
ایمرجنسی کے بعد پولیس والے ہمارے پڑوس میں سے ایک انیس بیس سالہ لڑکے براق کو پکڑ کر لے گئے تھے۔ براق اسلامی جمعیت طلبا کا کارکن تھا اور ایس ایم آرٹس کالج میں جمعیت کا اہم عہدیدار تھا۔ براق کے اچھے کردار اور عمدہ اخلاق کی گواہی محلے کا بچہ بچہ دے گا۔ ہمیشہ نیچی نظریں رکھنے والا۔ وہ ادھر ادھر گھومتا نظر نہیں آتا تھا۔ مسجد سے جماعت اسلامی کے دفتر، کالج یا گھر۔ مجھے وہ اکثر مسجد میں یا گھر آتے جاتے ملتا تھا۔ ہمیشہ سلام میں پہل کرتا۔
چار دن تک اسے حراست میں رکھا گیا اور پھر متحدہ قومی موومنٹ کے چند ناظمین کی شخصی ضمانت پر کہ وہ کسی جلسے جلوس میں شامل نہیں ہوگا، آج رہا ہوا ہے۔ وہ بھی اس کی والدہ کی وجہ سے جنہیں یہ ڈر تھا کہ کہیں ان کا بیٹا غائب نہ کردیا جائے۔ ہماری ہی بلڈنگ میں جماعت اسلامی کے چند اور کارکن بھی رہتے ہیں جن میں سے ایک تو ایمرجنسی کے اعلان کے تھوڑی ہی دیر بعد روپوش ہوگئے۔ ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے ہمارے ایک رشتے دار نے براق اور روپوش ہونے والے کارکنان کو پہلے ہی بتادیا تھا کہ انہیں حراست میں لے لیا جائے گا اس لئے وہ لوگ اپنے گھر چھوڑ دیں۔ ایم کیو ایم کے چند سینئر کارکن اس بات پر سخت ناراض اور مایوس ہیں کہ ایم کیو ایم آمر کے ساتھ کھڑی ہے۔
براق کو میں نے ہمیشہ ایک اچھا لڑکا مانا ہے اور اپنے بھائیوں کو اس کی مثال دی ہے۔ مگر بحالی جمہوریت کی اس تحریک میں گرفتار ہونے پر میری نظر میں اس کا مقام اور بڑھ گیا ہے۔
زمرہ جات: آزادی, انسانی حقوق, جمہوریت, دکان سے گھر تک
|
09/09/2007
دوسری منزل (دی سیکنڈ فلور) نامی کافی شاپ ان دنوں کراچی میں ادبی، سماجی تقریبات کا اہم مرکز بنتی جارہی ہے۔ کل وہاں سائبر کرائم بل کے حوالے سے سیمینار منعقد ہوا جس میں بیرسٹر جمیل صاحب نے اپنی پریزینٹیشن پیش کی۔ حکومت پاکستان کا سائبر کرائم بل پاکستان میں بلاگرز، صحافیوں، اداروں اور افراد کو کنٹرول کرنے کا نیا ہتھیار ہے جس سے ایف آئی اے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی بیش بہا مواقع مل جائیں گے۔ یہ بل ابھی تک پارلیمنٹ سے منظوری کا منتظر ہے اور یہی موقع ہے کہ اس میں تبدیلیاں کرائی جاسکتی ہیں۔
ڈاکٹر علوی سیمینار کی روداد اور اس بل کی خطرناک شقوں کو بیان کرتے ہیں۔ تحریر کے ساتھ ہی جمیل کی پریزینٹیشن بھی منسلک ہے۔
|

صوبائی محکمہ تعلیم کی بے حسی اور غیرفعالیت کی خبروں سے آج کا اخبار بھرا پڑا ہے۔ جہاں ایک طرف سرکاری ادارے تاحال مفت درسی کتب کی ترسیل سے محروم ہیں وہیں دوسری طرف دہلی گورنمنٹ اسکول کے طلباء اور اساتذہ کا احتجاج کل بھی جاری رہا۔ کل کے احتجاج میں محکمہ تعلیم کے افسران بھی شریک تھے اور اپنے ہی محکمے کی غیرفعالیت پر سراپا احتجاج نظر آئے۔ احتجاجی طلباء نے کہا کہ ان کا مستقبل داؤ پر لگادیا گیا ہے مگر حکام کو بھی کوئی پرواہ نہیں گزشتہ4 روز سے سڑک پر ہیں کلاسیں نہیں ہورہی ہیں مگر کوئی ان کی مدد کو نہیں آرہا ہے۔ مظاہرے میں شریک میٹرک پاس کرنے والے طلباء نے کہا کہ اسکول کو تالا لگنے کی وجہ سے ان کی مارکس شیٹ اندر بند ہیں اور وہ روزانہ مارکس شیٹ کے حصول کیلئے چکر لگارہے ہیں جبکہ کالجوں میں داخلے کی آخری تاریخ ختم ہونے میں صرف5 روز باقی رہ گئے ہیں۔ اسکول کے اساتذہ پیر سے کلاسیں ٹینٹ لگا کر چلائیں گے اور کرسیوں کی جگہ دریاں بچھائی جائیں گی۔ اساتذہ نے طلباء کو باقاعدگی سے اسکول آنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ پروفیسرز اور لیکچرارز کی تنظیم سپلا نے بھی صوبائی محکمہ تعلیم پر شدید تنقید کی ہے۔ ادھر دہلی اسکول کی نئی نجی انتظامیہ نے نئے پرنسپل کی تقرری کردی ہے اور اسکولز میں داخلوں کے لئے بینر آویزاں کردئیے ہیں۔ اب نئے اسکول میں داخلے کے لئے طلباء کو خطیر رقم داخلہ فیس اور ماہانہ فیس بھی ادا کرنا ہوگی اور ظاہر ہے نجی پبلشنگ اداروں کی شائع کردہ مہنگی درسی کتب بھی خریدنا ہوں گی۔ نئی انتظامیہ کے ترجمان پروفیسر رضی الرحمن نے کہا ہے کہ صوبائی محکمہ تعلیم کو ہر بات کا پہلے سے علم تھا تاہم محکمے نے طلبہ و طالبات کے لئے کوئی پیشگی انتظام نہیں کیا۔
زمرہ جات: انسانی حقوق, تعلیم
|
کراچی میں عدالتی حکم پر دہلی گورنمنٹ اسکولز کی عمارات سیل کردی گئی ہیں۔ اسکول کے سینکڑوں طلباء اور اساتذہ نے کل احتجاج کے دوران سیل توڑ دی۔ طلباء اور اساتذہ کا مطالبہ ہے کہ یا تو انہیں جلد از جلد متبادل جگہ فراہم کی جائے یا پھر مسئلے کے حل تک درس و تدریس کی اجازت دی جائے۔ طلباء اور اساتذہ نے احتجاجا سڑک پر درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ٹاؤن ناظمین جب انہیں وہاں سے منتشر کرنے پہنچے تو طلباء اور اساتذہ اشتعال میں آگئے۔ جس کے بعد انہوں نے اسکول کی عمارتوں کی سیل توڑ دی اور بہت مشکل سے انہیں اسکول سے نکالا گیا۔ اسکول کی پرنسپل صاحبہ نے اعلان کیا ہے کہ جب تک اسکول کا مسئلہ حل نہیں ہوتا اساتذہ اور طلباء روز اسکول کے سامنے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے، صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کئی طالبعلم رو پڑے۔ ان کا اسکول بند ہوگیا اور انہیں سمجھ نہیں آرہا کہ وہ اب کہاں جائیں گے۔ اساتذہ اور پرنسپل پریشان ہیں کہ وہ اب کہاں جائیں بچوں کو کیا جواب دیں۔
دہلی گورنمنٹ اسکول میں چار ہزار پانچ سو کے قریب طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ طالبعلموں، ان کے والدین، اور اساتذہ میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔ گورنمنٹ دہلی اسکول فیڈرل بی ایریا کے علاقے میں واقع ایک سرکاری اسکول ہے۔ روایتی سرکاری اسکولوں کے برخلاف یہاں تعلیم کا معیار بہت اچھا تھا اور ثانوی امتحانات میں ان کے طلباء اور طالبات شہر کے نامور پرائیویٹ اسکولوں سے زیادہ نمبر لیتے رہے ہیں۔ ایک ایسا سرکاری اسکول جو اتنا اچھا پرفارم کررہا ہو، جہاں طالبعلموں کی ایک بڑی تعداد زیر تعلیم ہو اور جو علاقے کی ایک اہم ضرورت ہو ایسے اسکول کے ساتھ حکومت سندھ کا رویہ انتہائی ناروا رہا ہے۔ عدالت عالیہ نے حکومت سندھ کو اسکول کی منتقلی کے احکامات کافی پہلے سے دے رکھے تھے جن پر نہ تو عملدرآمد ہوا نہ ہی حکومت سندھ نے اصل مالکان سے کوئی بامعنی مذاکرات کرنے کی کوشش کی۔ یہاں تک کہ جب عدالت نے سیل کرنے کا حکم دے دیا تب بھی اسکول کی پرنسپل کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ کل وہ بچے لے کر کہاں جائیں گی۔ اب جب وہ بچے سڑک پر آگئے ہیں تب بھی حکومت سندھ کی طرف سے نہ کوئی شنوائی ہے نہ دادرسی۔
گورنمنٹ دہلی اسکول کے علاوہ شہر کے اور کئی سرکاری اسکول عدالتوں میں اس سے ملتے جلتے کیسز ہار چکے ہیں۔ محکمہ تعلیم کا کیس عدالت عالیہ میں اتنا کمزور پڑچکا ہے کہ اب قومیائے گئے تمام اسکولوں کے کیسز کا فیصلہ پہلے فیصلوں کی بنیاد پر ہی ہورہا ہے۔ حکومت سندھ کے وکلاء عدالتوں میں وقت پر حاضر بھی نہیں ہوتے اس لئے کیس کی شنوائی مکمل طور پر یکطرفہ رہی اور حکومت سندھ کی انتہائی نااہلی کے سبب سینکڑوں اساتذہ کی نوکریاں اور ہزاروں طالبعلموں کا مستقبل خطرے میں پڑگیا ہے۔
وزیر تعلیم حمیدہ کھوڑو صاحبہ اختیارات کی جنگ میں ایسی مصروف ہیں کہ صوبے میں تعلیم کی زبوں حالی تباہی کی تمام حدیں پھلانگ گئی ہے۔ محترمہ ایک عرصے سے نہ اپنے دفتر میں بیٹھتی ہیں اور نہ ہی وزارت کا کوئی کام کرتی ہیں۔ میٹرک کے امتحانات کا مسئلہ ہو، کالجوں میں داخلوں کا مسئلہ ہو، یا قومیائے گئے سرکاری تعلیمی اداروں کی واپسی کا۔ ہر مسئلے کا حل وزارت تعلیم کے بجائے گورنر سندھ کو کرنا پڑتا ہے۔ اگر محترمہ صوبائی بیوروکریسی اور پالیسیز سے اختلاف رکھتی ہیں تو انہیں وزارت چھوڑ دینی چاہئے نہ کہ یہ مفت میں تنخواہ اور مراعات بٹورتی رہیں۔ ان کا ایر کنڈیشنڈ دفتر جو انہوں نے عرصے سے استعمال بھی نہیں کیا پھر بھی اسے چھوڑنے کو تیار نہیں جبکہ گورنمنٹ دہلی اسکول کے بچے سڑکوں پر کڑی دھوپ میں کھڑے ہیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ قوم کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لئے احتجاج کرنا پڑرہا ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات معاشرے کی بے حسی ہے۔
زمرہ جات: انسانی حقوق, تعلیم, کراچی
|
آپریشن سائلنس اپنے اختتام کو پہنچا۔جناب پرویز ہود بھائی چوک ڈاٹ کام پر اپنے مضمون “مزید لال مسجدوں کا تدارک” پر اس بارے میں اظہار خیال کرتے ہیں۔ قدیر، افضل، اجمل، نبیل، اظہر،خالد بھی فکرمند ہیں۔ ڈاکٹر علوی، پاکستانی اسپیکٹیٹر، اسلام آباد میٹروبلاگ کے بلاگر، دیگر کئی انگریزی اور اردو بلاگر، ان سب تحریروں پر تبصرہ جات کرنے والے، اور آنلائن فورمز پر۔ ٹی وی، ریڈیو، اخبارات ہر جگہ یہی ذکر ہے۔ چاہے کوئی انتہاپسندی کے اُس طرف ہے یا روشن خیالی کے اِس طرف۔ تشویش ان کو بھی ہے جو اعتدال کی نازک ڈور پر جھولتے ہیں اور ان کو بھی کہ جو بندوق تھامے محاذوں پر کھڑے ہیں۔
میرے ذہن میں بھی سوال ہیں۔ لیکن سردست صرف ایک سوال ہے جو میرے خیال میں ہم سب کو سوچنا ہوگا۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ سوال بہت بے چیدہ ہیں اور ان کے جوابات پر مشتمل حل ناقابل عمل معلوم ہوتے ہیں۔ مگر پھر بھی۔۔۔
پاکستان میں ایسے کتنے مدارس ہیں جو طالبعلموں کو اس بات پر اکسا رہے ہیں کہ وہ ملک کی عورتوں کے چہرے نقابوں سے ڈھک دیں نہیں تو ان پر تیزاب ڈال دیں۔ ایسے اور کتنے ادارے ہیں جو سی ڈیز جلانے، ہجاموں کی دکانوں پر حملے کرنے اور زنا کرنے والوں کو قتل کرنے کی ترغیب دے رہیں۔ کیا جہادیوں کی یہ فوج جو کشمیر اور افغانستان آزاد کرانا چاہتی تھی اب اپنا مقصد پاکستانیوں کو زیر کرنا بناچکی ہے؟ کیا ہمارے محلوں کے وہ بچے جو قرآن حفظ کرنے گئے ہیں واپسی پر ہمارے چہرے جھلسائیں گے اور ہمیں ڈرائیں دھمکائیں گے؟ نہیں سوال یہ نہیں۔
پاک فوج، پارلیمینٹ، حکومت پاکستان، سیاستدان، عدالتیں، میڈیا کیا یہ سب ادارے اس بات پر غور کررہے ہیں کہ اگر کسی دن یہ مدارس، یہ ادارے، یہ افراد ہاتھ سے نکل گئے تو پاکستان کی عوام کے جان و مال عزت و آبرو کی حفاظت کے لئے کتنے آپریشن سائلنس درکار ہونگے؟ اوں ہوں، نہیں یہ وہ سوال نہیں۔
مجھے سخت تشویش ہے، اور میری طرح ان سب پاکستانیوں کو بھی جو انٹرنیٹ پر، گھروں میں، دکانوں، بازاروں، گلیوں، محلوں، نکڑوں اور چائے خانوں میں اس وقت اپنی تشویش کا اظہار کررہے ہیں اور اس امید میں ہیں کہ کوئی ان کو یہ یقین دلائے گا کہ ان کی حفاظت کے لئے پاکستان میں کوئی قانون موجود ہے، ایسے ادارے اور ایسی عدالتیں موجود ہیں جو انصاف فراہم کرسکیں۔ لیکن پاکستانیوں کو یقین کون دلائے گا؟ جب یقین دلانے والے لوگ ہی قانون شکن، ادارہ شکن، آزادی دشمن، انصاف دشمن ہوں تو کوئی بھی پاکستانی کیسے کسی کی بات کا یقین کرے اور کیسے اس کا خوف دور ہو؟ کیا یہ وہ سوال ہے؟ شاید ہے یا شاید نہیں ہے۔
جامعہ حفصہ، فریدیہ، لال مسجد کے بعد آپریشن سائلنس کا راستہ چننا ہے یا تعلیم، انصاف اور آزادی کا؟ سوال یہ ہے۔
آپ کے ذہن میں کیا سوچ اور سوال ہیں؟
زمرہ جات: آزادی, انسانی حقوق, بلاگستان, تعلیم, جمہوریت, دہشت گردی, سیاست, مذہبی رواداری, پاکستانی معاشرہ
|
[ مندرجہ ذیل پوسٹ میں مصنف یہ فرض کرلیتا ہے کہ مستقبل میں پاکستان کی طالبانائزیشن کا دائرہ وسیع ہورہا ہے اور ملک کے دیگر علاقوں سے بھی ایسی خبریں آرہی ہیں۔ ایسے موقعے پر مصنف اپنے قارئین کو کیا مشورہ دیگا یہ پوسٹ اسی بابت ہے۔ ]
طالبانائزیشن کے اس شور شرابے میں اگر آپ اپنی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کے حوالے سے پریشان ہیں تو پیش خدمت ہیں چند حفاظتی تدابیر۔ اگر پاکستان کی طالبانائزیشن کا دائرہ آپ کے علاقے تک پھیل جائے تو مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں:
ا۔ اپنے گھر سے تمام انگریزی، بھارتی فلموں کی سی ڈیاں اور ڈی وی ڈیز سڑک پر پھینک دیں۔ کیونکہ کچھ پتہ نہیں کب آپ کا کوئی بدخواہ آپ کی چغلی کردے اور طالبان دروازہ توڑتے ہوئے آپ کے گھر میں گھس جائیں۔ تب آپ کو یہ سی ڈیز چھپانے کا موقع نہ ملے گا۔ تمام بھارتی گانے اور پاکستانی پاپ موسیقی بھی ٹھکانے لگادیں اور حفظ ماتقدم کے طور مولانا طارق جمیل کی سی ڈیز خرید کر رکھ لیں۔ ڈریں نہیں خدانخواستہ طالبانائزیشن کے بعد آپ یہ سی ڈیز دیکھنے سے محروم نہیں ہوجائیں گے، بس اتنا ہوگا کہ یہ آپ کو چوری چھپے کرائے پر دیکھنا پڑیں گی۔
3۔ گھر کے تمام مردوں کی پتلون قمیضیں چھپا دیں اور گھر سے باہر جب بھی نکلیں شلوار قمیض پہن کر نکلیں۔
4۔ داڑھی رکھ لیں۔ یا کم از کم مونچھیں تو لازمی رکھ لیں۔ فرنچیز اور داڑھیوں کے عجیب نمونوں سے پرہیز کریں۔
5۔ انٹرنیٹ پر اگر آپ اپنے اصلی نام سے طالبان دشمن، پاکستان دشمن، دہشت گرد دشمن مواد لکھتے رہے ہیں تو وہ سب مٹادیں۔ اور آئندہ جعلی ناموں سے یہ مواد شائع کیجئے گا۔
6۔ اگر آپ شیعہ، بوہری یا اسماعیلی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں، احمدی مرزائی یا قادیانی ہیں، کسی این جی او کے لئے کام کرتے رہے ہیں، یا خواتین کے حقوق کے لئے نعرے لگا چکے ہیں، افغانستان کے ان علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں شمالی اتحاد کا اثر رسوخ رہا ہے، تو کسی کی ہدایت یا مشورے کا انتظار نہ کریں اور فورا پاکستان سے فرار ہونے کی کوشش کریں۔
7۔ اگر آپ کی بچیاں کسی اسکول یا کالج میں پڑھتی ہیں تو انہیں گھر بٹھالیں۔ گھر کی خواتین کے کسی بھی ضروری کام سے باہر نکلنے کو قطعا منع کردیں۔ خواتین اپنے حفاظت کے لئے اگر باہر نکلیں تو اپنے ساتھ کسی بھائی یا باپ کو لے کر چلیں اور اگر شوہر ساتھ ہے تو احتیاطا نکاح نامے کی فوٹو کاپی بھی رکھ لیں۔ بوائے فرینڈ یا منگیتر جیسی کسی چیز کے ساتھ گھر سے باہر نکلنا انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے۔ اسلئے اس سے بالکل پرہیز کریں۔
8۔ آپ کے محلے میں دیوبندی فرقے کی جو مسجد ہو صرف اسی میں نماز ادا کریں۔
9۔ کبھی بھول کر بھی کسی محفل میں ایسی گفتگو نہ کیجئے گا جس سے یہ معلوم ہو کہ آپ دنیا بھر میں کسی بھی جہادی تنظیم کے نکتہ نظر یا مقصد سے اختلاف رکھتے ہیں۔
10۔ لوگوں کے درمیان مذہبی، سیاسی یا تفریحی موضوعات پر گفتگو سے پرہیز کریں اور اپنی رائے کا اظہار کسی کے سامنے تب تک نہ کریں جب تک آپ کو یقین نہ ہو کہ وہ آپ کے ہمدرد ہیں۔
زمرہ جات: آزادی, انسانی حقوق, دہشت گردی, مذہبی رواداری, پاکستانی معاشرہ
|
کراچی میں ایک ہی خاندان کے تین افراد کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوگئے۔ بیچارے بجلی آنے کا انتظار کررہے تھے، لاعلم تھے کہ بجلی انہی پر گرنے کو آرہی ہے۔
جنگ ٹیلیفونک سروے میں کراچی کی عوام نے حصہ لیتے ہوئے اپنی مجبوریوں کی داستان ریکارڈ کرائی۔
- ہمیں تو یہ شکایت ہے کہ بجلی آتی ہی کیوں ہے ! اگر دو تین ماہ کیلئے بجلی کی فراہمی قطعاً بند کردی جائے تو جانے کی شکایت ہی نہیں ہوگی اورہم اس کے عادی ہوجائیں گے۔
- ہم سے بنیادی سہولتیں بھی چھین لی گئی ہیں۔
- ایٹم بم تو بنا سکتے ہیں لیکن بجلی نہیں بنا سکتے
- بچوں کی تعلیم، کاروبار اور راتوں کی نیند برباد کردی گئی ہے
- !آخر کراچی سے کس بات کا بدلہ لیا جارہا ہے! کس جرم کی سزا مل رہی ہے
- دفتر جاؤ تو نیند آرہی ہوتی ہے۔ شام کو گھر آؤ تو اندھیرا استقبال کرتا ہے
- آخر ہم کہاں جائیں؟
کراچی میں بجلی کا بحران سنگین ترین ہوتا چلا جارہا ہے۔ شدید گرمی میں رات دن کسی بھی وقت شہر بھر میں کہیں بھی لوڈشیڈنگ ہوسکتی ہے جو عموما گھنٹوں جاری رہتی ہے۔ ہنگامے، جلاؤ، گھیراؤ اور کے ای ایس سی کے عملے پر حملے تو معمول کی بات ہوگئے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ لوگ اسقدر تکلیف میں ہیں اور ارباب اختیار کچھ بھی کرنے کا ارادہ ظاہر نہیں کرتے۔ کے ای ایس سی کی انتظامیہ واشگاف الفاظ میں اعلان کرچکی ہے کہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ اگلے پانچ برس تک جاری رہے گا۔ عام تاثر یہ ہی ہے کہ ہر سال اس بحران میں اضافہ ہوگا اور پانچ سال بعد لوڈشیڈنگ ختم کرکے دن یا رات میں کسی بھی وقت ہر علاقے کو ایک ایک گھنٹے بجلی فراہم کی جایا کرے گی۔ یہ صورتحال اتنی گھمبیر ہوچکی ہے کہ کراچی کا رہنے والا ہر شہری اس سے متاثر ہے۔ کاروبار کو پہنچنے والے نقصان تو ایک طرف، انسانی جانوں کو پہنچنے والے نقصانات بھی اسقدر بھیانک ہیں کہ الفاظ میں ان کا بیان ممکن نہیں۔ بیماروں، طالبعلموں، بزرگوں اور ننھے بچوں کو اس شدید گرمی اور لوڈشیڈنگ سے شدید خطرات کا سامنا ہے۔ Heat Stroke, Exhaustion, low blood pressure, diahrea اور طالبعلموں کے امتحانات کے نقصان۔ اس بے حساب پریشانی کے کراچی کے شہریوں پر بہت برے نفسیاتی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ لوگ بے حد چڑچڑے ہوگئے ہیں، ہر کوئی ہر وقت غصے سے بھرا بیٹھا رہتا ہے۔ لوگ صبح گھروں سے نکل کر ٹریفک سے لڑتے کام پر پہنچتے ہیں۔ تمام دن شدید گرمی میں بجلی کی آنکھ مچولی کام کی زیادتی، کام وقت پر پورا نہ کرپانے کا دباؤ، پھر گھر واپسی تک ٹریفک سے جنگ، اور گھر پہنچ کر اندھیرے اور گرمی میں رات کا کھانا اور آخر میں پسینوں سے بھرا جسم لے کر بستر پر رات بھر کروٹیں بدلنا۔
زمرہ جات: انسانی حقوق, کراچی
|
دور پار کی کسی ریاست میں ایک عظیم شہر ہے۔ شہر جو پورا ملک ہے۔ جو حسین تو نہیں، مگر جفاکش ہے، وفا شعار ہے اور لائق بھروسا ہے۔ جو ذمہ دار ہے، بڑا ہے، قدامت، جدت، مشرق اور مغرب کے بیچ میں کھڑا ہے۔ جو ایک پل ہے معاشی خوشحالی کا، خوابوں کا۔ جہاں پری زاد اور پریاں رہتی ہیں۔ جہاں برے جادوگر اور شیطان بھی بستے ہیں۔ یہ بدی کی طاقتیں ایک عرصے سے اس شہر کے پیچھے پڑی ہیں۔ یہاں کے رہنے والوں کو دہشت زدہ کرکے یہ ان کے خواب ان سے چھین لینا چاہتے ہیں۔ یہ برے جادوگر چاہتے ہیں کہ اس شہر میں ہر طرف فساد، آگ اور خون ہو۔
ان برے جادوگروں کے مقابلے میں ایک ننھا پری زاد ایک چھوٹا سے بٹن بناتا ہے۔ یہ بٹن ہے پیار کا۔ ننھا پری زاد لوگوں سے کہتا ہے کہ اپنے دروازوں، کھڑکیوں، لباس اور سواریوں پر یہ بٹن چسپاں کرلو۔ اس بٹن میں وہ منتر ہے جو بدی کی طاقتوں کے سارے مظالم کا جواب ہے۔ اسے دیکھ کر شیطان بھاگ تو نہیں جائیں گے، مگر یہ ان پر ویسا ہی اثر کرے گا جیسا آگ اور خون کی ہولی تم پر کرتی ہے۔ اس بٹن سے وہ شیطان دہشت زدہ ہوجائیں گے۔
آپ بھی اس ننھے پری زاد کا یہ جادوئی بٹن اپنے بلاگ، گاڑیوں، گھروں اور دکانوں پر لگائیں اور اس عظیم شہر کے مظلوم عوام کا ساتھ دیں۔
زمرہ جات: آزادی, انسانی حقوق, بلاگستان, جمہوریت, دہشت گردی, ذرائع ابلاغ, عمومی, ویب, پاکستانی معاشرہ, کراچی
|
کل کراچی میں غنڈہ گردی اپنے عروج پر تھی۔ چیف جسٹس کے جلوس کو روکنے کے لئے حکومت سندھ اور متحدہ قومی موومنٹ نے سر دھڑ کی بازی لگادی۔ متحدہ قومی موومنٹ کے تصادمی منصوبے کے آثار تو تب ہی نظر آنا شروع ہوگئے تھے جب انہوں نے چیف جسٹس کی آمد کے موقع پر اپنے جلوس کا اعلان کیا۔ ہفتے کی رات سے ہی پورے شہر کی ناکہ بندی کردی گئی خصوصا شہر کی اہم ترین شاہراہ، شارع فیصل کو ٹریفک کے لئے بالکل بلاک کردیا گیا۔ اس دوران شارع فیصل پر سے ایم کیو ایم کی ریلی گزری، اور ہزارہا لوگ ٹریفک جام میں گھنٹوں محصور رہے۔
ساری رات اور اگلے تمام دن شارع فیصل بلاک رہی تمام متحدہ قومی موومنٹ کی ریلیوں کو تبت سنٹر، ائر پورٹ اور شہر کے کسی بھی علاقے میں پہنچنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئی۔ اس دوران پیپلز پارٹی، اے این پی، پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ کی ریلیوں کو مختلف علاقوں میں روک دیا گیا اور انہیں ائرپورٹ تک نہیں پہنچنے دیا گیا۔
عوامی نیشنل پارٹی کی ایک ریلی جب شارع فیصل پر بلوچ کالونی فلائی اوور کے قریب پہنچی تو فلائی اوور سے ان پر بلاک گرائے گئے اور فائرنگ کی گئی جس سے کئی کارکن زخمی ہوگئے۔
شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ سے چونتیس افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں اور ڈیڑھ سو بھی زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں پاکستان پیپلز پارٹی اور اے این پی کے کارکنان کی تعداد زیادہ ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ نے اپنے بارہ کارکنان کے ہلاک ہونے کا دعوی کیا ہے۔
وکلاء، پیپلز پارٹی، اے این پی، مسلم لیگ ن اور ایم ایم اے نے ایم کیو ایم کے دہشت گردوں پر فائرنگ کے الزامات عائد کئے ہیں۔ آج ٹی وی اور جیو ٹی وی پر ایسی ویڈیو کلپس بھی دکھائی گئیں جن میں مسلح افراد ایک ہاتھ میں خودکار اسلحہ اور دوسرے میں متحدہ کا جھنڈا تھامے ہوئے ہیں۔ بار ایسوسی ایشنز نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کے دفاتر کے اردگرد متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنان خودکار اسلحے سے لیس موجور ہیں اور انہیں آگے بڑھنے نہیں دیا جارہا۔ ملیر بار کے وکلاء کو ملیر پر یرغمال بنایا گیا شدید فائرنگ میں چاروں طرف سے محصور وکلاء کو چھڑوانے کے لئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو بذات خود سی سی پی اور کراچی کو حکم دینا پڑا کہ ان وکلاء کو وہاں سے نکالا جائے۔ متحدہ قومی موومنٹ نے ریلیوں، پبلسٹی اور عوامی رابطہ مہم پر لاکھوں روپیہ خرچ کرا، کارکنوں کو جھنڈے، بینر، ٹی شرٹس، سواریاں حتی کہ ہفتے کی رات سے مسلسل قورمے، بریانی اور حلوہ پوری کی ضیافت تک کا اہتمام کیا گیا۔
یہ سب انتہائی شرمندگی کا مقام ہے۔ اور مجھے افسوس ہے کہ میں نے متحدہ قومی موومنٹ کی حمایت پر اپنے الفاظ اور وقت ضائع کرا۔
گرچہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری واپس تو چلے گئے ہیں۔ تاہم انہوں نے واپسی کا فیصلہ کرکے اور تمام دن ائر پورٹ پر محصور رہ کر ایم کیو ایم پر اخلاقی فتح حاصل کرلی۔ ایم کیو ایم کا کیس نہ صرف کمزور تھا بلکہ ایم کیو ایم نے جان بوجھ کر فساد اور فتنہ پھیلایا۔
اس ساری خونریزی اور فساد کی ذمہ داری متحدہ قومی موومنٹ، صوبائی اور وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے اور انہیں فوری طور پر مستعفی ہوجانا چاہئے، جرنل مشرف کو فورا وردی اتار کر صدارات سے استعفی دے دینا چاہئے۔
زمرہ جات: آزادی, انسانی حقوق, جمہوریت, سیاست, پاکستانی معاشرہ, کراچی
|
آج اور کل کا دن کراچی میں بہت زیادہ سیاسی گہما گہمی والے دن ہونگے۔ سیاسی جماعتیں، وکلاء اور نامعلوم شرپسند عناصر چیف جسٹس کی کراچی آمد کے موقع پر جلسے جلوس کی تیاریاں کررہے ہیں۔ دونوں جلوسوں میں تصادم کے خطرے کی پیش گوئی کی جارہی ہے۔
ایک طرف تو سیاسی گرمی ہے، دوسری طرف ماحولیاتی۔ لوڈ شیڈنگ کا ایک بھیانک عذاب شہریوں کے سر پر مسلط ہے۔ دن میں کوئی بارہ پندرہ گھنٹے بجلی دستیاب ہوتی ہے۔ کارخانوں میں مزدور، دکانوں میں دکاندار، دفتروں کے ملازمین، تاجر، سرمایہ دار سب دن کا زیادہ وقت بجلی کی راہ دیکھتے گزاردیتے ہیں۔ شہر میں موم بتی، یو پی ایس، بیٹریوں، جنیریٹر، اور لالٹینوں کے کارخانوں کے علاوہ ہر کسی کا کام ٹھپ جارہا ہے۔ چھوٹے چھوٹے دڑبوں میں قید بچے اور خواتین گرمی اور اندھیرے سے بے حال ہیں۔
ادھر حیدرآباد سمیت اندرون سندھ میں گیسٹرو کی وبا پھیلی ہوئی ہے۔ روز گیسٹرو، اسہال، ڈائہیریا اور لو لگنے سے متاثرہ درجنوں افراد ہسپتالوں میں لائے جارہے ہیں۔ ہپستال جن میں بجلی ناپید، صفائی ندارد اور ڈاکٹر کمیاب ہیں۔
سندھ کے لوگ یہ بات سوچ رہے ہیں، کہ یہ سب کیا ہورہا ہے؟ انہیں نہیں معلوم کہ یہ سب ان کے عظیم تر مفاد میں ہورہا ہے۔ وہ تو بس یہ جانتے ہیں کہ انصاف بہت دور ہے، ان کی پہنچ، ان کے خیالات سے بھی بہت دور. . . اور ان کے مسائل عظیم تر، پریشان کن اور جان لیوا۔
زمرہ جات: انسانی حقوق, سیاست, کراچی
|
میں اپنے دوست شعیب صفدر کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کہ جنہوں نے عدالتی بحران پر مختلف مواقع پر میرے استسفارات کے جوابات دئے اور میری معلومات میں اضافہ کیا۔ تاہم اس بارے میں ابھی بھی میری رائے ڈیولپ نہیں ہوسکی اور اس پوسٹ کا مقصد بھی یہی ہے۔
جنرل مشرف کا یہ کہنا ہے کہ انہیں وزیراعظم پاکستان نے چیف جسٹس آف پاکستان کی بابت ایک ریفرنس بھیجا جو انہوں نے سپریم جیوڈیشل کونسل کو بھجوادیا۔ کیا آئین انہیں ایسا کرنے کی اجازت دیتا ہے؟
کیا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو معطل کرا جاسکتا ہے اور انہیں فرائض کی بارآوری سے روکا جاسکتا ہے؟
کیا چیف جسٹس کا بار کونسلز سے خطاب سپریم جوڈیشل کونسل کی سماعت پر اثرانداز ہونے کا حربہ ہے؟
اس بارے میں شعیب کا تفصیلی جواب جو انہوں نے بذریعہ ای میل مجھے بھیجا درج ذیل ہے:
اسلام و علیکم
نعمان آپ کی میل ابھی میں نے پڑھی! تین سوال تھے اور دو ہی آپ کی رائے ایک سوال کا حصہ، بار ایسوسی ایشنز کیوں مدعو کر رہی ہیں؟؟ بار ایسوسی ایشنز سے خطاب کا کیا مقصد ہے؟
بار ایسوسی ایشنز سال میں گاہے بگاہے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کےسینئر ججز کو مدعو کرتی رہتی ہیں! بار (وکلاء) اور بینچ (ججز) ایک دوسرے سے قریبی تعلق رکھتے ہیں!! ہم وکلاء میں اکثر کہا جاتا ہے کہ عدلیہ کی آزادی اِن دونوں کے اتحاد ہی سے ممکن ہے! وکیل عدالت کا آفیسر ہوتا ہے اور اُس کا کام اپنے کلائینٹ کی قانونی مدد کرنا ہی نہیں ہوتا بلکہ دراصل عدالت کی مدد (assist) کرنا ہوتا ہے!! ایسا باہمی تعلق کے بہتر ہونے پر ہی ممکن ہے۔ باہمی تعلق کی بہتری کا ایک اظہار تو یہ ہے کہ جب ایک پر بُرا وقت آئے تو اُس کی مدد کی جائے، مدد اُس وقت ہی کی جاسکتی ہے جن کوئی اُس کا طالب ہو، اور ہم سمجھتے ہیں کہ اِس وقت انہیں ہماری ضرورت ہے! کسی کو اِس بات کا احساس دلانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اُسے اپنے گھر مدعو کیا جائے اور اُس کی سنی جائے اور اپنے احساسات ، جذبات اور خیالات اُس تک پنچائے جائے کہ آمنے سامنے اِس کی عکاسی جس بہتر طریقے ہوتی ہے وہ کسی اور طریقے سے ممکن نہیں! جب اِس سلسلے میں ابتداء ہو گئی تو دوسرے کا ویسا نہ کرنا یہ رنگ چھوڑے گا کہ شائد وہ ساتھ نہیں! لہذا ہر بار ایسوسی ایشن کی جانب سے الگ الگ (چونکہ وہ جدا جدا شہروں میں ہیں) دعوت دی جا رہی ہے!! بلکہ مزے کی بات بتاؤ کہ یہاں تو یہ بحث بھی ہو رہی ہے کہ چونکہ کراچی میں دعوت سندھ ہائی کورٹ بار کہ طرف سے دی جا رہی ہے تو کراچی بار کیا ایک بار پھر انفرادی سطح پر دعوت دے کسی اور دن؟ مگر ساتھ ہی مشترکہ طور پر یہ بھی فیصلہ کیا جانا ممکن ہے کہ دونوں ایک ہی پلیٹ فارم پر اپنے ساتھ کا اظہار کردیں!!
آپ نے کہا کہ اس طوفانی دور میں کوئی شخص اگر اسلام آباد سے پریس ریلیز بھیجتا ہے تو وہ خودبخود ملک بھر میں پھیل جاتی ہے، درست مگر پریس ریلیز کے اجراء اور بار سے خطاب میں زمین آسمان کا فرق ہے!! پریس ریلیز کا اجراء ٹھیک کہ بار کے منتخب اراکین کی جانب سے ہونے کی وجہ سے اہم ہے مگر اُس بار کے وکلاء کا خود اُس جگہ پر موجود ہونا کسی بھی ابہام کو پیدا ہونے ہی نہیں دیتا کیا ایسا پریس ریلیز سے ممکن ہے؟
اِس کی ایک چھوٹی سی مثال دوں کہ پیر کو حکومتی حمایت میں Marriott ہوٹل میں ایک سیمینار ہوا! جس میں حکومت کے حق میں ایک قراداد پیش کی گئی جسے وہاں موجود وکلاء (میں خود وہاں موجود تھا کہ مدعو تھا کہ مجھے خبر نہیں تھی کہ یہ حکومتی حمایت میں ہے) نے مکمل طور پر مسترد کر دیا! سیمینار کے وقت جیو! ، خاص کر پی ٹی وی اور ممکن ہے پرنٹ میڈیا کی طرف سے بھی نمائندے موجود تھے مگر قراداد کی ناکامی کے بعد کسی جگہ بھی میڈیا میں اِس کا ذکر نہیں ہوا!! اسی طرح کراچی میں ہی جب میڈیا اور وکلاء میں تصادم ہوا تو کراچی میں جاری وکلاء کے احتجاج کو الگے چند دن میڈیا میں کہیں جگہ نہیں ملی تو کیا احتجاج ہوا ہی نہیں!!! لہذا ہم اپنے باہمی تعلق ، اظہار اور جذبات کو میڈیا کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے!!!
معاملہ کا سیاسی رنگ ، وکیلوں کے مرہون منت نہیں! ہم میں سے کئی کسی نا کسی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں مگر مختلف جرنل باڈی (بار میں وکلاء کا اجلاس) میں یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ اِس تحریک سے سیاسی پارٹیوں کو رعکا نہیں جائے گا مگر نہ تو انہیں خود میں ضم ہونے دیا جائے گا نہ ہی کوئی ایسا موقع دیا جائے گا کہ وہ اسے ہائی جیک کر کے اپنے مقصد کے لئے استعمال کر سکے!!! مگر اِس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ایک پارٹی کی کمزوریاں دوسری پارٹی کی طاقت ہوتی ہے! لہذا حکومت کی اس نالائقی کو اگر اپوزیشن جماعت اپنے فائدے کے لئے استعمال کر لے تو اِس میں ہمارا کیا قصور؟؟ آپ تمام احتجاج کو اگر قریب سے دیکھے تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ وکیلوں نے کہیں بھی اپوزیشن کو اپنی صفوں میں آنے نہیں دیا یعنی احتجاج میں شامل ہیں مگر مکمل طور پر شانہ بشانہ نہیں!!
شعیب صفدر
مبینہ طور پر چند غیر جانبدار وکلاء کی جانب سے آج کے اخبارات میں ایک اشتہار شائع ہوا ہے جس کی تصویر نیچے دی گئی ہے:
اس سارے معاملے میں چیف جسٹس کے حامی وکلاء کا خیال یہ معلوم ہوتا ہے کہ چیف جسٹس کو جیوڈیشل کونسل سے انصاف نہیں ملے گا۔ زیادہ تر وکیل اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ جیوڈیشل کونسل غیر آئینی ہے۔ جب کہ حکومت کے حامی وکلاء کا خیال یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس معاملے کا فیصلہ سپریم جیوڈیشل کونسل پر چھوڑتے ہیں۔ دوسری طرف سیاسی جماعتیں جنہوں نے کبھی ایل ایف او پر جرنیل کا ساتھ دیا تھا اور کبھی وردی پر وہ اب اس معاملے سے سیاسی فائدے اٹھانے کے چکر میں ہیں۔ حکومتی سیاسی جماعتیں حسب معمول جرنل صاحب کی چمچہ گیری میں مشغول ہیں اور ان کی حمایت میں ریلیوں اور جلسے جلوسوں کا اہتمام کررہے ہیں۔
عوام، میں نہیں سمجھتا کہ ملک کی زیادہ تر عوام کو اس معاملے کی کچھ سمجھ پڑ رہی ہے (میں بھی ان ناسمجھوں میں شامل ہوں)۔ عوام بیشک عدالتوں اور میڈیا کی آزادی کے حق میں ہیں اور جرنیل مشرف اب عوام میں اتنے مقبول نہیں جتنے پہلے تھے مگر یہ کہنا کہ جرنیل اور فوج سے نالاں عوام عدالتی بحران پر چیف جسٹس کے ساتھ ہیں غالبا اس لئے درست نہیں کیونکہ زیادہ تر عوام اس سارے قصے کی اہمیت، بیک گراؤنڈ اور دیگر معلومات سے لاعلم ہیں۔ ان کے لئے یہ سمجھنا بہت مشکل ہے کہ ایک جج جو ایل ایف او کے تحت حلف اٹھاتا ہے وہ کس طرح عدلیہ کی آزادی کا ہیرو بن سکتا ہے؟
زمرہ جات: آزادی, انسانی حقوق, جمہوریت, سیاست, پاکستانی معاشرہ
|
آج کے اخبار روزنامہ جنگ میں مولانا سلیم اللہ خان، صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا مراسلہ شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے وفاق المدارس کا جامعہ حفصہ کی کاروائیوں کے بارے میں موقف بیان کیا ہے۔ جنگ کے اردو سرچ صفحات پر تو میں یہ مضمون نہیں تلاش سکا تاہم اس کی خبر ملاحظہ فرمائیں اور چاہیں تو جنگ ملٹی میڈیا پر اصل مضمون کا مطالعہ کریں۔
روزنامہ جنگ پر ہی معروف کالم نگار منو بھائی کا کالم، شاخیں اور جڑیں جامعہ حفصہ کے کرتا دھرتاؤں پر بڑے کاٹ دار لہجے میں طنز کرتے ہوئے منو بھائی لکھتے ہیں:
شمیم اختر کے پڑوسیوں نے حکومت سے کہا ہے کہ حکومت شمیم اختر کے رہائشی مکان کی الاٹمنٹ منسوخ کردے اور انہیں کسی اور علاقے میں بھیج دے۔ ایک پریس کانفرنس میں شمیم اختر کے پڑسیوں نے بتایا کہ حکومت نے شمیم اختر کے بیٹے کو جی6فور کی گلی87 میں گھر الاٹ کیا ہے اور وہ( شمیم اختر) وہاں بھی آنے لگی ہیں ،چنانچہ وہاں کے پڑوسیوں کو اندیشہ لاحق ہوگیا ہے کہ وہ جسم فروشی کا دھندہ وہاں بھی شروع کردیں گی اور اگر ان کے اس علاقے میں داخلے پر پابندی نہ لگائی گئی تو عام لوگوں کے لئے بہت ہی مشکل بلکہ ناممکن ہو جائے گا کہ وہ دعوت گناہ کو قبول کرنے سے انکار کردیں، چنانچہ محترمہ شمیم اختر اور ان کے بیٹے کو کسی اور علاقے میں بھیج دیا جائے جہاں کے لوگ دعوت گناہ قبول کرنے سے انکار کردیں یا جہاں کے لوگوں کے سسٹم میں مطلوبہ سہولت کی کوئی گنجائش ہی نہ ہو۔
انگریزی روزنامہ ڈیلی ٹائمز کراچی کے مختلف مدارس سے اس سلسلے میں رابطہ کرتا ہے۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے الحاق شدہ تمام مدارس کے علماء کرام نے جامعہ حفصہ کے قدم کو غیر اسلامی، غیر ضروری اور غیر قانونی قرار دیا ہے۔ وفاق المدارس العربیہ کے تحت چلنے والے سب سے بڑے ادارے کراچی کی جامعہ دارالعلوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے ترجمان قاری محمد اقبال کا کہنا ہے کہ کراچی کے لوگوں کو خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔
متحدہ قومی موومنٹ کے الطاف حسین نے گزشتہ شب ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈنڈا بردار شریعت کا بزور طاقت نفاذ برداشت نہیں کیا جائیگا اور اس کے خلاف پندرہ اپریل کو احتجاجی ریلی منعقد کی جائیگی۔
انگریزی روزنامہ دی نیوز پر میر جمیل الرحمن لکھتے ہیں:
انگریزی سے ترجمہ:
ایسے شخص کی جنس کا تعین کرنا تقریبا ناممکن ہے جو سر سے پیر تک کالا برقعہ اوڑھے ہو۔ وہ لمبی ہیں اور ان میں سے کوئی ہی بمشکل پانچ فٹ نو انچ سے کم قامت کی ہوگی جو کہ پاکستان میں خواتین کی اوسط قامت سے کہیں زیادہ ہے۔
انگریزی بلاگ چائے خانہ پر ایک پوسٹ “اب تیرا کیا بنے گا کالیا” میں بلاگر مشرف سے اپیل کرتے ہیں کہ جیسا کہ ملک کے چیف جسٹس کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا ہے وہ امید کرتے ہیں کہ اس خود ساختہ عدالت کے خالق کو بھی سڑکوں پر گھسیٹا جائیگا۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے ملک میں بڑھتی ہوئی انارکی، مذہبی انتہاپسندی اور شہریوں کی پراسرار گمشدگیوں پر اپنی تشویش کا اعادہ کیا ہے۔ کمیشن نے حالیہ میٹنگ کے بعد یہ پریس ریلیز جاری کی ہے۔
زمرہ جات: انسانی حقوق, ذرائع ابلاغ, مذہبی رواداری, پاکستانی معاشرہ, کراچی
|
"کراچی کی طالبانائزیشن" پرجاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین لکھتے ہیں: :۔ ‘‘حکومت سندھ کو ام احسان سمیت تمام ایسے لوگوں پر پابندی لگانی چاہئے جو انتہاپسندی پر
"کراچی کی طالبانائزیشن" پرنعمان لکھتے ہیں: ہم یہاں لسانی تعصب کی بات نہیں کررہے. میرا خیال ہے موضوع گفتگو جنگ زدہ علاقوں سے
"کراچی کی طالبانائزیشن" پراحمد سولنگی لکھتے ہیں: پہلے ہم سب پنجابی، پختون، سندھی، بلوچ بنیں پھر پاکستانی بنیں گے ہر ایک اپنے شہر اور
"اردو بلاگستان پر ایک مضمون" پرحیدرآبادی لکھتے ہیں: نعمان صاحب ! اگر اس شمارے کی پ۔ڈ۔ف ناچیز کو بھی ای۔میل کر دیں تو بہت بہت
"کراچی کی طالبانائزیشن" پرخاور بلال لکھتے ہیں: راہبر نسلی تعصب نے کراچی کی ایک نسل تباہ کردی ہے، کم از کم آپ اپنے بھائ
"کراچی کی طالبانائزیشن" پرراہبر لکھتے ہیں: احمد سولنگی! صوبہ سرحد میں سندھی یا اردو آبادی سے کیا لینا دینا؟ ویسے میرے نزدیک پنجاب میں
"Urdu Read Write and Blogging Support" پریاسر عمران لکھتے ہیں: brother I need an urdu language pack for wordpress or an urdu package of wordpress can you help me please,