بلاگستان

موضوع: بلاگستان

اردو بلاگستان پر ایک مضمون

بتاریخ: 03 اگست 2008

اس مہینے کا ماہنامہ اسپائڈر میگزین خریدئیے اور پڑھئے ناچیز کا اردو بلاگستان کے بارے میں لکھا ہوا مضمون۔ جس میں موجودہ اردو بلاگستان کا ایک مختصر سا جائزہ پیش کیا گیا ہے اور اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے کہ کیوں اردو میں بلاگنگ اتنی عام نہیں جتنا اسے ہونا چاہئے۔ اس مضمون کے لئے میں منظرنامہ کا شکر گزار ہوں کہ وہاں شائع ہونے والے راشد کامران، ابوشامل اور وارث صاحب کی تحاریر نے مجھے متاثر کیا۔ قدیر احمد، بدتمیز، نبیل نقوی اور رضا رومی کا بہت شکریہ کہ انہوں نے اپنی قیمتی رائے سے نوازا۔

بتاریخ: 20 جنوری 2008

urdu-wordpress.gif

شاکر کے ورڈپریس کا ترجمہ مکمل کردینے کے اعلان کے بعد، اب نعمان کی ڈائری کے پس پردہ اردو ورڈپریس چل رہا ہے۔ اور بہت مزہ آرہا ہے۔

سال گزشتہ کی بلاگنگ کا جائزہ

بتاریخ: 27 دسمبر 2007

سال نو کا آغاز قریب ہے۔ بدتمیز کی تجویز پر اس سال کے اپنے بلاگنگ تجربے کے بارے میں لکھ رہا ہوں۔

اس سال قریبا ایک سو بیس پوسٹس لکھیں جن میں سے چوالیس پوسٹس “کڑیاں” کے زمرے میں شامل کی گئیں یہ زمرہ مختصر تبصرے اور فوری لنک شئیرنگ کے لئے مخصوص ہے۔
قریبا چھ سو اڑسٹھ تبصرہ جات ہوئے۔ سب سے زیادہ یعنی ایک سو چھیالیس تبصرہ جات میں نے خود ہی کرے ہیں۔ اس کے بعد میرا پاکستان اور اجمل صاحبان ہیں۔ ان صاحبان کی خاص توجہ کا میں بہت ممنون ہوں کہ یہ میری اکثر پوسٹس پڑھتے ہیں اور اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں اور میں ان کے بلاگ پر اتنے تواتر سے تبصرہ نہیں کرپاتا مگر یہ ہمیشہ حوصلہ افزائی فرماتے ہیں۔ اس کے بعد احمد صاحب ہیں جن کے بارے میں مجھے کچھ معلوم نہیں کہ وہ کون ہیں۔ سترہ ہزار ایک سو تئیس وزٹ ہوئے، نو ہزار یونیک وزٹر اور ساڑھے تین ہزار ریٹرننگ وزیٹر تھے۔

اس سال کی اپنی پوسٹس میں سے مجھے اپنی یہ تحاریر پسند ہیں:

اس سال سب سے زیادہ تبصرہ جات والی تحریر طالبان کے نقش قدم پر تھی۔ اس کے بعد شریعت اور جمہوریت۔ ان پر بالترتیب چھتیس اور تیس تبصرہ جات ہوئے۔ کچھ پوسٹس پر بیس سے زیادہ تبصرہ جات ہوئے اور کافی ساری پوسٹس پر کوئی تبصرہ نہیں ہوا کیوں کہ وہ محض لنکس تھے۔

ساتھی بلاگروں میں کونسی تحریر بہت پسند آئی۔۔۔۔ مجھے قدیر کی اکثر لطیف پوسٹس بہت زیادہ پسند آتی ہیں۔ میرے پسندیدہ بلاگر نبیل تھے مگر وہ اب نہیں لکھتے۔ رضوان نور صاحب کا بلاگ بھی مجھے بہت پسند ہے ان کی پوسٹ بارش ملاحظہ فرمائیں۔ جہانزیب، شاکر اور شعیب صفدر کے بلاگ بھی میں شوق سے پڑھتا ہوں۔ عمار ضیاء خان کی پوسٹ قصہ اخبار نکالنے کا بھی مجھے بہت پسند آئی۔

09/09/2007

mcgruff98دوسری منزل (دی سیکنڈ فلور) نامی کافی شاپ ان دنوں کراچی میں ادبی، سماجی تقریبات کا اہم مرکز بنتی جارہی ہے۔ کل وہاں سائبر کرائم بل کے حوالے سے سیمینار منعقد ہوا جس میں بیرسٹر جمیل صاحب نے اپنی پریزینٹیشن پیش کی۔ حکومت پاکستان کا سائبر کرائم بل پاکستان میں بلاگرز، صحافیوں، اداروں اور افراد کو کنٹرول کرنے کا نیا ہتھیار ہے جس سے ایف آئی اے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی بیش بہا مواقع مل جائیں گے۔ یہ بل ابھی تک پارلیمنٹ سے منظوری کا منتظر ہے اور یہی موقع ہے کہ اس میں تبدیلیاں کرائی جاسکتی ہیں۔

ڈاکٹر علوی سیمینار کی روداد اور اس بل کی خطرناک شقوں کو بیان کرتے ہیں۔ تحریر کے ساتھ ہی جمیل کی پریزینٹیشن بھی منسلک ہے۔

09/06/2007

کراچی میٹروبلاگنگ کی ٹیم کے منی سیمینار کی روداد۔ افسوس کہ میں اس میں شرکت نہ کرسکا اور کچھ نہیں تو ایک گوگل ٹی شرٹ ہی مل جاتی۔ اردو بلاگرز کو بھی اب سنجیدگی سے ایک تقریب کا سوچنا چاہئے۔

آپ کے سوال کیا ہیں؟

بتاریخ: 11 جولائی 2007

آپریشن سائلنس اپنے اختتام کو پہنچا۔جناب پرویز ہود بھائی چوک ڈاٹ کام پر اپنے مضمون “مزید لال مسجدوں کا تدارک” پر اس بارے میں اظہار خیال کرتے ہیں۔ قدیر، افضل، اجمل، نبیل، اظہر،خالد بھی فکرمند ہیں۔ ڈاکٹر علوی، پاکستانی اسپیکٹیٹر، اسلام آباد میٹروبلاگ کے بلاگر، دیگر کئی انگریزی اور اردو بلاگر، ان سب تحریروں پر تبصرہ جات کرنے والے، اور آنلائن فورمز پر۔ ٹی وی، ریڈیو، اخبارات ہر جگہ یہی ذکر ہے۔ چاہے کوئی انتہاپسندی کے اُس طرف ہے یا روشن خیالی کے اِس طرف۔ تشویش ان کو بھی ہے جو اعتدال کی نازک ڈور پر جھولتے ہیں اور ان کو بھی کہ جو بندوق تھامے محاذوں پر کھڑے ہیں۔

میرے ذہن میں بھی سوال ہیں۔ لیکن سردست صرف ایک سوال ہے جو میرے خیال میں ہم سب کو سوچنا ہوگا۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ سوال بہت بے چیدہ ہیں اور ان کے جوابات پر مشتمل حل ناقابل عمل معلوم ہوتے ہیں۔ مگر پھر بھی۔۔۔

پاکستان میں ایسے کتنے مدارس ہیں جو طالبعلموں کو اس بات پر اکسا رہے ہیں کہ وہ ملک کی عورتوں کے چہرے نقابوں سے ڈھک دیں نہیں تو ان پر تیزاب ڈال دیں۔ ایسے اور کتنے ادارے ہیں جو سی ڈیز جلانے، ہجاموں کی دکانوں پر حملے کرنے اور زنا کرنے والوں کو قتل کرنے کی ترغیب دے رہیں۔ کیا جہادیوں کی یہ فوج جو کشمیر اور افغانستان آزاد کرانا چاہتی تھی اب اپنا مقصد پاکستانیوں کو زیر کرنا بناچکی ہے؟ کیا ہمارے محلوں کے وہ بچے جو قرآن حفظ کرنے گئے ہیں واپسی پر ہمارے چہرے جھلسائیں گے اور ہمیں ڈرائیں دھمکائیں گے؟ نہیں سوال یہ نہیں۔

پاک فوج، پارلیمینٹ، حکومت پاکستان، سیاستدان، عدالتیں، میڈیا کیا یہ سب ادارے اس بات پر غور کررہے ہیں کہ اگر کسی دن یہ مدارس، یہ ادارے، یہ افراد ہاتھ سے نکل گئے تو پاکستان کی عوام کے جان و مال عزت و آبرو کی حفاظت کے لئے کتنے آپریشن سائلنس درکار ہونگے؟ اوں ہوں، نہیں یہ وہ سوال نہیں۔

مجھے سخت تشویش ہے، اور میری طرح ان سب پاکستانیوں کو بھی جو انٹرنیٹ پر، گھروں میں، دکانوں، بازاروں، گلیوں، محلوں، نکڑوں اور چائے خانوں میں اس وقت اپنی تشویش کا اظہار کررہے ہیں اور اس امید میں ہیں کہ کوئی ان کو یہ یقین دلائے گا کہ ان کی حفاظت کے لئے پاکستان میں کوئی قانون موجود ہے، ایسے ادارے اور ایسی عدالتیں موجود ہیں جو انصاف فراہم کرسکیں۔ لیکن پاکستانیوں کو یقین کون دلائے گا؟ جب یقین دلانے والے لوگ ہی قانون شکن، ادارہ شکن، آزادی دشمن، انصاف دشمن ہوں تو کوئی بھی پاکستانی کیسے کسی کی بات کا یقین کرے اور کیسے اس کا خوف دور ہو؟ کیا یہ وہ سوال ہے؟ شاید ہے یا شاید نہیں ہے۔

جامعہ حفصہ، فریدیہ، لال مسجد کے بعد آپریشن سائلنس کا راستہ چننا ہے یا تعلیم، انصاف اور آزادی کا؟ سوال یہ ہے۔

آپ کے ذہن میں کیا سوچ اور سوال ہیں؟

اپنا بلاگ بہتر بنائیں

بتاریخ: 08 جولائی 2007

اپنے بلاگ کی سی ایس ایس درست کریں اور فونٹس کی ترتیب سی ایس ایس میں یہ رکھیں:

font-family: "Nafees Web Naskh", "Urdu Naskh Asiatype", Tahoma;

اس ترتیب میں موجود فونٹ آگے پیچھے کر لیں تو مضائقہ نہیں ان کے ساتھ دوسرے فونٹ بھی شامل کرلیں لیکن اگر یہ تین فونٹ سی ایس ایس میں موجود ہونگے تو آپ کا بلاگ زیادہ پڑھے جانے کے لائق ہوسکتا ہے۔ میں اکثر بلاگ پوسٹس صرف اس لئے نظر انداز کردیتا ہوں کہ وہاں فونٹ سیٹنگز نامناسب ہیں اور انہیں پڑھنا دشوار ہے۔ ایسے نامعلوم کتنے ہی لوگ آپ کی بلاگ پوسٹس نظر انداز کردیتے ہونگے۔

اگر آپ ایپل کمپیوٹر استعمال کررہے ہیں تو عین ممکن ہے کہ آپ کے حروف درستگی سے نہ جڑتے ہوں خصوصا ہاتھی والا ہ الگ رہ جاتا ہو۔ اس کا مناسب ترین حل یہ ہے کہ آپ فائر فوکس اور اردو ویب ایڈیٹر استعمال کریں۔ اردو ویب ایڈیٹر کے استعمال کے بارے میں مفت مشورہ اور رہنمائی حاصل کرنے کے لئے آپ نبیل یا مجھ سے رابطہ کرسکتے ہیں۔

چند منٹوں کی کوشش سے آپ کا بلاگ زیادہ مقبول، زیادہ سہل اور زیادہ قابل ربط ہوسکتا ہے۔ اور بطور ایک لکھاری یہ آپ کا فرض ہے کہ آپ اپنا پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کریں۔ اگر آپ اپنے بلاگ کی سی ایس ایس درست کرنے سے قاصر ہوں تو میری مدد حاصل کرسکتے ہیں (بالکل مفت)۔ آپ کا نام صیغہ راز میں رکھا جائیگا۔

اگر آپ اپنے بلاگ کی سی ایس ایس صرف سستی کی وجہ سے درست نہیں کرتے۔ تو آپ کسی سے بھی یہ توقع نہ رکھیں کہ وہ آپ کا بلاگ پڑھنے، اس سے ربط رکھنے یا اس پر تبصرہ کرنے کی سخت محنت انجام دیں گے۔ اور آپ کا یہ رویہ ویب پر اردو کی ترویج کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ اردو کی ترقی کے لئے اپنے بلاگ بہتر بنائیں۔

بدی کے مقابل پیار کا بٹن

بتاریخ: 14 مئی 2007

I Love Karachiدور پار کی کسی ریاست میں ایک عظیم شہر ہے۔ شہر جو پورا ملک ہے۔ جو حسین تو نہیں، مگر جفاکش ہے، وفا شعار ہے اور لائق بھروسا ہے۔ جو ذمہ دار ہے، بڑا ہے، قدامت، جدت، مشرق اور مغرب کے بیچ میں کھڑا ہے۔ جو ایک پل ہے معاشی خوشحالی کا، خوابوں کا۔ جہاں پری زاد اور پریاں رہتی ہیں۔ جہاں برے جادوگر اور شیطان بھی بستے ہیں۔ یہ بدی کی طاقتیں ایک عرصے سے اس شہر کے پیچھے پڑی ہیں۔ یہاں کے رہنے والوں کو دہشت زدہ کرکے یہ ان کے خواب ان سے چھین لینا چاہتے ہیں۔ یہ برے جادوگر چاہتے ہیں کہ اس شہر میں ہر طرف فساد، آگ اور خون ہو۔

ان برے جادوگروں کے مقابلے میں ایک ننھا پری زاد ایک چھوٹا سے بٹن بناتا ہے۔ یہ بٹن ہے پیار کا۔ ننھا پری زاد لوگوں سے کہتا ہے کہ اپنے دروازوں، کھڑکیوں، لباس اور سواریوں پر یہ بٹن چسپاں کرلو۔ اس بٹن میں وہ منتر ہے جو بدی کی طاقتوں کے سارے مظالم کا جواب ہے۔ اسے دیکھ کر شیطان بھاگ تو نہیں جائیں گے، مگر یہ ان پر ویسا ہی اثر کرے گا جیسا آگ اور خون کی ہولی تم پر کرتی ہے۔ اس بٹن سے وہ شیطان دہشت زدہ ہوجائیں گے۔

آپ بھی اس ننھے پری زاد کا یہ جادوئی بٹن اپنے بلاگ، گاڑیوں، گھروں اور دکانوں پر لگائیں اور اس عظیم شہر کے مظلوم عوام کا ساتھ دیں۔

اردو سیارہ امپورٹ کریں

بتاریخ: 08 مئی 2007

feed-icon.pngاردو سیارہ ایک تیز ترین ذریعہ ہے اردو بلاگز پر نظر رکھنے کا۔ لیکن اردو سیارہ پر آپ مکمل پوسٹس نہیں پڑھ پاتے۔ اس کے علاوہ آپ ان اردو بلاگز پر شائع ہونے والی انگریزی پوسٹس بھی نہیں پڑھ پاتے۔ تصاویر اور روابط بھی اردو سیارہ پر نظر نہیں آتے۔ اس کا آسان ترین حل یہ ہے کہ آپ اردو سیارہ پر شامل تمام بلاگ کسی فیڈریڈر پر جاری کرالیں۔

مگر سیارہ پر تو فیڈز کی ایک طویل فہرست ہے ان سب کو کیسے شامل کیا جاسکتا ہے؟

اس کا حل بھی سیارے پر ہی موجود ہے۔ پیش خدمت ہے اردو سیارہ پر جاری فیڈز کی او پی ایم ایل فہرست۔ آپ اکثر اچھے فیڈ ریڈرز میں یہ او پی ایم ایل فیڈ امپورٹ کرسکتے ہیں۔

سیارے کی انتظامیہ سے درخواست کرونگا کہ وہ اس او پی ایم ایل فیڈ کا ربط، سیارہ کی سائیڈ بار میں اہم کے زمرے میں شامل کردیں تاکہ لوگ ان روابط کو اپنے بلاگ رول، فیڈ ریڈر یا بک مارکس وغیرہ پر امپورٹ کرسکیں۔

تماشہ میرے آگے

بتاریخ: 10 جنوری 2007

کافی سوچ بچار کے بعد میں نے اپنا انگریزی بلاگ شروع کردیا ہے۔ مجھے انگریزی لکھنے کا کوئی ایسا خاص شوق یا تجربہ نہیں اور نہ ہی مجھے انگریزی میں لکھ کر ایسا لطف آتا ہے جیسا اردو میں لکھنے پر آتا ہے۔ مگر پھر بھی میں انگریزی میں بلاگ لکھ رہا ہوں۔ اس کی سب سے خاص وجہ یہ ہے کہ میں زیادہ قارئین تک رسائی پانا چاہتا ہوں۔ حالانکہ ویب پر اردو پڑھنے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور پاکستانی انگریزی بلاگ منظر اردو بلاگستان کے مقابلے میں بہت بڑا ہے۔ مگر انگریزی بلاگستانیوں کا اردو بلاگز کے ساتھ رویہ نہ سمجھ آنے والا ہے۔ وہ اپنے مباحثے اردو بلاگستان کے ساتھ نہیں بانٹتے۔ دیگر اردو پڑھنے والے بھی تبصرہ لکھنے میں یا اپنی موجودگی کا کسی بھی قسم کا احساس دلانے سے گریزاں رہتے ہیں۔

بلاگنگ کا آغاز کرتے ہوئے یہ خیال میرے ذہن میں اتنا طاقتور نہیں تھا کہ میں اپنے خیالات بانٹنا چاہتا ہوں۔ مگر اب یہ خیال قوی تر ہے اور بلاگنگ کی سب سے پہلی اور آخری وجہ بھی۔ دیگر وجوہات میں ستائش کی طلب بھی شامل ہے، جس کے معاملے میں آپ پڑھنے والے ہمیشہ شرمندہ کردینے کی حد تک سخی رہے ہیں۔ اس نرم دلی اور حوصلہ افزائی پر میں آپ سب کا ہمیشہ مشکور رہوں گا۔

انگریزی بلاگ شروع کرتے وقت صرف ایک چیز مجھے زیادہ پریشان کررہی تھی۔ وہ یہ کہ اس طرح میری اردو بلاگنگ کم ہوجائیگی۔ اور گرچہ میں ابھی بھی یہ نہیں سمجھتا کہ اب میں اردو میں زیادہ سے زیادہ بلاگنگ کرسکوں گا، تاہم میں اردو میں بلاگنگ کے سلسلے کو جاری رکھوں گا اور وقتا فوقتا اپنی روشن خیال اور مغربی طرز فکر سے متاثر افکار سے اجالے بکھیرتا رہوں گا۔

یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ انگریزی بلاگ کو کیسی پذیرائی حاصل ہوتی ہے۔ یہ بات بھی بعید از قیاس نہیں کہ متوقع حوصلہ افزائی نہ پانے پر میں انگریزی میں بلاگنگ اتنے تواتر سے نہ کرسکوں جیسے اردو میں کرتا رہا ہوں۔ مگر اس کا امکان کم ہے، کیونکہ ایک تو میں بہت اچھا لکھتا ہوں، دوسرا یہ کہ انگریزی بلاگستان کو اب تک میرے ایسا بلاگر میسر نہیں آیا تھا اور مجھے یقین ہے کہ میرا بلاگ دیکھتے ہی وہ فرط جذبات سے بے قابو ہوجائیں گے۔ تیسرا یہ کہ مجھے یقین ہے کہ آپ دوست وہاں بھی میری حوصلہ افزائی کو آموجود ہونگے۔ آئیں گے نا؟

تماشا ۔ ایک تماش بین کی ڈائری

اردو بلاگستان۔ ایک جائزہ چند تجاویزحصہ دوئم

بتاریخ: 21 دسمبر 2006

بہتر بلاگنگ

اگر کوئی آپ سے کہتا ہے کہ بلاگنگ لکھنے سے مختلف ہے تو وہ غلط کہتا ہے۔ بلاگنگ درحقیقت لکھنا ہی ہے۔ آپ کا بلاگ اتنا ہی بہتر ہے جتنا اچھا وہ لکھا گیا ہے۔ مگر ظاہر ہے آپ کوئی پیشہ ور انشاء پرواز تو نہیں، اور ہونا بھی نہیں چاہئے کیونکہ میری مانیں لوگ انشاء پروازوں سے تنگ ہیں۔ مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ وہ کسی دیوانے کی بڑبڑاہٹ کو زیادہ عرصے تک دلچسپ خیال کرتے رہیں گے۔

اچھا لکھنے سے یہاں مراد یہ ہے کہ ایسا مواد جہاں لکھنے والا اپنا پیغام پڑھنے والے تک پہنچا سکے۔ یہ بالکل سادہ اور آسان سی بات ہے۔ اگر آپ اپنے جذبات، احساسات، خیالات اور تصورات کسی کو لکھ کر سمجھا سکتے ہیں تو آپ ایک اچھے لکھاری ہیں۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ لکھنا اور ویب پر لکھنا ایک جیسے کام ہیں مگر ان کو انجام دینے کے ڈھنگ اور طور طریقے الگ ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ جس طرح روایتی میڈیا میں خبر، مضمون، کالم، اشتہار ، وغیرہ لکھنے کے الگ طریقے ہوتے ہیں ایسے ہی بلاگ لکھنا بھی ویب پر لکھی جانے والی دیگر اصناف سے مختلف ہے۔

بلاگنگ ڈائری لکھنا نہیں۔ یہاں لوگ آپ کے لکھے کو پڑھتے بھی ہیں، اس پر تبصرے بھی کرتے ہیں، اسے اپنے بلاگ یا ویب سائٹ پر بھی نمایاں کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس بارے میں بتاتے ہیں۔ تو بنیادی طور پر بلاگنگ قاری اور لکھاری کی انٹرایکشن کا نام ہے؟

غالبا نہیں۔ کیونکہ کئی بلاگ ایسے بھی ہیں جہاں تبصرہ جات نہیں ہوتے، صرف روابط ہوتے ہیں، پوسٹس ہوتی ہیں۔ دراصل بلاگنگ ویب کا وہ نمونہ ہے کہ جہاں ہائپرٹیکسٹ کے ذریعے لوگ خیالات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ چاہے وہ یہ تبصرہ جات کی صورت کریں یا روابط بانٹ کر کریں۔ تو صرف بہتر اظہار خیال ہی نہیں، بہتر صارف انٹرایکشن بھی ایک اچھے بلاگ کے لئے ضروری ہے۔ یعنی جب کوئی صارف آپ کی اچھی تحریر آپ کے بلاگ پر پڑھے تو ایسا نہ ہو کہ اسے پڑھنے کے بعد وہ خود کو بند گلی میں پائے۔ آپ کو اسے کچھ ایسی ایکٹویٹی فراہم کرنا ہوگی جس سے وہ اس گفتگو پر آگے کچھ پڑھ سکے، اپنے خیالات کا اظہار کرسکے یا اسے دوسروں سے بانٹ سکے۔ آگے کچھ پڑھنے والا کام اتنا مشکل نہیں، اس کے لئے مناسب جگہوں پر حوالہ جات دینے، ربط فراہم کرنے سے کام چل جاتا ہے۔ مگر صارف سے تبصرہ کروانا یا اسے اس بات پر مجبور کرنا کہ وہ اس موضوع کو آگے پہنچائے ایک مشکل مرحلہ معلوم ہوتا ہے۔ اور اس مرحلے سے گزر کر ہی آپ اچھی بلاگنگ کرسکتے ہیں۔

تبصرہ جات کے لئے ضروری ہے کہ آپ کی پوسٹ میں کچھ ایسے سوالات ہوں جن پر قاری کی رائے معلوم کی گئی ہو۔ میں اپنی گذشتہ پوسٹس میں یہ تجربات کرچکا ہوں۔ دیکھیں

مثال نمبر ایک میں قاری کو اکسایا گیا ہے کہ وہ ایک موضوع پر اپنی رائے کا اظہار کرے۔ مثال نمبر 2 ایک پوسٹ ہے لیکن اس میں قاری کو مجبور نہیں کیا گیا کہ وہ اظہار خیال کرے بلکہ لکھنے والے نے یعنی میں نے صرف اپنی رائے کا اظہار کیا ہے اور ان کی بات جاننے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ مثال نمبر 3 میں کچھ ربط ہیں اور یہاں انٹرایکشن کا کام قاری ربط پر کلک کرکے انجام دیتا ہے اور تبصرے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ میرا بلاگ ایک بہتر بلاگ ہے۔ بلکہ میں اپنے تجربات آپ کو بتا رہا ہوں۔ آپ بھی انہیں اپنے بلاگ پر آزمائیں اور دیکھیں کیا نتائج نکلتے ہیں۔

اگر بلاگ پر لوگ تبصرہ نہ کریں، روابط نہ بانٹیں یا دوسرے بلاگز پر ہونے والے تذکروں پر نہ بات کریں تو وہ بلاگ ایک بہتر بلاگ نہیں ہے۔ اگر آپ کا لکھا ہوا مواد لوگوں کے ذہن میں کوئی سوال، کوئی خیال پیدا کرتا ہے۔ تو آپ ایک اچھے لکھاری ہیں۔ لیکن۔ اگر آپ کا لکھا ہوا لوگوں کے ذہن میں نہ صرف کوئی خیال یا سوال پیدا کرتا ہے بلکہ انہیں اس بات پر اکساتا بھی ہے کہ وہ اپنے ذہن کی بات آپ کے بلاگ پر یا ویب پر کہیں بھی دوسروں سے بانٹیں، تو پھر آپ ایک اچھے بلاگر ہیں۔

لیکن کیا آپ ایک اچھے لکھاری بھی ہیں؟ غالبا نہیں۔ اکثر بلاگر شوق میں اپنے روز مرہ معمولات میں سے وقت نکال کر لکھتے ہیں۔ لکھنے کے میدان میں ان کا تجربہ اتنا کوئی خاص نہیں ہوتا۔ لیکن ویب کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہاں لوگ روایتی میڈیا کے برعکس سادہ، مختصر اور جامع بات کو پسند کرتے ہیں۔ تو اچھا لکھنے کے لئے آپ کو جملے بنانے اور اپنی بات کو آسان ترین طریقے سے بیان کرنا آنا چاہئے۔ بعد میں جیسے جیسے آپ کو اس میں مہارت حاصل ہوتی جائے ویسے ویسے آپ لفاظی پر مشق ستم آزماتے جائیں۔

اس موضوع پر ویب سے چند منتخب مضامین:

اردو بلاگستان۔ ایک جائزہ چند تجاویز

بتاریخ: 18 دسمبر 2006

ایک عرصہ ہوا اردو میں بلاگنگ کا سلسلہ شروع ہوئے۔ اس دوران ویب پر اردو نے خوب ترقی کی۔ لیکن اردو بلاگستان کی مجموعی کارکردگی اور ترقی کوئی اتنی دل خوش کن نہیں رہی۔ گرچہ اردو بلاگوں میں اضافہ جاری ہے مگر یہ اضافہ بلاگستان کے مجموعی اوسط اضافے سے بہت کم ہے۔ اس کے علاوہ اردو بلاگستان معیار کے اعتبار سے بھی کافی پیچھے ہے۔ اس پوسٹ میں اور اس کے بعد آنے والی چند پوسٹس میں ہم اردو بلاگستان کو درپیش رکاوٹوں، خامیوں، کمزوریوں کا جائزہ لیں گے اور صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے تجاویز دیں گے۔ یہ ایک کھلا مباحثہ ہے اور اس امید پر شروع کیا جارہا ہے کہ اردو بلاگرز اس سلسلے میں اپنی آراء کا اظہار کریں گے، تجاویز پیش کریں گے اور اس سلسلے میں لائحہ عمل طے کرنے میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔

اس سلسلے میں درج ذیل موضوعات پر بات ہوگی:

  • اردو لکھنا پڑھنا
  • بلاگ ڈیزائن اور قابلیت استعمال
  • بہتر بلاگنگ

اردو لکھنا پڑھنا

بہت سے لوگ جو ایک عرصے سے کمپیوٹر استعمال کررہے ہیں، اردو سے محبت بھی کرتے ہیں اور اردو میں لکھنا بھی چاہتے ہیں، پھر بھی ابھی تک اس بات سے ناواقف ہیں کہ وہ اپنے کمپیوٹر پر اردو کیسے لکھیں۔ اس سلسلے میں اردو ویب ڈاٹ آرگ کی کوشش قابل تحسین ہے۔ مگر اس سے بھی بہت زیادہ کیا جاسکتا ہے۔ مثلا ایسے تمام ویبسائٹ اور بلاگ جو اردو میں ہوں وہاں فونٹ انسٹالیشن کے ساتھ ہی ایک ربط ہونا چاہئے جو یا تو اردو ویب ڈاٹ آرگ کے ٹیوٹریل کی طرف لے جاتا ہو۔ یا اگر بلاگر یا ویب ماسٹر چاہیں تو اردو وکی کے صفحے کا مواد اپنے سائٹ پر نقل کرلیں اور پھر اس کا ربط فراہم کردیں۔ جتنے زیادہ صفحات پر اس ٹیوٹریل کا لنک موجود ہوگا اتنا زیادہ اس بات کا امکان ہوگا کہ نئے لوگ اپنے کمپیوٹر پر اردو لکھنا سیکھ سکیں گے اور زیادہ سے زیادہ لوگ اپنے اردو بلاگ لکھنے کے لائق ہوسکیں گے۔

عجیب بات یہ ہے کہ ابھی تک بہت سارے لوگ ایسے ہیں جن کے کمپیوٹر پر اردو فونٹ انسٹال نہیں ہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ تمام اردو بلاگ و ویبسائٹ فونٹ انسٹالیشن کی ہدایات اور ڈاؤنلوڈ کا ربط اپنے سائٹس پر رکھیں۔ ایسے تبصرہ جات کو خصوصی توجہ دی جائے جن میں کوئی صارف آپ کے بلاگ یا سائٹ پر اردو نہ پڑھ سکنے کی شکایت کرے۔ معلوم کریں وہ لوگ کونسا آپریٹنگ سسٹم اور براؤسر استعمال کررہے ہیں اور انہیں فونٹ انسٹالیشن کی بابت جتنی ممکن ہوسکے رہنمائی فراہم کریں۔ یاد رکھیں اس سے نہ صرف آپ کے سائٹ کی ریڈرشپ میں اضافہ ہوگا بلکہ مجموعی طور پر تمام اردو ویب کی قدر بڑھے گی۔

ڈیزائن اور قابلیت استعمال

اردو بلاگستان میں جو خامی سب سے زیادہ پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ بلاگز کے ڈیزائن انتہائی بدنما ہوتے ہیں۔ جس سے اچھا مواد بھی پڑھنا کافی ثقیل ہوجاتا ہے۔ اردو بلاگستانی اپنے سائٹ کے ڈیزائن میں اس بات کا خیال نہیں رکھتے کہ آیا ان کا سائٹ مشہور براؤسروں پر قابل استعمال ہے یا نہیں، ان کے صفحات آسانی سے پڑھے جاسکتے ہیں۔ فونٹ سائز زیادہ چھوٹا یا زیادہ بڑا تو نہیں۔ تبصرہ جات میں لوگ آسانی سے اردو اور انگریزی لکھ سکتے ہیں یا نہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔

مجھے نہیں معلوم کہ لوگ کیوں اپنے بلاگز کو ایسی بری حالت میں چھوڑے رکھتے ہیں حالانکہ وہ پابندی سے بلاگ لکھ رہے ہوتے ہیں مگر وہ اپنی بلاگ کی بدنمائی یا قابلیت استعمال کے بارے میں بالکل فکرمند نہیں ہوتے۔ اس سے ان کا صارف مایوس ہوتا ہے اور یہ خیال کرتا ہے کہ جو لوگ سائٹ کے ڈیزائن کو اس طرح رکھتے ہیں ان کا لکھا بھی ایسا ہی ہوتا ہوگا، ناپختہ، بدنما اور بے ڈھنگا۔

ایک اچھا بلاگ ڈیزائن وہ ہے جو قابل استعمال ہو اور صارف کو آسان معلوم ہو۔ اس بارے میں انگریزی زبان میں ویب پر بے تحاشا معلومات موجود ہے۔ جس استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ ظاہر ہے ایک عام بلاگر پیشہ ور ویب ڈیزائنر نہیں ہوتا۔ لیکن چند سادہ اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی بھی شخص ایک قابل استعمال سائٹ بناسکتا ہے۔

اس سلسلے میں میری تجویز یہ ہے کہ ہم اردو ویب ڈاٹ آرگ کے پلیٹ فارم سے ایک ایسا پروجیکٹ شروع کریں جس کے تحت چند سادہ اردو تھیم ورڈپریس اور بلاگر کے صارفین کو پیش کئے جائیں۔ لیکن ان تھیمز کی خصوصیت یہ ہونی چاہئے کہ وہ بہت زیادہ آزمائش اور معیاربندی کے بعد جاری ہوں۔ لیکن ہر کوئی اپنے بلاگ کا تھیم خود تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ گرچہ میں کوئی ایکسپرٹ تو نہیں لیکن چند چیزیں جو میں نے سیکھی ہیں وہ یہاں بانٹنا چاہوں گا۔

ڈیزائن کے حوالے سے یاد رکھنے کی باتیں۔

1۔ فونٹ کا انتخاب
یہ بہت ضروری ہے کہ آپ اپنی اسٹائل شیٹ میں کم از کم تین فونٹ ضرور رکھیں۔ نفیس ویب نسخ، اردو نسخ ایشیا ٹائپ اور ٹاہوما۔ آج کل ایک فونٹ پاک نستعلیق کا چرچا ہے لیکن میں قطعا یہ مشورہ نہیں دونگا کہ اسے کسی بھی بلاگ کی اسٹائل شیٹ میں بطور ترجیح اول رکھا جائے۔ کیونکہ اس میں ابھی کافی خامیاں ہیں۔ میری ذاتی رائے میں نفیس ویب نسخ اس وقت سب سے زیادہ عمدہ فونٹ ہے۔ اردو نسخ ایشیاٹائپ، بی بی سی اردو کا فونٹ ہے اسلئے تقریبا ہر اردو پڑھنے کے شائق کے کمپیوٹر پر نصب ہوتا ہے۔ اور ٹاہوما مائکروسوفٹ ونڈوز ایکس پی اور دو ہزار میں بائی ڈیفالٹ انسٹال ہوتا ہے۔ یوں آپ کا بلاگ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لئے پڑھے جانے کے لائق ہوجاتا ہے۔

2۔ فونٹ کا سائز
اردو کے تمام فونٹ چھوٹے رکھنے پر پڑھے جانے کے لائق نہیں رہتے۔ اس لئے آپ اپنے بلاگ پر فونٹ کا سائز 16 پکسل رکھیں۔

3۔ فونٹ کا رنگ

کالا یا سرمئی رنگ اگر آپ ہلکے رنگ کا بیک گراؤنڈ کلر استعمال کررہے ہیں ورنہ سفید کے کئی شیڈ استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ یہ دیکھیں کہ اس رنگ میں آپ کا ٹیکسٹ بالکل واضح نظر آئے اور صارف کو اسے پڑھنے کے لئے آنکھوں پر زور نہ ڈالنا پڑے۔

4۔ روابط کا رنگ

آپ کے بلاگ پر جو لنک ہوں ان کے رنگ میں ایک تسلسل رکھیں۔ انہیں نمایاں کریں۔ اردو لکھنے میں ایک مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ جب آپ کسی اردو لفظ کو لنک بنانا چاہتے ہیں تو ایچ ٹی ایم ایل لکھنے کے لئے انگریزی میں سوئچ کرتے ہیں جس سے اکثر لوگوں کو یہ سمجھ نہیں آتا کہ ان کا ٹیگ کہاں ختم ہوا اور کہاں شروع۔ بعد میں وہ اسے جوں کا توں شائع بھی کردیتے ہیں۔ اسی باعث اردو کے بلاگز پر اکثر ایسی پوسٹس نظر آتی ہیں جن میں پورے پورے پیراگراف لنک ہوئے ہوتے ہیں۔ تھوڑی سی مشق سے اس خامی پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

4۔رنگوں کا انتخاب

اچھا تو آپ کو ہرا اور نارنگی رنگ بہت پسند ہے۔ مگر جناب آپ کا ویب سائٹ یا بلاگ کوئی گولا گنڈا نہیں کہ ایسے رنگ برنگی بنانا ضروری ہو۔ آنکھوں کو چبھنے والے رنگوں سے گریز کریں۔

سائڈ بار
آپکی سائڈ بار کسی سرکاری دفتر کی فائلوں کی الماری نہیں کہ اس میں جو جی چاہے ٹھوس دیا۔ اکثر اردو بلاگرز کی سائڈ بارز میں عجیب و غریب گرافک اینیمیشنز، تصاویر، بھونڈے ربط، بلاگ ڈائریکٹریوں کے ربط اور پتہ نہیں کیا کیا الا بلا بھرا ہوتا ہے۔ اس کچرے کو صاف کریں۔ آپ کی سائڈ بار میں زیادہ سے زیادہ روابط ہوں اور کم سے کم تصویریں اور ان تمام روابط کی پیش کش کا انداز یکساں رکھیں۔ یہ نہیں کہ کوئی ربط تو بہت بڑے فونٹ میں ہے اور کوئی بالکل چھوٹے۔ کہیں کوئی ربط سائڈ بار سے نکل کر مین کنٹینٹ پر چڑھا جارہا ہے۔

تصاویر
اپنے بلاگ پر بھاری گف اینیمیشن ڈالنے سے پرہیز کریں۔ کیونکہ ایک تو یہ لوڈ ہونے میں وقت لیتی ہیں، آپکی بینڈوتھ ضائع کرتی ہیں اور دوسرا یہ کہ اکثر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ زیادہ تر ویب صارفین گف اینیمیشنز سے کوفت زدہ ہوتےہیں۔ یاد رکھیں چاہے کوئی گف اینیمیشن آپ کو کتنی ہی کیوٹ لگتی ہو لیکن آپ بلاگ کے ڈیزائن کے لئے وہ زہر قاتل ہے اس سے حتی الامکان پرہیز کریں۔

5۔ کراس براؤسر ٹیسٹنگ
اپنے بلاگ کو کم از کم فائر فوکس اور انٹرنیٹ ایکسپلورر کے مختلف ورژن پر چیک کریں۔

جاری ہے۔۔۔