انٹرنیٹ

موضوع: انٹرنیٹ

اردو بلاگستان پر ایک مضمون

بتاریخ: 03 اگست 2008

اس مہینے کا ماہنامہ اسپائڈر میگزین خریدئیے اور پڑھئے ناچیز کا اردو بلاگستان کے بارے میں لکھا ہوا مضمون۔ جس میں موجودہ اردو بلاگستان کا ایک مختصر سا جائزہ پیش کیا گیا ہے اور اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے کہ کیوں اردو میں بلاگنگ اتنی عام نہیں جتنا اسے ہونا چاہئے۔ اس مضمون کے لئے میں منظرنامہ کا شکر گزار ہوں کہ وہاں شائع ہونے والے راشد کامران، ابوشامل اور وارث صاحب کی تحاریر نے مجھے متاثر کیا۔ قدیر احمد، بدتمیز، نبیل نقوی اور رضا رومی کا بہت شکریہ کہ انہوں نے اپنی قیمتی رائے سے نوازا۔

09/09/2007

mcgruff98دوسری منزل (دی سیکنڈ فلور) نامی کافی شاپ ان دنوں کراچی میں ادبی، سماجی تقریبات کا اہم مرکز بنتی جارہی ہے۔ کل وہاں سائبر کرائم بل کے حوالے سے سیمینار منعقد ہوا جس میں بیرسٹر جمیل صاحب نے اپنی پریزینٹیشن پیش کی۔ حکومت پاکستان کا سائبر کرائم بل پاکستان میں بلاگرز، صحافیوں، اداروں اور افراد کو کنٹرول کرنے کا نیا ہتھیار ہے جس سے ایف آئی اے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی بیش بہا مواقع مل جائیں گے۔ یہ بل ابھی تک پارلیمنٹ سے منظوری کا منتظر ہے اور یہی موقع ہے کہ اس میں تبدیلیاں کرائی جاسکتی ہیں۔

ڈاکٹر علوی سیمینار کی روداد اور اس بل کی خطرناک شقوں کو بیان کرتے ہیں۔ تحریر کے ساتھ ہی جمیل کی پریزینٹیشن بھی منسلک ہے۔

05/18/2007

اسٹونیا پر سائبر حملوں میں قریبا ایک ملین کمپیوٹر استعمال ہوئے۔ یہ دعوی اسٹونیا کے حکام کا ہے جہاں پچھلے کچھ ہفتوں کے درمیان غیرمتوقع سائبر حملے ہوئے ہیں۔ اسٹونیا کا دعوی کا ہے کہ ان حملوں میں کروڑوں یورو کا نقصان ہوگیا ہے۔ اس تنازعے میں شروع میں الزامات کا رخ روس کی سمت تھا مگر روس کے غیر متوقع انتہائی جارحانہ ردعمل نے اسٹونیائی حکام کو روس پر براہ راست الزام تراشی سے باز رکھا۔ تاہم ان سائبر حملوں کی بڑی تعداد اور منظم طریقہ جنگ نے سائبر سیکیوریٹی کو نیٹو اور یورپی یونین کے ٹاپ ایجنڈے میں شامل کردیا ہے۔