﻿<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
		>
<channel>
	<title>Comments on: نیا جہادی لٹریچر</title>
	<atom:link href="http://noumaan.sabza.org/archives/504/feed" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://noumaan.sabza.org/archives/504</link>
	<description>ایک عام سے لڑکے کی بہت خاص خاص باتیں</description>
	<lastBuildDate>Wed, 10 Mar 2010 13:01:09 +0000</lastBuildDate>
	<generator>http://wordpress.org/?v=2.9.2</generator>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
		<item>
		<title>By: نعمان</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/504/comment-page-1#comment-23021</link>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
		<pubDate>Mon, 28 Sep 2009 20:20:26 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=504#comment-23021</guid>
		<description>یاسر عام طور پر کریڈیبل صحافی اس قسم کے کتابچے اپنے کالمز میں نہیں چھاپتے۔ بازار میں، پاکستان کی مساجد میں، اور ملک کے ہر نکڑ پر آپ کو اس قسم کے کتابچے تقریبا مفت فروخت ہوتے نظر آتے ہیں ان میں سے کئی کتابچوں میں بڑے حیرت انگیز دعوے کرے جاتے ہیں۔ مگر کوئی صحافی ان کا حوالہ اس لئے نہیں دیتا کیونکہ آپ ان کے لکھنے والوں تک نہیں پہنچ سکتے۔ یہ پروپگینڈہ لٹریچر کہلاتا ہے اور ساری دنیا میں اس کا استعمال ہوتا ہے۔ یہ بات طے شدہ سمجھی جاتی ہے کہ ان کتابچوں میں بیان ہونے والے واقعات و کردار فرضی ہوتے ہیں اور کم پڑھے لکھے لوگوں کو متاثر کرنے کے لئے یہ کہانیاں گھڑی جاتی ہیں تاکہ انہیں اپنے مقاصد کے لئے تیار کیا جاسکے۔ 

کسی ذمے دار صحافی کا ایسے کتابچے اپنے کالم کی بنیاد بنانا ایسا ہی ہے جیسے اس پروپگینڈے کو سپورٹ کرنا۔ اس لئے ہم اس افسانے کا خالق انصار عباسی صاحب کو ہی قرار دے سکتے ہیں کیونکہ ان کی سورس بالکل کریڈیبل نہیں ہے اور لوگ اسے افسانے کو محض اس لئے پڑھیں گے اور قابل توجہ سمجھیں گے کہ یہ ملک کے سب سے زیادہ چھپنے والے اخبار میں شائع ہوا ہے۔ اور ایک بظاہر نامور صحافی نے اسے تحریر کیا ہے۔ یوں اس مضمون کا سب سے کریڈیبل ماخذ عباسی صاحب ہی ہیں اس لئے یہ ان ہی کی تحریر سمجھا جائے گا۔ وہ خود اپنے مضمون میں کہہ رہے ہیں کہ انہیں یہ کتابچہ کہیں سے ملا ہے اور یقینا ہر کوئی بازار سے جاکر یہ کتابچہ نہیں خرید سکتا۔ کیونکہ اس کا وجود ہی نہیں ہے۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>یاسر عام طور پر کریڈیبل صحافی اس قسم کے کتابچے اپنے کالمز میں نہیں چھاپتے۔ بازار میں، پاکستان کی مساجد میں، اور ملک کے ہر نکڑ پر آپ کو اس قسم کے کتابچے تقریبا مفت فروخت ہوتے نظر آتے ہیں ان میں سے کئی کتابچوں میں بڑے حیرت انگیز دعوے کرے جاتے ہیں۔ مگر کوئی صحافی ان کا حوالہ اس لئے نہیں دیتا کیونکہ آپ ان کے لکھنے والوں تک نہیں پہنچ سکتے۔ یہ پروپگینڈہ لٹریچر کہلاتا ہے اور ساری دنیا میں اس کا استعمال ہوتا ہے۔ یہ بات طے شدہ سمجھی جاتی ہے کہ ان کتابچوں میں بیان ہونے والے واقعات و کردار فرضی ہوتے ہیں اور کم پڑھے لکھے لوگوں کو متاثر کرنے کے لئے یہ کہانیاں گھڑی جاتی ہیں تاکہ انہیں اپنے مقاصد کے لئے تیار کیا جاسکے۔ </p>
<p>کسی ذمے دار صحافی کا ایسے کتابچے اپنے کالم کی بنیاد بنانا ایسا ہی ہے جیسے اس پروپگینڈے کو سپورٹ کرنا۔ اس لئے ہم اس افسانے کا خالق انصار عباسی صاحب کو ہی قرار دے سکتے ہیں کیونکہ ان کی سورس بالکل کریڈیبل نہیں ہے اور لوگ اسے افسانے کو محض اس لئے پڑھیں گے اور قابل توجہ سمجھیں گے کہ یہ ملک کے سب سے زیادہ چھپنے والے اخبار میں شائع ہوا ہے۔ اور ایک بظاہر نامور صحافی نے اسے تحریر کیا ہے۔ یوں اس مضمون کا سب سے کریڈیبل ماخذ عباسی صاحب ہی ہیں اس لئے یہ ان ہی کی تحریر سمجھا جائے گا۔ وہ خود اپنے مضمون میں کہہ رہے ہیں کہ انہیں یہ کتابچہ کہیں سے ملا ہے اور یقینا ہر کوئی بازار سے جاکر یہ کتابچہ نہیں خرید سکتا۔ کیونکہ اس کا وجود ہی نہیں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: یاسر عمران مرزا</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/504/comment-page-1#comment-23020</link>
		<dc:creator>یاسر عمران مرزا</dc:creator>
		<pubDate>Mon, 28 Sep 2009 16:27:40 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=504#comment-23020</guid>
		<description>جاوید صاحب
مجھے پتا ہے کہ مجھے کیا کرنا چاہے اور کیا نہیں، آپ اپنی زندگی اپنے مسایل پر توجہ دیجیے۔ ہو سکتا ہے کوی آپ سے بھی متاثر ہو جاوے

نعمان صاحب
بلاشبہ آپ درست فرما رہے ہیں کہ اپنے الفاظ نامعلوم کرداروں کے منہ سے کہلوانا افسانہ نگاری ہے ، مگر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ الفاظ عباسی صاحب کے اپنے تشکیل کردہ ہیں۔ اور اس خط کا کوی وجود نہیں۔

راشد صاحب
میں جانتا ہوں کہ جہاد کے لیے پاکستانی، سعودی اور دوسرے کچھ مسلمان ملکوں کے باشندوں کو استعمال کیا گیا
اور کس نے استعمال کیا یہ بھی جانتا ہوں، معلومات کے جو سورسز آپ کے پاس ہیں وہ دوسروں کو بھی دستیاب ہیں۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>جاوید صاحب<br />
مجھے پتا ہے کہ مجھے کیا کرنا چاہے اور کیا نہیں، آپ اپنی زندگی اپنے مسایل پر توجہ دیجیے۔ ہو سکتا ہے کوی آپ سے بھی متاثر ہو جاوے</p>
<p>نعمان صاحب<br />
بلاشبہ آپ درست فرما رہے ہیں کہ اپنے الفاظ نامعلوم کرداروں کے منہ سے کہلوانا افسانہ نگاری ہے ، مگر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ الفاظ عباسی صاحب کے اپنے تشکیل کردہ ہیں۔ اور اس خط کا کوی وجود نہیں۔</p>
<p>راشد صاحب<br />
میں جانتا ہوں کہ جہاد کے لیے پاکستانی، سعودی اور دوسرے کچھ مسلمان ملکوں کے باشندوں کو استعمال کیا گیا<br />
اور کس نے استعمال کیا یہ بھی جانتا ہوں، معلومات کے جو سورسز آپ کے پاس ہیں وہ دوسروں کو بھی دستیاب ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: Javid</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/504/comment-page-1#comment-23016</link>
		<dc:creator>Javid</dc:creator>
		<pubDate>Sat, 26 Sep 2009 10:31:21 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=504#comment-23016</guid>
		<description>Abduallah main un sazibzaaday ka zikar kar raha tha jin say aap ka mukalma hua.</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>Abduallah main un sazibzaaday ka zikar kar raha tha jin say aap ka mukalma hua.</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: Abdullah</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/504/comment-page-1#comment-23015</link>
		<dc:creator>Abdullah</dc:creator>
		<pubDate>Sat, 26 Sep 2009 10:25:56 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=504#comment-23015</guid>
		<description>نعمان اور جاوید مجھے افسوس ہے کہ میری بات آپ لوگوں کی سمجھ میں نہیں آئی،میں اس کالم کے حوالے سے ان اسٹیریو ٹائپ لوگوں کاذکر کررہا تھا جو اپنے مطلب کا اسلام اور جہاد نوجوانوں کے دماغوں میں بھر کر انہیں راستے سے بھٹکانے کی کوشش کررہے ہیں،
یاسر سے متاثر ہونے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا،بلکہ ان کے تبصرے پر بھی ایک تبصرہ لکھا تھا جس میں جاوید کی بات کی تائید کی تھی مگر یہ لائٹ اور نیٹ ان کا اللہ بھلا کرے جو وہ پوسٹ نہیں ہوپایا، پھر میں مصروف ہوگیا اور بات رہ گئی،</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>نعمان اور جاوید مجھے افسوس ہے کہ میری بات آپ لوگوں کی سمجھ میں نہیں آئی،میں اس کالم کے حوالے سے ان اسٹیریو ٹائپ لوگوں کاذکر کررہا تھا جو اپنے مطلب کا اسلام اور جہاد نوجوانوں کے دماغوں میں بھر کر انہیں راستے سے بھٹکانے کی کوشش کررہے ہیں،<br />
یاسر سے متاثر ہونے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا،بلکہ ان کے تبصرے پر بھی ایک تبصرہ لکھا تھا جس میں جاوید کی بات کی تائید کی تھی مگر یہ لائٹ اور نیٹ ان کا اللہ بھلا کرے جو وہ پوسٹ نہیں ہوپایا، پھر میں مصروف ہوگیا اور بات رہ گئی،</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: Javid</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/504/comment-page-1#comment-23012</link>
		<dc:creator>Javid</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 25 Sep 2009 13:32:47 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=504#comment-23012</guid>
		<description>@Abdullah:

lagta hai yeah sahibzaaday yasir imran say mutassar hain :)</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>@Abdullah:</p>
<p>lagta hai yeah sahibzaaday yasir imran say mutassar hain <img src='http://noumaan.sabza.org/wp-includes/images/smilies/icon_smile.gif' alt=':)' class='wp-smiley' /> </p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: نعمان</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/504/comment-page-1#comment-23011</link>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 25 Sep 2009 10:41:45 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=504#comment-23011</guid>
		<description>بہت خوب عبداللہ تم تو انصار عباسی سے بہتر لکھنے لگے ہو۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>بہت خوب عبداللہ تم تو انصار عباسی سے بہتر لکھنے لگے ہو۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: Abdullah</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/504/comment-page-1#comment-23010</link>
		<dc:creator>Abdullah</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 25 Sep 2009 06:58:47 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=504#comment-23010</guid>
		<description>عید کے تیسرے دن ایک دور کی رشتہ دار بہن سے ملنے پہنچے تو خاصی پریشان نظر آئیں وجہ پوچھی تو بولیں کہ ان کا بیٹاجو 20،21سال کا نوجوان ہے اور نیوی میں سیلر ہے کا دو ماہ سے دماغ خراب ہوگیا ہے صاحبزادے آئے تو چہرے پر شرعی داڑھی مگر نہ لہجہ شرعی نہ انداز ہر بات کا جواب پھاڑ کھانے والے انداز میں،باتیں شروع ہوئیں تو جناب نے سب کو کافر مشرک اور واجب القتل کہنا شروع کردیا جہاد فرض ہے مین جہاد پر جاؤں گا حکومت کافروں کی دوست ہے حکومت کا تختہ الٹ دینا چاہیئے عورتیں مردوں کی تقریبا غلام ہی ہیں ماں باپ اسلام سے بے بہرہ ہیں اور ابا جان ٹیوی پر خبریں بھی کیوں دیکھتے ہیں اس میں ننگی عورتیں(یعنی بغیر دوپٹے) خبریں پڑھتی ہیں وغیرہ وغیرہ،میں حیران اور پریشان ان کی یہ تقریر سن رہا تھاسب سے بڑا صدمہ جو مجھے ہوا وہ یہ تھا کہ ایک پڑھے لکھے گھرانے اور اپر مڈل کلاس کا بچہ وہ بھی اردو اسپیکنگ وہ اس طرح کی باتیں کرے گا یہ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھاکیونکہ میرا خیال تھا کہ اس طرح کا جاہلانہ اسلام سرحد اور پنجاب کے رہنے والے کم پڑھے اورکم وسائل یافتہ لوگوں میں ہی موجود ہے اور انہیں ملا جو بتا دیتا ہے وہ اسے ہی اسلام سمجھ کر اس پر عمل شروع کردیتے ہیں،خیر مینے ان صاحبزادے سے کہا کہ بھائی تم تفسیرابن کثیر صحیح بخاری اور صحیح مسلم کا خود سے مطالعہ کرو اور دین کو خود سے سمجھو مزید سمجھ میں نہ آئے تو کسی مستند عالم سے رجوع کرو صاحب زادے فرماتے ہیں میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے،مینے کہا دنیا بھر کی بکواس سننے اور کرنے کا تو تمھارے پاس وقت ہی وقت ہے اور جو کام کی بات بتائی جارہی ہے اسے کرنے سے تم انکاری ہو اس سے بڑی جاہلیت اور کاہلی اور کیا ہوگی،رہی جہاد کی بات تو بھائی تم تو ہو ہی نیوی میں جہاد تو تم کرہی رہے ہو، کہتے ہیں  یہ فوج یہ فوج جہاد کرے گی یہ تو ہے ہی کافروں کی غلام ،تو بھائی تم اسے چھوڑ کیوں نہیں دیتے جواب مین خاموشی،پھر بولے علم بھی کوئی زیادہ ضروری نہیں ہوتا اللہ چاہے گا تو گھر بیٹھے ہی حاصل ہو جائے گامینے کہا اللہ نے تو فرمایاکہ علم کا حاصل کرنا ہر مرد اور عورت پر فرض کیا گیا ہےبلکل اسی طرح جس طرح نماز فرض کی گئی ہے  اور وہ یہ بھی فرماتا ہے کہ میں صرف اس کی مدد کرتا ہوں جو اپنی مدد آپ کرنا چاہے،اس کے علاوہ تمھیں پہلے اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرنا چاہیئے ،بگڑ گئے بولے آپ نے اس جہاد کو چھوٹا بنا دیا جو ہمارے نبی نے کیا اور نفس کے جہاد کو بڑا کردیا مینے کہا میرے بھائی نفس مظبوط ہوگا تب ہی تو گولیوں اور بموں کی بوچھاڑ میں کھڑے رہ پاؤ گے ورنہ میدان جنگ میں اترنا آسان ہوتاہے وہاں استقامت کے ساتھ کھڑے رہنا مشکل ہوتا ہے اور جو میدان سے پیٹھ موڑ کر بھاگا اس کی تو بخشش ہی نہیں ہے،اور ہمارے نبی کو اپنے نفس پر مکمل کنٹرول تھا اللہ کی مہر بانی سے پھر بھی 40 سال بعد ان کو نبت عطا کی گئی اور وہ فورا ہی تلوار لے کر کافروں کو مارنے نہیں نکل کھڑے ہوئے،جب اخلاق ،عمل اور تبلیغ  کام نہیں آئی تب تلوار استعمال کی گئی پھر تمھارے اخلاق کا تو یہ عالم ہے کہ باقی دنیا چھوڑو تم تو ماں باپ سے بھی نرمی اور محبت سے بات نہیں کرتے جبکہ حکم تو یہ ہے کہ ماں باپ اگر کافر اور مشرک ہوں تو بھی انکو اف نہ کہو،پھر خواتین پر بات شروع ہوئی کہ عورت کو صرف مرد کے کہے پر چلنا چاہیئے اس کی کوئی مرضی کوئی اختیار نہیں جب اس موضوع پر سمجھانا شروع کیا تو بار بار ایک ہی بات آپ صرف یہ بتائیں مرد کو عورت پر برتری ہے یا نہیں جواب دیا بلکل ہے مگر صرف ایک درجہ اور وہ اس لیئے کہ وہ گھر سے باہر رہنے کی وجہ سے معاملات میں بہتر سمجھ بوجھ حاصل کرلیتا ہے اور گھر کا کفیل بھی ہوتا ہے لیکن یہ کوئی اقا اور غلام کا رشتہ نہیں ہوتا بلکل اسی طرح جس طرح ماں کا درجہ اولاد سے کہیں اوپر ہے مگر اولاد اس کی غلام نہیں بن جاتی کے اس کے تمام حقوق سلب کر لیئے جائیں،میاں بیوی میں محبت اور موؤدت کا رشتہ ہوتا ہے،آقا اور غلام جیسا نہیں،پھر بولے اچھا بتائیں عورت امام بن سکتی ہے نکاح پڑھا سکتی ہے مینے کہا بلکل اگر کوئی ایسا مجمع ہے جہاں سب مرد جاہل ہیں اور صرف ایک عورت ہے جو دین کا علم رکھتی ہے تو وہ آڑ میں کھڑے ہوکر یا باپردہ ہوکر امامت کرسکتی ہے اور نکاح کیا ہے ایک مرد اور عورت کا دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول،اگر دو نہیں تو چار عورتیں گواہ بنالو، غرض جتنا وقت تھا ان صاحبزادے کے ساتھ دماع کھپاتے گزر گیا اور آتے وقت تک ان میں کچھ مثبت تبدیلیاں دیکھنے میں بھی آئیں مگر تفسیر اور احادیث پڑھنے پر پھر بھی راضی نظر نہ آئے،
میں خوفزدہ ہوں کہ ہمارے نوجوانوں کی تن آسانی اور چرب زبانی اور کیا کیا گل کھلائے گی اور یہ کون بدبخت ہے جو اس طرح کے زہریلے بیج اسلام کے نام پر اس زمین میں بو رہا ہے اور ایسے کتنے ہی نوجوان ہوگے جو اس پروپگینڈے کی نظر ہو کر نہ دین کے رہیں گے نہ دنیا کے اور ملک کی بدنامی اور رسوائی کا باعث بنیں گے پتہ نہیں اس ملک کی انٹیلیجینس ایجینسیاں ایسے لوگوں پر گرفت سخت کیوں نہیں کررہیں کیا پانی سر سے اونچا ہونے کا انتظار ہے؟</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>عید کے تیسرے دن ایک دور کی رشتہ دار بہن سے ملنے پہنچے تو خاصی پریشان نظر آئیں وجہ پوچھی تو بولیں کہ ان کا بیٹاجو 20،21سال کا نوجوان ہے اور نیوی میں سیلر ہے کا دو ماہ سے دماغ خراب ہوگیا ہے صاحبزادے آئے تو چہرے پر شرعی داڑھی مگر نہ لہجہ شرعی نہ انداز ہر بات کا جواب پھاڑ کھانے والے انداز میں،باتیں شروع ہوئیں تو جناب نے سب کو کافر مشرک اور واجب القتل کہنا شروع کردیا جہاد فرض ہے مین جہاد پر جاؤں گا حکومت کافروں کی دوست ہے حکومت کا تختہ الٹ دینا چاہیئے عورتیں مردوں کی تقریبا غلام ہی ہیں ماں باپ اسلام سے بے بہرہ ہیں اور ابا جان ٹیوی پر خبریں بھی کیوں دیکھتے ہیں اس میں ننگی عورتیں(یعنی بغیر دوپٹے) خبریں پڑھتی ہیں وغیرہ وغیرہ،میں حیران اور پریشان ان کی یہ تقریر سن رہا تھاسب سے بڑا صدمہ جو مجھے ہوا وہ یہ تھا کہ ایک پڑھے لکھے گھرانے اور اپر مڈل کلاس کا بچہ وہ بھی اردو اسپیکنگ وہ اس طرح کی باتیں کرے گا یہ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھاکیونکہ میرا خیال تھا کہ اس طرح کا جاہلانہ اسلام سرحد اور پنجاب کے رہنے والے کم پڑھے اورکم وسائل یافتہ لوگوں میں ہی موجود ہے اور انہیں ملا جو بتا دیتا ہے وہ اسے ہی اسلام سمجھ کر اس پر عمل شروع کردیتے ہیں،خیر مینے ان صاحبزادے سے کہا کہ بھائی تم تفسیرابن کثیر صحیح بخاری اور صحیح مسلم کا خود سے مطالعہ کرو اور دین کو خود سے سمجھو مزید سمجھ میں نہ آئے تو کسی مستند عالم سے رجوع کرو صاحب زادے فرماتے ہیں میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے،مینے کہا دنیا بھر کی بکواس سننے اور کرنے کا تو تمھارے پاس وقت ہی وقت ہے اور جو کام کی بات بتائی جارہی ہے اسے کرنے سے تم انکاری ہو اس سے بڑی جاہلیت اور کاہلی اور کیا ہوگی،رہی جہاد کی بات تو بھائی تم تو ہو ہی نیوی میں جہاد تو تم کرہی رہے ہو، کہتے ہیں  یہ فوج یہ فوج جہاد کرے گی یہ تو ہے ہی کافروں کی غلام ،تو بھائی تم اسے چھوڑ کیوں نہیں دیتے جواب مین خاموشی،پھر بولے علم بھی کوئی زیادہ ضروری نہیں ہوتا اللہ چاہے گا تو گھر بیٹھے ہی حاصل ہو جائے گامینے کہا اللہ نے تو فرمایاکہ علم کا حاصل کرنا ہر مرد اور عورت پر فرض کیا گیا ہےبلکل اسی طرح جس طرح نماز فرض کی گئی ہے  اور وہ یہ بھی فرماتا ہے کہ میں صرف اس کی مدد کرتا ہوں جو اپنی مدد آپ کرنا چاہے،اس کے علاوہ تمھیں پہلے اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرنا چاہیئے ،بگڑ گئے بولے آپ نے اس جہاد کو چھوٹا بنا دیا جو ہمارے نبی نے کیا اور نفس کے جہاد کو بڑا کردیا مینے کہا میرے بھائی نفس مظبوط ہوگا تب ہی تو گولیوں اور بموں کی بوچھاڑ میں کھڑے رہ پاؤ گے ورنہ میدان جنگ میں اترنا آسان ہوتاہے وہاں استقامت کے ساتھ کھڑے رہنا مشکل ہوتا ہے اور جو میدان سے پیٹھ موڑ کر بھاگا اس کی تو بخشش ہی نہیں ہے،اور ہمارے نبی کو اپنے نفس پر مکمل کنٹرول تھا اللہ کی مہر بانی سے پھر بھی 40 سال بعد ان کو نبت عطا کی گئی اور وہ فورا ہی تلوار لے کر کافروں کو مارنے نہیں نکل کھڑے ہوئے،جب اخلاق ،عمل اور تبلیغ  کام نہیں آئی تب تلوار استعمال کی گئی پھر تمھارے اخلاق کا تو یہ عالم ہے کہ باقی دنیا چھوڑو تم تو ماں باپ سے بھی نرمی اور محبت سے بات نہیں کرتے جبکہ حکم تو یہ ہے کہ ماں باپ اگر کافر اور مشرک ہوں تو بھی انکو اف نہ کہو،پھر خواتین پر بات شروع ہوئی کہ عورت کو صرف مرد کے کہے پر چلنا چاہیئے اس کی کوئی مرضی کوئی اختیار نہیں جب اس موضوع پر سمجھانا شروع کیا تو بار بار ایک ہی بات آپ صرف یہ بتائیں مرد کو عورت پر برتری ہے یا نہیں جواب دیا بلکل ہے مگر صرف ایک درجہ اور وہ اس لیئے کہ وہ گھر سے باہر رہنے کی وجہ سے معاملات میں بہتر سمجھ بوجھ حاصل کرلیتا ہے اور گھر کا کفیل بھی ہوتا ہے لیکن یہ کوئی اقا اور غلام کا رشتہ نہیں ہوتا بلکل اسی طرح جس طرح ماں کا درجہ اولاد سے کہیں اوپر ہے مگر اولاد اس کی غلام نہیں بن جاتی کے اس کے تمام حقوق سلب کر لیئے جائیں،میاں بیوی میں محبت اور موؤدت کا رشتہ ہوتا ہے،آقا اور غلام جیسا نہیں،پھر بولے اچھا بتائیں عورت امام بن سکتی ہے نکاح پڑھا سکتی ہے مینے کہا بلکل اگر کوئی ایسا مجمع ہے جہاں سب مرد جاہل ہیں اور صرف ایک عورت ہے جو دین کا علم رکھتی ہے تو وہ آڑ میں کھڑے ہوکر یا باپردہ ہوکر امامت کرسکتی ہے اور نکاح کیا ہے ایک مرد اور عورت کا دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول،اگر دو نہیں تو چار عورتیں گواہ بنالو، غرض جتنا وقت تھا ان صاحبزادے کے ساتھ دماع کھپاتے گزر گیا اور آتے وقت تک ان میں کچھ مثبت تبدیلیاں دیکھنے میں بھی آئیں مگر تفسیر اور احادیث پڑھنے پر پھر بھی راضی نظر نہ آئے،<br />
میں خوفزدہ ہوں کہ ہمارے نوجوانوں کی تن آسانی اور چرب زبانی اور کیا کیا گل کھلائے گی اور یہ کون بدبخت ہے جو اس طرح کے زہریلے بیج اسلام کے نام پر اس زمین میں بو رہا ہے اور ایسے کتنے ہی نوجوان ہوگے جو اس پروپگینڈے کی نظر ہو کر نہ دین کے رہیں گے نہ دنیا کے اور ملک کی بدنامی اور رسوائی کا باعث بنیں گے پتہ نہیں اس ملک کی انٹیلیجینس ایجینسیاں ایسے لوگوں پر گرفت سخت کیوں نہیں کررہیں کیا پانی سر سے اونچا ہونے کا انتظار ہے؟</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: راشد کامران</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/504/comment-page-1#comment-23009</link>
		<dc:creator>راشد کامران</dc:creator>
		<pubDate>Thu, 24 Sep 2009 17:12:38 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=504#comment-23009</guid>
		<description>یاسر کبھی آپ نے اس بات کا کھوج لگانے کی کوشش کی ہے کہ افغان جہاد میں مسلمانوں کا جذبہ جہاد ابھارنے کا لٹریچر کہاں کہاں سے چَھپ کر آتا تھا؟‌ مال غنیمت سے کن لوگوں نے فیض‌ اٹھایا اور جہاد کا ایندھن کون لوگ بنے؟ کس کی جنگ تھی، کس نے لڑی اور آج بھی کس کی جنگ ہے اور کون لڑرہا ہے۔ کون مار رہا ہے اور کون مروا رہا ہے اور کون مر رہا ہے۔ لیکن موضوع بحث جہاد نہیں بلکہ صحافت کے نام پر افسانہ نگاری ہے۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>یاسر کبھی آپ نے اس بات کا کھوج لگانے کی کوشش کی ہے کہ افغان جہاد میں مسلمانوں کا جذبہ جہاد ابھارنے کا لٹریچر کہاں کہاں سے چَھپ کر آتا تھا؟‌ مال غنیمت سے کن لوگوں نے فیض‌ اٹھایا اور جہاد کا ایندھن کون لوگ بنے؟ کس کی جنگ تھی، کس نے لڑی اور آج بھی کس کی جنگ ہے اور کون لڑرہا ہے۔ کون مار رہا ہے اور کون مروا رہا ہے اور کون مر رہا ہے۔ لیکن موضوع بحث جہاد نہیں بلکہ صحافت کے نام پر افسانہ نگاری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: نعمان</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/504/comment-page-1#comment-23008</link>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
		<pubDate>Thu, 24 Sep 2009 10:38:52 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=504#comment-23008</guid>
		<description>یاسر ۔ حقائق اور کہانیوں میں فرق ہوتا ہے۔ جب آپ ایک گمنام خاتون کے گمنام شہید بیٹے اور اس کے لکھے خط کو چھاپ رہے ہوتے ہیں تو دراصل آپ ذمے دارانہ صحافت کا فریضہ انجام نہیں دے رہے ہوتے بلکہ یہ پروپگینڈہ کہلاتا ہے۔ اپنے الفاظ نامعلوم کرداروں کے منہ سے کہلوانا افسانہ نگاری ہے صحافت نہیں۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>یاسر ۔ حقائق اور کہانیوں میں فرق ہوتا ہے۔ جب آپ ایک گمنام خاتون کے گمنام شہید بیٹے اور اس کے لکھے خط کو چھاپ رہے ہوتے ہیں تو دراصل آپ ذمے دارانہ صحافت کا فریضہ انجام نہیں دے رہے ہوتے بلکہ یہ پروپگینڈہ کہلاتا ہے۔ اپنے الفاظ نامعلوم کرداروں کے منہ سے کہلوانا افسانہ نگاری ہے صحافت نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: Javid</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/504/comment-page-1#comment-23007</link>
		<dc:creator>Javid</dc:creator>
		<pubDate>Thu, 24 Sep 2009 09:25:51 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=504#comment-23007</guid>
		<description>جبکہ جہاد ہر مسلمان پر فرض کیا گیا ہے۔

aap kab aarahy hain jihad karnay? jihad aapkay mulk main hu raha hai aur aap saudi arab bethay hain?</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>جبکہ جہاد ہر مسلمان پر فرض کیا گیا ہے۔</p>
<p>aap kab aarahy hain jihad karnay? jihad aapkay mulk main hu raha hai aur aap saudi arab bethay hain?</p>
]]></content:encoded>
	</item>
</channel>
</rss>
