حافظ قرآن بچوں کے مسائل

شاکر نے اپنے بلاگ پر ایک بھاگے ہوئے بچے کی سرگزشت بیان کی ہے۔ اس بچے کی کہانی یہ تھی کہ گھر والے اسے حافظ قرآن بنانا چاہتے تھے۔ وہ گھر والوں کی خواہش دلجمعی سے پوری کرنے کی اپنی سی کوشش بھی کرتا تھا مگر مدرسے کے قاری صاحب کے متشدد روئیے نے اسے مدرسے سے متنفر کردیا۔ شاکر کے بلاگ پر آپ کو اکثر اچھے موضوعات نظر آئیں گے۔ وہ اکثر الجھے ہوئے عام مسائل کو اپنی روایتی سادگی سے بیان کرتے ہیں اور پھر اسی سادگی کے ساتھ انہیں سلجھانے کی تجویز بھی پیش کرتے ہیں۔ مجھے ان کا یہ انداز تحریر بہت پیارا لگتا ہے۔

قرآن حفظ کرنے والے بچوں کے مسائل ایک سنجیدہ معاشرتی مسئلہ ہیں۔ جن پر بالغان اپنے دینی رجحانات کے سبب توجہ نہیں دیتے۔ میرا چھوٹا بھائی عازب بھی ماشاءاللہ حافظ قرآن ہے اس لئے مجھے ان میں سے کچھ مسائل کا ذاتی تجربہ بھی ہے۔

مدارس کا روایتی ماحول

گرچہ میرا بھائی عازب ایک ایسے مدرسے میں پڑھتا تھا کہ جہاں عصری علوم کی بنیادی تعلیم پر بھی توجہ دی جاتی تھی۔ لیکن بعد ازاں ہمیں معلوم ہوا کہ یہ توجہ محض اشتہاری تھی۔ مضامین جیسے ریاضی اور انگریزی جن کی آگے چل کر طالبعلموں کو سخت ضرورت ہوتی ہے ان پر قطعا توجہ نہیں دی گئی۔ عازب نے تیرہ سال کی عمر میں قرآن حفظ کرلیا تھا جس کے بعد اسی مدرسے میں اسے عام اسکول کی تعلیم دی جانے لگی۔ یہ تعلیم اتنی غیرمعیاری تھی کہ چھٹی جماعت کے بچے اردو زبان میں ایک چھوٹا سے مضمون لکھنے کے بھی لائق نہ تھے۔ جب میٹرک کے امتحان سر پر آئے تو مدرسے کی انتظامیہ کی سختیاں بڑھ گئیں جو کہ سراسر بے جا تھیں۔ وہ بچوں پر اچھی کارکردگی کے لئے سخت دباؤ ڈالتے تھے جب کہ اس بارے میں وہ خود اپنی ذمے داری سے غافل تھے۔ نتیجتا عازب کی مدرسے میں حاضری کم ہوتی گئی۔ سائنس کے مضامین منتخب کرنے کے سبب یہ ضروری تھا کہ اسے امتحانات کے لئے سخت محنت کرنا ہوگی اور مدرسے جانا محض وقت کا ضیاع لگتا تھا۔ چنانچہ نویں جماعت کے پرچوں کے بعد مدرسے کی انتظامیہ نے اسے مدرسے سے فارغ کرنے کی دھمکی دے دی۔ جب میرے والد وہاں پہنچے تو انہوں نے شرط عائد کی کہ اگر اس نے نویں جماعت کا امتحان پاس کرلیا تو اسے دسویں جماعت کی کلاسز لینے کی اجازت دی جائیگی۔ نتیجہ آیا اور عازب کا نتیجہ مدرسے میں پابندی سے حاضر ہونے والے کئی بچوں سے بہتر تھا۔ لیکن مدرسے کی انتظامیہ اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے عازب کو اسکول سے نکالنے پر بضد تھی۔ جس کے بعد ہم نے عازب کو محلے کے ایک پرائیویٹ اسکول میں داخل کرواکر دسویں جماعت کا امتحان دلوایا اور وہ بی گریڈ کے ساتھ پاس ہوگیا۔

مدرسے کا یونیفارم شلوار قمیض اور ٹوپی پر مشتمل تھا اور عازب کو یہ یونیفارم بچپن سے بہت برا لگتا تھا۔ گھر میں اس کے بھائی، محلے میں اس کے دوست، رشتے داروں میں اس کے ہم عمر کزن سب پتلونیں پہنتے تھے اور اسے شلوار قمیض پہن کر اسکول جانا سخت برا لگتا تھا۔

مدرسے میں اساتذہ کا رویہ انتہائی سخت گیر تھا۔ گرچہ وہاں جسمانی تشدد نہیں کیا جاتا تھا مگر تشدد کے دیگر کئی طریقے ان لوگوں نے ایجاد کر رکھے تھے۔ جن میں سرفہرست طلبہ کی تحقیر اور اہانت آمیز رویہ شامل تھے۔ گرچہ مدرسے میں کبھی دہشت گرد جہادی گروہوں کی حمایت نہیں کی جاتی تھی۔ لیکن مدرسے کے اساتذہ طالبعلموں کے سامنے دیگر مکاتب فکر کے ماننے والے مسلمانوں پر تنقید کرتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے۔

مدرسے کا گھٹا ہوا ماحول طلباء کی تخلیقی صلاحیتوں پر بری طرح اثر انداز ہوتا تھا۔ طلباء کو یہ عادت ڈالی جاتی تھی کہ وہ استدلالی طرز فکر سے اجتناب کریں۔ نہ سوال کریں نہ کسی مدلل جواب کی امید کریں۔

گرچہ پاکستان کے دیگر عام نام نہاد انگریزی میڈیم پرائیویٹ اسکولوں کا حال بھی اس سے کچھ مختلف نہیں لیکن اس مدرسے کا ماحول انتہائی بے تکا تھا۔ اس تعلیم میں تفریح کا کوئی عنصر نہیں تھا، ایک سخت گھٹا گھٹا ماحول جو طلباء کو عجیب قسم کے روبوٹ بنانے پر اصرار کرتا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب عازب کو اسکول سے نکالا گیا تو اس دن کے بعد سے اب وہ صرف عید کی نماز پر یا تراویح کے دوران شلوار قمیض پہنتا ہے۔ اس کا طرز فکر مدرسے کی تعلیم و تربیت کے بالکل برعکس ہے۔ مدرسے میں موسیقی کے خلاف کرے گئے پرچار کے برعکس اسے موسیقی میں انتہائی دلچسپی ہے۔ اکثر لوگ جب اس کا حلیہ دیکھتے ہیں تو انہیں یقین نہیں آتا کہ یہ لڑکا حافظ قرآن بھی ہوگا۔

والدین کا رویہ

میرے خیال میں والدین کی اپنے بچوں کو حافظ قرآن بنانے کی خواہش بھی ان مسائل کا ایک سبب ہے۔ نہ وہ اپنے بچے کے رجحان کا خیال کرتے ہیں نہ اس بات کا کہ اگر بڑا ہونے پر ان کا بچہ مختلف رجحان رکھتا ہو تو اس کے لئے قرآن شریف کو دہرانا شاید اتنا آسان نہیں ہوگا۔ وہ یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ اگر یہ قرآن شریف حفظ کرکے بھول گیا تو اس کی زندگی کے جو قیمتی سال اسے حفظ کرنے میں صرف ہوئے ہیں ان کا مداوا کیا ہوگا؟ والدین کو چاہئے کہ وہ کم از کم اپنے بچوں کو اس عمر تک پہنچنے دیں کہ جب وہ اپنے لئے یہ فیصلہ خود کرسکیں۔ اس دوران والدین اپنے بچوں کی تربیت پر توجہ دیں اور کوشش کریں کہ بچوں کو گھر میں ایسا ماحول ملے جو انہیں دینی تعلیم کے حصول پر مائل کرے۔ اپنی مرضی کا فیصلہ بچوں پر تھوپنے کے بجائے ان پر یہ ذمہ داری ڈالی جائے کہ وہ اگر چاہیں تو بڑے ہوکر یہ سعادت حاصل کریں اور اپنے لئے اور والدین کے لئے ثواب کمائیں۔

معاشرے کی ذمے داری

ہمارے ملک میں یہ ٹرینڈ رہا ہے کہ کبھی ہر کوئی ڈاکٹری اور انجینئرنگ پڑھنے لگتا ہے۔ کبھی بزنس منیجمنٹ کا دور آتا ہے، کبھی انفارمیشن ٹیکنالوجی کا۔ طریقہ کار یہ ہے کہ معاشرے کو اس وقت جس قسم کے ہنرمند اور تعلیم یافتہ افراد کی ضرورت ہو اس قسم کی تعلیم پر زور دیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے ملک کو سالانہ کتنے حافظ قرآن کی ضرورت ہوتی ہے؟ صنعت و حرفت، مدارس، علمی و تحقیقاتی اداروں میں قرآن حفظ کرنے والے (دیگر دینی علوم سے بے بہرہ) کتنے لوگوں کی ضرورت ہے۔ میرا خیال یہ ہے کہ معاشرے کو ہر سال ہزاروں حافظ قرآن بچوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ قرآن حفظ کرنے والے بچوں کے انتخاب کا کوئی طریقہ ہونا چاہئے۔ جس سے یہ پتہ چلے کہ بچوں کا رجحان کیا ہے اور صرف انہی بچوں کو یہ تعلیم دی جانی چاہئے جو دینی علوم حاصل کرنے کا شوق، استعداد اور رجحان رکھتے ہوں نہ کہ ہر بچے کو اس میں شامل کرلیا جائے۔ ان میں سے کچھ بچے بہت اچھے ڈاکٹر، بزنس مین، فنکار، انجینئر، سائنسدان کچھ بھی بن سکتے ہیں۔ لیکن بلارجحان کے انہیں دینی تعلیم کی طرف دھکیل کر ہم ان کی دیگر صلاحیتیں بھی ضائع کردیتے ہیں اور وہ نہ دینی تعلیم پر پورے اتر پاتے ہیں اور نہ ہی کچھ اور کرپاتے ہیں۔