بچہ ھائی آسمان

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران بہت ساری فلمیں دیکھیں۔ اور ان میں سے دو فلمیں ایسی ہیں کہ جو بے حد پسند آئیں۔ پہلی فلم ہے مشہور ایرانی ہدایتکار ماجد مجیدی کی بچہ ہائے آسمانی المعروف Children of Heaven ۔ میری والدہ دو بار یہ فلم ٹیلیوژن پر دیکھ چکی تھیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ میں انہیں یہ فلم خرید کر لادوں۔ انہوں نے فلم کی اتنی تعریف کی کہ میں نے اگلے ہی دن فلم ڈاؤنلوڈ کرلی۔
children of heaven

یہ فلم دو ایرانی بچوں کی کہانی ہے علی اور اس کی بہن زہرا۔ ایک دن علی زہرا کے جوتے مرمت کے لئے لے جاتا ہے اور گھر لوٹتے ہوئے اس سے وہ جوتے کھو جاتے ہیں۔ دونوں بہن بھائی ڈر کے مارے اپنے والدین کو جوتے کھوجانے کا نہیں بتاتے۔ انہیں احساس ہوتا ہے کہ ان کے والدین پہلے ہی غربت اور تنگدستی سے بہت پریشان ہیں۔ لیکن اب سوال یہ تھا کہ بغیر جوتوں کے زہرا اسکول کیسے جائے۔ علی دوپہر کے اور زہرا صبح کے اسکول کے میں پڑھتی ہے۔ طے یہ پاتا ہے کہ صبح زہرا جوتے پہن کر اسکول جائے گی اور پھر اسکول کی چھٹی ہوتے ہی وہ گھر آئے گی تو علی جوتے پہن کر اسکول جائے گا۔ زہرا کی چھٹی کا وقت اور علی کے اسکول کے شروع ہونے کا وقت ایک ہی ہوتا ہے لہذا ننھی زہرا کو اسکول چھوٹتے ہی تیزی سے بھاگتے ہوئے گھر پہنچنا ہوتا ہے۔ جہاں علی گھر کے باہر گلی میں کھڑا بے چینی سے اس کی راہ تک رہا ہوتا ہے۔ زہرا کے آتے ہی وہ جوتے پہن کر تیزی سے اسکول کی طرف دوڑ لگاتا ہے۔ مگر پھر بھی اسے اکثر دیر ہوجاتی ہے۔

شاید کہانی سن کر آپ کو ایسا محسوس ہو کہ یہ بڑی دکھ بھری داستان ہے اور اسے دیکھ کر آپ کے دل پر مایوسی طاری ہوجائیگی۔ میں بھی ایسا ہی سمجھا تھا، لیکن دراصل یہ ایک امید اور خوشی سے بھرپور کہانی ہے۔ اس میں بچوں کی قربانی، محبت، ایثار اور معصومیت زندگی کی تلخ حقیقتوں سے نبردآزما ہے۔ آپ چاہتے ہیں کہ علی اور زہرا کو جوتے مل جائیں۔ مگر آخر میں آپ سمجھتے ہیں کہ وہ کتنے دولتمند ہیں اور تب جب جوتے غیر اہم لگنے لگتے ہیں تب ہی زہرا کو نئے نکورے جوتے مل جاتے ہیں۔