لال مسجد کا محاصرہ

جیو نیوز کے نمائندوں کے مطابق منگل کے دن آنسو گیس کی شیلنگ کے بعد سینکڑوں کی تعداد میں طالبات جامعہ چھوڑ کر جاچکی ہیں۔ تاہم ابھی بھی جامعہ میں طالبات موجود ہیں جن کی تعداد کے بارے میں متضاد قیاس آرائیاں کی گئی ہیں۔ تاہم منگل کے روز کی حکمت عملی کے سبب کافی طالبات کو جامعہ چھوڑنے پر مجبور کردیا گیا۔ اب یہ اطلاع ہے کہ چند طالبات نے خود کو حکام کے حوالے کردیا جنہیں فورا چھوڑ دیا گیا ہے اور ان کے والدین انہیں گھر لے جاسکتے ہیں۔ تاہم مدرسے میں ایسی سینکڑوں طالبات اور طلباء زیر تعلیم ہیں جن کا تعلق پاکستان کے انتہائی دوردراز علاقوں سے ہے۔ کئی ایسی طالبات ہیں کہ جن کے پاس جامعہ کے علاوہ سر چھپانے کا اور کوئی ٹھکانا نہیں۔ مسجد اور مدرسوں میں اس وقت کتنے طالبعلم ہیں یہ کسی کو نہیں معلوم۔ ان میں سے کتنے مسلح ہیں یہ بھی نامعلوم ہے۔ ان کے پاس خوراک، بجلی وغیرہ کا کیا انتظام ہے اس بارے میں بھی کچھ کہنا ممکن نہیں۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ حکومت کو مکمل حق حاصل ہے کہ وہ لال مسجد کی انتظامیہ کے خلاف ایکشن لے۔ ایکشن کے طریقہ کار سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، اس کی غلط ٹائمنگ پر اعتراض کیا جاسکتا ہے، خونریزی کا خدشہ بھی خوفناک ہے لیکن یہ بات سب سے زیادہ ضروری ہے کہ ریاست کی رٹ منوائی جائے اور آئین پاکستان کی حفاظت کے لئے کاروائی کی جائے۔ تاہم کاروائی کا مقصد اگر بدنیتی سے خون خرابہ کرنا ہے تو اس کے انتہائی سنگین نتائج مرتب ہونگے جن پر تمام پاکستانیوں کو تشویش ہے۔ حکومت کو محاصرہ جاری رکھنا چاہئے اور زیادہ سے زیادہ دیر تک اس محاصرے کو جاری رکھ کر طلباء اور انتظامیہ کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ یہی سب سے مناسب حکمت عملی ہے۔

lalmasjid-1.gif

lalmasjid-2.gif

lalmasjid-3.jpg

lalmasjid-4.jpg

lalmasjid-5.jpg

مجھے یہ دیکھ کر شدید حیرت ہورہی ہے کہ مسجد کے اندر نہ صرف یہ کہ اتنی بڑی تعداد میں اسلحہ موجود ہے بلکہ یہ انتہائی جدید اور خودکار اسلحہ ہے جو یقینا کافی مہنگا بھی ہوگا۔ مسجد کی انتظامیہ کے پاس کیا اس تمام اسلحے کے لائسنس موجود ہیں۔ کن رقومات سے یہ اسلحہ خریدا گیا اور اس کی مسجد تک رسائی کس طرح ممکن ہوئی جبکہ مسجد کے اطراف میں اتنے اہم انٹیلی جنس اداروں کے دفاتر ہیں۔