12/30/2007

نیویارک ٹائمز پر:
پاکستان کے مقامی دہشتگرد، القاعدہ خطرے میں اضافے کا سبب

پاکستانی انگریزی اخبار ڈیلی ٹائمز اپنے ادارئے میں لکھتا ہے کہ حملے کرکے جھٹلانا القاعدہ کے لئے کوئی نئی بات نہیں۔ گرچہ محترمہ کو اس بات کا اندازہ تھا کہ القاعدہ اور طالبان کی ٹاپ ہٹ لسٹ پر ان کا نام ہے اور یہ کہ ان کے سیاسی مخالفین بھی انہیں مکمل امریکہ نواز اور پرو مشرف ثابت کرنے پر تلے ہیں۔ تب بھی وہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کو پاکستان کو لاحق سب سے بڑا خطرہ قرار دیتی رہیں۔ انہیں اس بات کی پرواہ نہیں تھی کہ اس سے وہ امریکہ نواز ثابت ہورہی ہیں اور اس کا اثر ووٹوں پر پڑ سکتا ہے۔

چاہے آپ اس بات سے سرے سے انکاری ہوں کہ بےنظیر کا قتل القاعدہ کے مقامی دہشتگردوں نے کیا ہے۔ تب بھی اس حقیقت سے انکار کرنا بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلینے کے مترادف ہوگا کہ پاکستان کو انتہاپسند دہشت گردوں سے شدید خطرہ لاحق ہے۔ قوم کو چاہے دہشت گردی سے نمٹنے کے مشرف کے طریقہ کار پر اعتراض ہو، لیکن ایک بھیانک خطرہ جو بالکل سامنے کھڑا ہے اسے پہچان لینا چاہئے۔ محترمہ کے مخالفین ان پر امریکہ کا پٹھو اور مشرف نواز ہونے کا الزام لگاتے رہے۔ لیکن اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بھی وہ پاکستان کے اینٹی امریکی ماحول میں بھی سچ کہتی رہیں، یہ سوچنا حماقت ہوگا کہ محترمہ کو پرو امریکہ ہونے کے سیاسی اور انتخابی مضمرات سے آگاہی نہیں تھی یا یہ کہ وہ روایت پسند اردو میڈیا پر کی جانیوالی اپنی کردارکشی سے بے خبر تھیں۔ لیکن ان کے ذہن میں بھی ضرور یہ خیال تھا کہ کیا ہم دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ صرف اس لئے نہ لڑیں کیونکہ یہ امریکہ کے مفاد میں ہے؟ کیا ہزاروں پاکستانیوں کی زندگیوں کو لاحق خطرہ بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو ہماری جنگ نہیں بناتا۔

تبصرہ جات

“دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ” پر3 تبصرہ جات ہوئے ہیں

  1.  اجمل رقم طراز ہیں:

    اصل دہشتگردی اور پرویز مشرف یا امریکہ کی بتائی ہوئی دہشتگردی میں بہت فرق ہے ۔ اسے ملحوظِ خاطر رکھیئے

  2.  نعمان رقم طراز ہیں:

    پرویز مشرف اور امریکہ کی نہیں ہمیں پاکستان کی ضرورت کا ادراک کرنا ہوگا۔ اور اگر امریکا کی اور ہماری جنگ ایک ہی گروہ کے خلاف ہو تو اسے محض اس لئے نہ لڑنا کہ اس سے امریکہ کو فائدہ ہوگا تو محض حماقت ہوگی۔ کیونکہ اس طرز عمل سے ہزاروں پاکستانیوں کی زندگیاں خطرے میں پڑجائیں گی۔

  3.  فیصل رقم طراز ہیں:

    حضور گھوڑا گھاس سے دوستی نہیں کر سکتا جیسے مشرف یا امریکہ دہشت گردی کو کبھی ختم نہیںہونے دیگا۔ غالبآ آپ میری آخری بلاگ پوسٹ سے بالکل اتفاق نہیں کرتے۔ خیر بات تو سیدھی سادھی ہے، ہمیں ذرا میڈیا کے سحر سے نکل کر سوچنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔

آپکا تبصرہ

تبصرہ جات اس پالیسی کے تحت قبول کرے جاتے ہیں۔

English اردو

English اردو