مہمان بلاگر

موضوع: مہمان بلاگر

مشورہ درکار ہے !

بتاریخ: 23 جنوری 2008

یہ تحریر وقار علی روغانی نے لکھی ہے۔ اسے یہاں اس لئے شائع کیا جارہا ہے تاکہ آپ وقار کے دوست کو مشورہ دے سکیں۔ )

ویبلاگز اب صرف ذاتی ڈائری نہیں رہے بلکہ اب یہ رابطے کا ذریعہ ہیں ۔ اسی کے توسط سے ہم ایک دوسرے سے آشنا ہوئے اور ایک دوسرے کی آرا سے باخبر بھی ہوتے ہیں ۔ آج میں اپنے تمام بلاگرز دوستوں کے سامنے اپنے ایک دوست کا کیس رکھ رہا ہوں جسے رہنمائی کی ضرورت ہے۔

ہمارا یہ دوست زندگی کا ایک موڑ موڑنا چاہتا ہے لیکن جیسا کہ ہر انسان ہوتا ہے، وہ بھی تھوڑا بہت کنفیوز ہے ۔

تعارف : عمر 30 سال ؛ غیر شادی شدہ ؛ تعلیم : جرنلزم میں ماسٹر ڈگری ؛ تجربہ : صحافت میں کم و بیش پانچ ، چھ سال جبکہ عام دفتری کام کا تجربہ بھی رکھتے ہیں ۔ فی الوقت متحدہ عرب امارات میں ایک رئیل اسٹیٹ کمپنی کے ساتھ ملازمت کررہے ہیں ۔ والد ان کے اوائل عمر میں انتقال کرگئے تھے اس لئے انہیں گریجویشن کے فورا بعد ملازمت میں آنا پڑا ۔ ان کے دو چھوٹے بھائی اور ایک بہن بھی ہے ؛ ہمارے یہ دوست ان کی ذمہ داری اپنے بچوں کی طرح سمجھتے ہیں اور کبھی کبھی مذاق میں یہ بھی کہتے ہیں کہ “میری شادی تو نہیں ہوئی البتہ تین جوان بچے ہیں۔“ شائد اسی وجہ سے نہ وہ اپنی تعلیم مکمل نہ کرسکا اور نہ ہی اپنا کیئریر بنا پایا ۔

میرے دوست کے ساتھ مندرجہ ذیل آپشنز ہیں جس میں آپ نے اسے مشورہ دینا ہے ۔
نمبر ایک : یہ کہ وہ کسی باہر کے ملک سے تاریخ ، ماس کمیونیکیشن یا جرنلزم کے کسی فیلڈ میں مزید تعلیم حاصل کرے۔
نمبر دو : خود کو تھوڑا بہت اپ ڈیٹ کرکے واپس صحافت سے وابستہ ہوجائے۔
نمبر تین : امارات میں ہی اپنا کیرئر بنانے کی کوشش کرے اور اچھے سے اچھے جاب کے لئے کوشش کرے۔
نمبر چار : کوئی نہ کوئی نوکری کرکے کچھ رقم اکھٹا کرکے کہیں انوسٹمنٹ کرے اور اپنے کاروبار کی سوچے۔

اس کے مسائل : اس نے خود شادی کرنی ہے اور اپنے بہن بھائیوں کے گھر بھی آباد کرنے ہیں ؛ ظاہر ہے اس کے لئے “ڈھیر سارے پیسوں“ کی ضرورت ہوگی ۔ 30 سال کی عمر اور باہر سے تعلیم یعنی نئے سرے سے سب کچھ !! مممممم ! کیا یہ ممکن ہے ؟؟؟؟ اور کیا وہ اس عمر میں کہیں باہر سے تعلیم حاصل کرسکتا ہے ؟ اس سوال کا تکنیکی پہلوئوں پر بھی جائزہ لیا جانا چاہیئے ۔ ہاں میں اس کے بارے میں ایک بات جانتا ہوں کہ جب وہ کرنے پر آئے تو کچھ بھی کرلیتا ہے ۔

یہ سب سن کر شائد آپ بھی میری طرح چکرا گئے ہوں گے لیکن وہ نہایت ہی مخلص اور اچھے انسان ہیں اور آج کل واقعی پریشان ہیں ۔ اس لئے اسے اس حالت میں چھوڑنا مجھے گوارا نہیں اور آپ سب خواتین و حضرات سے بھی دست بدستہ گزارش ہے کہ آپ اسے اپنے مخلصانہ مشوروں سے ضرور نوازیں ۔

آپ میرے دوست سے اس سلسلے میں سوال بھی پوچھ سکتے ہیں جس کے لئے آپ میرا ای میل ایڈریس استعمال کرسکتے ہیں اور اگر تبصرہ کرنے یا مشورہ ایڈ کرنے میں کوئی مسئلہ درپیش ہے تو اس صورت میں بھی آپ اپنے تبصرے اور مشورے براہ راست میرے ای میل پر بھیج سکتے ہیں۔