ابنٹو کا نیا نسخہ ابنٹو 8۔04 ہارڈی ہیرون جاری ہوگیا ہے۔ کل ہی اسے اتارا اور نصب کرا۔ بے چینی کا سبب یہ تھا کہ میں اس کا بیٹا نسخہ استعمال کرچکا تھا۔ اور درحقیقت ابنٹو ہارڈی ہیرون اب تک میں نے جتنے بھی لنکس ڈسٹری بیوشنز استعمال کی ہیں ان میں سب سے بہترین ہے۔ ابنٹو میرے تمام ہارڈویر کو بہت اچھی طرح استعمال کرتا ہے اور اس معاملے میں ونڈوز سے بھی سبقت لے جاتا ہے حالانکہ میرے کمپیوٹر کا تمام ہارڈویر ونڈوز کے لئے ہی تیار کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود ونڈوز ایکس پی میری چپ سیٹ کا بھرپور فائدہ نہیں اٹھاتا۔ جبکہ ابنٹو بائی ڈیفالٹ یہ سب استعمال کرتا ہے۔ میں بیٹا نسخے کے ریویو میں لکھ چکا ہوں کہ ابنٹو کا یہ نسخہ کم از کم میرے کمپیوٹر پر تو ویژول ایفکٹس بائی ڈیفالٹ بحال کردیتا ہے۔ اور یہ نئے ایفکٹس بے حد دل خوش کن ہیں۔
انسٹالیشن انتہائی سادہ اور اور برق رفتار تھی محض پندرہ منٹ میں نئے نسخے کی تنصیب مکمل ہوئی۔ انسٹالیشن کے بعد جب لاگ آن ہوا تو مسئلہ یہ درپیش آیا کہ ابنٹو کے اس تازہ اور بے حد بے چینی سے انتظار کئے گئے نسخے کی ریپوزیٹریز ڈاؤن تھیں۔ جس کی وجہ سرورز پر پڑنے والا بے تحاشا لوڈ تھا۔ اس لئے آج سویرے ریپوزیٹریز اپڈیٹ کریں، اردو سپورٹ نصب کی اور یہ رہا میں آپ کے سامنے۔
ابنٹو کے اس نئے نسخے میں فائر فوکس تین کا بیٹا نسخہ ڈیفالٹ براؤسر ہے۔ مجھے اس کا عادی ہونے میں تھوڑی دشواری ہورہی ہے۔ ایک اور مسئلہ نئے فائر فوکس میں گوگل براؤسر سائنک کا نصب کرنا ہے۔ سنا ہے اس کی کوئی جگاڑ موجود ہے جس سے میں فی الحال نا واقف ہوں۔ براؤسر سائنک پلگ ان میرے لئے یوں ضروری ہے کہ میں گھر پر اور کام پر اپنے براؤسر کی سیٹنگز کو ہم آہنگ رکھنا چاہتا ہوں۔ اس سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ میں دونوں جگہوں سے ایک ہی براؤسر ایک ہی سیٹنگز ، بک مارکس اور پاسورڈز وغیرہ کے ساتھ استعمال کرتا ہوں اور اس وقت کی بہت زیادہ بچت ہوجاتی ہے۔
ابنٹو کا یہ نیا نسخہ تقریبا ہر اس شخص کے لئے تجویز کیا جاتا ہے جو لنکس کو آزمانا چاہتا ہے۔ کام کی جگہوں کے لئے بھی یہ نسخہ بے حد کارآمد ہے کیونکہ یہ تین سال تک سپورٹڈ ہے۔ اگر آپ کسی ایسی آپریٹنگ سسٹم کی تلاش میں ہیں جو آپ کو وائرس سے بہتر بچاؤ دے، جہاں آپ کنفگریشن میں کم سے کم وقت صرف کریں اور کام پر زیادہ سے زیادہ دھیان دے سکیں، اگر آپ ایسا آپریٹنگ سسٹم چاہتے ہیں جہاں سب کچھ مفت ہو اور آپ کو کوئی بھی مسروقہ سوفٹویر استعمال نہ کرنا پڑے، اگر آپ بہتر کمپیوٹنگ صلاحیتیں سیکھنا چاہتے ہیں، اگر آپ ایک آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ ایک برادری کے رکن بننا چاہتے ہیں جہاں سب ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ تو بس آپ کی تلاش ختم ہوچکی ہے ابنٹو ہارڈی ہیرون ہی آپ کے تمام سوالات کا جواب ہے۔ آج نصب کریں اور تین سال تک نہ ریفارمٹ کریں، نہ وائرس اسکینر چلائیں، نہ اسپائی ویر اور ٹروجنز کی فکر کریں۔ بس مزے کریں۔
ابنٹو حاصل کرنے کا سب سے آسان نسخہ اسے ڈاؤنلوڈ کرنا ہے۔ تاہم اگر آپ انتظار کرسکتے ہیں تو شپ اٹ کے ذریعے مفت سی ڈیز بھی منگوا سکتے ہیں۔
زمرہ جات: آزادی, ابنٹو, کمپیوٹنگ
|
امید آزادی ایک ایرانی بلاگر ہیں جو فارسی اور انگریزی میں لکھتے ہیں۔ ان دنوں یہ امریکی شہر اٹلانٹا کے ایک ہائی اسکول کے طالبعلم ہیں۔ انہوں نے شہید جمہوریت محترمہ کے بیٹے بلاول کے بارے میں ایک افسانہ لکھا ہے۔ یہ افسانہ جس کا عنوان بلاول کا جنون ہے امید نے اپنی ورلڈ لٹریچر کلاس میں پیش کرنے کے لئے لکھا تھا۔ امید ایک انتہائی ذہین اور سمجھدار نوجوان ہیں۔ اس کا اندازہ مجھے ان کے ساتھ ای میلز کے تبادلے کے بعد ہوا۔ وہ اپنے افسانے میں بلاول کا انجام بھی اس کی ماں جیسا ہی دکھاتے ہیں جو مجھے نامناسب لگا میرا خیال تھا کہ اس سے بہتر اختتام یہ ہوتا کہ بلاول وزیر اعظم ہاؤس میں حلف اٹھانے کے بعد اعلان کرتا کہ اس نے اپنی ماں کا انتقام لے لیا۔ امید کا کہنا ہے:
میری پیشن گوئی میرے ذاتی تخیل یا بغض پر مبنی نہیں بلکہ کچھ سماجی اور تاریخی حقائق ہیں جن پر میں ہمیشہ اپنے ملک، ایران میں پیش آنے والے حالات کی وجہ سے اعتماد کرتا ہوں۔ سوشیولوجیکلی، جمہوریت ایک اچانک رونما ہونے والا انجام نہیں بلکہ منظم معاشرتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہوتا ہے جن سے پاکستان نہیں گزرا۔ اپنے ملک کے تجربات کی روشنی میں، میں پاکستان کی جمہوری تحاریک کے بارے میں ایسا سوچتا ہوں۔ یہ میری پیشن گوئی ہے جو میں امید کرتا ہوں کہ سچ ثابت نہ ہو لیکن میں محسوس کرتا ہوں کہ بھٹو کی تحریک تقریبا انہی وجوہات کی وجہ سے ناکام ہوجائیگی جن کی وجہ سے پچاس سال قبل مصدق کی تحریک ناکام ہوگئی تھی۔
میری رائے ابھی بھی امید سے مختلف ہے، لیکن اس کی اس دلیل میں وزن ہےکہ جمہوریت کو اپنانے کے لئے معاشرے کو جن تبدیلیوں سے گزرنا پڑتا ہے ان سے گزرے بغیر پاکستان جمہوریت اپنانے میں ناکام رہے گا۔ ہمارے معاشرے کا تعلیم یافتہ مڈل کلاس طبقہ جمہوریت کو ایک فضول خیالی پلاؤ تصور کرتا ہے۔ کبھی اس طبقے کے مفاد میں ہو تو اس پلاؤ کی دیگیں چڑھائی جاتی ہیں، جج بحال کرائے جاتے ہیں پتھراؤ کرے جاتے ہیں۔ اور کبھی جب ان کے مفاد میں ہو تو یہ ہر غیرقانونی کام پر خاموش رہتے ہیں اور شور نہیں مچاتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر جدوجہد کرنی ہے تو ہمیں اپنے معاشرے میں کرنا ہوگی جو جمہوریت کی راگنی تو الاپتا ہے لیکن اسے اپنانے کو پوری طرح تیار نہیں۔
زمرہ جات: آزادی, بےنظیر, جمہوریت, پاکستانی معاشرہ
|

شاکر کے ورڈپریس کا ترجمہ مکمل کردینے کے اعلان کے بعد، اب نعمان کی ڈائری کے پس پردہ اردو ورڈپریس چل رہا ہے۔ اور بہت مزہ آرہا ہے۔
زمرہ جات: آزادی, اردو, بلاگستان
|
اگر آپ کے گھر میں کوئی دعوت ہو اور سب سے پوچھا جائے کہ اس دعوت میں کن کھانوں کا اہتمام کیا جائے۔ تب آپ چپ رہیں اور اپنی رائے کا اظہار نہ کریں تو یقینا باقی لوگ اپنی مرضی کا اہتمام کرلیں گے۔ کیا اس اہتمام پر آپ کو شکوہ کرنے یا ناپسندیدگی کا اظہار کرنے کا حق ہوگا؟ اگر آپ ناپسندیدگی کا اظہار کریں گے یا شکوہ کریں گے تو کیا باقی لوگ یہ نہیں کہیں گے کہ آپ سے پوچھا گیا تھا، مگر آپ نے اپنی رائے نہیں دی۔ لحاظہ اب آپ چپ رہیں اور دوسروں کی رائے اور پسند کا احترام کریں۔
پاکستان میں لوگوں کی ایک بڑی اکثریت انتخابات میں اپنا ووٹ استعمال نہیں کرتی۔ عجیب بات یہ ہے کہ کم پڑھے لکھے، جاہل اور غریب لوگ زیادہ ووٹ ڈالتے ہیں۔ بنسبت تعلیم یافتہ اور زیادہ یا درمیانی آمدنی والے افراد کے۔ مجھے ایک اور بات جو عجیب لگتی ہے وہ یہ ہے کہ یہی پڑھے لکھے لوگ اکثر محفلوں میں ملکی حالات پر مایوسی کا اظہار کرتے ہیں، یہ سیاستدانوں سے نالاں ہیں، فوج سے شاکی، میڈیا پر انہیں یقین نہیں، اداروں پر انہیں اعتماد نہیں۔ لیکن جب وہ دن آتا ہے کہ اچھے یا برے نمائندوں کو منتخب کیا جاسکے تو یہ لوگ اپنی ناراضگی اور مایوسی کا اظہار گھر بیٹھ کر کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ ووٹ ڈالنے نہیں جاتے ان میں سے اکثر اس دن بھی ٹیلیوژن پر الیکشن نشریات دیکھتے ہیں، نتائج پر تبصرے کرتے ہیں، جب وہی گھسے پٹے نمائندے جیتتے رہتے ہیں تو یہ پھر اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہیں اور اگلے دن سے پھر انہی معمولات میں مشغول ہوجاتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جب یہ لوگ جمہوریت کی راہ میں ووٹ ڈالنے جیسے ایک اہم ترین قومی فرض کو بھی ادا نہیں کرتے۔ تو کیا انہیں مایوس ہونے، تبصرے کرنے اور حالات پر کڑھنے کا حق ہے؟
کیا آپ آٹھ جنوری کو اپنے ووٹ کا حق استعمال کریں گے؟
زمرہ جات: آزادی, انتخابات 2008, جمہوریت, سیاست, پاکستانی معاشرہ
|
کل شام کی چائے کے بعد ہم سب گھر والے ساتھ ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ اب چونکہ پاکستان کے مشہور اور مقبول نیوز چینلز تو بند ہیں لحاظہ ہم بھارتی رقص و موسیقی کے دلچسپ اور تفریح سے بھرپور پروگرامز سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ اچھا ہوا صاحب اقتدار صدر محترم جنرل اعلی (بھائی ایمرجنسی ہے القابات اور طرز تخاطب کا خیال رکھنا ضروری ہے) نے نیوز چینلز بند کردئے۔ خون جلانے، دل ہولانے اور مغز کو پراگندہ کرنے والے پروگرامز اور جو وقت بچ جائے اس میں موبائل کمپنیوں کے اشتہارات دکھانے کے علاوہ ان چینلز پر آتا کیا تھا؟
بھارتی چینل پر کوئی نوجوان جوڑا امیتابھ بچن کی کسی فلم کے گیت پر رقص کا مظاہرہ کررہا تھا۔ مجھے خیال آیا کہ بھارتی ٹی وی چینلز اور میڈیا پر امیتابھ کا اس قدر ذکر ہوتا ہے، کہ کوئی چینل ایسا نظر نہیں آتا جس پر ایک گھنٹے کے اندر کم از کم ایک بار امیتابھ کا نام، اس کی کسی فلم کی جھلک، اس کا کوئی گانا، یا کوئی تذکرہ نظر نہ آئے۔ امیتابھ بچن اس وقت شاید بھارتی کلچر کا ایسا نمائندہ بن گیا ہے کہ جس کے بغیر بھارتی میڈیا اپنے خبرناموں، تفریح، معلومات، مزاح، یا ثقافتی پروگراموں کو بالکل ادھورا سمجھتا ہے۔
باقی پاکستانی ٹی وی چینلز پر ایسا نہیں، لیکن کم از کم جیو ٹی وی نیٹ ورک پر ہمارے جنرل محترم پرویز مشرف صاحب کو امیتابھ بچن جیسی ہی حیثیت حاصل تھی۔ جیو نیوز پر تو جنرل محترم کا اسقدر تذکرہ ہوتا تھا کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ گویا پاکستانیوں کی زندگی ہی مشرف صاحب کے اردگرد گھوم رہی ہے۔ کوئی ٹاک شو ہو یا دینی پروگرام، مزاحیہ خاکے ہوں یا گرینڈ ڈیبیٹ، تندو تیز سوالات کا پروگرام جوابدہ ہو، یا نرما نرم آج کامران خان کے ساتھ۔ ہر تیس منٹ میں چار چھ بار تو صاحب کا ذکر ضرور سنائی پڑتا تھا۔
ہمارے صدر محترم قابل احترم آرمی چیف جناب مشرف صاحب اور امیتابھ میں ایک اور بات ایک سی ہے۔ دونوں کو یہ خیال ہے کہ ان کا متبادل کوئی نہیں۔ اور شاید دونوں صحیح بھی ہیں۔ سوچیں اگر بھارتی چینلز سے امیتابھ کو اور پاکستانی چینلز سے مشرف صاحب کو ہٹادیں تو ٹی وی چینلز کیسے چلیں گے۔ ایسے کونسے لیجنڈری آئیکونز ہیں جو امیتابھ یا مشرف صاحب جیسے اثرانگیز ہوں؟
اب جیو ٹی وی بند ہے اور ہم اپنے امیتابھ بچن سے بھی دور ہوگئے ہیں۔ گرچہ سرکاری میڈیا اس بات کی بھرپور کوشش کررہا ہے کہ ہم جنرل صاحب صدر محترم کے افکار و خیالات، ان کی شخصیت کی اثرانگیزی کی کمی محسوس نہ کریں۔ مگر سرکاری ٹی وی چینلز بھارتی ٹی وی چینلز کی بھیڑ میں گم ہوجاتے ہیں۔ میں نے چائے کا گھونٹ بھرا اور ٹی وی پر نظر ڈالی۔
ارے دیوانوں
مجھے پہچانو
کہاں سے آیا
میں ہوں کون
میں ہوں ڈون
میں ہوں ڈون۔۔۔
امیتابھ بچن ٹی وی پر رقصاں تھا
زمرہ جات: آزادی, جمہوریت, ذرائع ابلاغ, فلم, ٹیلیوژن, پاکستانی معاشرہ
|

ایمرجنسی کے بعد پولیس والے ہمارے پڑوس میں سے ایک انیس بیس سالہ لڑکے براق کو پکڑ کر لے گئے تھے۔ براق اسلامی جمعیت طلبا کا کارکن تھا اور ایس ایم آرٹس کالج میں جمعیت کا اہم عہدیدار تھا۔ براق کے اچھے کردار اور عمدہ اخلاق کی گواہی محلے کا بچہ بچہ دے گا۔ ہمیشہ نیچی نظریں رکھنے والا۔ وہ ادھر ادھر گھومتا نظر نہیں آتا تھا۔ مسجد سے جماعت اسلامی کے دفتر، کالج یا گھر۔ مجھے وہ اکثر مسجد میں یا گھر آتے جاتے ملتا تھا۔ ہمیشہ سلام میں پہل کرتا۔
چار دن تک اسے حراست میں رکھا گیا اور پھر متحدہ قومی موومنٹ کے چند ناظمین کی شخصی ضمانت پر کہ وہ کسی جلسے جلوس میں شامل نہیں ہوگا، آج رہا ہوا ہے۔ وہ بھی اس کی والدہ کی وجہ سے جنہیں یہ ڈر تھا کہ کہیں ان کا بیٹا غائب نہ کردیا جائے۔ ہماری ہی بلڈنگ میں جماعت اسلامی کے چند اور کارکن بھی رہتے ہیں جن میں سے ایک تو ایمرجنسی کے اعلان کے تھوڑی ہی دیر بعد روپوش ہوگئے۔ ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے ہمارے ایک رشتے دار نے براق اور روپوش ہونے والے کارکنان کو پہلے ہی بتادیا تھا کہ انہیں حراست میں لے لیا جائے گا اس لئے وہ لوگ اپنے گھر چھوڑ دیں۔ ایم کیو ایم کے چند سینئر کارکن اس بات پر سخت ناراض اور مایوس ہیں کہ ایم کیو ایم آمر کے ساتھ کھڑی ہے۔
براق کو میں نے ہمیشہ ایک اچھا لڑکا مانا ہے اور اپنے بھائیوں کو اس کی مثال دی ہے۔ مگر بحالی جمہوریت کی اس تحریک میں گرفتار ہونے پر میری نظر میں اس کا مقام اور بڑھ گیا ہے۔
زمرہ جات: آزادی, انسانی حقوق, جمہوریت, دکان سے گھر تک
|
کل میں نے ابنٹو کا نیا ورژن ڈاؤنلوڈ کرا اور اس کی آزمائش کی۔ ابنٹو کا یہ ورژن سات اعشاریہ ایک صفر ہے جس کی عرفیت گٹسی گبن ہے۔ میں کافی عرصے سے ابنٹو استعمال نہیں کررہا تھا بلکہ ڈیبیان استعمال کررہا تھا۔ ابنٹو کی اساس بھی ڈیبیان ہی ہے، لیکن اصل ڈیبیان ابنٹو کے مقابلے میں زیادہ تیزرفتار اور زیادہ آزاد ہے۔ ابنٹو کی انسٹالیشن کا وہی عمومی طریقہ تھا جو پچھلی انسٹالیشنز میں تھا یعنی لائیو سی ڈی کو چلائیں اور پھر انسٹال پر کلک کریں۔ انسٹالیشن میں قریبا آدھا گھنٹا صرف ہوا۔ اس دوران میں نے کچھ موسیقی سنی، تھوڑی براؤسنگ کی، اور چند دوستوں کا احوال پوچھنے کو انہیں ای میل بھیجی۔ انسٹالیشن ویسی ہی سادہ اور آسان تھی۔ تاہم انسٹالیشن کے بعد جب میں پہلی بار لاگ ان ہوا تو ڈسپلے سروسر کی کسی کنفگریشن کی وجہ سے گلابی رنگ کی سادہ اسکرین دکھائی دی جس پر کچھ نہیں تھا۔ لیکن ایکس سرور ژورگ کو ری اسٹارٹ کرنے پر یہ دور ہوگئی۔ اگر آپ میں سے کسی کو یہ مسئلہ درپیش ہو تو CTRL+AL+BACKSPACE کی کلیدیں ساتھ دبا کر ڈسپلے منیجر کو ری اسٹارٹ کرلیں۔
لاگ آن کے بعد وہی سادہ مگر پرکشش ابنٹو میرا منتظر تھا۔ اردو والوں کے لئے اس ابنٹو میں یہ خاص بات ہے کہ پہلے جو آپ کو فائر فوکس میں پینگو کو این ایبل کرنا پڑتا تھا اب وہ نہیں کرنا ہوگا۔ صرف نفیس ویب نسخ انسٹال کریں اور آپ کا براؤسر اردو پڑھنے کو تیار ہے۔ نفیس ویب نسخ سائنپٹک سے ڈاؤنلوڈ کریں ڈیبیان پیکیج کے طور پر نفیس ویب نسخ کا نام ٹی ٹی ایف نفیس ہے۔ اپنے سسٹم کو فوری طور پر اردو لکھنے کو تیار کرنے کے لئے یہ صفحہ دیکھیں۔ اگر آپ کوئی ایسا صفحہ کھولتے ہیں جس پر کوئی فلیش ویڈیو ہو، جیسے یو ٹیوب وغیرہ، تو ابنٹو فائر فوکس آپ کو دستیاب پلگ انز میں جی نیش (یا گنیش) بھی دکھاتا ہے۔ لیکن جی نیش ابھی تک انڈر ڈیولپمنٹ ہے اور قابل اعتبار نہیں تو بہتر ہوگا کہ آپ ایڈوب فلیش پلئر ہی ڈاؤنلوڈ اور انسٹال کریں۔
ابنٹو کا نیا ورژن زیادہ پالشڈ ہے۔ لنکس کرنل کا تازہ ترین ورژن ہے، گنوم کا نیا ورژن ہے، تھری ڈی ڈیسکٹاپ ایفکٹس ہیں۔ بظاہر ابنٹو کے پچھلے ورژن سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔ اوپن سورس سوفٹویر کی دنیا میں چونکہ ڈیولپمنٹ جاری رہتی ہے کوڈ میں کئی تبدیلیاں آجاتی ہیں، چند سوفٹویر کے نئے نسخے جاری ہوجاتے ہیں۔ چند سوفٹویر کے نام بدل جاتے ہیں۔ جیسے اس بار گیم انسٹنٹ مسینجر جس کا نام پیجن میں تبدیل ہوگیا ہے۔ پیجن کا انٹرفیس بھی اب کافی بہتر ہوگیا ہے اور اس میں چیٹ کرنے میں اب زیادہ مزہ آرہا ہے۔ ڈیسک بار اپلیٹ کے ساتھ ساتھ اب کی بار گنوم ٹریکر سرچ ٹول بھی انسٹالیشن میں شامل ہے۔ جس سے امید ہے کہ دستاویزات اور فائلوں کو تلاش کرنا اور کھنگالنا اور بھی آسان ہوجائیگا۔ بلیو ٹوتھ انیلائزر نام کا ایک ٹول بھی شامل ہے۔ کھیلوں میں شطرنج اور ٹیٹرس نیا اضافہ ہیں۔ دفتری امور کی انجام دہی کو اوپن آفس ہے۔ لیکن میں گوگل آفس استعمال کرتا ہوں۔ میڈیا پلئرز میں مجھے ہمیشہ شکایت رہی ہے۔ میرے خیال میں گنوم کا ٹوٹم ایک بالکل بے کار اور فضول ویڈیو پلئر ہے۔ ردہم باکس مجھے بہت پسند ہے۔ لیکن ٹوٹم کی جگہ میں وی ایل سی میڈیا پلئر استعمال کرتا ہوں۔
قصہ مختصر ابنٹو کا نیا نسخہ زیادہ صاف ستھرا اور تازہ ترین سوفٹویر سے لیس ہے۔ ابنٹو کو ڈیبیان یا دوسرے آپریٹنگ سسٹمز پر ایک یہ برتری بھی حاصل ہے کہ ابنٹو لنکس کی دنیا میں نوواردوں کے لئے زیادہ سہل ہے۔ اور اب تو وہ ریسٹریکٹڈ سوفٹویر بھی فراہم کررہے ہیں۔ حالانکہ اس پر اوپن سورس کمیونٹی میں کافی لے دے ہوچکی ہے، مگر حقیقت یہی ہے کہ اس سے ابنٹو استعمال میں اور بھی زیادہ سہل ہوگیا ہے۔ چونکہ میں زیادہ تر کام فائر فوکس پر ہی انجام دیتا ہوں تو گوگل براؤسر سائنک کی بدولت میرے لئے اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کہ میں کمپیوٹر اسٹارٹ کرتے ہوئے کونسا آپرٹینگ سسٹم بوٹ کرتا ہوں۔ اسلئے امید ہے کہ میں ابنٹو زیادہ استعمال کرسکوں گا۔
زمرہ جات: آزادی, ابنٹو, لینکس, کمپیوٹنگ
|
بینظیر دبئی میں ہی پریس کانفرنس میں یہ کہہ چکی تھیں کہ ان کی جان کو خطرہ حکومت میں موجود چند عناصر سے ہے جو دہشت گردی کی پشت پناہی کرتے ہیں اور وہ ان کی آمد سے خوفزدہ ہیں۔
بینظیر کو وزیر اعظم اور صدر سے بھی زیادہ سیکیوریٹی پرووائڈ کرنے کا دعوی مضحکہ خیز حد تک جھوٹا ہے۔ بیس ہزار پولیس اہلکار پورے شارع فیصل پر موجود تھے۔ لیکن پندرہ لاکھ سے بھی زیادہ افراد کے اس ہجوم کی نگرانی کے لئے بیس ہزار پولیس اہلکار جو کہ کسی بھی جدید ٹیکنالوجی سے لیس نہیں تھے اور سیمی آٹومیٹک ہتھیاروں کے علاوہ ان کے پاس وائرلیس تک نہ تھے۔ حکومت نہ بم جام کرنے والی ڈیوائسز اگر محترمہ کے ساتھ چلنے والی گاڑیوں میں نصب کررکھی تھیں تو انہوں نے کام کیوں نہ کیا؟ شارع فیصل پر ان دو دھماکوں کے علاوہ کئی اور مقامات سے خودکش بیلٹس ملی ہیں۔ تین مشتبہ افراد سارا دن گرفتار ہوئے تھے۔ منصوبہ یہ تھا کہ پہلا دھماکہ ٹرک کے آگے کرا جائے گا جس سے ہجوم گھبرا کر پیچھے بھاگے گا جس کے نتیجے میں ٹرک کے گرد قائم پیپلز پارٹی کے سیکیوریٹی ونگ کا حصار ٹوٹ جائے گا۔ حصار ٹوٹنے کے بعد دوسرا دھماکہ ٹرک کے اندر یا اس کے باہر کیا جائے گا۔ اور تیسرا دھماکہ ٹرک کے اندر کرنے کی کوشش کی جائے گی اور پرائم ٹارگٹ کو قتل کرنے کی کوشش کی جائیگی۔ خوش قسمتی سے کراچی پولیس، کیمرہ مین اور میڈیا کی بڑی تعداد میں موجودگی کی وجہ سے پہلے دھماکے کے بعد مچنے والی بھگدڑ ایسی نہیں تھی کہ ٹرک کے گرد موجود حصار ٹوٹ پاتا۔ تب دوسرے بمبار نے خود کو سیکیوریٹی کی انسانی شیلڈ سے ٹکرایا۔ جس سے سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں اور ٹرک کو بھی نقصان پہنچا۔ اسی دوران کسی شخص نے ٹرک کی ونڈ شیلڈ اور ٹائرز پر فائر کرے۔ لیکن جو انسانی شیلڈ ٹوٹی تھی پیلزپارٹی کے کارکنان نے اسے فورا دوبارہ بنادیا۔ اب اگر تیسرا بمبار اسی شیلڈ پر حملہ کرتا تب بھی پرائم ٹارگٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا اور خدشہ تھا کہ یہ تیسرا بمبار ہی کمانڈ کررہا تھا اس نے وہاں بھاگنا زیادہ بہتر جانا۔
مرنے والوں میں ساٹھ سے زیادہ جوان پیپلزپارٹی کی سیکیوریٹی ونگ کے وہ نوجوان تھے جنہوں نے ٹرک کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔ تین سیکیوریٹی اہلکار ٹرک کے ریک پر ہلاک ہوئے۔ اور ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد سندھ پولیس کے جوانوں کی ہے۔
کارکنان نے مثالی اعصابی جرات کا مظاہرہ کرا۔ پولیس کے خون میں لت پت اہلکار ہجوم کی مدد کرتے رہے ۔ یہ فرض شناسی اور احساس ذمہ داری کا زبردست مظاہرہ تھا۔
ٹرک میں موجود لیڈران کو فورا محفوظ مقام پر پہنچانا اسلئے ضروری تھا کہ اس بات کا اندازہ کرلیا گیا تھا کہ دیگر حملہ آور اردگرد موجود ہیں اور ایک اور حملہ متوقع ہے۔ جس کے نتیجے میں لیڈران کو نقصان پہنچتا یا نہیں لیکن اور بہت لوگ مرتے۔
شہر کے ہسپتال ریڈالرٹ پر تھے۔ جناح اور لیاقت ہسپتال قریب ترین تھے۔ لیکن شہری حکومت کا ٹراما سینٹر جو ایسے حادثات کے لئے ویل ایکویپڈ ہے وہ جائے حادثہ سے دور تھا اور وہاں کم زخمی لوگوں کو لے جایا گیا۔
لوگ کہتے ہیں کہ ہیلی کاپٹر میں بے نظیر کو کیوں نہ لے جایا گیا۔ یہ وہی سوال ہے جو ایم کیو ایم کے لوگوں نے بارہ مئی کو چیف جسٹس سے کیا تھا کہ ہیلی کاپٹر میں جانے میں کیا عذر ہے۔ لیکن چیف جسٹس نے انکار کردیا تھا۔ اگر چیف جسٹس انکار کرسکتے ہیں تو بے نظیر کیوں نہیں؟
زخمیوں اور مرنے والوں میں ایک بڑی تعداد اندرون سندھ اور پنجاب سے آئے ہوئے پیپلز پارٹی کے کارکنان کی ہے۔ مرنے والوں کی شناخت اور ان کے لواحقین تک ان کی میتیں پہنچانے کا کام جاری ہے۔ زخمیوں کی بڑی تعداد ہسپتالوں سے فارغ کی جاچکی ہے۔ چند بری طرح جھلسنے والے مریض سنگین حالت میں ہیں اور ڈر ہے کہ ڈیتھ ٹول ابھی اور بڑھے گا۔
مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ یہ کون لوگ ہیں۔ آخر یہ چاہتے کیا ہیں؟ اگر یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کے عوام ان کے مذموم مقاصد کے آگے گھٹنے ٹیک دیں۔ تو یہ کبھی قبول نہ ہوگا۔ پاکستانیوں کو اسوقت یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس کے ساتھ ہیں۔ پاکستان کے ساتھ، یا انتہاپسندوں کے ساتھ۔ یہ لاشیں دیکھیں اور سوچیں کہ ہمیں کسطرف جانا ہے؟
میں کل شام ہی محب سے بات کررہا تھا۔ اور محب نے کہا کہ وزیرستان میں مرنے والے لوگ ہمارے اپنے ہیں اور فوج ہمارے اپنے لوگوں کو ماررہی ہے۔ تو میں نے محب سے کہا کہ ہمارے جو تین سو فوجی جوان انہوں نے یرغمال بنائے اس پر لوگوں کو کیوں دکھ اور فکر نہیں۔ میں یہ پوچھتا ہوں کہ آپ کس کے ساتھ ہیں؟ ان کے ساتھ جنہوں نے بم پھاڑ کے ڈیڑھ سو لوگوں کو آن واحد میں ہلاک کردیا۔ یا ہمارے ساتھ جو پاکستان میں جمہوریت، امن، انصاف، تعلیم اور ترقی دیکھنا چاہتے ہیں۔
کوئی کہتا ہے کہ بے نظیر فوج کو تباہ کرنے آرہی ہیں۔ جو کہ غلط ہے بے نظیر فوج کو بچانے آرہی ہے۔ کیونکہ ہر سچے پاکستانی کو اسوقت اپنے ملک کی فوج کے ساتھ ہونا چاہئے۔ قاتلوں سے ہتھیار ڈلوانے کے لئے اگر ہم متحد نہ ہونگے تو خانہ جنگی پورے ملک کو لپیٹ لے گی۔
زمرہ جات: آزادی, بےنظیر, جمہوریت, دہشت گردی, پاکستانی معاشرہ, کراچی
|
09/09/2007
دوسری منزل (دی سیکنڈ فلور) نامی کافی شاپ ان دنوں کراچی میں ادبی، سماجی تقریبات کا اہم مرکز بنتی جارہی ہے۔ کل وہاں سائبر کرائم بل کے حوالے سے سیمینار منعقد ہوا جس میں بیرسٹر جمیل صاحب نے اپنی پریزینٹیشن پیش کی۔ حکومت پاکستان کا سائبر کرائم بل پاکستان میں بلاگرز، صحافیوں، اداروں اور افراد کو کنٹرول کرنے کا نیا ہتھیار ہے جس سے ایف آئی اے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی بیش بہا مواقع مل جائیں گے۔ یہ بل ابھی تک پارلیمنٹ سے منظوری کا منتظر ہے اور یہی موقع ہے کہ اس میں تبدیلیاں کرائی جاسکتی ہیں۔
ڈاکٹر علوی سیمینار کی روداد اور اس بل کی خطرناک شقوں کو بیان کرتے ہیں۔ تحریر کے ساتھ ہی جمیل کی پریزینٹیشن بھی منسلک ہے۔
|
آپریشن سائلنس اپنے اختتام کو پہنچا۔جناب پرویز ہود بھائی چوک ڈاٹ کام پر اپنے مضمون “مزید لال مسجدوں کا تدارک” پر اس بارے میں اظہار خیال کرتے ہیں۔ قدیر، افضل، اجمل، نبیل، اظہر،خالد بھی فکرمند ہیں۔ ڈاکٹر علوی، پاکستانی اسپیکٹیٹر، اسلام آباد میٹروبلاگ کے بلاگر، دیگر کئی انگریزی اور اردو بلاگر، ان سب تحریروں پر تبصرہ جات کرنے والے، اور آنلائن فورمز پر۔ ٹی وی، ریڈیو، اخبارات ہر جگہ یہی ذکر ہے۔ چاہے کوئی انتہاپسندی کے اُس طرف ہے یا روشن خیالی کے اِس طرف۔ تشویش ان کو بھی ہے جو اعتدال کی نازک ڈور پر جھولتے ہیں اور ان کو بھی کہ جو بندوق تھامے محاذوں پر کھڑے ہیں۔
میرے ذہن میں بھی سوال ہیں۔ لیکن سردست صرف ایک سوال ہے جو میرے خیال میں ہم سب کو سوچنا ہوگا۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ سوال بہت بے چیدہ ہیں اور ان کے جوابات پر مشتمل حل ناقابل عمل معلوم ہوتے ہیں۔ مگر پھر بھی۔۔۔
پاکستان میں ایسے کتنے مدارس ہیں جو طالبعلموں کو اس بات پر اکسا رہے ہیں کہ وہ ملک کی عورتوں کے چہرے نقابوں سے ڈھک دیں نہیں تو ان پر تیزاب ڈال دیں۔ ایسے اور کتنے ادارے ہیں جو سی ڈیز جلانے، ہجاموں کی دکانوں پر حملے کرنے اور زنا کرنے والوں کو قتل کرنے کی ترغیب دے رہیں۔ کیا جہادیوں کی یہ فوج جو کشمیر اور افغانستان آزاد کرانا چاہتی تھی اب اپنا مقصد پاکستانیوں کو زیر کرنا بناچکی ہے؟ کیا ہمارے محلوں کے وہ بچے جو قرآن حفظ کرنے گئے ہیں واپسی پر ہمارے چہرے جھلسائیں گے اور ہمیں ڈرائیں دھمکائیں گے؟ نہیں سوال یہ نہیں۔
پاک فوج، پارلیمینٹ، حکومت پاکستان، سیاستدان، عدالتیں، میڈیا کیا یہ سب ادارے اس بات پر غور کررہے ہیں کہ اگر کسی دن یہ مدارس، یہ ادارے، یہ افراد ہاتھ سے نکل گئے تو پاکستان کی عوام کے جان و مال عزت و آبرو کی حفاظت کے لئے کتنے آپریشن سائلنس درکار ہونگے؟ اوں ہوں، نہیں یہ وہ سوال نہیں۔
مجھے سخت تشویش ہے، اور میری طرح ان سب پاکستانیوں کو بھی جو انٹرنیٹ پر، گھروں میں، دکانوں، بازاروں، گلیوں، محلوں، نکڑوں اور چائے خانوں میں اس وقت اپنی تشویش کا اظہار کررہے ہیں اور اس امید میں ہیں کہ کوئی ان کو یہ یقین دلائے گا کہ ان کی حفاظت کے لئے پاکستان میں کوئی قانون موجود ہے، ایسے ادارے اور ایسی عدالتیں موجود ہیں جو انصاف فراہم کرسکیں۔ لیکن پاکستانیوں کو یقین کون دلائے گا؟ جب یقین دلانے والے لوگ ہی قانون شکن، ادارہ شکن، آزادی دشمن، انصاف دشمن ہوں تو کوئی بھی پاکستانی کیسے کسی کی بات کا یقین کرے اور کیسے اس کا خوف دور ہو؟ کیا یہ وہ سوال ہے؟ شاید ہے یا شاید نہیں ہے۔
جامعہ حفصہ، فریدیہ، لال مسجد کے بعد آپریشن سائلنس کا راستہ چننا ہے یا تعلیم، انصاف اور آزادی کا؟ سوال یہ ہے۔
آپ کے ذہن میں کیا سوچ اور سوال ہیں؟
زمرہ جات: آزادی, انسانی حقوق, بلاگستان, تعلیم, جمہوریت, دہشت گردی, سیاست, مذہبی رواداری, پاکستانی معاشرہ
|
[ مندرجہ ذیل پوسٹ میں مصنف یہ فرض کرلیتا ہے کہ مستقبل میں پاکستان کی طالبانائزیشن کا دائرہ وسیع ہورہا ہے اور ملک کے دیگر علاقوں سے بھی ایسی خبریں آرہی ہیں۔ ایسے موقعے پر مصنف اپنے قارئین کو کیا مشورہ دیگا یہ پوسٹ اسی بابت ہے۔ ]
طالبانائزیشن کے اس شور شرابے میں اگر آپ اپنی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کے حوالے سے پریشان ہیں تو پیش خدمت ہیں چند حفاظتی تدابیر۔ اگر پاکستان کی طالبانائزیشن کا دائرہ آپ کے علاقے تک پھیل جائے تو مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں:
ا۔ اپنے گھر سے تمام انگریزی، بھارتی فلموں کی سی ڈیاں اور ڈی وی ڈیز سڑک پر پھینک دیں۔ کیونکہ کچھ پتہ نہیں کب آپ کا کوئی بدخواہ آپ کی چغلی کردے اور طالبان دروازہ توڑتے ہوئے آپ کے گھر میں گھس جائیں۔ تب آپ کو یہ سی ڈیز چھپانے کا موقع نہ ملے گا۔ تمام بھارتی گانے اور پاکستانی پاپ موسیقی بھی ٹھکانے لگادیں اور حفظ ماتقدم کے طور مولانا طارق جمیل کی سی ڈیز خرید کر رکھ لیں۔ ڈریں نہیں خدانخواستہ طالبانائزیشن کے بعد آپ یہ سی ڈیز دیکھنے سے محروم نہیں ہوجائیں گے، بس اتنا ہوگا کہ یہ آپ کو چوری چھپے کرائے پر دیکھنا پڑیں گی۔
3۔ گھر کے تمام مردوں کی پتلون قمیضیں چھپا دیں اور گھر سے باہر جب بھی نکلیں شلوار قمیض پہن کر نکلیں۔
4۔ داڑھی رکھ لیں۔ یا کم از کم مونچھیں تو لازمی رکھ لیں۔ فرنچیز اور داڑھیوں کے عجیب نمونوں سے پرہیز کریں۔
5۔ انٹرنیٹ پر اگر آپ اپنے اصلی نام سے طالبان دشمن، پاکستان دشمن، دہشت گرد دشمن مواد لکھتے رہے ہیں تو وہ سب مٹادیں۔ اور آئندہ جعلی ناموں سے یہ مواد شائع کیجئے گا۔
6۔ اگر آپ شیعہ، بوہری یا اسماعیلی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں، احمدی مرزائی یا قادیانی ہیں، کسی این جی او کے لئے کام کرتے رہے ہیں، یا خواتین کے حقوق کے لئے نعرے لگا چکے ہیں، افغانستان کے ان علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں شمالی اتحاد کا اثر رسوخ رہا ہے، تو کسی کی ہدایت یا مشورے کا انتظار نہ کریں اور فورا پاکستان سے فرار ہونے کی کوشش کریں۔
7۔ اگر آپ کی بچیاں کسی اسکول یا کالج میں پڑھتی ہیں تو انہیں گھر بٹھالیں۔ گھر کی خواتین کے کسی بھی ضروری کام سے باہر نکلنے کو قطعا منع کردیں۔ خواتین اپنے حفاظت کے لئے اگر باہر نکلیں تو اپنے ساتھ کسی بھائی یا باپ کو لے کر چلیں اور اگر شوہر ساتھ ہے تو احتیاطا نکاح نامے کی فوٹو کاپی بھی رکھ لیں۔ بوائے فرینڈ یا منگیتر جیسی کسی چیز کے ساتھ گھر سے باہر نکلنا انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے۔ اسلئے اس سے بالکل پرہیز کریں۔
8۔ آپ کے محلے میں دیوبندی فرقے کی جو مسجد ہو صرف اسی میں نماز ادا کریں۔
9۔ کبھی بھول کر بھی کسی محفل میں ایسی گفتگو نہ کیجئے گا جس سے یہ معلوم ہو کہ آپ دنیا بھر میں کسی بھی جہادی تنظیم کے نکتہ نظر یا مقصد سے اختلاف رکھتے ہیں۔
10۔ لوگوں کے درمیان مذہبی، سیاسی یا تفریحی موضوعات پر گفتگو سے پرہیز کریں اور اپنی رائے کا اظہار کسی کے سامنے تب تک نہ کریں جب تک آپ کو یقین نہ ہو کہ وہ آپ کے ہمدرد ہیں۔
زمرہ جات: آزادی, انسانی حقوق, دہشت گردی, مذہبی رواداری, پاکستانی معاشرہ
|
"اداسی" پرمنهاج الرحمان لکھتے ہیں: کمال پوسٹ ھے نعمان صاحب۔ اس ملک میں فرعونیت کی انتھا ھو چکی ھے۔ ھمارا موسی نا
"اداسی" پرابوشامل لکھتے ہیں: لیں جی آپ کو تیسری مرتبہ ہمارے بلاگ سے بھی ٹیگ کر دیا گیا ہے، اب آپ
"اداسی" پرArif Anjum لکھتے ہیں: آپ کو یہاںپر ٹیگ کردیا گیا ہے۔ پولیس کو مطلع کرنے کی کوشش نہ کیجئے اور
"برمودا مثلث" پرمحمد طفیل لکھتے ہیں: ماشاءاللّہ آپ نے اپنی قومی زبان کی بہت بڑی خدمت کرکے اپنے ہم وطنوں کو بہت اچھی
"میرا نیا کمپیوٹر" پرwaqas khan لکھتے ہیں: GALAXY COMPUTER thats enough ap logo k rates bahot zada hotay hai recently many Nvidia Geforce 8600 512mb
"میرا نیا کمپیوٹر" پرwaqas khan لکھتے ہیں: mere piyary bhaio mere ap sab sya request hai k please galaxy computers say kuch bhe na purchase
"اداسی" پررضوان نور لکھتے ہیں: بات تو غیر متعلق سی ہے مگر پھر بھی کیے دیتے ہیں کہ آپ کو اس ناچیز