اسلام آباد سے واپسی پر

میں اسلام آباد نیشنل بک فاؤنڈیشن کے کانوینشن میں شرکت کے لئے گیا تھا۔ ارادہ تھا کہ کنوینشن کے فورا بعد ہی ائر بلو کی شام کی پرواز یا اگلے دن صبح کی پرواز پکڑ گھر کی راہ لونگا۔ یہ ویران سا شہر، درختوں، ملاؤں، پہاڑوں، سڑکوں اور سگنلوں کی بہتات کے علاوہ یہاں کیا دھرا ہے؟ نہ زندگی، نہ زندگی کی گہما گہمی۔

مگر میں غلط تھا۔ اسلام آباد ایک خوبصورت شہر ہے۔ سرسبز پہاڑوں کے دامن میں اگر بے ایمان لوگ لوٹ کھسوٹ میں ملوث ہیں تو وہیں کچھ لوگ اپنا کام بہت محنت اور دلجمعی سے بھی کرتے ہیں۔ درحقیقت مجھے اسلام آباد جا کر حب الوطنی کا نیا احساس ہوا۔ یہ احساس تب شروع ہوا کہ جب ٹرین کراچی چھوڑ دیتی ہے۔ اور تمام دن، تمام رات چلنے کے بعد بھی آپ کو منزل پر نہیں پہنچاتی تو آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ کا ملک کتنا بڑا ہے۔ اس دوران جغرافیائی تبدیلیاں دیکھیں۔ سندھ کے خشک علاقے، پھر سندھ کے کھیت، پھر پنجاب، لاہور سے پنڈی تک کے سرسبز نظارے۔ اور اسلام آباد کی خوبصورت وادی۔ اور یہ تو صرف ہمارے ملک کا آدھا حصہ بھی نہیں۔ اس سے شمال میں، مغرب میں اور جنوب مغرب میں اور بھی حسین علاقے ہیں۔

اسلام آباد میں جن بھوتوں، ملاؤں، سیاستدانوں، بیوروکریٹس، اشرافیہ وغیرہ کے علاوہ بھی کافی ساری انسانی مخلوق بستی ہے۔ مگر یہ مخلوق عموما ٹی وی پر نظر نہیں آتی۔ یہ لوگ اسلام آباد میں بڑی خاموشی سے رہتے ہیں۔ اپنا کام کرتے ہیں اور بس۔ اور یہی لوگ بہت اچھے ہیں۔

کراچی کے لوگوں کے بارے میں وہاں کے لوگوں کی رائے بہت اچھی ہے۔ درحقیقت راولپنڈی اسلام آباد کے لوگوں کی رائے کراچی کے لوگوں کے بارے میں اتنی اچھی ہے کہ مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ کونسے کراچی والوں کی بات کررہے ہیں۔ سب سے زیادہ عام تاثر جو کراچی کے لوگوں کے بارے میں یہاں پایا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ بہت پڑھے لکھے، تمیز دار اور باشعور لوگ ہوتے ہیں۔ حالانکہ میرے خیال میں اسلام آباد اور پنڈی میں جتنے بھی لوگوں سے ملا ہوں وہ سب مجھ سے زیادہ پڑھے لکھے، باشعور، تمیزدار اور مہمان نواز تھے۔ عاجزی اور انکساری ان میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ زبان شیریں اور اس میں ایسا خلوص اور پیار کہ آپ کا گھر لوٹنے کو جی ہی نہ کرے۔

اسلام آباد راولپنڈی کے لوگ کراچی کے لوگوں ایسی بنئے کی سوچ نہیں رکھتے۔ ماہ رمضان میں وہاں کئی ریستوران پورا مہینہ بند رہتے ہیں۔ دکانیں رات دس بجے ہی بند ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ لوگ پیسوں سے زیادہ دوسری چیزوں کو اہمیت دیتے ہیں۔

دامن کوہ ویو پوائنٹ پر واقع باربی کیو ان کے منیجر ہمایوں صاحب نے مجھ سے پیسے اس لئے نہ لئے کیونکہ میں نے ان کے ریستوران کی تصاویر لی تھیں۔ وہیں لذیذہ ایکسپریس نامی آئس کریم پارلر والوں نے مجھے مفت قلفی پیش کی۔ اور بہت اصرار کرنے پر بھی پیسے لینے سے صاف انکار کردیا۔ ان کے ریستوران سے کچھ ہی دور ایک پان فروش نے مجھے مفت پان پیش کیا۔ صرف اسلئے کیونکہ میں نے ان کے گیٹ اپ اور ان کے پان بیچنے کے انداز کے بارے میں چند سوال کرلئے تھے۔ میری ملاقات افتخار (افتخار اجمل صاحب نہیں، یہ افتخار میرے ہم عمر تھے اور ایک انتہائی اہم سرکاری محکمے میں انتہائی اہم کام کرتے ہیں) سے ہوئی۔ انہوں نے مجھے اسلام آباد کی سیر کرائی، دعوت کھلائی، اپنے گھر مدعو کیا، اپنے گھر والوں سے ملایا، اپنے دوستوں سے ملوایا،افتخار ان کے دوستوں ان کے گھروالوں نے اتنی محبت مجھے دی کہ واپسی پر قدم اٹھانا دوبھر ہورہا تھا۔

افتخار مجھے جس ٹیکسی میں اسلام آباد کی سیر کرانے لے گیا تھا اس ٹیکسی والے نے مجھے گیسٹ ہاؤس چھوڑنے پر افتخار سے پیسے لینے سے انکار کردیا۔ کہنا لگا نہیں یہ آپ کے ہی نہیں ہمارے بھی مہمان ہے۔ وہ ایک کشمیری لڑکا تھا جو زلزلے کے دوران اپنے علاقے میں کراچی سے آئے ہوئے پیرامیڈیکس کے ساتھ کام کرتا رہا تھا۔ افتخار نے کہا کہ نہیں یہ میرا مہمان ہے پیسے تو میں دونگا۔ بہرحال افتخار نے اسے طے شدہ معاوضے سے آدھا لینے پر تو رضامند کرہی لیا۔ اتنی محبت مجھ ناچیز کے لئے اور اتنی بے لوث آپ میری کیفیت کا اندازہ نہیں کرسکتے۔

جب میں افتخار کے ساتھ بری امام گیا۔ تو وہاں فقیر بچیوں نے مجھے گھیر لیا۔ افتخار نے مجھے سختی سے منع کررکھا تھا کہ انہیں کچھ نہیں دینا۔ مگر جب ایک بچی نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور ضد کرنے لگی کے میں یہ چیز (ایک سفید میٹھی گولی قسم کی چیز جو مزارات پر نذر کی جاتی ہے) انہیں ضرور دونگی۔ اور پھر اس نے مجھے وہ دی اور افتخار نے ضد کی کہ میں یہ بری سرکار کے روبرو پیش کردوں۔ اللہ رے اتنی محبت، اتنی عقیدتیں اور اتنی نیازمندیاں۔

ویسے مجھے خود پر کوئی گمان نہیں۔ بیشک میں بہت ہینڈسم، تمیز دار، باشعور انسان ہوں۔ لوگ میری محبت میں بڑی جلدی گرفتار ہوجاتے ہیں۔ مگر پھر بھی یہ محبتیں میری اوقات سے زیادہ تھیں۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن کے چئیرمین صاحب نے مجھے اپنے دفتر مدعو کیا۔ جناب امجد اسلام امجد صاحب نے مجھے سے وعدہ لیا کہ میں انہیں فون یا ای میل کرونگا۔ میرے مسودے کی ستائش کی (گرچہ وہ ہرگز ستائش کے لائق نہ تھا) میری بے پناہ حوصلہ افزائی کی۔ پروگرام کوآرڈینیٹر صاحب نے میرے لئے روزانہ مصنفین کے ریسورس سینٹر تک آنے جانے کی سواری کا بندوبست کیا۔ میرے گیسٹ ہاؤس والوں نے مجھے مفت افطار اور سحری پیش کی گرچہ میں روزہ نہیں رکھ رہا تھا۔

کسی نے مجھے پنجابی میں ہیر سنائی، کسی نے رباب بجا کرسنایا، کسی نے قوالی پیش کی، کسی نے سوہنی مہیوال۔ کسی نے مجھے انور مسعود کی مزاحیہ پنجابی شاعری سنائی، کسی نے مجھے دریائے جہلم کے نزدیک اپنے گاؤں مدعو کیا، تو کسی نے مجھے جنرل صاحب سے ملوانے کا وعدہ کیا۔ ہر کسی کے پاس میرے لئے وقت، محبت اور خلوص تھا۔ اور کچھ نہیں۔

یہ ویران شہر اتنا ویران نہیں۔ یہاں ایک ڈسکو ہے تو ایک لال مسجد بھی۔ آبپارہ پر افغانی دکاندار ہیں تو جناح سپر مارکیٹ پر “انسینلی ایکسپینسیو” اور انتہائی گھٹیا فیشن بھی۔ وہاں لوگ جینز، ٹی شرٹ پہن کر، اسی لاکھ کی گاڑی سے اترتے ہیں ہاتھ میں بیش قیمت موبائل جس پر وہ پنجابی میں گفتگو کررہے ہوتے ہیں۔ ایک رنگارنگ شہر ہے اسلام آباد۔ یہاں کی عمارتیں کنکریٹ کی ہیں اور لوگ سونے کے۔ میں بہت سارے لوگوں سے وعدے کے باوجود نہ مل سکا۔ اور اچھا ہی ہوا میرے بیگز میں اتنی جگہ تھی نہ میرے دل میں اور مجھے ڈر تھا کہ کہیں میں پھٹ ہی نہ جاؤں۔میں وہاں جب گیا تھا تو بظاہر کسی کو نہ جانتا تھا اور اب مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے میں وہاں سب کو جانتا ہوں۔ میں ان سب لوگوں کا بہت بہت شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے میری مہمان نوازی کی، مجھ احقر کو اتنی توقیر اور احترام دیا۔ اور مجھے اتنی محبتیں دیں کہ میں چاہوں بھی تو ان کو لوٹا نہیں سکتا۔

تصاویر ملاحظہ فرمائیں