بےنظیر

موضوع: بےنظیر

امید کا فسانہ

بتاریخ: 24 جنوری 2008

امید آزادی ایک ایرانی بلاگر ہیں جو فارسی اور انگریزی میں لکھتے ہیں۔ ان دنوں یہ امریکی شہر اٹلانٹا کے ایک ہائی اسکول کے طالبعلم ہیں۔ انہوں نے شہید جمہوریت محترمہ کے بیٹے بلاول کے بارے میں ایک افسانہ لکھا ہے۔ یہ افسانہ جس کا عنوان بلاول کا جنون ہے امید نے اپنی ورلڈ لٹریچر کلاس میں پیش کرنے کے لئے لکھا تھا۔ امید ایک انتہائی ذہین اور سمجھدار نوجوان ہیں۔ اس کا اندازہ مجھے ان کے ساتھ ای میلز کے تبادلے کے بعد ہوا۔ وہ اپنے افسانے میں بلاول کا انجام بھی اس کی ماں جیسا ہی دکھاتے ہیں جو مجھے نامناسب لگا میرا خیال تھا کہ اس سے بہتر اختتام یہ ہوتا کہ بلاول وزیر اعظم ہاؤس میں حلف اٹھانے کے بعد اعلان کرتا کہ اس نے اپنی ماں کا انتقام لے لیا۔ امید کا کہنا ہے:

میری پیشن گوئی میرے ذاتی تخیل یا بغض پر مبنی نہیں بلکہ کچھ سماجی اور تاریخی حقائق ہیں جن پر میں ہمیشہ اپنے ملک، ایران میں پیش آنے والے حالات کی وجہ سے اعتماد کرتا ہوں۔ سوشیولوجیکلی، جمہوریت ایک اچانک رونما ہونے والا انجام نہیں بلکہ منظم معاشرتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہوتا ہے جن سے پاکستان نہیں گزرا۔ اپنے ملک کے تجربات کی روشنی میں، میں پاکستان کی جمہوری تحاریک کے بارے میں ایسا سوچتا ہوں۔ یہ میری پیشن گوئی ہے جو میں امید کرتا ہوں کہ سچ ثابت نہ ہو لیکن میں محسوس کرتا ہوں کہ بھٹو کی تحریک تقریبا انہی وجوہات کی وجہ سے ناکام ہوجائیگی جن کی وجہ سے پچاس سال قبل مصدق کی تحریک ناکام ہوگئی تھی۔

میری رائے ابھی بھی امید سے مختلف ہے، لیکن اس کی اس دلیل میں وزن ہےکہ جمہوریت کو اپنانے کے لئے معاشرے کو جن تبدیلیوں سے گزرنا پڑتا ہے ان سے گزرے بغیر پاکستان جمہوریت اپنانے میں ناکام رہے گا۔ ہمارے معاشرے کا تعلیم یافتہ مڈل کلاس طبقہ جمہوریت کو ایک فضول خیالی پلاؤ تصور کرتا ہے۔ کبھی اس طبقے کے مفاد میں ہو تو اس پلاؤ کی دیگیں چڑھائی جاتی ہیں، جج بحال کرائے جاتے ہیں پتھراؤ کرے جاتے ہیں۔ اور کبھی جب ان کے مفاد میں ہو تو یہ ہر غیرقانونی کام پر خاموش رہتے ہیں اور شور نہیں مچاتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر جدوجہد کرنی ہے تو ہمیں اپنے معاشرے میں کرنا ہوگی جو جمہوریت کی راگنی تو الاپتا ہے لیکن اسے اپنانے کو پوری طرح تیار نہیں۔

01/03/2008

امریکی جریدے نیویارکر کے مدیر، پلٹزر پرائز یافتہ صحافی اور ادیب، ڈیوڈ ریمنک اس ہفتے کے نیویارکر پر “ٹاک آف دی ٹاؤن” سیکشن میں بےنظیر بھٹو اور امریکی صدارتی امیدواران کے بارے میں لکھتے ہیں۔ اس سے یہ اندازہ لگانا دشوار نہیں کہ پاکستان کا عدم استحکام، انتہاپسندی اور لبرل، معتدل، سویلین قوتوں کی پسپائی دنیا کے لئے کس قدر فکر کا باعث ہے۔

01/02/2008

فاطمہ بھٹو: الوداع بڑی بوا ۔۔۔ الوداع

حکومت پاکستان کے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نے بیت اللہ محسود اور مولوی کے درمیان ہونے والی گفتگو کی ریکارڈنگ اپنے ویب سائٹ پر جاری کردی ہے۔

نادیہ خان شو پر محترمہ کے اسکول و کالج کے ساتھیوں اور دیگر دوست احباب کے انٹرویو۔

خون ناحق کی صدا

بتاریخ: 31 دسمبر 2007

میں اپنے بلاگ پر کئی مرتبہ لکھ چکا ہوں کہ پاکستان کی عوام کو ہر صورت الیکشن کے دن باہر آنا ہوگا اور اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنا ہوگا۔ کیونکہ یہ بات ازحد ضروری ہے کہ پاکستان کو موجود خطرناک حالات سے ایک منتخب حکومت نمٹے۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے الیکشن میں ہرصورت حصہ لینے کا اعلان کیا ہے، پاکستان مسلم لیگ (ن) بھی الیکشن میں حصہ لینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ عالمی برادری پاکستان پر جمہوریت کی طرف واپسی کے لئے دباؤ ڈال رہی ہے اور دنیا ہماری طرف دیکھ رہی ہے کہ ہم کس راستے کا انتخاب کرتے ہیں۔ ایک راستہ عالمی برادری میں ہماری قدر، ہمارے اعتماد اور بطور قوم ہمارے وقار میں اضافے کا سبب بنے گا۔ اور دوسرا راستہ خودکشی کا ہے۔

اسٹیبلیشمنٹ نے اپنے پسندیدہ نمائندوں کو جتانے کا انتظام کر رکھا ہے۔ گھوسٹ پولنگ اسٹیشن، مہرزدہ بیلٹ پیپرز، انتخابی فہرستوں کے گھپلے اور بلدیاتی انفراسٹرکچر کا انتخابی استعمال سمیت کئی الزامات لگائے جارہے تھے۔ پاکستان کے دونوں سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور بےنظیر کے اعلان کیا تھا کہ وہ الیکشن میں حصہ لیں گے اور لوٹا لیگ کے لئے میدان کھلا نہیں چھوڑیں گے۔ محترمہ پچھلے دو سال سے جنرل اور صدر مشرف سے مذاکرات کرتی رہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد کچھ لوگ اقتدار کا حصول بتاتے ہیں۔ میں ان لوگوں سے یہ سوال کرتا ہوں کہ کیا بیلٹ پیپر کے ذریعے اقتدار کے حصول کی کوشش کرنا جرم ہے؟ اگر جرم ہے تو یقینا اس کی مذمت کریں۔ اگر نہیں ہے تو ستائش کریں کہ محترمہ نے ہمیشہ بیلٹ پیپر کے ذریعے اقتدار کے حصول کو اپنا طریقہ بنایا اور احتجاجی سیاست سے گریز کرا۔ اس کے لئے انہوں نے نواز شریف کے ساتھ چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط کرے۔ اس کے لئے انہوں نے پرو مشرف ہونے کا طعنہ بھی سنا۔ مگر مذاکرات، ڈپلومیسی اور آئینی طریقے سے مشرف کو رخصت کرنے کو صحیح اور بہتر راستہ چنا۔ چاہے آپ کو بے نظیر سے کتنے ہی اختلاف ہوں لیکن کیا آپ بھی میری طرح یہ باتیں سوچ رہے ہیں:

  • بے نظیر میں ایسا کیا تھا کہ کچھ لوگوں کو اسے قتل کرنا پڑا؟
  • وہ کون لوگ تھے کہ جن کے مفادات کو بےنظیر کی کامیابی سے نقصان پہنچنا تھا؟
  • کیا اسے اس لئے قتل کیا گیا کہ وہ انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف تھی؟
  • یا اسے اس لئے قتل کیا گیا کہ وہ پاکستان کے عوام کی ووٹوں پر منتخب ہوکر اقتدار میں آنا چاہتی تھی؟
  • کیا دہشت گردی کو غلط سمجھنا گناہ ہے؟ کیا عوام کی طاقت، پارلیمنٹ کی بالادستی اور جمہوریت کے لئے کام کرنا غلط ہے؟

جن لوگوں نے بےنظیر کو قتل کیا وہ پاکستان کے دشمن تھے، وہ پاکستان کی عوام کے دشمن تھے۔ وہ نہیں چاہتے کہ پاکستان کی عوام کو جمہوریت، انصاف، امن اور خوشحالی حاصل ہو۔ کیا آپ ان کا مقصد کامیاب ہونے دیں گے؟ یا آپ الیکشن کے دن گھر سے نکلیں گے اور ووٹ دیں گے؟ آپ اگر بے نظیر کے مداح ہیں تو شہید شہزادی کے مقصد کو کامیاب بنائیں۔ اگر آپ بےنظیر کے نقاد ہیں تب بھی گھر سے نکلیں، اور پیپلزپارٹی کو نہ سہی، اپنی پسند کے نمائندے کو ووٹ دیں اور پاکستان کے دشمنوں کے منصوبوں کو ناکام بنادیں۔ اگر آپ ووٹ نہیں ڈالیں گے تو آمریت، ظلم، دہشت گردی، نا انصافی، اور افراتفری جاری رہے گی۔

ایک اور بھٹو آگیا ہے

بتاریخ: 30 دسمبر 2007

new-bhutto.jpg

جب میں اپنے بلاگ پر محترمہ کے ایک انٹرویو کے بارے میں لکھ رہا تھا تو مجھے معلوم نہیں تھا کہ دن اتنی جلدی آجائے گا۔ مگر نیا شہزادہ آگیا ہے۔ ایک اور بھٹو میدان سیاست میں اتر چکا ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے اپنے مختصر سے خطاب میں کہا کہ وہ پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے ممبران کے شکرگزار ہیں کہ جنہوں نے انہیں بطور چئیرمین نامزد کیا۔ وہ پیپلزپارٹی کے تمام چئیرپرسنز کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے جمہوریت اور وفاق پاکستان کی مضبوطی اور سلامتی کے لئے کام کریں گے۔ آخر میں انہوں نے جذبات سے مغلوب آواز میں کہا کہ ان کی والدہ ہمیشہ کہا کرتی تھیں، جمہوریت بہترین انتقام ہے۔

12/30/2007

نیویارک ٹائمز پر:
پاکستان کے مقامی دہشتگرد، القاعدہ خطرے میں اضافے کا سبب

پاکستانی انگریزی اخبار ڈیلی ٹائمز اپنے ادارئے میں لکھتا ہے کہ حملے کرکے جھٹلانا القاعدہ کے لئے کوئی نئی بات نہیں۔ گرچہ محترمہ کو اس بات کا اندازہ تھا کہ القاعدہ اور طالبان کی ٹاپ ہٹ لسٹ پر ان کا نام ہے اور یہ کہ ان کے سیاسی مخالفین بھی انہیں مکمل امریکہ نواز اور پرو مشرف ثابت کرنے پر تلے ہیں۔ تب بھی وہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کو پاکستان کو لاحق سب سے بڑا خطرہ قرار دیتی رہیں۔ انہیں اس بات کی پرواہ نہیں تھی کہ اس سے وہ امریکہ نواز ثابت ہورہی ہیں اور اس کا اثر ووٹوں پر پڑ سکتا ہے۔

چاہے آپ اس بات سے سرے سے انکاری ہوں کہ بےنظیر کا قتل القاعدہ کے مقامی دہشتگردوں نے کیا ہے۔ تب بھی اس حقیقت سے انکار کرنا بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلینے کے مترادف ہوگا کہ پاکستان کو انتہاپسند دہشت گردوں سے شدید خطرہ لاحق ہے۔ قوم کو چاہے دہشت گردی سے نمٹنے کے مشرف کے طریقہ کار پر اعتراض ہو، لیکن ایک بھیانک خطرہ جو بالکل سامنے کھڑا ہے اسے پہچان لینا چاہئے۔ محترمہ کے مخالفین ان پر امریکہ کا پٹھو اور مشرف نواز ہونے کا الزام لگاتے رہے۔ لیکن اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بھی وہ پاکستان کے اینٹی امریکی ماحول میں بھی سچ کہتی رہیں، یہ سوچنا حماقت ہوگا کہ محترمہ کو پرو امریکہ ہونے کے سیاسی اور انتخابی مضمرات سے آگاہی نہیں تھی یا یہ کہ وہ روایت پسند اردو میڈیا پر کی جانیوالی اپنی کردارکشی سے بے خبر تھیں۔ لیکن ان کے ذہن میں بھی ضرور یہ خیال تھا کہ کیا ہم دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ صرف اس لئے نہ لڑیں کیونکہ یہ امریکہ کے مفاد میں ہے؟ کیا ہزاروں پاکستانیوں کی زندگیوں کو لاحق خطرہ بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو ہماری جنگ نہیں بناتا۔

12/30/2007

ٹیلیگراف یو کے پر بیت اللہ محسود اور کسی مولوی صاحب کے درمیان ہونے والی مبینہ گفتگو کا ٹیکسٹ جو کہ حکومت پاکستان نے جاری کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جیسا کہ گفتگو سے پتہ چلتا ہے کہ بیت اللہ محسود، مولوی کو اپنے کسی جگہ پر قیام کے بارے میں بتا رہا ہے۔ تو کیا حکومت پاکستان نے اس جگہ بمباری کی؟ کیا فوری طور پر محسود کو اور مولوی کو انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت گرفتار کرلیا گیا؟ کیونکہ اگر آپ ٹیلیفون کال ٹریس کرسکتے ہیں تو ان ملزمان کے خلاف فوری ایکشن بھی لے سکتے ہیں۔ ویسے بھی تو یہ حکومت کو کئی جرائم میں مطلوب ہیں۔

12/30/2007

بےنظیر بھٹو نے واشنگٹن کو کیسے جیتا

12/29/2007

محترمہ کے جنازے میں مشتعل کارکنوں نے پنجاب اور پاکستان کے خلاف نعرے بازی کرنے کی کوشش کی جس پر آصف زرداری نے کارکنوں کو ایسے نعرے لگانے سے منع کیا۔

بی بی سی اردو پر: سندھ کیوں جل رہا ہے۔

سیاسی توازن بری طرح بگڑ گیا ہے اور یہ صورتحال سندھ میں پنجاب دشمن سوچ میں اضافہ کرے گی اسٹیبلیشمنٹ روایتی بھس میں انگارے پھینک کر دور کھڑی ہوجانے والا کردار ادا کرے گی۔ کیا سندھ ڈکیتیوں، قوم پرستوں، بے روزگاروں اور جوکروں کی نذر ہوجائیگا؟ یا کوئی پاکستان کو بچانے آگے آئے گا؟

بتاریخ: 28 دسمبر 2007

امریکہ میں صدارتی امیدوار بے نظیر کے قتل کو اپنی انتخابی مہم میں استعمال کررہے ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ پر بھی۔

12/28/2007

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے سانحے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے:

تنظیم کے مطابق ایسی تفتیش کی اہمیت اس لیے بڑھ گئی ہے کہ محترمہ بھٹو نے اپنی ہلاکت سے پہلے کھلے عام حکومت پر الزام لگائے تھے کہ انہیں سیکیورٹی فراہم نہیں کی جارہی۔

اس کے علاوہ تنظیم کے نمائندے کے بقول پاکستان میں آزاد عدلیہ کی غیر موجودگی میں بھی ایسی تحقیقات کا غیر جانب دارانہ ہونا بے حد اہم ہے۔

وزارت داخلہ نے قتل کا ذمہ دار بیت اللہ محسود کو ٹہرایا ہے۔

پیپلز پارٹی نے وزارت داخلہ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اصل مجرموں کو چھپانے کی کوشش ہے۔

12/28/2007

بے نظیر بھٹو کا قتل
نیویارک ٹائمز پر گیٹی امیجز کے فوٹوگرافر جان مور کی جائے واردات پر کھینچی گئی تصاویر۔ جان مور محترمہ کی انتخابی مہم کور کررہے تھے۔