کڑیاں

موضوع: کڑیاں

ویب سے دنیا بھر کے روابط آپ کی براؤسنگ کے لئے۔

08/22/2008

اردو بلاگستان میں گزشتہ دنوں اٹھنے والے سوالات:

۱۔ کیا طالبان مسلمان ہیں؟
۲۔ پہلے لڑکیوں کے اسکول نذرِ آتش اور اب۔۔۔

05/05/2008

سائنسدان کافی عرصے سے زمین پر موجود دوسرے جانداروں میں ذہانت پر تحقیق کررہے ہیں۔ پتہ چلا ہے کہ بڑے بن مانس اور بوتل جیسی گردن والی ڈولفنز کافی ذہین مخلوق ہیں۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ڈولفن ان چند جانوروں میں سے ایک ہے جو اپنے وجود سے آگاہی رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ پیچیدہ گتھیاں سلجھانے کی قابلیت بھی رکھتی ہیں۔ ان کے درمیان سماجی شعور بھی پایا جاتا ہے، یہ آواز کو ابلاغ کے لئے استعمال کرنے کے فن میں عام جانوروں سے کہیں زیادہ اور انسان سے کچھ ہی کم مہارت رکھتی ہیں۔ موسیقی سے ان کے شغف کی خبر تو پرانی ہے، اب پتہ چلا ہے کہ یہ ٹیلیوژن سے بھی لطف اندوز ہوتی ہیں۔ نقل اتارنے کے فن میں یہ بندر اور بن مانس سے اگر کم ہیں تو کیا تخلیق، ترکیب اور تدبیر میں ان سے آگے ہیں۔ یہ بات بھی لائق ذکر ہے کہ ان میں سے کچھ اقسام اوزاروں کے استعمال سے بھی واقف ہیں۔ بن مانس، اور انسان کی ذہانت کو دیکھیں تو ڈولفن کی ذہانت حیرت انگیز نظر آتی ہے۔ کیونکہ ڈولفن اور انسان کا ارتقائی رشتہ بہت دور کا ہے اور اس میں خشکی اور تری کے ماحول کا فرق بھی حائل ہے۔

02/21/2008

پیپلز پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ نے سندھ ہائیکورٹ میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے دو سو پچاس کے انتخابی نتائج کا سرکاری اعلان روکنے اور حلقے میں دوبارہ انتخابات کرانے کی درخواست دائر کی ہے۔

روزنامہ امت میں ڈاکٹر اختیار بیگ کا انٹرویو۔ (شکریہ می)

پیپلز پارٹی نے کراچی کے چار حلقوں میں دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

02/19/2008

چوہدری شجاعت حسین اپنے گڑھ گجرات میں پیپلز پارٹی کے چوہدری مختار کے ہاتھوں شکست فاش سے دوچار  ہوگئے ہیں۔

02/18/2008

خالد عمر بھی اپنا ووٹ ڈالنے گئے لیکن کافی دوڑ دھوپ کے بعد بھی ان کا نام کسی ووٹر فہرست میں نہ نکلا۔ لیکن دھاندلی کے تقریبا وہی واقعات جو ڈاکٹر علوی اور نعمان نے بیان کرے۔ خالد عمر نے بھی دہرائے ہیں۔

02/18/2008

میٹروبلاگ کراچی پر ڈاکٹر علوی نے ہمارے حلقے کے انتخابات کا جائزہ پیش کیا اور قارئین سے ووٹ طلب کیا کہ وہ کسے ووٹ دیں گے۔ حیرت انگیز طور پر ان کے پول بھی میں خوش بخت جیتتی نظر آرہی ہیں۔ (اف خدا یہ اس دنیا کو کیا ہوتا جارہا ہے کم از کم میٹروبلاک کے قارئین سے میں یہ توقع نہیں رکھتا تھا)۔

02/18/2008

جیو پر اپنے حلقے کے نتائج دیکھیں۔

واضح رہے یہ نتائج فی الحال حتمی نہیں کہے جاسکتے۔

02/09/2008

ہمارے حلقے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد کردہ امیدوار برائے رکنیت قومی اسمبلی ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ کا ویب سائٹ۔ ڈاکٹر بیگ کے مقابل متحدہ قومی موومنٹ کی نامزد کردہ امیدوار بیگم خوش بخت شجاعت الیکشن لڑرہی ہیں۔ جماعت اسلامی کے بائیکاٹ کے سبب اس بات کا قوی امکان ہے کہ خوش بخت شجاعت کامیابی حاصل کرلیں گی۔

میں خوش بخت شجاعت کو ووٹ دینے کا فیصلہ کرچکا تھا مگر ڈاکٹر صاحب کے جنگ میں شائع ہونے والے مضامین اور ان کے بارے میں ادھر ادھر پڑھنے کے بعد میں ایک مرتبہ پھر کنفیوز ہوں۔ ڈاکٹر صاحب کو محترمہ کی شہادت کا ایڈوانٹیج بھی حاصل ہے۔ شاید میں ڈاکٹر صاحب کو ہی ووٹ دے ڈالوں۔

01/03/2008

امریکی جریدے نیویارکر کے مدیر، پلٹزر پرائز یافتہ صحافی اور ادیب، ڈیوڈ ریمنک اس ہفتے کے نیویارکر پر “ٹاک آف دی ٹاؤن” سیکشن میں بےنظیر بھٹو اور امریکی صدارتی امیدواران کے بارے میں لکھتے ہیں۔ اس سے یہ اندازہ لگانا دشوار نہیں کہ پاکستان کا عدم استحکام، انتہاپسندی اور لبرل، معتدل، سویلین قوتوں کی پسپائی دنیا کے لئے کس قدر فکر کا باعث ہے۔

01/02/2008

فاطمہ بھٹو: الوداع بڑی بوا ۔۔۔ الوداع

حکومت پاکستان کے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نے بیت اللہ محسود اور مولوی کے درمیان ہونے والی گفتگو کی ریکارڈنگ اپنے ویب سائٹ پر جاری کردی ہے۔

نادیہ خان شو پر محترمہ کے اسکول و کالج کے ساتھیوں اور دیگر دوست احباب کے انٹرویو۔

12/31/2007

گڑیوں نے گاؤں کی قسمت بدل دی

جرمنی کے دارالحکومت برلن کے جنوب مغرب میں واقع ایک خوبصورت اور تاریخی شہر پاٹس ڈیم کی ایک گلی شہر کے لوگوں کے لیے خاص طور پر دلچسپی کا باعث ہے، جہاں سےگزرنے والے راہگیر اکثر تین سو سال پرانے ایک گھر کے داخلی دروازے کے پاس دیوار پہ لگی پیتل کی اس تختی کو نہایت تجسس سے دیکھتے ہیں جس پر اس گھر کا نام لکھا ہے۔ گھر کا نام ہے ’پاکستان ہاؤس‘۔

12/30/2007

نیویارک ٹائمز پر:
پاکستان کے مقامی دہشتگرد، القاعدہ خطرے میں اضافے کا سبب

پاکستانی انگریزی اخبار ڈیلی ٹائمز اپنے ادارئے میں لکھتا ہے کہ حملے کرکے جھٹلانا القاعدہ کے لئے کوئی نئی بات نہیں۔ گرچہ محترمہ کو اس بات کا اندازہ تھا کہ القاعدہ اور طالبان کی ٹاپ ہٹ لسٹ پر ان کا نام ہے اور یہ کہ ان کے سیاسی مخالفین بھی انہیں مکمل امریکہ نواز اور پرو مشرف ثابت کرنے پر تلے ہیں۔ تب بھی وہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کو پاکستان کو لاحق سب سے بڑا خطرہ قرار دیتی رہیں۔ انہیں اس بات کی پرواہ نہیں تھی کہ اس سے وہ امریکہ نواز ثابت ہورہی ہیں اور اس کا اثر ووٹوں پر پڑ سکتا ہے۔

چاہے آپ اس بات سے سرے سے انکاری ہوں کہ بےنظیر کا قتل القاعدہ کے مقامی دہشتگردوں نے کیا ہے۔ تب بھی اس حقیقت سے انکار کرنا بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلینے کے مترادف ہوگا کہ پاکستان کو انتہاپسند دہشت گردوں سے شدید خطرہ لاحق ہے۔ قوم کو چاہے دہشت گردی سے نمٹنے کے مشرف کے طریقہ کار پر اعتراض ہو، لیکن ایک بھیانک خطرہ جو بالکل سامنے کھڑا ہے اسے پہچان لینا چاہئے۔ محترمہ کے مخالفین ان پر امریکہ کا پٹھو اور مشرف نواز ہونے کا الزام لگاتے رہے۔ لیکن اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بھی وہ پاکستان کے اینٹی امریکی ماحول میں بھی سچ کہتی رہیں، یہ سوچنا حماقت ہوگا کہ محترمہ کو پرو امریکہ ہونے کے سیاسی اور انتخابی مضمرات سے آگاہی نہیں تھی یا یہ کہ وہ روایت پسند اردو میڈیا پر کی جانیوالی اپنی کردارکشی سے بے خبر تھیں۔ لیکن ان کے ذہن میں بھی ضرور یہ خیال تھا کہ کیا ہم دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ صرف اس لئے نہ لڑیں کیونکہ یہ امریکہ کے مفاد میں ہے؟ کیا ہزاروں پاکستانیوں کی زندگیوں کو لاحق خطرہ بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو ہماری جنگ نہیں بناتا۔