کسی حال میں چین نہیں

میرا گھر سندھ اسمبلی اور سیکریٹریٹ کے بالکل قریب واقع ہے اسلئے ہماری بجلی باقی شہر کے مقابلے میں ذرا کم جاتی ہے۔ مثلا اگر پورے شہر میں چار گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے تو ہمارے ہاں تین گھنٹے کی ہوگی۔ مگر عجیب بات ہے، نامعلوم کے ای ایس سی والوں کو کیا ہوگیا ہے، گذشتہ قریبا ایک ہفتے سے ہمارے گھر کی بجلی نہیں گئی۔ پورے شہر میں لوڈشیڈنگ میں کافی کمی آگئی ہے۔ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ادائیگی کے بعد کے ای ایس سی کو واپڈا سے مزید بجلی ملنے لگی ہے۔ مگر مجھے لگتا ہے یہ سب ناٹک محض میرے پیسے خرچ کرانے کو رچایا گیا تھا۔

میری والدہ جو کچھ عرصے سے علیل ہیں وہ اندھیرے سے گھبرارہی تھیں تو میں نے سوچا کہ اب یو پی ایس لینا ہی پڑے گا۔ آگے اتنی لمبی گرمیاں ہیں۔ میں یو پی ایس لے آیا۔ تنصیب کرنے والے اناڑی کاریگروں نے بڑا تنگ کیا انہیں وائرنگ کرنے کا ذرا سا سلیقہ نہیں تھا۔ اتنا خون جلا کہ نہ پوچھیں، سوچ رہے تھے کہ چلو اب جب لوڈشیڈنگ ہوگی تو ذرا دیر کو پنکھا چلا کر یہ سب محنت وصول ہوجائیگی۔ مگر ہماری راحت سے تو کے ای ایس سی والوں کو بیر ہے۔ اگلے ہی روز انہوں نے پیپکو کو ایک ارب روپے کی ادائیگی کردی اور تین سو میگاواٹ بجلی بحال کروالی۔ مجھے اگر خبر ہوتی کہ میرے یو پی ایس سے قومی ادارے کو اتنی بڑی رقم کی وصولی ہوگی تو کب کی یہ قربانی دے چکا ہوتا۔ مگر اب تو میں انتظار کررہا ہوں کہ کب بجلی جائے تو میں یو پی ایس سے جلنے والے الیکٹرک سیور بلبوں کی ٹھنڈی میٹھی روشنی سے لطف اندوز ہوں۔ امید ہے کے ای ایس سی والے زیادہ دن انتظار نہ کرائیں گے۔