مظلوم لڑکی کا جرم

شوکت نامی جس شخص نے لڑکی پر طالبان کے تشدد کی ویڈیو جاری کی ہے اس نے ڈان نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ لڑکی کو سزا دراصل ایک طالبان کی شادی کی پیشکش رد کرنے پر دی گئی ہے اور یہ واقعہ دو ہفتے قبل پیش آیا ہے۔

شوکت نے مزید بتایا کہ مقامی لوگ طالبان سے اسقدر خوفزدہ ہیں کہ وہ اس واقعے کے خلاف کسی قسم کی آواز اٹھانے کی ہمت نہیں رکھتے۔

طالبان کے پرزور حامی اس بات پر اصرار کررہے ہیں کہ یہ سزا عین اسلامی ہے اور اس کی ویڈیو کی تشہیر کرنا بلاتصدیق کے عیب جوئی کرنا ہے۔

طالبان ترجمان، ملا صوفی کے ترجمان اور دیگر لوگ مختلف ٹی وی چینلز پر یہ بات قبول کرچکے ہیں کہ اس قسم کا واقعہ پیش آیا ہے اور یہ کوئی واحد واقعہ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ بھی خواتین کو بند کمروں میں زدوکوب کیا گیا ہے۔