رجسٹریشن، طالبان، پختون، اور کراچی کا مستقبل

میٹروبلاگ کراچی کی بلاگر تزین کو دن دھاڑے کسی طالبان بھائی نے اسلام کے نام پر ہراساں کیا۔ کراچی کے اکثر لوگوں کو شمالی علاقہ جات، صوبہ سرحد اور فاٹا سے آنے والے بے حساب پناہ گزینوں سے کچھ اسی قسم کا خطرہ ہے۔

تزین کی پوسٹ کے فورا بعد کراچی میٹروبلاگ پر ڈاکٹر علوی، صدر صاحب اور سندھ حکومت کے رجسٹریشن کے فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے، میٹروبلاگ کراچی کے قارئین سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ بتائیں ان کے خیال میں نئے آنے والوں کی رجسٹریشن ہونی چاہئے یا نہیں۔ اور جس وقت میں دیکھ رہا تھا تب انہتر فیصد لوگ اس کے حق میں تھے۔ تبصرہ جات دیکھ کر آسانی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شہریوں کی بڑی تعداد اسے کافی اچھا قدم سمجھتی ہے۔

اس سلسلے میں ڈاکٹر علوی کی پوسٹ پر کامی کے تبصرہ جات کافی مدلل ہیں۔ اور میں بہت حد تک ان سے متفق ہوں۔ کہ رجسٹریشن ہونا چاہئے۔ لیکن کامی کہیں بھی یہ نہیں بتا پائے کہ خونریزی سے بچتے ہوئے کس طرح ُپختون آبادی کو رجسٹریشن پر تیار کیا جاسکتا ہے؟ ان تبصرہ جات میں کچھ لوگ تو اس بات پر بھی بحث کررہے ہیں کہ کراچی میں ووٹ دینے کا حق کسے ہونا چاہئے۔ یہ بھی وہیں سے پتہ چلا کہ انٹرنلی ڈسپلیسڈ رفیوجز کی رجسٹریشن دنیا کے اور کئی ممالک میں ہوتی رہی ہے۔ یہ بھی علم ہوا کہ چائنا ہانگ کانگ جانے والے تمام چینی باشندوں کر رجسٹریشن کرتا ہے اور انہیں یہ یقین دہانی کرانا ہوتی ہے کہ وہ واپس مین لینڈ چین واپس آئیں گے۔ لگتا ہے اس مسئلے پر میں ہی سب سے کم علم تھا باقی سب لوگ تو اس پر ٹھیک ٹھاک سوچ بچار کرچکے ہیں۔

میرا خیال بھی یہ ہے کہ ہمیں شہر میں ہر نئے آنے والے کی رجسٹریشن کرنا چاہئے۔ لیکن ڈر یہ ہے کہ اس قسم کے کسی بھی فیصلے سے شہر میں رہنے والے پختون تعصب کا نشانہ بنیں گے اور ان کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ اور رجسٹریشن کا یہ سارا بکھیڑا کسی سنگین فساد کی صورت اختیار کرسکتا ہے۔ بالفرض اگر یہ فساد کی صورت نہیں بھی اختیار کرتا تو کیا رجسٹریشن سے پورے ملک سے آنے والوں لوگوں کی تعداد میں کچھ کمی آجائے گی؟ کیا دہشتگرد رجسٹریشن نہیں کراسکتے؟ کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ ہم اپنے وسائل انٹیلی جنس کو بہتر بنانے میں خرچ کریں۔ اور عوامی زندگی میں دخل ڈالنے والے طالبان سے نمٹنے کے لئے انتہائی سخت رویہ اختیار کریں۔

اگر کسی کو کراچی میں خواتین کے بے حجاب گاڑی چلانے پر اعتراض ہو، ہمارے فحش فلمیں دیکھنے اور رقص و موسیقی سے لطف اندوز ہونے پر اعتراض ہو، ہمارے طور طریقوں رہن سہن پر اعتراض ہو۔ تو کیا اسے یہاں رہنا چاہئے؟ اگر تزین کے واقعے کی طرح اس قسم کے لوگوں نے ہمارے گھروں کے دریچوں پر دستک دینا شروع کی تو کیا ہم یہ برداشت کرسکیں گے؟ اور اس سے بھی بڑھکر کیا وہ ہماری مسلسل ڈھٹائی کے ساتھ اپنے طرز زندگی پر ڈٹے رہنے کو برداشت کرسکیں گے؟