کراچی کی طالبانائزیشن

گذشتہ چند دنوں سے متحدہ قومی موومنٹ نے طالبان طالبان کی دہائی دے رکھی ہے۔ مجھ سے کئی لوگ پوچھ چکے ہیں کہ کیا واقعی کراچی کو طالبانائز کیا جارہا ہے۔ تو سوچا اس موضوع پر اپنی روشن خیالی کے اجالے بکھیر دوں۔

کراچی میں ہمیشہ سے پختون ایک بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ اسی کی دہائی میں افغان مہاجرین کی آمد کے ساتھ بڑی تعداد میں پاکستانی پختونوں نے کراچی کا رخ کرا۔ اس کے بعد نوے کی تمام دہائی میں بڑی تعداد میں پختون مختلف علاقوں سے کراچی کا رخ کرتے رہے۔ یہاں تک کہ اس وقت کراچی دنیا کا سب سے بڑا پختون شہر ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ پاکستان کے دیگر علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی بنسبت کراچی کے اردو بولنے والے نسبتا کم مذہبی ہوتے ہیں۔ دوسرا عام تاثر یہ ہے کہ پختون مذہب کے بارے میں تھوڑا کٹر رویہ رکھتے ہیں۔

پاکستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی قوت اور حکومت پاکستان کے اس کو بذریعہ طاقت روکنے کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ایک بار پھر قبائلی علاقہ جات، سوات، تمام صوبہ سرحد، سے پختون کراچی کا رخ کررہے ہیں۔ گرچہ ان کا کوئی باقاعدہ اندراج نہیں لیکن اندازہ روزانہ ہزاروں نہیں تو سینکڑوں لوگ کراچی کا رخ کررہے ہیں۔ شہر کے نواحی علاقوں میں تیزی سے ان کی کچی آبادیاں پھیلتی جارہی ہیں۔ اور پختونوں کے مخصوص نواحی علاقہ جات تیزی سے گنجان ہوتے چلے جارہے ہیں۔

اب ہم آتے ہیں ایم کیو ایم کے وادیلے کی طرف۔ ایم کیو ایم کو پختونوں کی اتنی بڑی تعداد میں آمد پر سخت تشویش ہے۔ کیونکہ ایک تو یہ سراسر ان کے ووٹ بینک کے لئے نقصان دہ ہوگا۔ دوسرا انہیں ایک اور عفریت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کا نام ہے لینڈ مافیا۔ اس لینڈ مافیا کو بڑی سیاسی جماعتوں، مولویوں اور ہر کرپٹ فرد کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ غریب پختونوں کی کچی آبادیوں کے نام پر زمینوں پر قبضے کرے جارہیں جب کہ ان زمینوں کو اگر واگزار کرانے کی کوشش کی جائے تو اسے لسانی رنگ دے دیا جاتا ہے۔

دوسرا ایشو یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں کٹر مذہبی رویہ رکھنے والے لوگوں کی شہر میں آمد سے سنگین امن و امان کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ ایک تو ان آنے والوں میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے۔ اوپر سے یہ تمام نوجوان غیر تعلیم یافتہ، بے ہنر، اور بے حد غربت کا شکار ہیں۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انہیں کسی بھی لسانی، سیاسی، یا نام نہاد مذہبی فساد میں استعمال کرنا کتنا آسان ہوجاتا ہے جب وہ پہلے ہی غربت، احساس محرومی اور ناانصافی کا شکار ہوں۔ اس وقت کراچی میں یہی ہورہا ہے۔

ان غریب پختون نوجوانوں کو اے این پی، جماعت اسلامی، انتہا پسند اسلامی تنظیمیں، ہر کوئی بطور ایندھن استعمال کرنا چاہتا ہے۔ بطور ایندھن انہیں استعمال کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انہیں نفرت کرنے کے لئے کوئی قریبی دشمن دکھایا جائے۔ اور نیچرلی ایم کیو ایم سے زیادہ آسان ٹارگٹ کون ہوسکتا ہے۔ یہ متوسط طبقے کی نمائندہ جماعت ہے، جس میں اردو بولنے والے بڑی تعداد میں ہیں، جو صوبہ سرحد میں طالبان کے خلاف آپریشن کی حامی ہے، جو خود کو سیکولر لبرل جماعت کہلوانا پسند کرتی ہے، اور جو حکومت میں بھی ہے۔ مشرف کی حمایتی جماعت ہے۔

اگر آپ کراچی کو جانتے ہیں ہمارا شہر ایک رنگارنگ شہر ہے۔ ایک طرف سرسبز پارک چمچماتی سڑکیں، محلات، آسائشات کی فراوانی ہے تو برابر والی ہی گلی میں گٹر بہہ رہے ہیں، لوگ بیماریوں سے مر رہے ہیں، بے روزگاری، غربت اور جرائم کا راج ہے۔ بڑے شہروں کی یہ عدم مساوات ہمیشہ شرپسندوں کو بڑی تعداد میں بھرتیاں کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اور اس وقت وہ یہی کررہے ہیں۔

گرچہ میں اس بات سے شاید مکمل اتفاق نہ کروں کہ طالبان کراچی پر قبضہ کرنے جارہے ہیں، تاہم مجھے ایم کیو ایم کی تشویش سے اتفاق ہے۔ کیونکہ یہ سب کچھ جو ہورہا ہے وہ شہر کے مفاد میں نہیں ہے۔ میں حکومت پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف مہم کو درست سمجھتا ہوں۔ اور میرے کچھ دوست کہتے ہیں کہ اگر آپ ایک علاقے پر جنگ مسلط کریں گے تو پناہ گزین بھی برداشت کریں۔ اور مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ بشرطیکہ پناہ گزینوں کو پناہ گزین قرار دیا جائے۔ جو کہ ناممکن ہے کہ وہ بھی پاکستانی ہیں۔ لیکن بطور کراچی کا شہری مجھے اس بات کی سخت ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ کراچی آنے والوں کی نہ کوئی چھان پھٹک ہوتی ہے نہ ہی ان کی کوئی ریکارڈ کیپنگ ہوتی ہے۔

مجھے پختونوں سے کوئی عار نہیں بلکہ میں اپنے بلاگ پر کئی بار لکھ چکا ہوں کہ پختونوں کے بغیر کراچی کا تصور بھی محال ہے۔ کراچی کی شان ہیں اس کے پٹھان۔ اور کراچی ہمیشہ نئے آنے والوں کو خوش آمدید کہتا رہے گا۔ بشرطیکہ نئے آنے والے شہر کو سمجھیں اور اس کے مزاج میں گھلنے کی کوشش کریں۔ اور اگر نہ گھل سکیں تو واپس چلے جائیں۔ کراچی کو قبائلی علاقے میں تبدیل کرنے کی کوشش نہ کریں۔ ہم کراچی میں جرگوں کی صورت میں متوازی حکومتیں برداشت نہیں کرسکتے۔ ہم کسی کو یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ اپنے بچوں کو ننگے پیر گندی گلیوں میں گھومنے دیں۔ ہم کسی کو اس بات کی بھی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ غربت کے ہاتھوں مجبور ہوکر کم اجرتوں پر ملازمتیں کریں۔ اور کچھ نہ کریں تو جلاؤ گھیراؤ پتھراؤ کریں۔ ہم کسی انتہاپسند مصدقہ دہشت گرد کو یہ اجازت نہ دیں گے کہ وہ ہمارے شہر کے بچوں کو انتہاپسندی کا سبق پڑھانے کی کوشش کریں۔ ہم اپنے مدارس کی حفاظت خود کریں گے اور ہمیں کسی مدرسہ ایکشن کمیٹی کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے شہر میں پورے پاکستان سے زیادہ مدارس ہیں۔ جو انتہائی اعلی درجے کی دینی اور دنیاوی تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ ساری دنیا کے طالبعلم ہمارے شہر کے مدرسوں میں آکر تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں۔ شہر میں نہ عالموں کی کمی ہے اور نہ طالبعلموں کی۔ اس لئے شرپسندوں کو دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جانی چاہئے۔

ایم کیو ایم ایک سیاسی جماعت ہے اس لئے وہ اس ایشو کو سیاست کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ میرا نظریہ انسانی ہے۔ میرا خیال ہے کہ آنے والے قبائلی و دیگر پختونوں کو اپنے بچوں کو اسکولوں میں بھیجنا چاہئے۔ اور حکومت کو ایسا انتظام کرنا چاہئے کہ کوئی ان کی معاشی مجبوریوں کا استحصال نہ کرے۔ پختونوں کی مرضی سے کراچی کے پہلے سے قائم معیاری مدارس کی زیر نگرانی چلنے والے مدرسوں کو ہی ان کے محلوں میں تعلیم دینے کی اجازت دی جانی چاہے۔ حکومت سندھ کو ام احسان سمیت تمام ایسے لوگوں پر پابندی لگانی چاہئے جو انتہاپسندی پر مبنی نظریات کا پرچار کرنے کراچی آتے ہیں۔ شہری حکومت کو لینڈ مافیا سے لڑنے کا مکمل اختیار ہونا چاہئے۔جرگوں پر مکمل پابندی ہونی چاہئے۔ اور پختون ایکشن کمیٹی کی بلیک میلنگ کے خلاف سخت سے سخت ایکشن لینا چاہیے۔ جو بھی شہر کو قبائلی علاقہ سمجھنے کی حماقت کرے اور اسے صوبے سے باہر نکال دیا جائے۔

اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو پاکستان کی معاشی بیک بون پر کاری ضرب پڑے گی۔ بیرونی سرمایہ کار مارکیٹ سے پیسہ نکال لے گا (جو وہ پہلے ہی نکال رہا ہے)۔ مستقبل میں سرمایہ کاری کے لئے کسی کو آمادہ کرنا دشوار ہوجائیگا۔ تجارت کا بیڑہ غرق ہوجائیگا اور منتخب لوگوں کو غیر منتخب بلیک میلروں سے ڈکٹیشن لینے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ جرائم کی شرح آسمان کو چھولے گی۔ فسادات کا رخ لسانی ہونے کے ساتھ مذہبی بھی ہوجائیگا۔ حکومت کی پریشانی میں اضافہ ہوتے ہیں طالبان کے پیر مضبوط ہونگے اور انتہاپسندی کو کچلنا مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جائیگا۔