سائنسدان کافی عرصے سے زمین پر موجود دوسرے جانداروں میں ذہانت پر تحقیق کررہے ہیں۔ پتہ چلا ہے کہ بڑے بن مانس اور بوتل جیسی گردن والی ڈولفنز کافی ذہین مخلوق ہیں۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ڈولفن ان چند جانوروں میں سے ایک ہے جو اپنے وجود سے آگاہی رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ پیچیدہ گتھیاں سلجھانے کی قابلیت بھی رکھتی ہیں۔ ان کے درمیان سماجی شعور بھی پایا جاتا ہے، یہ آواز کو ابلاغ کے لئے استعمال کرنے کے فن میں عام جانوروں سے کہیں زیادہ اور انسان سے کچھ ہی کم مہارت رکھتی ہیں۔ موسیقی سے ان کے شغف کی خبر تو پرانی ہے، اب پتہ چلا ہے کہ یہ ٹیلیوژن سے بھی لطف اندوز ہوتی ہیں۔ نقل اتارنے کے فن میں یہ بندر اور بن مانس سے اگر کم ہیں تو کیا تخلیق، ترکیب اور تدبیر میں ان سے آگے ہیں۔ یہ بات بھی لائق ذکر ہے کہ ان میں سے کچھ اقسام اوزاروں کے استعمال سے بھی واقف ہیں۔ بن مانس، اور انسان کی ذہانت کو دیکھیں تو ڈولفن کی ذہانت حیرت انگیز نظر آتی ہے۔ کیونکہ ڈولفن اور انسان کا ارتقائی رشتہ بہت دور کا ہے اور اس میں خشکی اور تری کے ماحول کا فرق بھی حائل ہے۔

یہ صفحات اس بلاگ اور مصنف کا تعارف، بلاگ کی پرانی تحاریر، اور مصنف سے رابطے کی معلومات فراہم کرتے ہیں۔ یہ بلاگ کی عام تحاریر سے علیحدہ ہیں اور اگر یہ آپ کا نعمان کی ڈائری کا پہلا دورہ ہے تو یہ صفحات اچھا نقطہ آغاز ہوسکتے ہیں۔

حالیہ تحاریر:
حالیہ تبصرہ جات:
"اداسی" پرمنهاج الرحمان لکھتے ہیں: کمال پوسٹ ھے نعمان صاحب۔ اس ملک میں فرعونیت کی انتھا ھو چکی ھے۔ ھمارا موسی نا
"اداسی" پرابوشامل لکھتے ہیں: لیں جی آپ کو تیسری مرتبہ ہمارے بلاگ سے بھی ٹیگ کر دیا گیا ہے، اب آپ
"اداسی" پرArif Anjum لکھتے ہیں: آپ کو یہاںپر ٹیگ کردیا گیا ہے۔ پولیس کو مطلع کرنے کی کوشش نہ کیجئے اور
"برمودا مثلث" پرمحمد طفیل لکھتے ہیں: ماشاءاللّہ آپ نے اپنی قومی زبان کی بہت بڑی خدمت کرکے اپنے ہم وطنوں کو بہت اچھی
"میرا نیا کمپیوٹر" پرwaqas khan لکھتے ہیں: GALAXY COMPUTER thats enough ap logo k rates bahot zada hotay hai recently many Nvidia Geforce 8600 512mb
"میرا نیا کمپیوٹر" پرwaqas khan لکھتے ہیں: mere piyary bhaio mere ap sab sya request hai k please galaxy computers say kuch bhe na purchase
"اداسی" پررضوان نور لکھتے ہیں: بات تو غیر متعلق سی ہے مگر پھر بھی کیے دیتے ہیں کہ آپ کو اس ناچیز



مئی 6th, 2008 4:18 pm
میرا خیال ہے کہ قصور انسانوں کا ہی ہے جو جانوروں کو سمجھنے میں بہت پیچھے ہیں ۔ قرآن شریف کے مطابق ہُدہُد جو خبر لاتا ہے وہ انسان کی عقل سے کم نہیں ۔
میرے پاس تین سال ایک بلی رہی جس کا میں بغور مشاہدہ کرتا رہا ۔ باہر کی گھنٹی بجے تو وہ کھڑکی کے پاس جا کر باہر دیکھتی اور پھر دوڑ کر گھر کا جو فرد قریب ہو اس کے پاس جاتی ۔ ٹی وی پر اذان ہوتی تو خاموش اور ساکن ہو کر سُنتی ۔ ایک دفعہ اس کی ٹانگ میں فریکچر ہو گیا ۔ اُس پر ڈاکٹر نے کریپ پٹی لپیٹ دی ۔ ذرا بہتر محسوس کرنے پر اس نے چلنا پھرنا شروع کردیا تو پٹی اتر گئی ۔ میں نے کہا “پٹی اتار دی ہے ۔ ادھر آؤ میں باندھوں تو آ کے میرے پاس لیٹ گئی ۔ ٹانگ میری طرف کر دی اور آرام سے پٹی بندھوائی ۔ میں نے کئی اور جانوروں کا بھی مشاہدہ کیا ہے سب میں عقل ہوتی ہے اور بعض اوقات وہ انسان کو مات کر جاتے ہیں ۔
مئی 6th, 2008 5:43 pm
گھروں میں رہنے والے جانور بہت ساری چیزیں سیکھ لیتے ہیں۔ جیسے مالکوں کو محظوظ کرنے کو مختلف قسم کے کرتب کرنا، گندگی نہ پھیلانا وغیرہ۔