﻿<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
		>
<channel>
	<title>Comments on: رجسٹریشن، طالبان، پختون، اور کراچی کا مستقبل</title>
	<atom:link href="http://noumaan.sabza.org/archives/411/feed" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://noumaan.sabza.org/archives/411</link>
	<description>ایک عام سے لڑکے کی بہت خاص خاص باتیں</description>
	<lastBuildDate>Wed, 10 Mar 2010 13:01:09 +0000</lastBuildDate>
	<generator>http://wordpress.org/?v=2.9.2</generator>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
		<item>
		<title>By: راشد کامران</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/411/comment-page-1#comment-5505</link>
		<dc:creator>راشد کامران</dc:creator>
		<pubDate>Mon, 01 Dec 2008 02:47:29 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=411#comment-5505</guid>
		<description>جہانزیب میں نے واضح لکھا ہے کہ اگر آپ مستقل بنیادوں پر منتقل نہیں ہوتے تو پھر لائسنس اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی یہ صرف اس وقت ہے جب آپ دوسری ریاست میں مستقل رہائش لیتے ہیں. 

نعمان امریکہ کی مثال اس لیے دی گئی ہے کہ کس طرح اسکو انتظامی طور پر ہینڈل کیا جاتا ہے نا کہ لسانی طور پر اور یہ بھی کہ امریکہ کا ہر علاقہ ایک جیسا نہیں ہے. بنیادی اسٹرکچر غالبا ایک جیسا ہی ہے لیکن کچھ کالونیاں دیکھ کر آپ لیاری کو بھول جائیں گے.</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>جہانزیب میں نے واضح لکھا ہے کہ اگر آپ مستقل بنیادوں پر منتقل نہیں ہوتے تو پھر لائسنس اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی یہ صرف اس وقت ہے جب آپ دوسری ریاست میں مستقل رہائش لیتے ہیں. </p>
<p>نعمان امریکہ کی مثال اس لیے دی گئی ہے کہ کس طرح اسکو انتظامی طور پر ہینڈل کیا جاتا ہے نا کہ لسانی طور پر اور یہ بھی کہ امریکہ کا ہر علاقہ ایک جیسا نہیں ہے. بنیادی اسٹرکچر غالبا ایک جیسا ہی ہے لیکن کچھ کالونیاں دیکھ کر آپ لیاری کو بھول جائیں گے.</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: نعمان</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/411/comment-page-1#comment-5470</link>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
		<pubDate>Sun, 30 Nov 2008 15:52:42 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=411#comment-5470</guid>
		<description>جہانزیب یہ ہموطن جو اب آرہے ہیں یہ کراچی روزگار کی تلاش میں نہیں آرہے بلکہ یہ متاثرین جنگ ہیں میرے بھائی کیا یہ بات کسی کو سمجھ نہیں آرہی کہ متاثرین جنگ کہ بحالی اور آباد کاری کا مناسب میکنزم ضروری ہے؟؟؟؟ 

امریکہ کی مثال اس لئے غلط ہے کیونکہ امریکی ایک تو اپنے ملک میں بہت زیادہ سفر کرتے ہیں دوسرا امریکہ میں لسانی تضادات قریبا نہ ہونے کے برابر ہیں. ہالی ووڈ کا شکریہ امریکہ کا ہر قصبہ ہر شہر قریب قریب ایک جیسا ہی دکھائی دیتا ہے. 

ہمارے شہر کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ باقی پاکستان سے ایک مختلف مزاج رکھتا ہے. بہت بڑی تعداد میں ایک مخصوص کلچر سے تعلق رکھنے والے بے سروسامان لوگوں کو شہر میں آنا مقامی لوگوں کے لئے تشویش کا باعث ہے کیونکہ ایک تو اس سے شہر کی ڈیموگرافکس میں یکایک تبدیلی آرہی ہے دوسرے کلچرل تضاد اور مفادات کا اختلاف روز بروز بڑھ رہا ہے. اس لئے ہمیں ایک میکنزم کی ضرورت ہے. 

کسی کو کراچی آنے میں بالکل کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی. مطالبہ محض یہ ہے کہ آنے والے ایک میکنزم کے تحت آئیں تاکہ ڈیموگرافکس، کلچرل، معاشی اور دیگر تبدیلیوں پر نظر رکھی جائے اور گزشتہ دنوں ہونے والے تصادم جیسے واقعات کی پیش قدمی اور بچاؤ کی منصوبہ بندی کی جاسکے. اس سے ایک بہتر سیاسی کلچر بھی تشکیل پائے گا. کیونکہ رجسٹریشن سے بچنے کے لئے یہاں عشروں سے آباد  پختون فیملیاں اپنے شناختی کارڈ درست کروائیں گے جس سے ان کے ووٹ رجسٹرڈ ہونگے. اور شہر میں خوشگوار سیاسی تبدیلی آئے گی.</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>جہانزیب یہ ہموطن جو اب آرہے ہیں یہ کراچی روزگار کی تلاش میں نہیں آرہے بلکہ یہ متاثرین جنگ ہیں میرے بھائی کیا یہ بات کسی کو سمجھ نہیں آرہی کہ متاثرین جنگ کہ بحالی اور آباد کاری کا مناسب میکنزم ضروری ہے؟؟؟؟ </p>
<p>امریکہ کی مثال اس لئے غلط ہے کیونکہ امریکی ایک تو اپنے ملک میں بہت زیادہ سفر کرتے ہیں دوسرا امریکہ میں لسانی تضادات قریبا نہ ہونے کے برابر ہیں. ہالی ووڈ کا شکریہ امریکہ کا ہر قصبہ ہر شہر قریب قریب ایک جیسا ہی دکھائی دیتا ہے. </p>
<p>ہمارے شہر کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ باقی پاکستان سے ایک مختلف مزاج رکھتا ہے. بہت بڑی تعداد میں ایک مخصوص کلچر سے تعلق رکھنے والے بے سروسامان لوگوں کو شہر میں آنا مقامی لوگوں کے لئے تشویش کا باعث ہے کیونکہ ایک تو اس سے شہر کی ڈیموگرافکس میں یکایک تبدیلی آرہی ہے دوسرے کلچرل تضاد اور مفادات کا اختلاف روز بروز بڑھ رہا ہے. اس لئے ہمیں ایک میکنزم کی ضرورت ہے. </p>
<p>کسی کو کراچی آنے میں بالکل کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی. مطالبہ محض یہ ہے کہ آنے والے ایک میکنزم کے تحت آئیں تاکہ ڈیموگرافکس، کلچرل، معاشی اور دیگر تبدیلیوں پر نظر رکھی جائے اور گزشتہ دنوں ہونے والے تصادم جیسے واقعات کی پیش قدمی اور بچاؤ کی منصوبہ بندی کی جاسکے. اس سے ایک بہتر سیاسی کلچر بھی تشکیل پائے گا. کیونکہ رجسٹریشن سے بچنے کے لئے یہاں عشروں سے آباد  پختون فیملیاں اپنے شناختی کارڈ درست کروائیں گے جس سے ان کے ووٹ رجسٹرڈ ہونگے. اور شہر میں خوشگوار سیاسی تبدیلی آئے گی.</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: جہانزیب</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/411/comment-page-1#comment-5435</link>
		<dc:creator>جہانزیب</dc:creator>
		<pubDate>Sun, 30 Nov 2008 03:24:35 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=411#comment-5435</guid>
		<description>نعمان، پہلے جب آپ بات کر رہے تھے تو مجھے لگا کہ آپ، تارکین وطن(افغانی) اور ہم وطن (پاکستانی پٹھان) دونوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا چاہ رہے ہیں، اس لئے بعد میں تبصرہ کی ضرورت محسوس نہیں کی . تارکین وطن کی ضرور رجسٹریشن ہونی چاہیے، لیکن ہموطنوں کی ملک کے کسی بھی حصہ میں جانے پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے .
اوپر راشد نے امریکہ میں دس دن کے اندر ڈرائیور لائسنس کی بات کی ہے، جو مکمل درست نہیں ہے، صرف اس صورت میں ایسا کرنا ضروری ہے جب آپ اپنی رہائش بدلتے ہیں، نہیں تو مہینہ مہینہ بھر تو لوگ نیویارک میں سیروسیاحت کے لئے ہی آتے ہیں . پھر یہ صرف ریاست بدلنے پر نہیں ہے، بلکہ جب بھی آپ اپنی رہائش ایک شہر میں بھی بدلتے ہیں تو ایسا کرنا ضروری ہے، لیکن اس کی بنیادی وجہ امریکہ میں ڈاک کا نظام اور آنے والی ڈاک زیادہ ہے .
اب میں اس بات کا حامی ہوں، لیکن مجھے پکا یقین ہے کہ کراچی والے اس کے حامی نہیں ہوں گے . وجہ یہ ہے کہ جب آپ اپنا نئے پتے پر لائیسنس حاصل کر لیتے ہیں تو آپ وہاں کے شہری ہو گئے ہیں،آپ کا ووٹ بھی وہاں ہو گیا ہے اور آپ ان سب سہولتوں کے بھی حقدار بن گئے جو وہاں کے مکینوں کو حکومت کی طرف سے میسر ہیں . جب کہ کراچی میں دو نسلوں سے رہنے والے پنجابی آج بھی پنجابی اور پٹھان آج بھی پٹھان ہیں .کراچی والے انہیں کراچی والا ماننے کو تیار نہیں . میرے خیال میں اس کو ملک میں حل کرنے کی ضرورت ہے .</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>نعمان، پہلے جب آپ بات کر رہے تھے تو مجھے لگا کہ آپ، تارکین وطن(افغانی) اور ہم وطن (پاکستانی پٹھان) دونوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا چاہ رہے ہیں، اس لئے بعد میں تبصرہ کی ضرورت محسوس نہیں کی . تارکین وطن کی ضرور رجسٹریشن ہونی چاہیے، لیکن ہموطنوں کی ملک کے کسی بھی حصہ میں جانے پر ایسی کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے .<br />
اوپر راشد نے امریکہ میں دس دن کے اندر ڈرائیور لائسنس کی بات کی ہے، جو مکمل درست نہیں ہے، صرف اس صورت میں ایسا کرنا ضروری ہے جب آپ اپنی رہائش بدلتے ہیں، نہیں تو مہینہ مہینہ بھر تو لوگ نیویارک میں سیروسیاحت کے لئے ہی آتے ہیں . پھر یہ صرف ریاست بدلنے پر نہیں ہے، بلکہ جب بھی آپ اپنی رہائش ایک شہر میں بھی بدلتے ہیں تو ایسا کرنا ضروری ہے، لیکن اس کی بنیادی وجہ امریکہ میں ڈاک کا نظام اور آنے والی ڈاک زیادہ ہے .<br />
اب میں اس بات کا حامی ہوں، لیکن مجھے پکا یقین ہے کہ کراچی والے اس کے حامی نہیں ہوں گے . وجہ یہ ہے کہ جب آپ اپنا نئے پتے پر لائیسنس حاصل کر لیتے ہیں تو آپ وہاں کے شہری ہو گئے ہیں،آپ کا ووٹ بھی وہاں ہو گیا ہے اور آپ ان سب سہولتوں کے بھی حقدار بن گئے جو وہاں کے مکینوں کو حکومت کی طرف سے میسر ہیں . جب کہ کراچی میں دو نسلوں سے رہنے والے پنجابی آج بھی پنجابی اور پٹھان آج بھی پٹھان ہیں .کراچی والے انہیں کراچی والا ماننے کو تیار نہیں . میرے خیال میں اس کو ملک میں حل کرنے کی ضرورت ہے .</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: نعمان</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/411/comment-page-1#comment-5371</link>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 28 Nov 2008 18:39:10 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=411#comment-5371</guid>
		<description>خاور میں نے اتفاقا آپ کے لنک پر کلک کیا تو وہاں مولانا مودودی کی تصویر چسپاں تھی. 

اور مجھے نہیں لگتا کہ مجھے ایم کیو ایم کا دفاع کرنا چاہئے. لوگ انہیں ووٹ دیتے ہیں. دعا کریں کہ کبھی کوئی سیاسی جماعت انہیں ہراسکے. باقی آپ چاہے انہیں مافیا کہیں یا کچھ بھی. یہ آپ کی اپنی رائے ہے. میرا اس سے متفق ہونا ضروری تو نہیں ہے نا؟؟؟</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>خاور میں نے اتفاقا آپ کے لنک پر کلک کیا تو وہاں مولانا مودودی کی تصویر چسپاں تھی. </p>
<p>اور مجھے نہیں لگتا کہ مجھے ایم کیو ایم کا دفاع کرنا چاہئے. لوگ انہیں ووٹ دیتے ہیں. دعا کریں کہ کبھی کوئی سیاسی جماعت انہیں ہراسکے. باقی آپ چاہے انہیں مافیا کہیں یا کچھ بھی. یہ آپ کی اپنی رائے ہے. میرا اس سے متفق ہونا ضروری تو نہیں ہے نا؟؟؟</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: خاور بلال</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/411/comment-page-1#comment-5355</link>
		<dc:creator>خاور بلال</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 28 Nov 2008 11:49:20 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=411#comment-5355</guid>
		<description>یہ بات صحیح ہے کہ اسلحہ سب کے پاس ہے لیکن اسلحے کی جو زنبیل ایم کیو ایم کے پاس ہے وہ کسی کے پاس نہیں۔ اور محض اسلحہ ہونا کافی نہیں ہوتا اصل چیز تو اسلحے کا استعمال ہے جو ایم کیو ایم سے زیادہ کوئی نہیں جانتا اور ایم کیو ایم کو سرکاری سرپرستی بھی حاصل ہے جس کی وجہ سے انہیں اطمینان ہے کہ اسلحلے کا استعمال ان کے لیے وبال جان نہیں بنے گا۔ ورنہ دیگر تنظیموں کے لوگ اتنی بڑی تعداد میں نہ مارے جاتے کراچی میں۔ بارہ مئی کے بعد جمعیت اور جماعت کے قریب دس افراد ایم کیو ایم کے انتقام کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ لانڈھی کورنگی سے جماعت کے کئی افراد ایم کیو ایم کے انتقام کے خوف سے دوسری بستیوں میں ہجرت کرچکے ہیں۔ یہ کہنا کہ سب کو اسلحے کی ویسی ہی آزادی ہے جیسی ایم کیو ایم کو ہے تو یہ بچکانہ بات۔ آپ جانے کس بھولی بستی میں رہتے ہیں کہ جہاں آپ کو ایم کیو ایم کا “مافیا اسٹائل“ دیکھنے کو نہیں ملتا یا شاید آپ کے ساتھ یہ سلوک آج تک نہیں ہوا تو آپ دوسروں کی تکلیف کا اندازہ نہیں کرپارہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو میں مشورہ دوں گا کہ حقیقت پہچاننے کےلیے ایم کیو ایم کے کچھ قریب ہوں، سیکٹر اور یونٹ کے چکر لگائیں ان کے ساتھ اٹھیں بیٹھیں۔ میں خدا کو گواہ کرکے کہتا ہوں کہ اگر آپ کا ضمیر زندہ ہے تو آپ چند نشستوں میں ہی ایم کیو ایم کا “مافیا اسٹائل“ پیچان لیں گے، اور آپ کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ لفنگوں کی کتنی بڑی تعدا ہے جنہیں ایم کیو ایم نے پال رکھا ہے۔ اور غنڈہ کہنے کا مطلب یہ نہ تھا کہ وہ کوئی تین چار گلیوں کے عام سے غنڈے ہیں۔ نہیں بلکہ المیہ یہی ہے کہ ایم کیو ایم بیک وقت سیاسی تنظیم بھی ہے اور مافیا بھی۔ اور سیاسی سرپرستی میں غنڈہ گردی بہت بھیانک ہوتی ہے اور سیاسی کے ساتھ اگر سرکاری سرپرستی بھی شامل ہوجائے تو پھر کوئی حال نہیں۔ یہی کراچی میں ہورہا ہے۔ مشرف دور میں ایم کیو ایم کے reveal کے بعد وہ قاتل غنڈے جو منہ چھپائے پھرتے تھے پھر آزاد ہوگئے اور ان میں سے کئی تو مسندوں پر بٹھادیے گئے۔ اب اگر کوئی سمجھتا ہے کہ اتنے طاقتور مافیا کی موجودگی میں شہر ترقی کرسکتا ہے تو سمجھتا رہے، کرے غیر مہاجروں کی رجسٹریشن۔ رجسٹریشن ہوجائے گی تو مسئلہ حل ہوجائے گا؟ الطاف بھائی پھر ایک نیا شوشہ چھوڑدیں گے کہ ہمیں کراچی میں رہنے والے غیر مہاجروں سے خطرہ ہے۔ اور ایک بیان آئیگا کہ مہاجر قوم کے بوڑھے، جوان، عورتیں، بچے اور نومولود بچے سب اپنے دفاع کے لیے تیار ہوجائیں یہ ہماری بقا کا سوال ہے۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>یہ بات صحیح ہے کہ اسلحہ سب کے پاس ہے لیکن اسلحے کی جو زنبیل ایم کیو ایم کے پاس ہے وہ کسی کے پاس نہیں۔ اور محض اسلحہ ہونا کافی نہیں ہوتا اصل چیز تو اسلحے کا استعمال ہے جو ایم کیو ایم سے زیادہ کوئی نہیں جانتا اور ایم کیو ایم کو سرکاری سرپرستی بھی حاصل ہے جس کی وجہ سے انہیں اطمینان ہے کہ اسلحلے کا استعمال ان کے لیے وبال جان نہیں بنے گا۔ ورنہ دیگر تنظیموں کے لوگ اتنی بڑی تعداد میں نہ مارے جاتے کراچی میں۔ بارہ مئی کے بعد جمعیت اور جماعت کے قریب دس افراد ایم کیو ایم کے انتقام کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ لانڈھی کورنگی سے جماعت کے کئی افراد ایم کیو ایم کے انتقام کے خوف سے دوسری بستیوں میں ہجرت کرچکے ہیں۔ یہ کہنا کہ سب کو اسلحے کی ویسی ہی آزادی ہے جیسی ایم کیو ایم کو ہے تو یہ بچکانہ بات۔ آپ جانے کس بھولی بستی میں رہتے ہیں کہ جہاں آپ کو ایم کیو ایم کا “مافیا اسٹائل“ دیکھنے کو نہیں ملتا یا شاید آپ کے ساتھ یہ سلوک آج تک نہیں ہوا تو آپ دوسروں کی تکلیف کا اندازہ نہیں کرپارہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو میں مشورہ دوں گا کہ حقیقت پہچاننے کےلیے ایم کیو ایم کے کچھ قریب ہوں، سیکٹر اور یونٹ کے چکر لگائیں ان کے ساتھ اٹھیں بیٹھیں۔ میں خدا کو گواہ کرکے کہتا ہوں کہ اگر آپ کا ضمیر زندہ ہے تو آپ چند نشستوں میں ہی ایم کیو ایم کا “مافیا اسٹائل“ پیچان لیں گے، اور آپ کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ لفنگوں کی کتنی بڑی تعدا ہے جنہیں ایم کیو ایم نے پال رکھا ہے۔ اور غنڈہ کہنے کا مطلب یہ نہ تھا کہ وہ کوئی تین چار گلیوں کے عام سے غنڈے ہیں۔ نہیں بلکہ المیہ یہی ہے کہ ایم کیو ایم بیک وقت سیاسی تنظیم بھی ہے اور مافیا بھی۔ اور سیاسی سرپرستی میں غنڈہ گردی بہت بھیانک ہوتی ہے اور سیاسی کے ساتھ اگر سرکاری سرپرستی بھی شامل ہوجائے تو پھر کوئی حال نہیں۔ یہی کراچی میں ہورہا ہے۔ مشرف دور میں ایم کیو ایم کے reveal کے بعد وہ قاتل غنڈے جو منہ چھپائے پھرتے تھے پھر آزاد ہوگئے اور ان میں سے کئی تو مسندوں پر بٹھادیے گئے۔ اب اگر کوئی سمجھتا ہے کہ اتنے طاقتور مافیا کی موجودگی میں شہر ترقی کرسکتا ہے تو سمجھتا رہے، کرے غیر مہاجروں کی رجسٹریشن۔ رجسٹریشن ہوجائے گی تو مسئلہ حل ہوجائے گا؟ الطاف بھائی پھر ایک نیا شوشہ چھوڑدیں گے کہ ہمیں کراچی میں رہنے والے غیر مہاجروں سے خطرہ ہے۔ اور ایک بیان آئیگا کہ مہاجر قوم کے بوڑھے، جوان، عورتیں، بچے اور نومولود بچے سب اپنے دفاع کے لیے تیار ہوجائیں یہ ہماری بقا کا سوال ہے۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: نعمان</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/411/comment-page-1#comment-5353</link>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 28 Nov 2008 11:18:57 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=411#comment-5353</guid>
		<description>راشد ادھر ادھر تبصرہ جات پڑھنے اور گذشتہ چند دنوں سے بڑھتے ٹینشن سے مجھے بھی یہی لگتا ہے. 

لیکن میرا خیال ہے کہ اگر کوئی کسی دوسرے صوبے سے کراچی منتقل ہورہا ہے یا ہوچکا ہے تو انہیں اپنے قومی شناختی کارڈ میں ضرور اس کا اندراج کروانا چاہئے. رجسٹریشن نہ سہی مگر ایسے دیگر طریقوں پر ضرور کیا جانا چاہئے جن سے مقامی آبادی اور ان کی ضروریات کا تعین کیا جاسکے اور شہریوں کو بہتر سیکیوریٹی فراہم کی جاسکے.</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>راشد ادھر ادھر تبصرہ جات پڑھنے اور گذشتہ چند دنوں سے بڑھتے ٹینشن سے مجھے بھی یہی لگتا ہے. </p>
<p>لیکن میرا خیال ہے کہ اگر کوئی کسی دوسرے صوبے سے کراچی منتقل ہورہا ہے یا ہوچکا ہے تو انہیں اپنے قومی شناختی کارڈ میں ضرور اس کا اندراج کروانا چاہئے. رجسٹریشن نہ سہی مگر ایسے دیگر طریقوں پر ضرور کیا جانا چاہئے جن سے مقامی آبادی اور ان کی ضروریات کا تعین کیا جاسکے اور شہریوں کو بہتر سیکیوریٹی فراہم کی جاسکے.</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: راشد کامران</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/411/comment-page-1#comment-5338</link>
		<dc:creator>راشد کامران</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 28 Nov 2008 01:51:11 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=411#comment-5338</guid>
		<description>یو ایس میں اگر آپ ایک ریاست سے دوسرے ریاست ہجرت کریں تو آپ کو لازمی دس دن کے اندر اندر اپنا ڈرائیونگ لائسنس موجودہ اسٹیٹ کا بنوانا پڑتا ہے اور اگر آپ اپنا پتہ تبدیل کرتے ہیں تو بھی آپ کو اپنے نئے پتے سے اتھارٹیز کو مطلع کرنا پڑتا ہے. لیکن اس میں قومیت جیسی کسی چیز کا دخل نہیں ہوتا بلکہ یکساں قانون لاگو ہوتا ہے. اگر آپ مستقل بنیاد پر منتقل نہیں ہورہے تو پھر آپ دوسری اسٹیٹ کے لائسنس اور نمبر پلیٹ پر گاڑی چلاتے رہتے ہیں. لیکن یہ انتہائی انتظامی نوعیت کا مسئلہ ہے. اگر رجسٹریشن کی بنیاد کسی قومیت جیسے پختونوں کی رجسٹریشن ہے تو پھر تو اس سے اختلاف کی گنجائش ہے لیکن اگر ایک قانون بنا کر کسی بھی شہر یا صوبے سے منتقلی کا طریقہ کار وضع کردیا جائے تو یہ انتظامی فیصلہ ہوگا اور یہ ضروری بھی ہے لیکن صرف ایک شہر یا صوبے اور کسی خاص قومیت کے ساتھ اسکا اطلاق لوگوں سے پاکستانی شہریت کا بنیادی حق یعنی پاکستان میں کہیں بھی رہائش چھین لے گا جس کی حمایت نہیں کی جاسکتی. اے این پی اور ایم کیو ایم کے ایجنڈے مختلف نوعیت کے ہیں اور اس میں انتظامی سے زیادہ انتقامی اور شہر کے قبضے کی نوعیت کے  کنٹرول کا زیادہ عمل دخل ہے اور فیصلے کو لسانی رخ زیادہ دے دیا گیا ہے جس کی وجہ سے اس کا اطلاق بہتری کے بجائے ابتری پیدا کردے گا.</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>یو ایس میں اگر آپ ایک ریاست سے دوسرے ریاست ہجرت کریں تو آپ کو لازمی دس دن کے اندر اندر اپنا ڈرائیونگ لائسنس موجودہ اسٹیٹ کا بنوانا پڑتا ہے اور اگر آپ اپنا پتہ تبدیل کرتے ہیں تو بھی آپ کو اپنے نئے پتے سے اتھارٹیز کو مطلع کرنا پڑتا ہے. لیکن اس میں قومیت جیسی کسی چیز کا دخل نہیں ہوتا بلکہ یکساں قانون لاگو ہوتا ہے. اگر آپ مستقل بنیاد پر منتقل نہیں ہورہے تو پھر آپ دوسری اسٹیٹ کے لائسنس اور نمبر پلیٹ پر گاڑی چلاتے رہتے ہیں. لیکن یہ انتہائی انتظامی نوعیت کا مسئلہ ہے. اگر رجسٹریشن کی بنیاد کسی قومیت جیسے پختونوں کی رجسٹریشن ہے تو پھر تو اس سے اختلاف کی گنجائش ہے لیکن اگر ایک قانون بنا کر کسی بھی شہر یا صوبے سے منتقلی کا طریقہ کار وضع کردیا جائے تو یہ انتظامی فیصلہ ہوگا اور یہ ضروری بھی ہے لیکن صرف ایک شہر یا صوبے اور کسی خاص قومیت کے ساتھ اسکا اطلاق لوگوں سے پاکستانی شہریت کا بنیادی حق یعنی پاکستان میں کہیں بھی رہائش چھین لے گا جس کی حمایت نہیں کی جاسکتی. اے این پی اور ایم کیو ایم کے ایجنڈے مختلف نوعیت کے ہیں اور اس میں انتظامی سے زیادہ انتقامی اور شہر کے قبضے کی نوعیت کے  کنٹرول کا زیادہ عمل دخل ہے اور فیصلے کو لسانی رخ زیادہ دے دیا گیا ہے جس کی وجہ سے اس کا اطلاق بہتری کے بجائے ابتری پیدا کردے گا.</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: نعمان</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/411/comment-page-1#comment-5327</link>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
		<pubDate>Thu, 27 Nov 2008 19:54:07 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=411#comment-5327</guid>
		<description>خاور .. آپ کے تبصرے میں کچھ بھی نیا نہیں ہے. میں یہ سب کچھ پہلے دس ہزار بار ایم کیو ایم مخالف لوگوں سے سن اور پڑھ چکا ہوں. ایسے کئی قصے بھی سن چکا ہوں. مجھے یہ قصے بالکل متاثر نہیں کرتے. جن میں ایم کیو ایم کے ہولناک جرائم کی حیرت انگیز داستانیں پیش کی جاتی ہیں. پاکستان میں ہر سیاسی جماعت اسلحہ رکھتی ہے، ہر سیاسی جماعت کے کارکنان اسلحے کی نمائش کرتے ہیں. خود جماعت اسلامی کے کارکنان جہاد کشمیر کے دوران دہشت گردی کی ٹریننگ لیا کرتے تھے. میں یہ نہیں کہہ رہا کہ یہ صحیح ہے میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ یہ سب پروپگینڈا زیادہ محسوس ہوتا ہے. 

غنڈوں میں نظم و ضبط نہیں ہوتا. وہ تقریریں نہیں سنتے، وہ جلسے نہیں کرتے، وہ پوسٹر نہیں چپکاتے وہ نعرے نہیں لگاتے.

میں ایم کیو ایم کو ووٹ نہیں دیتا. ان کی حمایت بھی نہیں کرنا چاہتا. لیکن آپ کے اپنے تعصبات بھی کافی نمایاں ہیں. میرا خیال ہے کہ لاکھوں لوگ جو ایم کیو ایم کو ووٹ دیتے ہیں. وہ کافی سمجھدار، باشعور اور سلجھے ہوئے لوگ ہیں. ان کی رائے کا احترام کیا جانا چاہئے. 

اف کیا ضروری ہے کہ ایم کیو ایم کا ذکر آئے اور آپ لوگ فورا موضوع سے ہٹ جاءیں؟ کیا ہم پلیز اصل موضوع پر واپس آسکتے ہیں؟</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>خاور .. آپ کے تبصرے میں کچھ بھی نیا نہیں ہے. میں یہ سب کچھ پہلے دس ہزار بار ایم کیو ایم مخالف لوگوں سے سن اور پڑھ چکا ہوں. ایسے کئی قصے بھی سن چکا ہوں. مجھے یہ قصے بالکل متاثر نہیں کرتے. جن میں ایم کیو ایم کے ہولناک جرائم کی حیرت انگیز داستانیں پیش کی جاتی ہیں. پاکستان میں ہر سیاسی جماعت اسلحہ رکھتی ہے، ہر سیاسی جماعت کے کارکنان اسلحے کی نمائش کرتے ہیں. خود جماعت اسلامی کے کارکنان جہاد کشمیر کے دوران دہشت گردی کی ٹریننگ لیا کرتے تھے. میں یہ نہیں کہہ رہا کہ یہ صحیح ہے میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ یہ سب پروپگینڈا زیادہ محسوس ہوتا ہے. </p>
<p>غنڈوں میں نظم و ضبط نہیں ہوتا. وہ تقریریں نہیں سنتے، وہ جلسے نہیں کرتے، وہ پوسٹر نہیں چپکاتے وہ نعرے نہیں لگاتے.</p>
<p>میں ایم کیو ایم کو ووٹ نہیں دیتا. ان کی حمایت بھی نہیں کرنا چاہتا. لیکن آپ کے اپنے تعصبات بھی کافی نمایاں ہیں. میرا خیال ہے کہ لاکھوں لوگ جو ایم کیو ایم کو ووٹ دیتے ہیں. وہ کافی سمجھدار، باشعور اور سلجھے ہوئے لوگ ہیں. ان کی رائے کا احترام کیا جانا چاہئے. </p>
<p>اف کیا ضروری ہے کہ ایم کیو ایم کا ذکر آئے اور آپ لوگ فورا موضوع سے ہٹ جاءیں؟ کیا ہم پلیز اصل موضوع پر واپس آسکتے ہیں؟</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: خاور بلال</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/411/comment-page-1#comment-5322</link>
		<dc:creator>خاور بلال</dc:creator>
		<pubDate>Thu, 27 Nov 2008 17:59:00 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=411#comment-5322</guid>
		<description>نعمان میں یہ کہہ رہا تھا کہ سارے مہاجر ایم کیو ایم میں نہیں ہیں. ایم کیو ایم کے حامی صرف وہی مہاجر ہوسکتے ہیں جنہیں قوم پرستی انسانیت سے بھی بڑھ کر عزیز ہے۔ انسانیت کی جو توہین ایم کیو ایم نے کی ہے اسے دیکھ کر تو قوم پرست مہاجروں کی بڑی تعداد  بھی ایک کیو ایم سے نالاں ہیں اور صرف اس لیے خاموش ہے کہ انہیں معاشرتی بائیکاٹ اور خوف و ہراس کا سامنا ہے۔ اور جماعتِ اسلامی کراچی کی اکثریت مہاجروں پر مشتمل ہے۔ لیکن یہ وہ مہاجر ہیں جو قوم پرستی کی لعنت سے پاک ہیں۔

مہاجر تو آپ بھی ہیں تو کیا محض اپنی قوم کی حمایت میں آپ انسانیت کی دھجیاں بکھرتے برداشت کرلیں گے؟ یقینا نہیں۔ بس یہی فرق ہے ایک عام مہاجر میں اور ایک کٹر قوم پرست مہاجر میں۔ اور صرف مہاجر ہی نہیں قوم پرستی کے مرض میں مبتلا کوئی بھی شخص چاہے وہ مہاجر ہو یا پختون، اپنی قوم سے وفاداری میں دیگر قوموں کے افراد سے ناروا سلوک کرتا ہے اور قوم پرستی کا پہلا مطالبہ ہی آدمی سے یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی قوم کو دوسروں سے برتر سمجھے۔ یہی کچھ مشرقی پاکستان میں ہوا تھا جہاں پنجابی نیشنل ازم نے بنگالیوں میں احساسِ محرومی پیدا کیا جس کے نتیجے میں ملک دو ٹکڑے ہوا اور اب بھی اس نیشنل ازم نے پاکستان میں جگہ جگہ بھائ کو بھائ سے نفرت کرنے پر مجبور کررکھا ہے۔ اور مجھے یقین ہے کہ غیر مہاجروں کی رجسٹریشن کا یہ سلسلہ اس نفرت کو مزید بڑھائے گا۔ اگر ایم کیو ایم کو کراچی کی بھلائی میں کچھ کرنا ہے تو اسے چاہیے کہ سب سے پہلے اپنا “مافیا اسٹائل“ ختم کرے تاکہ کراچی سے گھٹن کا ماحول ختم ہو اور تاجر و صنعت کار یہاں بے خوف ہوکر کام کرسکیں۔ ابھی تو یہ حال ہے کہ اندھیرا چھاتے ہی گلیوں سے گزرتے لوگ ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھنے لگ جاتے ہیں کہ کہیں یہ موبائل چور تو نہیں۔ اور موبائل چوری وہی کرسکتے ہیں جن کے پاس ایک عدد ٹی ٹی ہو اور کراچی میں ٹی ٹیاں سیکٹر اور یونٹ سے ہی بٹتی ہیں۔ ایک دفعہ متحدہ مجلس عمل کی ہڑتال تھی میں کچھ دوستوں کے ساتھ گھر سے نظارہ کرنے نکلا۔ گھر سے کچھ دور ہی الفلاح تھانے کے قریب ایم کیو ایم کے لفنگے جمع تھے، ہمیں آتا دیکھ کر انہوں نے فورا پہنچان لیا۔ پہلے ایک ہوائی فائر کیا اور پھر ہم پر پسٹل تان لیے، سب کے سب مسلح تھے۔ انہوں نے ہمیں بائیک پر بیٹھنے کو کہا اور سیدھا تھانے لے گئے۔ تھانے میں انہوں نے ہمیں پولیس کے حوالے کیا اور کہا کہ ان کے پاس اسلحہ تھا اور ابھی جو فائر ہوا وہ انہوں نے ہی کیا تھا۔ مزے کی بات یہ کہ نہ تو انہوں نے اپنا اسلحہ پولیس سے چھپایا اور نہ ہی پولیس نے ان سے پوچھنے کی جرات کی کہ صاحب اسلحہ آپ کے پاس ہے تو فائر انہوں نے کیسے کردیا۔ خیر ان کے جانے کے پولیس والوں نے انہیں خوب کوسا اور ہمیں کہا کہ شکر کرو کہ یہ تھانے لے آئے اگر اپنے ساتھ ہی کہیں لے جاتے تو جسم کی ایک آدھ چیز “شارٹ“ کرکے ہی بھیجتے۔ یہ واقعہ بتانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ایم کیو ایم جب تک خود غنڈہ گردی و دہشت گردی میں ملوث رہے گی اس وقت تک ایم کیو ایم کو ہرگز یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ طالبان کی دہشت گردی کا واویلا مچائے۔ جب گھر والے ہی اپنے گھر کی ترقی نہ چاہتے ہوں تو باہر والے کیوں کر اس کی ترقی کا خیال کریں۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>نعمان میں یہ کہہ رہا تھا کہ سارے مہاجر ایم کیو ایم میں نہیں ہیں. ایم کیو ایم کے حامی صرف وہی مہاجر ہوسکتے ہیں جنہیں قوم پرستی انسانیت سے بھی بڑھ کر عزیز ہے۔ انسانیت کی جو توہین ایم کیو ایم نے کی ہے اسے دیکھ کر تو قوم پرست مہاجروں کی بڑی تعداد  بھی ایک کیو ایم سے نالاں ہیں اور صرف اس لیے خاموش ہے کہ انہیں معاشرتی بائیکاٹ اور خوف و ہراس کا سامنا ہے۔ اور جماعتِ اسلامی کراچی کی اکثریت مہاجروں پر مشتمل ہے۔ لیکن یہ وہ مہاجر ہیں جو قوم پرستی کی لعنت سے پاک ہیں۔</p>
<p>مہاجر تو آپ بھی ہیں تو کیا محض اپنی قوم کی حمایت میں آپ انسانیت کی دھجیاں بکھرتے برداشت کرلیں گے؟ یقینا نہیں۔ بس یہی فرق ہے ایک عام مہاجر میں اور ایک کٹر قوم پرست مہاجر میں۔ اور صرف مہاجر ہی نہیں قوم پرستی کے مرض میں مبتلا کوئی بھی شخص چاہے وہ مہاجر ہو یا پختون، اپنی قوم سے وفاداری میں دیگر قوموں کے افراد سے ناروا سلوک کرتا ہے اور قوم پرستی کا پہلا مطالبہ ہی آدمی سے یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی قوم کو دوسروں سے برتر سمجھے۔ یہی کچھ مشرقی پاکستان میں ہوا تھا جہاں پنجابی نیشنل ازم نے بنگالیوں میں احساسِ محرومی پیدا کیا جس کے نتیجے میں ملک دو ٹکڑے ہوا اور اب بھی اس نیشنل ازم نے پاکستان میں جگہ جگہ بھائ کو بھائ سے نفرت کرنے پر مجبور کررکھا ہے۔ اور مجھے یقین ہے کہ غیر مہاجروں کی رجسٹریشن کا یہ سلسلہ اس نفرت کو مزید بڑھائے گا۔ اگر ایم کیو ایم کو کراچی کی بھلائی میں کچھ کرنا ہے تو اسے چاہیے کہ سب سے پہلے اپنا “مافیا اسٹائل“ ختم کرے تاکہ کراچی سے گھٹن کا ماحول ختم ہو اور تاجر و صنعت کار یہاں بے خوف ہوکر کام کرسکیں۔ ابھی تو یہ حال ہے کہ اندھیرا چھاتے ہی گلیوں سے گزرتے لوگ ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھنے لگ جاتے ہیں کہ کہیں یہ موبائل چور تو نہیں۔ اور موبائل چوری وہی کرسکتے ہیں جن کے پاس ایک عدد ٹی ٹی ہو اور کراچی میں ٹی ٹیاں سیکٹر اور یونٹ سے ہی بٹتی ہیں۔ ایک دفعہ متحدہ مجلس عمل کی ہڑتال تھی میں کچھ دوستوں کے ساتھ گھر سے نظارہ کرنے نکلا۔ گھر سے کچھ دور ہی الفلاح تھانے کے قریب ایم کیو ایم کے لفنگے جمع تھے، ہمیں آتا دیکھ کر انہوں نے فورا پہنچان لیا۔ پہلے ایک ہوائی فائر کیا اور پھر ہم پر پسٹل تان لیے، سب کے سب مسلح تھے۔ انہوں نے ہمیں بائیک پر بیٹھنے کو کہا اور سیدھا تھانے لے گئے۔ تھانے میں انہوں نے ہمیں پولیس کے حوالے کیا اور کہا کہ ان کے پاس اسلحہ تھا اور ابھی جو فائر ہوا وہ انہوں نے ہی کیا تھا۔ مزے کی بات یہ کہ نہ تو انہوں نے اپنا اسلحہ پولیس سے چھپایا اور نہ ہی پولیس نے ان سے پوچھنے کی جرات کی کہ صاحب اسلحہ آپ کے پاس ہے تو فائر انہوں نے کیسے کردیا۔ خیر ان کے جانے کے پولیس والوں نے انہیں خوب کوسا اور ہمیں کہا کہ شکر کرو کہ یہ تھانے لے آئے اگر اپنے ساتھ ہی کہیں لے جاتے تو جسم کی ایک آدھ چیز “شارٹ“ کرکے ہی بھیجتے۔ یہ واقعہ بتانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ایم کیو ایم جب تک خود غنڈہ گردی و دہشت گردی میں ملوث رہے گی اس وقت تک ایم کیو ایم کو ہرگز یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ طالبان کی دہشت گردی کا واویلا مچائے۔ جب گھر والے ہی اپنے گھر کی ترقی نہ چاہتے ہوں تو باہر والے کیوں کر اس کی ترقی کا خیال کریں۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: نعمان</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/411/comment-page-1#comment-5316</link>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
		<pubDate>Thu, 27 Nov 2008 15:05:46 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=411#comment-5316</guid>
		<description>خاور بلال: 
کبھی آپ کہتے ہیں کہ مہاجر قومیت پسند ہیں کبھی کہتے ہیں کہ جماعت اسلامی کے کارکن ہیں. ایم کیو ایم سے پہلے مہاجر فساد کے ذمے دار تھے. اب ایم کیو ایم ہے تو وہ فساد کی ذمہ دار ہے. اب اگر میں اس تبصرے کے جواب میں کچھ کہتا ہوں تو ایسا لگے گا کہ میں مہاجروں کی حمایت کررہا ہوں اور پختونوں کو برا کہہ رہا ہوں. 

روسی شہری: 

موضوع گفتگو مہاجر پٹھان فساد نہیں. بلکہ کراچی کو بے پناہ مائیگرینٹس کے سیلاب اور اسے پیدا ہونے والے مسائل سے بچانا ہے.کیا آپ کے خیال میں یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے؟ یا آپ کو لگتا ہے کراچی کوئی کوڑے کا ایسا ڈبہ ہے جو کبھی نہیں بھرے گا؟</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>خاور بلال:<br />
کبھی آپ کہتے ہیں کہ مہاجر قومیت پسند ہیں کبھی کہتے ہیں کہ جماعت اسلامی کے کارکن ہیں. ایم کیو ایم سے پہلے مہاجر فساد کے ذمے دار تھے. اب ایم کیو ایم ہے تو وہ فساد کی ذمہ دار ہے. اب اگر میں اس تبصرے کے جواب میں کچھ کہتا ہوں تو ایسا لگے گا کہ میں مہاجروں کی حمایت کررہا ہوں اور پختونوں کو برا کہہ رہا ہوں. </p>
<p>روسی شہری: </p>
<p>موضوع گفتگو مہاجر پٹھان فساد نہیں. بلکہ کراچی کو بے پناہ مائیگرینٹس کے سیلاب اور اسے پیدا ہونے والے مسائل سے بچانا ہے.کیا آپ کے خیال میں یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے؟ یا آپ کو لگتا ہے کراچی کوئی کوڑے کا ایسا ڈبہ ہے جو کبھی نہیں بھرے گا؟</p>
]]></content:encoded>
	</item>
</channel>
</rss>
