ابنٹو کا نیا نسخہ ابنٹو 8۔04 ہارڈی ہیرون جاری ہوگیا ہے۔ کل ہی اسے اتارا اور نصب کرا۔ بے چینی کا سبب یہ تھا کہ میں اس کا بیٹا نسخہ استعمال کرچکا تھا۔ اور درحقیقت ابنٹو ہارڈی ہیرون اب تک میں نے جتنے بھی لنکس ڈسٹری بیوشنز استعمال کی ہیں ان میں سب سے بہترین ہے۔ ابنٹو میرے تمام ہارڈویر کو بہت اچھی طرح استعمال کرتا ہے اور اس معاملے میں ونڈوز سے بھی سبقت لے جاتا ہے حالانکہ میرے کمپیوٹر کا تمام ہارڈویر ونڈوز کے لئے ہی تیار کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود ونڈوز ایکس پی میری چپ سیٹ کا بھرپور فائدہ نہیں اٹھاتا۔ جبکہ ابنٹو بائی ڈیفالٹ یہ سب استعمال کرتا ہے۔ میں بیٹا نسخے کے ریویو میں لکھ چکا ہوں کہ ابنٹو کا یہ نسخہ کم از کم میرے کمپیوٹر پر تو ویژول ایفکٹس بائی ڈیفالٹ بحال کردیتا ہے۔ اور یہ نئے ایفکٹس بے حد دل خوش کن ہیں۔
انسٹالیشن انتہائی سادہ اور اور برق رفتار تھی محض پندرہ منٹ میں نئے نسخے کی تنصیب مکمل ہوئی۔ انسٹالیشن کے بعد جب لاگ آن ہوا تو مسئلہ یہ درپیش آیا کہ ابنٹو کے اس تازہ اور بے حد بے چینی سے انتظار کئے گئے نسخے کی ریپوزیٹریز ڈاؤن تھیں۔ جس کی وجہ سرورز پر پڑنے والا بے تحاشا لوڈ تھا۔ اس لئے آج سویرے ریپوزیٹریز اپڈیٹ کریں، اردو سپورٹ نصب کی اور یہ رہا میں آپ کے سامنے۔
ابنٹو کے اس نئے نسخے میں فائر فوکس تین کا بیٹا نسخہ ڈیفالٹ براؤسر ہے۔ مجھے اس کا عادی ہونے میں تھوڑی دشواری ہورہی ہے۔ ایک اور مسئلہ نئے فائر فوکس میں گوگل براؤسر سائنک کا نصب کرنا ہے۔ سنا ہے اس کی کوئی جگاڑ موجود ہے جس سے میں فی الحال نا واقف ہوں۔ براؤسر سائنک پلگ ان میرے لئے یوں ضروری ہے کہ میں گھر پر اور کام پر اپنے براؤسر کی سیٹنگز کو ہم آہنگ رکھنا چاہتا ہوں۔ اس سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ میں دونوں جگہوں سے ایک ہی براؤسر ایک ہی سیٹنگز ، بک مارکس اور پاسورڈز وغیرہ کے ساتھ استعمال کرتا ہوں اور اس وقت کی بہت زیادہ بچت ہوجاتی ہے۔
ابنٹو کا یہ نیا نسخہ تقریبا ہر اس شخص کے لئے تجویز کیا جاتا ہے جو لنکس کو آزمانا چاہتا ہے۔ کام کی جگہوں کے لئے بھی یہ نسخہ بے حد کارآمد ہے کیونکہ یہ تین سال تک سپورٹڈ ہے۔ اگر آپ کسی ایسی آپریٹنگ سسٹم کی تلاش میں ہیں جو آپ کو وائرس سے بہتر بچاؤ دے، جہاں آپ کنفگریشن میں کم سے کم وقت صرف کریں اور کام پر زیادہ سے زیادہ دھیان دے سکیں، اگر آپ ایسا آپریٹنگ سسٹم چاہتے ہیں جہاں سب کچھ مفت ہو اور آپ کو کوئی بھی مسروقہ سوفٹویر استعمال نہ کرنا پڑے، اگر آپ بہتر کمپیوٹنگ صلاحیتیں سیکھنا چاہتے ہیں، اگر آپ ایک آپریٹنگ سسٹم کے ساتھ ایک برادری کے رکن بننا چاہتے ہیں جہاں سب ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ تو بس آپ کی تلاش ختم ہوچکی ہے ابنٹو ہارڈی ہیرون ہی آپ کے تمام سوالات کا جواب ہے۔ آج نصب کریں اور تین سال تک نہ ریفارمٹ کریں، نہ وائرس اسکینر چلائیں، نہ اسپائی ویر اور ٹروجنز کی فکر کریں۔ بس مزے کریں۔
ابنٹو حاصل کرنے کا سب سے آسان نسخہ اسے ڈاؤنلوڈ کرنا ہے۔ تاہم اگر آپ انتظار کرسکتے ہیں تو شپ اٹ کے ذریعے مفت سی ڈیز بھی منگوا سکتے ہیں۔
زمرہ جات: آزادی, ابنٹو, کمپیوٹنگ
|

آج میں نے ابنٹو کے آنے والے نسخے ہارڈی ہیرن کا بیٹا نسخہ ڈاؤنلوڈ کرا اور اپنے کمپیوٹر پر نصب کرکے دیکھا۔ میں عموما بیٹا نسخہ جات نصب کرکے نہیں دیکھتا۔ لیکن ابوشامل کی پوسٹ سے مجھے تحریک ملی۔ ہارڈی کی پہلی خوبی تو یہ ہے کہ یہ طویل مدتی معاونت (لانگ ٹرم سپورٹ) نسخہ ہے۔ یعنی اگر اسے اپریل میں اپنے کمپیوٹر میں نصب کریں تو اگلے تین سال تک اس کی ابنٹو معاونت اور سیکیوریٹی اپڈیٹس دستیاب ہوتے رہیں گے۔ اور کبھی کوئی جینئوئن سوفٹویر ریسٹریکشن کا آئیکون آپ کو منہ نہ چڑا سکے گا۔
لیکن ابنٹو کو صرف اسلئے نصب نہ کریں کہ یہ مفت ہے۔ بلکہ درحقیقت ابنٹو بہتر بھی ہے۔ مثال کے طور پر ونڈوز وسٹا ہو یا ایکس پی دونوں میری چپ سیٹ ڈیٹکٹ نہیں کرپاتے اور اس کے لئے مجھے انسٹالیشن کے بعد ونڈوز اپڈیٹ سے ڈرائیور ڈاؤنلوڈ کرنا پڑتے ہیں۔ ابنٹو گٹسی اور ہارڈی دونوں میرے ہارڈویر کو ڈٹیکٹ بھی کرتے ہیں اور مکمل سپورٹ بھی۔ گٹسی پہلے میرے گرافکس کارڈ کا بھرپور فائدہ نہ اٹھاتا تھا لیکن ہارڈی بائی ڈیفالٹ میرے لئے کمپز این ایبل رکھتا ہے اور میں وسٹا جیسے ویژول ایفکٹس کا لطف اٹھا پاتا ہوں۔ کبنٹو جو کہ ابنٹو کا کے ڈی ای والا نسخہ ہے اس میں تو ویژول ایفکٹس اور بھی اعلی و معیاری ہیں۔ ابنٹو کا نیا ورژن۔ لنکس کرنل کا نسبتا نیا نسخہ استعمال کرتا ہے یہ نسخہ خصوصا میرے کمپیوٹر کے لئے اچھا ہے۔ کیونکہ میرا کمپیوٹر کور ٹو ڈیو ہے اس لئے لنکس کے پچھلے نسخہ جات میرے ہارڈ ویر کا بھرپور استعمال نہ کرپاتے تھے۔ اب میرے کمپیوٹر کا تمام ہارڈویر اپنی صلاحیت کے مطابق استعمال ہوتا ہے جس سے ہارڈی نہایت سبک رفتاری سے تمام کام انجام دیتا ہے۔ بوٹ اپ ٹائم اور شٹ ڈاؤن بھی نہایت تیزی سے ہوتا ہے۔
ہارڈی میں ایک اور نئی چیز ہارڈویر ٹیسٹنگ وزارڈ ہے۔ جو آپ کے ہارڈ ویر کو ڈیٹیکٹ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ایک رپورٹ تیار کرتا ہے جو آپ اپنے لانچ پیڈ اکاؤنٹ پر شائع کرسکتے ہیں۔ وہاں سے ابنٹو کمیونٹی کو آپ کے ہارڈویر کی سپورٹ بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور آپ کو فوری طور پر کوئی عارضی جگاڑ بھی بتائی جاسکتی ہے۔
میری طرح اور بھی کئی صارفین ریلیز نوٹس پڑھ کر یہ سمجھے تھے کہ شاید انک اسکیپ بائی ڈیفالٹ نصب ہوگا لیکن ایسا نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے فائنل ریلیز نسخے میں یہ بائی ڈیفالٹ نصب ہو۔
ہارڈی میں گنوم بٹ ٹورنٹ کے بجائے ٹرانسمیشن نصب ہے۔ اور ڈسک برننگ کے لئے براسیرو۔ اس کے علاوہ گنوم کا فائل براؤسر نوٹیلئیس بھی اب زیادہ بہتر طریقے سے کام کرتا ہے۔ اس نسخے میں یوزر اکاؤنٹس اور ان کے اختیارات کے انتظام کو اور بھی بہتر بنادیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سیکیوریٹی کو مزید بہتر بنانے کے لئے ایک کمانڈ لائن سے چلنے والی فائروال بھی نصب شدہ ہے۔
میں زیادہ تر وی ایل سی میڈیا پلئیر استعمال کرتا ہوں۔ میرے خیال میں ابنٹو کو گنوم پر بھی ایمیروک جیسا کوئی اطلاقیہ رکھنا چاہئے۔ ردھم باکس بھی اچھا ہے لیکن عام طور پر موسیقی سننے والے ایمیروک کو پسند کرتے ہیں مگر چونکہ ایمیروک کے ڈی ای کا حصہ ہے تو گنوم پر اسے استعمال کرنے میں زیادہ مزا نہیں آتا۔
یہ پہلا موقع تھا کہ میں فائر فوکس 3 کا بیٹا نسخہ استعمال کررہا تھا۔ فائر فوکس کے اس نسخے میں ابنٹو نے کئی تبدیلیاں کی ہیں، جیسے ڈیفالٹ تھیم بدل دیا گیا ہے، کچھ پلگ ان بائی ڈیفالٹ نصب ہیں، اور کئی چھوٹی موٹی تبدیلیاں ہیں، لیکن فائر فوکس کا یہ نسخہ صحیح معنوں میں ابنٹو میں درست بیٹھتا نظر آتا ہے۔
اردو سپورٹ دستیاب ہے اور اسے این ایبل کرنے کا طریقہ کار وہی ہے جو گٹسی کے لئے تھا۔ ابنٹو کے ہر نسخے میں اردو بہتر سے بہتر نظر آتی ہے۔ اور اب تک میں نے جتنی لنکس ڈسٹریبیوشنز استعمال کی ہیں ان میں سب سے بہتر اردو سپورٹ ابنٹو میں موجود ہے۔ ابنٹو میں اردو فونٹ ونڈوز کے کسی بھی نسخے سے بہتر دکھائی دیتے ہیں۔ اور ابنٹو میں اردو کی تنصیب ونڈوز سے کہیں زیادہ آسان ہے (بشرطیکہ آپ ہدایات پر من و عن عمل کریں)۔
اسکرین شاٹس:


زمرہ جات: ابنٹو, لینکس, کمپیوٹنگ
|
کل میں نے ابنٹو کا نیا ورژن ڈاؤنلوڈ کرا اور اس کی آزمائش کی۔ ابنٹو کا یہ ورژن سات اعشاریہ ایک صفر ہے جس کی عرفیت گٹسی گبن ہے۔ میں کافی عرصے سے ابنٹو استعمال نہیں کررہا تھا بلکہ ڈیبیان استعمال کررہا تھا۔ ابنٹو کی اساس بھی ڈیبیان ہی ہے، لیکن اصل ڈیبیان ابنٹو کے مقابلے میں زیادہ تیزرفتار اور زیادہ آزاد ہے۔ ابنٹو کی انسٹالیشن کا وہی عمومی طریقہ تھا جو پچھلی انسٹالیشنز میں تھا یعنی لائیو سی ڈی کو چلائیں اور پھر انسٹال پر کلک کریں۔ انسٹالیشن میں قریبا آدھا گھنٹا صرف ہوا۔ اس دوران میں نے کچھ موسیقی سنی، تھوڑی براؤسنگ کی، اور چند دوستوں کا احوال پوچھنے کو انہیں ای میل بھیجی۔ انسٹالیشن ویسی ہی سادہ اور آسان تھی۔ تاہم انسٹالیشن کے بعد جب میں پہلی بار لاگ ان ہوا تو ڈسپلے سروسر کی کسی کنفگریشن کی وجہ سے گلابی رنگ کی سادہ اسکرین دکھائی دی جس پر کچھ نہیں تھا۔ لیکن ایکس سرور ژورگ کو ری اسٹارٹ کرنے پر یہ دور ہوگئی۔ اگر آپ میں سے کسی کو یہ مسئلہ درپیش ہو تو CTRL+AL+BACKSPACE کی کلیدیں ساتھ دبا کر ڈسپلے منیجر کو ری اسٹارٹ کرلیں۔
لاگ آن کے بعد وہی سادہ مگر پرکشش ابنٹو میرا منتظر تھا۔ اردو والوں کے لئے اس ابنٹو میں یہ خاص بات ہے کہ پہلے جو آپ کو فائر فوکس میں پینگو کو این ایبل کرنا پڑتا تھا اب وہ نہیں کرنا ہوگا۔ صرف نفیس ویب نسخ انسٹال کریں اور آپ کا براؤسر اردو پڑھنے کو تیار ہے۔ نفیس ویب نسخ سائنپٹک سے ڈاؤنلوڈ کریں ڈیبیان پیکیج کے طور پر نفیس ویب نسخ کا نام ٹی ٹی ایف نفیس ہے۔ اپنے سسٹم کو فوری طور پر اردو لکھنے کو تیار کرنے کے لئے یہ صفحہ دیکھیں۔ اگر آپ کوئی ایسا صفحہ کھولتے ہیں جس پر کوئی فلیش ویڈیو ہو، جیسے یو ٹیوب وغیرہ، تو ابنٹو فائر فوکس آپ کو دستیاب پلگ انز میں جی نیش (یا گنیش) بھی دکھاتا ہے۔ لیکن جی نیش ابھی تک انڈر ڈیولپمنٹ ہے اور قابل اعتبار نہیں تو بہتر ہوگا کہ آپ ایڈوب فلیش پلئر ہی ڈاؤنلوڈ اور انسٹال کریں۔
ابنٹو کا نیا ورژن زیادہ پالشڈ ہے۔ لنکس کرنل کا تازہ ترین ورژن ہے، گنوم کا نیا ورژن ہے، تھری ڈی ڈیسکٹاپ ایفکٹس ہیں۔ بظاہر ابنٹو کے پچھلے ورژن سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔ اوپن سورس سوفٹویر کی دنیا میں چونکہ ڈیولپمنٹ جاری رہتی ہے کوڈ میں کئی تبدیلیاں آجاتی ہیں، چند سوفٹویر کے نئے نسخے جاری ہوجاتے ہیں۔ چند سوفٹویر کے نام بدل جاتے ہیں۔ جیسے اس بار گیم انسٹنٹ مسینجر جس کا نام پیجن میں تبدیل ہوگیا ہے۔ پیجن کا انٹرفیس بھی اب کافی بہتر ہوگیا ہے اور اس میں چیٹ کرنے میں اب زیادہ مزہ آرہا ہے۔ ڈیسک بار اپلیٹ کے ساتھ ساتھ اب کی بار گنوم ٹریکر سرچ ٹول بھی انسٹالیشن میں شامل ہے۔ جس سے امید ہے کہ دستاویزات اور فائلوں کو تلاش کرنا اور کھنگالنا اور بھی آسان ہوجائیگا۔ بلیو ٹوتھ انیلائزر نام کا ایک ٹول بھی شامل ہے۔ کھیلوں میں شطرنج اور ٹیٹرس نیا اضافہ ہیں۔ دفتری امور کی انجام دہی کو اوپن آفس ہے۔ لیکن میں گوگل آفس استعمال کرتا ہوں۔ میڈیا پلئرز میں مجھے ہمیشہ شکایت رہی ہے۔ میرے خیال میں گنوم کا ٹوٹم ایک بالکل بے کار اور فضول ویڈیو پلئر ہے۔ ردہم باکس مجھے بہت پسند ہے۔ لیکن ٹوٹم کی جگہ میں وی ایل سی میڈیا پلئر استعمال کرتا ہوں۔
قصہ مختصر ابنٹو کا نیا نسخہ زیادہ صاف ستھرا اور تازہ ترین سوفٹویر سے لیس ہے۔ ابنٹو کو ڈیبیان یا دوسرے آپریٹنگ سسٹمز پر ایک یہ برتری بھی حاصل ہے کہ ابنٹو لنکس کی دنیا میں نوواردوں کے لئے زیادہ سہل ہے۔ اور اب تو وہ ریسٹریکٹڈ سوفٹویر بھی فراہم کررہے ہیں۔ حالانکہ اس پر اوپن سورس کمیونٹی میں کافی لے دے ہوچکی ہے، مگر حقیقت یہی ہے کہ اس سے ابنٹو استعمال میں اور بھی زیادہ سہل ہوگیا ہے۔ چونکہ میں زیادہ تر کام فائر فوکس پر ہی انجام دیتا ہوں تو گوگل براؤسر سائنک کی بدولت میرے لئے اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کہ میں کمپیوٹر اسٹارٹ کرتے ہوئے کونسا آپرٹینگ سسٹم بوٹ کرتا ہوں۔ اسلئے امید ہے کہ میں ابنٹو زیادہ استعمال کرسکوں گا۔
زمرہ جات: آزادی, ابنٹو, لینکس, کمپیوٹنگ
|
05/17/2007
مصنوعی ذہانت رکھنے والے دو تجرباتی روبوٹ آمنے سامنے۔ ایلیس اور جیبرویکی انٹرنیٹ کے دو مشہور چاٹ روبوٹ ہیں۔ یہ اپنے ڈیٹا بیس میں موجود ڈیٹا کی مدد سے انسانوں سے چیٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مقصد ایلن ٹیورنگ کی تھیوری کو جانچنا ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت انسانی ذہانت کو دھوکا دے سکتی ہے؟ میں کچھ عرصہ پہلے ایلیس سے چیٹ کرچکا ہوں اور میرے خیال میں وہ کافی بیوقوف ہے۔ جیبرویکی تھوڑا بہتر ہے مگر ان کی مشینی سوچ اتنی ذہین نہیں۔ مثال کے طور پر وہ گفتگو کے دوران صرف پچھلے جملے کا جواب دیتے ہیں بجائے اس کے کہ اس سیشن میں ہونے والی پچھلی گفتگو کو جانچیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ بات کیا ہورہی ہے۔
لیکن جب ان دونوں روبوٹوں کو ایک دوسرے سے بات کرنے کے لئے لایا گیا تو نتیجہ ایک ایسی گفتگو ہے جو بظاہر دیکھنے میں کافی ذہین معلوم ہوتی ہے۔
|
اسماعیل غالمی ایک ایسا ویب بیسڈ آپریٹنگ سسٹم استعمال کرنے کا تجربہ کرچکے ہیں کہ جس میں انہوں نے ایک ہفتے تک اپنے کمپیوٹرفائر فوکس کے علاوہ کسی بھی دوسرے اطلاقئے کو استعمال نہیں کیا۔ ایسا اس لئے کیا تاکہ وہ یہ اندازہ لگا سکیں کہ ایک ویب بیسڈ آپریٹنگ سسٹم کے امکانات کیا ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے اپنے تجربات کو قلمبند کیا اور آفس 2.0 میں استعمال ہونے والی اپلیکیشنز کا ایک ڈیٹابیس بھی مرتب کیا۔
اس ڈیٹابیس میں تقریبا ہر کٹیگری میں کوئی نہ کوئی ویب بیسڈ اپلیکیشن موجود ہے۔ جن میں سے اکثریت بالکل مفت ہیں۔ ورڈ پروسیسنگ، اسپریڈ شیٹ، پریزینٹیشن، گرافی، ڈرائنگ، ڈیسک ٹاپ پبلشنگ اور کئی دیگر زمرہ جات میں سینکڑوں ویب سائٹ لسٹڈ ہیں۔ ان میں سے کئی ہم سب استعمال کرچکے ہیں۔ میں خود ٹیکسٹ ایڈیٹنگ کے علاوہ زیادہ تر کام ویب براؤسر پر ہی کرتا ہوں، اور کافی ساری ویب ٹو اپلیکیشنز روزانہ استعمال کرتا ہوں جیسے جی میل، ایڈسینس، گوگل ڈاکس اینڈ اسپریڈ شیٹس، گوگل کلینڈر اوہ ویسے کیا میں نے آپ کو بتایا کہ اب آپ گوگل کلینڈر سے یاد دہانیاں اپنے ٹیلی نار کے موبائل نمبر پر بذریعہ ایس ایم ایس وصول کرسکتے ہیں۔ یو ٹیوب، فلکر، بلاگر،ڈگ، اسٹمبل اپون، لنکڈان، فیڈبرنر، فیڈ بلٹز وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔
ٹم اوریلی، اوریلی میڈیا کے فاؤنڈر، آزاد سوفٹویر کے وکیل اور جدید ٹیکنالوجی کے خودساختہ فلسفی ہیں۔ ویب ٹو کی اصطلاح انہوں نے اپنی ویب ٹو کانفرنس سے پیش کی۔ ٹم اوریلی کے خیال میں ویب ٹو کیا ہے؟ ۔ مختصرا ویب ٹو، ویب کا وہ ڈھانچہ ہے جو نوے کی دہائی کا انٹرنیٹ بلبلہ پھٹنے کے بعد اس کی راکھ سے نمودار ہوا ہے۔ ٹیکنالوجیکل تبدیلیاں یہ ہیں کہ اب ویب سی ایس ایس، اجیکس، ایکس ایم ایل جیسی ٹیکنالوجیز استعمال کررہا ہے۔ اب ویب کو زیادہ لائق استعمال اور زیادہ سے زیادہ صارف پر مرتکز رکھا جاتا ہے۔ یہ ایک بہت دلچسپ اور حیرت انگیز بات ہے، اور جلد یا بدیر یہ بلبلہ بھی پھٹ ہی جانا ہے۔ کیونکہ حیرانی اور دلچسپی کا یہ عنصر وقت کے ساتھ کم ہوتا جائیگا اور ویب ٹو میں کوئی حیران کن بات نہیں رہے گی۔ اور تب کے لئے تیار ہوگا ویب تھری۔
زمرہ جات: سائنس, ویب, کمپیوٹنگ
|
اردو سیارہ ایک تیز ترین ذریعہ ہے اردو بلاگز پر نظر رکھنے کا۔ لیکن اردو سیارہ پر آپ مکمل پوسٹس نہیں پڑھ پاتے۔ اس کے علاوہ آپ ان اردو بلاگز پر شائع ہونے والی انگریزی پوسٹس بھی نہیں پڑھ پاتے۔ تصاویر اور روابط بھی اردو سیارہ پر نظر نہیں آتے۔ اس کا آسان ترین حل یہ ہے کہ آپ اردو سیارہ پر شامل تمام بلاگ کسی فیڈریڈر پر جاری کرالیں۔
مگر سیارہ پر تو فیڈز کی ایک طویل فہرست ہے ان سب کو کیسے شامل کیا جاسکتا ہے؟
اس کا حل بھی سیارے پر ہی موجود ہے۔ پیش خدمت ہے اردو سیارہ پر جاری فیڈز کی او پی ایم ایل فہرست۔ آپ اکثر اچھے فیڈ ریڈرز میں یہ او پی ایم ایل فیڈ امپورٹ کرسکتے ہیں۔
سیارے کی انتظامیہ سے درخواست کرونگا کہ وہ اس او پی ایم ایل فیڈ کا ربط، سیارہ کی سائیڈ بار میں اہم کے زمرے میں شامل کردیں تاکہ لوگ ان روابط کو اپنے بلاگ رول، فیڈ ریڈر یا بک مارکس وغیرہ پر امپورٹ کرسکیں۔
زمرہ جات: اردو, بلاگستان, ذرائع ابلاغ, کمپیوٹنگ
|
ذکر ایک آزاد سوفٹویر ہے جس کی مدد سے کمپیوٹر پر قرآن پڑھنا اور ترجمہ دیکھنا بہت آسان ہوجاتا ہے۔ یہ سوفٹویر لینکس کے علاوہ ونڈوز پر بھی چلتا ہے۔ اس سوفٹویر میں آیت نمبر اور سورہ نمبر ڈالیں اور فورا مطلوبہ آیت تک پہنچ جائیں۔ بائی ڈیفالٹ اس میں اردو ترجمہ شامل نہیں ہوتا لیکن اس میں جناب مولانا فتح محمد جالندھری کا اردو ترجمہ بھی ڈاؤنلوڈ کرکے شامل کیا جاسکتا ہے۔ اپلیکیشن کے اندر ہی مندرجہ ذیل فہرست پر جائیں:
View > Translations > More
جس سے آپ اس ویب صفحے پر پہنچیں گے۔ یہاں سے جالندھری صاحب کا ترجمہ اپنے ڈیسکٹاپ پر ڈاؤنلوڈ کریں۔ اب مندرجہ ذیل فہرست سے ترجمہ شامل کریں:
Tools > Add > Translation
اس کی دیگر خوبیوں میں تلاش کی خوبی بھی لائق بیان ہے۔ جس کی مدد سے ترجمے اور عربی قرآن میں کسی مخصوص لفظ کی تلاش کی جاسکتی ہے۔ بک مارک کی سہولت بھی بہت خوب ہے اس سے روزانہ مطالعہ کرنے والوں، دہرانے والوں، طالبعلموں، محققیقین اور اساتذہ کو بہت آسانی ہوگی۔ دینیات اور قرآن کے طالبعلموں کے لئے یہ ایک اہم اوزار ہے خصوصا اس لئے کہ اسے پلگ ان، تراجم، تھیم وغیرہ شامل کرکے ترقی دی جاسکتی ہے۔ اگر بائی ڈیفالٹ نظر آنے والا عربی، اردو یا انگریزی فونٹ آپ کو مناسب نہ لگے تو آپ اسے اپنے سسٹم پر موجود کسی بھی اچھے فونٹ سے تبدیل کرسکتے ہیں۔ یہ ایک کراس پلیٹ فارم اپلیکیشن ہے کسی بھی آپریٹنگ سسٹم پر اسے انسٹال کرنے کے لئے اس ڈاؤنلوڈ ربط پر جائیں۔ یاد رہے چونکہ یہ سوفٹویر جاوا پر چلتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ آپ کے کمپیوٹر پر سن جاوا رن ٹائم انوائرنمنٹ نصب ہو۔ اگر آپکے پاس سن جاوا رن ٹائم انوائرنمنٹ نصب نہیں ہے تو اسے سن جاوا کے ویب سائٹ سے مفت ڈاؤنلوڈ کیا جاسکتا ہے۔
علاوہ ازیں اس پروجیکٹ کو آپ کے تعاون کی بھی ضرورت ہے۔ اس پروجیکٹ میں ہاتھ بٹانے کے لئے گوگل گروپس پر ذکر میلنگ لسٹ پر اندراج کرائیں اور ترجمے، اپلیکیشن کی کنفگریشن، تھیم ڈیولپمنٹ، نئی خوبیوں کی درخواست اور خامیوں کی اطلاع دینے کے لئے ای میل کریں۔

ایک اسکرین شاٹ ، ذکر ابنٹو لینکس پر

دوسرا اسکرین شاٹ، ذکر تلاش منظر
زمرہ جات: آزادی, ابنٹو, اردو, تعلیم, لینکس, مذہبی رواداری, کمپیوٹنگ
|
پاکستان کا عالمی آؤٹ سورسنگ میں حصہ۔ جناب مرزا اختیار بیگ کا مضمون نہایت عمدہ ہے اور تجاویز پرخلوص ہیں۔ مگر میں جب اپنے ذہن میں ان تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کو کی جانیوالی کوششوں کو دیکھتا ہوں تو لگتا ہے کہ یہ پاکستان میں قابل عمل نہیں اور ہوسکتا ہے ان کے کچھ الٹے منفی اثرات بھی ہوں۔
چین اور بھارت کی تیزی سے ابھرتی معیشت کو دیکھ کر آجکل ہمارے دانشور، ارباب اختیار کو یہ مشورے دیتے نہیں تھکتے کہ ہمیں بھی خدمات کی آؤٹ سورسنگ پر خصوصی توجہ دینی چاہئے۔ اس بات کو تسلیم کرنے میں انکار نہیں کہ یورپی اور شمالی امریکی منڈیوں کے مقابلے میں ہمارے پاس سستی لیبر موجود ہے۔ مگر یہ بات تسلیم کرنے میں مجھے عار محسوس ہوتا ہے کہ اس کام کو انجام دینے کے لئے ہمارے پاس ہنرمند افرادی قوت بھی موجود ہے۔
متذکرہ بالا مضمون میں جناب اختیار بیگ خیال ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کو امریکی میڈیکل شعبے کے آؤٹ سورس کرے جانے سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ ہمیں اس کو بالکل نظرانداز کردینا چاہئے۔ کیونکہ ایک تو پاکستان میں میڈیکل کے شعبے میں افرادی قوت نہ تو اتنی ہنرمند ہے اور نہ ہی اتنی بڑی تعداد میں دستیاب ہے کہ ہم مقامی طور پر فراہم کی جانیوالی خدمات کے ساتھ ساتھ اپنی خدمات باہر بھی بیچ سکیں۔ تعلیم کی حالت ہمارے ملک میں دگرگوں ہے یہ پالیسی انتہائی غلط ہوگی کہ ہم اپنے نوجوانوں کو چھ چھ مہینے کی ٹریننگ فراہم کرکے انہیں میڈیکل ٹرانسکرپشن، تشخیص، ریکارڈ کیپنگ اور کال سینٹرز جیسے کام میں لگادیں، بجائے اس کے کہ ہم اعلی تحقیقی دماغ رکھنے والے طالبعلم تیار کریں۔ یقینا چھ مہینے کی ٹریننگ کے عوض پاکستان میں غیر ملکی زرمبادلہ بھی آئے گا لیکن کیا غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر حاصل کرنے کے لئے ہم اپنے ملک کی افرادی قوت کو مشینی کام انجام دینے پر لگادیں۔
اس کے بجائے پاکستان میں کمپیوٹر اور انجینئرنگ کی اعلی تعلیم کو عام کرنا زیادہ مفید ثابت ہوگا۔ بھارت اور چین کی ترقی کے پیچھے کمپیوٹر اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور بزنس مینیجمنٹ میں بڑی تعداد میں اعلی تعلیم یافتہ ورک فورس کا موجود ہونا ایک انتہائی اہم عامل ہے جسے ہمارے پاکستانی معیشت دان بالکل نظرانداز کردیتے ہیں۔ اطلاعاتی ٹیکنالوجی یا آؤٹ سورسنگ کے کسی اور شعبے میں چھ مہینے یا سال بھر کے کورس کروا کر ہم درحقیقت اپنی افرادی قوت کو ضائع کردیں گے کیونکہ ایک تو ہم یہ کام بھارت اور چین سے کم نرخ اور بہتر کوالٹی پر انجام دینے سے قاصر ہونگے دوسرا یہ کہ ہم مقامی طور پر ٹیکنالوجی کو ترقی دینے کے بجائے اس کو صرف استعمال کرنے والوں کی کھیپ تیار کردیں گے۔ اس ٹیکنالوجی کا استعمال جیسے ہی زیادہ سے زیادہ ہوگا ویسے ہی ہم لائسنس، سرٹیفیکیشن اور دیگر مدوں میں قیمتی ملکی زرمبادلہ انہی ملکوں کو واپس بھیجنے لگیں گے جنہیں ہم خدمات فراہم کررہے ہیں۔
اطلاعاتی ٹیکنالوجی سمیت کسی بھی شعبے میں اعلی تعلیم یافتہ افرادی قوت تیار کرنا پاکستان کا اصل مقصد ہونا چاہئے۔ آؤٹ سورسنگ کی دنیا میں آب تب ہی بھارت یا چین کے نقش قدم پر چل سکتے ہیں۔ ورنہ کوا ہنس کی چال چلنے میں اپنی سے بھی جائے گا۔
زمرہ جات: تعلیم, کمپیوٹنگ
|
کل بالآخر میرے گھر میں سائبر ڈی ایس ایل کنکشن لگ گیا ہے۔ اس سلسلے میں مجھے سب سے زیادہ پریشانی پی ٹی سی ایل کی طرف سے ہوئی۔ کیونکہ میرے ٹیلیفون کا تار شکستہ تھا اور میرے کمپیوٹر سے بہت دور تھا۔ اس کے لئے میرے ذہن میں یہ غلط فہمی تھی کہ مجھے یہ کام لائن مین کو خرچہ پانی دے کر کروانا پڑے گا۔ یوں میں کچھ دن اپنے علاقے کے لائن مین کے پیچھے لگا رہا۔ لائن مین اس چکر میں تھا کہ جیسے ہی اس کے پاس فالتو تار ہوگا وہ میرا کام کرکے کچھ چائے پانی بنالیگا۔ لیکن جب کافی دن گزر گئے تو میں نے اپنے ایکسچینج کے ڈیویژنل انجینئر جناب نسیم حیدر کو فون ملایا۔ انہوں نے میری شکایت تحمل سنی اور مجھے متعلقہ ایس ڈی او کا نمبر دیا۔ ایس ڈی او صاحب نے وعدہ کیا کہ میرا تار اگلے دن ہی مل جائے گا۔ مگر اگلے دن تار نہیں ملا اس سے اگلے دن مجھے پھر جناب نسیم حیدر صاحب کو فون کرنا پڑا انہوں نے مدعا سن کر مجھے دس منٹ بعد فون کرنے کو کہا۔ پانچ منٹ ہی نہ ہوئے تھے کہ ایس ڈی او صاحب کا فون آگیا۔ انہوں نے از سر نو شکایت معلوم کی اور وعدہ کیا ان کے لائن مین ایک گھنٹے سے پہلے پہنچ جائیں گے۔
اور ایسا ہی ہوا۔ لائن مین گرچہ روزے سے تھے اور شدید گرمی اور دھوپ میں اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔ مگر بہت خوش اخلاق تھے اور میری مرضی کے مطابق میرا کام کرکے گئے۔ جاتے ہوئے کہنے لگے کہ ایس ڈی او صاحب کے نام رقعہ لکھ دیں کہ آپ کا کام ہوگیا ہے۔ میں نے اس رقعے میں جناب ایس ڈی او صاحب اور جناب ڈویژنل انجینئر صاحب کا شکریہ ادا کیا اور ان کے لائن مینوں کی مہارت، خوش خلقی اور فرض شناسی کی تعریف کی۔
اس کام میں جو بھی دیر ہوئی وہ سراسر میری غلطی تھی کہ میں قانون شکنی کرتے ہوئے ایک شارٹ کٹ سے ایک ایسا کام کروارہا تھا جو آسانی سے قانونی طریقے اور ضابطے کے تحت ہوسکتا تھا۔
اگلے دن سائبر نیٹ والوں نے آکر موڈیم کی انستالیشن کردی۔ سائبر ڈی ایس ایل میرے کیبل نیٹ سے چار گنا زیادہ تیز رفتار ہے۔ ڈاؤنلوڈ رفتار چالیس اور پچاس کلوبائٹ فی سیکنڈ کو چھو رہی ہے۔ انٹرنیٹ کی اس برق رفتاری کا ایک نقصان بھی ہے کہ پہلے میں جو کام تین گھنٹوں میں کرتا تھا وہ اب ایک گھنٹے میں ہی ہوجاتا ہے۔ میں سائبر ڈی ایس ایل ہر کسی کو تجویز کرتا ہوں۔ کیونکہ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ان کی کسٹومر سپورٹ بہت عمدہ ہے۔ آپ کو بذریعہ فون چوبیس گھنٹے کی ٹیکنیکل سپورٹ دستیاب ہوتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ سائبر نیٹ کے پاس صارفین کو مطمئن کرنے اور ایک بڑی تعداد میں وفادار صارفین کو رکھنے کا کئی سالہ تجربہ ہے۔ میں لنکس استعمال کرتا ہوں تو میں سمجھ رہا تھا کہ ان کی جو ٹیم انسٹالیشن کے لئے آئے گی وہ لنکس سے بابلد ہوگی۔ مگر ایسا نہیں تھا ان کی ٹیم لنکس سے واقف تھی گرچہ انہوں نے کبھی کسی ڈیسکٹاپ لنکس پر موڈیم انسٹال نہیں کیا تھا۔ اور ابنٹو میں تو کافی چیزیں ویسے ہی خود بخود ڈیٹیکٹ ہوجاتی ہیں۔ انسٹالیشن کے لئے آنے والی ٹیم کو میں نے ابنٹو کی سی ڈیز بانٹیں جس سے وہ بہت خوش ہوئے اور وعدہ کیا کہ وہ اسے ضرور آزمائیں گے۔
زمرہ جات: ابنٹو, دکان سے گھر تک, عمومی, کمپیوٹنگ
|
میرا ابنٹو تجربہ اسپائیڈر کے تازہ ترین شمارے میں پڑھئیے۔ اس مضمون میں کوئی خاص بات نہیں اور میرا بلاگ پڑھنے والے لوگ اسے پہلے ہی اردو میں پڑھ چکے ہیں۔ چاہے کوئی مجھے شیخی خورہ ہی کہے لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ اب میں باقاعدہ مضمون نگار ہوگیا ہوں۔ اور کسی کے بھی سامنے اسپائیڈر کا پرچہ لہرا کر شیخی بھگار سکتا ہوں۔
زمرہ جات: آزادی, ابنٹو, ذرائع ابلاغ, لینکس, کمپیوٹنگ
|
لنکس پر جو آزادی کا مزہ ہے وہ ونڈوز کے استعمال کنندگان کیا جانیں۔ اب یہی دیکھیں لنکس کی جو ڈسٹرو یعنی ابنٹو میں استعمال کرتا ہوں صرف اس میں تین فلیور ہیں۔ ابنٹو، کبنٹو اور زبنٹو۔ ابھی ابھی میں نے زبنٹو ڈاؤنلوڈ اور انسٹال کیا ہے۔ اور بھئی کیا بات ہے مان گئے اوپن سورس کی آزادی اور آسانی کو۔ زبنٹو ایک ہلکا اور سبک رفتار آپریٹنگ سسٹم ہے جو کم میموری پر بھی بہترین پرفارمنس دیتا ہے۔ یہ اسطرح ممکن ہے کہ یہ جنوم یا کے ڈی ای کے بجائے ایکس ایف سی ای استعمال کرتا ہے جو خصوصا رفتار اور ضروریات کو مدنظر رکھ کر بنایا جانیوالا ایک ڈیسک ٹاپ ماحول ہے۔
لنکس کی مثال ایک عمارت کی سی ہے جس کی بنیاد ہے لنکس کرنل۔ اس کرنل کے اوپر دیگر سوفٹویر اینٹوں کی طرح جڑتے چلے جاتے ہیں اور عمارت بنتی چلی جاتی ہے۔ چاہے تو آپ آسمان کو چھوتی اسکائی اسکریپر بنالیں یا چاہیں تو ایک دو کمروں کا مکان۔ چاہیں تو خالی بنیاد ہی ڈال کر چھوڑ دیں۔
ابنٹو لنکس کے کرنل پر ڈیبین استعمال کرتا ہے۔ جو ایک اور کمیونٹی پروجیکٹ ہے جسکا مقصد آزاد سوفٹویر کو آسانی سے منتظم کرنا ہے۔ جنوم، اور کے ڈی ای گرافیکل یوزر انٹرفیس اور ڈیسک ٹاپ ماحول فراہم کرتے ہیں جس میں آپ ڈیبین کے پیکجز جمع کرتے چلے جاتے ہیں اور اپنا آپریٹنگ سسٹم بناتے چلے جاتے ہیں۔ ابنٹو لنکس کی ایک ڈسٹریبیوشن (ڈسٹرو) ہے جو لنکس، ڈیبین، جنوم، کے ڈی ای، ایکس ایف سی ای وغیرہ کو بنڈل بنا کر آپ تک پہنچاتی ہے۔ آپ چاہیں تو یہ سب استعمال کریں اور چاہیں تو کوئی بھی استعمال نہ کریں۔ جو پیکیج آپ کو پسند نہ آئے وہ نکال دیں اور جو نئی چیز انسٹال کرنا چاہیں وہ سائینیپٹک سے اتار لیں۔
خیر تو بات ہورہی تھی۔ ایکس ایف سی ای کی جسے انسٹال کرنے سے میری کمپیوٹر کی رفتار اور استعداد میں حیران کن اضافہ ہوگیا ہے۔ ایسا نہیں کہ ایکس ایف سی ای کوئی کم خوبصورت ہے۔ یوزر انٹرفیس، ڈیزائن اور گرافک میں جنوم کی ٹکر کا ہی ہے۔ اور ایسا بھی نہیں کے آپ جنوم یا کے ڈی ای کی کوئی ایپلیکشن اس میں نہیں چلاسکتے۔ اب جنوم اور کے ڈی ای کی تمام اپلیکیشنز اس میں چلاسکتے ہیں۔ اس میں ایبی ورڈ اور جی نمیریک ہے جو اوپن آفس کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے کام انجام دیتے ہیں۔ ویڈیو، میوزک، چیٹ، گیم، ویب سرور غرض ہر طرح اسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ایک جی بی کی میموری پر یہ راکٹ ہے تو ایک سو اٹھائیس ایم بی پر بھی گولی ہے۔
یہاں میں یہ وضاحت کرتا چلوں کہ غیرقانونی، مسروقہ ونڈوز استعمال کرنا قانونا قابل سزا جرم ہے۔ یہ بات بھی طےشدہ ہے کہ یہ بالکل غیراسلامی بھی ہے اور غیر اخلاقی بھی۔ خصوصا تب جب آزاد اور مفت آپریٹنگ سسٹم وافر مقدار میں باسہولت طریقوں سے دستیاب ہیں۔ آزاد سوفٹویر کی دستیابی کے باوجود آپ کی چوری مجبوری نہیں بلکہ ڈاکہ زنی بن جاتی ہے۔ تمام ترقی پذیر ممالک کی عوام کو آزاد سوفٹویر اس لئیے بھی استعمال کرنا چاہئیے کیونکہ یہ انہیں مائیکروسوفٹ اور دیگر مغربی کارپوریشنوں کی غلامی سے آزادی دلاتا ہے۔ آزادی آپ سے چند کلک کے فاصلے پر کھڑی ہے۔
زمرہ جات: آزادی, ابنٹو, لینکس, کمپیوٹنگ
|
یہ پوسٹ میں ابنٹو لنکس سے بذریعہ جینوم بلاگ اینٹری پوسٹر بھیج رہا ہوؒں۔ آج کل میرا سب سے زیادہ پسندیدہ مشغلہ ابنٹو اور لنکس ہی ہیں۔ دیکھیں میرا ابنٹو بلاگ۔
زمرہ جات: ابنٹو, لینکس, کمپیوٹنگ
|
"اداسی" پرمنهاج الرحمان لکھتے ہیں: کمال پوسٹ ھے نعمان صاحب۔ اس ملک میں فرعونیت کی انتھا ھو چکی ھے۔ ھمارا موسی نا
"اداسی" پرابوشامل لکھتے ہیں: لیں جی آپ کو تیسری مرتبہ ہمارے بلاگ سے بھی ٹیگ کر دیا گیا ہے، اب آپ
"اداسی" پرArif Anjum لکھتے ہیں: آپ کو یہاںپر ٹیگ کردیا گیا ہے۔ پولیس کو مطلع کرنے کی کوشش نہ کیجئے اور
"برمودا مثلث" پرمحمد طفیل لکھتے ہیں: ماشاءاللّہ آپ نے اپنی قومی زبان کی بہت بڑی خدمت کرکے اپنے ہم وطنوں کو بہت اچھی
"میرا نیا کمپیوٹر" پرwaqas khan لکھتے ہیں: GALAXY COMPUTER thats enough ap logo k rates bahot zada hotay hai recently many Nvidia Geforce 8600 512mb
"میرا نیا کمپیوٹر" پرwaqas khan لکھتے ہیں: mere piyary bhaio mere ap sab sya request hai k please galaxy computers say kuch bhe na purchase
"اداسی" پررضوان نور لکھتے ہیں: بات تو غیر متعلق سی ہے مگر پھر بھی کیے دیتے ہیں کہ آپ کو اس ناچیز