شاکر نے اپنے بلاگ پر ایک بھاگے ہوئے بچے کی سرگزشت بیان کی ہے۔ اس بچے کی کہانی یہ تھی کہ گھر والے اسے حافظ قرآن بنانا چاہتے تھے۔ وہ گھر والوں کی خواہش دلجمعی سے پوری کرنے کی اپنی سی کوشش بھی کرتا تھا مگر مدرسے کے قاری صاحب کے متشدد روئیے نے اسے مدرسے سے متنفر کردیا۔ شاکر کے بلاگ پر آپ کو اکثر اچھے موضوعات نظر آئیں گے۔ وہ اکثر الجھے ہوئے عام مسائل کو اپنی روایتی سادگی سے بیان کرتے ہیں اور پھر اسی سادگی کے ساتھ انہیں سلجھانے کی تجویز بھی پیش کرتے ہیں۔ مجھے ان کا یہ انداز تحریر بہت پیارا لگتا ہے۔
قرآن حفظ کرنے والے بچوں کے مسائل ایک سنجیدہ معاشرتی مسئلہ ہیں۔ جن پر بالغان اپنے دینی رجحانات کے سبب توجہ نہیں دیتے۔ میرا چھوٹا بھائی عازب بھی ماشاءاللہ حافظ قرآن ہے اس لئے مجھے ان میں سے کچھ مسائل کا ذاتی تجربہ بھی ہے۔
مدارس کا روایتی ماحول
گرچہ میرا بھائی عازب ایک ایسے مدرسے میں پڑھتا تھا کہ جہاں عصری علوم کی بنیادی تعلیم پر بھی توجہ دی جاتی تھی۔ لیکن بعد ازاں ہمیں معلوم ہوا کہ یہ توجہ محض اشتہاری تھی۔ مضامین جیسے ریاضی اور انگریزی جن کی آگے چل کر طالبعلموں کو سخت ضرورت ہوتی ہے ان پر قطعا توجہ نہیں دی گئی۔ عازب نے تیرہ سال کی عمر میں قرآن حفظ کرلیا تھا جس کے بعد اسی مدرسے میں اسے عام اسکول کی تعلیم دی جانے لگی۔ یہ تعلیم اتنی غیرمعیاری تھی کہ چھٹی جماعت کے بچے اردو زبان میں ایک چھوٹا سے مضمون لکھنے کے بھی لائق نہ تھے۔ جب میٹرک کے امتحان سر پر آئے تو مدرسے کی انتظامیہ کی سختیاں بڑھ گئیں جو کہ سراسر بے جا تھیں۔ وہ بچوں پر اچھی کارکردگی کے لئے سخت دباؤ ڈالتے تھے جب کہ اس بارے میں وہ خود اپنی ذمے داری سے غافل تھے۔ نتیجتا عازب کی مدرسے میں حاضری کم ہوتی گئی۔ سائنس کے مضامین منتخب کرنے کے سبب یہ ضروری تھا کہ اسے امتحانات کے لئے سخت محنت کرنا ہوگی اور مدرسے جانا محض وقت کا ضیاع لگتا تھا۔ چنانچہ نویں جماعت کے پرچوں کے بعد مدرسے کی انتظامیہ نے اسے مدرسے سے فارغ کرنے کی دھمکی دے دی۔ جب میرے والد وہاں پہنچے تو انہوں نے شرط عائد کی کہ اگر اس نے نویں جماعت کا امتحان پاس کرلیا تو اسے دسویں جماعت کی کلاسز لینے کی اجازت دی جائیگی۔ نتیجہ آیا اور عازب کا نتیجہ مدرسے میں پابندی سے حاضر ہونے والے کئی بچوں سے بہتر تھا۔ لیکن مدرسے کی انتظامیہ اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے عازب کو اسکول سے نکالنے پر بضد تھی۔ جس کے بعد ہم نے عازب کو محلے کے ایک پرائیویٹ اسکول میں داخل کرواکر دسویں جماعت کا امتحان دلوایا اور وہ بی گریڈ کے ساتھ پاس ہوگیا۔
مدرسے کا یونیفارم شلوار قمیض اور ٹوپی پر مشتمل تھا اور عازب کو یہ یونیفارم بچپن سے بہت برا لگتا تھا۔ گھر میں اس کے بھائی، محلے میں اس کے دوست، رشتے داروں میں اس کے ہم عمر کزن سب پتلونیں پہنتے تھے اور اسے شلوار قمیض پہن کر اسکول جانا سخت برا لگتا تھا۔
مدرسے میں اساتذہ کا رویہ انتہائی سخت گیر تھا۔ گرچہ وہاں جسمانی تشدد نہیں کیا جاتا تھا مگر تشدد کے دیگر کئی طریقے ان لوگوں نے ایجاد کر رکھے تھے۔ جن میں سرفہرست طلبہ کی تحقیر اور اہانت آمیز رویہ شامل تھے۔ گرچہ مدرسے میں کبھی دہشت گرد جہادی گروہوں کی حمایت نہیں کی جاتی تھی۔ لیکن مدرسے کے اساتذہ طالبعلموں کے سامنے دیگر مکاتب فکر کے ماننے والے مسلمانوں پر تنقید کرتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے۔
مدرسے کا گھٹا ہوا ماحول طلباء کی تخلیقی صلاحیتوں پر بری طرح اثر انداز ہوتا تھا۔ طلباء کو یہ عادت ڈالی جاتی تھی کہ وہ استدلالی طرز فکر سے اجتناب کریں۔ نہ سوال کریں نہ کسی مدلل جواب کی امید کریں۔
گرچہ پاکستان کے دیگر عام نام نہاد انگریزی میڈیم پرائیویٹ اسکولوں کا حال بھی اس سے کچھ مختلف نہیں لیکن اس مدرسے کا ماحول انتہائی بے تکا تھا۔ اس تعلیم میں تفریح کا کوئی عنصر نہیں تھا، ایک سخت گھٹا گھٹا ماحول جو طلباء کو عجیب قسم کے روبوٹ بنانے پر اصرار کرتا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب عازب کو اسکول سے نکالا گیا تو اس دن کے بعد سے اب وہ صرف عید کی نماز پر یا تراویح کے دوران شلوار قمیض پہنتا ہے۔ اس کا طرز فکر مدرسے کی تعلیم و تربیت کے بالکل برعکس ہے۔ مدرسے میں موسیقی کے خلاف کرے گئے پرچار کے برعکس اسے موسیقی میں انتہائی دلچسپی ہے۔ اکثر لوگ جب اس کا حلیہ دیکھتے ہیں تو انہیں یقین نہیں آتا کہ یہ لڑکا حافظ قرآن بھی ہوگا۔
والدین کا رویہ
میرے خیال میں والدین کی اپنے بچوں کو حافظ قرآن بنانے کی خواہش بھی ان مسائل کا ایک سبب ہے۔ نہ وہ اپنے بچے کے رجحان کا خیال کرتے ہیں نہ اس بات کا کہ اگر بڑا ہونے پر ان کا بچہ مختلف رجحان رکھتا ہو تو اس کے لئے قرآن شریف کو دہرانا شاید اتنا آسان نہیں ہوگا۔ وہ یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ اگر یہ قرآن شریف حفظ کرکے بھول گیا تو اس کی زندگی کے جو قیمتی سال اسے حفظ کرنے میں صرف ہوئے ہیں ان کا مداوا کیا ہوگا؟ والدین کو چاہئے کہ وہ کم از کم اپنے بچوں کو اس عمر تک پہنچنے دیں کہ جب وہ اپنے لئے یہ فیصلہ خود کرسکیں۔ اس دوران والدین اپنے بچوں کی تربیت پر توجہ دیں اور کوشش کریں کہ بچوں کو گھر میں ایسا ماحول ملے جو انہیں دینی تعلیم کے حصول پر مائل کرے۔ اپنی مرضی کا فیصلہ بچوں پر تھوپنے کے بجائے ان پر یہ ذمہ داری ڈالی جائے کہ وہ اگر چاہیں تو بڑے ہوکر یہ سعادت حاصل کریں اور اپنے لئے اور والدین کے لئے ثواب کمائیں۔
معاشرے کی ذمے داری
ہمارے ملک میں یہ ٹرینڈ رہا ہے کہ کبھی ہر کوئی ڈاکٹری اور انجینئرنگ پڑھنے لگتا ہے۔ کبھی بزنس منیجمنٹ کا دور آتا ہے، کبھی انفارمیشن ٹیکنالوجی کا۔ طریقہ کار یہ ہے کہ معاشرے کو اس وقت جس قسم کے ہنرمند اور تعلیم یافتہ افراد کی ضرورت ہو اس قسم کی تعلیم پر زور دیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے ملک کو سالانہ کتنے حافظ قرآن کی ضرورت ہوتی ہے؟ صنعت و حرفت، مدارس، علمی و تحقیقاتی اداروں میں قرآن حفظ کرنے والے (دیگر دینی علوم سے بے بہرہ) کتنے لوگوں کی ضرورت ہے۔ میرا خیال یہ ہے کہ معاشرے کو ہر سال ہزاروں حافظ قرآن بچوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ قرآن حفظ کرنے والے بچوں کے انتخاب کا کوئی طریقہ ہونا چاہئے۔ جس سے یہ پتہ چلے کہ بچوں کا رجحان کیا ہے اور صرف انہی بچوں کو یہ تعلیم دی جانی چاہئے جو دینی علوم حاصل کرنے کا شوق، استعداد اور رجحان رکھتے ہوں نہ کہ ہر بچے کو اس میں شامل کرلیا جائے۔ ان میں سے کچھ بچے بہت اچھے ڈاکٹر، بزنس مین، فنکار، انجینئر، سائنسدان کچھ بھی بن سکتے ہیں۔ لیکن بلارجحان کے انہیں دینی تعلیم کی طرف دھکیل کر ہم ان کی دیگر صلاحیتیں بھی ضائع کردیتے ہیں اور وہ نہ دینی تعلیم پر پورے اتر پاتے ہیں اور نہ ہی کچھ اور کرپاتے ہیں۔
زمرہ جات: تعلیم, پاکستانی معاشرہ
|
09/09/2007
دوسری منزل (دی سیکنڈ فلور) نامی کافی شاپ ان دنوں کراچی میں ادبی، سماجی تقریبات کا اہم مرکز بنتی جارہی ہے۔ کل وہاں سائبر کرائم بل کے حوالے سے سیمینار منعقد ہوا جس میں بیرسٹر جمیل صاحب نے اپنی پریزینٹیشن پیش کی۔ حکومت پاکستان کا سائبر کرائم بل پاکستان میں بلاگرز، صحافیوں، اداروں اور افراد کو کنٹرول کرنے کا نیا ہتھیار ہے جس سے ایف آئی اے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی بیش بہا مواقع مل جائیں گے۔ یہ بل ابھی تک پارلیمنٹ سے منظوری کا منتظر ہے اور یہی موقع ہے کہ اس میں تبدیلیاں کرائی جاسکتی ہیں۔
ڈاکٹر علوی سیمینار کی روداد اور اس بل کی خطرناک شقوں کو بیان کرتے ہیں۔ تحریر کے ساتھ ہی جمیل کی پریزینٹیشن بھی منسلک ہے۔
|
09/04/2007
اکثر لوگوں کا یہ ماننا رہا ہے کہ بچوں کا اسکول میں پہلا دن والدین کے لئے کافی ذہنی دباؤ کا سبب بنتا ہے۔ لیکن حال ہی میں تحقیق ہوا ہے کہ یہ درست نہیں بلکہ بچے کا اسکول میں پہلا دن خود اس کے لئے بہت زیادہ ذہنی دباؤ کا سبب ہوتا ہے جو اکثر اسکول کے پہلے چھ مہینے تک باقی رہتا ہے۔ گارجیین پر لوسی اٹکنس ماہرین سے پوچھتی ہیں کہ والدین اس سلسلے میں کیا کرسکتے ہیں۔
|
کراچی شہری حکومت نے لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کے تحت گورنمنٹ دہلی اسکول کی زمین اور عمارات اپنے قبضے میں لے لی ہیں۔ اب اگر اسکول کے مالکان عدالت جاتے ہیں تو کراچی کی شہری حکومت مقدمے کی فریق ہوگی۔ تاہم شہری انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ نجی انتظامیہ کو مارکیٹ ویلیو کے حساب سے زمین اور عمارتوں کی قیمت ادا کریں گے جس کے بعد امید ہے یہ معاملہ طے پاجائے گا۔ فی الوقت اسکول کھل گیا ہے اور پیر سے وہاں باقاعدہ کلاسز کا آغاز ہوجائیگا۔
زمرہ جات: تعلیم, کراچی
|

صوبائی محکمہ تعلیم کی بے حسی اور غیرفعالیت کی خبروں سے آج کا اخبار بھرا پڑا ہے۔ جہاں ایک طرف سرکاری ادارے تاحال مفت درسی کتب کی ترسیل سے محروم ہیں وہیں دوسری طرف دہلی گورنمنٹ اسکول کے طلباء اور اساتذہ کا احتجاج کل بھی جاری رہا۔ کل کے احتجاج میں محکمہ تعلیم کے افسران بھی شریک تھے اور اپنے ہی محکمے کی غیرفعالیت پر سراپا احتجاج نظر آئے۔ احتجاجی طلباء نے کہا کہ ان کا مستقبل داؤ پر لگادیا گیا ہے مگر حکام کو بھی کوئی پرواہ نہیں گزشتہ4 روز سے سڑک پر ہیں کلاسیں نہیں ہورہی ہیں مگر کوئی ان کی مدد کو نہیں آرہا ہے۔ مظاہرے میں شریک میٹرک پاس کرنے والے طلباء نے کہا کہ اسکول کو تالا لگنے کی وجہ سے ان کی مارکس شیٹ اندر بند ہیں اور وہ روزانہ مارکس شیٹ کے حصول کیلئے چکر لگارہے ہیں جبکہ کالجوں میں داخلے کی آخری تاریخ ختم ہونے میں صرف5 روز باقی رہ گئے ہیں۔ اسکول کے اساتذہ پیر سے کلاسیں ٹینٹ لگا کر چلائیں گے اور کرسیوں کی جگہ دریاں بچھائی جائیں گی۔ اساتذہ نے طلباء کو باقاعدگی سے اسکول آنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ پروفیسرز اور لیکچرارز کی تنظیم سپلا نے بھی صوبائی محکمہ تعلیم پر شدید تنقید کی ہے۔ ادھر دہلی اسکول کی نئی نجی انتظامیہ نے نئے پرنسپل کی تقرری کردی ہے اور اسکولز میں داخلوں کے لئے بینر آویزاں کردئیے ہیں۔ اب نئے اسکول میں داخلے کے لئے طلباء کو خطیر رقم داخلہ فیس اور ماہانہ فیس بھی ادا کرنا ہوگی اور ظاہر ہے نجی پبلشنگ اداروں کی شائع کردہ مہنگی درسی کتب بھی خریدنا ہوں گی۔ نئی انتظامیہ کے ترجمان پروفیسر رضی الرحمن نے کہا ہے کہ صوبائی محکمہ تعلیم کو ہر بات کا پہلے سے علم تھا تاہم محکمے نے طلبہ و طالبات کے لئے کوئی پیشگی انتظام نہیں کیا۔
زمرہ جات: انسانی حقوق, تعلیم
|
کراچی میں عدالتی حکم پر دہلی گورنمنٹ اسکولز کی عمارات سیل کردی گئی ہیں۔ اسکول کے سینکڑوں طلباء اور اساتذہ نے کل احتجاج کے دوران سیل توڑ دی۔ طلباء اور اساتذہ کا مطالبہ ہے کہ یا تو انہیں جلد از جلد متبادل جگہ فراہم کی جائے یا پھر مسئلے کے حل تک درس و تدریس کی اجازت دی جائے۔ طلباء اور اساتذہ نے احتجاجا سڑک پر درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ٹاؤن ناظمین جب انہیں وہاں سے منتشر کرنے پہنچے تو طلباء اور اساتذہ اشتعال میں آگئے۔ جس کے بعد انہوں نے اسکول کی عمارتوں کی سیل توڑ دی اور بہت مشکل سے انہیں اسکول سے نکالا گیا۔ اسکول کی پرنسپل صاحبہ نے اعلان کیا ہے کہ جب تک اسکول کا مسئلہ حل نہیں ہوتا اساتذہ اور طلباء روز اسکول کے سامنے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے، صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کئی طالبعلم رو پڑے۔ ان کا اسکول بند ہوگیا اور انہیں سمجھ نہیں آرہا کہ وہ اب کہاں جائیں گے۔ اساتذہ اور پرنسپل پریشان ہیں کہ وہ اب کہاں جائیں بچوں کو کیا جواب دیں۔
دہلی گورنمنٹ اسکول میں چار ہزار پانچ سو کے قریب طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ طالبعلموں، ان کے والدین، اور اساتذہ میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔ گورنمنٹ دہلی اسکول فیڈرل بی ایریا کے علاقے میں واقع ایک سرکاری اسکول ہے۔ روایتی سرکاری اسکولوں کے برخلاف یہاں تعلیم کا معیار بہت اچھا تھا اور ثانوی امتحانات میں ان کے طلباء اور طالبات شہر کے نامور پرائیویٹ اسکولوں سے زیادہ نمبر لیتے رہے ہیں۔ ایک ایسا سرکاری اسکول جو اتنا اچھا پرفارم کررہا ہو، جہاں طالبعلموں کی ایک بڑی تعداد زیر تعلیم ہو اور جو علاقے کی ایک اہم ضرورت ہو ایسے اسکول کے ساتھ حکومت سندھ کا رویہ انتہائی ناروا رہا ہے۔ عدالت عالیہ نے حکومت سندھ کو اسکول کی منتقلی کے احکامات کافی پہلے سے دے رکھے تھے جن پر نہ تو عملدرآمد ہوا نہ ہی حکومت سندھ نے اصل مالکان سے کوئی بامعنی مذاکرات کرنے کی کوشش کی۔ یہاں تک کہ جب عدالت نے سیل کرنے کا حکم دے دیا تب بھی اسکول کی پرنسپل کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ کل وہ بچے لے کر کہاں جائیں گی۔ اب جب وہ بچے سڑک پر آگئے ہیں تب بھی حکومت سندھ کی طرف سے نہ کوئی شنوائی ہے نہ دادرسی۔
گورنمنٹ دہلی اسکول کے علاوہ شہر کے اور کئی سرکاری اسکول عدالتوں میں اس سے ملتے جلتے کیسز ہار چکے ہیں۔ محکمہ تعلیم کا کیس عدالت عالیہ میں اتنا کمزور پڑچکا ہے کہ اب قومیائے گئے تمام اسکولوں کے کیسز کا فیصلہ پہلے فیصلوں کی بنیاد پر ہی ہورہا ہے۔ حکومت سندھ کے وکلاء عدالتوں میں وقت پر حاضر بھی نہیں ہوتے اس لئے کیس کی شنوائی مکمل طور پر یکطرفہ رہی اور حکومت سندھ کی انتہائی نااہلی کے سبب سینکڑوں اساتذہ کی نوکریاں اور ہزاروں طالبعلموں کا مستقبل خطرے میں پڑگیا ہے۔
وزیر تعلیم حمیدہ کھوڑو صاحبہ اختیارات کی جنگ میں ایسی مصروف ہیں کہ صوبے میں تعلیم کی زبوں حالی تباہی کی تمام حدیں پھلانگ گئی ہے۔ محترمہ ایک عرصے سے نہ اپنے دفتر میں بیٹھتی ہیں اور نہ ہی وزارت کا کوئی کام کرتی ہیں۔ میٹرک کے امتحانات کا مسئلہ ہو، کالجوں میں داخلوں کا مسئلہ ہو، یا قومیائے گئے سرکاری تعلیمی اداروں کی واپسی کا۔ ہر مسئلے کا حل وزارت تعلیم کے بجائے گورنر سندھ کو کرنا پڑتا ہے۔ اگر محترمہ صوبائی بیوروکریسی اور پالیسیز سے اختلاف رکھتی ہیں تو انہیں وزارت چھوڑ دینی چاہئے نہ کہ یہ مفت میں تنخواہ اور مراعات بٹورتی رہیں۔ ان کا ایر کنڈیشنڈ دفتر جو انہوں نے عرصے سے استعمال بھی نہیں کیا پھر بھی اسے چھوڑنے کو تیار نہیں جبکہ گورنمنٹ دہلی اسکول کے بچے سڑکوں پر کڑی دھوپ میں کھڑے ہیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ قوم کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لئے احتجاج کرنا پڑرہا ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات معاشرے کی بے حسی ہے۔
زمرہ جات: انسانی حقوق, تعلیم, کراچی
|
آپریشن سائلنس اپنے اختتام کو پہنچا۔جناب پرویز ہود بھائی چوک ڈاٹ کام پر اپنے مضمون “مزید لال مسجدوں کا تدارک” پر اس بارے میں اظہار خیال کرتے ہیں۔ قدیر، افضل، اجمل، نبیل، اظہر،خالد بھی فکرمند ہیں۔ ڈاکٹر علوی، پاکستانی اسپیکٹیٹر، اسلام آباد میٹروبلاگ کے بلاگر، دیگر کئی انگریزی اور اردو بلاگر، ان سب تحریروں پر تبصرہ جات کرنے والے، اور آنلائن فورمز پر۔ ٹی وی، ریڈیو، اخبارات ہر جگہ یہی ذکر ہے۔ چاہے کوئی انتہاپسندی کے اُس طرف ہے یا روشن خیالی کے اِس طرف۔ تشویش ان کو بھی ہے جو اعتدال کی نازک ڈور پر جھولتے ہیں اور ان کو بھی کہ جو بندوق تھامے محاذوں پر کھڑے ہیں۔
میرے ذہن میں بھی سوال ہیں۔ لیکن سردست صرف ایک سوال ہے جو میرے خیال میں ہم سب کو سوچنا ہوگا۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ سوال بہت بے چیدہ ہیں اور ان کے جوابات پر مشتمل حل ناقابل عمل معلوم ہوتے ہیں۔ مگر پھر بھی۔۔۔
پاکستان میں ایسے کتنے مدارس ہیں جو طالبعلموں کو اس بات پر اکسا رہے ہیں کہ وہ ملک کی عورتوں کے چہرے نقابوں سے ڈھک دیں نہیں تو ان پر تیزاب ڈال دیں۔ ایسے اور کتنے ادارے ہیں جو سی ڈیز جلانے، ہجاموں کی دکانوں پر حملے کرنے اور زنا کرنے والوں کو قتل کرنے کی ترغیب دے رہیں۔ کیا جہادیوں کی یہ فوج جو کشمیر اور افغانستان آزاد کرانا چاہتی تھی اب اپنا مقصد پاکستانیوں کو زیر کرنا بناچکی ہے؟ کیا ہمارے محلوں کے وہ بچے جو قرآن حفظ کرنے گئے ہیں واپسی پر ہمارے چہرے جھلسائیں گے اور ہمیں ڈرائیں دھمکائیں گے؟ نہیں سوال یہ نہیں۔
پاک فوج، پارلیمینٹ، حکومت پاکستان، سیاستدان، عدالتیں، میڈیا کیا یہ سب ادارے اس بات پر غور کررہے ہیں کہ اگر کسی دن یہ مدارس، یہ ادارے، یہ افراد ہاتھ سے نکل گئے تو پاکستان کی عوام کے جان و مال عزت و آبرو کی حفاظت کے لئے کتنے آپریشن سائلنس درکار ہونگے؟ اوں ہوں، نہیں یہ وہ سوال نہیں۔
مجھے سخت تشویش ہے، اور میری طرح ان سب پاکستانیوں کو بھی جو انٹرنیٹ پر، گھروں میں، دکانوں، بازاروں، گلیوں، محلوں، نکڑوں اور چائے خانوں میں اس وقت اپنی تشویش کا اظہار کررہے ہیں اور اس امید میں ہیں کہ کوئی ان کو یہ یقین دلائے گا کہ ان کی حفاظت کے لئے پاکستان میں کوئی قانون موجود ہے، ایسے ادارے اور ایسی عدالتیں موجود ہیں جو انصاف فراہم کرسکیں۔ لیکن پاکستانیوں کو یقین کون دلائے گا؟ جب یقین دلانے والے لوگ ہی قانون شکن، ادارہ شکن، آزادی دشمن، انصاف دشمن ہوں تو کوئی بھی پاکستانی کیسے کسی کی بات کا یقین کرے اور کیسے اس کا خوف دور ہو؟ کیا یہ وہ سوال ہے؟ شاید ہے یا شاید نہیں ہے۔
جامعہ حفصہ، فریدیہ، لال مسجد کے بعد آپریشن سائلنس کا راستہ چننا ہے یا تعلیم، انصاف اور آزادی کا؟ سوال یہ ہے۔
آپ کے ذہن میں کیا سوچ اور سوال ہیں؟
زمرہ جات: آزادی, انسانی حقوق, بلاگستان, تعلیم, جمہوریت, دہشت گردی, سیاست, مذہبی رواداری, پاکستانی معاشرہ
|
ذکر ایک آزاد سوفٹویر ہے جس کی مدد سے کمپیوٹر پر قرآن پڑھنا اور ترجمہ دیکھنا بہت آسان ہوجاتا ہے۔ یہ سوفٹویر لینکس کے علاوہ ونڈوز پر بھی چلتا ہے۔ اس سوفٹویر میں آیت نمبر اور سورہ نمبر ڈالیں اور فورا مطلوبہ آیت تک پہنچ جائیں۔ بائی ڈیفالٹ اس میں اردو ترجمہ شامل نہیں ہوتا لیکن اس میں جناب مولانا فتح محمد جالندھری کا اردو ترجمہ بھی ڈاؤنلوڈ کرکے شامل کیا جاسکتا ہے۔ اپلیکیشن کے اندر ہی مندرجہ ذیل فہرست پر جائیں:
View > Translations > More
جس سے آپ اس ویب صفحے پر پہنچیں گے۔ یہاں سے جالندھری صاحب کا ترجمہ اپنے ڈیسکٹاپ پر ڈاؤنلوڈ کریں۔ اب مندرجہ ذیل فہرست سے ترجمہ شامل کریں:
Tools > Add > Translation
اس کی دیگر خوبیوں میں تلاش کی خوبی بھی لائق بیان ہے۔ جس کی مدد سے ترجمے اور عربی قرآن میں کسی مخصوص لفظ کی تلاش کی جاسکتی ہے۔ بک مارک کی سہولت بھی بہت خوب ہے اس سے روزانہ مطالعہ کرنے والوں، دہرانے والوں، طالبعلموں، محققیقین اور اساتذہ کو بہت آسانی ہوگی۔ دینیات اور قرآن کے طالبعلموں کے لئے یہ ایک اہم اوزار ہے خصوصا اس لئے کہ اسے پلگ ان، تراجم، تھیم وغیرہ شامل کرکے ترقی دی جاسکتی ہے۔ اگر بائی ڈیفالٹ نظر آنے والا عربی، اردو یا انگریزی فونٹ آپ کو مناسب نہ لگے تو آپ اسے اپنے سسٹم پر موجود کسی بھی اچھے فونٹ سے تبدیل کرسکتے ہیں۔ یہ ایک کراس پلیٹ فارم اپلیکیشن ہے کسی بھی آپریٹنگ سسٹم پر اسے انسٹال کرنے کے لئے اس ڈاؤنلوڈ ربط پر جائیں۔ یاد رہے چونکہ یہ سوفٹویر جاوا پر چلتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ آپ کے کمپیوٹر پر سن جاوا رن ٹائم انوائرنمنٹ نصب ہو۔ اگر آپکے پاس سن جاوا رن ٹائم انوائرنمنٹ نصب نہیں ہے تو اسے سن جاوا کے ویب سائٹ سے مفت ڈاؤنلوڈ کیا جاسکتا ہے۔
علاوہ ازیں اس پروجیکٹ کو آپ کے تعاون کی بھی ضرورت ہے۔ اس پروجیکٹ میں ہاتھ بٹانے کے لئے گوگل گروپس پر ذکر میلنگ لسٹ پر اندراج کرائیں اور ترجمے، اپلیکیشن کی کنفگریشن، تھیم ڈیولپمنٹ، نئی خوبیوں کی درخواست اور خامیوں کی اطلاع دینے کے لئے ای میل کریں۔

ایک اسکرین شاٹ ، ذکر ابنٹو لینکس پر

دوسرا اسکرین شاٹ، ذکر تلاش منظر
زمرہ جات: آزادی, ابنٹو, اردو, تعلیم, لینکس, مذہبی رواداری, کمپیوٹنگ
|
پاکستان کا عالمی آؤٹ سورسنگ میں حصہ۔ جناب مرزا اختیار بیگ کا مضمون نہایت عمدہ ہے اور تجاویز پرخلوص ہیں۔ مگر میں جب اپنے ذہن میں ان تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کو کی جانیوالی کوششوں کو دیکھتا ہوں تو لگتا ہے کہ یہ پاکستان میں قابل عمل نہیں اور ہوسکتا ہے ان کے کچھ الٹے منفی اثرات بھی ہوں۔
چین اور بھارت کی تیزی سے ابھرتی معیشت کو دیکھ کر آجکل ہمارے دانشور، ارباب اختیار کو یہ مشورے دیتے نہیں تھکتے کہ ہمیں بھی خدمات کی آؤٹ سورسنگ پر خصوصی توجہ دینی چاہئے۔ اس بات کو تسلیم کرنے میں انکار نہیں کہ یورپی اور شمالی امریکی منڈیوں کے مقابلے میں ہمارے پاس سستی لیبر موجود ہے۔ مگر یہ بات تسلیم کرنے میں مجھے عار محسوس ہوتا ہے کہ اس کام کو انجام دینے کے لئے ہمارے پاس ہنرمند افرادی قوت بھی موجود ہے۔
متذکرہ بالا مضمون میں جناب اختیار بیگ خیال ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کو امریکی میڈیکل شعبے کے آؤٹ سورس کرے جانے سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ ہمیں اس کو بالکل نظرانداز کردینا چاہئے۔ کیونکہ ایک تو پاکستان میں میڈیکل کے شعبے میں افرادی قوت نہ تو اتنی ہنرمند ہے اور نہ ہی اتنی بڑی تعداد میں دستیاب ہے کہ ہم مقامی طور پر فراہم کی جانیوالی خدمات کے ساتھ ساتھ اپنی خدمات باہر بھی بیچ سکیں۔ تعلیم کی حالت ہمارے ملک میں دگرگوں ہے یہ پالیسی انتہائی غلط ہوگی کہ ہم اپنے نوجوانوں کو چھ چھ مہینے کی ٹریننگ فراہم کرکے انہیں میڈیکل ٹرانسکرپشن، تشخیص، ریکارڈ کیپنگ اور کال سینٹرز جیسے کام میں لگادیں، بجائے اس کے کہ ہم اعلی تحقیقی دماغ رکھنے والے طالبعلم تیار کریں۔ یقینا چھ مہینے کی ٹریننگ کے عوض پاکستان میں غیر ملکی زرمبادلہ بھی آئے گا لیکن کیا غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر حاصل کرنے کے لئے ہم اپنے ملک کی افرادی قوت کو مشینی کام انجام دینے پر لگادیں۔
اس کے بجائے پاکستان میں کمپیوٹر اور انجینئرنگ کی اعلی تعلیم کو عام کرنا زیادہ مفید ثابت ہوگا۔ بھارت اور چین کی ترقی کے پیچھے کمپیوٹر اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور بزنس مینیجمنٹ میں بڑی تعداد میں اعلی تعلیم یافتہ ورک فورس کا موجود ہونا ایک انتہائی اہم عامل ہے جسے ہمارے پاکستانی معیشت دان بالکل نظرانداز کردیتے ہیں۔ اطلاعاتی ٹیکنالوجی یا آؤٹ سورسنگ کے کسی اور شعبے میں چھ مہینے یا سال بھر کے کورس کروا کر ہم درحقیقت اپنی افرادی قوت کو ضائع کردیں گے کیونکہ ایک تو ہم یہ کام بھارت اور چین سے کم نرخ اور بہتر کوالٹی پر انجام دینے سے قاصر ہونگے دوسرا یہ کہ ہم مقامی طور پر ٹیکنالوجی کو ترقی دینے کے بجائے اس کو صرف استعمال کرنے والوں کی کھیپ تیار کردیں گے۔ اس ٹیکنالوجی کا استعمال جیسے ہی زیادہ سے زیادہ ہوگا ویسے ہی ہم لائسنس، سرٹیفیکیشن اور دیگر مدوں میں قیمتی ملکی زرمبادلہ انہی ملکوں کو واپس بھیجنے لگیں گے جنہیں ہم خدمات فراہم کررہے ہیں۔
اطلاعاتی ٹیکنالوجی سمیت کسی بھی شعبے میں اعلی تعلیم یافتہ افرادی قوت تیار کرنا پاکستان کا اصل مقصد ہونا چاہئے۔ آؤٹ سورسنگ کی دنیا میں آب تب ہی بھارت یا چین کے نقش قدم پر چل سکتے ہیں۔ ورنہ کوا ہنس کی چال چلنے میں اپنی سے بھی جائے گا۔
زمرہ جات: تعلیم, کمپیوٹنگ
|
بی بی سی کی سیریز بات تو کرنی پڑے گی ان دنوں شوق و ذوق سے پڑھی جارہی ہے۔ اس سیریز میں پاکستانی عوام کے جنسی مسائل کو کہانیوں کی صورت بیان کیا گیا ہے۔ جس سے عوامی زندگی کے ایک اندھیرے اور مایوس کن پہلو پر روشنی پڑتی ہے۔ گھٹن اور اندھیرا اس سے کہیں زیادہ ہے کہ جتنا اس سیریز میں بیان کردہ کہانیاں پڑھ کر معلوم ہوتا ہے۔ وہ لوگ جو اسے فحاشی سمجھتے ہیں وہ بھی اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس پر یقینا انہیں اعتراضات ہیں، مگر وہ ان اعتراضات پر بھی بات کرنا پسند نہیں کرتے۔ چاہے کوئی کتنا ہی اصرار کرے کہ جناب بات تو کرنا ہوگی۔
جنسی مسائل کے حوالے سے پاکستانی خواتین تو مظلوم ہیں ہی لیکن مرد بھی اس گھٹن کا شکار ہیں۔ انسانی سوچ پر تو کوئی پابندی نہیں لگا سکتا۔ مگر لوگوں کی بات کرنے کی اہلیت، اظہار کی طاقت، معلومات کا حصول اور تجربات کا تبادلہ، معاشرتی اقدار نے اس طرح دبادیا ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی عوام کی کوئی جنسی خواہشات، احساسات یا جذبات ہی نہیں۔
اوپر سے فحاشی کے قوانین، حدود کے قوانین، اسکولوں کالجوں میں انتہا پسندوں کے ہاتھوں طلباء کو ہراساں کرنا اور خاندانی اقدار۔ پاکستانی مرد اور عورتوں کے ذہن میں پتہ نہیں کیسی کیسی جنسی پیچیدگیاں ہیں جن کا نہ کسی کو ادراک ہے کسی کو درد۔ ان کو حل کرنے کا مسئلہ تو تب آئے گا جب لوگ بات کرنے کو تیار ہونگے۔ مگر لوگ بات کیسے کریں گے؟ کیا ظالم سماج لوگوں کو بات کرنے دے گا؟ اس سے خواتین کی حیا اور عصمت پر کیا کیچڑ اچھلے گی اور مرد کس طرح معاشرے کے سامنے یہ اقرار کرپائیں گے کہ انہی جنسی مسائل کا سامنا ہے؟ نام بدل کر، کسی غیر ملکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دینے سے بات کا صرف ایک رخ سامنے آتا ہے، گھٹن کا۔ اس کا دوسرا رخ کہ گھٹن کو کیسے دور کیا جائے پر بھی بات کرنی پڑے گی۔
پھر معاشرے کا ایک بڑا حصہ اس بات کا حامی ہے کہ ان مسئلوں پر بات کرنے کی ضرورت ہی کوئی نہیں ہے۔ ان کے نزدیک یہ فحاشی عام کرنے ہتھکنڈے ہیں جو پاکستان کے اسلامی تشخص کو تباہ کرنے کے لئے آزمائے جارہے ہیں۔ لیکن کیا اسلامی تشخص رکھنے والے انسانوں کی کوئی جنسی زندگی نہیں ہوتی؟
زمرہ جات: تعلیم, ذرائع ابلاغ, پاکستانی معاشرہ
|
آج ہم نے عید کی نماز پڑھی۔ امام صاحب نے ٹی وی کے کسی پروگرام میں آنے والے ایک عالم دین کا حوالہ دیا جو کہ مرنے والوں کو ایصال ثواب پہنچنے کو نہیں مانتے۔ اس پر امام صاحب نے پندرہ منٹ فصیح و بلیغ تقریر فرمائی ٹی وی کے میزبان کے خوب لتے لئے۔ واضح رہے ہمارے محلے کی مسجد کے امام صاحب بھی ٹی وی کے چند ایک پروگراموں پر آتے ہیں۔ انہوں نے ارشاد فرمایا کہ اہلسنت و الجماعت ہی حق فرقہ ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس کے بعد انہوں نے ہمیں عید کی نماز کا طریقہ سمجھايا۔ نماز کے بعد انہوں نے عربی خطبہ ارشاد فرمایا جس کے دوران تمام لوگ اونگھتے رہے۔ پھر دعا فرمائی۔ اس دعا میں انہوں نے اللہ تعالی سے فرمائش کی کہ وہ پاکستان کو ایٹمی سے ایٹمی اور سب سے طاقتور ایٹمی ریاست بنادے۔ خصوصا انہوں نے امریکہ کے بیڑے غرق کرنے کی دعا بار بار دہرائی۔ ساتھ ہی کفار یہود و نصاری کو جی بھر کر کوسا۔ اور درود شریف پڑھایا۔ ایکا ایکی انہیں یاد آیا کہ کشمیر کے مسلمانوں کا ذکر تو رہ ہی گیا۔ تو پھر کشمیر کے مسلمانوں کے لئے دعا کی گئی اور انہیں ہنود کے مظالم سے نجات ملنے کی دعا فرمائی۔ آخر کار پھر درود شریف پڑھا اور نماز عید ختم ہوئی۔
یعنی عید کے دن کا آغاز امام صاحب نے جی بھر کے مخالف فرقوں کی لعن طعن، کفار کو کوسنے اور بددعائیں دینے، سے کیا۔ مجھے یقین ہے کہ امام صاحب کو ہرگز یہ علم نہیں ہوگا کہ ایٹمی قوت سے کیا کام لئیے جاسکتے ہیں اور مجھے پکا یقین ہے کہ اس سے ان کی مراد وسیع پیمانے پر قتل و غارت گری پھیلانے والے ہتھیار ہی تھے۔
اللہ ہم سب پر اپنا رحم فرمائے اور ہمیں معقول تعلیم یافتہ علماء کرام کے وعظ سننا نصیب فرمائے۔ آمین۔
زمرہ جات: تعلیم, دکان سے گھر تک, مذہبی رواداری, پاکستانی معاشرہ
|
جیو کے پروگرام پچاس منٹ میں بھارتی ہدایتکار سدھیر، پوجا بھٹ اور اداکار ڈینوموریا آئے۔ موضوع گفتگو پاکستانی مارکیٹ میں ہندوستانی فلموں کی کھلے عام نمائش تھا۔ اس بات سے قطع نظر کہ پاکستان میں ہندوستانی فلموں کی نمائش ہونی چاہئیے یا نہیں، دوران بحث دونوں معاشروں کا تضاد مجھے بہت واضح محسوس ہوا۔
ایک کھلے معاشرے کے فنکار جو حاضرین کو یہ بتا رہے تھے کہ بھائی ہم تو فنکار ہیں ہمارا کام تو فلم بنانا ہے اور لوگوں کو تفریح فراہم کرنا ہے۔ اس کی مورل ویلیو کیا ہے، وہ اچھی فلم ہے یا بری، اسے دیکھنا چاہئیے یا نہیں یہ فیصلہ کرنا تو عوام کا کام ہے نہ کہ سیاستدانوں کا۔
بند معاشرے کی پیداوار پاکستانیوں کے سوال مضحکہ خیز حد تک دوغلے اور کھوکھلے تھے۔ زیادہ تر لوگوں کو کنسرن یہ تھا کہ کیا ہندوستانی فلمیں ہماری اخلاقی اور سماجی اقدار پر اثر انداز نہیں ہونگے۔ حالانکہ پاکستان کا وہ کونسا شہر، دیہات یا قصبہ ہے جہاں بھارتی فلمیں دس روپے میں دستیاب نہ ہوں؟ ہر روز لاکھوں پاکستانی بھارتی فلمیں دیکھ رہے ہیں اور پچھلے پچاس سال سے دیکھ رہے ہیں۔ آج تک تو پاکستان کی سماجی اقدار کو کچھ ہوا نہیں جو بھارتی فلموں کے سینما پر لگنے سے ہوجائے گا۔ لیکن بھارتی وفد نے یہ طنز نہیں مارا۔ پوجا بھٹ نے کہا کہ جیسی ذومعنی فلمیں آپ کے پاکستان میں بنتی ہیں اور بنتی رہی ہیں میں ویسی فلم نہیں بناسکتی۔ میں خود بہت ساری مشکوک پنجابی اور پشتو فلمیں دیکھ چکی ہوں جب وہ فلمیں سینما پر چل سکتی ہیں تو ‘جسم’ کیوں نہیں؟ دوسرے ہدایتکار سدھیر کا کہنا تھا کہ ہم تو فنکار ہیں ہم فلم اپنی سوچ کے مطابق بناتے ہیں اب وہ لوگوں کے معیار پر پورا اترتا ہے یا نہیں یہ فیصلہ کرنا تو پاکستانی عوام کا کام ہے۔
یعنی کہ دوغلے پن کی انتہا یہ ہے کہ آپ ان کی فلمیں دیکھ بھی رہے ہیں اور پھر فکر مند بھی ہیں کہ سینما پر لگنے سے پتا نہیں کیا قیامت آجائی گی۔ بات صرف اتنی ہے کہ اس ملک کی عوام کے دماغ بالکل بند ہوگئے ہیں۔ حالانکہ پورا پاکستان خوش ہوگا کہ ہندوستانی فلمیں پاکستان میں سینماؤں پر دیکھی جائیں مگر نہیں جی ہم تو ٹی وی پر آرہے ہیں ہم ضرور ہی اپنی بند ذہنیت کا مظاہرہ کرکے اپنے معاشرے کی سب سے بڑی کمزوری عیاں کریں گے۔
زمرہ جات: آزادی, تعلیم, جمہوریت, ذرائع ابلاغ, مذہبی رواداری, پاکستانی معاشرہ
|
"کراچی کی طالبانائزیشن" پرجاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین لکھتے ہیں: :۔ ‘‘حکومت سندھ کو ام احسان سمیت تمام ایسے لوگوں پر پابندی لگانی چاہئے جو انتہاپسندی پر
"کراچی کی طالبانائزیشن" پرنعمان لکھتے ہیں: ہم یہاں لسانی تعصب کی بات نہیں کررہے. میرا خیال ہے موضوع گفتگو جنگ زدہ علاقوں سے
"کراچی کی طالبانائزیشن" پراحمد سولنگی لکھتے ہیں: پہلے ہم سب پنجابی، پختون، سندھی، بلوچ بنیں پھر پاکستانی بنیں گے ہر ایک اپنے شہر اور
"اردو بلاگستان پر ایک مضمون" پرحیدرآبادی لکھتے ہیں: نعمان صاحب ! اگر اس شمارے کی پ۔ڈ۔ف ناچیز کو بھی ای۔میل کر دیں تو بہت بہت
"کراچی کی طالبانائزیشن" پرخاور بلال لکھتے ہیں: راہبر نسلی تعصب نے کراچی کی ایک نسل تباہ کردی ہے، کم از کم آپ اپنے بھائ
"کراچی کی طالبانائزیشن" پرراہبر لکھتے ہیں: احمد سولنگی! صوبہ سرحد میں سندھی یا اردو آبادی سے کیا لینا دینا؟ ویسے میرے نزدیک پنجاب میں
"Urdu Read Write and Blogging Support" پریاسر عمران لکھتے ہیں: brother I need an urdu language pack for wordpress or an urdu package of wordpress can you help me please,