﻿<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
		>
<channel>
	<title>Comments on: کراچی کی طالبانائزیشن</title>
	<atom:link href="http://noumaan.sabza.org/archives/396/feed" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://noumaan.sabza.org/archives/396</link>
	<description>ایک عام سے لڑکے کی بہت خاص خاص باتیں</description>
	<lastBuildDate>Wed, 10 Mar 2010 13:01:09 +0000</lastBuildDate>
	<generator>http://wordpress.org/?v=2.9.2</generator>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
		<item>
		<title>By: mirza waali beg</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/396/comment-page-1#comment-4150</link>
		<dc:creator>mirza waali beg</dc:creator>
		<pubDate>Sat, 11 Oct 2008 13:55:55 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=396#comment-4150</guid>
		<description>تبصرہ مٹادیا گیا ہے۔ براہ مہربانی تبصرہ پالیسی دیکھیں</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>تبصرہ مٹادیا گیا ہے۔ براہ مہربانی تبصرہ پالیسی دیکھیں</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: Azib</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/396/comment-page-1#comment-4142</link>
		<dc:creator>Azib</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 10 Oct 2008 17:02:13 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=396#comment-4142</guid>
		<description>اسلامی جمھوریت،ایسا اتیا چارتوبھ توبھ، بھای نعمان آپ بھی کوئ قرآنی آیات پر مبنی بلاگ شروع کر دیں ورنھ واجب القتل تو لازم ھو ھی چکے ھیں آپ</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>اسلامی جمھوریت،ایسا اتیا چارتوبھ توبھ، بھای نعمان آپ بھی کوئ قرآنی آیات پر مبنی بلاگ شروع کر دیں ورنھ واجب القتل تو لازم ھو ھی چکے ھیں آپ</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: نعمان</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/396/comment-page-1#comment-4138</link>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 10 Oct 2008 12:33:31 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=396#comment-4138</guid>
		<description>بھیا فولادی آدمی، جو جی چاہے لکھو. میں صرف گالم گلوچ اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ جات مٹاتا ہوں یا وہ تبصرے جن میں مجھے قادیانی، کافر، یا واجب القتل قرار دیا جاتا ہو. 

آپ کا پوائنٹ‌ ویلیڈ ہے. شاید سندھیوں کے اعتراض نہ کرنے کی وجہ یہ ہو کہ سندھیوں نے یہ نہ سمجھا ہو کہ مہاجر اس ملک کے لئے مسائل پیدا کریں گے؟ اور سینتالیس کے کراچی اور اب کے کراچی میں زمین آسمان کا فرق ہے.</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>بھیا فولادی آدمی، جو جی چاہے لکھو. میں صرف گالم گلوچ اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ جات مٹاتا ہوں یا وہ تبصرے جن میں مجھے قادیانی، کافر، یا واجب القتل قرار دیا جاتا ہو. </p>
<p>آپ کا پوائنٹ‌ ویلیڈ ہے. شاید سندھیوں کے اعتراض نہ کرنے کی وجہ یہ ہو کہ سندھیوں نے یہ نہ سمجھا ہو کہ مہاجر اس ملک کے لئے مسائل پیدا کریں گے؟ اور سینتالیس کے کراچی اور اب کے کراچی میں زمین آسمان کا فرق ہے.</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: ironmankho</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/396/comment-page-1#comment-4136</link>
		<dc:creator>ironmankho</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 10 Oct 2008 07:29:26 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=396#comment-4136</guid>
		<description>میں ایک با ت لکھوں‌گا .اگر اپ ازادی اظہا ر کو اہمیت دیتے ہے تو اسی لکھے رہنے دیجئے گا . &quot;کراچی کسے کے باپ کا نہیں ہے &quot; .یہ نا م نہا د لسا نی لیڈر جن کا گندا ما ضی اسکی گو اہی دیتا ہے .یہ کبھی اس ملک سے مخلص نہیں رہا ...... میری سمجھ ایک با ت نہیں اتی .یہی مہا جر جب ہندوستا ن لٹے پٹے ائے تھے تو ہم سندھیوں نے تو کبھی نہیں کہا تھا یہ لوگ اس ملک کے لئے مسلئہ بنے گے</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>میں ایک با ت لکھوں‌گا .اگر اپ ازادی اظہا ر کو اہمیت دیتے ہے تو اسی لکھے رہنے دیجئے گا . &#8220;کراچی کسے کے باپ کا نہیں ہے &#8221; .یہ نا م نہا د لسا نی لیڈر جن کا گندا ما ضی اسکی گو اہی دیتا ہے .یہ کبھی اس ملک سے مخلص نہیں رہا &#8230;&#8230; میری سمجھ ایک با ت نہیں اتی .یہی مہا جر جب ہندوستا ن لٹے پٹے ائے تھے تو ہم سندھیوں نے تو کبھی نہیں کہا تھا یہ لوگ اس ملک کے لئے مسلئہ بنے گے</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/396/comment-page-1#comment-3687</link>
		<dc:creator>جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 27 Aug 2008 23:29:44 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=396#comment-3687</guid>
		<description>:۔ ‘‘حکومت سندھ کو ام احسان سمیت تمام ایسے لوگوں پر پابندی لگانی چاہئے جو انتہاپسندی پر مبنی نظریات کا پرچار کرنے کراچی آتے ہیں۔‘‘
2:۔ ‘‘اور حکومت کو ایسا انتظام کرنا چاہئے کہ کوئی ان کی معاشی مجبوریوں کا استحصال نہ کرے‘‘


3:۔ ‘‘ہم کسی کو یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ اپنے بچوں کو ننگے پیر گندی گلیوں میں گھومنے دیں۔ ہم کسی کو اس بات کی بھی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ غربت کے ہاتھوں مجبور ہوکر کم اجرتوں پر ملازمتیں کریں۔ اور کچھ نہ کریں تو جلاؤ گھیراؤ پتھراؤ کریں۔ ہم کسی انتہاپسند مصدقہ دہشت گرد کو یہ اجازت نہ دیں گے کہ وہ ہمارے شہر کے بچوں کو انتہاپسندی کا سبق پڑھانے کی کوشش کریں۔ ہم اپنے مدارس کی حفاظت خود کریں گے اور ہمیں کسی مدرسہ ایکشن کمیٹی کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
4:۔ ‘‘نئے آنے والے شہر کو سمجھیں اور اس کے مزاج میں گھلنے کی کوشش کریں۔ اور اگر نہ گھل سکیں تو واپس چلے جائیں۔‘‘
5:۔‘‘ان غریب پختون نوجوانوں کو اے این پی، جماعت اسلامی، انتہا پسند اسلامی تنظیمیں، ہر کوئی بطور ایندھن استعمال کرنا چاہتا ہے۔ بطور ایندھن انہیں استعمال کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انہیں نفرت کرنے کے لئے کوئی قریبی دشمن دکھایا جائے۔ اور نیچرلی ایم کیو ایم سے زیادہ آسان ٹارگٹ کون ہوسکتا ہے۔ یہ متوسط طبقے کی نمائندہ جماعت ہے، جس میں اردو بولنے والے بڑی تعداد میں ہیں، جو صوبہ سرحد میں طالبان کے خلاف آپریشن کی حامی ہے، جو خود کو سیکولر لبرل جماعت کہلوانا پسند کرتی ہے‘‘

6:۔ ‘‘ان آنے والوں میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے۔ اوپر سے یہ تمام نوجوان غیر تعلیم یافتہ، بے ہنر، اور بے حد غربت کا شکار ہیں۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انہیں کسی بھی لسانی، سیاسی، یا نام نہاد مذہبی فساد میں استعمال کرنا کتنا آسان ہوجاتا ہے‘‘
7:۔ ‘‘جس کا نام ہے لینڈ مافیا۔ اس لینڈ مافیا کو بڑی سیاسی جماعتوں، مولویوں اور ہر کرپٹ فرد کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ غریب پختونوں کی کچی آبادیوں کے نام پر زمینوں پر قبضے کرے جارہیں جب کہ ان زمینوں کو اگر واگزار کرانے کی کوشش کی جائے تو اسے لسانی رنگ دے دیا جاتا ہے۔‘‘
8:۔ ‘‘۔۔۔دس بچے پیدا کرے اور پانچ کو برے طرز زندگی کی وجہ سے مرنے کو چھوڑ دیا۔ پانچ اللہ کے کرم سے اگر بڑے ہوگئے تو وہ بھی بے ہنر اور غیرتعلیم یافتہ۔‘‘
9:۔ ان کے بغیر نہ ہماری سڑکیں بن سکتی ہیں، نہ ان پر ٹرانسپورٹ چل سکتی ہے‘‘

10:۔ ‘‘کراچی میں یہ تناسب اتنا زیادہ ہے کہ پختون کراچی کا اسوقت سب سے بڑا لسانی گروہ ہیں، اردو بولنے والوں سے بھی زیادہ۔ لیکن چونکہ وہ کراچی کے شناختی کارڈ نہیں رکھتے اور نہ یہاں کا ڈومیسائل اس لئے ان کا شمار ناممکن ہے۔ لیکن کراچی کا تناسب آپ اندھی آنکھوں سے بھی بھانپ سکتے ہیں۔ شہر کے کسی ریستوران کے ویٹر سے لیکر مالک تک، جس ٹیکسی میں آپ بیٹھ کر آئیں گے اس کے ڈرائیور سے لیکر جس سڑک پر آپ کی گاڑی دوڑ رہی ہوگی اسے بنانے والوں تک سب پختون شہری ہیں۔‘‘
11:۔ ‘‘مہاجر محض ایک علامتی اصطلاح ہے۔ اس کے پیچھے احساس محرومی سے زیادہ اس امر پر تفاخر پوشیدہ ہے کہ یہ لوگ ان لوگوں کی اولاد ہیں جنہوں نے ایک وطن کو اپنانے کے لئے ہجرت کی۔ اس تفاخر پر کسی کو اگر اعتراض ہے تو یہ اس کا اپنا مسئلہ ہے۔‘‘
12:۔ ‘‘یہاں زبانوں کے اشتراک سے روز نئی اصطلاحات بنتی اور بگڑتی ہیں۔ اگر آپ ان کو اردو نہیں سمجھتے تو آپ زبانوں کی ترقی اور ارتقا کے فطری اصولوں سے انحراف کررہے ہیں۔‘‘



13:۔ ‘‘ میگاسٹیز بذات خود ایک بڑی منڈی ہوتے ہیں۔ ڈیڑھ کروڑ کی آبادی پاکستانیوں کے لئے ہمیشہ ایک پرکشش منڈی رہے گی۔‘‘




مندرجہ بالا تمام ارشادات آپکے ہیں ۔آئیے اب ان کا جائزہ لیتے ہیں ۔ مضمون کی طوالت اور قارئین اکرم کی بوریت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے آئیندہ ہم آپکے مکمل ارشاداتِ گرامی لکھنے کی بجائے صرف انکا حوالہ نمبر لکھیں گے۔میں کوشش کرونگا کہ آخر میں اپنی ذاتی رائے بھی پیش کر سکوں۔تو آئیے اب ان تمام نکات کا سرسری جائزہ لیں۔

حوالہ نمبر 1:۔ اگر آپ عمران خان کی کراچی آنے پہ پابندی پہ روشنی ڈال دیتے تو بہتوں کا بھلا ہوتا ۔کیا عمران خان بھی مبینہ دہشت گرد تھا؟۔ مانا کہ امنِ عامہ کی وجہ سے چیف جسٹس جناب افتخار چوہدری اور عمران خان کو زبردستی ائرپورٹ سے کراچی سے بیدخل کیا گیا ۔ مگر جو 21 مئی کو جب 50 سے زائید بے گناہ لوگ مارے گئے اور جسے ساری دنیا نے براہ راست دیکھا کیا وہ ننگی دہشت گردی نہیں تھی ۔تو آپکے خیال میں حکومت کو تمام ایسی تنظیموں ۔ سیاسی جماعتوں جنکی لسانی شناخت کوئی بھی ہو ۔ ان  پر پابندی نہیں لگانی چاہئے جو انتہاپسندی پر مبنی نظریات کا پرچار تو کُجا بلکہ بدترین قسم کی ریاستی دہشت گردی کے مجرم ہیں؟ ۔

حوالہ نمبر 2:۔ کراچی شہر میں آجکل تو ایم کیو ایم کی حکومت ہے ۔ تو پھر کونسی حکومت کو یہ کام سر انجام دینا چاھیے؟۔ جبکہ اسطرع کی فلاح بہبود کے منصوبےاور حقوق کی نگہداشت کراچی میں مقامی یعنی کراچی کی شہری حکومت کی ذمہ داری ہے۔ 

حوالہ نمبر 3:۔ یہاں آپ نے ُہم، کا صیغہ استعمال کیا اور اجازت نا دینے کا تذکرہ کیا ہے ۔ غالباََ   ُہم، سے آپکی مراد ایم کیو ایم یا اس کے زیرِ اثر اہلِ اردو ہیں ۔ تو حضور نا تو آپ جنوبی افریقہ کے سابقہ گورے حکمران ہیں جو کالوں کو یہ نا کرنے دیں گے اور وہ نا کرنے کی اجازت دیں گے ۔ آپکے اجازت نا دینے سے کیا وہ تمام مسائل واقعی حل ہو گیے ہیں یا ٹھیک اسی طرع ہوئے ھیں جسطرع کی اجازت آپ نے پٹھانوں کے متعلق مرحمت فرمانے کا ذکر کیا ہے؟۔

حوالہ نمبر 4:۔کیا آج سے دو یا تین نسل قبل ھندؤستان کے کونے کونے سے آنے والے اور اپنے ساتھ ساتھ کئی طرع کی ثقافت لانے والے آپکے آباء نے تب کراچی میں مقیم مقامی آبادی کا احترام کرتے ہوئے ۔ مقامی آبادی کا کلچر۔ زبان۔اور بودباش اپنا لی تھی ؟۔ یا وہ واپس بھارت لوٹ گئے تھے؟۔

حوالہ نمبر 5:۔ آپکے خیال میں ایم کیو ایم سیکولر جماعت ہے اور باقی لوگ باقی جماعتوں کے بہکاوے میں آکر دہشت گرد وغیرہ کی کوئی قسم بن جائیں گے۔  متحدہ مہاجر موومنٹ کے خلاف ُنو گو ایریاز، اور انکے خلاف قتل غارت میں ملوث لوگوں اور جماعت پہ بھی آپ کو روشنی ڈالنی چاھیے کہ مہاجر ھی کیوں مہاجر کا گلا کاٹ رہا ہے ؟۔اور اس میں ایم کیو ایم کا کتنا حصہ ہے؟؟۔ آپکو شاید یاد ہوگا کہ مشرف دور کے ُاجلے روشن اور شفاف انتخابات جن میں پاکستانی تاریخ کی بد ترین دھاندلی اور دھونس جمائی گئی۔ جسکے نتیجے میں کراچی کی شہری حکومت ایم کیو ایم کو ملی  ۔ ان انتخابات سے قبل کراچی پہ جماعت اسلامی کی شہری حکومت تھی ۔ جسکے سٹی ناظم مولانا نعمت اللہ خان تھے۔ جنکے دور میں ھوئی ترقی کا پھل ابھی تک ایم کیو ایم کھا رہی ہے ۔ ورنہ ان بارشوں کے موسم میں اور کچھ ماہ پہلے تیز آندھی میں ہونے والے نقصانات اور نتیجےمیں مرنے والے لوگوں کی بڑی تعداد اور ایم کیو ایم کی شہری حکومت کے ناقص انتظامات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ۔ کراچی کی موجودہ ترقی میں جماعت اسلامی اور اے این پی کا بھی برابر کا حصہ ہے ۔ پھر بھلا جماعت اسلامی یا اے این پی جسی قومی لیول کی سیاسی جماعتیں کیونکر دہشت گردی کریں یا کروائیں گی؟۔اس پیمانے سے ناپیں تو بہت سے لوگ یہ دہشت گردی کا الزام برملا ایم کیو ایم کو دیتے ہیں ۔
حوالہ نمبر 6:۔ کیا قیامِ پاکستان کے بعد جو مہاجرین لٹے پٹے کراچی پہنچے تھے سبھی ہنر مند، اور اعلٰی تعلیم یافتہ تھے؟۔
حوالہ نمبر 7:۔ کمال ہے جو لوگ 12 مئی کو کراچی شہر کو کنٹینرز اور ٹرک کھڑے کر کے سارا دن پورا کراچی بلاک کر دیتے ہیں اور نتیجاََ سارا دن دہشت گردی کا لائیو پرگرام چلتا ہے 50 سے زائید پاکستانی مارے جاتے ہیں ۔اپ انہین اسقدر کمزور اور بے بس ثابت کر رہے کہ وہ حکومت مبینہ طور پہ ناجائز کچی آبادیوں کی زمیں واگزار نہیں کراو سکتی ۔ اور آپ سارا ملبہ دینی ، اسلامی اور ان جماعتوں پہ ڈال رہے ہیں جو ایم کیو ایم کی منظورنظر نہیں ۔ آپ کیونکر حقائق چھپانے کی کوشش کر ہے ہیں ؟
حوالہ نمبر 8:۔ بچے پیدا کرنے کے متعلق آپکے الفاظ اھانت آمیز ہیں ۔ جو اخلاق و تہذیب کے دائرے میں نہیں آتے ۔ میں نے کہیں نہیں پڑھا کہ آپ نے مہاجر برادری کے متعلق ایسا ھی لہجہ اختیار کیاہو؟۔
حوالہ نمبر 9:۔ ہماری سڑکوں سے آپکی کیا مراد ہے؟ ۔ کراچی کی سڑکیں آپکی یعنی صرف آپکی  نہیں بلکہ سارے پاکستانیوں کی سڑکیں ہیں ۔ اور ان پٹھانوں کی خاصکر ہیں جنہوں نے ان کے لئیے اپنا خون پسینہ ایک کیا ۔
حوالہ نمبر 10:۔ آپ کے اسی نکتے کے ذریعے اور آپ نے جس جماعت ایم کیو ایم کی بے تکلف حمایت و وکالت کی ہے ۔ اور جس کے جمہوری و سیکولر ہونے کا آپ کو فخر و مان ہے ۔ اسی جمہوری نکتے کی حساب سے تو پھر کراچی میں اکثریت پٹھانوں کی ہوئی۔  شہر تو اکثریت ہونے کے ناطے انکا ہوا تو یہ گلہ تو پھر پٹھانوں کو کرنا چاھیے کہ ایک اقلیت ان پہ اپنی شرائط ٹھونس رہی ہے۔
حوالہ نمبر 11:۔ اپنے لفظ مہاجر کے پیچھے اپنے تفاخر کا ذکر کیا ہے ۔ لیکن اس اخوت اور بھائی چارے کا ذکر نہیں کیا کہ جب آپ کے اجداد کے لٹے پٹے قافلے کراچی اور باقی پاکستان میں پہنچے تو مقامی لوگ جن سے آپ آج شاکی ہیں نے دل کھول کر اپنی حثیت سے بڑھ کر مہاجروں کے زخم اپنے سینے میں سمو لیے۔
حوالہ نمبر 12:۔ آپ نے زبانوں کے اشتراک سے زبان کی ترقی و ارتقاء کی بات کی ہے ۔ مگر یہن نکتہ آپ بڑے گروہوں ۔ قبیلوں اور قوموں پہ صادق سمجھنے گریزاں ہیں ۔ قومیں بھی اسی طرع بنتی ہیں کہ ایک وقت آتا ہے مہاجر ، پٹھان کا فرق ختم ہوجاتا ہے۔
حوالہ نمبر 13:۔ آپکے الفاظ ہیں :۔ ‘‘ میگاسٹیز بذات خود ایک بڑی منڈی ہوتے ہیں۔ ڈیڑھ کروڑ کی آبادی پاکستانیوں کے لئے ہمیشہ ایک پرکشش منڈی رہے گی۔‘‘غالباََ آپ پاکستان سے علیحٰدہ جانے کی صورت میں کراچی شہر کی پندرہ ملین آبادی کی منڈی کی بات کررہے ۔ خدانخواستہ کوئی کم نصیب کراچی کو الگ کرنے میں کامیاب ہو بھی جاتا ہے تو آپ کے خیال میں کراچی کی آبادی 15 ملین یعنی ڈیڑھ کروڑ ہی رھے گی ۔ یہ جو ابھی جن پٹھانوں کا آپ ذکر کر ہے ہیں کہ یہ آبادی میں تقریباََ نصف شمار ہو رہے ہیں ۔ یہ پٹھان ۔ پنجابی ۔ سندھی ۔ بلوچی اور کراچی میں آباد دوسرے لوگ اور خاصکر مہاجر جو حقیقی مہاجر ہیں جنہیں آپ سے مجھ سے بڑھ کر پاکستان سے محبت ہے کیونکہ یہ ظاہر کہ ایم کیو ایم پرتشدد لسانی تنظیم ہے ۔ جس نے دھونس ، دھاندلی سے بھہت سے لوگوں کو قابو کر رکھا ہے جس سے سب مہاجر بھائی اتفاق نہیں کرتے ۔  اور وہ مہاجر بھائی جن کے اجداد نے اپنی جان ومال عزت و عصمت کی جانیں قربان کیں ۔ کیا یہ سب ۔ پاکستان سے  کراچی کی علیحٰدہ ریاست بننے کی صورت میں ۔ کراچی کو چھور نہیں دین گے ۔ پھر کراچی کی آبادی کیا ہوگی۔ کراچی کی سڑکیں بنائے گا۔ کارخانے کون چلائے گا ۔ مہاجر بنائیں گے کیا اور کھائیں گے کیا۔ اور جو اہم بات ہے آپکے اس تفاخر کا کیا بنے گا جس کی وجہ آپ ان مہاجروں کی اولاد ہونے کا فخر بیان کرتے ہیں کہ جنہوں نے ایک وطن ، ایک ملک یعنی مملکتِ خداداد پاکستان کے لئیے ھجرت کی جو انبیاء کی سنت رہی ہے ، تو کیا یہ تفاخر ، یہ انفرادیت ۔ یہ اعزاز محض اس دن تک کے لئیے ہوگا جب آپ کو بقول کراچی میگا سٹی ہونے کے ناطے پاکستان سے الگ ہو کر اپنی الگ مارکیٹ اور شناخت بنا لے گا۔ معاف کی جئیے گا ۔ ایسی صورت میں یہ لوگ اپنے بزرگوں اور شہیدوں کی خون سے غداری کے مرتکب ہونگے ۔
نوٹ:- کچھ نکات کی وضاحت رہ گئی جو مضمون کی طوالت کے پیشِ نظر پھر کبھی انشاءاللہ لکھ بیجھوں گا-۔

نعمان صاحب! آپ ماشاءاللہ باشعور ہیں ۔ کوشش کریں کہ کہ ہر روز کی بنیادوں پہ زندہ رہنے کئیلیے مجبوراس منتشر ہجوم کو امید و محبت کی کرن دکھلائیں تا کہ مایوسی کے گرادب میں پھنسی یہ قوم زندہ رہنے کی امنگ نا ھار جائے یہ آپکا اور تمام باشعور لوگوں کا فرض ہے ۔ میرا مقصد آپکی دل آزاری نہیں بلکہ اپکی توجہ اسطرف دلانا ہے کہ آپ صرف ایک مخصوص طبقے کی  نمائیندگی مت کریں بلکہ سمندر کی طرع اپنے اندر ان کو بھی سمو لیں جو بے شک سیاسی طور پہ آپ سے متفق نہیں ہونگے مگر آخر کو ہیں تو اہلِ کراچی۔ اور کون جانے وہ یا ان کی آنے والی نسلیں کراچی کو کتنی ترقی دیں ۔
خیر اندلیش 
جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>:۔ ‘‘حکومت سندھ کو ام احسان سمیت تمام ایسے لوگوں پر پابندی لگانی چاہئے جو انتہاپسندی پر مبنی نظریات کا پرچار کرنے کراچی آتے ہیں۔‘‘<br />
2:۔ ‘‘اور حکومت کو ایسا انتظام کرنا چاہئے کہ کوئی ان کی معاشی مجبوریوں کا استحصال نہ کرے‘‘</p>
<p>3:۔ ‘‘ہم کسی کو یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ اپنے بچوں کو ننگے پیر گندی گلیوں میں گھومنے دیں۔ ہم کسی کو اس بات کی بھی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ غربت کے ہاتھوں مجبور ہوکر کم اجرتوں پر ملازمتیں کریں۔ اور کچھ نہ کریں تو جلاؤ گھیراؤ پتھراؤ کریں۔ ہم کسی انتہاپسند مصدقہ دہشت گرد کو یہ اجازت نہ دیں گے کہ وہ ہمارے شہر کے بچوں کو انتہاپسندی کا سبق پڑھانے کی کوشش کریں۔ ہم اپنے مدارس کی حفاظت خود کریں گے اور ہمیں کسی مدرسہ ایکشن کمیٹی کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘<br />
4:۔ ‘‘نئے آنے والے شہر کو سمجھیں اور اس کے مزاج میں گھلنے کی کوشش کریں۔ اور اگر نہ گھل سکیں تو واپس چلے جائیں۔‘‘<br />
5:۔‘‘ان غریب پختون نوجوانوں کو اے این پی، جماعت اسلامی، انتہا پسند اسلامی تنظیمیں، ہر کوئی بطور ایندھن استعمال کرنا چاہتا ہے۔ بطور ایندھن انہیں استعمال کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انہیں نفرت کرنے کے لئے کوئی قریبی دشمن دکھایا جائے۔ اور نیچرلی ایم کیو ایم سے زیادہ آسان ٹارگٹ کون ہوسکتا ہے۔ یہ متوسط طبقے کی نمائندہ جماعت ہے، جس میں اردو بولنے والے بڑی تعداد میں ہیں، جو صوبہ سرحد میں طالبان کے خلاف آپریشن کی حامی ہے، جو خود کو سیکولر لبرل جماعت کہلوانا پسند کرتی ہے‘‘</p>
<p>6:۔ ‘‘ان آنے والوں میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے۔ اوپر سے یہ تمام نوجوان غیر تعلیم یافتہ، بے ہنر، اور بے حد غربت کا شکار ہیں۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انہیں کسی بھی لسانی، سیاسی، یا نام نہاد مذہبی فساد میں استعمال کرنا کتنا آسان ہوجاتا ہے‘‘<br />
7:۔ ‘‘جس کا نام ہے لینڈ مافیا۔ اس لینڈ مافیا کو بڑی سیاسی جماعتوں، مولویوں اور ہر کرپٹ فرد کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ غریب پختونوں کی کچی آبادیوں کے نام پر زمینوں پر قبضے کرے جارہیں جب کہ ان زمینوں کو اگر واگزار کرانے کی کوشش کی جائے تو اسے لسانی رنگ دے دیا جاتا ہے۔‘‘<br />
8:۔ ‘‘۔۔۔دس بچے پیدا کرے اور پانچ کو برے طرز زندگی کی وجہ سے مرنے کو چھوڑ دیا۔ پانچ اللہ کے کرم سے اگر بڑے ہوگئے تو وہ بھی بے ہنر اور غیرتعلیم یافتہ۔‘‘<br />
9:۔ ان کے بغیر نہ ہماری سڑکیں بن سکتی ہیں، نہ ان پر ٹرانسپورٹ چل سکتی ہے‘‘</p>
<p>10:۔ ‘‘کراچی میں یہ تناسب اتنا زیادہ ہے کہ پختون کراچی کا اسوقت سب سے بڑا لسانی گروہ ہیں، اردو بولنے والوں سے بھی زیادہ۔ لیکن چونکہ وہ کراچی کے شناختی کارڈ نہیں رکھتے اور نہ یہاں کا ڈومیسائل اس لئے ان کا شمار ناممکن ہے۔ لیکن کراچی کا تناسب آپ اندھی آنکھوں سے بھی بھانپ سکتے ہیں۔ شہر کے کسی ریستوران کے ویٹر سے لیکر مالک تک، جس ٹیکسی میں آپ بیٹھ کر آئیں گے اس کے ڈرائیور سے لیکر جس سڑک پر آپ کی گاڑی دوڑ رہی ہوگی اسے بنانے والوں تک سب پختون شہری ہیں۔‘‘<br />
11:۔ ‘‘مہاجر محض ایک علامتی اصطلاح ہے۔ اس کے پیچھے احساس محرومی سے زیادہ اس امر پر تفاخر پوشیدہ ہے کہ یہ لوگ ان لوگوں کی اولاد ہیں جنہوں نے ایک وطن کو اپنانے کے لئے ہجرت کی۔ اس تفاخر پر کسی کو اگر اعتراض ہے تو یہ اس کا اپنا مسئلہ ہے۔‘‘<br />
12:۔ ‘‘یہاں زبانوں کے اشتراک سے روز نئی اصطلاحات بنتی اور بگڑتی ہیں۔ اگر آپ ان کو اردو نہیں سمجھتے تو آپ زبانوں کی ترقی اور ارتقا کے فطری اصولوں سے انحراف کررہے ہیں۔‘‘</p>
<p>13:۔ ‘‘ میگاسٹیز بذات خود ایک بڑی منڈی ہوتے ہیں۔ ڈیڑھ کروڑ کی آبادی پاکستانیوں کے لئے ہمیشہ ایک پرکشش منڈی رہے گی۔‘‘</p>
<p>مندرجہ بالا تمام ارشادات آپکے ہیں ۔آئیے اب ان کا جائزہ لیتے ہیں ۔ مضمون کی طوالت اور قارئین اکرم کی بوریت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے آئیندہ ہم آپکے مکمل ارشاداتِ گرامی لکھنے کی بجائے صرف انکا حوالہ نمبر لکھیں گے۔میں کوشش کرونگا کہ آخر میں اپنی ذاتی رائے بھی پیش کر سکوں۔تو آئیے اب ان تمام نکات کا سرسری جائزہ لیں۔</p>
<p>حوالہ نمبر 1:۔ اگر آپ عمران خان کی کراچی آنے پہ پابندی پہ روشنی ڈال دیتے تو بہتوں کا بھلا ہوتا ۔کیا عمران خان بھی مبینہ دہشت گرد تھا؟۔ مانا کہ امنِ عامہ کی وجہ سے چیف جسٹس جناب افتخار چوہدری اور عمران خان کو زبردستی ائرپورٹ سے کراچی سے بیدخل کیا گیا ۔ مگر جو 21 مئی کو جب 50 سے زائید بے گناہ لوگ مارے گئے اور جسے ساری دنیا نے براہ راست دیکھا کیا وہ ننگی دہشت گردی نہیں تھی ۔تو آپکے خیال میں حکومت کو تمام ایسی تنظیموں ۔ سیاسی جماعتوں جنکی لسانی شناخت کوئی بھی ہو ۔ ان  پر پابندی نہیں لگانی چاہئے جو انتہاپسندی پر مبنی نظریات کا پرچار تو کُجا بلکہ بدترین قسم کی ریاستی دہشت گردی کے مجرم ہیں؟ ۔</p>
<p>حوالہ نمبر 2:۔ کراچی شہر میں آجکل تو ایم کیو ایم کی حکومت ہے ۔ تو پھر کونسی حکومت کو یہ کام سر انجام دینا چاھیے؟۔ جبکہ اسطرع کی فلاح بہبود کے منصوبےاور حقوق کی نگہداشت کراچی میں مقامی یعنی کراچی کی شہری حکومت کی ذمہ داری ہے۔ </p>
<p>حوالہ نمبر 3:۔ یہاں آپ نے ُہم، کا صیغہ استعمال کیا اور اجازت نا دینے کا تذکرہ کیا ہے ۔ غالباََ   ُہم، سے آپکی مراد ایم کیو ایم یا اس کے زیرِ اثر اہلِ اردو ہیں ۔ تو حضور نا تو آپ جنوبی افریقہ کے سابقہ گورے حکمران ہیں جو کالوں کو یہ نا کرنے دیں گے اور وہ نا کرنے کی اجازت دیں گے ۔ آپکے اجازت نا دینے سے کیا وہ تمام مسائل واقعی حل ہو گیے ہیں یا ٹھیک اسی طرع ہوئے ھیں جسطرع کی اجازت آپ نے پٹھانوں کے متعلق مرحمت فرمانے کا ذکر کیا ہے؟۔</p>
<p>حوالہ نمبر 4:۔کیا آج سے دو یا تین نسل قبل ھندؤستان کے کونے کونے سے آنے والے اور اپنے ساتھ ساتھ کئی طرع کی ثقافت لانے والے آپکے آباء نے تب کراچی میں مقیم مقامی آبادی کا احترام کرتے ہوئے ۔ مقامی آبادی کا کلچر۔ زبان۔اور بودباش اپنا لی تھی ؟۔ یا وہ واپس بھارت لوٹ گئے تھے؟۔</p>
<p>حوالہ نمبر 5:۔ آپکے خیال میں ایم کیو ایم سیکولر جماعت ہے اور باقی لوگ باقی جماعتوں کے بہکاوے میں آکر دہشت گرد وغیرہ کی کوئی قسم بن جائیں گے۔  متحدہ مہاجر موومنٹ کے خلاف ُنو گو ایریاز، اور انکے خلاف قتل غارت میں ملوث لوگوں اور جماعت پہ بھی آپ کو روشنی ڈالنی چاھیے کہ مہاجر ھی کیوں مہاجر کا گلا کاٹ رہا ہے ؟۔اور اس میں ایم کیو ایم کا کتنا حصہ ہے؟؟۔ آپکو شاید یاد ہوگا کہ مشرف دور کے ُاجلے روشن اور شفاف انتخابات جن میں پاکستانی تاریخ کی بد ترین دھاندلی اور دھونس جمائی گئی۔ جسکے نتیجے میں کراچی کی شہری حکومت ایم کیو ایم کو ملی  ۔ ان انتخابات سے قبل کراچی پہ جماعت اسلامی کی شہری حکومت تھی ۔ جسکے سٹی ناظم مولانا نعمت اللہ خان تھے۔ جنکے دور میں ھوئی ترقی کا پھل ابھی تک ایم کیو ایم کھا رہی ہے ۔ ورنہ ان بارشوں کے موسم میں اور کچھ ماہ پہلے تیز آندھی میں ہونے والے نقصانات اور نتیجےمیں مرنے والے لوگوں کی بڑی تعداد اور ایم کیو ایم کی شہری حکومت کے ناقص انتظامات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ۔ کراچی کی موجودہ ترقی میں جماعت اسلامی اور اے این پی کا بھی برابر کا حصہ ہے ۔ پھر بھلا جماعت اسلامی یا اے این پی جسی قومی لیول کی سیاسی جماعتیں کیونکر دہشت گردی کریں یا کروائیں گی؟۔اس پیمانے سے ناپیں تو بہت سے لوگ یہ دہشت گردی کا الزام برملا ایم کیو ایم کو دیتے ہیں ۔<br />
حوالہ نمبر 6:۔ کیا قیامِ پاکستان کے بعد جو مہاجرین لٹے پٹے کراچی پہنچے تھے سبھی ہنر مند، اور اعلٰی تعلیم یافتہ تھے؟۔<br />
حوالہ نمبر 7:۔ کمال ہے جو لوگ 12 مئی کو کراچی شہر کو کنٹینرز اور ٹرک کھڑے کر کے سارا دن پورا کراچی بلاک کر دیتے ہیں اور نتیجاََ سارا دن دہشت گردی کا لائیو پرگرام چلتا ہے 50 سے زائید پاکستانی مارے جاتے ہیں ۔اپ انہین اسقدر کمزور اور بے بس ثابت کر رہے کہ وہ حکومت مبینہ طور پہ ناجائز کچی آبادیوں کی زمیں واگزار نہیں کراو سکتی ۔ اور آپ سارا ملبہ دینی ، اسلامی اور ان جماعتوں پہ ڈال رہے ہیں جو ایم کیو ایم کی منظورنظر نہیں ۔ آپ کیونکر حقائق چھپانے کی کوشش کر ہے ہیں ؟<br />
حوالہ نمبر 8:۔ بچے پیدا کرنے کے متعلق آپکے الفاظ اھانت آمیز ہیں ۔ جو اخلاق و تہذیب کے دائرے میں نہیں آتے ۔ میں نے کہیں نہیں پڑھا کہ آپ نے مہاجر برادری کے متعلق ایسا ھی لہجہ اختیار کیاہو؟۔<br />
حوالہ نمبر 9:۔ ہماری سڑکوں سے آپکی کیا مراد ہے؟ ۔ کراچی کی سڑکیں آپکی یعنی صرف آپکی  نہیں بلکہ سارے پاکستانیوں کی سڑکیں ہیں ۔ اور ان پٹھانوں کی خاصکر ہیں جنہوں نے ان کے لئیے اپنا خون پسینہ ایک کیا ۔<br />
حوالہ نمبر 10:۔ آپ کے اسی نکتے کے ذریعے اور آپ نے جس جماعت ایم کیو ایم کی بے تکلف حمایت و وکالت کی ہے ۔ اور جس کے جمہوری و سیکولر ہونے کا آپ کو فخر و مان ہے ۔ اسی جمہوری نکتے کی حساب سے تو پھر کراچی میں اکثریت پٹھانوں کی ہوئی۔  شہر تو اکثریت ہونے کے ناطے انکا ہوا تو یہ گلہ تو پھر پٹھانوں کو کرنا چاھیے کہ ایک اقلیت ان پہ اپنی شرائط ٹھونس رہی ہے۔<br />
حوالہ نمبر 11:۔ اپنے لفظ مہاجر کے پیچھے اپنے تفاخر کا ذکر کیا ہے ۔ لیکن اس اخوت اور بھائی چارے کا ذکر نہیں کیا کہ جب آپ کے اجداد کے لٹے پٹے قافلے کراچی اور باقی پاکستان میں پہنچے تو مقامی لوگ جن سے آپ آج شاکی ہیں نے دل کھول کر اپنی حثیت سے بڑھ کر مہاجروں کے زخم اپنے سینے میں سمو لیے۔<br />
حوالہ نمبر 12:۔ آپ نے زبانوں کے اشتراک سے زبان کی ترقی و ارتقاء کی بات کی ہے ۔ مگر یہن نکتہ آپ بڑے گروہوں ۔ قبیلوں اور قوموں پہ صادق سمجھنے گریزاں ہیں ۔ قومیں بھی اسی طرع بنتی ہیں کہ ایک وقت آتا ہے مہاجر ، پٹھان کا فرق ختم ہوجاتا ہے۔<br />
حوالہ نمبر 13:۔ آپکے الفاظ ہیں :۔ ‘‘ میگاسٹیز بذات خود ایک بڑی منڈی ہوتے ہیں۔ ڈیڑھ کروڑ کی آبادی پاکستانیوں کے لئے ہمیشہ ایک پرکشش منڈی رہے گی۔‘‘غالباََ آپ پاکستان سے علیحٰدہ جانے کی صورت میں کراچی شہر کی پندرہ ملین آبادی کی منڈی کی بات کررہے ۔ خدانخواستہ کوئی کم نصیب کراچی کو الگ کرنے میں کامیاب ہو بھی جاتا ہے تو آپ کے خیال میں کراچی کی آبادی 15 ملین یعنی ڈیڑھ کروڑ ہی رھے گی ۔ یہ جو ابھی جن پٹھانوں کا آپ ذکر کر ہے ہیں کہ یہ آبادی میں تقریباََ نصف شمار ہو رہے ہیں ۔ یہ پٹھان ۔ پنجابی ۔ سندھی ۔ بلوچی اور کراچی میں آباد دوسرے لوگ اور خاصکر مہاجر جو حقیقی مہاجر ہیں جنہیں آپ سے مجھ سے بڑھ کر پاکستان سے محبت ہے کیونکہ یہ ظاہر کہ ایم کیو ایم پرتشدد لسانی تنظیم ہے ۔ جس نے دھونس ، دھاندلی سے بھہت سے لوگوں کو قابو کر رکھا ہے جس سے سب مہاجر بھائی اتفاق نہیں کرتے ۔  اور وہ مہاجر بھائی جن کے اجداد نے اپنی جان ومال عزت و عصمت کی جانیں قربان کیں ۔ کیا یہ سب ۔ پاکستان سے  کراچی کی علیحٰدہ ریاست بننے کی صورت میں ۔ کراچی کو چھور نہیں دین گے ۔ پھر کراچی کی آبادی کیا ہوگی۔ کراچی کی سڑکیں بنائے گا۔ کارخانے کون چلائے گا ۔ مہاجر بنائیں گے کیا اور کھائیں گے کیا۔ اور جو اہم بات ہے آپکے اس تفاخر کا کیا بنے گا جس کی وجہ آپ ان مہاجروں کی اولاد ہونے کا فخر بیان کرتے ہیں کہ جنہوں نے ایک وطن ، ایک ملک یعنی مملکتِ خداداد پاکستان کے لئیے ھجرت کی جو انبیاء کی سنت رہی ہے ، تو کیا یہ تفاخر ، یہ انفرادیت ۔ یہ اعزاز محض اس دن تک کے لئیے ہوگا جب آپ کو بقول کراچی میگا سٹی ہونے کے ناطے پاکستان سے الگ ہو کر اپنی الگ مارکیٹ اور شناخت بنا لے گا۔ معاف کی جئیے گا ۔ ایسی صورت میں یہ لوگ اپنے بزرگوں اور شہیدوں کی خون سے غداری کے مرتکب ہونگے ۔<br />
نوٹ:- کچھ نکات کی وضاحت رہ گئی جو مضمون کی طوالت کے پیشِ نظر پھر کبھی انشاءاللہ لکھ بیجھوں گا-۔</p>
<p>نعمان صاحب! آپ ماشاءاللہ باشعور ہیں ۔ کوشش کریں کہ کہ ہر روز کی بنیادوں پہ زندہ رہنے کئیلیے مجبوراس منتشر ہجوم کو امید و محبت کی کرن دکھلائیں تا کہ مایوسی کے گرادب میں پھنسی یہ قوم زندہ رہنے کی امنگ نا ھار جائے یہ آپکا اور تمام باشعور لوگوں کا فرض ہے ۔ میرا مقصد آپکی دل آزاری نہیں بلکہ اپکی توجہ اسطرف دلانا ہے کہ آپ صرف ایک مخصوص طبقے کی  نمائیندگی مت کریں بلکہ سمندر کی طرع اپنے اندر ان کو بھی سمو لیں جو بے شک سیاسی طور پہ آپ سے متفق نہیں ہونگے مگر آخر کو ہیں تو اہلِ کراچی۔ اور کون جانے وہ یا ان کی آنے والی نسلیں کراچی کو کتنی ترقی دیں ۔<br />
خیر اندلیش<br />
جاوید گوندل ۔ بآرسیلونا ، اسپین</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: نعمان</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/396/comment-page-1#comment-3656</link>
		<dc:creator>نعمان</dc:creator>
		<pubDate>Sun, 24 Aug 2008 22:57:27 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=396#comment-3656</guid>
		<description>ہم یہاں لسانی تعصب کی بات نہیں کررہے. میرا خیال ہے موضوع گفتگو جنگ زدہ علاقوں سے متاثرین کی کراچی آمد اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل ہیں. 

احمد میرے خیال میں یتیم خانہ کا لفظ نا مناسب ہے. کراچی کو غریبوں کی ماں کہا جاتا رہا ہے. کراچی کے شہریوں اپنے شہر کی اس خصوصیت کی حفاظت کرنا ہوگی اور یہ اچھی بات ہے کہ اگر ملک کے دیگر علاقوں سے لوگ آکر یہاں کام کریں. بس اتنا ہے کہ وہ مقامی لوگوں کے کلچر کا احترام کریں امن امان سے رہیں اور قانون کی پاسداری کریں.</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>ہم یہاں لسانی تعصب کی بات نہیں کررہے. میرا خیال ہے موضوع گفتگو جنگ زدہ علاقوں سے متاثرین کی کراچی آمد اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل ہیں. </p>
<p>احمد میرے خیال میں یتیم خانہ کا لفظ نا مناسب ہے. کراچی کو غریبوں کی ماں کہا جاتا رہا ہے. کراچی کے شہریوں اپنے شہر کی اس خصوصیت کی حفاظت کرنا ہوگی اور یہ اچھی بات ہے کہ اگر ملک کے دیگر علاقوں سے لوگ آکر یہاں کام کریں. بس اتنا ہے کہ وہ مقامی لوگوں کے کلچر کا احترام کریں امن امان سے رہیں اور قانون کی پاسداری کریں.</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: احمد سولنگی</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/396/comment-page-1#comment-3648</link>
		<dc:creator>احمد سولنگی</dc:creator>
		<pubDate>Sun, 24 Aug 2008 12:58:08 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=396#comment-3648</guid>
		<description>پہلے ہم سب پنجابی، پختون، سندھی، بلوچ بنیں پھر پاکستانی بنیں گے ہر ایک اپنے شہر اور صوبے میں اچھا لگتا ہے بدقسمتی سے کراچی عالمی یتیم خانہ بن چکا ہے جس کو روزگار کہیں نہیں ملتا بھاگو کراچی.</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>پہلے ہم سب پنجابی، پختون، سندھی، بلوچ بنیں پھر پاکستانی بنیں گے ہر ایک اپنے شہر اور صوبے میں اچھا لگتا ہے بدقسمتی سے کراچی عالمی یتیم خانہ بن چکا ہے جس کو روزگار کہیں نہیں ملتا بھاگو کراچی.</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: خاور بلال</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/396/comment-page-1#comment-3631</link>
		<dc:creator>خاور بلال</dc:creator>
		<pubDate>Sat, 23 Aug 2008 08:35:14 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=396#comment-3631</guid>
		<description>راہبر 
نسلی تعصب نے کراچی کی ایک نسل تباہ کردی ہے، کم از کم آپ اپنے بھائ صاحب کو اس گڑھے میں گرنے سے بچائیں۔ وہ باز نہ آئیں تو پنجاب کا ایک چکر لگوادیں، ساری عصبیت خود بخود دھل جائے گی۔</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>راہبر<br />
نسلی تعصب نے کراچی کی ایک نسل تباہ کردی ہے، کم از کم آپ اپنے بھائ صاحب کو اس گڑھے میں گرنے سے بچائیں۔ وہ باز نہ آئیں تو پنجاب کا ایک چکر لگوادیں، ساری عصبیت خود بخود دھل جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: راہبر</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/396/comment-page-1#comment-3617</link>
		<dc:creator>راہبر</dc:creator>
		<pubDate>Fri, 22 Aug 2008 06:02:15 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=396#comment-3617</guid>
		<description>احمد سولنگی! صوبہ سرحد میں سندھی یا اردو آبادی سے کیا لینا دینا؟
ویسے میرے نزدیک پنجاب میں اتنا تعصب ہے نہیں جتنا ہمیں باور کرایا جاتا ہے. ہمارے ذہنوں میں یہ بات بٹھادی گئی ہے اس لیے ہم اسی نظر سے معاملہ دیکھتے ہیں. میرے چھوٹے بھائی کے ذہن میں بھی پتا نہیں کہاں سے یہ بات بیٹھ گئی ہے. اب جو ہو، وہ یہی کہتا ہے کہ پنجابی تو ہیں ہی ایسے، پنجابی تو ہوتے ہی تعصب والے... پنجابی ایسے تو پنجابی ویسے... میں کہتا ہوں، تمہارا کیا بگاڑ دیا پنجابیوں نے؟ پنجابیوں پر الزام کے ہمیں ہمارا حق نہیں دیتے اور پختونوں پر الزام کہ ہمیں جو تھوڑا بہت ملتا ہے، اس میں سے بھی ہم سے چھین لیتے ہیں. یہ مہاجر، پنجابی، پختون کی رٹ لگانے سے کچھ نہیں ہونے والا. پاکستانی بن کر دیکھئے اور دوسروں کو بھی پاکستانی ہی بنانے کی کوشش کیجئے. پختون یا پنجابی کہہ کر انگلی نہ اٹھائیے.</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>احمد سولنگی! صوبہ سرحد میں سندھی یا اردو آبادی سے کیا لینا دینا؟<br />
ویسے میرے نزدیک پنجاب میں اتنا تعصب ہے نہیں جتنا ہمیں باور کرایا جاتا ہے. ہمارے ذہنوں میں یہ بات بٹھادی گئی ہے اس لیے ہم اسی نظر سے معاملہ دیکھتے ہیں. میرے چھوٹے بھائی کے ذہن میں بھی پتا نہیں کہاں سے یہ بات بیٹھ گئی ہے. اب جو ہو، وہ یہی کہتا ہے کہ پنجابی تو ہیں ہی ایسے، پنجابی تو ہوتے ہی تعصب والے&#8230; پنجابی ایسے تو پنجابی ویسے&#8230; میں کہتا ہوں، تمہارا کیا بگاڑ دیا پنجابیوں نے؟ پنجابیوں پر الزام کے ہمیں ہمارا حق نہیں دیتے اور پختونوں پر الزام کہ ہمیں جو تھوڑا بہت ملتا ہے، اس میں سے بھی ہم سے چھین لیتے ہیں. یہ مہاجر، پنجابی، پختون کی رٹ لگانے سے کچھ نہیں ہونے والا. پاکستانی بن کر دیکھئے اور دوسروں کو بھی پاکستانی ہی بنانے کی کوشش کیجئے. پختون یا پنجابی کہہ کر انگلی نہ اٹھائیے.</p>
]]></content:encoded>
	</item>
	<item>
		<title>By: ڈفر</title>
		<link>http://noumaan.sabza.org/archives/396/comment-page-1#comment-3597</link>
		<dc:creator>ڈفر</dc:creator>
		<pubDate>Wed, 20 Aug 2008 12:19:10 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">http://noumaan.sabza.org/?p=396#comment-3597</guid>
		<description>میں راہبر اور خاور بلال کے خیالات سے بالکل متفق ہوں
مزید یہ کہ آپ نے کہا
“  کراچی پر کراچی والوں کا حق تسلیم کیا جانا چاہئے چاہے وہ کوئی بھی زبان بولتے ہوں۔ “
اب ذرا یہ بھی وضاحت ہو جائے کہ کراچی والے ہیں کون؟
کون کراچی والے اصل کراچی والے ہیں؟ مہاجر؟ پختون؟ پنجابی؟
آپکے فارمولے کے مطابق ان میں سے کوئی نہیں۔ صرف سندھی۔
اور آپ جس فارمولے سے پختونوں کو پناہ گزین کہہ رہے ہیں وہ تو اردو سپیکنگ (پرانے مہاجرین) پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ پھر تو اردو بولنے والے بھی پناہ گزین ہوئے؟ وہ لوگ کیسے کراچی کے مالک بن بیٹھے؟ آپکے فارمولے سے میں بھی ایک پناہ گزین ہوں پر کراچی کی بجائے پنجاب میں رہتا ہوں۔ پہلے کوئی پوچھتا تھا تو شہر کا نام بتاتا تھا، کوئی ڈیڑھ سال پہلے تک کراچی میں نوکری کی دو سال تک۔ وہاں جس سے بات کرو وہ میرے شہر کے نام پہ خاص طور پہ مجھے یاد دلاتا تھا “اچھا پنجاب سے آئے ہو“
میرے سگے رشتے دار، انتہائی قریبی، پر وہ میرے بارے میں بھی ایسا ہی سوچتے تھے یہ تو پنجاب سے آیا ہے۔ اور مجھے جتاتے تھے کہ تم پنجابیوں نے ہمارے ساتھ بہت ذیادتی کی ہے۔ کیا؟ یہ کبھی نہیں بتا سکے۔
اگر مجھے کراچی والے کراچی والا ہونے کے باوجود کراچی والا نہیں مان سکے تو میں تو یہان بھی پناہ گزین ہی ہوا نا۔ پر اشکے ہے پنجابیوں پے، ایسے کھلے دل کے لوگ میں نے نہیں دیکھے نا کبھی تعصب بھری کوئی بات سنی۔اور اگر کراچی ہو کہ نا آتا تو شائد پنجاب کی قدر بھی معلوم نہ ہوتی۔ بلکہ میں تو فخر سے کہتا ہوں کہ ہاں میں پنجابی ہوں۔

اور آپ نے کہا
“کراچی ہی کی زبان دراصل اردو ہے۔ “
سچ بتاؤں اگر اس کمنٹ کو پبلش کرنے کی ہمت کریں
دو سال میں شائد ہی میں نے کبھی کسی کے منہ سے صحیح اردو سنی ہو۔ ان لوگوں کے تو زیر زبر ہی ٹھیک نہیں ہیں
کسی بھی دل دکھانے والی بات کے لئے معذرت</description>
		<content:encoded><![CDATA[<p>میں راہبر اور خاور بلال کے خیالات سے بالکل متفق ہوں<br />
مزید یہ کہ آپ نے کہا<br />
“  کراچی پر کراچی والوں کا حق تسلیم کیا جانا چاہئے چاہے وہ کوئی بھی زبان بولتے ہوں۔ “<br />
اب ذرا یہ بھی وضاحت ہو جائے کہ کراچی والے ہیں کون؟<br />
کون کراچی والے اصل کراچی والے ہیں؟ مہاجر؟ پختون؟ پنجابی؟<br />
آپکے فارمولے کے مطابق ان میں سے کوئی نہیں۔ صرف سندھی۔<br />
اور آپ جس فارمولے سے پختونوں کو پناہ گزین کہہ رہے ہیں وہ تو اردو سپیکنگ (پرانے مہاجرین) پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ پھر تو اردو بولنے والے بھی پناہ گزین ہوئے؟ وہ لوگ کیسے کراچی کے مالک بن بیٹھے؟ آپکے فارمولے سے میں بھی ایک پناہ گزین ہوں پر کراچی کی بجائے پنجاب میں رہتا ہوں۔ پہلے کوئی پوچھتا تھا تو شہر کا نام بتاتا تھا، کوئی ڈیڑھ سال پہلے تک کراچی میں نوکری کی دو سال تک۔ وہاں جس سے بات کرو وہ میرے شہر کے نام پہ خاص طور پہ مجھے یاد دلاتا تھا “اچھا پنجاب سے آئے ہو“<br />
میرے سگے رشتے دار، انتہائی قریبی، پر وہ میرے بارے میں بھی ایسا ہی سوچتے تھے یہ تو پنجاب سے آیا ہے۔ اور مجھے جتاتے تھے کہ تم پنجابیوں نے ہمارے ساتھ بہت ذیادتی کی ہے۔ کیا؟ یہ کبھی نہیں بتا سکے۔<br />
اگر مجھے کراچی والے کراچی والا ہونے کے باوجود کراچی والا نہیں مان سکے تو میں تو یہان بھی پناہ گزین ہی ہوا نا۔ پر اشکے ہے پنجابیوں پے، ایسے کھلے دل کے لوگ میں نے نہیں دیکھے نا کبھی تعصب بھری کوئی بات سنی۔اور اگر کراچی ہو کہ نا آتا تو شائد پنجاب کی قدر بھی معلوم نہ ہوتی۔ بلکہ میں تو فخر سے کہتا ہوں کہ ہاں میں پنجابی ہوں۔</p>
<p>اور آپ نے کہا<br />
“کراچی ہی کی زبان دراصل اردو ہے۔ “<br />
سچ بتاؤں اگر اس کمنٹ کو پبلش کرنے کی ہمت کریں<br />
دو سال میں شائد ہی میں نے کبھی کسی کے منہ سے صحیح اردو سنی ہو۔ ان لوگوں کے تو زیر زبر ہی ٹھیک نہیں ہیں<br />
کسی بھی دل دکھانے والی بات کے لئے معذرت</p>
]]></content:encoded>
	</item>
</channel>
</rss>
