کتابیں

موضوع: کتابیں

پوٹرز کی قربانیاں، اور قربانیوں کی کہانیاں

بتاریخ: 20 جنوری 2008

میں آجکل ہیری پوٹر سیریز پڑھ رہا ہوں۔ ہیری پوٹر کی کہانی بے حد دلچسپ ہے۔ اس کی تعریف اور تنقید میں ہزاروں صفحات لکھے جا چکے ہیں۔ اس لئے میں آپ کو یہ بتا کر مزید بور نہیں کرونگا کہ مجھے یہ داستان کس قدر مسحورکن معلوم ہوتی ہے۔

دین دار حضرات کہتے ہیں کہ جب سے دنیا بنی ہے تب سے معرکہ حق و باطل جاری و ساری ہے۔ بدی کا ایک پیروکار، ایک گروہ، ایک ریلا آتا ہے تو کوئی نیکی کا نمائندہ، کوئی گروہ یا قبیلہ اس کے آگے بندھ باندھنے کو موجود ہوتا ہے۔ ہر دور میں یہ داستان رونما ہوئی ہے۔ ہر دور میں ان معرکوں پر کہانیاں گھڑی گئی ہیں، داستانیں سنائی گئی ہیں۔ ہیری کی کہانی بھی ایسے ہی ایک معرکے کی کہانی ہے۔ ان سب داستانوں میں چند عناصر بے حد عام ہوتے ہیں۔ جیسے برائی کا بہت طاقتور ہونا اور اس سے ہونے والے معرکے میں اچھائی کی جیت کا بہت کم امکان ہونا۔ ہماری داستانوں کے ہیروز کا معصوم ہونا، نیک ہونا، دردمند ہونا اور سب سے بڑھ کر یہ دوسروں کی فلاح کے لئے ان کا عظیم قربانیاں پیش کرنا۔ ہیری کی داستان میں بھی ایسا ہی ہے۔

برائی کی طاقت کا نمائندہ وولڈیمارٹ جادوگر ساری جادوئی دنیا اور انسانوں پر حکومت کرنا چاہتا ہے، وہ موت پر فتح پالینا چاہتا ہے۔ لیکن اس کی راہ میں اچھے جادوگر رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ وہ اسے ان مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیتے۔ ایسے ہی اچھے جادوگر ہیری کے والدین بھی ہوتے ہیں۔ وولڈیمارٹ جب ہیری اور اس کے ماں باپ کو مارنے آتا ہے تو اس کی ماں ہیری کو بچانے کے لئے اپنی جان دے دیتی ہے جس سے وولڈیمارٹ کا جادو الٹا پڑجاتا ہے اور اس کی طاقت ختم ہوجاتی ہے اور وہ بس ایک کمزور سایہ بن کر رہ جاتا ہے۔ اور پھر وقت آتا ہے کہ جب ہیری کو بھی قربانی دینا پڑتی ہے۔

یہ کہانی ہیری پوٹر کی ہی نہیں ہے۔ یہ کہانی پوری انسانیت کی ہے۔ حقائق ہوسکتا ہے اتنے ڈرامائی نہ ہوتے ہوں۔ لیکن انسانی تہذیب کا ارتقاء، ترقی اور پھیلاؤ میں کئی انسانوں کی بے لوث قربانیاں شامل ہیں۔ جان دینا ہی کوئی قربانی کی معراج نہیں، لیکن انسانوں نے عظیم مقاصد کے لئے بے خوف و خطر جانیں بھی دی ہیں۔ لوگ ان قربانیوں کی داستانیں ایک دوسرے کو سناتے ہیں۔ معصوموں کی موت پر سوگ مناتے ہیں اور ان کی عظیم قربانی پر تاقیامت ان کے شکر گزار رہتے ہیں۔

فاضل مصنف

بتاریخ: 24 نومبر 2007

مجھے آپ سب کو یہ بتاتے ہوئے بہت خوشی محسوس ہورہی ہے، کہ اب میں صرف بلاگر یا مضمون نگار نہیں رہا بلکہ باقاعدہ ایوارڈ یافتہ مصنف ہوگیا ہوں۔ میری لکھی ہوئی کتاب “دادی جان مصر میں” کو نیشنل بک فاؤنڈیشن نے تیرہ سے سولہ سال کی عمر کے بچوں کے لئے لکھی کتابوں میں پہلا انعام دیا ہے۔

سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے قطعا اس بات کا یقین نہیں آرہا۔ میں نے یہ کتاب بہت جلدی میں لکھی تھی اور جو مسودہ مقابلے میں بھجوایا تھا میں اس سے بالکل مطمئین نہیں تھا۔ جب میں فاؤنڈیشن کی دعوت پر اسلام آباد ان کے کنونشن میں شرکت کے لئے گیا تو وہاں میری ملاقات ایسے کئی لوگوں سے ہوئی جو مقابلے میں شرکت کررہے تھے۔ کوئی کسی کالج میں لیکچرار تھا، کوئی پروفیسر۔ملک کی معروف جامعات کے کئی ہونہار طالبعلم تھے اور کئی سکہ بند صحافی۔ سکھر سے آئے ایک نوجوان کا ادھورا مسودا دیکھا تو میں سمجھ گیا کہ اس مقابلے میں سب سے نااہل اور ناپختہ لکھاری میں ہی ہوں۔ اوپر سے این بی ایف کی شرائط کہ ہمارا نصاب پڑھیں اور کوشش کریں کہ اس میں موجود موضوعات آپ کی کتاب میں شامل ہوں۔ سب سے بڑی بات ججوں کا پینل جس میں بقول فاؤنڈیشن کئی ماہرین تعلیم، ادیب اور اساتذہ شامل تھے۔

لیکن جو جیتا وہی سکندر، چاہے درحقیقت وہ بندر ہی ہو۔ اب آپ کا بندر تیس نومبر سے چار دسمبر تک کراچی انٹرنیشنل بک فئیر میں نیشنل بک فاؤنڈیشن کے اسٹال پر اپنی کتاب کے ساتھ براجمان ہوگا۔ آئیے، بچوں کو بھی لائیے اور میری کتاب یا کرتب جو زیادہ دلچسپ معلوم ہوں ان سے محظوظ ہوں۔

سب سے زیادہ اور سب سے پہلے میں مشکور ہوں اپنی والدہ کا انہیں ہمیشہ سے یہ یقین رہا ہے کہ میں ہر کام بہت اچھے طریقے سے کرسکتا ہوں۔ اور جو کام میں اچھے طریقے سے کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا وہ کوشش کرتی ہیں کہ میری حوصلہ افزائی کرتی رہیں۔ اس کے بعد میرے بھائی عازب کا شکریہ کہ اس نے بہت مفید مشورے فراہم کرے، میرے انتہائی بورنگ مسودے کو بیسیوں بار پڑھا اور ہر بار پہلے سے زیادہ بے مزہ پایا مگر پھر بھی وہ ہر بار انتی ہی باریکی سے پڑھتا اور ہر بار خامیوں کی نشاندہی کرتا۔

اس کے بعد بہت بہت شکریہ راحیل کا جو دنیا کا سب سے اچھا ایڈیٹر ہے۔ آئی لو یو بیری مچ راحیل تم دنیا کے سب سے بہترین استاد ہو۔ بہت بہت شکریہ میرے دوست اور بلاگر بھائی بند، جناب شاکر عبدالعزیز، محب علوی، شاہ فیصل، جناب سلیمان قاضی صاحب، اور دیگر کئی حضرات کا جنہوں نے کتاب کے ابتدائی مسودے کا معائنہ کیا اور میری حوصلہ افزائی کی۔

پاکستان، جمہوریت، فوج اور کتابیں

بتاریخ: 12 جون 2007

گزشتہ روز میں اپنے بھائی عازب کے ہمراہ چند کتابیں خریدنے اردو بازار گیا۔ تب میں نے محسوس کیا کہ تقریبا تمام کتابوں کی دکانوں پر پاکستان میں جمہوریت اور فوج کے سیاسی کردار پر لکھی گئی تنقیدی کتابیں نمایاں کرکے لگائی گئی ہیں اور سب سے زیادہ فروخت بھی ہورہی ہیں۔

جب میں نے کتابوں کی دکان پر ملٹری انک مانگی تو انہوں نے چپکے سے مجھے اندر سے کتاب ایک سفید کاغذ میں اچھی طرح لپیٹ کر لاکر دی۔ سوائے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی دکان کے اور کسی دکان پر ملٹری انک نمایاں کرکے نہیں رکھی گئی تھی۔ اس کے باوجود کتاب دھڑا دھڑ فروخت ہورہی ہے۔ پاکستان میں جہاں اردو ناولوں کی ہزار کاپیاں بڑی مشکل سے فروخت ہوتی ہیں وہاں کسی انگریزی کتاب کی چھ ہزار کاپیاں صرف دو ہفتے میں بک جانا ایک کمال ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عوام ملٹری کے معاشی اور سیاسی مفادات سے ناواقف نہیں اور وہ ان کے بارے میں مزید جاننا اور پڑھنا چاہتے ہیں۔

05/28/2007

افغان نژاد امریکی مصنف خالد حسینی کی بیسٹ سیلر کتاب The Kite Runner کا اردو ترجمہ روزنامہ جنگ کے سنڈے ایڈیشن میں قسط وار شائع ہورہا ہے۔ جنگ کے آرکائیو صفحات پر سنڈے میگزین کے پچھلے ایک سال کے محفوظات دیکھے جاسکتے ہیں اور آپ نے ابھی تک صرف بارہ قسطیں مس کی ہیں۔

دی کائٹ رنر ایک افغان نژاد امریکی عامر کے افغانستان میں بیتے بچپن, یادوں اور اس کے دوبارہ افغانستان کے سفر کی داستان ہے۔ بچپن میں وہ اپنے سب سے عزیز دوست حسن کو ایک مقامی بدمعاش لڑکے سے بچا نہ سکا وہ دیکھتا رہا مگر وہ کوئی مدد نہ کرسکا۔ پھر افغانستان پر سوویت قبضے کے بعد وہ اپنے والد کے ساتھ امریکہ جا بستا ہے۔ کئی سال بعد اسے پاکستان ایک فون آتا ہے۔ یہ ایک بہت ہی متاثر کن کہانی ہے، معلوم نہیں اردو میں یہ کیسی معلوم ہو مگر انگریزی میں یہ بہت خوب ہے۔ آپ کو قطعا یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ خالد کا پہلا ناول ہے۔ درحقیقت یہ پہلا ناول نیویارک ٹائمز کی بیسٹ سیلر لسٹ پر رہ چکا ہے اور سن دو ہزار پانچ میں امریکہ کی تیسری مقبول ترین کتاب تھی۔

روانڈا کے قتل عام کے درمیان خدا کی کھوج

بتاریخ: 13 مارچ 2006

ابھی کچھ دیر پہلے ایمیزون ڈاٹ کام پر Immaculee Ilibagiza کی کتاب Left to tell: Discovering God Amidst the Rwandan Holocaust کے بارے میں پڑھا۔ میں روانڈا کے ہولوکاسٹ کے بارے میں کہیں پڑھ چکا تھا مگر اتنی زیادہ معلومات نہ رکھتا تھا۔ اس کتاب کے بارے میں پڑھنے کے بعد میں نے ویکیپیڈیا دیکھا، مصنفہ کا یہ انٹرویو پڑھا اور بہت اداس ہوا۔ میں یہ کتاب ضرور پڑھنا چاہوں گا۔ کہ کیسے کوئی موت کا ایسا بھیانک روپ دیکھنے کے بعد زندگی کی اور زیادہ قدر کرتا ہے۔ کیسے کوئی ایسے دردناک سانحہ کے بعد بھی خدا سے محبت کرسکتا ہے اور کیسے وہ ایسا ظرف پاتا ہے کہ مجرموں کے خلاف کوئی غصیلہ جملہ تک نہ لکھے۔ کیسے؟

ڈاکٹر پرویز ہود بھائی جیو نیوز پر

بتاریخ: 15 جنوری 2006

ڈاکٹر پرویز ہودبھائی آج شام آٹھ بجے جیو کے پروگرام جوابدہ میں افتخار احمد کے سوالوں کے جوابات دینگے۔ ڈاکٹر صاحب قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں نیوکلئیر فزکس پڑھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ موصوف ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں۔ درس و تدریس، تعلیمی نصاب، حقوق انسانی، مذہب اور ریاست کے دائرہ اختیار کا تعین، سائنسی علوم کی ترقی اور پاکستان کے خارجی اور داخلی مسائل پر بہت کام کر چکے ہیں۔ کئی ڈاکومنٹری فلمز بنا چکے ہیں، حکومت پاکستان کی سفارش پر نصاب تعلیم میں بہتری اور خامیوں کی نشاندہی پر کی گئی تحقیقات میں پیش پیش رہے ہیں۔ نیوکلیائی توانائی کے بطور اسلحہ استعمال کرنے کے سخت مخالف ہیں اور مذہبی انتہاپسندی کو انسانیت کی فلاح کے لئیے خطرناک جانتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر اور کئی انگریزی روزناموں میں ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔ پاکستان میں سائنس کو پاپولر بنانے کے لئیے پاپولر سائنس کی بدیسی کتابیں اردو میں ترجمہ کرکے شائع کروانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ

آج کے پروگرام کی جو جھلک ٹی وی پر دکھائی جارہی ہے اس میں میزبان افتخار احمد ڈاکٹر صاحب کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں اور مذہب اور ریاست کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب کے جوابات سننے کے لائق ہونگے۔ اس کے علاوہ مذہب اور سائنس کے حوالے سے بھی گفتگو ہوگی۔ یہ پروگرام رات آٹھ بجے اور دوبارہ رات ایک بجے جیو نیوز سے نشر کیا جائے گا۔

موضوعات: سائنس تعلیم پاکستان

تعارف

بتاریخ: 19 نومبر 2005

میرا نام عازب ھے اور میری عمر سولہ سال ھے۔ میں قرآن حفظ کرنے کے بعد ان دنوں لیجنڈ پبلک اسکول میں دسویں جماعت کا طالبعلم ہوں۔ اپنے بڑے بھائی نعمان کا بلاگ دیکھ کر مجھے بھی بلاگنگ کا شوق ہوا۔ مجھے سائنس اور تاریخ میں دلچسپی ہے اس بلاگ پر ان دو مضامین پر لکھوں گا۔ کیونکہ میں نے ابھی ابھی کمپیوٹر پر اردو لکھنا شروع کی ہے اسلئیے میں پہلے چھوٹی چھوٹی پوسٹ لکھوں گا۔ میرے علاوہ یہاں نعمان بھائی بھی میرا ہاتھ بٹائیں گے۔

اس بلاگ کا ٹائٹل ڈاکٹر قاضی محمد سلیمان کی کتاب ‘کائنات کے ان کھلے راز’ سے لیا گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی کتاب جنگ پبلشرز نے جون ۱۹۹۹ میں شائع کی تھی۔ اس کتاب سے متاثر ہو کر میں نے یہ بلاگ شروع کیا ہے۔