
میں نے ابھی کچھ دیر پہلے ۱۰،۰۰۰ قبل از مسیح (10,000 BC) فلم دیکھی ہے۔ باوجود اس حقیقت کے کہ اس فلم کی کہانی میں کئی تاریخی، سائنسی اور آرکیالوجیکل نقائص ہیں، میں اس فلم کو ایک اچھی تفریحی فلم قرار دونگا۔ کہانی گھڑنے اور افسانہ طرازی کے اس عمل کے دوران آپ تخلیق کار کو تخیلاتی آزادی تو ضرور دیں گے۔ ورنہ تو کہانی سے محظوظ ہونا دشوار ہوجائیگا۔ تاہم یہ فلم چونکہ یہ دعوی کرتی ہے کہ یہ دس ہزار قبل از مسیح کے دور کی عکاسی کرے گی تو یہ مناسب ہوتا اگر فلم بنانے والے تحقیق سے کام لیتے اور حقائق کی مدد سے ہی کہانی بناتے۔ میرا خیال ہے کہانی تب بھی دلچسپ ہوتی۔
گرچہ یہ ایک اچھی تفریحی فلم ہے، مگر یہ کوئی عظیم فلم نہیں ہے۔ کہانی تقریبا بارہ مسالہ جات کی چاٹ کی طرح چٹپٹی بنائی گئی ہے۔ آپ کو فلم میں اس طرز کی کئی اور پرانی فلموں کے عناصر نظر آئیں گے۔ جیسا کہ نسبتا حال ہی میں جاری ہونے والی فلم آئس ایج۔
کچھ ذکر فلم کے تاریخی اور آرکیالوجیکل اور سائنسی نقائص کا کرتے ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ دس ہزار قبل از مسیح کے وقت مصری عظیم اہرام نہیں بنارہے تھے۔ درحقیقت مصری تہذیب کا دور ہی تین ہزار سال قبل از مسیح سے شروع ہوتا ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ کہانی میں یہ ذکر نہیں کیا گیا کہ یہ واقعی مصری تہذیب ہے۔ فرض کرلیں اگر یہ مصری تہذیب نہیں بھی تھی تب بھی یہ تقریبا ناممکن ہے کہ دس ہزار سال پہلے کوئی انسانی تہذیب اتنی ترقی یافتہ تھی کہ وہ اہرام تعمیر کرتی۔ نہ صرف یہ کہ وہ اہرام تعمیر کررہے تھے بلکہ عظیم اہرام کی نوک پر خالص سونے کا تکون پتھر بھی سجا رہے تھے۔ یہ ہضم کرنا بھی کافی مشکل کام ہے۔ اس بات کے تو شواہد ہیں کہ اس دور کا انسان دھاتوں سے آگاہ تھا۔ مگر تب بھی وہ ان کے استعمال سے نابلد تھا اور یہ تو بہت ہی دشوار ہے کہ وہ ان سے کسی قسم کا اوزار بناتا۔ یا کہ وہ ایک سونے کا اتنا بڑا ٹکڑا نہ صرف تیار کرے بلکہ اسے اہرام کی نوک پر سجائے۔ سونے کی اتنی بڑی چٹان کا وزن عظیم اہرام کے سب سے وزنی بلاک سے بھی پانچ گنا زیادہ ہوتا اور اسے وہاں تک لے جانا اور نصب کرنا ناممکن تھا۔
یہ بات بالکل سمجھ سے باہر ہے کہ کہانی کے ہیرو کا قبیلہ کہاں واقع تھا۔ فلم میں دکھایا گیا ہے کہ وہ عظیم برفانی پہاڑ پار کرتے ہیں پھر میدانی علاقے میں آتے ہیں، پھر ایک عظیم صحرا پار کرتے ہیں جس کے ایک طرف عظیم دریا بہہ رہا ہے۔ اگر ہم یہ فرض کریں کہ یاگل قبائل ہمالیہ کے اس پار رہتے تھے تب بھی یہ کافی لمبا سفر بنتا ہے۔ اگر ہم انہیں وسطی ایشیا اور یورپ کے بیچ کہیں رکھیں تب بھی۔
بڑی مرغی نما ڈائنوسار قسم کی مخلوق جو فلم میں دکھائی گئی ہے اس کا ہمارے ہیرو سے سامنا ہونا کافی مشکل ہے۔ کیونکہ ایک تو یہ ٹیرر برڈز جنوبی امریکہ میں پائی جاتی تھیں۔ دوسرا یہ کہ وہ دس ہزار قبل مسیح سے پہلے ناپید ہوچکی تھیں۔
نوکیلے دانتوں والا چیتا جو فلم میں دکھایا گیا ہے وہ بھی شمالی اور جنوبی امریکہ میں پایا جاتا تھا نہ کہ افریقہ یا یورپ میں۔
فلم میں کچھ مضحکہ خیز نظریات کو عجیب بے ڈھنگے طریقے سے دکھایا گیا ہے۔ جیسے یہ کہ مصری خلائی مخلوق تھے جو کسی ایسے جزیرے سے آئے تھے جو سمندر میں ڈوب چکا تھا (اٹلانٹس)۔ اٹلانٹس کے تصوراتی منظرنامے میں ہاتھیوں کی مدد سے تعمیرات کا تواتر سے ذکر ملتا ہے۔ فرعون نما جو حکمران دکھایا گیا ہے وہ سفید فام ہوتا ہے۔ حکمرانوں کے طبقے کے ناک نقوش بھی عجیب سے دکھائے گئے ہیں۔ جس کا مقصد غالبا یہ دکھانا تھا کہ ارتقائی عمل میں انسانی کی یہ نسل دنیا کے دیگر انسانوں سے زیادہ آگے تھی اور زیادہ ذہین تھی۔
فلم میں دکھایا گیا ہے کہ یہ تہذیب مموتھ کو سدھا کر ان سے تعمیراتی کام میں مدد لے رہی تھی۔ جو کہ عین ممکن ہوسکتا تھا۔ گرچہ ایسے کوئی شواہد کبھی نہیں ملے جن سے ایسا لگتا ہو کہ انسان نے کبھی مموتھ کو سدھایا ہو لیکن ڈی این اے تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ مموتھ کے قریب ترین رشتہ دار ہندوستانی اور جنوب مشرقی ایشیا کے ہاتھی ہیں جو قد میں افریقی ہاتھی سے چھوٹے ہیں اور افریقی ہاتھی جو کہ کافی غصیلے اور مشکل ہوتے ہیں ان کے مقابلے میں ایشیائی ہاتھی صدیوں سے انسانوں کے ساتھ کام کررہے ہیں۔
بادبانی کشتیاں۔ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ انسان اس دور میں کشتی بانی کرچکا تھا۔ مگر مجھے یہ علم نہیں کہ دس ہزار سال قبل مسیح کا انسان اتنی بڑی بادبانی کشتیاں بنانے کی ٹیکنالوجی رکھتا تھا۔
یہ ممکن ہے کہ دس ہزار سال قبل مسیح کا انسان پتھروں کی مدد سے تعمیرات کرنے کے فن سے آگاہ تھا۔ تاہم فلم میں دکھائی گئی عظیم تعمیرات کی ٹیکنالوجی کا تب موجود ہونا بے حد مشکل ہے۔ جیسے آپ دیکھیں گے کہ وہ پہیوں لگے ٹھیلے استعمال کرتے ہیں اہراموں کی تعمیر میں۔ دس ہزار سال قبل مسیح میں انسان گھوڑوں پر بیٹھ کر لڑنے کے فن سے بھی یکسر ناآشنا تھا۔ انسان تب گھوڑوں کا شکار کرکے انہیں کھایا کرتا تھا۔ لیکن فلم میں دکھایا گیا ہے کہ انہوں نے نہ صرف گھوڑوں کو سدھا رکھا تھا، بلکہ ان پر سواری بھی کرتے تھے اور انہیں لڑائی میں بھی استعمال کرتے تھے۔
زمرہ جات: تاریخ, سائنس, فلم
|
اہرام کی عمارات بہت سی قدیم تہذیبوں نے بنائیں۔ ان میں سے زیادہ شھرت مصر کے اہراموں کو ملی ہے اور یہ اہرام زیادہ بہتر حالت میں بھی ہیں۔ان اہراموں میں سب سے بڑا اھرام غزہ (مصر) میں ہے جسے عالمی شھرت حاصل ھے۔ یہ اہرام دنیا کے سات عجوبوں میں بھی شامل کیا جاتا ہے۔ مکسیکو کے جنگلات میں بھی اہرام ھیں جو مایا قوم نے تعمیر کئیے۔ ان لوگوں نے اپنا طرز تحریر بنایا ھوا تھا اور ان لوگوں کو ریاضی میں بھی عبور حاصل تھا تاریخدانوں کے مطابق ان اھراموں میں بھت سے راز پوشیدہ ہیں۔ اکثر قدیم اقوام میں اھرام کو بطور عبادت گاہ استعمال کیا جاتا تھا۔
سب سے بڑا اہرام خوفو یا چیوپس نامی فرعون نے تعمیر کرایا۔ غزہ کہ یہ اہرام قاہرہ سے دس میل دور ہیں۔ نپولین کے ماہرین نے کہا تھا کہ ان تینوں اہراموں کے پتھروں کو استعمال کرکے پورے فرانس کے گرد دس فٹ اونچی اور ایک فٹ چوڑی دیوار تعمیر کی جاسکتی ہے۔ اس سے تعمیر میں استعمال ہونے والے پتھروں کی جسامت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
خوفو ۴۷۰۰ ق م کا واحد مصری حکمران تھا جس نے پچاس برس حکومت کی۔ اس کہ ہرم کی خاص بات یہ ہے کہ یہ مکمل طور پر ٹھوس ہے۔ چھہ ھزار چھہ سو برس پرانی اس ساخت کی اتنی پائیدار اور مکمل نقل موجودہ دور میں بھی بنانا مشکل تصور کیا جاتا ہے۔ اوپر جاتے ہوئے پتھروں کا حجم کم ھوتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ۴۸۱ فٹ کی بلندی پر صرف ایک سل دھرنے کی جگہ رہ جاتی ہے اہرام کی بیرونی طرف ایک زمانے تک ہموار اور چکنی تھی۔ لیکن بعد میں مکانوں کی تعمیر کے لیے ان خوبصورت پتھروں کو نکال لیا گیا۔یہ چونے کے پتھر تھے جو سورج کی روشنی میں خوب چمکتے تھے۔
اہرام میں جو پتھر استعمال ہوئے ان میں سے بعض تیس ٹن وزنی ہیں۔ اہرام کا مجموعی وزن 7 کڑوڑ ٹن ہے۔ ان وزنی سلوں کو جوڑنے کے لئے استعمال ھونے والا مسالہ اب تک نہیں بنایا جاسکا۔ کاریگروں نے اس خوبی سےسلوں کو جوڑا ہے کہ جوڑ دکہائی نہیں دیتا۔ اس اہرام کی کئی گز موٹی دیواروں میں بمشکل 0.0008 فیصد فرق پایا گیا ہے۔
کرینوں کے بغیر اتنی عمدہ تعمیر کیوں کرممکن ھوئی؟ھر پتھرکوسیٹ کرنےکےلیےاٹھانارکھنا باربار کس طرح ممکن ہوا؟
ہیروڈوٹس کا بیان تھا کہ ایک لاکھہ افراد ۲۰ برس تک مشقت کرتے رہے تب کہیں جاکر اہرام مکمل ہوا تھا۔ اتنے لوگ صحرا میں کھانا پینا کھاں سے حاصل کرتے تھے؟ ملکی معیشیت ایسا شاہی خرچ کس طرح برداشت کرتی تھی؟ کیا یہ لوگ غلام تھے
معلوم ھوا ہے کہ اہرام کی تعمیر غلاموں نے نہیں کی بلکہ وہ لوگ مزدور تھے، جنہیں گندم،لہسن اور دوسری اشیائے خوردنی کی شکل میں مزدوری دی جاتی تھی۔ جنانچہ ۱۹۷۱ میں آکسفورڈ کے ڈاکٹر کرٹ نے نظریہ پیش کیا کہ در حقیقت سیلاب کے زمانے میں بے روزگار مصریوں کو مصروف رکھنے کی خاطر یہ عمارت تعمیر کرائی گئی تاکہ انہیں مفت خوری کی عادت نا پڑے اور یہ عوامی بہبود کا ایک ذریعہ بنا رہے۔
جدید دور میں انسان معلومات اور یادگار اشیأ کو دھاتی بکسوں میں بند کرکے زمین میں دفن کردیتے ہیں تاکہ اگلی نسلیں انہیں کھود کر دریافت کرلیں اور اپنے اجداد کی ترقی سے اگاہ رہیں۔ ایسے بکسوں کو ٹائم کیپسول کہا جاتا ہے۔ بعض ماہرین غزہ کے اہرام کو بھی ایک ٹائم کیپسول کہتے رہے ہیں۔ جو قدیم تہذیبوں کے سنگم پر کھڑا آنے والے لوگوں کو ماضی کے مالکوں کی حیرت انگیز بصیرت کا احوال سناتا ہے۔
کیا قدیم انسانوں کے ذہن میں اجتماعی طور پر اہرام کی پراسرار شکل میں کوئی خاص اہمیت تھی؟
زمرہ جات: تاریخ
|
جناب افتخار احمد اجمل صاحب نے اپنے بلاگ پر ایک پوسٹ لکھی ہے۔ آپ لوگ اندازہ لگا چکے ہونگے کہ میں ایسے موضوعات پر نہیں لکھتا۔ لیکن چند دنوں سے افتخار صاحب کے بلاگ کا معائنہ کرنے کے بعد اور ان پر دئیے گئے تبصرہ جات پڑھنے کے بعد مجھے یہ احساس ہوا کہ اس معاملے میں لکھنا ضروری ہے۔ یہ احساس ہونے کے بعد میں نے افتخار صاحب کی پوسٹ پر ایک تبصرہ بھیجا جو انہوں نے رد کردیا۔ اسلئیے میں وہ تبصرہ مزید اضافے کے ساتھ یہاں شائع کر رہا ہوں۔ بہتر ہوگا کہ پہلے آپ افتخار اجمل صاحب کی پوسٹ پڑھ لیں اور پھر آگے پڑھیں۔
محترم افتخار اجمل صاحب نے اپنی اس پوسٹ دو اہم غلطیاں کی ہیں۔ پہلی تو یہ کہ وہ ڈیوڈ ارونگ کو تاریخ دان لکھتے ہیں۔ دوسری یہ کہ وہ اس کی گرفتاری کو یہودیوں کے ہالوکاسٹ کی حقیقت بیان کرنے کا شاخسانہ ظاہر کرتے ہیں۔
یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ ڈیوڈ ارونگ کا ذکر اس مقدمے کے بغیر ادھورا ہے جو ارونگ نے امریکی تاریخ دان ڈیبوراہ لیپسیڈ اور ان کے پبلشر پینگوئن بکس پر کیا تھا۔ امریکی تاریخ دان نے اپنی کتاب میں ڈیوڈ ارونگ کی ہالوکاسٹ کے بارے میں تحقیق کو فضول قرار دیا تھا اور اس پر الزام لگایا تھا کہ وہ تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ عدالتی کاروائی کے دوران ہی ڈیوڈ ارونگ کو اپنی غلطی کا اندازہ ہوگیا کیونکہ مصنفہ اور ان کے پبلشر نے مقدمے کے شروع ہی میں اس بات کے ثبوت پیش کردئیے تھے کہ ڈیوڈ ارونگ کی تحقیق جھوٹ کا پلندہ ہے۔ جب صورتحال یہاں پہنچی تو ڈیوڈ نے فورا اس جنگ کو آزادی اظہار کی جنگ بنادیا۔ بہر حال وہ مقدمہ ہار گیا۔ اسی مقدمے کے دوران مصنفہ ڈیبوراہ نے کیمبرج کے پروفیسر رچرڈ جے ایونز کی بطور ماہر گواہ خدمات حاصل کی۔ گرچہ ڈیبوراہ لیپسیڈ اور چند مزید تاریخ دان پہلے ہی ارونگ کے کام میں کئی نقص ڈھونڈ چکے تھے مگر کسی نے اس کے کام کا اسقدر گہرا مشاہدہ نہیں کیا تھا۔ پروفیسر ایونز نے دو سال تک ارونگ کے کام کا معائنہ کیا اور اپنا تبصرہ ان الفاظ میں دیا:
“Not one of [Irving’s] books, speeches or articles, not one paragraph, not one sentence in any of them, can be taken on trust as an accurate representation of its historical subject. All of them are completely worthless as history, because Irving cannot be trusted anywhere, in any of them, to give a reliable account of what he is talking or writing about. … if we mean by historian someone who is concerned to discover the truth about the past, and to give as accurate a representation of it as possible, then Irving is not a historian.”
میرے خیال میں اس سے یہ تو واضح ہوگیا کہ ارونگ ایک تاریخدان تو قطعا نہیں ہے۔ اب آتے ہیں دوسری غلطی کی طرف جو یہ ہے کہ چونکہ ارونگ نازیوں کے ہاتھوں یہودیوں کے ہالوکاسٹ کو مبالغہ آمیز مانتا ہے تو اسلئیے اسے آسٹریا میں گرفتار کیا گیا۔
آسٹریا کے قانون کے مطابق، آسٹریا میں نازی ازم کو ترویج، فروغ یا آغاز دینے کی کوئی بھی کوشش قانونا جرم ہے۔ اسی قانون کے تحت نازی مظالم کو جائز ثابت کرنے کی کوئی بھی کوشش آسٹریا میں قانونا جرم ہے۔ ڈیوڈ ارونگ آسٹریا کے انڈرگراؤنڈ نیونازی طلبہ کی تنظیموں کو بھڑکانے کے لئیے ایک عرصے سے مواد فراہم کرتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ وہ دنیا بھر میں نیو نازی تنظیموں کا چہیتا ہے۔ اسے دنیا بھر میں اینٹی سیمیٹک گروہ خصوصی دعوت ناموں پر بلواتے ہیں۔ ارونگ کو پہلے بھی کئی بار آسٹریا میں داخل ہونے سے روکا گیا ہے۔ اس نے اپنی کتاب ہٹلرز وار میں سے نازی مظالم کے کئی مضامین شامل کرنے کے بعد مٹادئیے حالانکہ وہ واقعات تاریخی لحاظ سے درست تھے۔ جو دعوی وہ اپنے لیکچروں میں کرتا ہے ان کا تاریخ سے دور کا بھی واسطہ نہیں بلکہ وہ صرف پرو نازی اور اینٹی سیمیٹک پروپگینڈا ہوتا ہے اور اس کی یہ غلطی یورپ کی ایک عدالت عالیہ کے سامنے ثابت ہوچکی ہے۔ جس وقت اسے گرفتار کیا گیا اس وقت وہ پرو نازی مظالم لیکچر دینے کے لئیے ویانا جارہا تھا کہ دھر لیا گیا۔
گرچہ میں نازی ازم کے خلاف ان قوانین کو ٹھیک نہیں سمجھتا۔ مگر جن قوموں کا یہاں ذکر ہورہا ہے شاید ان سے زیادہ قیمت جنگ عظیم کی کسی اور قوم نے نے ادا نہیں کی اور یہ یادیں بہت تلخ ہیں۔ نازی مظالم کے حوالے سے آسٹریا کی اپنی تاریخ ہے جو یہودیوں پر ہٹلر کے مظالم کے سوا ہے۔ یورپ کی نازی ازم سے بیزاری کا اتنا تعلق یہودی دوستی سے نہیں ہے جتنی تھرڈ ریخ دشمنی سے ہے۔ جس قانون کا اوپر ذکر ہوا ہے اس کے تحت تھرڈ ریخ کے احیائے نو کی کوششیں بھی آسٹریا اور جرمنی میں جرم ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جب ارونگ کو پتہ تھا کہ آسٹریا اور جرمنی کے قوانین اس بارے میں بہت حساس ہیں تو اسے ضرورت ہی کیا تھی کہ وہ وہاں جا کر نفرت انگیز تقریریں کرے۔ بار بار وہاں پرو نازی طلبہ تنظیموں کو اکسائے، بھڑکائے اور انہیں اپنے نظریات کی تشہیر کے لئیے استعمال کرے؟ سستی شہرت کا حصول۔
میں یہ سمجھتا کہ جناب افتخار صاحب شاید یہ سب باتیں لکھنا بھول گئے تھے لیکن چونکہ انہوں نے میرا تبصرہ مٹادیا تو اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ باتیں سامنے آئیں۔ اسی لئیے میں نے وہی تبصرہ یہاں لکھ دیا ہے تاکہ سند رہے۔ اس کے علاوہ ان کی اسرائیل کی تاریخ کے بارے میں پوسٹس میں کئی مقامات پر کئی اہم تاریخی حوالوں اور حقیقتوں کو بیان نہیں کیا گیا۔ جس سے وہ تمام پوسٹس بالکل جانبدار ہوجاتی ہیں۔ لیکن افتخار صاحب نامعلوم کیوں اپنی پوسٹس پر لنکس نہیں دیتے۔ مثال کے طور پر اگر وہ اسرائیل کی تاریخ پر ویکیپیڈیا کا لنک دیتے ہیں تو پڑھنے والے آگے جاکر کچھ اور پڑھ سکتے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مستند تاریخ لوگوں کے دل میں اسرائیل سے بیزاریت پیدا نہیں کرسکتی۔ اسلئیے ضروری ہے کہ افتخار صاحب مسلمان بلاگرز کے لئیے ایسی مستند تاریخ لکھ دیں کہ وہ کبھی اسرائیل فوبیا سے باہر نہ نکل سکیں۔
جو کام افتخار صاحب نہایت عرق ریزی سے انجام دے رہے ہیں وہ نان فکشن مضامین اور کتابوں کی ایک پوری نسل کا سلسلہ ہے۔ اسرائیل کے کچے چٹھے کھولنے کی یہ مہم پوری دنیا میں زور و شور سے جاری و ساری ہے۔ افتخار صاحب منافقت کا ذکر کرتے ہیں تو اس میں کچھ اضافہ کرتا چلوں کہ اسرائیل اور نام نہاد صیہونی سازشوں پر جتنی کتابیں سفید فام عیسائیوں نے لکھی ہیں مسلمانوں نے اس کا دس فیصد نھیں لکھا۔ اور ایسی اکثر کتابیں امریکہ میں شائع ہوتی ہیں اور گرم گرم کیک کی طرح دھڑادھڑ فروغ ہوتی ہیں۔ اگر امریکہ کے میڈیا پر یہودیوں کا اتنا ہی کنٹرول ہے تو کیونکر یہ کتابیں نہ صرف شائع ہوجاتی ہیں بلکہ واشنگٹن پوسٹ جیسے موقر جریدوں میں ان کے طویل تبصرے شائع ہوتے ہیں؟
حقائق کو چھپانا، اپنی مرضی کے حقائق شائع کرنا اور لوگوں کے محنت اور تحقیق سے لکھے گئے تبصروں کو مٹانا، یہ منافقت نہیں ہے کیا؟
زمرہ جات: تاریخ, ذرائع ابلاغ, سیاست, مذہبی رواداری, پاکستانی معاشرہ
|
مایا تہذیب کی فلکیات پر تحقیق:
مایا لوگ علم فلکیات میں خصوصی دلچسپی رکھتے تھے اور اس میدان میں انہوں نے قابل ذکر کام کیا۔ گرچہ ان کے بعض نظریات آج مضحکہ خیز معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن اگر یہ بات ذہن میں رکھی جائے کہ ان تمام نظریات کی بنیاد وہ مشاہدات، تجربات اور شماریات ہیں جو مایا قوم نے انتہائی معمولی تکنیکی صلاحیت سے حاصل کئیے تو ان نظریات کی درستگی کافی حیرت انگیز معلوم ہوتی ہے۔
مایا لوگ یہ مانتے تھی کہ زمین چپٹی ہے اور اس کے چار کونے ہیں ہر کونے کو ایک رنگ سے ظاہر کیا جاتا ہے۔ مشرق لال، مغرب سیاہ، شمال سفید اور جنوب پیلا جبکہ مرکز ہرے رنگ سے ظاہر کیا جاتا تھا۔ ہر کونے پر ایک تیندوا (چیتے کی نسل کا ایک چھوٹا جانور جو اس علاقے میں پایا جاتا تھا) آسمان کو سہارا دئیے ہوئے تھا اور ان چیتوں کو باکاب کہا جاتا تھا۔ مایا لوگ یہ مانتے تھے کہ کائنات کی تیرہ پرتیں ہیں اور ہر پرت کا اپنا ایک الگ خدا ہے۔ ملکی وے کو مایا لوگ ایک اوپر اٹھتے ہوئے درخت کی مانند سمجھتے تھے۔
سیارہ زہرہ یا وینس کے مدار کے بارے میں ان کے اعداد و شمار حیرت انگیز حد تک درست ہیں۔ اس درستگی کا سبب انتہائی مشاقی کے ساتھ سالوں زہرہ کی نقل و حرکت اور اس کی پوزیشن اور سمت کی ریکارڈنگ اور مشاہدات ہیں۔ مایا لوگ زہرہ کو جنگوں کے خدا سے منسوب کرتے تھے اور شاہی حکام کو مملکت کے دفاعی منصوبوں اور جنگوں کے لئیے اس معلومات کی ضرورت ہوتی تھی۔ مایا ماہرین فلکیات زہرہ کے علاوہ مریخ، مشتری اور عطارو کا مشاہدہ بھی کرتے تھے۔
جس وقت پرانی دنیا میں ارمغان کے آرک بشپ اشر کائنات کی قدامت کی کلکولیشن چار ہزار سال قبل مسیح کر رہے تھے۔ اس وقت مایا لوگ یہ اندازہ لگا چکے تھے کی کائنات کم از کم نوے ملین سال پرانی ہے۔ فلک کے بارے میں ان کے پروہتوں نے بڑی عرق ریزی سے کام کیا اور انتہائی مہارت سے اجرام فلکی کے مشاہدات کئیے اور ان کی حرکات کے اعداد و شمار ریکارڈ کئیے۔ اس مہارت ہی کے نتیجے میں مایا کلینڈر وجود میں آیا۔
مایا کلینڈر:
مایا تہذیب کی سب سے زیادہ قابل ذکر ایجاد ان کا کلینڈر مانا جاتا ہے۔ مایا لوگ اپنے کلینڈر اور علم فلکیات کی مدد سے سورج اور چاند گرہن کی مکمل اور درست پیشنگوئی کرنے پر قادر تھے اس کے علاوہ وہ لوگ نظام شمسی کے دیگر سیاروں کا نہ صرف علم رکھتے تھے بلکہ ان کے مدار اور دائروں کو شمار کر کے ان کے طلوع ہونے اور نظر آنے کی پیشن گوئی بھی کرسکتے تھے۔
مایا لوگ ایک سے زیادہ قسم کے کلینڈر استعمال کرتے تھے۔ جن میں شمسی کلینڈر اور چاند کے کلینڈر شامل ہیں۔ جو شمسی کلینڈر ان کے پروہت استعمال کرتے تھے اس کی درستگی میں ایک دن کا دس ہزارویں حصے کا فرق ہے۔ یہ کیلکولیشن اس کلینڈر سے بھی زیادہ درست ہے جو آج ہم اپنے معیاری کلینڈر میں استعمال کرتے ہیں۔ مایا لوگوں کا ایک کلینڈر صرف سیارہ وینس کی پوزیشن کو ظاہر کرتا ہے اور ایک کلینڈر موسموں اور مذہبی رسومات کے دن بتانے کے لئیے ہے۔ یہ کلینڈر مایا قوم نے دیگر پری کولمبین قوموں اولمک اور ازٹک سے ادھار لئیے مگر انہیں نقطہ کمال پر پہنچادیا۔
مایا قوم کا شمسی کلینڈر ہاب کہلاتا تھا جس میں بیس بیس دن کے اٹھارہ مہینے ہوتے تھے۔ دن کو کین کہا جاتا تھا۔ (دیکھئیے تصویر نمبر ایک) اور سال کے آخر میں پانچ دن کا ایک مہینہ ہوتا تھا جسے واییب کہا جاتا تھا جس کا ترجمہ ‘بےنام دن’ ہوتا ہے۔ مایا لوگوں کے مہینوں کے نام موسموں یا ان کے مذہبی تہواروں کے حساب سے ہوتے تھے۔ جسے برسات کے ختم ہونے کا مہینہ سردی کا مہینہ خزاں کی آمد وغیرہ۔ مایا کلینڈر دنوں پر مشتمل ہوتا تھا اور تقریبا باون شمسی پھیروں یعنی باون سالوں بعد ایک نیا پھر شروع ہوتا تھا۔ یہ دن مایا لوگ بے چینی سے کاٹتے تھے کیونکہ انہیں ڈر ہوتا تھا کہ خدا انہیں ایک اور پھیرا عطا کریں گے یا نہیں۔ اس طریقے کے مطابق ان کے تاریخ کے حساب درست رکھنا مشکل تھا اسلئیے طویل تاریخوں کو گننے کے لئیے وہ چند اور کیلکولیشنز استعمال کرتے تھے۔
تصویر نمبر ایک: مایا مہینے کے بیس دن۔

مایا لوگوں کے مطابق دنیا پانچ عہدوں میں بٹی ہوئی ہے اور مایا لوگ چوتھے عہد میں جی رہے تھے۔ ان کے کلینڈر کے مطابق اس چوتھے عہد کو ہمارے آج کے کلینڈر کے حساب سے سن دو ہزار بارہ میں ختم ہوجانا ہے اور اس کے بعد دنیا کا آخری اور پانچواں عہد شروع ہوگا اور اس کے ختم ہونے پر نسل انسانی ختم ہوجائے گی۔
مایا تہذیب کا کلینڈر اور علم فلکیات اور کاسمولوجی کے بارے میں ان کی تحقیق اتنا دلچسپ موضوع ہے کہ اس پر جتنا لکھا جائے کم ہے۔ اگر آپ حضرات کو مزید جاننے کا شوق ہو تو مندرجہ ذیل روابط مددگار ثابت ہونگے۔
(نوٹ ذیل میں دئیے گئے تمام روابط انگریزی میں ہیں۔)
زمرہ جات: تاریخ
|
مایا شہر
مایا تہذیب کے دوسرے کلاسیکی دور میں مایا قوم نے زبردست ترقی کی۔ اس دور میں انہوں نے شہر بسائے۔ ان میں سے بہت سے شہر بے حد گنجان آباد تھے۔ مثال کے طور پر ٹکل شہر صرف چھ اسکوائر میل پر پھیلا تھا اور اس میں دس ہزار کے لگ بھگ مندر، رہائشی یونٹ، اور اہرام تعمیر تھے۔ اس شہر کی آبادی ساٹھ ہزار کے لگ بھگ تھی۔ اس وقت پوری دنیا میں کسی شہر میں اتنی گنجان آبادی نہیں تھی۔

مایا قوم اپنے دوسرے کلاسیکی دور کے آغاز میں ایک موروثی بادشاہی نظام اپنا لیتی ہے۔ اس تہذیب کے لوگ یوٹکان کے علاقے میں کئی ریاستیں قائم کرتے ہیں۔ ہر ریاست کا ایک بادشاہ ہوتا تھا۔ اور بادشاہ کی رہائش ریاست کے مرکزی شہر میں ہوتی تھی۔ ریاست کے چہار طرف دیہی آبادی بستی تھی جو کہ ماہر کاشتکار تھے ان کی ذرعی مہارت پر آگے بات ہوگی۔ بڑے ذرعی یا دیہی علاقوں کے بیچ میں شہری آبادیاں ہوتی تھیں۔ شہر کو عموما ڈھلوانوں کی ایک سیریز میں بنایا جاتا تھا۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ یہ پورا علاقہ برساتی جنگلات پر مشتمل تھا اور اگر ایسا نہ کیا جاتا تو شہری آبادیاں سیوریج کے مسئلے سے بالکل مفلوج ہوجاتیں۔ بلند مقامات پر اہم عمارتیں مثلا مندر، اہرام، بال گیم کھیلنے کے میدان، شاہی رہائش گاہیں اور اجرام فلکی کا مطالعہ کرنے کے لئیے مشاہدہ گاہیں تعمیر کی جاتی تھیں۔ اس کے بعد رہاشی یونٹ ہوتے تھے جو شہر کے آخری سرے تک جاتے تھے جہاں سے آگے پھر ذرعی علاقہ شروع ہوتا تھا۔

شہر میں تعمیرات کے لئیے کوئی خاص منصوبہ بندی نہ ہوتی تھی۔ سوائے ڈھلوان کے باقی تعمیرات میں گرڈ سسٹم کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا تھا جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان شہروں کی گزرگاہیں پرپیچ رہی ہوں گی خصوصا ٹکل جیسے بڑوں شہروں میں۔ شہروں کی کوئی باقاعدہ حدبندی نہ ہوتی تھی اور سوائے چند ایک آثار کے تقریبا تمام شہروں کے گرد کوئی فصیل یا قلعہ نہیں ہوتا تھا۔ یہ لوگ عمارتیں بنانے کے لئیے چونا اور چونے کے پتھروں کا استعمال کرتے تھے۔ انہوں نے چونے سے سیمنٹ جیسا ایک میٹریل تیار کیا تھا جو بڑی تعمیرات میں استعمال ہوتا تھا۔ ان تعمیرات میں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کی تعمیر میں کسی قسم کے دھاتی اوزار کا استعمال نہیں ہوا۔ ان تعمیرات کے لئیے بہت زیادہ افرادی قوت کی ضرورت تھی جو ان شہروں میں وافر مقدار میں پائی جاتی تھی۔ ان عمارتوں کی تعمیر ڈیکوریشن، آرائش اور آرٹ کا بہت خیال رکھا جاتا تھا۔ دیواروں پر پینٹینگز بنائی جاتی تھیں انہیں رنگ کیا جاتا تھا۔
ذراعت:
خوراک کے لئیے مایا تہذیب کا انحصار ذراعت پر تھا۔ یہ لوگ ماہر کاشتکار تھے۔ ان لوگوں نے کاشتکاری کے لئیے زیادہ تر جو تکنیک اپنائی اسے سلیش اینڈ برن کہا جاتا ہے۔ اس طریقے میں جنگل کا ایک رقبہ کاشتکاری کے لئیے درختوں سے صاف کردیا جاتا تھا۔ اس کے چند ہفتوں بعد وہاں موجود جنگی پھلوں کو جلادیا جاتا تھا جس سے زمین کی زرخیزی میں اضافہ ہوتا تھا۔ بعدازاں اس جگہ پر کاشتکاری کی جاتی تھی۔ تاہم یہ طریقہ ذراعت ہی ان کے لئیے خوراک کا اہم ذریعہ نہیں تھا۔ جہاں مناسب زمین ملی وہاں مایا قوم نے مستقل بنیادوں پر کاشتکاری بھی کی اور کئی مقامات پر بڑے رقبوں کو مستقل کاشتکاری کے لئیے تیار کیا گیا۔ اس کے علاوہ گھنے جنگلوں میں انہوں نے بڑے رقبوں پر پھلوں کے باغات تیار کئیے۔ دیگر کئی طرح کی کاشتکاری کے شواہد بھی ملے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ مکئی، سورج مکھی کے بیج، کاٹن وغیرہ کی فصلیں تیار کرتے تھے۔ کلاسیکی دور میں مایا لوگ ذراعت کے لئیے مختلف علاقوں میں وہاں کے موسم، آپ و ہوا اور اپنی آبادی کے لحاظ سے کاشتکاری کرتے تھے۔ لیکن پھر بھی ماہرین اس بارے میں سوچ رہے ہیں کہ ہوسکتا ہے خوراک کی قلت کے سبب مایا تہذیب کو اپنے عظیم الشان شہر چھوڑ کر جانا پڑا ہو؟
علم فلکیات، ریاضی اور کاسمولوجی کے بارے میں مایا قوم کی تحقیق، اور مایا کلینڈر ہماری اگلی پوسٹ کا موضوع ہوگا۔
زمرہ جات: تاریخ
|
مایا تہذیب ایک قدیم میسوامیریکن تہذیب ہے جو شمال وسطی امریکہ میں پھیلی ہوئی تھی۔ اس علاقے میں آجکل میکسیکو، ہنڈارس، بیلیز اور گوئٹے مالا کی ریاستیں موجود ہیں۔ (تصویر نمبر ایک)
مایا تہذیب کے جو آثار ملے ہیں، یا ایسے آثار جنہیں مایا تہذیب سے موسوم کیا جاتا ہے وہ ایک ہزار قبل مسیح تک پائے گئے ہیں۔ جیسا کہ ہم پچھلی پوسٹ میں ذکر کرچکے ہیں کہ امریکا میں انسان بہت پہلے آچکا تھا۔ میسوامیریکن علاقے میں قدیم ترین انسانی موجودگی کے شواہد دس ہزار سال قبل مسیح تک اشارہ کرتے ہیں۔ لیکن مایا تہذیب کا آغاز ایک ہزار سال قبل مسیح کے آس پاس ہوا۔ زیادہ مضبوط شواہد چھ سو قبل مسیح کو مایا تہذیب کے عروج کا نقطہ آغاز بتاتے ہیں۔ اس دور میں ابتدائی مایا تعمیرات کے آثار ملے ہیں۔ لیکن یقینا مایا تہذیب اس سے بہت پہلے شروع ہوئی اور ان کے معاشرتی تمدن کی رفتار خاصی تیز رہی اور چار سو سال میں انہوں نے قابل ذکر ترقی کی۔
مایا تہذیب کا دوسرا دور دو سو پچاس عیسویں سے نو سو عیسویں تک پھیلا ہوا ہے۔ جس دوران انہوں نے بڑے علاقوں میں شہری تعمیرات کی۔ اسی دور میں انہوں نے یادگاری تحریریں چھوڑیں اور اسی دور میں انہوں نے اپنی تہذیب اور تمدن کو باقاعدہ ریکارڈ کیا۔ لیکن پھر اچانک وہ سب کچھ یوں ہی چھوڑ کر کہیں چلے گئے۔ کہاں اس بارے میں تو کچھ کہا جاسکتا ہے مگر کیوں؟ اس بارے میں ابھی بھی بحث جاری ہے۔ مایا قوم کا ترقیاتی سفر اس دور کے بعد بھی جاری رہا اور ان کی تعمیرات اور تمدنی اثرات پورے یوٹکاں پر پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کی تہذیبی اور ثقافتی برتری نے اردگرد کی دیگر میسوامیریکن اقوام کو بھی متاثر کیا۔ لیکن ان اثرات کے پھیلنے کی وجہ تجارت اور کلچر رہی ہیں مایا قوم نے دیگر اقوام کو بزور طاقت فتح کرنے کی کوئی قابل ذکر سعی نہیں کی۔
یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا حتی کہ ہسپانوی نوآبادکار ان علاقوں میں پہنچی اور مایا تہذیب کو بزور طاقت زوال پذیر ہونے پر مجبور کیا گیا۔ مایا اقوام کے صحائف ڈھونڈ ڈھونڈ کر جلائے گئے، ان کی تعمیرات کو نقصان پہنچایا گیا اور ان کی زبان اور مذہبی رسومات کو شیطانی قرار دے دیا گیا۔
مایا تہذیب زوال پذیر ہوئی مگر مایا لوگ آج بھی میسو امریکن علاقوں میں موجود ہیں۔ ان میں سے بہت سارے لوگ ابھی بھی مایا مذہب کی بہت سی رسومات پر عمل کرتے ہیں گرچہ ان میں سے زیادہ تر لوگ رومن کیتھولک مذہب اختیار کرچکے ہیں۔ آج بھی ایسے مایا لوگ موجود ہیں جو کوئی نہ کوئی مایا زبان بولتے ہیں۔
مایا تہذیب علاقے کی دیگر اقوام سے یوں ممتاز تھی کہ انہوں نے بہت پہلے لکھنا سیکھ لیا تھا۔ ان کا اپنا طرز تحریر تھا۔ اس کے علاوہ ریاضی میں بھی ان کی ترقی حیرت انگیز تھی نہ صرف یہ کہ انہوں نے نمبروں کو لکھنا سیکھ لیا تھا بلکہ یہ صفر کے استعمال سے بھی واقف تھے (دیکھئیے تصویر نمبر دو)۔ فلکیات، طبیعیات، جراحت اور ذراعت میں ان کی ترقی حیران کن اسلئیے بھی تھی کیونکہ ان کا پرانی دنیا سے کوئی تعلق نہیں تھا جہاں ان میدانوں میں اسی دور میں کام جاری تھا۔
میری اگلی پوسٹ میں مایا تہذیب کی آرٹ، آرکیٹیکچر، ذراعت اور فلکیات کے میدانوں میں کوششوں کا ایک مختصر جائزہ پیش کیا جائے گا۔ ہم ان قیاس آرائیوں پر بھی بات کریں گے جو اس بات پر بحث کرتی ہیں کہ مایا قوم اپنے بسے بسائے شہر چھوڑ کر اچانک کیوں چلے گئے۔
تصویر نمبر ایک:

تصویر نمبر دو:

مزید معلومات کے لئیے ویکیپیڈیا پر مایا ذرائع دیکھیں خصوصا بیرونی لنکس پر کلک کریں وہاں بہت ساری تصاویر بھی ہیں جن مایا تہذیب کے بنائے ہوئے مندر اور اہراموں کی تصاویر بھی ہیں۔
زمرہ جات: تاریخ
|
محققیں اس بات پر متفق ہیں کہ امریکی براعظموں میں انسانوں کی آبادی موجود نہیں تھی حتی کہ کوئی چالیس سے بیس ہزار سال قبل مسیح میں انسان یہاں پہنچا۔ مگر کیسے؟ اس بارے میں سب سے مستند نظریہ بیرنگ برج کا ہے۔ اس نظرئیے کے مطابق قریبا چالیس ہزار سال قبل مسیح کے دوران زمین کا آخری برفانی دور آیا۔ جس کے نتیجے میں گرین لینڈ اور انٹارٹیکا کے درمیان برف کی نئی اور کئی گنا دبیز سطحیں ابھریں۔ اس برفانی دور کے نتیجے میں الاسکا سے سائیبیریا تک سطح سمندر اتنی گر گئی کہ سمندر چند مقامات سے بالکل خشک ہوگیا اور ایشیا کے انتہائی شمال مشرقی علاقوں سے امریکا تک ایک زمینی راستہ بن گیا جسے بیرینگیا یا بیرنگ برج کہا جاتا ہے اور اسی راستے سے اگلے دس تا بیس ہزار سال تک وقفے وقفے سے انسانی آبادیاں امریکہ کی طرف ہجرت کرتی رہیں۔ یہ زمینی راستہ آخری وسکونسن گلیشیئیشن کے نتیجے میں بند ہوگیا۔
امریکہ میں انسانوں کی ہجرت شمالی امریکہ میں ہی رہی اور عام خیال یہی ہے کہ ہجرت کرکے شمالی علاقوں میں آنے والوں نے بہتر چراہگاہوں اور شکار کی تلاش میں جنوب کا رخ کیا اور یوں شمالی امریکا سے جنوبی امریکا تک انسانی آبادی پھیل گئی۔ جس دوران اور جن علاقوں سے ان لوگوں نے ہجرت کی تھی وہاں بھی ان کا زیادہ تر دارومدار خوراک کی تلاش اور بقاء کی جنگ جیتنے پر ہی تھا اور الاسکا کے برفانی علاقے ان کے ماحول سے زیادہ مختلف بھی نہیں تھے۔ ایک عرصے بعد ان لوگوں کا تعلق پرانی دنیا سے بالکل منقطع ہوگیا اور تہذیبی لحاظ سے یہ لوگ باقی دنیا سے بالکل کٹ گئے۔ مگر جیسے جیسے یہ جنوب کی سمت پھیلے ویسے ویسے شکار کے ساتھ ساتھ تہذیب نے بھی ترقی کی۔ قبیلے بنے، آبادیاں بسائی گئیں اور جنگیں لڑی گئیں۔ یہاں تک کے ہسپانوی نوآبادکاروں نے امریکا کو فتح کرنے کی مہم شروع کی جس کے دوران کئی ایسے تاریخی ثبوت جلادئیے گئے جو قدیم امریکی تہذیبوں پر مزید روشنی ڈال سکتے تھے۔
ملاحظہ فرمائیے:
ویکیپیڈیا پر امریکاز کی تاریخ۔
بیرنگ برج۔
برفانی دور۔
آئندہ پوسٹس میں ہم امریکاز میں کولمبین دور سے پہلے بسنے والی قوموں کا ذکر کریں گے۔
زمرہ جات: تاریخ
|

کائنات کی ابتدا کیسے ہوئی؟ یہ وہ سوال ہے جس نے ماہرین کو ایک عرصے سے مشکل میں ڈال رکھا ہے۔ ابتدا میں کچھ نہ تھا۔ نہ مادہ تھا نہ توانائی۔ پھر نا معلوم کیوں کر عدم سے وقت کا وجود ہوا اور یہیں سے کائنات کا عمل شروع ہوا۔
کائنات کے آغاز کے بارے میں سب سے معتبر نظریہ بگ بینگ کا ہے۔ بگ بینگ کے مطابق کائنات کا آغاز دس سے بیس بلین سال پہلے ایک کاسمک دھماکے سے ہوا جسے بگ بینگ کہا جاتا ہے۔ اس دھماکے سے پہلے کائنات کی ساری توانائی اور مادہ کسی ایک نقطے پر جمع تھا اور دھماکے کے بعد یہ اتنہائی تیزی سے پھیلنا شروع ہوا۔ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا اور اس تھیوری کا زیادہ تر کریڈٹ جاتا ہے ایڈون ہبل کو جنہوں نے ۱۹۲۰ میں یہ معلوم کیا کہ کہکشائیں جو ہمارے ملکی وے سے دور ہیں وہ ھم سے اور دور ہوتی جارہی ہیں بلکہ جو کہکشایں ہم سے جتنی دور ہیں وہ ھم سے اتنی ہی تیزی سے دور جارہی ہیں۔ اس بات سے اس نے اندازہ لگایا کہ ساری کائنات اسی طرح پھیل رہی ھوگی اگر اس پھیلاو کو الٹا کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک موقع پرکائنات کسی واحد نقطہ سے نکلی ہوگی۔
سن 1960 میں آرکو پانزیاز نے اور رابرٹ ولسن نے بگ بینگ کے ہالہ کا معلوم کرلیا جسے Cosmic microwave background radiation کہا جاتا ہےاس سے پتہ چلا کہ ہماری کائنات کبہی ایک بہت گرم اور خطرناک جگہ تھی۔ یوں بگ بینگ تھیوری کو اور تقویت ملی۔ ان دونوں دریافتوں سے ماہرین یہ اندازہ لگانے میں کامیاب ھوگئے کہ کائنات ایک بہت بڑے آگ کے گولہ سے شروع ہوئی بگ بینگ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ ستارے اور سیارےجو ہمارے ارد گرد موجود ہیں کس طرح وجود میں آئے بگ بینگ کے نام کی وجہ سے لوگ سمجہتے ہیں کہ یہ کسی قسم کا دھماکہ ہے اور کسی خاص موقع پر پیش آیا ہوگا لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ مثال کے طور پر دھماکے سے اگر ہم ایک بم کی مراد لیتے ہوں تو جب دھماکا ہوتا ہے تو بم میں موجود اجزاء توانائی کے ساتھ باہر کی طرف پھیلتے ہیں اور بکھرتے ہیں۔ بگ بینگ کی مثال ایسی ہے کہ ایک بم کے اندر ہی دھمکا ہوا اور بم کی توانائی کے پھیلنے سے بم کے اندر ہی خلا تخلیق ہوئی جس میں بم کے دیگر اجزاء پھیلتے گئے۔
کائنات کے پھیلاؤ کی ایک اور مثال یوں دی جاسکتی ہے کہ توے پر رکھے پراٹہے کا سوچیں جب اس پر گھی ڈالا جاتا ہے تو آہستہ آہستہ وہ گھی پھیلنے لگتا ہے اب آپ یہ سوچیں کہ آپ اس گھی میں شامل ایک ننھا سا عنصر ھیں تو آپ کو ہر طرف ایک ہی رفتار سے گھی پھیلتا ہوا نظر آئے گا لیکن پراٹھے کی طرح کائنات کا کوئی مرکز نہیں ہے۔
زمرہ جات: تاریخ, سائنس
|
چند جملے میری جانب سے۔ عازب آپکو بتا چکا ہے کہ اس بلاگ کو موضوع کیا ہے۔ عازب اور مجھے دونوں کو قدیم تہذیبوں کی تاریخ اور سائنس میں دلچسپی ہے۔ ہماری یہ بالکل کوشش نہیں ہوگی کہ ہم اپنے آپکو عالم فاضل ظاہر کرنے کی کوشش کریں بلکہ ہماری کوشش یہ ہوگی کہ اس بلاگ کے ذریعے ہم ایسے لوگوں سے بات چیت کرسکیں جو ان موضوعات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ عازب کا آئیڈیا یہ ہے کہ ہم ڈاکٹر سلیمان قاضی کی کتاب کے موضوعات اپنے الفاظ میں بیان کریں کیونکہ انٹرنیٹ تک رسائی ہونے کے بعد ہمیں پتہ چلا کہ کئی مقامات پر قاضی صاحب صحیح معلومات فراہم نہیں کرسکے اور چند ایک جگہ سائنس پر ان کا ذاتی تعصب غالب آگیا۔ جہاں وہ صحیح معلومات پیش نہیں کرسکے اس میں ان کی کوئی غلطی نہیں کیونکہ پاکستان میں رہتے ہوئے بغیر انٹرنیٹ کے صحیح معلومات کا حصول بہت مشکل ہے۔
میرا آئیڈیا یہ ہے کہ ہم اپنے طور پر اس بلاگ کو مرتب کریں اور ایسے موضوعات بھی ڈسکس کریں جو قاضی صاحب نے ڈسکس نہیں کئیے ہیں۔ اس بات پر اتفاق ہوچکا ہے کہ ہم اس بلاگ کا باقاعدہ آغاز بگ بینگ یعنی کائنات کے آغاز سے کریں گے۔ لیکن میں یہ چاہتا ہوں کہ عازب زیادہ سے زیادہ لکھے اسلئیے ہوسکتا ہے ہمیں یہ پوسٹ لکھنے میں کچھ وقت لگ جائے۔ امید ہے کہ جس طرح آپ نے میرے بیہودہ بلاگ کو پذیرائی بخشی اسی طرح اس بلاگ پر بھی نوازش فرمائیں گے۔
زمرہ جات: تاریخ, سائنس, عمومی
|
میرا نام عازب ھے اور میری عمر سولہ سال ھے۔ میں قرآن حفظ کرنے کے بعد ان دنوں لیجنڈ پبلک اسکول میں دسویں جماعت کا طالبعلم ہوں۔ اپنے بڑے بھائی نعمان کا بلاگ دیکھ کر مجھے بھی بلاگنگ کا شوق ہوا۔ مجھے سائنس اور تاریخ میں دلچسپی ہے اس بلاگ پر ان دو مضامین پر لکھوں گا۔ کیونکہ میں نے ابھی ابھی کمپیوٹر پر اردو لکھنا شروع کی ہے اسلئیے میں پہلے چھوٹی چھوٹی پوسٹ لکھوں گا۔ میرے علاوہ یہاں نعمان بھائی بھی میرا ہاتھ بٹائیں گے۔
اس بلاگ کا ٹائٹل ڈاکٹر قاضی محمد سلیمان کی کتاب ‘کائنات کے ان کھلے راز’ سے لیا گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی کتاب جنگ پبلشرز نے جون ۱۹۹۹ میں شائع کی تھی۔ اس کتاب سے متاثر ہو کر میں نے یہ بلاگ شروع کیا ہے۔
زمرہ جات: تاریخ, سائنس, عمومی, کتابیں
|
کراچی میں کسی زمانے میں ایک سینما ریوالی ہوا کرتا تھا۔ یہ سینما اس علاقے میں تھا جہاں آج نشیمن اور افشاں سینما بدستور فلمی انڈسٹری کی زبوں حالی سے لڑ رہے ہیں اور بری بری فلمیں چلا کر کسی نہ کسی طرح ابھی تک کھلے ہیں۔ کچھ مہینے پہلے جوبلی سینما بھی ڈھادیا گیا ہے۔ خیر تو ریوالی کے برابر میں ایک لسی والے کی دکان تھی۔ جب لوگ فلم دیکھ کر نکلتے تھے تو اس دکان سے لسی پیا کرتے تھے۔ سالوں بعد وہ سینما تو نہیں رہا مگر لسی والے نے خوب ترقی کی۔ سینما کے ختم ہونے کے بعد وہ علاقہ گاڑیوں کے پارٹس کی خریداری کا مرکز بن گیا۔ کچھ دور مزید نئے شاپنگ سینٹر بھی کھل گئے۔ آج بھی وہ دکاندار ڈیڑھ سو من دودھ کی روزانہ لسی، دہی، دودھ، دودھ کی بوتلیں بیچ رہا ہے۔ اور یہ دکان اب اس علاقے میں ریوالی کے نام سے مشہور ہے۔ میری دکان اس دکان سے تھوڑی ہی دور ہے۔ لیکن ہماری دکان کی طرف ایک بہت گنجان قدیم رہائشی علاقہ ہے۔ ہماری زیادہ دکانداری گھریلو صارفین پر مشتمل ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری لسی زیادہ نہیں بکتی۔ ہاں دودھ اور دہی خوب چلتے ہیں۔
ریوالی والا ہماری دکان سے مشرق کی سمت پر ہے۔ مغرب میں ایک اور دکاندار ہے۔ چنوں پہلوان۔ یہ صاحب کوئی تیس سال پہلے سڑک پر پتھارا لگا کر دودھ بیچا کرتے تھے۔ آج دکان میں بیٹھ کر ساٹھ من دودھ دہی لسی وغیرہ بیچ رہے ہیں۔
شمال میں بے شمار دودھ کی چھوٹی موٹی دکانیں دکانیں ہیں اور جنوب میں دلپسند مٹھائی والا ہے۔ یہ صاحب ایک متروک بلڈنگ میں جلیبیاں بیچا کرتے تھے اور آج ان کی مٹھائی باہر ملکوں میں بھیجی جارہی ہے۔ ان کی دکان کے بالکل سامنے صابری نہاری ہاؤس ہے۔ یہ وہی نہاری والے ہیں جن کی نہاری کی ساری دنیا میں دھوم ہے۔ ان کی دکان کے پیچھے اردو بازار ہے اور اس سے آگے برنس روڈ جہاں کی حلیم، نہاری، ربڑی، بریانی اور کٹاکٹ نے دنیا بھر میں مقبولیت کے جھنڈے گاڑے ہیں۔ برنس روڈ سے اگر آپ بس میں بیٹھیں تو صرف پانچ منٹ کے فاصلے پر صدر ہے. جہاں شفیق کا میرٹھی کباب ہاؤس ہے جو سن سینتالیس سے چل رہا ہے۔ اس سے آگے ایک قلفی کی دکان ہے۔ جو تاریخی بھی ہے اور بے حد مشہور بھی۔ اس کے بعد غوثیہ ہوٹل ہے جو اب بند ہوچکا ہے کیونکہ ایک پارٹی نے غوثیہ سنز کی آپسی چپقلش کا فائدہ اٹھا کر یہ کروڑوں روپے کا ہوٹل بہت اچھے داموں میں خرید لیا ہے۔ اس سے پیچھے گلی میں ایس سلیمان مٹھائی والے ہیں۔
برنس روڈ واپس آئیں تو فریسکو سوئٹس، بھاشانی سوئٹس اور حافظ کے سموسے اور منی گلاب جامن بھی وہ تاریخی جگہیں ہیں جو آج بھی معیار اور ذائقے کی پہچان ہیں۔ برنس روڈ ہی پاکستان کا وہ علاقہ ہے جہاں سے بن کباب نکلا جو برگر کی کلانچوی شکل ہے۔ جس ٹھیلے سے یہ بن کباب نکلا تھا وہ ٹھیلا آج بھی فریسکو کے سامنے موجود ہے اور آج بھی کراچی کا بیسٹ بن کباب وہیں سے مل سکتا ہے۔ یہ سب دکانیں کہاں واقع ہیں اسے دیکھنے کے لئیے گوگل ارتھ استعمال کریں اور لےیرز میں٘ گوگل ارتھ کمیونٹی چیک کردیں۔
کراچی کے کھانوں میں دہلی سے آئے ہوئے مہاجروں کا بڑا حصہ ہے اوپر بیان کی گئی زیادہ تر دکانیں دہلی والوں ہی کی ہیں۔ مگر آج اگر نہاری، حلیم، بریانی، چکن تکوں کی بات ہو تو دہلی کی مثال کوئی نہیں دیتا۔ کراچی حلیم اور بریانی کے نام سے ریستوران شمالی امریکہ میں بھی چل رہے ہیں اور صابری نہاری کے نام سے ایک ریستوران شکاگو میں چل رہا ہے۔ کراچی کا سوہن حلوہ اور مصالحہ جات دنیا بھر میں ایکسپورٹ ہورہے ہیں۔
یہ سب لکھنے کا سبب بنا اجمل صاحب کا میری پچھلے پوسٹ پر تبصرہ جس سے مجھے یہ سوچنا پڑا کہ اگر وہ میری دکان آئے تو میں انہیں لسی کے علاوہ اور کیا کھلاؤں گا۔ دیکھیں اجمل صاحب آپشنز کی کمی نہیں بس جلدی سے ٹکٹ پکڑ کر آجائیں۔ قدیر کو بھی دعوت ہے۔ لیکن قدیر میاں میں نے یہ سنا ہے کہ ملتان میں ایک دکان ہے جہاں کی لسی بے مثال ہے۔ آتے ہوئے ان سے ذرا گر پوچھتے آنا۔ شعیب صفدر تو کراچی میں ہی رہتے ہیں بائیک پر بیٹھ کر منٹوں میں پہنچ سکتے ہیں۔ کراچی کے ایک روشن خیال بلاگر تو سمجھیں میرے ہی محلے میں رہتے ہیں اور ان سے ملاقات بھی ہوچکی ہے۔ لیکن وہ دکان پر نہیں آئے حضور آپ بھی کبھی وقت نکالیں۔ بے فکر رہیں میری دکان میں پلاسٹک کے کپ بھی ہیں اور اسٹرا بھی۔ دیگر بلاگر حضرات و خواتین کو بھی دعوت ہے۔اب اتنا سارا ذکر کھانے کا ہوا ہے اور رمضان بھی ختم ہوگئے ہیں تو میں چلا حلوہ پوری کھانے خداحافظ۔
زمرہ جات: تاریخ, دکان سے گھر تک, عمومی, کراچی
|
"کراچی کی طالبانائزیشن" پرجاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین لکھتے ہیں: :۔ ‘‘حکومت سندھ کو ام احسان سمیت تمام ایسے لوگوں پر پابندی لگانی چاہئے جو انتہاپسندی پر
"کراچی کی طالبانائزیشن" پرنعمان لکھتے ہیں: ہم یہاں لسانی تعصب کی بات نہیں کررہے. میرا خیال ہے موضوع گفتگو جنگ زدہ علاقوں سے
"کراچی کی طالبانائزیشن" پراحمد سولنگی لکھتے ہیں: پہلے ہم سب پنجابی، پختون، سندھی، بلوچ بنیں پھر پاکستانی بنیں گے ہر ایک اپنے شہر اور
"اردو بلاگستان پر ایک مضمون" پرحیدرآبادی لکھتے ہیں: نعمان صاحب ! اگر اس شمارے کی پ۔ڈ۔ف ناچیز کو بھی ای۔میل کر دیں تو بہت بہت
"کراچی کی طالبانائزیشن" پرخاور بلال لکھتے ہیں: راہبر نسلی تعصب نے کراچی کی ایک نسل تباہ کردی ہے، کم از کم آپ اپنے بھائ
"کراچی کی طالبانائزیشن" پرراہبر لکھتے ہیں: احمد سولنگی! صوبہ سرحد میں سندھی یا اردو آبادی سے کیا لینا دینا؟ ویسے میرے نزدیک پنجاب میں
"Urdu Read Write and Blogging Support" پریاسر عمران لکھتے ہیں: brother I need an urdu language pack for wordpress or an urdu package of wordpress can you help me please,