اے میرے بابا جاں

ہاتھ کانوں پہ ہیں
نیل گالوں پہ ہیں
اور نشاں جو سکینہ کے شانوں پہ ہیں
ہر نشان سے یہی
آرہی ہے صدا

بابا جاں بابا جاں

کل تھی ماں آج میں بھی ہوں دربار میں
مثل زہرا کھڑی ہوں میں اغیار میں
اس طرف ہے شقی اس طرف رہ گئیں بےپدر بیٹیاں

ایسا خطبہ دیا میں نے دربار میں
لکھ رہا ہے جو یاور تیرے پیار میں
لہجئہ حیدری ہر اذاں کے لئے ہے صدائے اذاں

اے میرے بابا جاں
ہورہی ہے اذاں
سر چھپاؤں کہاں

معرکہ کربلا نے اسلامی ادب پر بہت گہرا اثر چھوڑا ہے۔ اس المناک سانحے کی یاد میں لکھے جانا والا ادب، نوحہ خوانی اور بیان کربلا نے اسلامی کلچر کو ایک نیا رخ دیا ہے۔ مجھے گذشتہ چند دنوں سے نوحہ خوانی، شیعہ مقررین کے خطابات اور دیگر لٹریچر اور ملٹی میڈیا دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے۔ قطع نظر اس کے کہ کیا سچ ہے کیا مبالغہ، جو بات مجھے تحیر میں مبتلا کرتی ہے وہ یہ ہے کہ سانحہ کربلا کا مسلمان سوچ پر ایک بہت زبردست اثر ہے اور اس کا زیادہ تر کریڈٹ ان تاریخ دانوں کو نہیں جاتا جنہوں نے یہ واقعہ اپنے اپنے طریقے سے بیان کیا ہے۔ بلکہ ان لوگوں کو جاتا ہے جنہوں نے اس کی عظمت کو اپنے فن کی مہارت سے اجاگر کیا۔ ان میں خطیب، سوز و نوحہ خواں، شاعر، ادیب، مذہبی اسکالر سب کی کوششیں شامل ہیں۔