پاکستان کا مستقبل جمہوریت ہے۔ بش

مارچ 5th, 2006

جنرل مشرف نے کل صدر بش کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے جمہوریت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ان کی حکومت پاکستان میں جمہوریت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی وردی سے متعلق آئندہ بھی جو فیصلہ کریں گے وہ آئین پاکستان کے اندر رہتے ہوئے کریں گے۔ انہوں نے خاتون صحافی سے کہا کہ غالبا آپ کا اشارہ میری وردی کی طرف ہے تو میں یہ واضح کرنا چاہوں گا کہ پاکستان کے قانون نے ہی مجھے اس بات کی اجازت دی ہے کہ میں وردی کے ساتھ صدر رہ سکوں اور دو ہزار سات کے بعد بھی اس حوالے سے جو فیصلہ ہوگا وہ آئین پاکستان کی حدود میں رہتے ہوئے ہی کیا جائے گا۔

جیسے دنیا کو پتہ ہی نہیں کہ آئین پاکستان کی جنرل نے کس طرح دھجیاں اڑائی ہیں اور ربڑاسٹیمپ اسمبلی کے ذریعے خود کو غیر قانونی طور پر صدر بنالیا ہے۔ اور جیسے دنیا کو یہ بھی نہیں معلوم کہ آئندہ صدر مشرف کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور پاکستان کے آئین کی کیا حدود ہیں۔ اسی سوال کے جواب میں جنرل نے کہا کہ پاکستان میں آج اظہار رائے کی آزادی ہے۔ انہوں نے درجنوں ٹی وی چینلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پہلے صرف ایک سرکاری ٹی وی چینل ہوتا تھا آج آپ دیکھیں درجنوں چینل ہیں جو آزادانہ کام کررہے ہیں۔ یہ وہ اس وقت کہہ رہے تھے جب پاکستان میں موجود لاکھوں انٹرنیٹ صارفین کو ہزاروں بلاگ اور سینکڑوں دیگر ویب سائٹ دیکھنے سے روکنے کے لئیے پی ٹی اے نے انٹرنیٹ فراہم کرنے والے اداروں کو نوٹس بھجوارکھے تھے۔

جس وقت وہ یہ سفید جھوٹ بول رہے تھے اس وقت پاکستان تحریک انصاف کے صدر عمران خان کو پولیس نے نظر بند کر رکھا تھا کیونکہ وہ صدر بش کی آمد پر احتجاج کرنا چاہتے تھے۔

آپکا تبصرہ

تبصرہ جات اس پالیسی کے تحت قبول کرے جاتے ہیں۔

English اردو

English اردو