کراچی

موضوع: کراچی

کراچی بندر سے تاثرات

لیاری گینگ وار اور کراچی کا امن و امان

بتاریخ: 18 مئی 2008

کراچی میں اب تک پانچ مبینہ ڈاکوؤں کو زندہ جلایا جاچکا ہے جن میں سےچار ہلاک ہوچکے ہیں۔ کسی نے اسے معاشرے میں بڑھتے ہوئے تشدد کے رجحان کا اشارہ بتایا، کسی نے اسے عوام کی انتقامی کاروائی قرار دے دیا۔ جتنے لوگ اتنی باتیں۔ لیکن اس فعل کی حوصلہ افزائی کرنے والوں نے کیا یہ سوچا ہے کہ اسطرح جرائم کم ہونگے؟ نہیں، بلکہ اس سے ڈاکو خوفزدہ تو ضرور ہوجائیں گے اور ایک خوفزدہ ڈاکو جس کے ہاتھ میں گن ہو اور جسے یہ ڈر ہو کہ اگر پکڑا گیا تو زندہ نہیں بچے گا وہ کس قدر خطرناک ہوگا؟ یہاں تو موبائل چھیننے میں ذرا سی مزاحمت پر دھائیں سے گولی داغ دیتے ہیں۔

اس المیے کا ایک اور المناک پہلو اخبارات اور ٹیلیوژن کا اس کو کوریج دینا بھی تھا۔ دنیا کے اکثر مہذب ممالک میں ٹیلیوژن پر سوختہ لاشیں نہیں دکھائی جاتیں۔ یہاں ہمارا میڈیا لاشیں بھی دکھا رہا ہے، ان سے اٹھنے والے شعلے بھی اور ان کے گرد کھڑا ہوا مجمع بھی۔ دردناک امر یہ ہے کہ اس مجمعے میں آٹھ سے دس سال کے بچے بھی کھڑے ہیں۔ جو خوش ہیں اور تالیاں بجارہے ہیں۔ واقعی ہم لوگ غاروں کے دور کے وحشی انسان سے بھی بدتر ہوگئے ہیں جہالت اور بربریت میں دنیا اگر ہماری مثال دے تو کچھ غلط نہ ہوگا۔

لیکن اس واقعے کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ جو اکثر اخبارات اپنی کاروباری اور سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے نظر انداز کردیتے ہیں۔ وہ ہے لیاری گینگ وار۔ پاکستان کے دیگر علاقوں میں رہنے والے شاید اس گینگ وار کے پس منظر سے اتنی اچھی طرح آگاہ نہ ہوں۔ خود مجھے بھی اس کا اتنا زیادہ علم نہیں ہے اس لئے کراچی کے بلاگرز سے درخواست ہے کہ وہ اس مسئلے کو انوسٹیگیٹ کریں اور اسے اپنے بلاگز پر نمایاں کریں۔

لیاری گینگ وار کے متاثرین

لیاری ایک بہت بڑا علاقہ ہے اور یہ کراچی کی قدیم ترین بستیوں پر مشتمل ہے۔ انگریزوں کے آنے سے پہلے یہاں وہ مکرانی لوگ رہتے تھے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ افریقہ کے غلاموں کی نسل ہیں جو کبھی بھاگ کر مکران کے ساحلوں پر پناہ گزیں ہوئی۔ بعد ازاں کچھی، سندھی، میمن قومیتوں نے بھی یہاں آبادیاں بنائیں۔ بلوچ بھی ایک بڑی تعداد میں یہاں رہتے ہیں۔ یہ علاقہ شہر کے پسماندہ ترین علاقوں میں سے ایک ہے۔ گرچہ ہر حکومت نے عموما اور پیپلز پارٹی کے ادوار میں خصوصا اس علاقے میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بڑی رقوم خرچ کی گئی ہیں لیکن یہاں کے لوگوں کی قسمت نہ بدلی۔ اسی کی دہائی میں جب پاکستان میں کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر عام ہوا تو لیاری ہی وہ علاقہ تھا جو اسمگلنگ کا گڑھ بنا۔ آج بھی یہاں شراب چرس ہیروئن اور اسلحہ فروخت بھی ہوتا ہے بلکہ پورے پاکستان کو سپلائی بھی کیا جاتا ہے۔ پچھلی حکومت کے دور میں اس گینگ وار کا آغاز ہوا جب لیاری کے دو گینگ ایک دوسرے سے برسرپیکار ہوگئے۔ کہا جاتا ہے کہ پچھلی حکومت نے جرائم سے نمٹنے کے لئے ہندوستان کے شہر بمبئی کا آزمودہ نسخہ اپنایا۔ یعنی جرائم پیشہ افراد کو آپس میں لڑا کر انہیں ایک علاقے تک محدود کردیا جائے جہاں وہ ایک دوسرے سے لڑ بھڑ کر کمزور ہوجائیں۔

جب ان جرائم پیشہ افراد کا کاروبار آپسی لڑائی اور حکومت کی سختی کی وجہ سے کم ہوا تو ان کے معمولی کارندوں نے پورے شہر میں ڈکیتیوں، موبائل چھیننے اور کاریں و موٹر سائیکلیں چھیننے کو کاروبار بنالیا اور پورے شہر میں اسٹریٹ کرائم پھیل گئے۔ کہا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک گروہ کو پچھلی حکومت کی سرپرستی حاصل تھی اور دوسرے گروہ کو موجودہ حکومت کے عناصر کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اگر ایسا ہے تو گینگ وار مزید سنگین ہوجائیگی۔ جس سے شہر میں ڈکیتیوں اور سڑکوں پر ہونے والے جرائم میں مزید اضافہ ہوگا۔

چودہ مئی کو ڈاکوؤں کو جس علاقے میں جلایا گیا ہے وہ لیاری ہی میں لگتا ہے۔ لیاری کے جرائم پیشہ عناصر کے ٹھکانے لیاری سے باہر عثمان آباد اور رنچھوڑلائن تک پھیل چکے ہیں۔ ان علاقوں میں بھی منشیات کا کام عروج پر ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ شعیب سڈل ان مسائل سے کیسے نمٹیں گے۔ ان کے کیرئر پر نظر ڈالیں تو وہ جہاں گئے ہیں وہاں تشدد کی چنگاریوں نے مزید شعلے ہی بھڑکائے ہیں۔ کراچی اور بلوچستان اس کی دو مثالیں ہیں۔ جرائم سے بذریعہ سختی و تشدد نمٹنا اب ایک قدیم اور دنیا بھر میں متروک طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ ان سے نمٹنے کے لئے ڈسپلن، ٹیکنالوجی اور عوامی بیداری ہی صحیح ہتھیار ہیں۔ میرے ایک دوست جو کراچی پولیس کے بڑے مداح ہیں وہ کہتے ہیں کہ کراچی کی پولیس پاکستان بھر میں کارکردگی کے لحاظ سے سب سے بہتر ہے۔ اور میں ہمیشہ ان کا مذاق اڑاتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ کراچی پولیس کا طریقہ کار ابھی بھی وہی انگریز راج کا ہے جسے بدلنے کی ضرورت ہے، ٹیکنالوجی اور تنخواہوں میں دو سو فیصد اضافہ کرے بغیر ان کی کارکردگی میں مزید بہتری کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

بدی کو کوسیں، بدنام کو نہیں

بتاریخ: 10 اپریل 2008

مجھے اپنے ہموطنوں سے شکوہ ہے کہ اکثر وہ انجانے میں مہاجروں پر الزامات لگاتے ہیں۔ مجھے اندازہ ہے کہ وہ ایسا بالکل نہیں کرنا چاہتے لیکن کراچی کے فسادات کا تذکرہ ہو تو لوگ خودبخود شہر کو اردو بولنے والوں اور دیگر زبانیں بولنے والوں کے درمیان تقسیم کردیتے ہیں۔ سوال اٹھائے جاتے ہیں کہ مہاجر ایم کیو ایم جیسی گھٹیا جماعت کو کیوں سپورٹ کرتے ہیں۔ مہاجر خود کو مہاجر کیوں کہلواتے ہیں۔ مہاجر ایسے، پنجابی ویسے، پختون ویسے۔ وغیرہ وغیرہ۔ میں مہاجر ہونے کو کوئی بے عزتی نہیں بلکہ فخر کی بات سمجھتا ہوں۔ مگر ایسے تذکروں سے مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے میری قومیت پر سوال اٹھایا جارہا ہو۔ جیسے میرے مزاج کو ایک مخصوص سیاسی جماعت کا مزاج سمجھا جارہا ہو۔ اور میری سوچ کو قومی سوچ کے برخلاف سمجھا جارہا ہو۔

میں اکثر لکھتا ہوں کہ اگر کراچی کے حالات کا ذکر ہو تو لامحالہ اس تذکرے سے لسانیت اور تعصب کی بو آنے لگتی ہے۔

عموما ایسے تذکروں میں آپ دیکھیں گے کہ آدھے مہاجر ایم کیو ایم کی صفائی دینے لگتے ہیں اور باقی آدھے یہ صفائی پیش کرنے لگتے ہیں کہ ایم کیو ایم مہاجروں کی نمائندہ جماعت نہیں ہے۔ جیسے ہم ہی چور ہوں، ہم ہی ملزم ہوں اور ہم ہی پر مقدمہ چلایا جارہا ہو۔ آخر ہم صفائی کیوں پیش کریں؟

یہاں حالات خراب کرنے کے لئے کسی کو محض تیس چالیس غنڈوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جہاں ایک طرف اس شہر میں روزگار کی فراوانی ہے وہاں دوسری طرف یہاں روزانہ پورے ملک سے سینکڑوں غیر ہنرمند، بے پڑھے لکھے اور انتہائی پسماندہ علاقوں کے نوجوان خواب لیکر آتے ہیں۔ یہ ان نوجوانوں کے علاوہ ہیں جو اس شہر میں پہلے سے رہ رہے ہیں۔ ان کے پاس روزگار نہیں، کوئی اعلی نظریات نہیں، کرنے کو کوئی قابل ذکر کام نہیں۔ یہ لوگ ایسے گروہوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو انہیں ان فسادات میں بطور پٹرول استعمال کرتے ہیں۔ یہ گروہ بھرتی کرتے وقت کبھی بھی مہاجر، سندھی، پنجابی، پختون یا بلوچ نوجوان میں کوئی تفریق نہیں کرتے۔ اور ان غنڈوں میں آپ کو ہر قومیت کے لوگ ملیں گے۔ ناراض، بے روزگار اور خود کو منوانے کی خواہش رکھنے والے ان نوجوان غنڈوں کی مارکیٹ سے انہیں ایم کیو ایم ہی نہیں کوئی بھی سیاسی جماعت، جرائم پیشہ گروہ، ایجنسیاں یا لسانی تنظیم کبھی بھی کرائے پر حاصل کرسکتی ہے۔

بد اچھا اور بدنام برا، سارے فساد کا الزام لوگ اسی جماعت کے سر ڈال دیتے ہیں جو بدنام ہے۔ بلاشبہ وہ جماعت غنڈہ گردی اور دہشت گردی میں ملوث رہی ہے۔ لیکن اگر ہم حقائق سے نظریں چراتے رہیں گے اور الزام تراشی کے لئے آسان ترین شکار پر ضرب لگاتے رہیں گے تو ہم کبھی مسائل سلجھا نہیں سکیں گے۔

ان واقعات کا آغاز اس دن سے ہوتا ہے جب آصف زرداری نائن زیرو پہنچتے ہیں۔ جہاں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی جو ہمیشہ ایک دوسرے کو نظریاتی حلیف قرار دیتے رہے ہیں، اپنے پرانے اختلافات سے دست بردار ہونے پر تیار ہوجاتے ہیں۔ ایم کیو ایم نوے کی دہائی میں ہونے والے اپنے کارکنان کے ماورائے عدالت قتل پر پیپلزپارٹی سے معافی نامے کا مطالبہ ترک کردیتی ہے اور پیپلزپارٹی ایم کیو ایم کو بارہ مئی کے واقعے پر معاف کردیتی ہے۔ ایم کیو ایم پیپلز پارٹی کو غیرمشروط تعاون اور حمایت کا اپنا وعدہ دہراتی ہے۔ اور اگلے دن سے عجیب و غریب واقعات کا تسلس شروع ہوجاتا ہے۔

اسمبلی میں تین نشستیں رکھنے والی ایم ایم اے کو وزارت دی جاتی ہے۔ ق لیگ کے لوٹوں کو ن لیگ میں قبول کیا جاتا ہے۔ مقدمے معاف ہوتے ہیں، جج رہا ہوتے ہیں۔ ہر طرف مفاہمت کا دور دورہ ہے۔ تو اس مفاہمت میں قومی اسمبلی میں انیس نشستیں رکھنے والی جماعت کو شامل کرنے میں کس کو اعتراض ہے اور کیوں؟ جب کہ ایم کیو ایم کی مفاہمت صرف پیپلز پارٹی سے ہے نہ کہ حکمران جماعت کے تمام اتحادیوں سے۔ سوال یہ ہے کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے قریب آنے سے نقصان کس کا ہے؟

کراچی کی مختصر سی تاریخ حادثات اور فسادات سے بھری پڑی ہے۔ لسانی اور سیاسی جھگڑوں کے حوالے سے یہ شہر ہمیشہ زخم کھاتا رہا ہے۔ ہر تازہ زخم کے بعد یہ شہر پھر بھی اپنی ترقی کا سفر جاری رکھتا ہے۔ اور سب کی طرح مجھے بھی ڈر لگتا ہے کہ کہیں کسی دن یہ زخموں سے اتنا چھلنی نہ ہوجائے کہ پھر اٹھ نہ سکے اور اس کی کہانی ایک بے تکے موڑ پر ختم ہوجائے۔

کسی حال میں چین نہیں

بتاریخ: 07 اپریل 2008

میرا گھر سندھ اسمبلی اور سیکریٹریٹ کے بالکل قریب واقع ہے اسلئے ہماری بجلی باقی شہر کے مقابلے میں ذرا کم جاتی ہے۔ مثلا اگر پورے شہر میں چار گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے تو ہمارے ہاں تین گھنٹے کی ہوگی۔ مگر عجیب بات ہے، نامعلوم کے ای ایس سی والوں کو کیا ہوگیا ہے، گذشتہ قریبا ایک ہفتے سے ہمارے گھر کی بجلی نہیں گئی۔ پورے شہر میں لوڈشیڈنگ میں کافی کمی آگئی ہے۔ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ادائیگی کے بعد کے ای ایس سی کو واپڈا سے مزید بجلی ملنے لگی ہے۔ مگر مجھے لگتا ہے یہ سب ناٹک محض میرے پیسے خرچ کرانے کو رچایا گیا تھا۔

میری والدہ جو کچھ عرصے سے علیل ہیں وہ اندھیرے سے گھبرارہی تھیں تو میں نے سوچا کہ اب یو پی ایس لینا ہی پڑے گا۔ آگے اتنی لمبی گرمیاں ہیں۔ میں یو پی ایس لے آیا۔ تنصیب کرنے والے اناڑی کاریگروں نے بڑا تنگ کیا انہیں وائرنگ کرنے کا ذرا سا سلیقہ نہیں تھا۔ اتنا خون جلا کہ نہ پوچھیں، سوچ رہے تھے کہ چلو اب جب لوڈشیڈنگ ہوگی تو ذرا دیر کو پنکھا چلا کر یہ سب محنت وصول ہوجائیگی۔ مگر ہماری راحت سے تو کے ای ایس سی والوں کو بیر ہے۔ اگلے ہی روز انہوں نے پیپکو کو ایک ارب روپے کی ادائیگی کردی اور تین سو میگاواٹ بجلی بحال کروالی۔ مجھے اگر خبر ہوتی کہ میرے یو پی ایس سے قومی ادارے کو اتنی بڑی رقم کی وصولی ہوگی تو کب کی یہ قربانی دے چکا ہوتا۔ مگر اب تو میں انتظار کررہا ہوں کہ کب بجلی جائے تو میں یو پی ایس سے جلنے والے الیکٹرک سیور بلبوں کی ٹھنڈی میٹھی روشنی سے لطف اندوز ہوں۔ امید ہے کے ای ایس سی والے زیادہ دن انتظار نہ کرائیں گے۔

بھلے دنوں کی یاد

بتاریخ: 11 مارچ 2008

wapda_vs_kesc.gif

آتا ہے یاد مجھ کو وہ گزرا ہوا زمانہ کہ جب ہمارے گھر میں دن کے وقت بھی ٹیوب لائٹیں جلا کرتی تھیں۔ جب ہم ہر وقت انٹرنیٹ استعمال کرسکتے تھے۔ ہماری ماسی جس دن اس کا موڈ ہوتا واشنگ مشین لگالیتی تھی۔ ہم استری شدہ کپڑے پہنا کرتے تھے۔ اور تمام فارغ وقت امی کی دھمکیوں کے باوجود ایرکنڈیشنر بند نہ کرتے تھے۔ آہ وہ بھی کیا دن ہوا کرتے تھے۔

اب تو یہ عالم ہے کہ دن میں ہر چار گھنٹے بعد دو گھنٹے بجلی غائب۔ جلدی جلدی نیٹ یوز کرتے ہیں۔ کچھ لکھیں تو ہر ساٹھ سیکنڈ بعد محفوظ کرتے جاتے ہیں۔ پانی کی موٹر چلا کر جلدی جلدی ٹنکیاں بھرتے ہیں۔ ماسی بھی بجلی دیکھتی ہے تو فورا واشنگ مشین لگالیتی ہے۔ کسی کو کپڑے استری کرنا یاد آتا ہے تو کسی کو اپنا پسندیدہ ٹی وی پروگرام۔

موسم ابھی اتنا گرم نہیں ہوا اور ہم کراچی والے سوچ رہے ہیں کہ گرمیاں کیسے گذاریں۔ جبکہ احباب یو پی ایس، گیس کے جنریٹر اور اس قسم کی چیزیں خرید رہے ہیں۔ میں سوچ رہا ہوں کہ اپنے کمرے کی چھت پر رسی سے چلنے والا پنکھا لگوالوں۔ آپ نے شاید یہ کسی پرانی فلم میں دیکھا ہو۔ اس میں ایک ہاتھ سے بنا ہوا بڑا سے پنکھا چھت سے لگا ہوتا ہے اور ڈوری کھینچیں تو چلتا ہے۔ موم بتی کی روشنی کا جو رومانی تاثر ہے وہ یقینا اس پنکھے سے دوبالا ہوجائے گا۔ فوم کے گدوں کی جگہ چارپائیاں ڈال لیتے ہیں کہ وہ زیادہ ٹھنڈی ہونگی۔ اور پرانی وضع کے اونچے ململ کے کرتے سلوالیتے ہیں۔ کیسا مزہ آئے گا جب ہمارا کمرہ شمعوں سے جگمگائے گا، ہاتھ سے چلنے والا پنکھا ہوگا اور ہم سفید براق کپڑوں میں ملبوس کھری چارپائیوں پر لیٹے۔ ہاتھ میں کاغذ قلم تھامے اپنے بلاگ کی اگلی پوسٹ لکھ رہے ہوں گے۔ زبردست۔

میری دادی مرحومہ بہت پرانے دنوں کے قصے سناتی تھیں تو بتایا کرتی تھیں کہ گرچہ آس پاس کے تمام محلے میں بجلی موجود تھی مگر ان کے گھر تک نہیں پہنچی تھی تو وہ لالٹین کے روشنی میں رات کا کھانا کھایا کرتے تھے۔ میری دادی اکثر گرمیوں میں بھی بغیر پنکھے کے ہی سویا کرتی تھیں کہ پنکھے کی ہوا سے ان کے جسم میں درد ہوجاتا تھا۔ ہمیں یاد نہیں ہم نے انہیں کبھی رنگین کپڑے پہنے دیکھا ہو۔ ہمیشہ وہی ایک جیسے سفید کرتے جن پر الگ الگ طرح کے سونے کے بٹن لگے ہوتے تھے۔ یہ بٹن بڑی عزت اور وقار کی علامت تھے اور میری دادی کی متاع حیات تھے۔ یہ بٹن انہیں بیتے دنوں کی یاد دلاتے تھے (میری دادی کے انتقال کے بعد ان بٹنوں کی گمشدگی اور ان پر ہونے والی لڑائیاں الگ موضوع ہیں کبھی یاد دلائیے گا تو یہ قصہ بھی سناؤں گا)۔ اور سفید چوڑی دار پاجامہ جیسے دیکھ کر میں اکثر سوچتا تھا کہ یہ کیسے پہنا جاتا ہوگا۔ مجھے یہ تجربہ اپنی روزہ کشائی کے دن ہوا جب میں نے پہلی بار چوڑی دار پاجامہ پہنا تب مجھے احساس ہوا کہ میری دادی روزانہ کتنی سخت مشقت انجام دیتی ہیں۔ ان کے ہاتھ اور پیر سردی ہو یا گرمی ہمیشہ مہندی سے رنگے ہوتے تھے۔ ان کے سر کے تمام بال سفید تھے جن پر وہ کبھی مہندی نہیں لگاتی تھیں۔ حالانکہ ان کے شوہر زندہ سلامت تھے۔ مگر وہ سمجھتی تھیں کہ اب چونکہ وہ بوڑھی ہوگئی ہیں تو انہیں ایسی ہی وضع اختیار کرنی چاہئے۔ اللہ انہیں جنت بخشے بڑی نیک عورت تھیں۔ بڑی صابر اور سدا کی شکرگزار۔

میں سوچتا ہوں کہ میں بھی اپنے پوتوں کو کچھ ایسے ہی قصے سنایا کروں گا۔ ان دنوں کے کہ جب ہمارے گھر میں ٹیوب لائٹیں جلا کرتی تھیں۔ جب ہم ٹی وی دیکھتے ہوئے کھانا کھایا کرتے تھے۔ جب ہم ڈی وی ڈی پر فلمیں دیکھا کرتے اور انٹرنیٹ پر بلاگ لکھا کرتے تھے۔ اور ہمارے گھر میں اتنے آلات بجلی تھے جتنے اب قومی عجائب گھر میں بھی نہیں۔

کارٹون: روزنامہ جنگ کراچی ایڈیشن ۱۱ مارچ ۲۰۰۸

02/21/2008

پیپلز پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ نے سندھ ہائیکورٹ میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے دو سو پچاس کے انتخابی نتائج کا سرکاری اعلان روکنے اور حلقے میں دوبارہ انتخابات کرانے کی درخواست دائر کی ہے۔

روزنامہ امت میں ڈاکٹر اختیار بیگ کا انٹرویو۔ (شکریہ می)

پیپلز پارٹی نے کراچی کے چار حلقوں میں دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

نتیجہ: NA-250

بتاریخ: 19 فروری 2008

خوش بخت شجاعت تریپن ہزار ووٹ لے کر ڈاکٹر صاحب کے تینتالیس ہزار ووٹوں‌ پر سبقت لے گئی ہیں۔ وہ بغیر دھاندلی کے بھی جیت جاتیں‌ مگر تب شاید دس ہزار ووٹوں‌کا فرق نہ ہوتا۔ بہر حال خوش بخت کے حامیوں‌ مبارکبار امید ہے وہ ایک اچھی پارلیمینٹیرین ثابت ہونگی اور حلقے کے لوگوں‌ کی آواز بننے کا فرض ادا کریں‌ گی۔

کراچی کے بلاگرز اور متحدہ قومی موومنٹ کی دھاندلیاں

بتاریخ: 19 فروری 2008

میٹرو بلاگنگ کراچی پر جناب امیر حمزہ جعلی ووٹ ڈالنے کے اپنے ایڈونچر کی کہانی بمعہ تصاویر بیان کرتے ہیں۔

عجیب بات یہ ہے کہ کراچی کے بلاگرز جس دھاندلی کی اطلاعات تواتر سے دے رہے ہیں ہمارا میڈیا اس دھاندلی پر قطعا آنکھیں بند کرے بیٹھا رہا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کی دھاندلی کے ذکر پر مبنی پاکستانی بلاگستان کی تحاریر:

نعمان کی ڈائری۔ دھاندلی کے واقعات
کے او۔ میرا ووٹنگ تجربہ
ٹیتھ میسٹرو۔ گلستان جوہر میں دھاندلی
امیر حمزہ
ایمرجنسی ٹائمز ۔ فارس کا کراچی کے دو انتخابی اسٹیشنوں کا دورہ

02/18/2008

خالد عمر بھی اپنا ووٹ ڈالنے گئے لیکن کافی دوڑ دھوپ کے بعد بھی ان کا نام کسی ووٹر فہرست میں نہ نکلا۔ لیکن دھاندلی کے تقریبا وہی واقعات جو ڈاکٹر علوی اور نعمان نے بیان کرے۔ خالد عمر نے بھی دہرائے ہیں۔

02/18/2008

میٹروبلاگ کراچی پر ڈاکٹر علوی نے ہمارے حلقے کے انتخابات کا جائزہ پیش کیا اور قارئین سے ووٹ طلب کیا کہ وہ کسے ووٹ دیں گے۔ حیرت انگیز طور پر ان کے پول بھی میں خوش بخت جیتتی نظر آرہی ہیں۔ (اف خدا یہ اس دنیا کو کیا ہوتا جارہا ہے کم از کم میٹروبلاک کے قارئین سے میں یہ توقع نہیں رکھتا تھا)۔

دھاندلی کے واقعات

بتاریخ: 18 فروری 2008

میں ووٹ ڈالنے کے لئے دوپہر ڈھائی بجے گھر سے نکلا۔ جب میں اپنے پولنگ اسٹیشن والی سڑک پر پہنچا تو دیکھا کہ وہاں ایم کیو ایم کے علاوہ کسی بھی پارٹی کا پولنگ کیمپ نہیں تھا۔ پولنگ اسٹیشن پہنچا تو وہاں اندر صرف ایم کیو ایم کے پولنگ ایجنٹ موجود تھے۔ بڑی تعداد میں ایم کیو ایم کے حمایتی اور کارکن پولنگ اسٹیشن کے اندر بھی موجود تھے۔ وہاں موجود لوگ زیادہ تر میرے رشتے دار، محلے دار اور کزن تھے۔

ایم کیو ایم کے کارکنان پولنگ بوتھ کے اندر بھی جھانک رہے تھے۔ حتی کہ جب میں اپنے بیلٹ پیپر پر مہر لگارہا تھا تب بھی ایک لڑکا میرے بیلٹ پیپر پر جھانک رہا تھا۔ میں نے اسے منع کیا اور اسے کے جانے پر بیلٹ پیپرز پر مہر لگائی۔

میں کچھ دیر وہاں ان لڑکوں کے ساتھ بیٹھا۔ وہ مجھے مذاق میں ایک اور ووٹ ڈالنے کی آفر کررہے تھے۔ وہاں کچھ لوگ گلابی پرچی لے کر آرہے تھے اور بغیر شناختی کارڈ دکھائے بیلٹ پیپر حاصل کررہے تھے۔ ایک تیس سے کچھ اوپر سال کے شخص نے اپنے ایک مردہ رشتے دار کا شناختی کارڈ دکھا کر ووٹ ڈالا۔ شناختی کارڈ پر بنی تصویر صاف بتارہی تھی کہ وہ ان کی نہیں ہے۔

مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ جب ایم کیو ایم کی جیت یقینی ہی تھی تو دھاندلی کی کیا ضرورت تھی؟

ڈاکٹر علوی گلستان جوہر کراچی سے اپنا ووٹ ڈالنے کا تجربہ بیان کرتے ہوئے وہاں ہونے والی دھاندلی کا پردہ فاش کرتے ہیں

قدیر نے سیاستدانوں سے سخت مایوس ہونے کے باوجود ووٹ ڈالا

شاکر فیصل آباد میں اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کی روداد بیان  کی۔ تصاویر کے ساتھ

اجمل نے اسلام آباد میں اپنا ووٹ ڈالا

شعیب نے کراچی میں ووٹ ڈلا

ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ بمقابلہ ایم کیو ایم

بتاریخ: 17 فروری 2008

افتخار نے اپنے بلاگ پر پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ کی حمایت کی ہے اور قارئین سے انہیں ووٹ دینے کی فرمائش کی ہے۔ جو میرے خیال میں دیگر صوبوں میں رہنے والوں کے لئے ایک بہترین آپشن ہے۔ کیوں کہ ان کی جیت کا امکان ہے اور وہ اچھا مقابلہ کررہے ہیں تو جتنے زیادہ ووٹ انہیں ملیں گے لوٹا لیگ کے اتنے ہی ووٹ کم ہونگے اور آئین و پارلیمنٹ کی بالادستی بحال ہوگی۔ اگر بی بی زندہ ہوتیں تو شاید انتخابی معرکے کی صورتحال یہ نہ ہوتی۔

ہمارے حلقے میں ن لیگ کا امیدوار پیپلزپارٹی کے حق میں دستبردار ہوگیا ہے۔ اور اگر آپ نے میری پچھلی تحاریر پڑھی ہوں تو میں کافی کنفیوز تھا۔ کیوں کہ ڈاکٹر اختیار بیگ اور خوش بخت شجاعت دونوں کافی سلجھے ہوئے امیدوار معلوم ہوتے ہیں۔ مگر میری والدہ کا خیال ہے کہ خوش بخت شجاعت (ایم کیو ایم) شاید ہی کبھی اپنی پارٹی کی پالیسیوں سے اختلاف کریں۔ اور دوئم یہ کہ خوش بخت شجاعت کا معاملات میں کوئی اپنا نقطہ نظر نہیں۔ اس کے برعکس ڈاکٹر صاحب ماہر معیشت ہیں، صنعتکار ہیں، انتخابات سے پہلے وہ اکثر حکومت کو بھی معیشت کی بہتری کے لئے تجاویز دیتے رہے ہیں۔ جس کا مطلب ہے وہ کم از کم معاشی مسائل پر تو نظر رکھتے ہیں۔ میری والدہ کو قوی امید ہے کہ ڈاکٹر صاحب جیت جائیں گے۔ کیونکہ کئی ووٹر شاید ایک خاتون امیدوار کو ووٹ دینا پسند نہ کریں۔جیسے پچھلی سے پچھلی مرتبہ ایم کیو ایم کی نسرین جلیل اسی حلقے سے جماعت اسلامی کے عبدالستار افغانی کے ہاتھوں ہار گئی تھیں۔

میں خواتین کا الیکشن میں حصہ لینا بہت اچھا سمجھتا ہوں۔ مگر میرے خیال میں ڈاکٹر صاحب ہر لحاظ سے ایک بہتر امیدوار ہیں۔ گرچہ خوش بخت میں بھی کوئی قابل ذکر خامیاں نہیں لیکن میں ان کی پارٹی سے کوئی ایسا خاص متاثر نہیں ہوں۔ ان کی پارٹی کے ہی ایک نمائندے عامر لیاقت حسین کو لال مسجد واقعے پر پارٹی نے دیوار سے لگادیا ہے۔ انہیں نہ الیکشن کا ٹکٹ دیا گیا اور نہ ہی وہ انتخابی مہمات میں نظر آتے ہیں۔ تو یہ کہنا بہت آسان ہے کہ محترمہ کی انفرادی صلاحیتیں کبھی منظر عام پر نہ آسکیں گی۔ ان کی پارٹی نے پچھلے تمام عرصے میں وفاق یا صوبے میں کوئی قابل ذکر قانون سازی نہیں کی۔ ان کی جماعت انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف بھی کوئی اچھا منصوبہ پیش نہ کرسکی۔ ان کے حکومت میں ہوتے ہوئے بلوچستان میں آپریشن جاری رہا، وزیرستان سے سینکڑوں خاندانوں کو کراچی آنا پڑا، کراچی میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ جاری رہی، اسٹریٹ کرائمز میں بے حد اضافہ ہوا۔ ان کی پارٹی نے جنرل مشرف کی اندھا دھند حمایت کی۔ حتی کہ ان کی انتخابی مہم کے اہم وعدے کہ صوبہ سندھ کو این ایف سی ایوارڈ سے اس کا جائز حصہ دلایا جائیگا اس پر بھی عمل نہیں ہوا۔ صوبہ سندھ میں تعلیم کا محکمہ زبوں حالی کی بدترین سطح پر پہنچ گیا۔ کسی نئی بڑی یونیورسٹی کا سنگ بنیاد نہیں رکھا گیا۔ اندرون سندھ بیروزگاری میں اضافہ ہوا اور ڈیولپمنٹ جو کراچی اور پنجاب میں ہوئی اس کی آدھی بھی اندرون سندھ میں نہ ہوئی۔ کرپشن ایسے کا ایسا رہا ایک سروے کے مطابق سندھ پاکستان کا دوسرا کرپٹ ترین صوبہ ہے۔ جہاں سب سے زیادہ کرپشن محکمہ تعلیم اور پولیس میں ہے۔ صحت کا شعبہ بھی از حد نچلی سطح پر ہے۔ حیدرآباد سمیت سندھ کے کئی علاقوں میں بچے گیسٹرو سے ہلاک ہوئے۔

ppp_arrow.gifتو پارٹی کی بنیاد پر تو خوش بخت کو ووٹ نہیں دیا جاسکتا اور شخصیت کی بنیاد پر ڈاکٹر صاحب ان سے بہتر نظر آتے ہیں۔ اس لئے کل میں ڈاکٹر بیگ کو ووٹ دونگا۔ اگر آپ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے دو سو پچاس میں رہتے ہیں تو آپ سے درخواست ہے کہ الیکشن کے دن گھر سے نکلیں اور تیر پر نشان لگا کر ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ کو ووٹ دیں۔

درختوں کے قتل کی سزا

بتاریخ: 15 فروری 2008

کراچی میں ان دنوں شہر میں بڑھتے ہوئے آتشزدگی کے واقعات پر تشویش بڑھتی جارہی ہے۔ گورنر صاحب اور سٹی ناظم سر جوڑ کر بیٹھے کہ کیا کریں۔ فائر ڈیپارٹمنٹ نے ان واقعات کا الزام موسم پر دھر دیا۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم وہی کاٹ رہے ہیں جو ہم نے بویا ہے۔ نعمان کی ڈائری پر پہلے کئی بار اس کا ذکر ہوچکا ہے کہ شہری حکومت کے ترقیاتی منصوبے انتہائی ماحول دشمن ہیں۔ جب کبھی یہ کہیں سڑک بنانے جائیں، پانی کے پائپ ڈالنے جائیں، گیس ہو یا سیوریج کا کام، بجلی کے کھمبے ہوں یا اسٹریٹ لائٹس۔ پہلی چیز جو انہیں فالتو نظر آتی ہے وہ درخت ہیں۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے تو شہری حکومت نے ترقیاتی منصوبوں کے نام پر ہزاروں درختوں کا قتل عام کیا ہے۔ جس کی وجہ سے شہر میں آتشزدگی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔

لیکن افسوس اس قتل عام کو کوئی درخود اعتنا نہیں سمجھتا۔ کسی اخبار میں اس کا ذکر نہیں آتا اور کوئی ماہر ماحولیات اس بات کا ذکر نہیں کرتا۔

طریقہ کار جیسا کہ پچھلی شہری حکومت کے دور میں ہوا کرتا تھا وہ یہ ہے کہ درختوں کو کہیں اور منتقل کردیا جائے۔ یہ کوئی اتنا مہنگا کام نہیں کہ شہری حکومت کے خزانے پر بوجھ ہو۔ مگر شہری حکومت کے جاہل عہدیدار اسے بیکار محنت تصور کرتے ہیں۔ اور درختوں کو کاٹ ڈالنے کو زیادہ آسان کام سمجھتے ہیں۔ شہر میں آلودگی کا تناسب جس قدر اس کے حساب سے تو اس شہر میں پر دس قدم پر درخت ہوں تب بھی کم ہے۔ لیکن مجھے یاد نہیں شہری حکومت نے کبھی کہیں کوئی نئے درخت لگوائے ہوں۔ ان کے بنائے ہوئے پارکوں میں آپ کو گھاس بھی نظر نہیں آئے گی۔