میں آجکل ہیری پوٹر سیریز پڑھ رہا ہوں۔ ہیری پوٹر کی کہانی بے حد دلچسپ ہے۔ اس کی تعریف اور تنقید میں ہزاروں صفحات لکھے جا چکے ہیں۔ اس لئے میں آپ کو یہ بتا کر مزید بور نہیں کرونگا کہ مجھے یہ داستان کس قدر مسحورکن معلوم ہوتی ہے۔
دین دار حضرات کہتے ہیں کہ جب سے دنیا بنی ہے تب سے معرکہ حق و باطل جاری و ساری ہے۔ بدی کا ایک پیروکار، ایک گروہ، ایک ریلا آتا ہے تو کوئی نیکی کا نمائندہ، کوئی گروہ یا قبیلہ اس کے آگے بندھ باندھنے کو موجود ہوتا ہے۔ ہر دور میں یہ داستان رونما ہوئی ہے۔ ہر دور میں ان معرکوں پر کہانیاں گھڑی گئی ہیں، داستانیں سنائی گئی ہیں۔ ہیری کی کہانی بھی ایسے ہی ایک معرکے کی کہانی ہے۔ ان سب داستانوں میں چند عناصر بے حد عام ہوتے ہیں۔ جیسے برائی کا بہت طاقتور ہونا اور اس سے ہونے والے معرکے میں اچھائی کی جیت کا بہت کم امکان ہونا۔ ہماری داستانوں کے ہیروز کا معصوم ہونا، نیک ہونا، دردمند ہونا اور سب سے بڑھ کر یہ دوسروں کی فلاح کے لئے ان کا عظیم قربانیاں پیش کرنا۔ ہیری کی داستان میں بھی ایسا ہی ہے۔
برائی کی طاقت کا نمائندہ وولڈیمارٹ جادوگر ساری جادوئی دنیا اور انسانوں پر حکومت کرنا چاہتا ہے، وہ موت پر فتح پالینا چاہتا ہے۔ لیکن اس کی راہ میں اچھے جادوگر رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ وہ اسے ان مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیتے۔ ایسے ہی اچھے جادوگر ہیری کے والدین بھی ہوتے ہیں۔ وولڈیمارٹ جب ہیری اور اس کے ماں باپ کو مارنے آتا ہے تو اس کی ماں ہیری کو بچانے کے لئے اپنی جان دے دیتی ہے جس سے وولڈیمارٹ کا جادو الٹا پڑجاتا ہے اور اس کی طاقت ختم ہوجاتی ہے اور وہ بس ایک کمزور سایہ بن کر رہ جاتا ہے۔ اور پھر وقت آتا ہے کہ جب ہیری کو بھی قربانی دینا پڑتی ہے۔
یہ کہانی ہیری پوٹر کی ہی نہیں ہے۔ یہ کہانی پوری انسانیت کی ہے۔ حقائق ہوسکتا ہے اتنے ڈرامائی نہ ہوتے ہوں۔ لیکن انسانی تہذیب کا ارتقاء، ترقی اور پھیلاؤ میں کئی انسانوں کی بے لوث قربانیاں شامل ہیں۔ جان دینا ہی کوئی قربانی کی معراج نہیں، لیکن انسانوں نے عظیم مقاصد کے لئے بے خوف و خطر جانیں بھی دی ہیں۔ لوگ ان قربانیوں کی داستانیں ایک دوسرے کو سناتے ہیں۔ معصوموں کی موت پر سوگ مناتے ہیں اور ان کی عظیم قربانی پر تاقیامت ان کے شکر گزار رہتے ہیں۔
زمرہ جات: عمومی, کتابیں
|
مجھے آپ سب کو یہ بتاتے ہوئے بہت خوشی محسوس ہورہی ہے، کہ اب میں صرف بلاگر یا مضمون نگار نہیں رہا بلکہ باقاعدہ ایوارڈ یافتہ مصنف ہوگیا ہوں۔ میری لکھی ہوئی کتاب “دادی جان مصر میں” کو نیشنل بک فاؤنڈیشن نے تیرہ سے سولہ سال کی عمر کے بچوں کے لئے لکھی کتابوں میں پہلا انعام دیا ہے۔
سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے قطعا اس بات کا یقین نہیں آرہا۔ میں نے یہ کتاب بہت جلدی میں لکھی تھی اور جو مسودہ مقابلے میں بھجوایا تھا میں اس سے بالکل مطمئین نہیں تھا۔ جب میں فاؤنڈیشن کی دعوت پر اسلام آباد ان کے کنونشن میں شرکت کے لئے گیا تو وہاں میری ملاقات ایسے کئی لوگوں سے ہوئی جو مقابلے میں شرکت کررہے تھے۔ کوئی کسی کالج میں لیکچرار تھا، کوئی پروفیسر۔ملک کی معروف جامعات کے کئی ہونہار طالبعلم تھے اور کئی سکہ بند صحافی۔ سکھر سے آئے ایک نوجوان کا ادھورا مسودا دیکھا تو میں سمجھ گیا کہ اس مقابلے میں سب سے نااہل اور ناپختہ لکھاری میں ہی ہوں۔ اوپر سے این بی ایف کی شرائط کہ ہمارا نصاب پڑھیں اور کوشش کریں کہ اس میں موجود موضوعات آپ کی کتاب میں شامل ہوں۔ سب سے بڑی بات ججوں کا پینل جس میں بقول فاؤنڈیشن کئی ماہرین تعلیم، ادیب اور اساتذہ شامل تھے۔
لیکن جو جیتا وہی سکندر، چاہے درحقیقت وہ بندر ہی ہو۔ اب آپ کا بندر تیس نومبر سے چار دسمبر تک کراچی انٹرنیشنل بک فئیر میں نیشنل بک فاؤنڈیشن کے اسٹال پر اپنی کتاب کے ساتھ براجمان ہوگا۔ آئیے، بچوں کو بھی لائیے اور میری کتاب یا کرتب جو زیادہ دلچسپ معلوم ہوں ان سے محظوظ ہوں۔
سب سے زیادہ اور سب سے پہلے میں مشکور ہوں اپنی والدہ کا انہیں ہمیشہ سے یہ یقین رہا ہے کہ میں ہر کام بہت اچھے طریقے سے کرسکتا ہوں۔ اور جو کام میں اچھے طریقے سے کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا وہ کوشش کرتی ہیں کہ میری حوصلہ افزائی کرتی رہیں۔ اس کے بعد میرے بھائی عازب کا شکریہ کہ اس نے بہت مفید مشورے فراہم کرے، میرے انتہائی بورنگ مسودے کو بیسیوں بار پڑھا اور ہر بار پہلے سے زیادہ بے مزہ پایا مگر پھر بھی وہ ہر بار انتی ہی باریکی سے پڑھتا اور ہر بار خامیوں کی نشاندہی کرتا۔
اس کے بعد بہت بہت شکریہ راحیل کا جو دنیا کا سب سے اچھا ایڈیٹر ہے۔ آئی لو یو بیری مچ راحیل تم دنیا کے سب سے بہترین استاد ہو۔ بہت بہت شکریہ میرے دوست اور بلاگر بھائی بند، جناب شاکر عبدالعزیز، محب علوی، شاہ فیصل، جناب سلیمان قاضی صاحب، اور دیگر کئی حضرات کا جنہوں نے کتاب کے ابتدائی مسودے کا معائنہ کیا اور میری حوصلہ افزائی کی۔
زمرہ جات: اردو, دکان سے گھر تک, کتابیں, کراچی
|
05/28/2007
افغان نژاد امریکی مصنف خالد حسینی کی بیسٹ سیلر کتاب The Kite Runner کا اردو ترجمہ روزنامہ جنگ کے سنڈے ایڈیشن میں قسط وار شائع ہورہا ہے۔ جنگ کے آرکائیو صفحات پر سنڈے میگزین کے پچھلے ایک سال کے محفوظات دیکھے جاسکتے ہیں اور آپ نے ابھی تک صرف بارہ قسطیں مس کی ہیں۔
دی کائٹ رنر ایک افغان نژاد امریکی عامر کے افغانستان میں بیتے بچپن, یادوں اور اس کے دوبارہ افغانستان کے سفر کی داستان ہے۔ بچپن میں وہ اپنے سب سے عزیز دوست حسن کو ایک مقامی بدمعاش لڑکے سے بچا نہ سکا وہ دیکھتا رہا مگر وہ کوئی مدد نہ کرسکا۔ پھر افغانستان پر سوویت قبضے کے بعد وہ اپنے والد کے ساتھ امریکہ جا بستا ہے۔ کئی سال بعد اسے پاکستان ایک فون آتا ہے۔ یہ ایک بہت ہی متاثر کن کہانی ہے، معلوم نہیں اردو میں یہ کیسی معلوم ہو مگر انگریزی میں یہ بہت خوب ہے۔ آپ کو قطعا یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ خالد کا پہلا ناول ہے۔ درحقیقت یہ پہلا ناول نیویارک ٹائمز کی بیسٹ سیلر لسٹ پر رہ چکا ہے اور سن دو ہزار پانچ میں امریکہ کی تیسری مقبول ترین کتاب تھی۔
|
ابھی کچھ دیر پہلے ایمیزون ڈاٹ کام پر Immaculee Ilibagiza کی کتاب Left to tell: Discovering God Amidst the Rwandan Holocaust کے بارے میں پڑھا۔ میں روانڈا کے ہولوکاسٹ کے بارے میں کہیں پڑھ چکا تھا مگر اتنی زیادہ معلومات نہ رکھتا تھا۔ اس کتاب کے بارے میں پڑھنے کے بعد میں نے ویکیپیڈیا دیکھا، مصنفہ کا یہ انٹرویو پڑھا اور بہت اداس ہوا۔ میں یہ کتاب ضرور پڑھنا چاہوں گا۔ کہ کیسے کوئی موت کا ایسا بھیانک روپ دیکھنے کے بعد زندگی کی اور زیادہ قدر کرتا ہے۔ کیسے کوئی ایسے دردناک سانحہ کے بعد بھی خدا سے محبت کرسکتا ہے اور کیسے وہ ایسا ظرف پاتا ہے کہ مجرموں کے خلاف کوئی غصیلہ جملہ تک نہ لکھے۔ کیسے؟
زمرہ جات: آزادی, دہشت گردی, کتابیں
|
ڈاکٹر پرویز ہودبھائی آج شام آٹھ بجے جیو کے پروگرام جوابدہ میں افتخار احمد کے سوالوں کے جوابات دینگے۔ ڈاکٹر صاحب قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں نیوکلئیر فزکس پڑھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ موصوف ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں۔ درس و تدریس، تعلیمی نصاب، حقوق انسانی، مذہب اور ریاست کے دائرہ اختیار کا تعین، سائنسی علوم کی ترقی اور پاکستان کے خارجی اور داخلی مسائل پر بہت کام کر چکے ہیں۔ کئی ڈاکومنٹری فلمز بنا چکے ہیں، حکومت پاکستان کی سفارش پر نصاب تعلیم میں بہتری اور خامیوں کی نشاندہی پر کی گئی تحقیقات میں پیش پیش رہے ہیں۔ نیوکلیائی توانائی کے بطور اسلحہ استعمال کرنے کے سخت مخالف ہیں اور مذہبی انتہاپسندی کو انسانیت کی فلاح کے لئیے خطرناک جانتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر اور کئی انگریزی روزناموں میں ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں۔ پاکستان میں سائنس کو پاپولر بنانے کے لئیے پاپولر سائنس کی بدیسی کتابیں اردو میں ترجمہ کرکے شائع کروانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ
آج کے پروگرام کی جو جھلک ٹی وی پر دکھائی جارہی ہے اس میں میزبان افتخار احمد ڈاکٹر صاحب کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں اور مذہب اور ریاست کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب کے جوابات سننے کے لائق ہونگے۔ اس کے علاوہ مذہب اور سائنس کے حوالے سے بھی گفتگو ہوگی۔ یہ پروگرام رات آٹھ بجے اور دوبارہ رات ایک بجے جیو نیوز سے نشر کیا جائے گا۔
موضوعات: سائنس تعلیم پاکستان
زمرہ جات: آزادی, انسانی حقوق, تعلیم, جمہوریت, سائنس, مذہبی رواداری, پاکستانی معاشرہ, کتابیں
|
میرا نام عازب ھے اور میری عمر سولہ سال ھے۔ میں قرآن حفظ کرنے کے بعد ان دنوں لیجنڈ پبلک اسکول میں دسویں جماعت کا طالبعلم ہوں۔ اپنے بڑے بھائی نعمان کا بلاگ دیکھ کر مجھے بھی بلاگنگ کا شوق ہوا۔ مجھے سائنس اور تاریخ میں دلچسپی ہے اس بلاگ پر ان دو مضامین پر لکھوں گا۔ کیونکہ میں نے ابھی ابھی کمپیوٹر پر اردو لکھنا شروع کی ہے اسلئیے میں پہلے چھوٹی چھوٹی پوسٹ لکھوں گا۔ میرے علاوہ یہاں نعمان بھائی بھی میرا ہاتھ بٹائیں گے۔
اس بلاگ کا ٹائٹل ڈاکٹر قاضی محمد سلیمان کی کتاب ‘کائنات کے ان کھلے راز’ سے لیا گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی کتاب جنگ پبلشرز نے جون ۱۹۹۹ میں شائع کی تھی۔ اس کتاب سے متاثر ہو کر میں نے یہ بلاگ شروع کیا ہے۔
زمرہ جات: تاریخ, سائنس, عمومی, کتابیں
|
"کراچی کی طالبانائزیشن" پرجاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین لکھتے ہیں: :۔ ‘‘حکومت سندھ کو ام احسان سمیت تمام ایسے لوگوں پر پابندی لگانی چاہئے جو انتہاپسندی پر
"کراچی کی طالبانائزیشن" پرنعمان لکھتے ہیں: ہم یہاں لسانی تعصب کی بات نہیں کررہے. میرا خیال ہے موضوع گفتگو جنگ زدہ علاقوں سے
"کراچی کی طالبانائزیشن" پراحمد سولنگی لکھتے ہیں: پہلے ہم سب پنجابی، پختون، سندھی، بلوچ بنیں پھر پاکستانی بنیں گے ہر ایک اپنے شہر اور
"اردو بلاگستان پر ایک مضمون" پرحیدرآبادی لکھتے ہیں: نعمان صاحب ! اگر اس شمارے کی پ۔ڈ۔ف ناچیز کو بھی ای۔میل کر دیں تو بہت بہت
"کراچی کی طالبانائزیشن" پرخاور بلال لکھتے ہیں: راہبر نسلی تعصب نے کراچی کی ایک نسل تباہ کردی ہے، کم از کم آپ اپنے بھائ
"کراچی کی طالبانائزیشن" پرراہبر لکھتے ہیں: احمد سولنگی! صوبہ سرحد میں سندھی یا اردو آبادی سے کیا لینا دینا؟ ویسے میرے نزدیک پنجاب میں
"Urdu Read Write and Blogging Support" پریاسر عمران لکھتے ہیں: brother I need an urdu language pack for wordpress or an urdu package of wordpress can you help me please,