اردو بلاگستان میں گزشتہ دنوں اٹھنے والے سوالات:
۱۔ کیا طالبان مسلمان ہیں؟
۲۔ پہلے لڑکیوں کے اسکول نذرِ آتش اور اب۔۔۔
ویب سے دنیا بھر کے روابط آپ کی براؤسنگ کے لئے۔
اردو بلاگستان میں گزشتہ دنوں اٹھنے والے سوالات:
۱۔ کیا طالبان مسلمان ہیں؟
۲۔ پہلے لڑکیوں کے اسکول نذرِ آتش اور اب۔۔۔
سائنسدان کافی عرصے سے زمین پر موجود دوسرے جانداروں میں ذہانت پر تحقیق کررہے ہیں۔ پتہ چلا ہے کہ بڑے بن مانس اور بوتل جیسی گردن والی ڈولفنز کافی ذہین مخلوق ہیں۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ڈولفن ان چند جانوروں میں سے ایک ہے جو اپنے وجود سے آگاہی رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ پیچیدہ گتھیاں سلجھانے کی قابلیت بھی رکھتی ہیں۔ ان کے درمیان سماجی شعور بھی پایا جاتا ہے، یہ آواز کو ابلاغ کے لئے استعمال کرنے کے فن میں عام جانوروں سے کہیں زیادہ اور انسان سے کچھ ہی کم مہارت رکھتی ہیں۔ موسیقی سے ان کے شغف کی خبر تو پرانی ہے، اب پتہ چلا ہے کہ یہ ٹیلیوژن سے بھی لطف اندوز ہوتی ہیں۔ نقل اتارنے کے فن میں یہ بندر اور بن مانس سے اگر کم ہیں تو کیا تخلیق، ترکیب اور تدبیر میں ان سے آگے ہیں۔ یہ بات بھی لائق ذکر ہے کہ ان میں سے کچھ اقسام اوزاروں کے استعمال سے بھی واقف ہیں۔ بن مانس، اور انسان کی ذہانت کو دیکھیں تو ڈولفن کی ذہانت حیرت انگیز نظر آتی ہے۔ کیونکہ ڈولفن اور انسان کا ارتقائی رشتہ بہت دور کا ہے اور اس میں خشکی اور تری کے ماحول کا فرق بھی حائل ہے۔
پیپلز پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ نے سندھ ہائیکورٹ میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے دو سو پچاس کے انتخابی نتائج کا سرکاری اعلان روکنے اور حلقے میں دوبارہ انتخابات کرانے کی درخواست دائر کی ہے۔
روزنامہ امت میں ڈاکٹر اختیار بیگ کا انٹرویو۔ (شکریہ می)
پیپلز پارٹی نے کراچی کے چار حلقوں میں دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
چوہدری شجاعت حسین اپنے گڑھ گجرات میں پیپلز پارٹی کے چوہدری مختار کے ہاتھوں شکست فاش سے دوچار ہوگئے ہیں۔
خالد عمر بھی اپنا ووٹ ڈالنے گئے لیکن کافی دوڑ دھوپ کے بعد بھی ان کا نام کسی ووٹر فہرست میں نہ نکلا۔ لیکن دھاندلی کے تقریبا وہی واقعات جو ڈاکٹر علوی اور نعمان نے بیان کرے۔ خالد عمر نے بھی دہرائے ہیں۔
میٹروبلاگ کراچی پر ڈاکٹر علوی نے ہمارے حلقے کے انتخابات کا جائزہ پیش کیا اور قارئین سے ووٹ طلب کیا کہ وہ کسے ووٹ دیں گے۔ حیرت انگیز طور پر ان کے پول بھی میں خوش بخت جیتتی نظر آرہی ہیں۔ (اف خدا یہ اس دنیا کو کیا ہوتا جارہا ہے کم از کم میٹروبلاک کے قارئین سے میں یہ توقع نہیں رکھتا تھا)۔
ہمارے حلقے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد کردہ امیدوار برائے رکنیت قومی اسمبلی ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ کا ویب سائٹ۔ ڈاکٹر بیگ کے مقابل متحدہ قومی موومنٹ کی نامزد کردہ امیدوار بیگم خوش بخت شجاعت الیکشن لڑرہی ہیں۔ جماعت اسلامی کے بائیکاٹ کے سبب اس بات کا قوی امکان ہے کہ خوش بخت شجاعت کامیابی حاصل کرلیں گی۔
میں خوش بخت شجاعت کو ووٹ دینے کا فیصلہ کرچکا تھا مگر ڈاکٹر صاحب کے جنگ میں شائع ہونے والے مضامین اور ان کے بارے میں ادھر ادھر پڑھنے کے بعد میں ایک مرتبہ پھر کنفیوز ہوں۔ ڈاکٹر صاحب کو محترمہ کی شہادت کا ایڈوانٹیج بھی حاصل ہے۔ شاید میں ڈاکٹر صاحب کو ہی ووٹ دے ڈالوں۔
امریکی جریدے نیویارکر کے مدیر، پلٹزر پرائز یافتہ صحافی اور ادیب، ڈیوڈ ریمنک اس ہفتے کے نیویارکر پر “ٹاک آف دی ٹاؤن” سیکشن میں بےنظیر بھٹو اور امریکی صدارتی امیدواران کے بارے میں لکھتے ہیں۔ اس سے یہ اندازہ لگانا دشوار نہیں کہ پاکستان کا عدم استحکام، انتہاپسندی اور لبرل، معتدل، سویلین قوتوں کی پسپائی دنیا کے لئے کس قدر فکر کا باعث ہے۔
فاطمہ بھٹو: الوداع بڑی بوا ۔۔۔ الوداع
حکومت پاکستان کے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نے بیت اللہ محسود اور مولوی کے درمیان ہونے والی گفتگو کی ریکارڈنگ اپنے ویب سائٹ پر جاری کردی ہے۔
نادیہ خان شو پر محترمہ کے اسکول و کالج کے ساتھیوں اور دیگر دوست احباب کے انٹرویو۔
جرمنی کے دارالحکومت برلن کے جنوب مغرب میں واقع ایک خوبصورت اور تاریخی شہر پاٹس ڈیم کی ایک گلی شہر کے لوگوں کے لیے خاص طور پر دلچسپی کا باعث ہے، جہاں سےگزرنے والے راہگیر اکثر تین سو سال پرانے ایک گھر کے داخلی دروازے کے پاس دیوار پہ لگی پیتل کی اس تختی کو نہایت تجسس سے دیکھتے ہیں جس پر اس گھر کا نام لکھا ہے۔ گھر کا نام ہے ’پاکستان ہاؤس‘۔
نیویارک ٹائمز پر:
پاکستان کے مقامی دہشتگرد، القاعدہ خطرے میں اضافے کا سبب
پاکستانی انگریزی اخبار ڈیلی ٹائمز اپنے ادارئے میں لکھتا ہے کہ حملے کرکے جھٹلانا القاعدہ کے لئے کوئی نئی بات نہیں۔ گرچہ محترمہ کو اس بات کا اندازہ تھا کہ القاعدہ اور طالبان کی ٹاپ ہٹ لسٹ پر ان کا نام ہے اور یہ کہ ان کے سیاسی مخالفین بھی انہیں مکمل امریکہ نواز اور پرو مشرف ثابت کرنے پر تلے ہیں۔ تب بھی وہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کو پاکستان کو لاحق سب سے بڑا خطرہ قرار دیتی رہیں۔ انہیں اس بات کی پرواہ نہیں تھی کہ اس سے وہ امریکہ نواز ثابت ہورہی ہیں اور اس کا اثر ووٹوں پر پڑ سکتا ہے۔
چاہے آپ اس بات سے سرے سے انکاری ہوں کہ بےنظیر کا قتل القاعدہ کے مقامی دہشتگردوں نے کیا ہے۔ تب بھی اس حقیقت سے انکار کرنا بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلینے کے مترادف ہوگا کہ پاکستان کو انتہاپسند دہشت گردوں سے شدید خطرہ لاحق ہے۔ قوم کو چاہے دہشت گردی سے نمٹنے کے مشرف کے طریقہ کار پر اعتراض ہو، لیکن ایک بھیانک خطرہ جو بالکل سامنے کھڑا ہے اسے پہچان لینا چاہئے۔ محترمہ کے مخالفین ان پر امریکہ کا پٹھو اور مشرف نواز ہونے کا الزام لگاتے رہے۔ لیکن اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بھی وہ پاکستان کے اینٹی امریکی ماحول میں بھی سچ کہتی رہیں، یہ سوچنا حماقت ہوگا کہ محترمہ کو پرو امریکہ ہونے کے سیاسی اور انتخابی مضمرات سے آگاہی نہیں تھی یا یہ کہ وہ روایت پسند اردو میڈیا پر کی جانیوالی اپنی کردارکشی سے بے خبر تھیں۔ لیکن ان کے ذہن میں بھی ضرور یہ خیال تھا کہ کیا ہم دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ صرف اس لئے نہ لڑیں کیونکہ یہ امریکہ کے مفاد میں ہے؟ کیا ہزاروں پاکستانیوں کی زندگیوں کو لاحق خطرہ بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو ہماری جنگ نہیں بناتا۔
"کراچی کی طالبانائزیشن" پرجاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین لکھتے ہیں: :۔ ‘‘حکومت سندھ کو ام احسان سمیت تمام ایسے لوگوں پر پابندی لگانی چاہئے جو انتہاپسندی پر
"کراچی کی طالبانائزیشن" پرنعمان لکھتے ہیں: ہم یہاں لسانی تعصب کی بات نہیں کررہے. میرا خیال ہے موضوع گفتگو جنگ زدہ علاقوں سے
"کراچی کی طالبانائزیشن" پراحمد سولنگی لکھتے ہیں: پہلے ہم سب پنجابی، پختون، سندھی، بلوچ بنیں پھر پاکستانی بنیں گے ہر ایک اپنے شہر اور
"اردو بلاگستان پر ایک مضمون" پرحیدرآبادی لکھتے ہیں: نعمان صاحب ! اگر اس شمارے کی پ۔ڈ۔ف ناچیز کو بھی ای۔میل کر دیں تو بہت بہت
"کراچی کی طالبانائزیشن" پرخاور بلال لکھتے ہیں: راہبر نسلی تعصب نے کراچی کی ایک نسل تباہ کردی ہے، کم از کم آپ اپنے بھائ
"کراچی کی طالبانائزیشن" پرراہبر لکھتے ہیں: احمد سولنگی! صوبہ سرحد میں سندھی یا اردو آبادی سے کیا لینا دینا؟ ویسے میرے نزدیک پنجاب میں
"Urdu Read Write and Blogging Support" پریاسر عمران لکھتے ہیں: brother I need an urdu language pack for wordpress or an urdu package of wordpress can you help me please,