ذرائع ابلاغ

موضوع: ذرائع ابلاغ

خوشامدی صحافی اور بڑھکیں

بتاریخ: 26 مارچ 2008

کچھ لوگوں کو خوشامد بڑی پسند ہوتی ہے۔ اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خوشامدیوں کو بہت پسند ہوتے ہیں۔ مسلم لیگ نواز گروپ کے سربراہ نواز شریف کو خوشامد پسند ہو کہ نہ ہو، مگر خوشامدیوں کو وہ بہت پسند ہیں۔ وہ جب بھی اقتدار میں آتے ہیں تو اخبارات ان کے جانثاروں کی بڑھکوں سے سجے نظر آنے لگتے ہیں۔ نذیر ناجی صاحب ان کے پچھلے ادوار میں ان کی بڑی توصیف کیا کرتے تھے اور ایک عطاالحق قاسمی صاحب۔ ناجی صاحب تو سکہ بند صحافی لوٹے ہیں جو اکثر طاقت کے توازن کی طرف لڑھکتے رہتے ہیں۔ لیکن قاسمی صاحب نواز شریف کے ایک دیرینہ جانثار حمایتی ہیں۔ وہ ایک کالم نویس اور مشہور مزاح نگار بھی ہیں۔ موصوف نواز شریف کی پچھلی حکومت میں ناروے کے سفیر رہ چکے ہیں۔ ان کے کالم انتہائی جانبدارانہ ہوتے ہیں۔ مجھے ان کے لکھنے کا انداز بہت پسند ہے۔ لیکن کبھی کبھی وہ اپنے پسندیدہ لیڈر کی حمایت، تعریف اور توصیف میں زمین آسمان کے قلابے ایسے ملاتے ہیں کہ پڑھنے والے کو شرم محسوس ہونے لگتی ہے کہ وہ اس عظیم الشان لیڈر کا حامی کیوں نہیں ہے۔ ایسا کرتے وقت بعض اوقات ان کی زبان عامیانہ ہوجاتی ہے اور وہ صحافتی اخلاقیات اور اردو زبان کی روایتی شائستگی اور شگفتگی کو بھی یکسر نظر انداز کردیتے ہیں۔

ہوا یوں کہ صدارتی ترجمان راشد قریشی صاحب نے بیان جاری کیا کہ:

۔نواز شریف کے علاوہ کسی سے بھی پوچھ لیا جائے سب کہتے ہیں کہ وہ صدر کے ساتھ کام کرنے کیلئے تیا ر ہیں۔اس لیے نواز شریف کو بھی کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔

جس پر نواز شریف نے جوابی بیان داغا کہ:

صدارتی ترجمان حیثیت دیکھ کر بات کریں۔ آمریت دفن کرنے کیلئے جلد قانون سازی کرنا ہوگی.

اگر حیثیت کی بات ہورہی ہے تو نواز شریف پر یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ وہ عوامی نمائندے ہیں کوئی شہنشاہ نہیں کہ جس کی حیثیت تنقید سے بالاتر ہو۔ یہ نیا پاکستان ہے، اور اب یہاں تنقید اسی طرح کی جاتی ہے۔ خود پرویز مشرف پر آٹھ سالہ دور حکومت میں لوگوں نے جی بھر کر تنقید کی ہے۔ برا بھلا کہا ہے اور برملا ملکی ٹی وی چینلز پر کہا ہے اس لئے نواز شریف کو بھی تیار رہنا ہوگا اس قسم کی تنقید سننے اور اس کا مدلل جواب دینے کے لئے۔ لیکن یہ بنیادی بات ہمارے کالم نویس عطاالحق صاحب کو بھی سمجھ نہیں آئی اور آج کے اخبار میں انہوں نے اپنے چہیتے لیڈر کی توصیف میں ایک اور کالم لکھ مارا۔ :

چوہدری نثار علی کی پریس کانفرنس بھی ٹی وی چینل پر براہ راست دیکھنے کا موقع ملا۔ ان کا لہجہ بتاتا تھا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف بطور صدر چند گھڑی کے مہمان ہیں، آپ انہیں مہمان اداکار بھی کہہ سکتے ہیں۔ چوہدری صاحب نے صدارتی ترجمان میجر جنرل (ر) راشد قریشی کی جس طرح دُھنائی کی، اس حوالے سے He asked for itوالی بات ہی کہی جا سکتی ہے کیونکہ موصوف نے پاکستانی عوام کے مقبول قائد میاں نواز شریف کے لئے جو زبان استعمال کی تھی، اس کے بعد یہ ان کا ”حق“ بنتا تھاکہ انہیں ان کی اوقات یاد دلائی جاتی.

چلیں لگتا ہے عطاالحق قاسمی صاحب، جو ہمارے دیگر معزز شعرا کی طرح یورپی اور امریکی مشاعروں کے شیدائی ہیں، اب ان کی سفارتی ذمہ داریاں شروع ہوا ہی چاہتی ہیں۔ لیکن اگر اسطرح صدر پاکستان کو اوقات یاد دلانے پر واہ واہ کرنے والے لوگ سفارتکار بنیں گے۔ تو نوازشریف وہی غلطی دہرائیں گے جو وہ پچھلے ادوار میں دہرا چکے ہیں۔ اور کالم نویسوں کو بھی یہ سمجھنا چاہئے کہ ایمانداری اور انصاف جس کی توقع وہ معاشرے سے رکھتے ہیں، معاشرہ بھی ان سے توقع رکھتا ہے کہ وہ اپنا کام ایمانداری اور غیرجانبداری سے انجام دیں گے۔

پاکستانی امیتابھ بچن

بتاریخ: 20 نومبر 2007

کل شام کی چائے کے بعد ہم سب گھر والے ساتھ ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ اب چونکہ پاکستان کے مشہور اور مقبول نیوز چینلز تو بند ہیں لحاظہ ہم بھارتی رقص و موسیقی کے دلچسپ اور تفریح سے بھرپور پروگرامز سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ اچھا ہوا صاحب اقتدار صدر محترم جنرل اعلی (بھائی ایمرجنسی ہے القابات اور طرز تخاطب کا خیال رکھنا ضروری ہے) نے نیوز چینلز بند کردئے۔ خون جلانے، دل ہولانے اور مغز کو پراگندہ کرنے والے پروگرامز اور جو وقت بچ جائے اس میں موبائل کمپنیوں کے اشتہارات دکھانے کے علاوہ ان چینلز پر آتا کیا تھا؟

بھارتی چینل پر کوئی نوجوان جوڑا امیتابھ بچن کی کسی فلم کے گیت پر رقص کا مظاہرہ کررہا تھا۔ مجھے خیال آیا کہ بھارتی ٹی وی چینلز اور میڈیا پر امیتابھ کا اس قدر ذکر ہوتا ہے، کہ کوئی چینل ایسا نظر نہیں آتا جس پر ایک گھنٹے کے اندر کم از کم ایک بار امیتابھ کا نام، اس کی کسی فلم کی جھلک، اس کا کوئی گانا، یا کوئی تذکرہ نظر نہ آئے۔ امیتابھ بچن اس وقت شاید بھارتی کلچر کا ایسا نمائندہ بن گیا ہے کہ جس کے بغیر بھارتی میڈیا اپنے خبرناموں، تفریح، معلومات، مزاح، یا ثقافتی پروگراموں کو بالکل ادھورا سمجھتا ہے۔

باقی پاکستانی ٹی وی چینلز پر ایسا نہیں، لیکن کم از کم جیو ٹی وی نیٹ ورک پر ہمارے جنرل محترم پرویز مشرف صاحب کو امیتابھ بچن جیسی ہی حیثیت حاصل تھی۔ جیو نیوز پر تو جنرل محترم کا اسقدر تذکرہ ہوتا تھا کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ گویا پاکستانیوں کی زندگی ہی مشرف صاحب کے اردگرد گھوم رہی ہے۔ کوئی ٹاک شو ہو یا دینی پروگرام، مزاحیہ خاکے ہوں یا گرینڈ ڈیبیٹ، تندو تیز سوالات کا پروگرام جوابدہ ہو، یا نرما نرم آج کامران خان کے ساتھ۔ ہر تیس منٹ میں چار چھ بار تو صاحب کا ذکر ضرور سنائی پڑتا تھا۔

ہمارے صدر محترم قابل احترم آرمی چیف جناب مشرف صاحب اور امیتابھ میں ایک اور بات ایک سی ہے۔ دونوں کو یہ خیال ہے کہ ان کا متبادل کوئی نہیں۔ اور شاید دونوں صحیح بھی ہیں۔ سوچیں اگر بھارتی چینلز سے امیتابھ کو اور پاکستانی چینلز سے مشرف صاحب کو ہٹادیں تو ٹی وی چینلز کیسے چلیں گے۔ ایسے کونسے لیجنڈری آئیکونز ہیں جو امیتابھ یا مشرف صاحب جیسے اثرانگیز ہوں؟

اب جیو ٹی وی بند ہے اور ہم اپنے امیتابھ بچن سے بھی دور ہوگئے ہیں۔ گرچہ سرکاری میڈیا اس بات کی بھرپور کوشش کررہا ہے کہ ہم جنرل صاحب صدر محترم کے افکار و خیالات، ان کی شخصیت کی اثرانگیزی کی کمی محسوس نہ کریں۔ مگر سرکاری ٹی وی چینلز بھارتی ٹی وی چینلز کی بھیڑ میں گم ہوجاتے ہیں۔ میں نے چائے کا گھونٹ بھرا اور ٹی وی پر نظر ڈالی۔

ارے دیوانوں
مجھے پہچانو
کہاں سے آیا
میں ہوں کون
میں ہوں ڈون
میں ہوں ڈون۔۔۔

امیتابھ بچن ٹی وی پر رقصاں تھا

09/09/2007

mcgruff98دوسری منزل (دی سیکنڈ فلور) نامی کافی شاپ ان دنوں کراچی میں ادبی، سماجی تقریبات کا اہم مرکز بنتی جارہی ہے۔ کل وہاں سائبر کرائم بل کے حوالے سے سیمینار منعقد ہوا جس میں بیرسٹر جمیل صاحب نے اپنی پریزینٹیشن پیش کی۔ حکومت پاکستان کا سائبر کرائم بل پاکستان میں بلاگرز، صحافیوں، اداروں اور افراد کو کنٹرول کرنے کا نیا ہتھیار ہے جس سے ایف آئی اے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی بیش بہا مواقع مل جائیں گے۔ یہ بل ابھی تک پارلیمنٹ سے منظوری کا منتظر ہے اور یہی موقع ہے کہ اس میں تبدیلیاں کرائی جاسکتی ہیں۔

ڈاکٹر علوی سیمینار کی روداد اور اس بل کی خطرناک شقوں کو بیان کرتے ہیں۔ تحریر کے ساتھ ہی جمیل کی پریزینٹیشن بھی منسلک ہے۔

09/06/2007

کراچی میٹروبلاگنگ کی ٹیم کے منی سیمینار کی روداد۔ افسوس کہ میں اس میں شرکت نہ کرسکا اور کچھ نہیں تو ایک گوگل ٹی شرٹ ہی مل جاتی۔ اردو بلاگرز کو بھی اب سنجیدگی سے ایک تقریب کا سوچنا چاہئے۔

یہ کون ہیں

بتاریخ: 20 جولائی 2007

آج بروز جمعہ ملک بھر میں شعیب منصور کی فلم “خدا کے لئے” کا افتتاح ہوگا۔ کراچی میں فلم کی زبردست ایڈوانس بکنگ جاری ہے۔ یہ بات تقریبا یقینی ہے کہ ایک عرصے کے بعد کوئی فلم کراچی میں کھڑکی توڑ کامیابی حاصل کرے گی۔ آج ایک ایسے گیت کے بارے میں بھی سنا ہے کہ جسے حدیقہ کیانی، علی حیدر، ہارون، علی ظفر، اسٹرنگز اور شفقت نے مل کر گایا ہے۔ گیت کا عنوان ہے “یہ ہم نہیں ہیں”۔ اس کا ویڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا اور اس کے تخلیق کار جن موصوف کا نام میں یاد نہ رکھ پایا ان کے خیالات بھی سنے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ گیت دنیا کے لئے پیغام ہے کہ وہ دہشت کو مسلمانوں سے منسوب نہ کریں بلکہ مسلمان جتنا دہشت گردی کا شکار ہیں اتنا دنیا میں اور کوئی نہیں۔

ایک طرف تو یہ پیغامات ہیں دوسری طرف چند لوگ ملک بھر میں سیکیوریٹی فورسز پر خود کش حملے کررہے ہیں۔

جمہوریت، انصاف اور بنیادی ضروریات زندگی کو ترستی عوام اس کشمکش سے بہت پرے ہے۔ وہ جو اس کشمکش کے اصل مظلوم ہیں وہی تماشائی بھی ہیں اور حیران ہیں کہ اگر یہ ہم نہیں ہیں، تو یہ کون ہیں؟

پاکستان، جمہوریت، فوج اور کتابیں

بتاریخ: 12 جون 2007

گزشتہ روز میں اپنے بھائی عازب کے ہمراہ چند کتابیں خریدنے اردو بازار گیا۔ تب میں نے محسوس کیا کہ تقریبا تمام کتابوں کی دکانوں پر پاکستان میں جمہوریت اور فوج کے سیاسی کردار پر لکھی گئی تنقیدی کتابیں نمایاں کرکے لگائی گئی ہیں اور سب سے زیادہ فروخت بھی ہورہی ہیں۔

جب میں نے کتابوں کی دکان پر ملٹری انک مانگی تو انہوں نے چپکے سے مجھے اندر سے کتاب ایک سفید کاغذ میں اچھی طرح لپیٹ کر لاکر دی۔ سوائے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی دکان کے اور کسی دکان پر ملٹری انک نمایاں کرکے نہیں رکھی گئی تھی۔ اس کے باوجود کتاب دھڑا دھڑ فروخت ہورہی ہے۔ پاکستان میں جہاں اردو ناولوں کی ہزار کاپیاں بڑی مشکل سے فروخت ہوتی ہیں وہاں کسی انگریزی کتاب کی چھ ہزار کاپیاں صرف دو ہفتے میں بک جانا ایک کمال ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عوام ملٹری کے معاشی اور سیاسی مفادات سے ناواقف نہیں اور وہ ان کے بارے میں مزید جاننا اور پڑھنا چاہتے ہیں۔

05/26/2007

ڈان گروپ والوں نے اپنے انگریزی خبروں کے چینل ڈان نیوز کی ٹیسٹ ٹرانسمیشن کا افتتاح کردیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت اور ڈان کے درمیان جاری تناؤ کچھ کم ہوگیا ہے۔ خود جنرل مشرف نے بہ نفس نفیس چینل کا افتتاح کیا اور اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے میڈیا کو آزادی دی۔ جنرل مشرف نے پریس کا یہ دعوی کہ پریس کی آزادی صحافیوں کی جدودجہد اور مطالبوں کا نتیجہ ہے رد کرتے ہوئے کہا کہ پریس کو آزادی دیتے وقت ان کے علم میں ایسا کوئی مطالبہ نہیں تھا۔

05/26/2007

روزنامہ جنگ کے کارٹون سیکشن میں کچھ دن سے بہت بہتری نظر آرہی ہے۔ مزاح کا عنصر بھی بہتر ہوا ہے اور تیز طرار یک سطری کیپشن بھی کافی چست ہوگئے ہیں۔ مجھے خالق خان کے کارٹون بہت پیارے لگتے ہیں۔

cartoon_jang.jpg

بدی کے مقابل پیار کا بٹن

بتاریخ: 14 مئی 2007

I Love Karachiدور پار کی کسی ریاست میں ایک عظیم شہر ہے۔ شہر جو پورا ملک ہے۔ جو حسین تو نہیں، مگر جفاکش ہے، وفا شعار ہے اور لائق بھروسا ہے۔ جو ذمہ دار ہے، بڑا ہے، قدامت، جدت، مشرق اور مغرب کے بیچ میں کھڑا ہے۔ جو ایک پل ہے معاشی خوشحالی کا، خوابوں کا۔ جہاں پری زاد اور پریاں رہتی ہیں۔ جہاں برے جادوگر اور شیطان بھی بستے ہیں۔ یہ بدی کی طاقتیں ایک عرصے سے اس شہر کے پیچھے پڑی ہیں۔ یہاں کے رہنے والوں کو دہشت زدہ کرکے یہ ان کے خواب ان سے چھین لینا چاہتے ہیں۔ یہ برے جادوگر چاہتے ہیں کہ اس شہر میں ہر طرف فساد، آگ اور خون ہو۔

ان برے جادوگروں کے مقابلے میں ایک ننھا پری زاد ایک چھوٹا سے بٹن بناتا ہے۔ یہ بٹن ہے پیار کا۔ ننھا پری زاد لوگوں سے کہتا ہے کہ اپنے دروازوں، کھڑکیوں، لباس اور سواریوں پر یہ بٹن چسپاں کرلو۔ اس بٹن میں وہ منتر ہے جو بدی کی طاقتوں کے سارے مظالم کا جواب ہے۔ اسے دیکھ کر شیطان بھاگ تو نہیں جائیں گے، مگر یہ ان پر ویسا ہی اثر کرے گا جیسا آگ اور خون کی ہولی تم پر کرتی ہے۔ اس بٹن سے وہ شیطان دہشت زدہ ہوجائیں گے۔

آپ بھی اس ننھے پری زاد کا یہ جادوئی بٹن اپنے بلاگ، گاڑیوں، گھروں اور دکانوں پر لگائیں اور اس عظیم شہر کے مظلوم عوام کا ساتھ دیں۔

آج کو سلام

بتاریخ: 13 مئی 2007

بارہ مئی کو کراچی کے لوگوں کی ترجیحات بدل گئی ہیں، اب اگر لوگوں کو شہر میں ہونے والے واقعات کی بغیر چھانٹی کی گئی کوریج دیکھنا ہوگی تو وہ جیو نیوز کے بجائے آج ٹی وی کا رخ کریں گے۔

آج ٹی وی نے شہر بھر کے مختلف علاقوں سے لائیو کوریج پیش کی۔ ان کے رپورٹرز کی بہادری، جرات اور فرض شناسی لائق تحسین ہے۔ جس وقت جیو ٹی وی الطاف حسین کا خطاب نشر کررہا تھا اس وقت آج ٹی وی شارع فیصل پر فائرنگ کے واقعات دکھا رہا تھا جس کے بعد منٹوں میں آنا فانا آج ٹی وی کے دفاتر کو متحدہ قومی موومنٹ کے مسلح کارکنان نے گھیر لیا۔ چھ گھنٹے تک لگاتار آج ٹی وی کے دفتر اور اس کے اردگرد کے علاقے کو دہشت گردوں نے یرغمال بنائے رکھا۔ کراچی میٹرو بلاگنگ کے ایم بی نے اس واقعے کی لائیو بلاگنگ میٹروبلاگ پر شائع کی۔

آج ٹی وی نے اس دہشت گرد ٹولے کو براہ راست عوام کے سامنے پیش کیا۔ ان کے ہاتھوں میں متحدہ قومی موومنٹ کے جھنڈے تھے اور سینے پر بیج آویزاں تھے۔ انہوں نے آج ٹی وی کے دفتر اسٹریٹ فائر کرے جس سے نیوز روم کی کھڑکیاں چکنا چور ہوگئیں۔

اس حملے سے پہلے ہفتے کی رات جب شارع فیصل بلاک کی گئی اور ہزارہا گاڑیاں شہر کے مختلف علاقوں سے شارع فیصل پر آملنے والی سڑکوں پر جمع ہوگئیں تو آج ٹی وی نے اس کی براہ راست نشریات پیش کی اور ان کے رپورٹرز نے بتایا کہ شارع فیصل پر ایم کیو ایم کی ریلی نکل رہی ہے۔ اس موقع پر رپورٹرز نے عوامی جذبات کی کھلم کھلا ترجمانی کی اور انتظامیہ، ایم کیو ایم اور حکومت کے بارے میں لوگوں کے سخت الفاظ دہرائے۔ اس سے پہلے بھی ایک بار شہر بھر میں آج ٹی وی کی نشریات بند کردی گئی تھی۔

اردو سیارہ امپورٹ کریں

بتاریخ: 08 مئی 2007

feed-icon.pngاردو سیارہ ایک تیز ترین ذریعہ ہے اردو بلاگز پر نظر رکھنے کا۔ لیکن اردو سیارہ پر آپ مکمل پوسٹس نہیں پڑھ پاتے۔ اس کے علاوہ آپ ان اردو بلاگز پر شائع ہونے والی انگریزی پوسٹس بھی نہیں پڑھ پاتے۔ تصاویر اور روابط بھی اردو سیارہ پر نظر نہیں آتے۔ اس کا آسان ترین حل یہ ہے کہ آپ اردو سیارہ پر شامل تمام بلاگ کسی فیڈریڈر پر جاری کرالیں۔

مگر سیارہ پر تو فیڈز کی ایک طویل فہرست ہے ان سب کو کیسے شامل کیا جاسکتا ہے؟

اس کا حل بھی سیارے پر ہی موجود ہے۔ پیش خدمت ہے اردو سیارہ پر جاری فیڈز کی او پی ایم ایل فہرست۔ آپ اکثر اچھے فیڈ ریڈرز میں یہ او پی ایم ایل فیڈ امپورٹ کرسکتے ہیں۔

سیارے کی انتظامیہ سے درخواست کرونگا کہ وہ اس او پی ایم ایل فیڈ کا ربط، سیارہ کی سائیڈ بار میں اہم کے زمرے میں شامل کردیں تاکہ لوگ ان روابط کو اپنے بلاگ رول، فیڈ ریڈر یا بک مارکس وغیرہ پر امپورٹ کرسکیں۔

لال مسجد نفاذ شریعت اور تاثرات دیگر

بتاریخ: 09 اپریل 2007

آج کے اخبار روزنامہ جنگ میں مولانا سلیم اللہ خان، صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا مراسلہ شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے وفاق المدارس کا جامعہ حفصہ کی کاروائیوں کے بارے میں موقف بیان کیا ہے۔ جنگ کے اردو سرچ صفحات پر تو میں یہ مضمون نہیں تلاش سکا تاہم اس کی خبر ملاحظہ فرمائیں اور چاہیں تو جنگ ملٹی میڈیا پر اصل مضمون کا مطالعہ کریں۔

روزنامہ جنگ پر ہی معروف کالم نگار منو بھائی کا کالم، شاخیں اور جڑیں جامعہ حفصہ کے کرتا دھرتاؤں پر بڑے کاٹ دار لہجے میں طنز کرتے ہوئے منو بھائی لکھتے ہیں:

شمیم اختر کے پڑوسیوں نے حکومت سے کہا ہے کہ حکومت شمیم اختر کے رہائشی مکان کی الاٹمنٹ منسوخ کردے اور انہیں کسی اور علاقے میں بھیج دے۔ ایک پریس کانفرنس میں شمیم اختر کے پڑسیوں نے بتایا کہ حکومت نے شمیم اختر کے بیٹے کو جی6فور کی گلی87 میں گھر الاٹ کیا ہے اور وہ( شمیم اختر) وہاں بھی آنے لگی ہیں ،چنانچہ وہاں کے پڑوسیوں کو اندیشہ لاحق ہوگیا ہے کہ وہ جسم فروشی کا دھندہ وہاں بھی شروع کردیں گی اور اگر ان کے اس علاقے میں داخلے پر پابندی نہ لگائی گئی تو عام لوگوں کے لئے بہت ہی مشکل بلکہ ناممکن ہو جائے گا کہ وہ دعوت گناہ کو قبول کرنے سے انکار کردیں، چنانچہ محترمہ شمیم اختر اور ان کے بیٹے کو کسی اور علاقے میں بھیج دیا جائے جہاں کے لوگ دعوت گناہ قبول کرنے سے انکار کردیں یا جہاں کے لوگوں کے سسٹم میں مطلوبہ سہولت کی کوئی گنجائش ہی نہ ہو۔

انگریزی روزنامہ ڈیلی ٹائمز کراچی کے مختلف مدارس سے اس سلسلے میں رابطہ کرتا ہے۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے الحاق شدہ تمام مدارس کے علماء کرام نے جامعہ حفصہ کے قدم کو غیر اسلامی، غیر ضروری اور غیر قانونی قرار دیا ہے۔ وفاق المدارس العربیہ کے تحت چلنے والے سب سے بڑے ادارے کراچی کی جامعہ دارالعلوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے ترجمان قاری محمد اقبال کا کہنا ہے کہ کراچی کے لوگوں کو خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کے الطاف حسین نے گزشتہ شب ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈنڈا بردار شریعت کا بزور طاقت نفاذ برداشت نہیں کیا جائیگا اور اس کے خلاف پندرہ اپریل کو احتجاجی ریلی منعقد کی جائیگی۔

انگریزی روزنامہ دی نیوز پر میر جمیل الرحمن لکھتے ہیں:

انگریزی سے ترجمہ:

ایسے شخص کی جنس کا تعین کرنا تقریبا ناممکن ہے جو سر سے پیر تک کالا برقعہ اوڑھے ہو۔ وہ لمبی ہیں اور ان میں سے کوئی ہی بمشکل پانچ فٹ نو انچ سے کم قامت کی ہوگی جو کہ پاکستان میں خواتین کی اوسط قامت سے کہیں زیادہ ہے۔

انگریزی بلاگ چائے خانہ پر ایک پوسٹ “اب تیرا کیا بنے گا کالیا” میں بلاگر مشرف سے اپیل کرتے ہیں کہ جیسا کہ ملک کے چیف جسٹس کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا ہے وہ امید کرتے ہیں کہ اس خود ساختہ عدالت کے خالق کو بھی سڑکوں پر گھسیٹا جائیگا۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے ملک میں بڑھتی ہوئی انارکی، مذہبی انتہاپسندی اور شہریوں کی پراسرار گمشدگیوں پر اپنی تشویش کا اعادہ کیا ہے۔ کمیشن نے حالیہ میٹنگ کے بعد یہ پریس ریلیز جاری کی ہے۔