تعارف

میں کراچی میں رہہتا ہوں اور دودھ کی دکان چلاتا ہوں۔ واجبی سی تعلیمی اہلیت رکھتا ہوں۔ تھوڑا سا ٹیکنالوجی سے لگاؤ ہے اور ڈائری لکھنے کی گندی عادت بچپن سے ہے۔ اگر کوئی بچپن سے ایک کام کر رہا ہو تو وہ عادت بہت پختہ ہوجاتی ہے۔ مثال کے طور پر دیکھا گیا ہے کہ جو بچے کم عمر میں ناخن چباتے ہیں وہ بڑے ہوکر تمباکونوش بن جاتے ہیں۔ جو بچے سر کھجانے کی عادت میں مبتلا ہوتے ہیں وہ بڑے ہوکر ہیڈ این شولڈر کے ایڈ میں کام کرتے ہیں اور جو بچے دوسرے بچوں کی کاپیاں، پنسلیں وغیرہ چراتے ہیں وہ بڑے ہوکر این جی اوز کی فیلڈ میں آجاتے ہیں۔ اب چونکہ میں بڑا ہوگیا ہوں اسلئیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں بلاگر بن جاؤں۔

اس بلاگ میں کوئی خاص بات نہیں ہے۔ آپکو یہ بلاگ صرف اسلئیے پڑھنا چاہئیے کیونکہ یہ بہت ہی زیادہ عام سا بلاگ ہے۔ اگر آپ پورے ایک سال تک میرا بلاگ پڑھیں گے تو میں آپکو اپنی دکان پر فری لسی پلاؤں گا اور آپکو لائف ٹائم ٹوئنٹی پرسنٹ ڈسکاؤنٹ بھی دوں گا۔ یہ بلاگ روز پڑھنے سے آپکے بال لمبے گھنے اور چمکدار ہوجائیں گے۔ یہ بلاگ آپکی جلد کو سورج کی مضر شعاعوں سے بھی بچاتا ہے کیونکہ اس میں شامل اکثر پوسٹس رات کے دوران پیش آنے والے واقعات پر مبنی ہونگی۔ اس بلاگ کا فارمولا آپکے مسلز بھی بنائے گا۔ کیونکہ اس کو پڑھنے سے آپکے مسلز میں تناؤ پیدا ہوگا اور تناؤ اور پھر ریلیکسیشن سے مسلز بنتے ہیں۔ اس بلاگ کو پڑھنے سے آپ ہر دلعزیز بھی پوجائیں گے۔ وہ اسطرح کی جب آپ کسی محفل میں میری پوسٹس کے حوالے دیں گے تو ہر کوئی یہ سوچتے ہوئے آپ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گا کہ یہ شخص کتنا عظیم ہے جو اتنا کٹھن کام روز انجام دیتا ہے۔ اس بلاگ کے پڑھنے کے دیگر فوائد بھی ہیں۔ ابھی پڑھئیے مزہ نہ آئے پیسے واپس۔

وارننگ:

اس بلاگ پر کبھی کبھی ایسے الفاظ بھی استعمال ہونگے جو نابالغ بچوں کو نہیں سننا چاہئیے اگر آپ کم عمر ہیں تو اپنے ممی ڈیڈی کو یہ بلاگ دکھائیں اور اگر وہ اجازت دیں تو آگے پڑھیں ورنہ کچھ بہت “مس شائستہ و پر تبسم” قسم کے بلاگ بھی اردو میں دستیاب ہیں جو ہر نابالغ اور کند ذہن بچے کو ضرور پڑھنے چاہئیے۔