گذشتہ چند ہفتوں کے دوران بہت ساری فلمیں دیکھیں۔ اور ان میں سے دو فلمیں ایسی ہیں کہ جو بے حد پسند آئیں۔ پہلی فلم ہے مشہور ایرانی ہدایتکار ماجد مجیدی کی بچہ ہائے آسمانی المعروف Children of Heaven ۔ میری والدہ دو بار یہ فلم ٹیلیوژن پر دیکھ چکی تھیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ میں انہیں یہ فلم خرید کر لادوں۔ انہوں نے فلم کی اتنی تعریف کی کہ میں نے اگلے ہی دن فلم ڈاؤنلوڈ کرلی۔

یہ فلم دو ایرانی بچوں کی کہانی ہے علی اور اس کی بہن زہرا۔ ایک دن علی زہرا کے جوتے مرمت کے لئے لے جاتا ہے اور گھر لوٹتے ہوئے اس سے وہ جوتے کھو جاتے ہیں۔ دونوں بہن بھائی ڈر کے مارے اپنے والدین کو جوتے کھوجانے کا نہیں بتاتے۔ انہیں احساس ہوتا ہے کہ ان کے والدین پہلے ہی غربت اور تنگدستی سے بہت پریشان ہیں۔ لیکن اب سوال یہ تھا کہ بغیر جوتوں کے زہرا اسکول کیسے جائے۔ علی دوپہر کے اور زہرا صبح کے اسکول کے میں پڑھتی ہے۔ طے یہ پاتا ہے کہ صبح زہرا جوتے پہن کر اسکول جائے گی اور پھر اسکول کی چھٹی ہوتے ہی وہ گھر آئے گی تو علی جوتے پہن کر اسکول جائے گا۔ زہرا کی چھٹی کا وقت اور علی کے اسکول کے شروع ہونے کا وقت ایک ہی ہوتا ہے لہذا ننھی زہرا کو اسکول چھوٹتے ہی تیزی سے بھاگتے ہوئے گھر پہنچنا ہوتا ہے۔ جہاں علی گھر کے باہر گلی میں کھڑا بے چینی سے اس کی راہ تک رہا ہوتا ہے۔ زہرا کے آتے ہی وہ جوتے پہن کر تیزی سے اسکول کی طرف دوڑ لگاتا ہے۔ مگر پھر بھی اسے اکثر دیر ہوجاتی ہے۔
شاید کہانی سن کر آپ کو ایسا محسوس ہو کہ یہ بڑی دکھ بھری داستان ہے اور اسے دیکھ کر آپ کے دل پر مایوسی طاری ہوجائیگی۔ میں بھی ایسا ہی سمجھا تھا، لیکن دراصل یہ ایک امید اور خوشی سے بھرپور کہانی ہے۔ اس میں بچوں کی قربانی، محبت، ایثار اور معصومیت زندگی کی تلخ حقیقتوں سے نبردآزما ہے۔ آپ چاہتے ہیں کہ علی اور زہرا کو جوتے مل جائیں۔ مگر آخر میں آپ سمجھتے ہیں کہ وہ کتنے دولتمند ہیں اور تب جب جوتے غیر اہم لگنے لگتے ہیں تب ہی زہرا کو نئے نکورے جوتے مل جاتے ہیں۔
زمرہ جات: فلم
|

میں نے ابھی کچھ دیر پہلے ۱۰،۰۰۰ قبل از مسیح (10,000 BC) فلم دیکھی ہے۔ باوجود اس حقیقت کے کہ اس فلم کی کہانی میں کئی تاریخی، سائنسی اور آرکیالوجیکل نقائص ہیں، میں اس فلم کو ایک اچھی تفریحی فلم قرار دونگا۔ کہانی گھڑنے اور افسانہ طرازی کے اس عمل کے دوران آپ تخلیق کار کو تخیلاتی آزادی تو ضرور دیں گے۔ ورنہ تو کہانی سے محظوظ ہونا دشوار ہوجائیگا۔ تاہم یہ فلم چونکہ یہ دعوی کرتی ہے کہ یہ دس ہزار قبل از مسیح کے دور کی عکاسی کرے گی تو یہ مناسب ہوتا اگر فلم بنانے والے تحقیق سے کام لیتے اور حقائق کی مدد سے ہی کہانی بناتے۔ میرا خیال ہے کہانی تب بھی دلچسپ ہوتی۔
گرچہ یہ ایک اچھی تفریحی فلم ہے، مگر یہ کوئی عظیم فلم نہیں ہے۔ کہانی تقریبا بارہ مسالہ جات کی چاٹ کی طرح چٹپٹی بنائی گئی ہے۔ آپ کو فلم میں اس طرز کی کئی اور پرانی فلموں کے عناصر نظر آئیں گے۔ جیسا کہ نسبتا حال ہی میں جاری ہونے والی فلم آئس ایج۔
کچھ ذکر فلم کے تاریخی اور آرکیالوجیکل اور سائنسی نقائص کا کرتے ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ دس ہزار قبل از مسیح کے وقت مصری عظیم اہرام نہیں بنارہے تھے۔ درحقیقت مصری تہذیب کا دور ہی تین ہزار سال قبل از مسیح سے شروع ہوتا ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ کہانی میں یہ ذکر نہیں کیا گیا کہ یہ واقعی مصری تہذیب ہے۔ فرض کرلیں اگر یہ مصری تہذیب نہیں بھی تھی تب بھی یہ تقریبا ناممکن ہے کہ دس ہزار سال پہلے کوئی انسانی تہذیب اتنی ترقی یافتہ تھی کہ وہ اہرام تعمیر کرتی۔ نہ صرف یہ کہ وہ اہرام تعمیر کررہے تھے بلکہ عظیم اہرام کی نوک پر خالص سونے کا تکون پتھر بھی سجا رہے تھے۔ یہ ہضم کرنا بھی کافی مشکل کام ہے۔ اس بات کے تو شواہد ہیں کہ اس دور کا انسان دھاتوں سے آگاہ تھا۔ مگر تب بھی وہ ان کے استعمال سے نابلد تھا اور یہ تو بہت ہی دشوار ہے کہ وہ ان سے کسی قسم کا اوزار بناتا۔ یا کہ وہ ایک سونے کا اتنا بڑا ٹکڑا نہ صرف تیار کرے بلکہ اسے اہرام کی نوک پر سجائے۔ سونے کی اتنی بڑی چٹان کا وزن عظیم اہرام کے سب سے وزنی بلاک سے بھی پانچ گنا زیادہ ہوتا اور اسے وہاں تک لے جانا اور نصب کرنا ناممکن تھا۔
یہ بات بالکل سمجھ سے باہر ہے کہ کہانی کے ہیرو کا قبیلہ کہاں واقع تھا۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ وہ عظیم برفانی پہاڑ پار کرتے ہیں پھر میدانی علاقے میں آتے ہیں، پھر ایک عظیم صحرا پار کرتے ہیں جس کے ایک طرف عظیم دریا بہہ رہا ہے۔ اگر ہم یہ فرض کریں کہ یاگل قبائل ہمالیہ کے اس پار رہتے تھے تب بھی یہ کافی لمبا سفر بنتا ہے۔ اگر ہم انہیں وسطی ایشیا اور یورپ کے بیچ کہیں رکھیں تب بھی۔
بڑی مرغی نما ڈائنوسار قسم کی مخلوق جو فلم میں دکھائی گئی ہے اس کا ہمارے ہیرو سے سامنا ہونا کافی مشکل ہے۔ کیونکہ ایک تو یہ ٹیرر برڈز جنوبی امریکہ میں پائی جاتی تھیں۔ دوسرا یہ کہ وہ دس ہزار قبل مسیح سے پہلے ناپید ہوچکی تھیں۔
نوکیلے دانتوں والا چیتا جو فلم میں دکھایا گیا ہے وہ بھی شمالی اور جنوبی امریکہ میں پایا جاتا تھا نہ کہ افریقہ یا یورپ میں۔
فلم میں کچھ مضحکہ خیز نظریات کو عجیب بے ڈھنگے طریقے سے دکھایا گیا ہے۔ جیسے یہ کہ مصری خلائی مخلوق تھے جو کسی ایسے جزیرے سے آئے تھے جو سمندر میں ڈوب چکا تھا (اٹلانٹس)۔ اٹلانٹس کے تصوراتی منظرنامے میں ہاتھیوں کی مدد سے تعمیرات کا تواتر سے ذکر ملتا ہے۔ فرعون نما جو حکمران دکھایا گیا ہے وہ سفید فام ہوتا ہے۔ حکمرانوں کے طبقے کے ناک نقوش بھی عجیب سے دکھائے گئے ہیں۔ جس کا مقصد غالبا یہ دکھانا تھا کہ ارتقائی عمل میں انسانی کی یہ نسل دنیا کے دیگر انسانوں سے زیادہ آگے تھی اور زیادہ ذہین تھی۔
فلم میں دکھایا گیا ہے کہ یہ تہذیب مموتھ کو سدھا کر ان سے تعمیراتی کام میں مدد لے رہی تھی۔ جو کہ عین ممکن ہوسکتا تھا۔ گرچہ ایسے کوئی شواہد کبھی نہیں ملے جن سے ایسا لگتا ہو کہ انسان نے کبھی مموتھ کو سدھایا ہو لیکن ڈی این اے تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ مموتھ کے قریب ترین رشتہ دار ہندوستانی اور جنوب مشرقی ایشیا کے ہاتھی ہیں جو قد میں افریقی ہاتھی سے چھوٹے ہیں اور افریقی ہاتھی جو کہ کافی غصیلے اور مشکل ہوتے ہیں ان کے مقابلے میں ایشیائی ہاتھی صدیوں سے انسانوں کے ساتھ کام کررہے ہیں۔
بادبانی کشتیاں۔ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ انسان اس دور میں کشتی بانی کرچکا تھا۔ مگر مجھے یہ علم نہیں کہ دس ہزار سال قبل مسیح کا انسان اتنی بڑی بادبانی کشتیاں بنانے کی ٹیکنالوجی رکھتا تھا۔
یہ ممکن ہے کہ دس ہزار سال قبل مسیح کا انسان پتھروں کی مدد سے تعمیرات کرنے کے فن سے آگاہ تھا۔ تاہم فلم میں دکھائی گئی عظیم تعمیرات کی ٹیکنالوجی کا تب موجود ہونا بے حد مشکل ہے۔ جیسے آپ دیکھیں گے کہ وہ پہیوں لگے ٹھیلے استعمال کرتے ہیں اہراموں کی تعمیر میں۔ دس ہزار سال قبل مسیح میں انسان گھوڑوں پر بیٹھ کر لڑنے کے فن سے بھی یکسر ناآشنا تھا۔ انسان تب گھوڑوں کا شکار کرکے انہیں کھایا کرتا تھا۔ لیکن فلم میں دکھایا گیا ہے کہ انہوں نے نہ صرف گھوڑوں کو سدھا رکھا تھا، بلکہ ان پر سواری بھی کرتے تھے اور انہیں لڑائی میں بھی استعمال کرتے تھے۔
زمرہ جات: تاریخ, سائنس, فلم
|
کل شام کی چائے کے بعد ہم سب گھر والے ساتھ ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ اب چونکہ پاکستان کے مشہور اور مقبول نیوز چینلز تو بند ہیں لحاظہ ہم بھارتی رقص و موسیقی کے دلچسپ اور تفریح سے بھرپور پروگرامز سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ اچھا ہوا صاحب اقتدار صدر محترم جنرل اعلی (بھائی ایمرجنسی ہے القابات اور طرز تخاطب کا خیال رکھنا ضروری ہے) نے نیوز چینلز بند کردئے۔ خون جلانے، دل ہولانے اور مغز کو پراگندہ کرنے والے پروگرامز اور جو وقت بچ جائے اس میں موبائل کمپنیوں کے اشتہارات دکھانے کے علاوہ ان چینلز پر آتا کیا تھا؟
بھارتی چینل پر کوئی نوجوان جوڑا امیتابھ بچن کی کسی فلم کے گیت پر رقص کا مظاہرہ کررہا تھا۔ مجھے خیال آیا کہ بھارتی ٹی وی چینلز اور میڈیا پر امیتابھ کا اس قدر ذکر ہوتا ہے، کہ کوئی چینل ایسا نظر نہیں آتا جس پر ایک گھنٹے کے اندر کم از کم ایک بار امیتابھ کا نام، اس کی کسی فلم کی جھلک، اس کا کوئی گانا، یا کوئی تذکرہ نظر نہ آئے۔ امیتابھ بچن اس وقت شاید بھارتی کلچر کا ایسا نمائندہ بن گیا ہے کہ جس کے بغیر بھارتی میڈیا اپنے خبرناموں، تفریح، معلومات، مزاح، یا ثقافتی پروگراموں کو بالکل ادھورا سمجھتا ہے۔
باقی پاکستانی ٹی وی چینلز پر ایسا نہیں، لیکن کم از کم جیو ٹی وی نیٹ ورک پر ہمارے جنرل محترم پرویز مشرف صاحب کو امیتابھ بچن جیسی ہی حیثیت حاصل تھی۔ جیو نیوز پر تو جنرل محترم کا اسقدر تذکرہ ہوتا تھا کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ گویا پاکستانیوں کی زندگی ہی مشرف صاحب کے اردگرد گھوم رہی ہے۔ کوئی ٹاک شو ہو یا دینی پروگرام، مزاحیہ خاکے ہوں یا گرینڈ ڈیبیٹ، تندو تیز سوالات کا پروگرام جوابدہ ہو، یا نرما نرم آج کامران خان کے ساتھ۔ ہر تیس منٹ میں چار چھ بار تو صاحب کا ذکر ضرور سنائی پڑتا تھا۔
ہمارے صدر محترم قابل احترم آرمی چیف جناب مشرف صاحب اور امیتابھ میں ایک اور بات ایک سی ہے۔ دونوں کو یہ خیال ہے کہ ان کا متبادل کوئی نہیں۔ اور شاید دونوں صحیح بھی ہیں۔ سوچیں اگر بھارتی چینلز سے امیتابھ کو اور پاکستانی چینلز سے مشرف صاحب کو ہٹادیں تو ٹی وی چینلز کیسے چلیں گے۔ ایسے کونسے لیجنڈری آئیکونز ہیں جو امیتابھ یا مشرف صاحب جیسے اثرانگیز ہوں؟
اب جیو ٹی وی بند ہے اور ہم اپنے امیتابھ بچن سے بھی دور ہوگئے ہیں۔ گرچہ سرکاری میڈیا اس بات کی بھرپور کوشش کررہا ہے کہ ہم جنرل صاحب صدر محترم کے افکار و خیالات، ان کی شخصیت کی اثرانگیزی کی کمی محسوس نہ کریں۔ مگر سرکاری ٹی وی چینلز بھارتی ٹی وی چینلز کی بھیڑ میں گم ہوجاتے ہیں۔ میں نے چائے کا گھونٹ بھرا اور ٹی وی پر نظر ڈالی۔
ارے دیوانوں
مجھے پہچانو
کہاں سے آیا
میں ہوں کون
میں ہوں ڈون
میں ہوں ڈون۔۔۔
امیتابھ بچن ٹی وی پر رقصاں تھا
زمرہ جات: آزادی, جمہوریت, ذرائع ابلاغ, فلم, ٹیلیوژن, پاکستانی معاشرہ
|
کل میرا بھائی عازب اپنے دوستوں کے ساتھ خدا کے لئے دیکھ کر آیا۔ عازب پاکستانیوں کی اس نسل میں سے ہے جس نے آج تک سینما پر کوئی پاکستانی فلم نہیں دیکھی۔ یہ اس کا پہلا تجربہ تھا اور مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ وہ فلم دیکھ کر بہت خوش خوش گھر لوٹا۔ عازب نے بتایا کہ سینما ہال میں اور باہر سڑک تک عوام کا اتنا ہجوم تھا کہ انہیں ایڈوانس بکنگ ہونے کے باوجود اپنی سیٹوں تک پہنچنے میں پندرہ منٹ لگ گئے اور شروع کے چند اہم مناظر نکل گئے۔ عازب کا کہنا ہے کہ فلم کی موسیقی کوئی اتنی پراثر نہیں تھی۔ لیکن سینماٹوگرافی حیرت انگیز حد تک چونکادینے والی تھی۔ عازب کا کہنا ہے کہ اسقدر خوبصورت کیمرہ ورک اس نے آج تک کسی ہندوستانی فلم میں نہیں دیکھا۔ سینما میں خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔
فلم کی کہانی روایتی ہندوستانی یا پاکستانی فلموں کے برعکس کافی سپاٹ تھی۔ مطلب برصغیر کی فلموں میں جو عمومی رقص و دھمال، ہجر و وصال، جدائی اور ملن کے روایتی مناظر ہوتے ہیں وہ عنقا تھے۔ تاہم فلم کا کلائمیکس انتہائی جاندار اور کافی حد تک روایتی تھا جس میں نصیرالدین شاہ عدالت میں پیش ہوتے ہیں اور جاندار ڈائیلاگز کے ساتھ ناظرین کی داد وصول کرتے ہیں۔ عازب کا کہنا ہے کہ فلم کے آخر میں اسلام، موسیقی، محبت اور امن کے بارے میں جو ڈائیلاگ ہیں ان پر سینما میں خوب سیٹیاں اور تالیاں بجائی گئی اور ان زبردست ڈائیلاگز کو ملنے والی عوامی تائید نے عازب کو بہت متاثر کیا۔ مجموعی طور پر یہ ایک جاندار فلم ہے، جس میں ایک موضوع ہے، کچھ تفریح ہے اور سوچنے کو ڈھیر سی باتیں۔
زمرہ جات: دکان سے گھر تک, دہشت گردی, فلم, پاکستانی معاشرہ
|
آج بروز جمعہ ملک بھر میں شعیب منصور کی فلم “خدا کے لئے” کا افتتاح ہوگا۔ کراچی میں فلم کی زبردست ایڈوانس بکنگ جاری ہے۔ یہ بات تقریبا یقینی ہے کہ ایک عرصے کے بعد کوئی فلم کراچی میں کھڑکی توڑ کامیابی حاصل کرے گی۔ آج ایک ایسے گیت کے بارے میں بھی سنا ہے کہ جسے حدیقہ کیانی، علی حیدر، ہارون، علی ظفر، اسٹرنگز اور شفقت نے مل کر گایا ہے۔ گیت کا عنوان ہے “یہ ہم نہیں ہیں”۔ اس کا ویڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا اور اس کے تخلیق کار جن موصوف کا نام میں یاد نہ رکھ پایا ان کے خیالات بھی سنے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ گیت دنیا کے لئے پیغام ہے کہ وہ دہشت کو مسلمانوں سے منسوب نہ کریں بلکہ مسلمان جتنا دہشت گردی کا شکار ہیں اتنا دنیا میں اور کوئی نہیں۔
ایک طرف تو یہ پیغامات ہیں دوسری طرف چند لوگ ملک بھر میں سیکیوریٹی فورسز پر خود کش حملے کررہے ہیں۔
جمہوریت، انصاف اور بنیادی ضروریات زندگی کو ترستی عوام اس کشمکش سے بہت پرے ہے۔ وہ جو اس کشمکش کے اصل مظلوم ہیں وہی تماشائی بھی ہیں اور حیران ہیں کہ اگر یہ ہم نہیں ہیں، تو یہ کون ہیں؟
زمرہ جات: دہشت گردی, ذرائع ابلاغ, فلم, پاکستانی معاشرہ
|
07/09/2007
بی بی سی سے ایک پرانی خبر کراچی: پاکستانی سنیما کی نئی اُمید۔ آپ نے اس صفحے پر بیان کردہ کراچی میں بنی کون کونسی فلمیں دیکھی ہیں؟
|
07/09/2007
بی بی سی اردو: فلم “خدا کے لئے”، پریس شو کا احوال۔ اس سے ہمیں کہانی کا مزید پتہ چلتا ہے کہ فلم میں دو بھائیوں کا کردار ہے۔ ایک بھائی (فواد خان) ایک انتہا پسند مولوی کی باتوں میں آ کر گائیکی کو ترک کر کے ’طالب‘ بن جاتا ہے اور کیسے دوسرا بھائی (شان) امریکہ میں تحقیقاتی اداروں کے ہاتھوں القاعدہ سے تعلق کے شبہ میں تفتیش سے ذہنی توازن کھو دیتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ اور کردار ہیں اور ان کی کہانیاں بھی ساتھ ہی چلتی ہیں۔ شعیب منصور جنید جمشید کو کچھ زیادہ ہی تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔ میرے خیال میں اس سے فلم کی پبلسٹی متاثر ہوگی۔ شعیب لوگوں کو فلم دیکھنے اور انہیں خود اپنی رائے بنانے کا موقع دیں۔
|

شعیب منصور کی فلم “خدا کے لئے” کا ویب سائٹ آنلائن ہوگیا ہے۔ پاکستان کی معدوم شدہ فلمی صنعت کے لئے شعیب کی فلم ایک نئی امید لے کر آئی ہے۔ سپریم عشق، الفا براوو چارلی، سنہرے دن اور دل دل پاکستان والے شعیب منصور ایک نہایت باصلاحیت اور مقبول ہدایت کار ہیں۔ خدا کے لئے کے ویب سائٹ پر شعیب لکھتے ہیں کہ:
نو گیارہ کے بعد بیرون ملک مقیم پاکستانی اور دنیا بھر میں پھیلے مسلمانوں کو درپیش مسائل نے انہیں یہ فلم بنانے پر راغب کیا۔ یہ فلم جدت پسند مسلمانوں اور انتہاپسند مسلمانوں کے درمیان جاری کشمکش کی عکاسی کرتی ہے۔ جہاں ایک طرف نائین الیون کے بعد جدت پسند مسلمانوں کو انتہاپسندوں کی مخالفت کا سامنا ہے وہیں مغرب بھی انہیں شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ان حالات نے جہاں ہر حساس دل کو متاثر کیا وہیں میں بھی ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ کہ پھر ایک دن ان کی نظر سے ان کے دوست جنید جمشید کا انٹرویو گزرا جس میں جنید ایک بالکل نئے کاسٹیوم میں ملبوس یہ بیان دے رہے تھے کہ انہوں نے موسیقی تج دی ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ موسیقی اسلام میں حرام ہے۔ شعیب لکھتے ہیں کہ مجھے یہ پڑھ کر بہت دکھ ہوا کہ ہماری پندرہ سالہ دوستی اور ساتھ کام کرنے کا تجربہ جنید کیسے مجھ سے بات کئے بغیر یوں تلف کرسکتا ہے؟ شعیب کے بقول جنید کے ان بیانات کا نوجوان نسل پر پڑنے والے اثر کا تدارک ضروری تھا۔
فلم میں پاکستانی اداکار شان مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ دیگر کاسٹ میں ایمان علی، فواد خان، رشید ناز اور بھارتی اداکار نصیرالدین شاہ شامل ہیں۔ فلم کا ساؤنڈ ٹریک اس کا سب سے مضبوط پہلو ہوگا۔ میں نے ابھی تک اس کی موسیقی نہیں سنی ہے۔ مگر بول اگر شعیب منصور کے ہوں اور کئی باصلاحیت نئے فنکاروں نے موسیقی ترتیب دی ہو، گانے گائے ہوں، ریکارڈنگ اور مکسنگ کا کام شکاگو میں ہوا ہو تو پھر عمدہ موسیقی کی توقع یقینی ہوجاتی ہے۔

فلم کی کہانی بہت جاندار معلوم ہوتی ہے۔ اداکار شان، نصیرالدین شاہ اور رشید ناز کی صلاحیتوں کا بھی ہر کوئی معترف ہے اور شعیب کے میوزک ویڈیوز، ڈراموں اور ڈاکومنٹریز بے انتہا دلچسپ اور خوشنما ہوتی ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر بہت بے چینی سے اس فلم کا انتظار ہے۔ ریلیز کی متوقع تاریخ بیس جولائی سننے میں آرہی ہے۔
میرے علاوہ اسلام آباد کے انتہاپسند مذہبی حلقوں کو بھی فلم کا بے چینی سے انتظار ہے۔ غازی عبدالرشید صاحب یہ بیان دے چکے ہیں کہ یہ فلم خلاف اسلام ہے اور اگر یہ سنسر بورڈ سے پاس کرائے بغیر جاری کی گئی تو حکومت نتائج کی ذمہ دار ہوگی۔ غازی عبدالرشید صاحب کو یہ فیصلہ دینے سے پہلے کہ آیا یہ فلم خلاف اسلام ہے یا نہیں یہ فلم دیکھنا ہوگی۔ ویسے میں تو یہ سمجھتا تھا کہ غازی صاحب کے دین میں تو فلم ہی خلاف اسلام ہے چاہے وہ کوئی سی بھی ہو شکر ہے غازی صاحب نے تصدیق کردی کہ ہر فلم خلاف اسلام نہیں ہوتی بلکہ کوئی کوئی فلم خلاف اسلام ہوتی ہے۔ خصوصا ایسی فلم جس میں جدت خیالی کا ذکر ہو۔
زمرہ جات: دہشت گردی, فلم, مذہبی رواداری, پاکستانی معاشرہ
|
گذشتہ چند ہفتوں سے ہمارے گھر میں پرانی انگریزی ایڈونچر فلموں کا دور چل رہا ہے۔ حال ہی میں ہم نے یہ فلمیں دیکھی ہیں:
The Great Escape
نازیوں کے زیرانتظام ایک قیدی کیمپ سے اتحادی فوجیوں کے فرار کی کوششوں کی کہانی۔
Mackenna’s Gold
سونے کی تلاش۔
The Guns of Navarone
نیوارون کے پہاڑ پر نازی توپوں کو تباہ کرنے کا مشن
Indiana Jones Trilogy
ایک امریکی ماہر آثار قدیمہ کے ایڈونچرز
Back to the Future
وقت میں سفر کا ایک سائنس فکشن ایڈونچر۔
زمرہ جات: دکان سے گھر تک, فلم
|
ہندوستانی فلموں کا اپنا ایک الگ چٹخارا ہے۔ امیتابھ بچن کو پتہ نہیں ”کھئی کے پان بنارس والا” پر کس نے نچایا تھا مگر شاہ رخ کو اس گانے پر سروج خان نے نچایا ہے۔ مجھے یہ شوخی بھرا گانا بہت پسند ہے۔ امیتابھ تو اس قسم کے شوخی بھرے گانوں میں کمال کردیتے ہیں۔ اپنے لمبے قد اور ماچو امیج کے باوجود وہ نہ صرف ناچتے ہیں بلکہ اپنے چہرے کے تاثرات سے دیکھنے والوں کے چہروں پر بھی مسکراہٹ بھکیر دیتے ہیں۔ ان کے ایسے یادگار گانوں میں رنگ برسے، میرے آنگنے میں، کجرارے اور کھئی کے پان بنارس والا پاک و ہند کے شائقین فلم ایک عرصے سے گنگنا رہے ہیں۔ پیش خدمت ہیں کھئی کے پان بنارس والا کے بول:
ہمم بررر ۔ ۔۔
ارے بھنگ کا رنگ چڑھا ہو چکا چک
پھر لو پان چبائے
آآ یمممم آہ
ارے ایسا جھٹکا لگے جیا پہ
پنر جنم ہوجائے
او کھئی کے پان بنارس والا
کھل جائے بند عقل کا تالا
او پھر تو ایسا کرے دھمال
سیدھی کردے سب کی چال
او چھورا گنگا کنارے والا
او چھورا گنگا کنارے والا
او کھئی کے پان بنارس والا
ارے رام دہائی! کیسے چکر میں پڑ گیا۔ ہائے! ہائے! ہائے!
کہاں جان پھنسائی! میں تو سولی پہ چڑھ گیا ہائے! ہائے! ہائے!
ارے کیسا سیدھا سادھا میں کیسا بھولا بھالا۔ ہاں! ہاں!
ارے کیسا سیدھا سادھا میں کیسا بھولا بھالا
جانے کون گھڑی میں پڑ گیا پڑھے لکھوں سے پالا
میٹھی چھری سے! میٹھی چھری سے ہوا حلال
چھورا گنگا کنارے والا
او چھورا گنگا کنارے والا
او کھئی کے پان بنارس والا
کھل جائے بند عقل کا تالا
او پھر تو ایسا کرے دھمال
سیدھی کردے سب کی چال
او چھورا گنگا کنارے والا
او چھورا گنگا کنارے والا۔ ہاں!
ایک کنیا کنواری ہمری صورت پہ مرگئی۔ ہائے! ہائے! ہائے!
ایک میٹھی کٹاری ہمرے دل میں اتر گئی۔ ہائے! ہائے!
کیسی گوری گوری، وہ تیکھی تیکھی چھوری۔ واہ! واہ!
کیسی گوری گوری، وہ تیکھی تیکھی چھوری
کرکے جورا جوری کرگئی ہمرے دل کی چوری
ملی چھوری تو، ملی چھوری تو ہوا نہال
چھورا گنگا کنارے والا
او چھورا گنگا کنارے والا
او کھئی کے پان بنارس والا
کھل جائے بند عقل کا تالا
او پھر تو ایسا کرے دھمال
سیدھی کردے سب کی چال
او چھورا گنگا کنارے والا
او چھورا گنگا کنارے والا۔ ہاں!
زمرہ جات: فلم, موسیقی
|
"اداسی" پرمنهاج الرحمان لکھتے ہیں: کمال پوسٹ ھے نعمان صاحب۔ اس ملک میں فرعونیت کی انتھا ھو چکی ھے۔ ھمارا موسی نا
"اداسی" پرابوشامل لکھتے ہیں: لیں جی آپ کو تیسری مرتبہ ہمارے بلاگ سے بھی ٹیگ کر دیا گیا ہے، اب آپ
"اداسی" پرArif Anjum لکھتے ہیں: آپ کو یہاںپر ٹیگ کردیا گیا ہے۔ پولیس کو مطلع کرنے کی کوشش نہ کیجئے اور
"برمودا مثلث" پرمحمد طفیل لکھتے ہیں: ماشاءاللّہ آپ نے اپنی قومی زبان کی بہت بڑی خدمت کرکے اپنے ہم وطنوں کو بہت اچھی
"میرا نیا کمپیوٹر" پرwaqas khan لکھتے ہیں: GALAXY COMPUTER thats enough ap logo k rates bahot zada hotay hai recently many Nvidia Geforce 8600 512mb
"میرا نیا کمپیوٹر" پرwaqas khan لکھتے ہیں: mere piyary bhaio mere ap sab sya request hai k please galaxy computers say kuch bhe na purchase
"اداسی" پررضوان نور لکھتے ہیں: بات تو غیر متعلق سی ہے مگر پھر بھی کیے دیتے ہیں کہ آپ کو اس ناچیز