کچھ لوگوں کو خوشامد بڑی پسند ہوتی ہے۔ اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خوشامدیوں کو بہت پسند ہوتے ہیں۔ مسلم لیگ نواز گروپ کے سربراہ نواز شریف کو خوشامد پسند ہو کہ نہ ہو، مگر خوشامدیوں کو وہ بہت پسند ہیں۔ وہ جب بھی اقتدار میں آتے ہیں تو اخبارات ان کے جانثاروں کی بڑھکوں سے سجے نظر آنے لگتے ہیں۔ نذیر ناجی صاحب ان کے پچھلے ادوار میں ان کی بڑی توصیف کیا کرتے تھے اور ایک عطاالحق قاسمی صاحب۔ ناجی صاحب تو سکہ بند صحافی لوٹے ہیں جو اکثر طاقت کے توازن کی طرف لڑھکتے رہتے ہیں۔ لیکن قاسمی صاحب نواز شریف کے ایک دیرینہ جانثار حمایتی ہیں۔ وہ ایک کالم نویس اور مشہور مزاح نگار بھی ہیں۔ موصوف نواز شریف کی پچھلی حکومت میں ناروے کے سفیر رہ چکے ہیں۔ ان کے کالم انتہائی جانبدارانہ ہوتے ہیں۔ مجھے ان کے لکھنے کا انداز بہت پسند ہے۔ لیکن کبھی کبھی وہ اپنے پسندیدہ لیڈر کی حمایت، تعریف اور توصیف میں زمین آسمان کے قلابے ایسے ملاتے ہیں کہ پڑھنے والے کو شرم محسوس ہونے لگتی ہے کہ وہ اس عظیم الشان لیڈر کا حامی کیوں نہیں ہے۔ ایسا کرتے وقت بعض اوقات ان کی زبان عامیانہ ہوجاتی ہے اور وہ صحافتی اخلاقیات اور اردو زبان کی روایتی شائستگی اور شگفتگی کو بھی یکسر نظر انداز کردیتے ہیں۔
ہوا یوں کہ صدارتی ترجمان راشد قریشی صاحب نے بیان جاری کیا کہ:
۔نواز شریف کے علاوہ کسی سے بھی پوچھ لیا جائے سب کہتے ہیں کہ وہ صدر کے ساتھ کام کرنے کیلئے تیا ر ہیں۔اس لیے نواز شریف کو بھی کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔
جس پر نواز شریف نے جوابی بیان داغا کہ:
صدارتی ترجمان حیثیت دیکھ کر بات کریں۔ آمریت دفن کرنے کیلئے جلد قانون سازی کرنا ہوگی.
اگر حیثیت کی بات ہورہی ہے تو نواز شریف پر یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ وہ عوامی نمائندے ہیں کوئی شہنشاہ نہیں کہ جس کی حیثیت تنقید سے بالاتر ہو۔ یہ نیا پاکستان ہے، اور اب یہاں تنقید اسی طرح کی جاتی ہے۔ خود پرویز مشرف پر آٹھ سالہ دور حکومت میں لوگوں نے جی بھر کر تنقید کی ہے۔ برا بھلا کہا ہے اور برملا ملکی ٹی وی چینلز پر کہا ہے اس لئے نواز شریف کو بھی تیار رہنا ہوگا اس قسم کی تنقید سننے اور اس کا مدلل جواب دینے کے لئے۔ لیکن یہ بنیادی بات ہمارے کالم نویس عطاالحق صاحب کو بھی سمجھ نہیں آئی اور آج کے اخبار میں انہوں نے اپنے چہیتے لیڈر کی توصیف میں ایک اور کالم لکھ مارا۔ :
چوہدری نثار علی کی پریس کانفرنس بھی ٹی وی چینل پر براہ راست دیکھنے کا موقع ملا۔ ان کا لہجہ بتاتا تھا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف بطور صدر چند گھڑی کے مہمان ہیں، آپ انہیں مہمان اداکار بھی کہہ سکتے ہیں۔ چوہدری صاحب نے صدارتی ترجمان میجر جنرل (ر) راشد قریشی کی جس طرح دُھنائی کی، اس حوالے سے He asked for itوالی بات ہی کہی جا سکتی ہے کیونکہ موصوف نے پاکستانی عوام کے مقبول قائد میاں نواز شریف کے لئے جو زبان استعمال کی تھی، اس کے بعد یہ ان کا ”حق“ بنتا تھاکہ انہیں ان کی اوقات یاد دلائی جاتی.
چلیں لگتا ہے عطاالحق قاسمی صاحب، جو ہمارے دیگر معزز شعرا کی طرح یورپی اور امریکی مشاعروں کے شیدائی ہیں، اب ان کی سفارتی ذمہ داریاں شروع ہوا ہی چاہتی ہیں۔ لیکن اگر اسطرح صدر پاکستان کو اوقات یاد دلانے پر واہ واہ کرنے والے لوگ سفارتکار بنیں گے۔ تو نوازشریف وہی غلطی دہرائیں گے جو وہ پچھلے ادوار میں دہرا چکے ہیں۔ اور کالم نویسوں کو بھی یہ سمجھنا چاہئے کہ ایمانداری اور انصاف جس کی توقع وہ معاشرے سے رکھتے ہیں، معاشرہ بھی ان سے توقع رکھتا ہے کہ وہ اپنا کام ایمانداری اور غیرجانبداری سے انجام دیں گے۔
زمرہ جات: جمہوریت, ذرائع ابلاغ, پاکستانی معاشرہ
|
میں ووٹ ڈالنے کے لئے دوپہر ڈھائی بجے گھر سے نکلا۔ جب میں اپنے پولنگ اسٹیشن والی سڑک پر پہنچا تو دیکھا کہ وہاں ایم کیو ایم کے علاوہ کسی بھی پارٹی کا پولنگ کیمپ نہیں تھا۔ پولنگ اسٹیشن پہنچا تو وہاں اندر صرف ایم کیو ایم کے پولنگ ایجنٹ موجود تھے۔ بڑی تعداد میں ایم کیو ایم کے حمایتی اور کارکن پولنگ اسٹیشن کے اندر بھی موجود تھے۔ وہاں موجود لوگ زیادہ تر میرے رشتے دار، محلے دار اور کزن تھے۔
ایم کیو ایم کے کارکنان پولنگ بوتھ کے اندر بھی جھانک رہے تھے۔ حتی کہ جب میں اپنے بیلٹ پیپر پر مہر لگارہا تھا تب بھی ایک لڑکا میرے بیلٹ پیپر پر جھانک رہا تھا۔ میں نے اسے منع کیا اور اسے کے جانے پر بیلٹ پیپرز پر مہر لگائی۔
میں کچھ دیر وہاں ان لڑکوں کے ساتھ بیٹھا۔ وہ مجھے مذاق میں ایک اور ووٹ ڈالنے کی آفر کررہے تھے۔ وہاں کچھ لوگ گلابی پرچی لے کر آرہے تھے اور بغیر شناختی کارڈ دکھائے بیلٹ پیپر حاصل کررہے تھے۔ ایک تیس سے کچھ اوپر سال کے شخص نے اپنے ایک مردہ رشتے دار کا شناختی کارڈ دکھا کر ووٹ ڈالا۔ شناختی کارڈ پر بنی تصویر صاف بتارہی تھی کہ وہ ان کی نہیں ہے۔
مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ جب ایم کیو ایم کی جیت یقینی ہی تھی تو دھاندلی کی کیا ضرورت تھی؟
ڈاکٹر علوی گلستان جوہر کراچی سے اپنا ووٹ ڈالنے کا تجربہ بیان کرتے ہوئے وہاں ہونے والی دھاندلی کا پردہ فاش کرتے ہیں
قدیر نے سیاستدانوں سے سخت مایوس ہونے کے باوجود ووٹ ڈالا
شاکر فیصل آباد میں اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کی روداد بیان کی۔ تصاویر کے ساتھ
اجمل نے اسلام آباد میں اپنا ووٹ ڈالا
شعیب نے کراچی میں ووٹ ڈلا
زمرہ جات: انتخابات 2008, جمہوریت, کراچی
|
امید آزادی ایک ایرانی بلاگر ہیں جو فارسی اور انگریزی میں لکھتے ہیں۔ ان دنوں یہ امریکی شہر اٹلانٹا کے ایک ہائی اسکول کے طالبعلم ہیں۔ انہوں نے شہید جمہوریت محترمہ کے بیٹے بلاول کے بارے میں ایک افسانہ لکھا ہے۔ یہ افسانہ جس کا عنوان بلاول کا جنون ہے امید نے اپنی ورلڈ لٹریچر کلاس میں پیش کرنے کے لئے لکھا تھا۔ امید ایک انتہائی ذہین اور سمجھدار نوجوان ہیں۔ اس کا اندازہ مجھے ان کے ساتھ ای میلز کے تبادلے کے بعد ہوا۔ وہ اپنے افسانے میں بلاول کا انجام بھی اس کی ماں جیسا ہی دکھاتے ہیں جو مجھے نامناسب لگا میرا خیال تھا کہ اس سے بہتر اختتام یہ ہوتا کہ بلاول وزیر اعظم ہاؤس میں حلف اٹھانے کے بعد اعلان کرتا کہ اس نے اپنی ماں کا انتقام لے لیا۔ امید کا کہنا ہے:
میری پیشن گوئی میرے ذاتی تخیل یا بغض پر مبنی نہیں بلکہ کچھ سماجی اور تاریخی حقائق ہیں جن پر میں ہمیشہ اپنے ملک، ایران میں پیش آنے والے حالات کی وجہ سے اعتماد کرتا ہوں۔ سوشیولوجیکلی، جمہوریت ایک اچانک رونما ہونے والا انجام نہیں بلکہ منظم معاشرتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہوتا ہے جن سے پاکستان نہیں گزرا۔ اپنے ملک کے تجربات کی روشنی میں، میں پاکستان کی جمہوری تحاریک کے بارے میں ایسا سوچتا ہوں۔ یہ میری پیشن گوئی ہے جو میں امید کرتا ہوں کہ سچ ثابت نہ ہو لیکن میں محسوس کرتا ہوں کہ بھٹو کی تحریک تقریبا انہی وجوہات کی وجہ سے ناکام ہوجائیگی جن کی وجہ سے پچاس سال قبل مصدق کی تحریک ناکام ہوگئی تھی۔
میری رائے ابھی بھی امید سے مختلف ہے، لیکن اس کی اس دلیل میں وزن ہےکہ جمہوریت کو اپنانے کے لئے معاشرے کو جن تبدیلیوں سے گزرنا پڑتا ہے ان سے گزرے بغیر پاکستان جمہوریت اپنانے میں ناکام رہے گا۔ ہمارے معاشرے کا تعلیم یافتہ مڈل کلاس طبقہ جمہوریت کو ایک فضول خیالی پلاؤ تصور کرتا ہے۔ کبھی اس طبقے کے مفاد میں ہو تو اس پلاؤ کی دیگیں چڑھائی جاتی ہیں، جج بحال کرائے جاتے ہیں پتھراؤ کرے جاتے ہیں۔ اور کبھی جب ان کے مفاد میں ہو تو یہ ہر غیرقانونی کام پر خاموش رہتے ہیں اور شور نہیں مچاتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر جدوجہد کرنی ہے تو ہمیں اپنے معاشرے میں کرنا ہوگی جو جمہوریت کی راگنی تو الاپتا ہے لیکن اسے اپنانے کو پوری طرح تیار نہیں۔
زمرہ جات: آزادی, بےنظیر, جمہوریت, پاکستانی معاشرہ
|
میں اپنے بلاگ پر کئی مرتبہ لکھ چکا ہوں کہ پاکستان کی عوام کو ہر صورت الیکشن کے دن باہر آنا ہوگا اور اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنا ہوگا۔ کیونکہ یہ بات ازحد ضروری ہے کہ پاکستان کو موجود خطرناک حالات سے ایک منتخب حکومت نمٹے۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے الیکشن میں ہرصورت حصہ لینے کا اعلان کیا ہے، پاکستان مسلم لیگ (ن) بھی الیکشن میں حصہ لینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ عالمی برادری پاکستان پر جمہوریت کی طرف واپسی کے لئے دباؤ ڈال رہی ہے اور دنیا ہماری طرف دیکھ رہی ہے کہ ہم کس راستے کا انتخاب کرتے ہیں۔ ایک راستہ عالمی برادری میں ہماری قدر، ہمارے اعتماد اور بطور قوم ہمارے وقار میں اضافے کا سبب بنے گا۔ اور دوسرا راستہ خودکشی کا ہے۔
اسٹیبلیشمنٹ نے اپنے پسندیدہ نمائندوں کو جتانے کا انتظام کر رکھا ہے۔ گھوسٹ پولنگ اسٹیشن، مہرزدہ بیلٹ پیپرز، انتخابی فہرستوں کے گھپلے اور بلدیاتی انفراسٹرکچر کا انتخابی استعمال سمیت کئی الزامات لگائے جارہے تھے۔ پاکستان کے دونوں سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور بےنظیر کے اعلان کیا تھا کہ وہ الیکشن میں حصہ لیں گے اور لوٹا لیگ کے لئے میدان کھلا نہیں چھوڑیں گے۔ محترمہ پچھلے دو سال سے جنرل اور صدر مشرف سے مذاکرات کرتی رہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد کچھ لوگ اقتدار کا حصول بتاتے ہیں۔ میں ان لوگوں سے یہ سوال کرتا ہوں کہ کیا بیلٹ پیپر کے ذریعے اقتدار کے حصول کی کوشش کرنا جرم ہے؟ اگر جرم ہے تو یقینا اس کی مذمت کریں۔ اگر نہیں ہے تو ستائش کریں کہ محترمہ نے ہمیشہ بیلٹ پیپر کے ذریعے اقتدار کے حصول کو اپنا طریقہ بنایا اور احتجاجی سیاست سے گریز کرا۔ اس کے لئے انہوں نے نواز شریف کے ساتھ چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط کرے۔ اس کے لئے انہوں نے پرو مشرف ہونے کا طعنہ بھی سنا۔ مگر مذاکرات، ڈپلومیسی اور آئینی طریقے سے مشرف کو رخصت کرنے کو صحیح اور بہتر راستہ چنا۔ چاہے آپ کو بے نظیر سے کتنے ہی اختلاف ہوں لیکن کیا آپ بھی میری طرح یہ باتیں سوچ رہے ہیں:
- بے نظیر میں ایسا کیا تھا کہ کچھ لوگوں کو اسے قتل کرنا پڑا؟
- وہ کون لوگ تھے کہ جن کے مفادات کو بےنظیر کی کامیابی سے نقصان پہنچنا تھا؟
- کیا اسے اس لئے قتل کیا گیا کہ وہ انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف تھی؟
- یا اسے اس لئے قتل کیا گیا کہ وہ پاکستان کے عوام کی ووٹوں پر منتخب ہوکر اقتدار میں آنا چاہتی تھی؟
- کیا دہشت گردی کو غلط سمجھنا گناہ ہے؟ کیا عوام کی طاقت، پارلیمنٹ کی بالادستی اور جمہوریت کے لئے کام کرنا غلط ہے؟
جن لوگوں نے بےنظیر کو قتل کیا وہ پاکستان کے دشمن تھے، وہ پاکستان کی عوام کے دشمن تھے۔ وہ نہیں چاہتے کہ پاکستان کی عوام کو جمہوریت، انصاف، امن اور خوشحالی حاصل ہو۔ کیا آپ ان کا مقصد کامیاب ہونے دیں گے؟ یا آپ الیکشن کے دن گھر سے نکلیں گے اور ووٹ دیں گے؟ آپ اگر بے نظیر کے مداح ہیں تو شہید شہزادی کے مقصد کو کامیاب بنائیں۔ اگر آپ بےنظیر کے نقاد ہیں تب بھی گھر سے نکلیں، اور پیپلزپارٹی کو نہ سہی، اپنی پسند کے نمائندے کو ووٹ دیں اور پاکستان کے دشمنوں کے منصوبوں کو ناکام بنادیں۔ اگر آپ ووٹ نہیں ڈالیں گے تو آمریت، ظلم، دہشت گردی، نا انصافی، اور افراتفری جاری رہے گی۔
زمرہ جات: انتخابات 2008, بےنظیر, جمہوریت, دہشت گردی, پاکستانی معاشرہ
|
اگر آپ کے گھر میں کوئی دعوت ہو اور سب سے پوچھا جائے کہ اس دعوت میں کن کھانوں کا اہتمام کیا جائے۔ تب آپ چپ رہیں اور اپنی رائے کا اظہار نہ کریں تو یقینا باقی لوگ اپنی مرضی کا اہتمام کرلیں گے۔ کیا اس اہتمام پر آپ کو شکوہ کرنے یا ناپسندیدگی کا اظہار کرنے کا حق ہوگا؟ اگر آپ ناپسندیدگی کا اظہار کریں گے یا شکوہ کریں گے تو کیا باقی لوگ یہ نہیں کہیں گے کہ آپ سے پوچھا گیا تھا، مگر آپ نے اپنی رائے نہیں دی۔ لحاظہ اب آپ چپ رہیں اور دوسروں کی رائے اور پسند کا احترام کریں۔
پاکستان میں لوگوں کی ایک بڑی اکثریت انتخابات میں اپنا ووٹ استعمال نہیں کرتی۔ عجیب بات یہ ہے کہ کم پڑھے لکھے، جاہل اور غریب لوگ زیادہ ووٹ ڈالتے ہیں۔ بنسبت تعلیم یافتہ اور زیادہ یا درمیانی آمدنی والے افراد کے۔ مجھے ایک اور بات جو عجیب لگتی ہے وہ یہ ہے کہ یہی پڑھے لکھے لوگ اکثر محفلوں میں ملکی حالات پر مایوسی کا اظہار کرتے ہیں، یہ سیاستدانوں سے نالاں ہیں، فوج سے شاکی، میڈیا پر انہیں یقین نہیں، اداروں پر انہیں اعتماد نہیں۔ لیکن جب وہ دن آتا ہے کہ اچھے یا برے نمائندوں کو منتخب کیا جاسکے تو یہ لوگ اپنی ناراضگی اور مایوسی کا اظہار گھر بیٹھ کر کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ ووٹ ڈالنے نہیں جاتے ان میں سے اکثر اس دن بھی ٹیلیوژن پر الیکشن نشریات دیکھتے ہیں، نتائج پر تبصرے کرتے ہیں، جب وہی گھسے پٹے نمائندے جیتتے رہتے ہیں تو یہ پھر اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہیں اور اگلے دن سے پھر انہی معمولات میں مشغول ہوجاتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جب یہ لوگ جمہوریت کی راہ میں ووٹ ڈالنے جیسے ایک اہم ترین قومی فرض کو بھی ادا نہیں کرتے۔ تو کیا انہیں مایوس ہونے، تبصرے کرنے اور حالات پر کڑھنے کا حق ہے؟
کیا آپ آٹھ جنوری کو اپنے ووٹ کا حق استعمال کریں گے؟
زمرہ جات: آزادی, انتخابات 2008, جمہوریت, سیاست, پاکستانی معاشرہ
|
پاکستان میں ایمرجنسی، پی سی او اور ججوں کی معطلی کے بعد الیکشن میں حصہ لینا کچھ لوگوں کو بے معنی نظر آتا ہے۔ شاید وہ کسی حد تک صحیح بھی ہیں۔ لیکن سیاسی جماعتوں کے پاس دو راستے ہیں:
اول تو یہ کہ وہ الیکشن کا بائیکاٹ کردیں۔ ایسا ہو تو مشرف کے پاس دو راستے ہونگے۔ ایک تو یہ کہ الیکشن کا انعقاد غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا جائے۔ دوسرا یہ کہ الیکشن کرائے جائیں اور ایک ربڑ اسٹیمپ اسمبلی تخلیق کرواکر آئین کے ساتھ مزید چھیڑ چھاڑ کی جائے۔ دونوں صورتوں میں اپوزیشن کے احتجاجوں سے ملکی عدم استحکام میں اضافہ ہوتا رہے گا، شمالی علاقہ جات میں کشیدگی برقرار رہے گی، دہشت گردی اور انتہاپسندی کے شعلوں کو ہوا ملتی رہے گی۔
دوسرا راستہ ہے کہ الیکشن میں بھرپور حصہ لیا جائے۔ الائنسز بنائے جائیں، لوٹا لیگ اور ملا الائنس میں دراڑ ڈالی جائے۔ پارلیمنٹ تک پہنچا جائے اور آئین کی بحالی اور ججز کی واپسی کو ممکن بنایا جائے۔
ایسی صورتحال میں کہ جب ایمرجنسی نافذ ہو، الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری مشکوک ہو، بلدیاتی حکومتوں کی شکل میں پچھلی حکومت کی مشینری فعال ہو، تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ انتخابات شفاف ہونگے۔ انتخابات چاہے غیر شفاف و غیرمنصفانہ ہوں لیکن آپ نتائج پر تب تک معترض نہیں ہوسکتے جب تک آپ انتخابات میں حصہ نہ لیں۔ میرے خیال میں اپوزیشن جماعتیں اگر انتخابات میں شکست کھا بھی جاتی ہیں تب بھی ان کو انتخابات سے بہت زیادہ طاقت حاصل ہوگی اور ملک میں جمہوری اداروں کے درمیان توازن کی کوئی صورت بنی رہے گی۔ ورنہ کھلی آمریت اور من مانی کے لئے راستہ صاف رہے گا۔
پاکستان کی عوام کا یہ فرض ہے اور ان کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ انتخابات میں بھرپور حصہ لیں زیادہ سے زیادہ لوگ اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں۔ میرے خیال میں یہی صحیح راستہ ہے۔ باقی سب راستے انتشار، افراتفری، آمریت اور عدم استحکام کی طرف جاتے ہیں جن سے ملکی اداروں، جمہوریت، انصاف اور بحالی آئین کی مہم کو کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
اپڈیٹ: اسی موضوع پر جہانزیب کی پوسٹ “ووٹ دیجئے”
ٹیتھ مائیسٹرو پر علی ملک کی تحریر: بائیکاٹ ایک آپشن کیوں نہیں؟
زمرہ جات: انتخابات 2008, جمہوریت, سیاست
|
کل شام کی چائے کے بعد ہم سب گھر والے ساتھ ٹی وی دیکھ رہے تھے۔ اب چونکہ پاکستان کے مشہور اور مقبول نیوز چینلز تو بند ہیں لحاظہ ہم بھارتی رقص و موسیقی کے دلچسپ اور تفریح سے بھرپور پروگرامز سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ اچھا ہوا صاحب اقتدار صدر محترم جنرل اعلی (بھائی ایمرجنسی ہے القابات اور طرز تخاطب کا خیال رکھنا ضروری ہے) نے نیوز چینلز بند کردئے۔ خون جلانے، دل ہولانے اور مغز کو پراگندہ کرنے والے پروگرامز اور جو وقت بچ جائے اس میں موبائل کمپنیوں کے اشتہارات دکھانے کے علاوہ ان چینلز پر آتا کیا تھا؟
بھارتی چینل پر کوئی نوجوان جوڑا امیتابھ بچن کی کسی فلم کے گیت پر رقص کا مظاہرہ کررہا تھا۔ مجھے خیال آیا کہ بھارتی ٹی وی چینلز اور میڈیا پر امیتابھ کا اس قدر ذکر ہوتا ہے، کہ کوئی چینل ایسا نظر نہیں آتا جس پر ایک گھنٹے کے اندر کم از کم ایک بار امیتابھ کا نام، اس کی کسی فلم کی جھلک، اس کا کوئی گانا، یا کوئی تذکرہ نظر نہ آئے۔ امیتابھ بچن اس وقت شاید بھارتی کلچر کا ایسا نمائندہ بن گیا ہے کہ جس کے بغیر بھارتی میڈیا اپنے خبرناموں، تفریح، معلومات، مزاح، یا ثقافتی پروگراموں کو بالکل ادھورا سمجھتا ہے۔
باقی پاکستانی ٹی وی چینلز پر ایسا نہیں، لیکن کم از کم جیو ٹی وی نیٹ ورک پر ہمارے جنرل محترم پرویز مشرف صاحب کو امیتابھ بچن جیسی ہی حیثیت حاصل تھی۔ جیو نیوز پر تو جنرل محترم کا اسقدر تذکرہ ہوتا تھا کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ گویا پاکستانیوں کی زندگی ہی مشرف صاحب کے اردگرد گھوم رہی ہے۔ کوئی ٹاک شو ہو یا دینی پروگرام، مزاحیہ خاکے ہوں یا گرینڈ ڈیبیٹ، تندو تیز سوالات کا پروگرام جوابدہ ہو، یا نرما نرم آج کامران خان کے ساتھ۔ ہر تیس منٹ میں چار چھ بار تو صاحب کا ذکر ضرور سنائی پڑتا تھا۔
ہمارے صدر محترم قابل احترم آرمی چیف جناب مشرف صاحب اور امیتابھ میں ایک اور بات ایک سی ہے۔ دونوں کو یہ خیال ہے کہ ان کا متبادل کوئی نہیں۔ اور شاید دونوں صحیح بھی ہیں۔ سوچیں اگر بھارتی چینلز سے امیتابھ کو اور پاکستانی چینلز سے مشرف صاحب کو ہٹادیں تو ٹی وی چینلز کیسے چلیں گے۔ ایسے کونسے لیجنڈری آئیکونز ہیں جو امیتابھ یا مشرف صاحب جیسے اثرانگیز ہوں؟
اب جیو ٹی وی بند ہے اور ہم اپنے امیتابھ بچن سے بھی دور ہوگئے ہیں۔ گرچہ سرکاری میڈیا اس بات کی بھرپور کوشش کررہا ہے کہ ہم جنرل صاحب صدر محترم کے افکار و خیالات، ان کی شخصیت کی اثرانگیزی کی کمی محسوس نہ کریں۔ مگر سرکاری ٹی وی چینلز بھارتی ٹی وی چینلز کی بھیڑ میں گم ہوجاتے ہیں۔ میں نے چائے کا گھونٹ بھرا اور ٹی وی پر نظر ڈالی۔
ارے دیوانوں
مجھے پہچانو
کہاں سے آیا
میں ہوں کون
میں ہوں ڈون
میں ہوں ڈون۔۔۔
امیتابھ بچن ٹی وی پر رقصاں تھا
زمرہ جات: آزادی, جمہوریت, ذرائع ابلاغ, فلم, ٹیلیوژن, پاکستانی معاشرہ
|

ایمرجنسی کے بعد پولیس والے ہمارے پڑوس میں سے ایک انیس بیس سالہ لڑکے براق کو پکڑ کر لے گئے تھے۔ براق اسلامی جمعیت طلبا کا کارکن تھا اور ایس ایم آرٹس کالج میں جمعیت کا اہم عہدیدار تھا۔ براق کے اچھے کردار اور عمدہ اخلاق کی گواہی محلے کا بچہ بچہ دے گا۔ ہمیشہ نیچی نظریں رکھنے والا۔ وہ ادھر ادھر گھومتا نظر نہیں آتا تھا۔ مسجد سے جماعت اسلامی کے دفتر، کالج یا گھر۔ مجھے وہ اکثر مسجد میں یا گھر آتے جاتے ملتا تھا۔ ہمیشہ سلام میں پہل کرتا۔
چار دن تک اسے حراست میں رکھا گیا اور پھر متحدہ قومی موومنٹ کے چند ناظمین کی شخصی ضمانت پر کہ وہ کسی جلسے جلوس میں شامل نہیں ہوگا، آج رہا ہوا ہے۔ وہ بھی اس کی والدہ کی وجہ سے جنہیں یہ ڈر تھا کہ کہیں ان کا بیٹا غائب نہ کردیا جائے۔ ہماری ہی بلڈنگ میں جماعت اسلامی کے چند اور کارکن بھی رہتے ہیں جن میں سے ایک تو ایمرجنسی کے اعلان کے تھوڑی ہی دیر بعد روپوش ہوگئے۔ ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے ہمارے ایک رشتے دار نے براق اور روپوش ہونے والے کارکنان کو پہلے ہی بتادیا تھا کہ انہیں حراست میں لے لیا جائے گا اس لئے وہ لوگ اپنے گھر چھوڑ دیں۔ ایم کیو ایم کے چند سینئر کارکن اس بات پر سخت ناراض اور مایوس ہیں کہ ایم کیو ایم آمر کے ساتھ کھڑی ہے۔
براق کو میں نے ہمیشہ ایک اچھا لڑکا مانا ہے اور اپنے بھائیوں کو اس کی مثال دی ہے۔ مگر بحالی جمہوریت کی اس تحریک میں گرفتار ہونے پر میری نظر میں اس کا مقام اور بڑھ گیا ہے۔
زمرہ جات: آزادی, انسانی حقوق, جمہوریت, دکان سے گھر تک
|
10/28/2007
ٹائم میگزین پر بے نظیر بھٹو کا مشکل ترین مشن:
(انگریزی سے اقتباس)
اس سے بھی مشکل کام ہوگا واشنگٹن کی توقعات کا انتظام کرنا کہ بے نظیر عسکریت پسندوں کے خلاف مضبوط کاروائی کریں۔ بے نظیر نے دعوی کیا ہے کہ جنرل مشرف نے عسکریت پسندی سے نمٹنے کے لئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کرے۔ لیکن خود انہوں نے بھی کوئی ٹھوس حل فراہم نہیں کرے ہیں، سوائے اس کے کہ جمہوریت کو ہی پاکستان کی سب بیماریوں کے تریاق کے طور پر استعمال کیا جائے۔ “یہ بالکل واضح ہوچکا ہے کہ آمریت باکل سودمند نہیں ہے اور یہ صورتحال کو مزید ابتر اور طوائف الملوک بنارہی ہے۔” وہ کہتی ہیں “اور یہ ابتری اور طوائف الملوکی عسکریت پسندوں کے حق میں جاتی ہے۔”
|
10/21/2007
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن اور سابق وزیرِاعظم بینظیر بھٹو نے جناح ہسپتال میں اٹھارہ اکتوبر کے بم دھماکوں میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کی۔
یہ محترمہ کا ان کے آبائی شہر کا وطن واپسی کے بعد پہلا دورہ تھا اس دوران انہوں نے لیاری میں ایک کارکن کے گھر جا کر تعزیت کی اور کھارادر میں ایک مزار پر چادر چڑھائی۔
|
بینظیر دبئی میں ہی پریس کانفرنس میں یہ کہہ چکی تھیں کہ ان کی جان کو خطرہ حکومت میں موجود چند عناصر سے ہے جو دہشت گردی کی پشت پناہی کرتے ہیں اور وہ ان کی آمد سے خوفزدہ ہیں۔
بینظیر کو وزیر اعظم اور صدر سے بھی زیادہ سیکیوریٹی پرووائڈ کرنے کا دعوی مضحکہ خیز حد تک جھوٹا ہے۔ بیس ہزار پولیس اہلکار پورے شارع فیصل پر موجود تھے۔ لیکن پندرہ لاکھ سے بھی زیادہ افراد کے اس ہجوم کی نگرانی کے لئے بیس ہزار پولیس اہلکار جو کہ کسی بھی جدید ٹیکنالوجی سے لیس نہیں تھے اور سیمی آٹومیٹک ہتھیاروں کے علاوہ ان کے پاس وائرلیس تک نہ تھے۔ حکومت نہ بم جام کرنے والی ڈیوائسز اگر محترمہ کے ساتھ چلنے والی گاڑیوں میں نصب کررکھی تھیں تو انہوں نے کام کیوں نہ کیا؟ شارع فیصل پر ان دو دھماکوں کے علاوہ کئی اور مقامات سے خودکش بیلٹس ملی ہیں۔ تین مشتبہ افراد سارا دن گرفتار ہوئے تھے۔ منصوبہ یہ تھا کہ پہلا دھماکہ ٹرک کے آگے کرا جائے گا جس سے ہجوم گھبرا کر پیچھے بھاگے گا جس کے نتیجے میں ٹرک کے گرد قائم پیپلز پارٹی کے سیکیوریٹی ونگ کا حصار ٹوٹ جائے گا۔ حصار ٹوٹنے کے بعد دوسرا دھماکہ ٹرک کے اندر یا اس کے باہر کیا جائے گا۔ اور تیسرا دھماکہ ٹرک کے اندر کرنے کی کوشش کی جائے گی اور پرائم ٹارگٹ کو قتل کرنے کی کوشش کی جائیگی۔ خوش قسمتی سے کراچی پولیس، کیمرہ مین اور میڈیا کی بڑی تعداد میں موجودگی کی وجہ سے پہلے دھماکے کے بعد مچنے والی بھگدڑ ایسی نہیں تھی کہ ٹرک کے گرد موجود حصار ٹوٹ پاتا۔ تب دوسرے بمبار نے خود کو سیکیوریٹی کی انسانی شیلڈ سے ٹکرایا۔ جس سے سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں اور ٹرک کو بھی نقصان پہنچا۔ اسی دوران کسی شخص نے ٹرک کی ونڈ شیلڈ اور ٹائرز پر فائر کرے۔ لیکن جو انسانی شیلڈ ٹوٹی تھی پیلزپارٹی کے کارکنان نے اسے فورا دوبارہ بنادیا۔ اب اگر تیسرا بمبار اسی شیلڈ پر حملہ کرتا تب بھی پرائم ٹارگٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا اور خدشہ تھا کہ یہ تیسرا بمبار ہی کمانڈ کررہا تھا اس نے وہاں بھاگنا زیادہ بہتر جانا۔
مرنے والوں میں ساٹھ سے زیادہ جوان پیپلزپارٹی کی سیکیوریٹی ونگ کے وہ نوجوان تھے جنہوں نے ٹرک کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔ تین سیکیوریٹی اہلکار ٹرک کے ریک پر ہلاک ہوئے۔ اور ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد سندھ پولیس کے جوانوں کی ہے۔
کارکنان نے مثالی اعصابی جرات کا مظاہرہ کرا۔ پولیس کے خون میں لت پت اہلکار ہجوم کی مدد کرتے رہے ۔ یہ فرض شناسی اور احساس ذمہ داری کا زبردست مظاہرہ تھا۔
ٹرک میں موجود لیڈران کو فورا محفوظ مقام پر پہنچانا اسلئے ضروری تھا کہ اس بات کا اندازہ کرلیا گیا تھا کہ دیگر حملہ آور اردگرد موجود ہیں اور ایک اور حملہ متوقع ہے۔ جس کے نتیجے میں لیڈران کو نقصان پہنچتا یا نہیں لیکن اور بہت لوگ مرتے۔
شہر کے ہسپتال ریڈالرٹ پر تھے۔ جناح اور لیاقت ہسپتال قریب ترین تھے۔ لیکن شہری حکومت کا ٹراما سینٹر جو ایسے حادثات کے لئے ویل ایکویپڈ ہے وہ جائے حادثہ سے دور تھا اور وہاں کم زخمی لوگوں کو لے جایا گیا۔
لوگ کہتے ہیں کہ ہیلی کاپٹر میں بے نظیر کو کیوں نہ لے جایا گیا۔ یہ وہی سوال ہے جو ایم کیو ایم کے لوگوں نے بارہ مئی کو چیف جسٹس سے کیا تھا کہ ہیلی کاپٹر میں جانے میں کیا عذر ہے۔ لیکن چیف جسٹس نے انکار کردیا تھا۔ اگر چیف جسٹس انکار کرسکتے ہیں تو بے نظیر کیوں نہیں؟
زخمیوں اور مرنے والوں میں ایک بڑی تعداد اندرون سندھ اور پنجاب سے آئے ہوئے پیپلز پارٹی کے کارکنان کی ہے۔ مرنے والوں کی شناخت اور ان کے لواحقین تک ان کی میتیں پہنچانے کا کام جاری ہے۔ زخمیوں کی بڑی تعداد ہسپتالوں سے فارغ کی جاچکی ہے۔ چند بری طرح جھلسنے والے مریض سنگین حالت میں ہیں اور ڈر ہے کہ ڈیتھ ٹول ابھی اور بڑھے گا۔
مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ یہ کون لوگ ہیں۔ آخر یہ چاہتے کیا ہیں؟ اگر یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کے عوام ان کے مذموم مقاصد کے آگے گھٹنے ٹیک دیں۔ تو یہ کبھی قبول نہ ہوگا۔ پاکستانیوں کو اسوقت یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس کے ساتھ ہیں۔ پاکستان کے ساتھ، یا انتہاپسندوں کے ساتھ۔ یہ لاشیں دیکھیں اور سوچیں کہ ہمیں کسطرف جانا ہے؟
میں کل شام ہی محب سے بات کررہا تھا۔ اور محب نے کہا کہ وزیرستان میں مرنے والے لوگ ہمارے اپنے ہیں اور فوج ہمارے اپنے لوگوں کو ماررہی ہے۔ تو میں نے محب سے کہا کہ ہمارے جو تین سو فوجی جوان انہوں نے یرغمال بنائے اس پر لوگوں کو کیوں دکھ اور فکر نہیں۔ میں یہ پوچھتا ہوں کہ آپ کس کے ساتھ ہیں؟ ان کے ساتھ جنہوں نے بم پھاڑ کے ڈیڑھ سو لوگوں کو آن واحد میں ہلاک کردیا۔ یا ہمارے ساتھ جو پاکستان میں جمہوریت، امن، انصاف، تعلیم اور ترقی دیکھنا چاہتے ہیں۔
کوئی کہتا ہے کہ بے نظیر فوج کو تباہ کرنے آرہی ہیں۔ جو کہ غلط ہے بے نظیر فوج کو بچانے آرہی ہے۔ کیونکہ ہر سچے پاکستانی کو اسوقت اپنے ملک کی فوج کے ساتھ ہونا چاہئے۔ قاتلوں سے ہتھیار ڈلوانے کے لئے اگر ہم متحد نہ ہونگے تو خانہ جنگی پورے ملک کو لپیٹ لے گی۔
زمرہ جات: آزادی, بےنظیر, جمہوریت, دہشت گردی, پاکستانی معاشرہ, کراچی
|
"اداسی" پرمنهاج الرحمان لکھتے ہیں: کمال پوسٹ ھے نعمان صاحب۔ اس ملک میں فرعونیت کی انتھا ھو چکی ھے۔ ھمارا موسی نا
"اداسی" پرابوشامل لکھتے ہیں: لیں جی آپ کو تیسری مرتبہ ہمارے بلاگ سے بھی ٹیگ کر دیا گیا ہے، اب آپ
"اداسی" پرArif Anjum لکھتے ہیں: آپ کو یہاںپر ٹیگ کردیا گیا ہے۔ پولیس کو مطلع کرنے کی کوشش نہ کیجئے اور
"برمودا مثلث" پرمحمد طفیل لکھتے ہیں: ماشاءاللّہ آپ نے اپنی قومی زبان کی بہت بڑی خدمت کرکے اپنے ہم وطنوں کو بہت اچھی
"میرا نیا کمپیوٹر" پرwaqas khan لکھتے ہیں: GALAXY COMPUTER thats enough ap logo k rates bahot zada hotay hai recently many Nvidia Geforce 8600 512mb
"میرا نیا کمپیوٹر" پرwaqas khan لکھتے ہیں: mere piyary bhaio mere ap sab sya request hai k please galaxy computers say kuch bhe na purchase
"اداسی" پررضوان نور لکھتے ہیں: بات تو غیر متعلق سی ہے مگر پھر بھی کیے دیتے ہیں کہ آپ کو اس ناچیز