیال دے یو نکال نی
او لال نی میرا پیا گھر آیا
پیا گھر آیا سانو اللہ ملایا
ہن ہویا فضل کمال نی میرا پیا گھر آیا
گھڑی گھڑی گھڑیال بجاوے رہن وصل دی پیا گھٹاوے
میرے من دی بات نہ پاوے ہاتھوں جا ستو گھڑیال نی
میرا پیا گھر آیا لال نی
میرا پیا گھر آیا لال نی
ہو لال نی۔۔۔
میرے لئے اکثر اچھے (غیر فلمی) پنجابی گانے سمجھنا بہت مشکل ہے۔ لیکن نصرت کو سمجھنے کے لئے پنجابی آنا ضروری تو نہیں؟ گرچہ بول کہیں پڑھ کر میں انہیں دہرا تو سکتا ہوں لیکن ان کا ترجمہ نہیں کرسکتا۔ محسوس کرسکتا ہوں، بیان نہیں کرسکتا۔ اس قوالی کے آخر سے پہلے جو راگ گائے گئے ہیں وہ سب کچھ سمجھانے کو کافی ہیں۔ ویسے میں واقعی اب پنجابی سمجھنا اور بولنا چاہتا ہوں۔ میں پنجابی صوفیانہ کلام سمجھنا چاہتا ہوں۔ نصرت کی قوالیاں سمجھنا چاہتا ہوں۔ پنجابی فلمی گیت سننا چاہتا ہوں۔ اور یہ جاننا چاہتا ہوں کہ پنجابی اسٹیج ڈراموں کی جگتوں میں لوگوں کو کیا لطف آتا ہے۔ آپ یہ بالکل نہیں سمجھ سکتے جب تک آپ کو زبان نہ آتی ہو اور آپ اس کی خوبصورتی سے واقف نہ ہوں۔
بھلے شاہ دی سیج پیاری نی میں تارن ہارے تاری
اللہ ملایا ہن آئی واری ہن وچھرن ہویا محال نی
میرا پیا گھر آیا
ہن وچھرن ہویا محال نی
میرا پیا گھر آیا
ہو لال نی
پنجابی سیکھنے کے لئے کیا کرنا چاہئے؟
زمرہ جات: موسیقی, پاکستانی معاشرہ
|
ابھی کچھ زیادہ عرصے پہلے کی بات نہیں، ایک وقت تھا کہ کراچی میں لوگ بارش کو ترسا کرتے تھے۔ ذرا سی پھوار پڑتے ہی لوگ خوشی سے جھوم اٹھتے تھے۔ ہمارے گھر میں آلو بھرے پراٹھے اور پکوڑے بنائے جاتے تھے۔ لوگ اپنے گھروں میں اونچی آواز پر برسات کے نغمے چلادیتے۔ ملکہ ترنم کی آواز گونجتی
کچھ دیر تو رک جاؤ
برسات کے بہانے
اور مہدی حسن خان صاحب کی فریاد گونجتی
اے ابر کرم
آج اتنا برس،
اتنا برس کے وہ جا نہ سکیں
ذرا اور نئی نسل علی حیدر کو سنتی
بارش کا ہے موسم
چلے ٹھنڈی ہوا
کونے پر گلی کے
کوئی ہے کھڑا
ہمارے محلے میں لوگ اپنے فلیٹوں سے نکل کر سڑکوں پر اور خواتین بلڈنگوں کی چھتوں پر بارش سے لطف اندوز ہوا کرتی تھیں۔ فضا میں محبتیں بکھر جاتی تھیں۔ لوگ خواہ مخواہ رومانٹک ہوجاتے تھے۔ کہیں نئے معاشقے شروع ہوتے تو کہیں پرانے گلے شکوے دور ہوجاتے۔ بچے گندے پانی میں چھپاچھپ کرتے پھرتے تھے۔
اللہ میاں بارش دے
سو برس کی نانی دے
مگر اب وہ دن خواب ہوئے۔ اب تو یہ عالم ہے کہ ادھر ذرا سی گھٹا چلی ادھر سارا شہر خوفزدہ ہوجاتا ہے۔ ٹریفک جام، لوڈ شیڈنگ، سیوریج کے عذاب عظیم کے اندیشے انہیں بری طرح گھیر لیتے ہیں۔ اب کے برس آسمان بھی خوب جی بھر کے برسا ہے۔ گلیاں ندی نالے بن گئی ہیں اور لوگ برسات کے گیت بھول گئے ہیں۔ محبتوں کے دن مصیبتوں کے دن بن گئے ہیں۔ خوشیاں خوفزدہ ہوگئی ہیں اور بچے بھی گندے پانی کی فراوانی سے سہم گئے ہیں۔
زمرہ جات: دکان سے گھر تک, موسیقی, کراچی
|
ہندوستانی فلموں کا اپنا ایک الگ چٹخارا ہے۔ امیتابھ بچن کو پتہ نہیں ”کھئی کے پان بنارس والا” پر کس نے نچایا تھا مگر شاہ رخ کو اس گانے پر سروج خان نے نچایا ہے۔ مجھے یہ شوخی بھرا گانا بہت پسند ہے۔ امیتابھ تو اس قسم کے شوخی بھرے گانوں میں کمال کردیتے ہیں۔ اپنے لمبے قد اور ماچو امیج کے باوجود وہ نہ صرف ناچتے ہیں بلکہ اپنے چہرے کے تاثرات سے دیکھنے والوں کے چہروں پر بھی مسکراہٹ بھکیر دیتے ہیں۔ ان کے ایسے یادگار گانوں میں رنگ برسے، میرے آنگنے میں، کجرارے اور کھئی کے پان بنارس والا پاک و ہند کے شائقین فلم ایک عرصے سے گنگنا رہے ہیں۔ پیش خدمت ہیں کھئی کے پان بنارس والا کے بول:
ہمم بررر ۔ ۔۔
ارے بھنگ کا رنگ چڑھا ہو چکا چک
پھر لو پان چبائے
آآ یمممم آہ
ارے ایسا جھٹکا لگے جیا پہ
پنر جنم ہوجائے
او کھئی کے پان بنارس والا
کھل جائے بند عقل کا تالا
او پھر تو ایسا کرے دھمال
سیدھی کردے سب کی چال
او چھورا گنگا کنارے والا
او چھورا گنگا کنارے والا
او کھئی کے پان بنارس والا
ارے رام دہائی! کیسے چکر میں پڑ گیا۔ ہائے! ہائے! ہائے!
کہاں جان پھنسائی! میں تو سولی پہ چڑھ گیا ہائے! ہائے! ہائے!
ارے کیسا سیدھا سادھا میں کیسا بھولا بھالا۔ ہاں! ہاں!
ارے کیسا سیدھا سادھا میں کیسا بھولا بھالا
جانے کون گھڑی میں پڑ گیا پڑھے لکھوں سے پالا
میٹھی چھری سے! میٹھی چھری سے ہوا حلال
چھورا گنگا کنارے والا
او چھورا گنگا کنارے والا
او کھئی کے پان بنارس والا
کھل جائے بند عقل کا تالا
او پھر تو ایسا کرے دھمال
سیدھی کردے سب کی چال
او چھورا گنگا کنارے والا
او چھورا گنگا کنارے والا۔ ہاں!
ایک کنیا کنواری ہمری صورت پہ مرگئی۔ ہائے! ہائے! ہائے!
ایک میٹھی کٹاری ہمرے دل میں اتر گئی۔ ہائے! ہائے!
کیسی گوری گوری، وہ تیکھی تیکھی چھوری۔ واہ! واہ!
کیسی گوری گوری، وہ تیکھی تیکھی چھوری
کرکے جورا جوری کرگئی ہمرے دل کی چوری
ملی چھوری تو، ملی چھوری تو ہوا نہال
چھورا گنگا کنارے والا
او چھورا گنگا کنارے والا
او کھئی کے پان بنارس والا
کھل جائے بند عقل کا تالا
او پھر تو ایسا کرے دھمال
سیدھی کردے سب کی چال
او چھورا گنگا کنارے والا
او چھورا گنگا کنارے والا۔ ہاں!
زمرہ جات: فلم, موسیقی
|
"اداسی" پرمنهاج الرحمان لکھتے ہیں: کمال پوسٹ ھے نعمان صاحب۔ اس ملک میں فرعونیت کی انتھا ھو چکی ھے۔ ھمارا موسی نا
"اداسی" پرابوشامل لکھتے ہیں: لیں جی آپ کو تیسری مرتبہ ہمارے بلاگ سے بھی ٹیگ کر دیا گیا ہے، اب آپ
"اداسی" پرArif Anjum لکھتے ہیں: آپ کو یہاںپر ٹیگ کردیا گیا ہے۔ پولیس کو مطلع کرنے کی کوشش نہ کیجئے اور
"برمودا مثلث" پرمحمد طفیل لکھتے ہیں: ماشاءاللّہ آپ نے اپنی قومی زبان کی بہت بڑی خدمت کرکے اپنے ہم وطنوں کو بہت اچھی
"میرا نیا کمپیوٹر" پرwaqas khan لکھتے ہیں: GALAXY COMPUTER thats enough ap logo k rates bahot zada hotay hai recently many Nvidia Geforce 8600 512mb
"میرا نیا کمپیوٹر" پرwaqas khan لکھتے ہیں: mere piyary bhaio mere ap sab sya request hai k please galaxy computers say kuch bhe na purchase
"اداسی" پررضوان نور لکھتے ہیں: بات تو غیر متعلق سی ہے مگر پھر بھی کیے دیتے ہیں کہ آپ کو اس ناچیز