دکان سے گھر تک

موضوع: دکان سے گھر تک

کسی حال میں چین نہیں

بتاریخ: 07 اپریل 2008

میرا گھر سندھ اسمبلی اور سیکریٹریٹ کے بالکل قریب واقع ہے اسلئے ہماری بجلی باقی شہر کے مقابلے میں ذرا کم جاتی ہے۔ مثلا اگر پورے شہر میں چار گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے تو ہمارے ہاں تین گھنٹے کی ہوگی۔ مگر عجیب بات ہے، نامعلوم کے ای ایس سی والوں کو کیا ہوگیا ہے، گذشتہ قریبا ایک ہفتے سے ہمارے گھر کی بجلی نہیں گئی۔ پورے شہر میں لوڈشیڈنگ میں کافی کمی آگئی ہے۔ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ادائیگی کے بعد کے ای ایس سی کو واپڈا سے مزید بجلی ملنے لگی ہے۔ مگر مجھے لگتا ہے یہ سب ناٹک محض میرے پیسے خرچ کرانے کو رچایا گیا تھا۔

میری والدہ جو کچھ عرصے سے علیل ہیں وہ اندھیرے سے گھبرارہی تھیں تو میں نے سوچا کہ اب یو پی ایس لینا ہی پڑے گا۔ آگے اتنی لمبی گرمیاں ہیں۔ میں یو پی ایس لے آیا۔ تنصیب کرنے والے اناڑی کاریگروں نے بڑا تنگ کیا انہیں وائرنگ کرنے کا ذرا سا سلیقہ نہیں تھا۔ اتنا خون جلا کہ نہ پوچھیں، سوچ رہے تھے کہ چلو اب جب لوڈشیڈنگ ہوگی تو ذرا دیر کو پنکھا چلا کر یہ سب محنت وصول ہوجائیگی۔ مگر ہماری راحت سے تو کے ای ایس سی والوں کو بیر ہے۔ اگلے ہی روز انہوں نے پیپکو کو ایک ارب روپے کی ادائیگی کردی اور تین سو میگاواٹ بجلی بحال کروالی۔ مجھے اگر خبر ہوتی کہ میرے یو پی ایس سے قومی ادارے کو اتنی بڑی رقم کی وصولی ہوگی تو کب کی یہ قربانی دے چکا ہوتا۔ مگر اب تو میں انتظار کررہا ہوں کہ کب بجلی جائے تو میں یو پی ایس سے جلنے والے الیکٹرک سیور بلبوں کی ٹھنڈی میٹھی روشنی سے لطف اندوز ہوں۔ امید ہے کے ای ایس سی والے زیادہ دن انتظار نہ کرائیں گے۔

بھلے دنوں کی یاد

بتاریخ: 11 مارچ 2008

wapda_vs_kesc.gif

آتا ہے یاد مجھ کو وہ گزرا ہوا زمانہ کہ جب ہمارے گھر میں دن کے وقت بھی ٹیوب لائٹیں جلا کرتی تھیں۔ جب ہم ہر وقت انٹرنیٹ استعمال کرسکتے تھے۔ ہماری ماسی جس دن اس کا موڈ ہوتا واشنگ مشین لگالیتی تھی۔ ہم استری شدہ کپڑے پہنا کرتے تھے۔ اور تمام فارغ وقت امی کی دھمکیوں کے باوجود ایرکنڈیشنر بند نہ کرتے تھے۔ آہ وہ بھی کیا دن ہوا کرتے تھے۔

اب تو یہ عالم ہے کہ دن میں ہر چار گھنٹے بعد دو گھنٹے بجلی غائب۔ جلدی جلدی نیٹ یوز کرتے ہیں۔ کچھ لکھیں تو ہر ساٹھ سیکنڈ بعد محفوظ کرتے جاتے ہیں۔ پانی کی موٹر چلا کر جلدی جلدی ٹنکیاں بھرتے ہیں۔ ماسی بھی بجلی دیکھتی ہے تو فورا واشنگ مشین لگالیتی ہے۔ کسی کو کپڑے استری کرنا یاد آتا ہے تو کسی کو اپنا پسندیدہ ٹی وی پروگرام۔

موسم ابھی اتنا گرم نہیں ہوا اور ہم کراچی والے سوچ رہے ہیں کہ گرمیاں کیسے گذاریں۔ جبکہ احباب یو پی ایس، گیس کے جنریٹر اور اس قسم کی چیزیں خرید رہے ہیں۔ میں سوچ رہا ہوں کہ اپنے کمرے کی چھت پر رسی سے چلنے والا پنکھا لگوالوں۔ آپ نے شاید یہ کسی پرانی فلم میں دیکھا ہو۔ اس میں ایک ہاتھ سے بنا ہوا بڑا سے پنکھا چھت سے لگا ہوتا ہے اور ڈوری کھینچیں تو چلتا ہے۔ موم بتی کی روشنی کا جو رومانی تاثر ہے وہ یقینا اس پنکھے سے دوبالا ہوجائے گا۔ فوم کے گدوں کی جگہ چارپائیاں ڈال لیتے ہیں کہ وہ زیادہ ٹھنڈی ہونگی۔ اور پرانی وضع کے اونچے ململ کے کرتے سلوالیتے ہیں۔ کیسا مزہ آئے گا جب ہمارا کمرہ شمعوں سے جگمگائے گا، ہاتھ سے چلنے والا پنکھا ہوگا اور ہم سفید براق کپڑوں میں ملبوس کھری چارپائیوں پر لیٹے۔ ہاتھ میں کاغذ قلم تھامے اپنے بلاگ کی اگلی پوسٹ لکھ رہے ہوں گے۔ زبردست۔

میری دادی مرحومہ بہت پرانے دنوں کے قصے سناتی تھیں تو بتایا کرتی تھیں کہ گرچہ آس پاس کے تمام محلے میں بجلی موجود تھی مگر ان کے گھر تک نہیں پہنچی تھی تو وہ لالٹین کے روشنی میں رات کا کھانا کھایا کرتے تھے۔ میری دادی اکثر گرمیوں میں بھی بغیر پنکھے کے ہی سویا کرتی تھیں کہ پنکھے کی ہوا سے ان کے جسم میں درد ہوجاتا تھا۔ ہمیں یاد نہیں ہم نے انہیں کبھی رنگین کپڑے پہنے دیکھا ہو۔ ہمیشہ وہی ایک جیسے سفید کرتے جن پر الگ الگ طرح کے سونے کے بٹن لگے ہوتے تھے۔ یہ بٹن بڑی عزت اور وقار کی علامت تھے اور میری دادی کی متاع حیات تھے۔ یہ بٹن انہیں بیتے دنوں کی یاد دلاتے تھے (میری دادی کے انتقال کے بعد ان بٹنوں کی گمشدگی اور ان پر ہونے والی لڑائیاں الگ موضوع ہیں کبھی یاد دلائیے گا تو یہ قصہ بھی سناؤں گا)۔ اور سفید چوڑی دار پاجامہ جیسے دیکھ کر میں اکثر سوچتا تھا کہ یہ کیسے پہنا جاتا ہوگا۔ مجھے یہ تجربہ اپنی روزہ کشائی کے دن ہوا جب میں نے پہلی بار چوڑی دار پاجامہ پہنا تب مجھے احساس ہوا کہ میری دادی روزانہ کتنی سخت مشقت انجام دیتی ہیں۔ ان کے ہاتھ اور پیر سردی ہو یا گرمی ہمیشہ مہندی سے رنگے ہوتے تھے۔ ان کے سر کے تمام بال سفید تھے جن پر وہ کبھی مہندی نہیں لگاتی تھیں۔ حالانکہ ان کے شوہر زندہ سلامت تھے۔ مگر وہ سمجھتی تھیں کہ اب چونکہ وہ بوڑھی ہوگئی ہیں تو انہیں ایسی ہی وضع اختیار کرنی چاہئے۔ اللہ انہیں جنت بخشے بڑی نیک عورت تھیں۔ بڑی صابر اور سدا کی شکرگزار۔

میں سوچتا ہوں کہ میں بھی اپنے پوتوں کو کچھ ایسے ہی قصے سنایا کروں گا۔ ان دنوں کے کہ جب ہمارے گھر میں ٹیوب لائٹیں جلا کرتی تھیں۔ جب ہم ٹی وی دیکھتے ہوئے کھانا کھایا کرتے تھے۔ جب ہم ڈی وی ڈی پر فلمیں دیکھا کرتے اور انٹرنیٹ پر بلاگ لکھا کرتے تھے۔ اور ہمارے گھر میں اتنے آلات بجلی تھے جتنے اب قومی عجائب گھر میں بھی نہیں۔

کارٹون: روزنامہ جنگ کراچی ایڈیشن ۱۱ مارچ ۲۰۰۸

مناہل کی چالاک دوست

بتاریخ: 21 جنوری 2008

کل ہماری ایک رشتے دار جو کہ میری بہن عینی کی دوست بھی ہیں، اپنے بچوں کے ہمراہ ہمارے گھر آئیں۔ ان کی چھوٹی بیٹی عمائمہ میری بھانجی مناہل کے ساتھ کی ہے اور اس کی دوست بھی۔ لیکن یہ بچی (ماشاءاللہ) ہماری مناہل کے مقابلے میں بہت چالاک ہے۔ اس نے آتے ہی مناہل کو بتایا کہ کل میری برتھ ڈے ہے۔ پھر مناہل سے کہا کہ تم مجھے میری برتھ ڈے پر کوئی گفٹ نہیں دو گی۔ اور پھر تحفے کے نام پر مناہل کے شارپنر، کلرپنسلز، کلرنگ بکس جو مناہل کے پاس درجنوں کے حساب سے ہیں، کتابیں، اسنیکس اور ٹافیاں وغیرہ اپنے بیگ میں بھر لیں۔ مناہل سے چھوٹی والی میری بھانجی فرزین اتنی بھولی نہیں۔ وہ ابھی صرف سال بھر کی ہے لیکن جب اس نے دیکھا کہ ایک لڑکی ان کی چیزیں اٹھا اٹھا کر اپنے بیگ میں ڈال رہی ہے تو اس نے رونا شروع کردیا اور اس لڑکی سے وہ بیگ چھیننے کی کوشش کرنے لگی۔ تب بڑوںکی توجہ اس طرف مبذول ہوئی تو عینی نے دیکھا کہ اس کی بیٹی کا کافی سارا سامان عمیمہ کے بیگ میں بھرا ہے۔ عمائمہ کی امی بڑی کھسیانی ہوئیں اور وہ سامان نکال کر دینے لگیں۔ پھر عینی نے کچھ چیزیں جو نئی الگ سے الماری میں رکھی تھیں وہ عمائمہ کو دیں۔

اس کے بعد مناہل عمائمہ کو اپنا پلاسٹک کا ڈاکٹری سامان دکھانے لگی۔ دونوں نے ایک کونے میں چھوٹا سے کلینک سجایا۔ مناہل بیچاری کو تو یہی پتہ تھا کہ ڈاکٹر صرف آآآ کروا کر گلا دیکھتے ہیں، اسٹیتھواسکوپ لگاتے ہیں، تھرمامیٹر لگاتے ہیں اور ایک کاغذ پر دوا لکھتے ہیں۔ لیکن عمائمہ نے اسے بتایا کہ ڈاکٹر آپریشن بھی کرتے ہیں۔ پھر اس نے مناہل کو کارپٹ پر لٹایا اور اس کے پیٹ پر مارکر سے سرکل بنایا۔ اور پتہ نہیں کسطرح باقی آپریشن انجام دیا۔ جب سونے سے پہلے عینی مناہل کے کپڑے بدلنے لگی تو اس نے وہ نشان دیکھا۔ اور فکر مند ہوگئی، اسے لگتا ہے کہ اس کی بیٹی بہت ہی بھولی ہے اور عمائمہ بہت ہی چالاک اس نے مناہل کو بتایا کہ اس طرح کسی کو اپنی سب چیزیں نہیں دے دیتے اور یہ کہ بچوں کو بچوں والے کھیل کھیلنے چاہئے۔ آج مناہل مجھ سے کہنے لگی ماموں آپ بھولے ہیں یا چالاک؟

تین موٹی لڑکیاں

بتاریخ: 19 جنوری 2008

دن ہو کہ رات ہماری گلی میں جیسے ہی کوئی گاڑی آکر رکتی ہے ویسے ہی پہلی منزل کی گیلیری پر تین موٹی لڑکیاں نمودار ہوتی ہیں۔ گرچہ ہم سب بہن بھائی اسی محلے میں پیدا اور بڑے ہوئے تاہم ہمیں آج تک ان تین موٹی لڑکیوں کا نام معلوم نہیں۔ ان کے والد اور بھائیوں کے نام معلوم ہیں، ان کی دادی کا نام بھی جو کہ ہماری بلڈنگ میں نذر و نیاز کی حلیم، بریانی اور شربت وغیرہ بانٹنے اور موقع با موقع قرآن خوانی کرنے کے لئے مشہور تھیں۔ ہم گھر میں ان تین موٹی لڑکیوں کا ذکر آپی کی پوتیاں کہہ کر کرتے ہیں، کوئی انہیں چاند والے کہتا ہے۔ ان کے بڑے چاچا کا نام چاند ہے۔

عجیب بات یہ ہے کہ یہ تین لڑکیاں جنہیں بلڈنگ میں اکثر لوگ بالکل نہیں جانتے، بلڈنگ میں آنے جانیوالے ہر شخص کے بارے میں فکرمند رہتی ہیں۔ ان کی نگاہوں کا خصوصی نشانہ دوسری لڑکیاں اور خواتین ہوتی ہیں۔ نہ صرف گھور گھور کر دیکھتی ہیں۔ بلکہ جب آنیوالیاں بلڈنگ میں داخل ہوجاتی ہیں اور گیلیری سے دکھائی نہیں پڑتیں تو وہ بہنیں بھاگی بھاگی کاریڈور کی کھڑکی پر آجاتی ہیں۔ یہاں سے زینے دکھائی دیتے ہیں اور وہ بآسانی دیکھ سکتی ہیں۔ ان کی گیلیری اور کھڑکیوں پر پردے پڑے رہتے ہیں۔ اب ذرا سوچیں اگر آپ گھر پہنچیں اور دیکھیں بلڈنگ کی پہلی منزل سے تین لڑکیاں پردوں میں سے منہ نکالے آپ کو دیکھ رہی ہوں اور پھر وہ آپ کو دیکھنے کو بھاگی بھاگی کاریڈور میں بھی آجائیں تو آپ کو کیسا لگے گا؟ چند ایک بار تو آپ شاید توجہ نہ دیں لیکن اگر مہینوں اور سالوں یہ سلسلہ چلے گا تو آپ کیا محسوس کریں گے؟ میری بہن عینی کے شوہر اعجاز بھائی ان تین لڑکیوں سے بہت شاکی رہتے ہیں۔ انہیں بہت عجیب لگتا ہے کہ اگر وہ کبھی اپنے بیوی بچوں کو چھوڑنے یا لینے آئیں تو ان کی گاڑی کے ہارن پر وہ تینوں بہنیں ان کی بیوی سے پہلے نمودار ہوجاتی ہیں اور ان کے لوٹنے تک وہیں کھڑی رہتی ہیں۔ اعجاز بھائی سے بھی زیادہ چوتھی منزل پر رہنے والی پشاوری فیملی ان لڑکیوں سے شاکی ہے۔ ان کی فیملی میں چونکہ سب لڑکیاں گاڑی چلاتی ہیں، اسکول کالج اور یونیورسٹیوں میں پڑھتی ہیں، اور گھر کے چھوٹے موٹے کاموں کے لئے باہر نکلنے میں عار نہیں سمجھتیں۔ اسلئیے ان بیچاریوں کو اکثر ان موٹی لڑکیوں کی تحقیقاتی نگاہوں کا سامنا رہتا ہے۔

مجھے سمجھ نہیں آتا کہ وہ ایسا کیوں کرتی ہیں۔ وہ خود بڑی شریف ہیں، کردار کی بھی اچھی ہیں اور غالبا پڑھی لکھی بھی ہیں۔ عینی کا خیال ہے کہ گھروں میں گھٹ گھٹ کر جینے والی لڑکیاں ایسی ہی ہوجاتی ہیں۔ موٹی اور بدنما، احساس کمتری کی ماری، چھپ چھپ کر لوگوں کو دیکھنے والی، پھر ان پر گوسپس کرنے والی۔ وہ کہتی ہے کہ چونکہ ان لڑکیوں کی شادیوں میں بہت تاخیر ہورہی ہے تو ہوسکتا ہے یہ حرکت ان کی اس فرسٹریشن کا بھی نتیجہ ہو۔ لیکن چاہے جو بھی ہو، عینی کے خیال میں یہ امر حیرت انگیز ہے کہ وہ دیر رات کو آنیوالے گاڑیوں کی آہٹ سنتے ہی فورا کیسے گیلیری میں آدھمکتی ہیں؟ کیا وہ تمام رات آنے جانے والوں کے قدموں کی چاپ پر کان لگائے رکھتی ہیں؟ کیا وہ چھپ چھپ کر لوگوں کی باتیں بھی سنتی ہیں؟ اور سب سے زیادہ تجسس کی بات یہ ہے کہ وہ لوگوں کو دیکھ کر آپس میں کیا تبصرے کرتی ہیں اور اس سے وہ کس طرح لطف اندوز ہوتی ہیں؟

ایسا نہیں کہ بلڈنگ میں صرف وہی متجسس ہیں، درحقیقت ہماری بلڈنگ میں کافی سارے لوگ اور بھی ہیں جو ان سے کہیں زیادہ متجسس رہتے ہیں۔ لیکن وہ اپنے تجسس کو اسرار کے پردوں میں چھپا کر نہیں رکھتے۔ جیسے ہمارے پڑوس میں رہنی والی براق کی امی۔ ہمارے گھر کے دروازے پر دستک ہو تو ہم سے پہلے براق کی امی اپنے دروازے سے نمودار ہوتی ہیں۔ اگر آنیوالا کوئی انجان شخص ہے جسے وہ نہیں جانتیں تو اپنے گیٹ پر کھڑی رہتی ہیں تاوقتیکہ ہمارے گھر سے کوئی دروازہ کھولے اور انہیں اس بات کا اندازہ ہوجائے کہ آنیوالا کون ہے۔ چونکہ وہ میری امی کی دوست بھی ہیں اس لئے بالفرض اگر وہ اس وقت اندازہ نہ لگاسکیں تو امی سے ملاقات ہونے پر دریافت کرلیتی ہیں۔ ماسی، پانی کے کین والے، گھر گھر سامان بیچنے والی سیلزگرلز، پوسٹ مین، کورئیر والے، یہ لوگ تو ان کے سوالات سے بھی نہیں بچ پاتے۔ پہلے تو وہ اکثر ہماری ڈاک اور بلز بھی وصول کرلیتی تھیں لیکن جب ہم نے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تو انہوں نے یہ عادت ترک کردی۔

براق کی امی کے علاوہ ایک اور کردار جناب نواب سلطان صاحب کا بھی ہے۔ وہ صرف نام کے نواب ہیں، ماں باپ نے غالبا لاڈ میں ان کا نام نواب رکھ دیا تھا جسے موصوف نے کچھ زیادہ ہی سیریسلی لے لیا۔ ان کا یہ معمول تھا کہ سویرے ہی وہ فجر کی نماز کے بعد گلی میں ایک تخت پر براجمان ہوجاتے اور آنے جانیوالی خواتین اور لڑکیوں کو گھورتے۔ بلڈنگ میں رہنے والی خواتین تو کیا پورے محلے کی خواتین ان کی مشکوک، متجسس، اور اوباش نگاہوں سے پریشان تھیں۔ وہ خود پوتے پوتیوں والے ہیں مگر بس عادت سے مجبور تھے۔ اب کچھ عرصہ ہوا ان کا تخت جس دکان کے سامنے رکھا رہتا تھا وہ دکان کھل گئی ہے اور دکان دار نے صدر ٹاؤن کے تجاوزات ہٹانے والوں کو فون کرکے ان کا تخت اٹھوادیا۔ بس تب سے ہی وہ علیل ہیں اور اپنے گھر میں بستر سے لگے ہیں۔ اس ڈویولپمنٹ پر محلے کی خواتین نے سکھ کا سانس لیا ہے۔

پروین آنٹی ہماری بلڈنگ کی ایک اور سماجی کارکن ہیں۔ پروین آنٹی کے ذمے پورے بلڈنگ کی خواتین کے حسن و آرائش کے اہتمام میں مدد کرنا شامل ہے۔ وہ ایک باقاعدہ ٹرینڈ بیوٹیشن ہیں۔ اور بلڈنگ کی تمام خواتین کی بھنویں تراشنے، فیشل، اور بلیچ کرنے اور پارٹی میک اپ کرنے کا کام مناسب نرخوں پر انجام دیتی ہیں۔ یوں بلڈنگ کے تقریبا ہر گھر میں ان کا آنا جانا ہے اور سب ہی سے ان کی اچھی علیک سلیک ہے۔ گرچہ ہم انہیں پروین آنٹی کہتے ہیں مگر وہ مجھ سے کوئی چار چھ سال ہی بڑی ہیں۔ جلد ہی وہ ہمارے محلے میں دکان کرائے پر لیکر اپنا خود کا بیوٹی پارلر کھولنے والی ہیں۔ پروین آنٹی سب کے کام آتی ہیں، بلڈنگ میں رہنے والے کسی بھی شخص کے بارے میں کوئی بھی معلومات حاصل کرنا ہو تو پروین آنٹی سے رابطہ کریں۔ لیکن ان کی خوبی یہ ہے کہ وہ کسی کی برائی بیان نہیں کرتیں۔ شاید ایسا اسلئے ہے کیونکہ وہ گھر میں گھٹ گھٹ کر جینے والی لڑکی نہیں ہیں۔ وہ باہر نکل کر تگ و دو کرنے والے بہادر خاتون ہیں۔ تو کیا بزدل لوگ پردوں کے پیچھے سے چھپ چھپ کر لوگوں کی جاسوسی کرتے ہیں؟ اگر ان تین لڑکیوں کو اتنا ہی تجسس ہے تو وہ آنے جانیوالے والوں سے راہ و رسم کیوں نہیں پیدا کرتیں اور ان سے ہی پوچھ کیوں نہیں لیتیں کہ وہ کہاں سے آرہے ہیں؟ شاید وہ ایسا اس لئے نہ کرتی ہوں کہ انہوں نے بلڈنگ میں رہنے والوں کے بارے میں اپنی خود کی ایک خیالی دنیا بنا رکھی ہے۔ اور وہ ڈرتی ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی خیالی دنیا بکھر جائے اور وہ لوگوں کو دیکھ کر ان کے بارے کہانیاں گھڑنے کے لطف سے بھی محروم نہ ہوجائیں۔

NA 250 Karachi - حلقہ این اے دو سو پچاس کراچی

بتاریخ: 20 دسمبر 2007

ہمارے علاقے میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ لیکن جماعت اسلامی کے بائیکاٹ کے باعث ایسا لگ رہا ہے جیسے ایم کیو ایم اکیلی الیکشن لڑ رہی ہے۔ پیپلز پارٹی نے جناب مرزا اختیار بیگ کو اس حلقے سے قومی اسمبلی کے لئے نامزد کیا ہے لیکن ان کا جیتنا تو درکنار ایسا لگتا ہے کہ وہ کوئی قابل ذکر ووٹ بھی حاصل نہیں کرپائیں گے۔ جماعت اسلامی کے بائیکاٹ کے سبب ایم کیو ایم کی فتح یقینی ہوچکی ہے۔ قومی اسمبلی کے پچھلے عام انتخابات میں ایم کیو ایم کی نائب کنوینر نسرین جلیل کو جماعت اسلامی کے عبدالستار افغانی کے ہاتھوں شکست کھانی پڑی تھی۔ اس کے بعد افغانی صاحب کے انتقال کے سبب منعقد ہونے والے ضمنی انتخاب میں ایم کیو ایم کے اخلاق حسین کو کامیابی حاصل ہوئی جس کی وجہ بلدیاتی حکومت کی تمام تر مشینری، مہنگی انتخابی مہم اور جماعت اسلامی کی عدم دلچسپی تھی۔ اب ایک بار پھر ایم کیو ایم نے اس حلقے سے ایک خاتون امیدوار کو نامزد کیا ہے۔

خوش بخت شجاعت ایک معروف ٹی وی کمپیئر، نعت خواں، ایک مہنگے پرائیویٹ اسکول کی بانی و ڈائریکٹر، آرٹس کونسل کی ایک فعال رکن اور نائب صدر رہی ہیں۔ ایم کیو ایم کے دیگر نامزد امیدواران کے برعکس شجاعت صاحبہ پہلے سے معروف ہیں۔ وہ اسی سال فروری میں پارٹی میں شامل ہوئی ہیں اور تب سے وہ پارٹی کے تمام جلسوں میں شرکت کرتی رہی ہیں۔ ان کے شوہر جناب شجاعت علی بیگ سندھ کے نگران وزیر تعلیم اور ایک معروف کاروباری شخصیت ہیں۔ ایم کیو ایم نے دوسری بار اس حلقے سے ایک خاتون کو نامزد کیا ہے جس کی وجہ غالبا ڈیفنس اور کلفٹن کے ووٹ ہیں۔

پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ پچھلے عام انتخابات میں بھی پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر نامزد ہوئے تھے۔ وہ ایک معروف صنعتکار ہیں اور پچھلے دنوں ایمرجنسی کے خلاف جلوس میں گرفتار بھی ہوچکے ہیں۔ بینکنگ اور فنانس کے شعبوں میں خدمات پر وہ صدر پرویز مشرف سے گولڈ میڈل بھی حاصل کرچکے ہیں۔ پچھلے ضمنی انتخابات میں جب پیپلز پارٹی کے نفیس صدیقی اس نشست پر انتخاب لڑرہے تھے تو انہوں نے دھاندلی اور تشدد کی شکایات درج کرائی تھی۔ مرزا اختیار بیگ پہلے ہی چند پولنگ اسٹیشنز کو دھاندلی اور پرتشدد واقعات کے انسداد کے لئے حساس قرار دئیے جانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

میری والدہ کا ووٹ تو ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ کو ہی ملے گا۔ کامران کا ووٹ خوش بخت شجاعت کو۔ میرے والد یا تو ووٹ نہیں ڈالیں گے یا پھر مرزا اختیار بیگ کو صرف ایم کیو ایم مخالفت پر ووٹ دیں گے۔ میں کنفیوزڈ ہوں، کیوں کہ میرے خیال میں دونوں امیدواران کو علاقے کے مسائل کا کوئی خاص علم نہیں۔ لیکن دونوں ہی امیدوار مسئلے سلجھانے کی لیاقت رکھتے ہیں۔ دونوں ہی کا تعلیمی کیرئیر شاندار رہا ہے۔ دونوں ہی اپنا کام دلچسپی، جانفشانی اور محنت سے کرتے ہیں۔ خوش بخت شجاعت اس لحاظ سے بہتر امیدوار ہیں کہ وہ اس حلقے میں کئی ایسے کام کراسکتی ہیں جو پہلے نہیں ہوئے۔ جیسے ایک سرکاری ہسپتال کی تعمیر، آرٹس کونسل اور قومی میوزیم کو فنڈز کی فراہمی، شہری کی علمی، ادبی اور ثقافتی زندگی کی ترقی اور ترویج کے اقدامات۔ خوش بخت سے ہم یہ امید کرسکتے ہیں کہ وہ خواتین کے حقوق، ان کے خلاف امتیازی قوانین، اور ان کے مسائل کو زیادہ بہتر انداز میں اجاگر کرسکیں گی۔ گرچہ میں ایم کیو ایم کو ووٹ نہیں دینا چاہتا مگر اب میرے لئے فیصلہ کرنا مشکل ہورہا ہے۔ ایک اچھے امیدوار کو ووٹ دیں یا ایم کیو ایم کو سزا دینے کے لئے مرزا اختیار بیگ کو ووٹ دیں؟ میرے خیال میں کراچی کے تمام حلقوں میں جہاں جماعت اسلامی کا اثر ہے وہاں ووٹر کو اسی شش و پنج کا سامنا کرنا ہوگا۔ یا تو وہ اپنا حق رائے دہی استعمال نہ کریں، جو کہ ایک بڑا اخلاقی جرم اور قومی فرض سے تغافل ہے۔ یا پھر ایم کیو ایم کو روکنے کے لئے پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ دیں۔

میرا نیا کمپیوٹر

بتاریخ: 13 دسمبر 2007

کامران اور عازب کو گھر پر اپنے استعمال کے لئے کمپیوٹر درکار تھا۔ اور جیسا کہ آپ جانتے ہی ہیں (نہیں تو اب جان لیں) کہ میں بڑا مادہ پرست اور لالچی قسم کا انسان ہوں۔ تو میں نے سوچا کہ انہیں اپنا پرانا کمپیوٹر دے کر خود نیا خرید لوں۔ میرا کمپیوٹر پینٹیم تھری آٹھ سو کچھ میگاہرٹز کی رفتار کے ساتھ، دو سو چھپن ایم بی کی ریم اور چالیس جی بی کی ہارڈ ڈسک پر چل رہا تھا۔ اور یہ ہارڈویر میری ضروریات کے لئے بہت مناسب ہے۔ لیکن جب موقع خود آپ کے در پر دستک دے تو اسے لوٹادینا کہاں کی دانشمندی ہے۔ تو جناب۔۔۔

سب سے پہلے تو میں پہنچا وائرڈ پاکستان کے فورم پر وہاں اپنی ضروریات اور کمپیوٹر ہارڈویر کی معلومات نہ ہونے کا ذکر کیا۔ فورم کے ممبران نے جوابا نہ صرف قیمتیں بتائیں بلکہ آئیڈیل ہارڈویر کنفگریشنز بھی لکھ ڈالیں۔ پھر میں نے کراچی کی آنلائن کمپیوٹر دکانوں کو کھنگالا اور ان پر مطلوبہ ہارڈویر کی معلومات اکٹھی کی۔ اگلے دن ہمت باندھ کر یونی پلازہ پہنچا جو کراچی میں کمپیوٹر ہارڈویر کا اہم مرکز ہے۔ دو چار دکانوں سے کیوٹس لینے کے بعد میں گیلیکسی کمپیوٹرز کی دکان پر پہنچا۔ ان کے فرینڈلی اسٹاف نے مجھے جو پرائس کیوٹ کی وہ دیگر دکانوں سے پانچ ہزار روپے کم تھی۔ ایسا نہیں کہ انہوں نے مجھے ڈسکاؤنٹ دیا بلکہ ان کے اسٹاف نے دلجمعی کے ساتھ میری بات سنی اور مجھے ہارڈویر چننے میں مدد کی۔ جیسے جو گرافک کارڈ میں خریدنا چاہ رہا تھا وہ گیارہ ہزار روپے کا تھا انہوں نے مجھے نو ہزار کا کارڈ آفر کرا۔ جب میں نے انہیں بتایا کہ میں ایل سی ڈی ڈسپلے بھی خریدنا چاہتا ہوں تو سیلزمین نے (جس کا نام پوچھنا میں بھول گیا) مجھے یقین دلایا کہ مجھے علیحدہ گرافک کارڈ خریدنے کی ضرورت نہیں اور اگر میں گرافک کارڈ چھوڑ دوں تو آسانی سے اپنی پسند کا مانیٹر خرید سکتا ہوں۔

اس نئے کمپیوٹر کی اسپیسیفیکیشنز یہ ہیں:

گیلیکسی کمپیوٹرز نے اوور آل سسٹم کی ایک سال کی سپورٹ وارنٹی دی ہے۔ جب کہ مختلف ہارڈویر کی مینوفیکچرر وارنٹیز الگ ہیں۔

گھر آتے ہیں کمپیوٹر پر ابنٹو اور ونڈوز انسٹال کر کے دیکھا۔ کیا بات ہے، آپ سوچ سکتے ہیں آٹھ سو میگاہرٹز سے کور ٹو کافی لمبی چھلانگ ہے اور رفتار اور پرفارمنس ظاہر ہے مجھے حیران کن ہی معلوم ہوگی۔ لیکن بدقسمتی سے دونوں آپریٹنگ سسٹمز نے میرے بلٹ ان لین کارڈ کو لوڈ نہیں کیا۔ پہلے تو خود مسئلہ کو سلجھانے کی کوشش کری لیکن جب اندازہ ہوا کہ مسئلہ شاید بائیوز میں ہے اور مجھے بائیوز اپڈیٹ کرنا ہوگی تو میں نے سوچا کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ حل آزمانے سے بھی مسئلہ حل نہ ہو اور مجھے گلیکسی والوں کے پاس واپس جانے پڑے اور وہ کہیں کہ آپ خود کیوں گھسے آپ کی وارنٹی ووائڈ ہوگئی۔ تو اگلے دن میں پھر یونی پلازہ پہنچا۔ انہوں نے دو منٹ میں یہ مسئلہ حل کردیا اور معذرت کے ساتھ ساتھ چائے بھی پیش کی۔

ابنٹو میرے کمپیوٹر کے تمام ہارڈویر کو بائی ڈیفالٹ پہچان لیتا ہے۔ حتی کہ موڈیم کو بھی۔ جو صاحب بھی مجھ سے پوچھتے تھے کہ وہ لنکس کے لئے کونسا موڈیم خریدیں تو ان کے لئے عرض ہے کہ وہ Genica 56K V.92 Data/Fax PCI Modem بے خوف ہوکر خرید سکتے ہیں۔ اپلیکشنز جیسے گمپ اور اوپن آفس اب تیزی سے کھل رہی ہیں اور چمکدار، دبلا پتلا، نازک سا ایل سی ڈی ڈسپلے میری میز پر رکھا بہت شاندار لگ رہا ہے۔ اب بس میں جلدی سے ایک ڈیجیٹل کیمرہ بھی خرید لوں تو آپ کو اپنے نئے کمپیوٹر کی تصاویر دکھاتا ہوں۔

فاضل مصنف

بتاریخ: 24 نومبر 2007

مجھے آپ سب کو یہ بتاتے ہوئے بہت خوشی محسوس ہورہی ہے، کہ اب میں صرف بلاگر یا مضمون نگار نہیں رہا بلکہ باقاعدہ ایوارڈ یافتہ مصنف ہوگیا ہوں۔ میری لکھی ہوئی کتاب “دادی جان مصر میں” کو نیشنل بک فاؤنڈیشن نے تیرہ سے سولہ سال کی عمر کے بچوں کے لئے لکھی کتابوں میں پہلا انعام دیا ہے۔

سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے قطعا اس بات کا یقین نہیں آرہا۔ میں نے یہ کتاب بہت جلدی میں لکھی تھی اور جو مسودہ مقابلے میں بھجوایا تھا میں اس سے بالکل مطمئین نہیں تھا۔ جب میں فاؤنڈیشن کی دعوت پر اسلام آباد ان کے کنونشن میں شرکت کے لئے گیا تو وہاں میری ملاقات ایسے کئی لوگوں سے ہوئی جو مقابلے میں شرکت کررہے تھے۔ کوئی کسی کالج میں لیکچرار تھا، کوئی پروفیسر۔ملک کی معروف جامعات کے کئی ہونہار طالبعلم تھے اور کئی سکہ بند صحافی۔ سکھر سے آئے ایک نوجوان کا ادھورا مسودا دیکھا تو میں سمجھ گیا کہ اس مقابلے میں سب سے نااہل اور ناپختہ لکھاری میں ہی ہوں۔ اوپر سے این بی ایف کی شرائط کہ ہمارا نصاب پڑھیں اور کوشش کریں کہ اس میں موجود موضوعات آپ کی کتاب میں شامل ہوں۔ سب سے بڑی بات ججوں کا پینل جس میں بقول فاؤنڈیشن کئی ماہرین تعلیم، ادیب اور اساتذہ شامل تھے۔

لیکن جو جیتا وہی سکندر، چاہے درحقیقت وہ بندر ہی ہو۔ اب آپ کا بندر تیس نومبر سے چار دسمبر تک کراچی انٹرنیشنل بک فئیر میں نیشنل بک فاؤنڈیشن کے اسٹال پر اپنی کتاب کے ساتھ براجمان ہوگا۔ آئیے، بچوں کو بھی لائیے اور میری کتاب یا کرتب جو زیادہ دلچسپ معلوم ہوں ان سے محظوظ ہوں۔

سب سے زیادہ اور سب سے پہلے میں مشکور ہوں اپنی والدہ کا انہیں ہمیشہ سے یہ یقین رہا ہے کہ میں ہر کام بہت اچھے طریقے سے کرسکتا ہوں۔ اور جو کام میں اچھے طریقے سے کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا وہ کوشش کرتی ہیں کہ میری حوصلہ افزائی کرتی رہیں۔ اس کے بعد میرے بھائی عازب کا شکریہ کہ اس نے بہت مفید مشورے فراہم کرے، میرے انتہائی بورنگ مسودے کو بیسیوں بار پڑھا اور ہر بار پہلے سے زیادہ بے مزہ پایا مگر پھر بھی وہ ہر بار انتی ہی باریکی سے پڑھتا اور ہر بار خامیوں کی نشاندہی کرتا۔

اس کے بعد بہت بہت شکریہ راحیل کا جو دنیا کا سب سے اچھا ایڈیٹر ہے۔ آئی لو یو بیری مچ راحیل تم دنیا کے سب سے بہترین استاد ہو۔ بہت بہت شکریہ میرے دوست اور بلاگر بھائی بند، جناب شاکر عبدالعزیز، محب علوی، شاہ فیصل، جناب سلیمان قاضی صاحب، اور دیگر کئی حضرات کا جنہوں نے کتاب کے ابتدائی مسودے کا معائنہ کیا اور میری حوصلہ افزائی کی۔

براق کی واپسی

بتاریخ: 11 نومبر 2007

براق کی واپسی

ایمرجنسی کے بعد پولیس والے ہمارے پڑوس میں سے ایک انیس بیس سالہ لڑکے براق کو پکڑ کر لے گئے تھے۔ براق اسلامی جمعیت طلبا کا کارکن تھا اور ایس ایم آرٹس کالج میں جمعیت کا اہم عہدیدار تھا۔ براق کے اچھے کردار اور عمدہ اخلاق کی گواہی محلے کا بچہ بچہ دے گا۔ ہمیشہ نیچی نظریں رکھنے والا۔ وہ ادھر ادھر گھومتا نظر نہیں آتا تھا۔ مسجد سے جماعت اسلامی کے دفتر، کالج یا گھر۔ مجھے وہ اکثر مسجد میں یا گھر آتے جاتے ملتا تھا۔ ہمیشہ سلام میں پہل کرتا۔

چار دن تک اسے حراست میں رکھا گیا اور پھر متحدہ قومی موومنٹ کے چند ناظمین کی شخصی ضمانت پر کہ وہ کسی جلسے جلوس میں شامل نہیں ہوگا، آج رہا ہوا ہے۔ وہ بھی اس کی والدہ کی وجہ سے جنہیں یہ ڈر تھا کہ کہیں ان کا بیٹا غائب نہ کردیا جائے۔ ہماری ہی بلڈنگ میں جماعت اسلامی کے چند اور کارکن بھی رہتے ہیں جن میں سے ایک تو ایمرجنسی کے اعلان کے تھوڑی ہی دیر بعد روپوش ہوگئے۔ ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے ہمارے ایک رشتے دار نے براق اور روپوش ہونے والے کارکنان کو پہلے ہی بتادیا تھا کہ انہیں حراست میں لے لیا جائے گا اس لئے وہ لوگ اپنے گھر چھوڑ دیں۔ ایم کیو ایم کے چند سینئر کارکن اس بات پر سخت ناراض اور مایوس ہیں کہ ایم کیو ایم آمر کے ساتھ کھڑی ہے۔

براق کو میں نے ہمیشہ ایک اچھا لڑکا مانا ہے اور اپنے بھائیوں کو اس کی مثال دی ہے۔ مگر بحالی جمہوریت کی اس تحریک میں گرفتار ہونے پر میری نظر میں اس کا مقام اور بڑھ گیا ہے۔

10/27/2007

karachi lights night full moon

ستائیس اور اٹھائیس اکتوبر کی درمیانی رات، یعنی کل، کراچی کے لوگوں نے ایک انتہائی سحر انگیز منظر کا مشاہدہ کیا۔ میں کل شام جب باہر نکلا ہوں تو سامنے ایک بڑا سا چاند آسمان پر دمک رہا تھا۔ میں نے اپنی زندگی میں اتنا حسین منظر نہیں دیکھا تھا۔ یہ چاند تصویر میں اتنا بڑا نظر نہیں آرہا۔ لیکن حقیقت میں بہت ہی زیادہ بڑا اور بہت ہی چمکدار معلوم ہورہا تھا۔ اور شہر کی روشنیوں کے باوجود اس کی روشنی باقاعدہ محسوس ہورہی تھی۔ مغرب کے کچھ دیر بعد اس کی روشنی کچھ گلابی سی تھی پھر، تھوڑی زردی مائل ہوئی اور رات گہری ہونے تک تو بس نہ پوچھیں۔ میرے پاس اگر میرا کیمرہ فون ہی ہوتا تو کچھ تصاویر میں بھی لے لیتا۔ ویسے میرے دفتر اور گھر کی کھڑکیوں سے چاند کا نظارہ بہت ہی حسین نظر آتا ہے۔ میں پہلے بھی ایک تصویر ایسی پوسٹ کرچکا ہوں۔ خیر یہ تصویر آج کے جنگ (کراچی) کے صفحہ اول پر شائع ہوئی ہے اور فوٹوگرافر ہیں جناب شعیب احمد۔

سر راہ لٹنے کا قصہ

بتاریخ: 11 اکتوبر 2007

آپ کے بھائی کے پیچھے شہر بھر کے غنڈے پڑ گئے ہیں۔ دکان پر ہونے والی ڈکیتی میں تو ہم احتیاط پسندی کے سبب بچ گئے لیکن آج جو کاروائی ہوئی ہے تو کئی دن تک کوفت رہے گی۔ گرچہ مالی نقصان تو کوئی زیادہ نہیں ہوا۔ تاہم بدقسمتی سے آج میرے والٹ میں میرے تمام کریڈٹ کارڈ، ڈیبٹ کارڈ،سی این آئ سی کارڈ، میری وارد پوسٹ پیڈ کی سم پڑی ہوئی تھی۔ نقد رقم تو کوئی چار چھ سو روپے ہی تھی۔ اس کے علاوہ میرا چہیتا موبائل فون بھی چھن گیا۔ یہ وہی موبائل فون ہے جس سے میں تصویریں کھینچ کھینچ کر پوسٹ کرتا تھا۔ اس میں کئی دلچسپ تصاویر تھیں چند ایک قیمتی ویڈیوز بھی تھے جو مجھے بہت عزیز تھے۔

میرے فون میں جتنے بھی نمبر تھے ان کے کھونے کا بھی بہت افسوس ہے۔ وہ تو شکر ہے کہ میں اپنے کمپیوٹر پر تمام کنٹیکٹس کا بیک اپ رکھتا ہوں۔ لیکن چند نئے نمبر اس بیک اپ میں موجود نہیں۔

ساری کوفت اس بات کی ہے کہ پورے ڈیڑھ گھنٹے تک میں اپنے بینک کو اور جن بینکوں سے میں نے کریڈٹ کارڈ لے رکھے ہیں انہیں فون کر کے اپنے کارڈز بلاک کرواتا رہا۔ اپنی ٹیلی نار کی لائن بند کروائی، وارد کی سم بلاک کروائی۔ سی پی ایل سی کے ویب بیسڈ کمپلین سینٹر پر اپنے فون کی چوری کی اطلاع کی۔ جس تھانے کے علاقے میں واردات ہوئی انہیں فون کیا۔ جناب محرر صاحب کے خلوص اور اچھے اخلاق سے بہت متاثر ہوا انہوں نے مجھے آج بلوایا ہے تاکہ میں جائے واردات کی نشاندہی کرسکوں۔ اب نادرا والوں کو کارڈ کی چوری اور نئے کارڈ کے اجراء کی عرضی پیش کرنی ہے۔ کل بینک بھی جانا ہے تاکہ عید کے لئے نقد رقم نکلوا سکوں۔

عید کی خریداریاں

بتاریخ: 08 اکتوبر 2007

میرے ایک نئے دوست جناب راشد صاحب کی بدولت مجھے عید سے چند دن پہلے شہر بھر کی مارکیٹوں میں گھومنے کا موقع ملا۔ دراصل راشد صاحب عروسی ملبوسات کی ایک معروف بوتیک میں ملازم ہیں۔ عید کے فورا بعد ہونے والی شادیوں کی وجہ سے ان پاس بے تحاشہ آرڈر ہیں۔ راشد صاحب ایک اچھے سیلز مین کی طرح اپنے گاہگوں کی ضروریات اور مفادات کا بے حد خیال رکھتے ہیں۔ اسلئے انہیں ڈر ہے کہ عید کے اضافی کام کی وجہ سے ان کے کارخاندار اور کاریگر کہیں ان کے کام آگے نہ کردیں اسلئے وہ خود ہر جگہ پیش پیش رہ کر کام نمٹا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ مجھے اپنے ساتھ طارق روڈ، بہادرآباد اور کریم آباد کے مینا بازار لے گئے۔

میں قطعا ان لڑکوں میں سے نہیں ہوں جو عید سے پہلے بازاروں میں گھومتے ہیں۔ بلکہ مجھے تو بھیڑ والی جگہوں پر متلی اور چکر کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ گرمی اور پسینہ تو مجھ سے بالکل برداشت نہیں ہوتا اور گاڑیوں کا دھواں میری جلد اور بالوں کی صحت کے لئے سخت نقصان دہ ہے۔ لیکن ڈالمین سے اپنے لئے کچھ کپڑے خریدنا تھے اور جوتے پہننا تھے تو راشد کے ساتھ ہولیا۔ ویسے تو ہمارے گھر میں سب عید کی تیاری کافی پہلے سے کررکھتے ہیں۔ میری امی نے ہم تینوں بھائیوں کے لئے ایک جیسے لیکن مختلف رنگوں کے کاٹن کے کرتے سلو ارکھے ہیں۔ میں شلوار قمیض، کرتا پاجامہ کم ہی پہنتا ہوں بس عید ایسے مواقع پر۔ حالانکہ کرتا پاجامہ مجھ پر خوب جچتے ہیں۔ میرے دونوں بھائیوں کو یہ شکوہ رہتا ہے کہ امی سب سے اچھے کپڑے میرے لئے سلوادیتی ہیں۔ عازب کے روز طارق روڈ کے چکر لگ رہے ہیں، وہ اور اس کے دوست کسی بھی ایک دوست کی گاڑی میں بھر کر ہر روز طارق روڈ پہنچ جاتے ہیں اور جان بوجھ کر پوری خریداری نہیں کرتے تاکہ اگلے روز آنے کا بہانہ رہے۔ کامران بھی چاند رات کو ہی جوتے خریدنے جائے گا۔ حالانکہ اصل عید تو اس کی ہے کیونکہ ایک تو اس کے روزے بھی پورے جاتے ہیں بلکہ پورے رمضان وہ کوئی نماز نہیں چھوڑتا۔ دو چار قرآن ختم کرتا ہے اور پورے اہتمام سے روزے رکھتا ہے۔

رمضان بھر کی تیاری کے باوجود بھی آخر وقت تک کچھ نہ کچھ یاد آتا ہی رہتا ہے۔ میری والدہ کل شام کو پارلر گئیں تو تقریبا بارہ بجے رات کو لوٹیں۔ کل راشد کے ساتھ میں پہلے اپنے بال کٹوانے، اسٹریکنگ کروانے اور فیشل مساج وغیرہ کے لئے گیا۔ ہم شام کو ساڑھے سات بجے ویلا بہادرآباد میں داخل ہوئے تو رات ساڑھے گیارہ بجے وہاں سے نکلے ہیں۔ ہم سمجھ رہے تھے کہ ہم ہی ہوشیار ہیں جو چاند رات سے پہلے ہی سب کام کرلیں گے۔ وہاں پہنچ کر پتہ لگا کہ اس شہر میں سبھی ڈیڑھ ہوشیار ہیں۔ (کراچی کی زبان میں ڈیڑھ ہوشیار اوور اسمارٹ ہونے کو کہا جاتا ہے)۔

شہر بھر کے بازاروں میں اسقدر رش ہے کہ کہیں تل دھرنے کو جگہ نہیں۔ خواتین، بچوں اور ان خواتین اور بچوں کے ساتھ ان کے شوہر اور والد۔ اور نوجوان لڑکے لڑکیاں، ٹولوں اور غولوں کی شکل میں ہر جگہ بھرے پڑے ہیں۔ سمجھ نہیں آتا اگر اسقدر مہنگائی ہے تو یہ لوگ خریداری کیسے کررہے ہیں۔ بقول راشد سب کریڈٹ کارڈ کا کرشمہ ہے۔ ہر جگہ پارکنگ کی اتنی پریشانی ہے کہ اگر آپ کو طارق روڈ پر خریداری کرنی ہے تو پی سی ایچ ایس کی اندورنی گلیوں یا پھر بہادرآباد کر پرلے سرے گاڑی کھڑی کرکے آئیں۔ آئسکریم، بن کباب، رول، تکہ کباب وغیرہ کھانے کے لئے تو کہیں رکئے گا بھی نہیں۔ دکاندار بھی نک چڑھے ہوگئے ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے مچھلی بازار ہو۔

چھوٹے بچوں کی دکانوں پر خصوصا زیادہ بھیڑ ہے۔ ایک دکاندار نے جو راشد کے دوست ہیں بتایا کہ انہوں نے اتنی زبردست سیل پچھلے پانچ سال میں نہیں کی۔ ان کی دکان پر بچوں کے کپڑے، جوتے، گھڑیاں، چشمے اور جرابیں سب دستیاب ہیں اور ان کے پاس ابھی سے اسٹاک ختم ہونے لگا ہے اور وہ پرانی ورائٹی آگے سے مہنگے داموں اٹھا کر کام چلا رہے ہیں۔

چھوٹی چھوٹی بچیاں اپنی امی سے ضد کرکے اپنے لئے جیولری اور مرمیڈ ڈریسز خرید رہی ہیں۔ چھوٹی چھوٹی ننھی پریاں سب فکرات سے بے نیاز بے حد ایکسائٹڈ ہیں کہ عید آئے گی تو وہ اپنے نئے کپڑے پہنیں گی، مہندی لگائیں گی اور چوڑیاں پہن کر سب سے عیدی وصول کریں گی۔ چھوٹے لڑکے بھی اپنے ابو جیسے والٹ خریدرہے ہیں۔ ان ننھے والٹس میں وہ اپنی عیدی جمع کریں گے۔ کرتا کارنر والوں نے چھوٹے بچوں کے لئے خصوصا کاٹن کے ننھے کرتے تیار کرے ہیں جن کے ساتھ چوڑی دار اور ہندوستانی پاجامے ہیں۔ ناگرہ یا سلیم شاہی جوتیوں کے ساتھ، یہ کرتے خوب کھلیں گے۔ دوسری طرف چھوٹی بچیاں بھی رنگ برنگی پوشاکیں زیب تن کرے، چھوٹی چھوٹی دوپٹیاں گلے میں ڈالے، گالوں پر گول گول لالی کے ٹپے اور ہونٹوں پر سرخی لگائے شہزادیاں بن جائیں گی۔ روز عید جب یہ ننھے شہزادے شہزادیاں اپنے بڑوں کو عید مبارک کہیں گے تو وہ اتنے نہال ہونگے کہ بھول جائینگے کہ کتنے دھکے کھا کر اور کیسے جتن کرکے عید کی تیاری کی گئی تھی۔

افطار کے ارمان

بتاریخ: 27 ستمبر 2007

ہمارے محلے میں حافظ جی کے نام سے ایک مشہور مٹھائی کی دکان ہے۔ جہاں بناسپتی گھی میں تیار کردہ سموسے، جلیبی اور گلاب جامن فروخت ہوتی ہیں۔ صبح سویرے حلوہ پوری لگتی ہے۔ جب میں موٹا ہوا کرتا تھا تو میرے مٹاپے کا اصل سبب یہی پوریاں تھیں۔آج کل تو ان کے مزے آئے ہوئے ہیں۔ شام چار بجے سے جو سموسے بکنا شروع ہوتے ہیں تو افطار کے بعد تک بھی بھیڑ لگی رہتی ہے۔ ویسے تو میری امی افطار کا سب سامان گھر میں ہی بناتی ہیں۔ لیکن اگر بازار سے کچھ نہ کھائیں تو افطار کا مزہ کیا ہے۔ آج میں نے سوچا کہ سموسے، گلاب جامن اور جلیبی لیتا چلوں۔ روزہ کھلنے میں دس منٹ تھے بھاگم بھاگ مٹھائی والے کے یہاں پہنچا۔ رش تو بہت تھا مگر میں اس گمان میں تھا کہ بچپن سے ان کی دکان سے پوریاں کھائی ہیں ہفتے میں چار چھ بار کبھی مٹھائی لینے، کبھی سموسے لینے جاتا ہوں، مسجد میں، نائی کے یہاں، پنساری کی دکان پر بھی مٹھائی کی دکان والے سارے بھائیوں سے سلام دعا رہتی ہے۔ اس لئے وہ مجھے خصوصی توجہ کا مستحق سمجھیں گے اور سب کو نظر انداز کرکے مجھے سائیڈ میں سامان تھما کر چلتا کریں گے۔

مگر کہاں جناب۔ طوطا چشمی کا ایسا مظاہرہ کہ آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ رہے۔ میں کبھی سلیم بھائی کو آواز لگاؤں تو کبھی نسیم بھائی کو۔ کھٹاکھٹ پیسے کاٹے جارہے ہیں اور فٹافٹ سموسے پارسل کرے جارہے ہیں مگر مجال ہے جو کوئی نعمان کو دیکھ لے۔ خریدار بھی ایک کے اوپر ایک چڑھا جارہا تھا۔ میں اس بھیڑ کو چیر کر آگے بڑھنے کی سوچتا مگر ایک تو آج کی قیامت خیز گرمی نے مجھے نڈھال کررکھا تھا دوسرا اس بھیڑ کو چیر کر کاؤنٹر تک پہنچنا میرے لئے تو کیا کسی چیونٹی کے لئے بھی ناممکن تھا۔ مگر ایک چھوٹا سا بچہ آیا اور پتہ نہیں کیسے وہ سب کو چیرتا چھوٹی سی درزوں سے ہوتا کاؤنٹر تک جا پہنچا اور نسیم بھائی پانچ آلو، سلیم بھائی پانچ آلو کا شور مچادیا۔ اس کی آواز اتنی تیز اور باریک تھی کہ اگر کسی کو کیل ٹھونکنا ہو اور ڈرل مشین نہ ہو تو اس بچے کو دیوار کے سامنے چیخوایا جائے دیوار خود ہی درد سے ریزہ ریزہ ہوجائے گی۔ غالبا گھر والوں نے سکون سے افطار کرنے کے لئے ہی اسے عین افطار کے وقت گھر سے سموسے لینے بھیجا ہے۔ اور لیں جناب مولوی صاحب نے لاؤڈ سپیکر کھڑکھڑادیا۔

“روزہ افطار کریں!” کی صدا گونجی۔

بھیڑ میں اچک اچک کر سموسوں کی تھیلیوں کو لپک لینے کو بے قرار ہاتھ ایک دم سے ڈھے گئے۔ سلیم بھائی نے جلدی سے کھجور کا پیکٹ بھیڑ کی طرف بڑھایا سب نے روزہ افطار کرا۔ ان کا ایک نوکر بھاگ کر شربت کے جگ لا کر گاہگوں کو پلا رہا تھا۔ سلیم بھائی نے میری طرف بھی ایک گلاس بڑھایا اور ایسے بنے جیسے ابھی ہی مجھ پر نظر پڑی ہو۔

“آہا نعمان بھائی، میاں ادھر کدھر کھڑے ہو۔ادھر کو آؤ یار کب سے کھڑے ہو؟” اور اپنے نوکر کی طرف منہ کرکے منہ بولے “ابے تو نے نعمان بھائی کو کھڑا کر رکھا ہے۔ کیا دوں نعمان بھائی بولو”۔ مجھے تو غصہ آرہا تھا۔ لیکن اب کیا ہوسکتا تھا، روزہ تو کھل چکا تھا۔ بجھے دل کے ساتھ سموسے اور جلیبی لیں اور گھر کی طرف چل پڑا۔ لوگ بھاگ بھاگ کر مسجد کی طرف دوڑ رہے تھے اور میں گھر جارہا تھا کہ اپنی من پسند افطار تو کرلوں جس کے ارمان میں مرا جارہا تھا۔

گھر پہنچا تو امی بھی دسترخوان سمیٹ رہی تھیں۔ زبردستی منہ میں سموسے ٹھونسے۔ جلیبی کھائی۔ ڈھیر سارا مزید شربت روح افزاء پیا۔ مگر تسکین نہ ہوئی۔

سبق نمبر ایک: رمضان میں اگر سموسے خریدنے ہوں تو افطار سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے گھر سے نکلیں۔

سبق نمبر دو: افطار کا اصل مزہ صبر اور اطمینان میں ہے سموسے یا جلیبی میں نہیں۔